عمر کیسی ہی دراز ہوجائے، چار دن کی چاندنی ہوتی ہے۔ دو دن آرزو اور دو انتظار میں کٹ جاتے ہیں، پھر انسان خود کو رخت ِسفر باندھ لینے پر مجبور پاتا ہے۔ صبح شام ہونے اور عمر تمام ہونے کی یہ کہانی انسانوں کے انبوہ عظیم کی داستانِ حیات ہے۔ جو چند مستثنیٰ ہوتے ہیں، وہ وقت اور صلاحیتوں کی قدر کرکے کسی مخصوص میدان میں انسانیت کے قافلے کو ذرا آگے لے جاتے ہیں۔ ان کا یہ اختصاص انسانیت کی عظیم خدمت شمار ہوتا ہے اور تاریخ انھیں محسنوں کی حیثیت سے یاد رکھتی ہے۔ البتہ خال خال کچھ ایسے دیدہ ور بھی پیدا ہوتے ہیں، جو کسی ایک صلاحیت کی فصل لگاکر عمر بھر اسی کھیتی کو جوتنے کے بجائے اپنی شخصیت میں صلاحیتوں کا ایک باغ لگاتے ہیں۔ وہ فطرت کے عطا کردہ بالقویٰ جواہر کی ہمہ جہت پرداخت پر کچھ ایسی توجہ صرف کرتے ہیں کہ ہر جوہر اپنی جگہ آفتاب بن جاتا ہے۔ ابن سینا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ منٹ، سیکنڈ اور ماہ و سال کے اعتبار سے ان کی ۵۷ سالہ زندگی اور عام زندگیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، لیکن زندگی کے ہر لمحے کی انھوں نے کچھ ایسی قدر کی کہ آج بھی ان کی فکری فتوحات کا پورا مال غنیمت اکٹھا نہیں کیا جاسکا ہے۔ ایک سنجیدہ، ذہین، اور محنتی طالب علم کے لیے وہ بجا طور پر ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ابن سینا افشنہ (مضافات بخارا)میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد حکومت کی جانب سے ملکی اُمور کی انجام دہی پر مامور تھے۔ ابتدائی تعلیم وطن ہی میں حاصل کی۔ ذہنی استعداد خداداد تھی، اس پر علمی تجسس، فکری ذوق ، اور تحقیقی مزاج سونے پر سہاگہ تھا۔ زبان و ادب اور علومِ دینیہ کی تحصیل کے ساتھ ساتھ دس برس کی عمر میں قرآن کے حفظ سے فارغ ہوئے۔پھر فقہ، فلسفہ و ریاضی کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کے شوق اور لگن کا یہ عالم تھا کہ ۱۶ برس کی عمر تک رائج علوم و فنون پر عبور حاصل کرلیا۔ واضح رہے کہ ابن سینا کے لیے ان کے والد نے وقت کے بہترین اساتذہ کے ذریعے گھر پر ہی تعلیم کا انتظام کیا تھا۔لیکن بیٹے کی ذہانت و ذکاوت اور استعداد علمی کی وجہ سے کسی لائق استاد کی تلاش خود ان کے والد کے لیے ایک خوش گوار پریشانی بن گئی تھی۔حصولِ علم کے جنون میں ابن سینا نے ایک سبزی فروش سے ہندستانی ریاضی اور ایک عیسائی مسافر سے طب یونانی کے ابتدائی درس لیے۔
طبرستان کے ابو عبداللہ ناتلی جب بخارا آئے تو ابن سینا کے والد نے انھیں اپنے یہاں جگہ دی۔ ایک بڑے عالم کی قدردانی کے علاوہ ابن سینا کو استفادے کا موقع بہم پہنچانا بھی مقصود تھا۔ ان سے ابن سینا نے منطق کے بنیادی مسائل سیکھے، اور ذاتی مطالعے سے دقیق مسائل تک رسائی حاصل کی۔ پھر تو حالت یہ ہوگئی کہ بطلیموس اور اقلیدس کی کتابوں کے ان مسائل کو بھی خود حل کرنے لگے، جن کے استاذ محترم بھی متحمل نہ تھے۔ ابن سینا کے علمی شوق، سرعت مطالعہ، دورانِ درس سوالات و اعتراضات اور بحث و مباحثے سے استاذ کو شاگرد کے علمی مقام کا اندازہ ہوگیا۔ انھوں نے ابن سینا کے والد سے کہا کہ اس لڑکے کو علم کے علاوہ کسی اور کام میں مصروف نہ کریں۔
کثرتِ مطالعہ کا ایک فتنہ یہ ہے کہ انسان بے سمجھے بوجھے حروف پر نظر کی اسکیننگ سے مطمئن ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ابن سینا معلومات، دقیق نکات، اور فلسفیانہ دلائل کو اپنے فہم کا حصہ بنانے کے حریص تھے۔ چنانچہ ارسطو کی مابعد الطبیعۃ کے مطالب ان پر نہ کھلے تو انھوں نے اس کتاب کا چالیس چالیس مرتبہ مطالعہ کرڈالا۔ اور پھر جب فارابی کی شرح سے ارسطو کی گرہیں کھلیں تو سجدۂ شکر بجا لائے اور فرحت و انبساط کے عالم میں فقراء و مساکین کو دل کھول کر صدقہ دیا۔
ابن سینا جب طب کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک آدھ برس ہی میں یعنی عمر کی اٹھارھویں منزل پر پہنچتے پہنچتے یہ استعداد حاصل کرلی کہ باقاعدہ علاج معالجہ کرنے لگے۔سیکھنے کا ایسا جنون تھا کہ اپنے مطب میں مریضوں کا مفت علاج کرتے، مرض کی علامات کو باقاعدہ نوٹ کرتے اور وجوہ پر غور کرتے۔ اس طرح اپنے قاموسی دماغ میں کتابی معلومات کے ساتھ ساتھ ذاتی تجربے کی حکمتوں کا خزانہ بھی جمع کیا۔ جلد ہی ان کی طبی مہارت و تحقیقات کی دھوم مچ گئی۔ انھیں سلطانِ بخارا کے علاج کے لیے شاہی دربار بلایا گیا۔ جہاں بڑے بڑے اطباء نے ہاتھ کھڑے کردیے تھے، وہاں اس نوعمر حکیم نے سلطان کو پیروں پر کھڑا کردیا۔ کوئی اور ہوتا تو اس کامیابی پر بادشاہ سے دنیا جہان کی دولت مانگ لیتا، لیکن ابن سینا نے شاہی کتب خانے سے استفادے کی اجازت مانگی۔ شاید نادر و نایاب کتب کی معیت ہی ابن سینا کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی دولت تھی۔
طب میں ابن سینا کو یہ درجہ اس وجہ سے بھی حاصل ہوا کہ انھوں نے اس علم کو مروجہ رجحانات سے آگے لے جانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ مثلاً انھوں نے یونانی مسلمات سے ہٹ کر یہ تصور پیش کیا کہ مختلف بیماریوں کے لیے جراثیم ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انھی بنیادوں پر لوئی پاسچر نے انیسویں صدی میں Immunologyکی پوری عمارت تعمیر کی۔ ابن سینا کی القانون اور دیگر طبی کتابوں کے مطالعے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ وہ طب میں دواؤں کے ذریعے علاج کے یک رُخے تصور کے بجائے صحت کے سلسلے میں ایک جامع نقطۂ نظر کے حامل ہیں، جس میں پرہیز، غذا ، پانی، نیند، آب و ہوا، نفسیات، طرز زندگی،جسمانی سرگرمی وغیرہ عوامل کےاپنے خصوصی مقام کو تسلیم کیا گیاہے۔ ان کے تجویز کردہ نسخوں میں بھی مریض کی عمر، وزن اور کھانے پینے کے معمولات کے اعتبار سے اختلاف نظر آتا ہے۔ انھوں نے علم طب میں سائنٹی فک تجربے کی بنیاد ڈالی، اور ان شرائط کا تفصیل سے ذکر کیا، جن کے پورے ہونے پر دوا کا اثر معلوم کیا جاسکے۔ جدید آلات اور ٹکنالوجی کی عدم موجودگی میں بھی انسانی اعضاء بالخصوص آنکھ جیسے نازک عضو کی معیاری تشریح بھی ان کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ ذیابیطس، موتیابند، ذات الصدر، اور گردن توڑ بخار وغیرہ پر ابن سینا کے تحقیقی مشاہدات سے بظاہر یکساں علامات کے حامل مختلف امراض کے درمیان خطِ امتیاز واضح ہوا۔ ابن سینا نے بتایا کہ ٹی بی متعدی بیماری ہے، نیز طاعون کی وبا میں چوہوں کے مسموم کردار کی پیش گوئی کی جو بعد میں صحیح ثابت ہوئی۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ہر کوئی قرنطینہ (Quarantine)سے واقف ہوگیا ہے، لیکن اس حقیقت سے بہت سے لوگ لاعلم رہے کہ ٹھوس طبی بنیادوں پر سب سے پہلے ابن سینا ہی نے متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ۴۰دنوں کے قرنطینہ کا تصور دیا تھا۔
فلسفے کے میدان میں ابن سینا کے اثرات دیر پا ہیں۔وہ محض یونانی فلسفے کے شارح نہیں تھے، ان کا خیال تھا کہ قدما کی کتابوں کی شروحات سے آگے بڑھ کر اپنا فلسفہ مدون کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں ابن سینا کو بجا طور پر یونانی فلسفہ اور مشرقی حکمت کا جامع کہا جاتا ہے۔ ایک نامور فلسفی ہونے کے باوجود ابن سینا نے انسان کی قوتِ خیال کو ناقص قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قوتِ فکر و خیال آزاد نہیں ہے،منطق کی محتاج ہے۔ جس طرح کوئی قیافہ شناس کسی فرد کے ظاہر سے اس کے باطن پر گمان قائم کرتا ہے، اسی طرح منطق داں معلوم مقدمات سے نامعلوم نتائج کا استنباط کرتے ہیں۔ ابن سینا کے مطابق اس عمل میں غلطیوں اور تعصبات کی آمیزش کا احتمال قوی ہوتا ہے، لہٰذا منطق سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا، وحی الٰہی سے ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کے سایۂ عاطفت میں انسان منطق سے اس طور پر غنی (بے نیاز) ہوجاتا ہے جیسا کہ کوئی عرب بدو علمِ صرف و نحو سے۔
ابن سینا کا اختراعی ذہن اپنے زمانے سے بہت آگے تھا۔ ان کا مبلغ علم کتب بینی سے آگے بڑھ کر تجربات تک وسیع تھا۔ انھوں نے فکری وعملی ہر دو طرح کے تجربے کیے۔ مثلاً ’الرجل المعلق‘ (The Floating Man)کے فکری تجربے (Thought Experiment) کے ذریعے انھوں نے شعور اور روح کے غیر مادی وجود کو ثابت کیا ہے۔ تقریباً چھ سو برسوں کے بعد ڈیکارٹ کا یہ کہنا کہ I think therefore I am،ابن سینا کے اسی فکری تجربے کو خراج عقیدت محسوس ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک مثال اس عملی تجربے کی ہے، جس میں ابن سینا نے دو بھیڑ کے بچوں کو لیا جن میں عمر، نسل، جسامت، اور وزن کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں تھا۔ ان دونوں بھیڑوں کو الگ الگ پنجروں میں رکھا گیا۔ ایک تیسرے پنجرے میں ایک بھیڑیے کو بھی بند کیا گیا اور اسے ذرا دور کچھ اس زاویے سے رکھا گیا کہ ایک بھیڑ کے بچے کو بھیڑیا نظر آتا مگردوسرے کو دکھائی نہیں دیتا۔دونوں بھیڑ کے بچے اس ایک معمولی فرق کے علاوہ بالکل یکساں ماحول میں تھے، انھیں غذا بھی ایک سی دی جارہی تھی۔ابن سینا نے یہ نوٹ کیا کہ جس بھیڑ کے بچے کی نظر سے بھیڑیا دور تھا وہ صحت مند رہا، لیکن جس بھیڑ کے بچے کو بھیڑیا دکھائی دیتا تھا، اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بوکھلاہٹ، سراسیمگی، اور دیوانگی کے آثار پائے جانے لگے۔ اس کی نشوونما متاثر ہونے لگی، وزن بھی گھٹنے لگا، حتیٰ کہ ایک دن وہ مرگیا۔ بھیڑیے کی دسترس سے بظاہر محفوظ رہنے کے باوجود بھیڑ کے بچے کا جو حال ہوااس سے ابن سینا نے خوف، دہشت، گھبراہٹ، اور منفی سوچ جیسے غیر مادی عوامل کے صحت پر اثرات کو ثابت کیا ہے۔
قصہ المختصر یہ کہ ابن سینا کے تجسس و جستجو اور پیہم سرگردانی میں ہمارے لیے سبق ہے۔ ان کی طبی و فلسفیانہ کتابیں ہی نہیں بلکہ مذہبی مضامین، صوفیانہ رسائل، متفرق اشعار و مضامین بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی انشاپردازی بھی غضب کی تھی۔ منطق و فلسفہ اور طب کی کتابوں کی خوب صورت اور بلیغ نثر میں اہل ذوق کو شاعری کا مزہ ملتا ہے۔
مشہور ہے کہ تنوع، گہرائی اور وسعت کے اعتبار سے سمندر بے مثال ہوتے ہیں، لیکن ابن سینا کی علمی کاوشوں کے تنوع، فکر و فلسفے کی گہرائی، اور اختصاصی میدانوں کی وسعت بحر الکاہل اور بحراوقیانوس کو شرماتی ہے۔ ڈی بورو نے لکھا ہے: ’’ابن سینا میں بیک وقت اتنے اوصاف و کمالات یکجا ہوگئے تھے کہ اہل یورپ انھیں ’جادوگر‘ کہا کرتے تھے‘‘۔ ایک عام انسان حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ ابن سینا، ربِّ ذوالجلال سے کتنی زندگیاں مانگ لائے تھے۔ لیکن ایک عقل مند جانتا ہے کہ زندگی میں کامیابی کا اصل راز ماہ و سال کی کثرت تعداد پر نہیں بلکہ ہر گزرتے لمحے کی استعداد سے بھرپور استفادے پر ہے۔
خود ابن سینا کا قول ہے کہ میں مختصر مگر کشادہ زندگی کو لمبی مگر تنگ زندگی پر ترجیح دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ لغویات و کسل مندی کے پھندوں اور تنگ و محدود زندگی کی لعنت سے حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی مہلت عمل کے احسن اور بہترین استعمال کی توفیق دے، آمین!