ایک فرد کی وہی زندگی بابرکت ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جاتا رہے کہ اس نے گزرے ہوئے اوقات اور شب و روز کیسے گزارے؟کیا غلطی اور کوتاہی ہوئی؟ کیا جرم ہوا اور گناہ سرزد ہوا؟ کسی کی حق تلفی تو نہیں کی گئی؟ پھر انفرادی زندگی سے بلند ہوکر اجتماعی زندگی میں معاشروں اور اجتماعیتوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنی اجتماعیت کو متوازن اور خوب صورت بنانے، مثالی اور شان دار بنانے میں کسی کوتاہی کا شکار تو نہیں ہوئے؟
ایک فرد کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنی ذاتی، علمی اور تہذیبی ومعاشرتی شخصیت کی ترقی کا ایک جائزہ لے کر دیکھے کہ ایک سال قبل قرآن کریم کے فہم میں کہاں کھڑا تھا اور اس پہلو سے آج کہاں کھڑا ہے ؟ اور اس کی تعلیمات کے نفاذ کے مراحل میں کہاں کھڑا ہے ؟ اور اس دوران میں کتنے فی صد ترقی ہوئی یا وہ جہاں تھا وہیں کھڑا ہے؟ دوسرا اہم سوال اس کی فوری اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کی ادائیگی کا ہے۔
ہر فرد اس بات کا جائزہ لے کہ اس نے جس خاندان کی سربراہی یا خاندان میں ایک فرد کی حیثیت سے اپنی پہچان بنا رکھی ہے، یعنی وہ کسی کا بیٹا یا بیٹی یا کسی کا شوہر یا بیوی ہے، کسی کا بھائی یا بہن ہے، کسی کا برادر نسبتی ہے ،چچا زاد اور خالہ زاد اور پھوپھی زاد بھائی یا بہن ہے، غرض خاندان میں اس کا جو رشتہ ہے، اس رشتے کا کیا حق ادا کیا گیا؟اس نے ایک مرتبہ بھی یہ سوچا کہ اس کا کوئی چچا،ماموں ،تایا یا اس کا چچازاد بھائی ہے، اس کا اپنا حقیقی چھوٹا یا بڑا بھائی یا بہن،جس سے اس نے تین ماہ میں بھی ایک مرتبہ نہ ملاقات کی نہ اس کا حال پوچھا۔ حتیٰ کہ اپنے پاس رابطے کے مواقع کے باوجود کبھی رابطہ تک نہیں کیا۔کیا آیندہ بھی یہی صورتِ حال رہے گی یا اس کو اپنی اصلاح کرنی ہوگی؟ رشتوں کا قائم رکھناایمان کا حصہ ہے اور قطع رحمی سخت ناپسندیدہ فعل ہے۔
کیا گزرے ہوئے عرصے کے دوران ایک کارکن نے اپنی تحریکی ذمہ داریوں کو جیسا کہ ان کا حق تھا ،ادا کیا؟ یا محض قانونی پابندی کی حد تک تو اجتماعات میں شرکت کی ،لیکن نہ وقت کی پابندی کی ،نہ ذہن کو حاضر رکھ کر کچھ سنا ، نہ اس پر تنقیدی نگاہ ڈال کر اپنی رائے کا اظہار کیا؟ خود آگے بڑھ کر کون سے دعوتی کام کیے ؟یا ہدایات کے مطابق صرف کسی اجتماعی سرگرمی میں شرکت کرنے کو سب کچھ سمجھ لیا؟غائب دماغی کے ساتھ درس میں شرکت کر لی یا جو درس سنا اس کے کوئی عملی اثرات زندگی کے معاملات میں نظر آئے؟ یا سنی اَن سنی کر کے محض سماجی دبائو کے تحت حاضری دے دی؟
اسی طرح ایک کارکن کی حیثیت سے یا ایک ذمہ دار کی حیثیت سے تحریکی مقاصد کے حصول کے لیے اپنی تنظیمی صلاحیت، مالی ایثار و قربانی ،وقت کی فراہمی، اپنے اہل خانہ اور اہل خاندان، پڑوسی اور مسجد میں آنے والے نمازیوں تک تحریکی دعوت اپنے عملی رویے یا زبانی طور پر پہنچائی؟ کیا اپنی تحریکی فکر کو بہتر بنانے کے لیے تحریک کے بنیادی لٹریچر میں سےکم از کم چھ کتب کا مطالعہ کیا یا سال بھر بغیر کسی فکری تجدید کے اپنے سابقہ مطالعے کے دھندلے نقوش ہی کو کافی جانا؟ اس عرصے میں اپنی قریبی مسجد میں کتنی نمازیں باجماعت اس طرح ادا کیں کہ اقامت سے پہلے مسجد میں موجود ہو اور نماز کے بعد نمازیوں سے سلام اور مصافحہ کیا ہو؟ کیا یہ کوشش بھی کی کہ قریبی مسجد میں امام کے اعتماد کے ساتھ نماز کے بعد درسِ قرآن یا درسِ حدیث یا کوئی بھلی بات لوگوں تک پہنچائی ہو؟
اس بات کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کسی موقعے پر جب کوئی ذمہ داری سامنے آئی تو کیا اس کی خواہش دل میں پیدا ہوئی اور اسے قبول کرنے میں خوشی محسوس کی؟ حدیث کے واضح الفاظ ہیں کہ جس نے کسی عہدےکی طلب کی تو ہم اسے وہ عہدہ نہیں دیں گے ۔جب مجبور کیے جانے پر کسی ذمہ داری کو قبول کیا تو پھر کیا اس کا حق اپنا وقت، مال، صلاحیت لگا کر ادا کیا ؟اس دوران کتنے مواقع پر تحریکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور اپنے مالی اور سیاسی معاملات میں حق اور عدل کا مظاہرہ کیا؟ کیا ظلم کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی اور اختلافات سے قطع نظر حق گوئی کا موقف اختیار کیا؟ معاشرتی فلاح ،عدل کے کن کاموں میں پہل کی اور غیر تحریکی افراد کو ساتھ ملا کر حصولِ مقصد کی جدوجہد کی؟ معاشرے کی بے اعتدالیوں کے خلاف کیا اقدامات کیے؟ مسلمان اور غیر مسلم مستحقین کی فلاح کے لیے کن کاموں میں حصہ لیا؟ خود اپنے گھر میں ملازمین کے ساتھ یا کاروبار میں ملازمین کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا؟ اپنے معیار زندگی کو کم کر کے یا بڑھانے میں کتنا وقت اور مال صرف کیا ؟اپنےا عزا اوردوستوں کو کتنی مرتبہ مدعو کیا یا ان سے جا کر ملاقات کی؟
یہ وہ بنیادی کام ہیں جن کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ہر آگے بڑھنے والا قدم زیادہ بھلائی کا ہونا چاہیے اور جب تک ماضی کے اقدامات کا تنقیدی جائزہ نہ لیا گیا ہو ،آگے قدم بڑھانے سے کوئی مفید نتائج نہیں نکل سکتے۔
ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے سال کے آغاز کا اوّلین اہم پہلو بظاہر موروثی تصورِ تاریخ کی جگہ اخلاقی تصورِ تاریخ کی ترویج ہے ۔اقوام عالم عموماً اپنے سال کے آغاز کو اپنی کسی اہم شخصیت سے وابستہ کرنا مناسب خیال کرتی رہی ہیں۔ چنانچہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی مناسبت سے عیسوی سال کو نہ صرف عیسائیت کے ماننے والوں نے بلکہ جہاں کہیں بھی یورپی سامراج کے قدم پہنچے، ان اقوام کو ان کی تاریخ سے کاٹ کر عیسوی سال ان پر مسلط کر دیا گیا۔ عالمی تجارتی منڈی ہو یا بین الاقوامی ادارے، سب جگہ عیسوی سال کو رواج دیا گیا۔
اسلام کے تصورِ تاریخ اور اسلامی نظم مملکت ، اسلامی معاشرہ ،اسلامی معیشت و اخلاق اور اسلامی قانون کی انفرادیت کے پیشِ نظر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرتِ مدینہ کو سنگ میل قرار دے کر تاریخ کے نظریاتی اور اخلاقی تصور کو متعارف کرایا گیا۔ اسی طرح نظامِ عدل کے قیام کو تاریخ کا سنگ میل قرار دے کر اس اہم انقلابی تاریخ ساز موقع سے تاریخ کو شمار کرنے اور تمام جاہلی دور کو جس کی بنیاد نسل پرستی ، مادہ پرستی ، شرک پرستی پر تھی، ایک طرف رکھتے ہوئے تاریخ انسانی کے نئے انقلابی دور سے سنہ ہجری کا آغاز کیا گیا۔
اگر غور کیا جائے تو ہجرت بطور ایک دعوتِ عمل اپنا اہم مقام رکھتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی ہجرت اس بات کی علامت تھی کہ تیرہ سال تک شب و روز کی مسلسل جدوجہد اور ہر قسم کی تکلیف، تعذیب اور تضحیک کے باوجود مسلسل دعوتی عمل میں مصروف رہنے کے بعد جب مالکِ کائنات خود یہ حکم دے کہ اب اس محاذ کی جگہ دوسرے محاذ پر اپنی قوت صرف کرو تو بغیر کسی تاخیر کے اللہ کے حکم کی پیروی کی جائے ۔ اللہ کے حکم کے آنے کے بعد اپنی جائے پیدائش، جوانی گزارنے کی جگہ، خاندانی وابستگیوں، دعوتی یادوں سب کو خیرباد کہہ کر صرف اللہ کی رضا اور اجازت سے اپنے گھر کو چھوڑ کر ایک نئی جگہ کو دعوت کا مرکز بنا کر کام کو جاری رکھا جائے۔
یہ محض مکہ کو چھوڑنا نہیں تھا بلکہ مکہ میں دی جانے والی دعوتِ توحید کے دائرے کو وسیع کرنا تھا۔یہ ابتلاوآزمائش سے بچنا نہیں تھا بلکہ اس سے زیادہ کٹھن ایک نئی روایتِ عدل، معاشرتی فلاح، سیاسی حاکمیت اور اخلاقی اور قانونی فضا کا قیام تھا۔ یثرب جو صدیوں سے یہودی روایات کا احترام کرتا آیا تھا اسے مدینۃ الاسلام میں تبدیل کرنے کا تاریخ ساز کام تھا۔یہ کام اس مسلسل جہاد سے کم نہ تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ مکہ میں تیرہ سال تک مصروف رہے تھے۔ یہ توحید کی دعوت اور اخلاقی طرزِ حیات کو عملی شکل میں قائم کرنے کا عظیم کارنامہ تھا۔ نظامِ شرک کی جگہ نظامِ توحید کا نفاذ اس بات کا متقاضی تھا کہ اس واقعے کو تاریخ کا آغاز قرار دیا جائے۔
بعد میں آنے والے ادوار اور اشخاص کے لیے اس عظیم ہجرت الی الحق اورا سلام پر عمل کرنے کا آسان طریقہ حدیث نبوی کی شکل میں سمجھا دیا گیا کہ اگر ایک شخص ہجرت جسمانی ہو یا ذہنی، اس غرض سے کرتا ہے کہ وہ نئے مقام پر زیادہ مالی فائدہ حاصل کر سکتا ہے، یا اپنے ذاتی اختیارات میں اضافہ کر سکتا ہے، تو یہ ہجرت صرف انھی مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن اگر وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے، اللہ کے دین پر عمل اور اسے قائم کرنے کے لیے ہجرت کرتا ہے، تو یہ ہجرت اقامت دین کے لیے ہے ۔حدیث صحیح کے اس مفہوم کی روشنی میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پیش نظر ہجرت کا ہدف اور مقصد کیا ہے؟
کیا ہجرت اپنی ذات کی ترقی، کسی برتر عہدہ کے حصول یا مالی فائدہ کے لیے ہے، یا ہماری منصوبہ بندی میں اولین اہمیت دعوت الی القرآن ،دعوت الی السنہ، دعوت الی الحق، دعوت الی الخیر کی ہے؟ کیا ذاتی جائزہ کے بعد ماضی کے مقابلے میں دینی فہم میں مزید اضافہ ہوا؟ اپنے گھر والوں کی اصلاح کے لیے کوئی نئی اور مؤثر حکمت عملی تیار کی ؟ کیا اپنے نفس کے بہکاووں پر قابو پانے اور نفس مطمئنہ کے حصول کے لیے کوئی تربیتی نظام بنایا ہے؟ کیا تحریکی مقصد یعنی اقامت ِدین کی جدوجہد کے لیے کوئی سوچا سمجھا عملی منصوبہ تیار کیا ہے؟ کیا دیگر تحریکات کے تجربات کی روشنی میں کوئی نئی حکمت عملی تیار کی ہے یا ماضی کے آزمائے ہوئے طریقوں کو کافی سمجھ لیا ہے؟ کیا قیادت اور کارکن دونوں کی تربیت اور تحریکی فکر میں اضافے کا کوئی منصوبہ بنایا ؟
اگر اس شعور اور فکر کے ساتھ ان منصوبوں کے مطابق وسائل اور جدید وسائل کا استعمال کرنا پیش نظر ہے تو یہ خوش آئند ہے۔ تجدید عہد کرتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا عزم بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ انسان کی نیت اور نیت کی تصدیق کرنے والے عمل کو پسند فرماتا ہے۔ اس کی رحمت، اس کا کرم، اس کی مغفرت کسی پیمانے سے نہیں ناپی جا سکتی۔ وہ لامحدود ہے اور اس نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ اپنے بندوں کے ہرنیک عمل پر انھیں بڑھ چڑھ کر اجر دے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے جائزہ، تجزیہ اور ارادہ کو مستحکم اور اللہ کے توکل کے ساتھ اپنی تمام قوت کو اس منصوبۂ عمل پر لگا دیا جائے ۔اللہ کی نصرت اور تائید ان تمام ارادوں کو کامیاب کرتی ہے جو خلوصِ نیت اور بے غرض ہو کر کیے جائیں۔