اپریل ۲۰۲۵

فہرست مضامین

ضبط ولادت کا سیاسی و تہذیبی پہلو

پروفیسر خورشید احمد | اپریل ۲۰۲۵ | تہذیب و معاشرت

Responsive image Responsive image

’ضبط ِ ولادت‘ کے موضوع پر ، پروفیسر خورشیداحمد صاحب کی یہ تحریر محترم مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی کتاب ضبطِ ولادت: عقلی و شرعی حیثیت سے (دارالاشاعت، کراچی، جنوری ۱۹۶۱ء) کے آغاز میں بطورِ ’مقدمہ‘ شائع ہوئی تھی۔ تاہم، مولانا عثمانی صاحب نے مذکورہ کتاب کے تازہ ایڈیشن میں اسے شامل نہیں کیا۔ حالانکہ اصل کتاب کے مقدمے میں خورشیدصاحب سے ممنونیت کا واضح الفاظ میں ذکر موجود تھا، جیساکہ خود خورشیدصاحب کے مقدمے کے آخری جملوں میں بھی کلماتِ تحسین درج ہیں۔ ۶۵برس گزرنے کے بعد آج بھی پاکستان میں مغرب کے کاسہ لیس، ضبط ِ ولادت کی نسبت سے انھی گھسے پٹے ’دلائل‘ کی جگالی کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔(ادارہ)

قرآن پاک میں شیطان کا چیلنج مرقوم ہے کہ:

قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ۝۱۶ۙ ثُمَّ لَاٰتِيَنَّہُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَيْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِہِمْ۝۰ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَہُمْ شٰكِرِيْنَ۝۱۷ (الاعراف ۷:۱۶-۱۷) بولا’’اچھا تو جس طرح تُو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تُو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا‘‘۔

تاریخ شاہد ہے کہ شیطان ہر دور اور ہر زمانے میں آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہرسمت سے حملہ آورہوا ہے، اور اس نے طرح طرح کےجال انسان کو گمراہ کرنے کے لیے بچھائے ہیں۔ دورِجدید میں جو حسین اور دل کش فریب شیطان نے انسان کو دیئے ہیں، ان میں سے ایک غربت و افلاس کے ڈر سے قطع نسل اور تحدیدِ نسل بھی ہے۔ بظاہر تو یہ منصوبہ بڑا سادہ اور معصوم سا معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ اسلامی تہذیب و تمدن پر ایک بڑا ہی گہرا وار ہے، اور اس کی زد عقیدے اور ایمان، اخلاقی اقدار اور معاشرتی روایات، سماج اور تمدن سب پر پڑتی ہے، بلاشبہہ:  ع

ترے نشتر کی زد شریانِ قیس ناتواں تک ہے

یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ مسلم ممالک بھی آہستہ آہستہ شیطان کے اس نئے حملے کے آگے سپر ڈالنے لگے ہیں، اور اس معاشی مغالطے کا شکار ہورہے ہیں، جس کا تانا بانا ابلیسی فکر نے بڑی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ بنا ہے۔

تحدید ِ نسل کا مسئلہ اصلاً ایک معاشی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ جن حضرات کی نگاہ حالاتِ جدیدہ پر ہے، وہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ دورِ جدید میں یہ دراصل ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کی پشت پر بڑی خطرناک ذہنیت کام کر رہی ہے۔

تاریخ کا ہر طالب علم اس بات کو جانتا ہے کہ کثرتِ آبادی کی بڑی سیاسی اہمیت ہے۔ ہرتہذیب نے اپنے تعمیری اور تشکیلی دور میں آبادی کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مشہور مؤرخ وِل ڈورانٹ (Will Durrant) نے اسے تہذیبی ترقی کا ایک بڑا اہم سبب قرار دیا ہے۔ ٹائن بی (Toynbee) بھی کثرتِ آبادی کو ان چیلنجوں میں سے ایک قرار دیتا ہے جو تہذیب کے ارتقاء کا باعث ہوتے ہیں۔ تاریخ کی ان تمام اقوام نے، جنھوں نے کوئی عظیم کارنامہ انجام دیا ہے ہمیشہ تکثیر آبادی ہی کی پالیسی اختیار کی ہے۔ اس کے برعکس زوال پذیر تہذیبوں میں آبادی کی قلّت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور آبادی کی قلّت بالآخر اجتماعی قوت کے اضمحلال پر منتج ہوتی ہے۔ اور وہ قوم جو اس حالت میں مبتلا ہوجائے، آہستہ آہستہ گمنامی کے غار میں گر جاتی ہے۔ تہذیب کے جتنے بھی قدیم مراکز ہیں، ان تمام کی تاریخ کے مطالعے سے یہی حقیقت سامنے آتی ہے۔ خود اسلامی تاریخ میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کے عروج کا زمانہ بھی وہی تھا جب ان کی قوم میں نیا خون تیزی کے ساتھ شامل ہورہا تھا اور ان کی تعداد برابر بڑھ رہی تھی۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ سب سے سچے انسان (فداہٗ ابی و امّی) نے فرمایا تھا کہ ’’ایسی عورت سے نکاح کرو جو محبت کرنے والی اور بچّے جننے والی ہو‘‘۔

اور خود ہمارے زمانے میں بھی جرمنی اور اٹلی اسی پالیسی پر عامل رہے ہیں، اور روس اور چین آج بھی اس پر شدت سے عمل کر رہے ہیں۔ وہ آبادی کو اپنا قومی اثاثہ سمجھتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنی سیاسی سطوت تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ تاریخ کا بے لاگ فتویٰ ہے کہ آبادی اور سیاسی قوت و اقتدار ساتھ ساتھ جاتے ہیں۔ ایک تہذیب کے تعمیروترقی کے دور میں آبادی بڑھتی ہے اور اس کے انحطاط کے زمانے میں آبادی میں کمی آتی ہے۔فطرت کا یہی قانون جدید مغرب میں بھی اپنا عمل دکھا رہا ہے۔

دُنیا میں آبادی کی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ ایشیا اور عالمِ اسلام آبادی کے سب سے بڑے مراکز ہیں۔ ان ممالک کے مقابلے میں مغربی ممالک کی آبادی نمایاں طور پر کم ہے۔ گذشتہ پانچ سو برسوں میں مغرب کی سیاسی قیادت و بالادستی کی بنیاد وہ سائنسی اور میکانیکی فوقیت تھی جو اسے مشرقی ممالک پر حاصل تھی، اور جس کی وجہ سے اس نے آبادی کی کمی کے باوجود سیاسی حکمرانی قائم کرلی، اور اس غلط فہمی کا شکار ہوگیا کہ اب آبادی کی اہمیت زیادہ نہیں ہے  __ لیکن نئے حالات اور حقائق نے غلط فہمی کے اس طلسم کو چاک کردیا ہے۔

مغربی اقوام کی آبادی کے مسلسل کم ہونے سے ان کی سیاسی طاقت میں بھی انحطاط آنا شروع ہوا اور پہلی جنگ عظیم کے موقعے پر یہ احساس عام ہوگیا کہ تحدید آبادی کا مسلک سیاسی اور اجتماعی حیثیت سے بڑا مہنگا پڑ رہا ہے۔ فرانس نے اپنی عالمی پوزیشن آہستہ آہستہ کھودی اور مارشل پٹین نے اس امر کا اعتراف کیا کہ فرانس کے زوال کا ایک بڑا بنیادی سبب آبادی کی کمی ہے۔ برطانیہ کے متعلق سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کے صاحبزادے مسٹر رینڈ الف چرچل نے جو خود پارلیمنٹ کے ممبر اور ایک مشہور سیاسی مبصر اور صاحب ِ قلم ہیں۔ اس بات کا اظہار کیا کہ: ’’میں نہیں سمجھتا کہ ہماری قوم بالعموم اس خطرے سے آگاہ ہوچکی ہے کہ اگر ہماری شرح پیدائش اسی طرح گرتی رہی تو ایک صدی میں برطانیہ کی آبادی صرف ۴۰ لاکھ رہ جائے گی اور اتنی کم آبادی کے بل بوتے پر برطانیہ دُنیا میں ایک بڑی طاقت نہ رہ سکے گا‘‘۔

اس وجہ سے یورپ کی تقریباً تمام ہی اقوام نے اپنی پالیسی کو بدلا اور گذشتہ ۳۰ برس سے وہ آبادی کو بڑھانے کے مسلک پر عمل پیرا ہیں اور حکومت افزائش نسل کی ہرممکن حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ فرانس نے اسقاطِ حمل اور تحدید نسل کی تمام کارروائیوں کو قانوناً ممنوع کیا۔ ہٹلر اور مسولینی کے تحت جرمنی اور اٹلی نے انھیں نہ صرف سخت ترین جرم قرار دیا بلکہ مثبت قانونی، معاشرتی اور معاشی تدابیر سے بچوں کی تعداد بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی۔

سویڈن نے ایک سرکاری کمیشن مقرر کیا کہ وہ حالات کا جائزہ لے اور اس کمیشن کی سفارشات پر ’بڑے خاندان‘ کی پالیسی اختیار کی گئی۔ شادی شدہ لوگوں کے لیے ٹیکس کی شرح کم کی گئی اور بے شمار دوسری مراعات بچوں کے لیے فراہم کی گئیں۔انگلستان کے وزیرداخلہ ہربرٹ موریسن نے ۱۹۴۳ء میں یہ ہدف قوم کے سامنے رکھا کہ ہر خاندان میں کم از کم ۲۵ فی صد کا اضافہ ہونا چاہیے۔ یہی پالیسی امریکا نے اختیار کی اور اس وقت مغربی دُنیا کے تمام ممالک یہی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں شرحِ پیدائش برابر بڑھ رہی ہے اور اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے ہوسکتا ہے:

جدول پی ڈی ایف فارمیٹ میں ملاحظہ کیجیے

اس وقت مغرب کی تمام ہی اقوام اپنی آبادی کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن یہ اضافہ مشرقی اقوام کی آبادی کے اضافہ کے مقابلے میں کم ہے۔ محض اس کے سہارے مغربی اقوام کو اپنا سیاسی اقتدار قائم رکھنا مشکل نظر آتا ہے۔ پھر وہ فنی، سائنسی اور تکنیکی معلومات جو آج تک مشرق پر مغرب کی بالادستی قائم رکھے ہوئے تھیں اور جن سے مشرقی ممالک کو بڑی کوشش کے بعد محروم رکھا گیا تھا، آج ان ممالک میں بھی عام ہورہی ہیں۔ چونکہ ان ممالک کی آبادی بھی مغربی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے نئے مشینی آلات سے آراستہ ہونے کے بعد اقوام کے محکوم رہنے کا کوئی امکان نہیں، بلکہ فطری قوانین کی وجہ سے اس انقلاب کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مغرب کی سیاسی قیادت کے دن گنتی کے رہ جائیں گے اور نئی عالمی قیادت ان مقامات سے اُبھرے گی جہاں آبادی بھی زیادہ ہے اور جو فنی اور تکنیکی مہارت رکھتے ہیں۔ ان حالات میں مغرب اپنی سیادت کو قائم رکھنے کے لیے ایک ایسا کھیل کھیل رہا ہے، جو فطرت کے قانون کے خلاف ہے اور جو خود اس کے لیے بھی طویل عرصے میں نقصان دہ ثابت ہوگا، یعنی مشرقی ممالک میں تحدید نسل اور ضبط ِ ولادت کے ذریعے آبادی کو کم کرنے کی کوشش اور فنی معلومات کی ترویج میں رخنہ اندازی___ ہم یہ بات کسی تعصب کی بنا پر نہیں کہہ رہے بلکہ ہم خود مغربی ذرائع ہی سے اسے ثابت کرسکتے ہیں۔ مغرب میں آبادی کے مسئلے پر بیسیوں کتابیں ایسی آئی ہیں، جو آبادی کی کمی کے سیاسی اثرات کو واضح کررہی ہیں اور جن کے اثر کے طور پر خود حکومتی پالیسی میں تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ سارا لٹریچر ہمارے دعوے کے لیے ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح پروفیسر فرینک نوٹینسن ٹین مشہور امریکی رسالے  Foreign Affairs  میں لکھتے ہیں:

اب اس کا کوئی امکان نہیں کہ شمالی مغربی یا وسطی یورپ کی کوئی قوم دُنیا کو چیلنج کرسکے۔ جرمنی دوسری یورپی اقوام کی طرح اس دور سے گزر چکا ہے جب وہ دُنیا کی غالب طاقت بن سکے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اب فنی اور تکنیکی تہذیب ان ممالک میں بھی پہنچ گئی ہے، جن کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ (اپریل ۱۹۴۴ء)

دراصل یورپ کی سیاسی قیادت کو بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں ایشیا اور عالمِ اسلام کی بڑھتی ہوئی آبادی سے شدید خطرہ ہے۔ امریکی رسالہ ٹائم اپنی ۱۱جنوری ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:

کثرتِ آبادی (Over-Population) کے متعلق امریکا اور یورپی اقوام کی بوکھلاہٹ اور ان کے تمام وعظ و نصیحت بڑی حد تک بے نتیجہ ہیں۔ اُن سیاسی نتائج و اثرات کے احساس کا جو نئے حالات اور ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کی آبادی کے بڑھنے اور غالب اکثریت حاصل کرلینے کی بناپر متوقع ہیں۔

یعنی مستقبل میں غالب قوت ان ممالک کو حاصل ہوگی، جن کی آبادی زیادہ ہے اور جو نئی تکنیک سے بھی آراستہ ہیں۔ اب اس کا تو کوئی امکان نہیں کہ نئی تکنیک سے ان ممالک کو   مزید محروم رکھا جائے۔ اس لیے مغربی سیادت و قیادت کو قائم رکھنے والی صرف ایک چیز ہوسکتی ہے اور وہ ہے ان ممالک میں تحدید نسل اور ضبط ِ ولادت! یہی وجہ ہے کہ تمام مغربی ممالک، مشرقی ممالک میں پروپیگنڈا کی بہترین قوتوں سے مسلح ہوکر یہاں ضبط ولادت کی تحریک کو ترقی دے رہے ہیں اور سادہ لوح مسلمان اس چال میں خود پیش قدمی کرکے پھنس رہے ہیں:  ؎

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات!

لیکن اب بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے۔ اگر اب ہم نے دھوکا کھایا تو پھر کل ہمارا کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہوگا، اور ہمارے جو ’ہمدرد‘ آج پوری شفقت کے ساتھ ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کا درس دے رہے ہیں، کل یہی ہماری کمزوری سے فائدہ اُٹھا کر ہم پر اپنا تسلط قائم کریں گے اور ہم اُف بھی نہ کرسکیں گے۔ اسی خطرے کو حکیم الامت علّامہ اقبال نے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور قوم کو تنبیہہ کی تھی کہ اس سے ہوشیار رہے ۔ ان کے یہ الفاظ آج بھی ہمیں دعوتِ فکر وعمل دے رہے ہیں:

عام طور پر اب ہندستان میں جو کچھ ہورہا ہے یا ہونے والا ہے، وہ سب یورپ کے پروپیگنڈے کے اثرات ہیں۔ اس قسم کے لٹریچر کا ایک سیلاب ہے جو ہمارے ملک میں بہہ نکلا ہے۔ بعض دوسرے وسائل بھی ان کی تشویق و ترویج کے لیے اختیار کیے جارہے ہیں، حالانکہ ان کے اپنے ممالک میں آبادی کو گھٹانے کے بجائے بڑھانے کے وسائل اور تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ اس تحریک کی ایک بڑی غرض میرے نزدیک یہ ہے کہ یورپ کی اپنی آبادی، اس کے اپنے پیدا کردہ حالات کی بناپر جو اس کے اختیار و اقتدار سے باہر ہیں، بہت کم ہورہی ہے اور اس کے مقابلے میں مشرق کی آبادی روز بروز بڑھ رہی ہے اور اس چیز کو یورپ اپنی سیاسی ہستی کے لیے خطرئہ عظیم سمجھتا ہے۔(رسالہ الحکیم، لاہور، ماہ نومبر ۱۹۳۶ء، بحوالہ ہمدرد صحت ، دہلی، جولائی ۱۹۳۹ء، ص ۱۸۲)

یہ ہے اس مسئلے کی اصل حقیقت! پھر ہمارے ملک کے لیے تو کچھ خاص حالات کی بنا پر آبادی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ٹھیٹھ دفاعی نقطۂ نظر سے ہماری حیثیت بتیس دانتوں کے درمیان ایک زبان کی سی ہے۔ ایک طرف ہندستان ہے جس کی آبادی ہم سے چارگنا زیادہ ہے۔ دوسری طرف روس ہے جس کی آبادی ہم سے تین گنا زیادہ ہے، اور تیسری طرف چین ہے جس کی آبادی ہم سے آٹھ گنا زیادہ ہے اور تینوں کی نگاہیں ہمارے اُوپر لگی ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں ہمارے دفاع کا حقیقی تقاضا کیا ہے؟ آیا یہ کہ ہم آبادی کو کم کرکے اپنی قوت کو اور بھی مضمحل کرلیں یا ہرممکن ذریعے سے اپنے کو اتنا قوی اور مؤثر بنالیں کہ کوئی دوسرا ہماری طرف بُری نگاہ ڈالنے کی ہمت بھی نہ کرسکے۔

اگر یہ کہا جائے کہ آج کی جنگ میں انسان کے مقابلے میں آلات زیادہ اہم ہیں، تو ہم یہ کہیں گے کہ ایٹمی ترقیات کے بعد پھر انسان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ آخر اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ کوریا کی جنگ میں چین نے محض اپنی عدد ی کثرت کی وجہ سے امریکا کے بہترین ہتھیاروں کو بھی بے اثر کردکھایا تھا۔ اس لیے آج آبادی کی دفاعی اہمیت کا ایک نیا احساس پیدا ہوگیا ہے اور عالمِ اسلام کو محض آنکھیں بند کرکے مغرب کی نقالی میں کوئی ایسی روش اختیار نہ کرنی چاہیے، جو اس کے لیے ملی خودکشی کے مترادف ہو۔

آبادی کی یہ دفاعی اہمیت صرف پاکستان ہی کے لیے نہیں ہے، عرب دُنیا کے لیے بھی اس کی اہمیت کچھ کم نہیں۔ وہاں اسرائیل اپنی آبادی کو بڑھانے کی پالیسی پر عامل ہے اور اس کے مقابلے کے لیے پورے عالم اسلام کو تیار ہونا ہے۔ اسی طرح مغربی دُنیا اور اشتراکی دُنیا میں جو کش مکش جاری ہے، اس میں بھی عالمِ اسلام کا ایک مرکزی رول ہے۔ اگر یہاں کی آبادی برابر کم ہوتی ہے تو اس کا فائدہ کمیونسٹ ممالک کے علاوہ کسی کو نہ پہنچے گا۔ یہاں کی آبادی کی تحدید کرکے مغربی اقوام ایک موہوم منفعت عاجلہ کے لیے ایک حقیقی خطرہ مول لے رہی ہیں، جو خود ان کی دفاعی لائن کو بڑا کمزور کردے گا۔

ہماری اس بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج آبادی کا مسئلہ اصلاً ایک سیاسی مسئلہ ہے، اور اسے پوری سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ حل کرنا چاہیے، اور وہ مسلک اختیار کرنا چاہیے جس سے ہم اور پورا عالم اسلام نہ صرف اپنی آزادی کو قائم رکھ سکیں بلکہ بین الاقوامی اُمور میں اپنا صحیح کردار اداکرنے لگیں۔ ہمیں پرائے شگون پر اپنی ناک کٹانے کی حماقت ہرگز نہ کرنی چاہیے۔

]۲[

آبادی کے مسئلے کی سیاسی نوعیت کو ہم نے اُوپر واضح کر دیا ہے، لیکن ضروری ہے کہ اس بڑی بنیادی غلط فہمی کو بھی دُور کیا جائے، جس کا راگ ضبط ِ ولادت کے مؤیدین صبح و شام الاپتے ہیں، یعنی ’یہ اصل مسئلہ معاشی ہے اور پیداوار کی قلت کا واحد حل تحدید نسل ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو زمین پر تل دھرنے کی جگہ نہ رہے گی اور سخت تباہی مچے گی‘۔ یہ استدلال بھی اپنی کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس کی حیثیت محض پروپیگنڈے سے زیادہ نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات گویبلز کے اس اصول پر کام کر رہے ہیں کہ ’’ایک جھوٹ کو اس کثرت سے نشر کرو کہ دُنیا اس کو سچ جان لے‘‘۔

یورپ میں تحدید نسل کی تحریک کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔ مالتھس نے آبادی کا معاشی پہلو واضح کیا تھا لیکن تحدید نسل کا کوئی پروگرام اس کے لیے پیش نہ کیا۔ انگلستان میں سب سے پہلے فرانسس پیلس نے ۱۸۲۲ء میں ایک کتاب آبادی کے مسئلہ کی تفصیلات اور   اس کے ثبوت لکھی۔ اور فرانسس پیلس، جان اسٹورٹ مل اور ٹی جے وولر نے اس تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ اس زمانے (۱۸۲۵ء) میں ایک کتاب محبت کیا ہے؟ لکھی گئی، جس کا مصنف رچرڈ کارلائل تھا۔ (اسے مشہور مؤرخ تھامس کارلائل نہ سمجھا جائے)اور اس نے بڑی بے باکی اور بے غیرتی کے ساتھ ضبط تولید کے ذریعے آسان اور بے ضرر محبت کا نظریہ پیش کیا۔

انگلستان میں یہ تحریک آٹھ دس سال تک بڑے زوروشور سے چلی، لیکن ابھی اخلاقی قدریں اتنی بے وزن نہیں ہوئی تھیں کہ یہ تحریک پائوں جماسکتی،اس لیے حباب کے مانند اُبھری اور  دب گئی۔ یہ تحریک انیسویں صدی کے ربع آخر میں دوبارہ اُبھری۔ اب اس نے باقاعدہ ایک تنظیم کی شکل بھی اختیار کرلی۔ انگلستان میں مالتھوسین لیگ (Malthusean League) قائم ہوئی اور یورپ کے دوسرے ممالک میں ایسی ہی تنظیمیں قائم ہونے لگیں۔ ۱۸۷۶ء میںچارلس بریڈلا (Charles Bredlaugh) اور مسٹر اینی بسنٹ (Annie Basant) نے یہ ’جہاد‘ شروع کیا اور جلدہی اس تحریک کو مقبولیت حاصل ہوئی، خصوصیت سے طبی حلقوں نے اس کی بڑی رہنمائی کی اور ڈاکٹرڈریسڈیل اور ان کی اہلیہ نے تو اس مہم میں اپنی جان ہی کھپادی۔

امریکا میں رابرٹ ڈیل اووین نے ۱۸۳۰ء میں ایک کتاب Moral Physialogy (اخلاقی افعال الاعضاء) لکھی۔ ۱۸۳۲ء میں ڈاکٹر چارلس ناولٹن نے Fruits of Philosphy (ثمراتِ فلسفہ) کے نام سے ضبط ِ تولید کے نظریات کو پیش کیا اور آزاد خیالی کا سہارا لے کر اس تحریک کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر ناولٹن کا تعلق طبّی پیشے سے تھا، لیکن اس کی کتاب مبلغانہ انداز میں لکھی گئی۔ ان تحریرات نے فضا کو اس تحریک کے لیے سازگار بنایا، لیکن باقاعدہ تنظیم بند ی کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا، جب کہ اس تحریک کی سب سے سرگرم کارکن مسز مارگریٹ سنیگر نے [مارچ ۱۹۱۴ء میں]  The Woman Rebel (باغی عورت )کے نام سے ایک رسالہ نکالا [جس کا نعرہ تھا: No Gods, No Masters]۔ ۱۹۲۱ء میں ایک ملکی کانفرنس کی اور بالآخر ’برتھ کنٹرول لیگ‘ قائم کی۔ ۱۹۲۳ء سے کلینک بھی قائم ہونا شروع ہوئے اور ۱۹۳۹ء میں پورے ملک کی ضبط ِ تولید کی تنظیموں کی فیڈریشن قائم ہوئی۔ ۱۹۴۳ء میں اس فیڈریشن کا نام بدل کر Planned Parenthood Federation of America کردیا گیا اور جب ہی سے ضبط ِ تولید کی جگہ ’خاندانی منصوبہ بندی‘ کا زیادہ ’معصوم‘ نام مستعمل ہونے لگا۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مغربی ممالک میں یہ تحریک وسط انیسویں صدی سے شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ تمام یورپ اور امریکا میں پھیل گئی، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ان ممالک میں پیداوار کی قلّت تھی؟ کیا رفتار پیداوار سُست تھی؟ کیا فی کس آمدنی برابر گر رہی تھی؟___ اس لیے کہ اگر یہ تحریک معاشی وجوہ کی بناپر اختیار کی گئی تھی تو ان سوالات کا جواب اثبات میں ہونا چاہیے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس زمانے میں ان تمام ممالک میں دولت کی ریل پیل تھی۔ پیداوار بڑی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ صنعتی انقلاب اور اس کے تضمنات کی وجہ سے قومی آمدنی اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہورہا تھا ، اور ہرحیثیت سے خوش حالی کا دور دورہ تھا۔ مثال کے طور پر انگلستان میں ۱۸۳۸ء-۱۸۶۰ء کے درمیان فی کس آمدنی میں ۲۳۱فی صد کا اضافہ ہوا تھا اور عام خوش حالی کا معیار بلند ترین تھا۔ ۱۸۴۰ء اور ۱۸۸۶ء میں فی کس صرفہ (Per Capita Consumption) میں بھی نمایاں فرق ہوا، جس کا اندازہ مندرجہ ذیل جدول سے ہوسکتا ہے:

جدول پی ڈی ایف فارمیٹ میں ملاحظہ کیجیے

یہ جدول عام خوش حالی کوظاہر کرتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دولت بڑھ رہی تھی، پیداوار میں اضافہ ہورہا تھا ، اُجرت بھی روز افزوں تھی اور عام خوش حالی کا معیار بھی بلندتر ہورہا تھا تو پھر تحدید نسل کی معاشی ضرورت کہاں پائی جاتی تھی؟

یہی حال امریکا کا ہے۔ امریکا میں ۱۸۰۹ء- ۱۹۲۹ء کے درمیان کل ملکی دولت ۷؍ارب ڈالر سے بڑھ کر ۷۹۵؍ ارب ڈالر پر پہنچ گئی تھی۔ اگر آبادی کے اضافے کو بھی شامل کرلیا جائے تو فی کس آمدنی (Per Capita Income) اس زمانے میں ۱۳۱ ڈالر سے بڑھ کر ۶۵۴ ڈالر ہوگئی تھی، یعنی یہاں بھی تقریباً ۵۰۰ فی صد کا اضافہ ہوا۔ ایسی حالت میں ضبط ِ تولید کی آخر کون سی معاشی وجوہ موجود تھیں؟

اگر یورپ اور امریکا کی معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ غلط فہمی بالکل دُور ہوجاتی ہے کہ اس تحریک کی معاشی بنیادیں بھی تھیں۔ دراصل معاشی دلائل کی حیثیت محض ہاتھی کے ظاہری دانتوں کی سی تھی جن کی کوئی حقیقی اور عملی اہمیت نہ تھی اور جنھیں صرف فضا کو سازگار کرنے اور کم علم لوگوں کو بہکانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور یہی صورت آج بھی ہے۔ مشہور انگریز معاشی مفکر پروفیسر کولن کلارک (Colin Clark)نے اس سلسلے میں بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ’’آبادی کو ہّوا بناکر پیش کرنے والے محض پروپیگنڈا باز(Propagandist) ہیں اور ان کے ذہنوں کی تہ میں ’مخالف مذہب‘ مفروضات موجود ہیں‘‘۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان کا نقطۂ نظر ساینٹی فک ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں کہنا پڑے گا کہ شاید صفحۂ ہستی پر سائنس دانوں کا ایسا کوئی اور گروہ موجود نہیں جس کی معلومات ان حقائق کے متعلق جن سے ان کا سابقہ ہے، اس درجہ غلط ہو۔بہت سے مالتھوسنیوں کو تو آبادی کے متعلق بنیادی حقائق کی عام معلومات تک نہیں ہیں اور جو آبادی کی شماریات میں کچھ شُدبُد رکھتے ہیں وہ بھی سب کے سب بلاشبہ معاشی فکر سے بالکل نابلد ہیں۔ (Colin Clark, Population growth and hiving .....)

آج بھی دُنیا کے معاشی وسائل بے انتہا ہیں اور نہ صرف موجودہ آبادی بلکہ اس سے ۱۰گنا آبادی تو صرف معلوم وسائل کے ذریعے مغربی ممالک کے اعلیٰ معیار پر زندگی گزار سکتی ہے۔ یہی حالت خود ہمارے اپنے ملک کی ہے، جہاں دولت کے خزانے خوابیدہ پڑے ہیں۔ ان ہاتھوں کا انتظار کر رہے ہیں جو انھیں بیدار کرسکیں۔

]اس موضوع پر اسلام اور ضبط ِ ولادت از مولانا مودودی شائع ہوچکی ہے۔ اصل کتاب کے تازہ ایڈیشن میں اضافوں کے لیے مَیں نے مولانا محترم کی معاونت کی تھی اور پھر خود انھوں نے اس کتاب میں میرا ایک مضمون جس میں تفصیل سے اس پہلو کا جائزہ لیا گیا ہے، کتاب کے ضمیمے کے طورپر شاملِ اشاعت کیا ہے۔جو حضرات اس مسئلے پر مغربی مصنّفین کو پڑھنا چاہیں وہ J.D Barned کی کتابWorld Without War   (۱۹۵۸ء) اور ڈڈلی سٹامپ کی کتاب Our Developing World  (۱۹۶۰ء)کامطالعہ کریں۔[اسی طرح ایلن وائزمین کی کتاب The World Without Us   (۲۰۰۷ء) بھی اسی موضوع پر ہے۔]

]۳[

ضبط ِ تولید کے سلسلے میں ایک بات مزید سامنے رکھنی چاہیے کہ خاص حالات میں انفرادی طور پر اسے اختیار کرنے اور اسے ملک و قوم کی عام پالیسی بنالینے میں بڑا فرق ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ صحت یا دوسرے معقول وجوہ کی بناء پر ایک شخص کبھی اس قسم کا کوئی ذریعہ اختیار کرے، لیکن اس رویّے کو ملک کی عام پالیسی بنا دینا ، دینی، اخلاقی اور معاشی ہرحیثیت سے مہلک ہوگا۔

اس موضوع پر مسلمان اہل علم اور اہل قلم نے قوم کی ہرمرحلے پر رہنمائی کی ہے اور ہمارے اپنے زمانے میں مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی کا مقالہ اسلام اور ضبطِ ولادت بڑے معرکے کی چیز ہے۔اس بات کی ضرورت تھی کہ نئے حالات اور نئے مسائل کے مطابق اس مسئلے پر اَزسرنو بحث کی جائے اور مجھے خوشی ہے کہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کے ہونہار اور نوعمر فرزند عزیزی میاں محمد تقی سلمہٗ نے اس موضوع پر قلم اُٹھایا ہے اور شرعی اور عقلی ہر پہلو سے اس پر سیرحاصل بحث کی ہے۔ ان کا یہ مقالہ ہرحیثیت سے جامع ہے اور ان کی نوعمری کے پیش نظر تو ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور اس مقالہ میں جو نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے اسے قبولیت ِ عامہ بخشے۔ وما توفیقی اِلَّا باللہ۔

۱- نیو کوئنس روڈ                                                            خورشیداحمد

کراچی   ۴؍جنوری ۱۹۶۱ء