اپریل ۲۰۲۵

فہرست مضامین

عبقریت ،ابن سینا اور ہم

ڈاکٹر خان یاسر | اپریل ۲۰۲۵ | تاریخ وسوانح

Responsive image Responsive image

عمر کیسی ہی دراز ہوجائے، چار دن کی چاندنی ہوتی ہے۔ دو دن آرزو اور دو انتظار میں کٹ جاتے ہیں، پھر انسان خود کو رخت ِسفر باندھ لینے پر مجبور پاتا ہے۔ صبح شام ہونے اور عمر تمام ہونے کی یہ کہانی انسانوں کے انبوہ عظیم کی داستانِ حیات ہے۔ جو چند مستثنیٰ ہوتے ہیں، وہ وقت اور صلاحیتوں کی قدر کرکے کسی مخصوص میدان میں انسانیت کے قافلے کو ذرا آگے لے جاتے ہیں۔ ان کا یہ اختصاص انسانیت کی عظیم خدمت شمار ہوتا ہے اور تاریخ انھیں محسنوں کی حیثیت سے یاد رکھتی ہے۔ البتہ خال خال کچھ ایسے دیدہ ور بھی پیدا ہوتے ہیں، جو کسی ایک صلاحیت کی فصل لگاکر عمر بھر اسی کھیتی کو جوتنے کے بجائے اپنی شخصیت میں صلاحیتوں کا ایک باغ لگاتے ہیں۔ وہ فطرت کے عطا کردہ بالقویٰ جواہر کی ہمہ جہت پرداخت پر کچھ ایسی توجہ صرف کرتے ہیں کہ ہر جوہر اپنی جگہ آفتاب بن جاتا ہے۔ ابن سینا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ منٹ، سیکنڈ اور ماہ و سال کے اعتبار سے ان کی ۵۷ سالہ زندگی اور عام زندگیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، لیکن زندگی کے ہر لمحے کی انھوں نے کچھ ایسی قدر کی کہ آج بھی ان کی فکری فتوحات کا پورا مال غنیمت اکٹھا نہیں کیا جاسکا ہے۔ ایک سنجیدہ، ذہین، اور محنتی طالب علم کے لیے وہ بجا طور پر ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ابن سینا افشنہ (مضافات بخارا)میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد حکومت کی جانب سے ملکی اُمور کی انجام دہی پر مامور تھے۔ ابتدائی تعلیم وطن ہی میں حاصل کی۔ ذہنی استعداد خداداد تھی، اس پر علمی تجسس، فکری ذوق ، اور تحقیقی مزاج سونے پر سہاگہ تھا۔ زبان و ادب اور علومِ دینیہ کی تحصیل کے ساتھ ساتھ دس برس کی عمر میں قرآن کے حفظ سے فارغ ہوئے۔پھر فقہ، فلسفہ و ریاضی کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کے شوق اور لگن کا یہ عالم تھا کہ ۱۶ برس کی عمر تک رائج علوم و فنون پر عبور حاصل کرلیا۔ واضح رہے کہ ابن سینا کے لیے ان کے والد نے وقت کے بہترین اساتذہ کے ذریعے گھر پر ہی تعلیم کا انتظام کیا تھا۔لیکن بیٹے کی ذہانت و ذکاوت اور استعداد علمی کی وجہ سے کسی لائق استاد کی تلاش خود ان کے والد کے لیے ایک خوش گوار پریشانی بن گئی تھی۔حصولِ علم کے جنون میں ابن سینا نے ایک سبزی فروش سے ہندستانی ریاضی اور ایک عیسائی مسافر سے طب یونانی کے ابتدائی درس لیے۔

طبرستان کے ابو عبداللہ ناتلی جب بخارا آئے تو ابن سینا کے والد نے انھیں اپنے یہاں جگہ دی۔ ایک بڑے عالم کی قدردانی کے علاوہ ابن سینا کو استفادے کا موقع بہم پہنچانا بھی مقصود تھا۔ ان سے ابن سینا نے منطق کے بنیادی مسائل سیکھے، اور ذاتی مطالعے سے دقیق مسائل تک رسائی حاصل کی۔ پھر تو حالت یہ ہوگئی کہ بطلیموس اور اقلیدس کی کتابوں کے ان مسائل کو بھی خود حل کرنے لگے، جن کے استاذ محترم بھی متحمل نہ تھے۔ ابن سینا کے علمی شوق، سرعت مطالعہ، دورانِ درس سوالات و اعتراضات اور بحث و مباحثے سے استاذ کو شاگرد کے علمی مقام کا اندازہ ہوگیا۔ انھوں نے ابن سینا کے والد سے کہا کہ اس لڑکے کو علم کے علاوہ کسی اور کام میں مصروف نہ کریں۔

  • ذوقِ مطالعہ:ابن سینا اب اساتذہ سے بے نیاز تھے۔ انھوں نے اس انہماک سے مطالعہ شروع کیا کہ سارا سارا دن اور ساری ساری رات مطالعے اور غور و فکر کے لیے وقف ہوکر رہ گئی۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرتے، پھر زیر بحث مسائل پر از خود سوچتے، جس دلیل پر تفکر کررہے ہوتے، اس پر قیاسی مقدمات بناتے، اسے متعلقہ مسائل میں رکھ کر غور کرتے کہ کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے؟ اس طرح لکیر کا فقیر بننے کے بجائے انھوں نے اپنے اندر ایک اختراعی اور تنقیدی ذہن پروان چڑھایا۔علمی و اجتہادی خطاؤں سے تو کسی بشر کو مفر نہیں لیکن ان کے تنقیدی ذہن نے انھیں متعدد فکری گمراہیوں سے محفوظ رکھا۔ مثلاً اس دور میں فاطمی سلطنت کا اثر و رسوخ بڑھا،ان کے والد نے بھی اسماعیلی عقائد کی پیروی اختیار کرلی، مگر ابن سینا نے والد کی خواہش اور طبقۂ اشرافیہ میں چلتے ایک فیشن سے مرعوب و متاثر ہوکر اپنی راہ کھوٹی نہیں کی۔ابن سینا جب کسی مسئلے پر اٹک جاتے اور بار بار مطالعے اور قیاس سے بھی مسئلہ نہ سلجھ رہا ہوتا تو جامع مسجد میں جاکر نماز پڑھتے، رو کر، گڑگڑاکر دعائیں مانگتے یہاں تک کہ گتھی سلجھ جاتی۔ راتوں میں چراغ کی روشنی میں پڑھتے لکھتے، نیند کا غلبہ یا کمزوری کا احساس ہوتا تو نبیذ پی کر پھر مطالعے میں مصروف ہوجاتے۔ نیند فطری ہے، مگر وہ بھی کچھ اس شان سے آتی کہ خواب میں مختلف علمی مسائل حل ہورہے ہوتے۔

کثرتِ مطالعہ کا ایک فتنہ یہ ہے کہ انسان بے سمجھے بوجھے حروف پر نظر کی اسکیننگ سے مطمئن ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ابن سینا معلومات، دقیق نکات، اور فلسفیانہ دلائل کو اپنے فہم کا حصہ بنانے کے حریص تھے۔ چنانچہ ارسطو کی مابعد الطبیعۃ کے مطالب ان پر نہ کھلے تو انھوں نے اس کتاب کا چالیس چالیس مرتبہ مطالعہ کرڈالا۔ اور پھر جب فارابی کی شرح سے ارسطو کی گرہیں کھلیں تو سجدۂ شکر بجا لائے اور فرحت و انبساط کے عالم میں فقراء و مساکین کو دل کھول کر صدقہ دیا۔

ابن سینا جب طب کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک آدھ برس ہی میں یعنی عمر کی اٹھارھویں منزل پر پہنچتے پہنچتے یہ استعداد حاصل کرلی کہ باقاعدہ علاج معالجہ کرنے لگے۔سیکھنے کا ایسا جنون تھا کہ اپنے مطب میں مریضوں کا مفت علاج کرتے، مرض کی علامات کو باقاعدہ نوٹ کرتے اور وجوہ پر غور کرتے۔ اس طرح اپنے قاموسی دماغ میں کتابی معلومات کے ساتھ ساتھ ذاتی تجربے کی حکمتوں کا خزانہ بھی جمع کیا۔ جلد ہی ان کی طبی مہارت و تحقیقات کی دھوم مچ گئی۔ انھیں سلطانِ بخارا کے علاج کے لیے شاہی دربار بلایا گیا۔ جہاں بڑے بڑے اطباء نے ہاتھ کھڑے کردیے تھے، وہاں اس نوعمر حکیم نے سلطان کو پیروں پر کھڑا کردیا۔ کوئی اور ہوتا تو اس کامیابی پر بادشاہ سے دنیا جہان کی دولت مانگ لیتا، لیکن ابن سینا نے شاہی کتب خانے سے استفادے کی اجازت مانگی۔ شاید نادر و نایاب کتب کی معیت ہی ابن سینا کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی دولت تھی۔

  • تصنیف و تالیف:والد کے انتقال کے بعد ابن سینا کو ورثے میں ملی انتظامی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لانا پڑا۔ مختلف درباروں میں شاہی طبیب سے لے کر وزیر اعظم تک انھیں متعدد مناصب ملے، خانہ بدوشی سے لے کر قید خانے کی صعوبتیں جھیلیں، لیکن اپنی علم دوستی سے تہی دامن نہ ہوئے۔ ابن سینا کے لیے تحصیل علم و ترسیل بالقلم کا سفر عمر بھر جاری رہا۔ وہ پوری زندگی طالب علم رہے مگر دوسروں نے بہت جلد انھیں’شیخ الرئیس‘بنادیا۔ اس لقب میں استادوں کے استاد اور حکماء کے سردارسے لے کر تمام علوم میں کامل کے مفاہیم شامل ہیں۔ یہ لقب کسی شاعر کی لفاظی نہیں بلکہ اس شخص کی علمیت کا اعتراف تھا، جسے وقت کی تینوں علمی زبانوں (عربی، فارسی، اور یونانی) اور علمی خزانوں پر عبور حاصل تھا، اور جس نے طب، فلسفہ، منطق، کیمیا، نفسیات، طبیعیات، الٰہیات، ارضیات، فلکیات، اخلاقیات، نباتیات، حیوانیات، ہیئت، تدبیرِ منزل، تفسیر، تصوف، جغرافیہ، ریاضی، موسیقی،اور شعر و ادب وغیرہ پر تقریباً ۴۵۰تصانیف یادگار چھوڑیں، جن میں سے تقریباً ڈھائی سو آج بھی دنیا کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔
  • طبّی خدمات:طب کے میدان میں ابن سینا کی فتوحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اہل یورپ نے انھیں بقراط و جالینوس کا ہم پلہ بلکہ طبیبوں کا شہنشاہ (Prince of Physicians)قرار دیا۔ ابن سینا نے طب کے موضوع پر دسیوں کتابیں اور رسائل تصنیف کیے۔ البتہ القانون فی الطب کے حصے میں وہ مقبولیت و پذیرائی آئی، جو دنیا کی کسی دوسری طبی کتاب کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس شہرۂ آفاق طبی انسائیکلوپیڈیا کو ابن سینا نے پانچ جلدوں میں مرتب کیا۔ پہلی جلد انسانی جسم، تشریح الاعضاء، ماہیت الامراض، حفظان صحت، اور طب و علاج کے بنیادی اصولوں کی توضیح کرتی ہے۔ دوسری جلد میں تقریباً ۸۰۰؍ادویہ مفردہ (یعنی نباتی، حیوانی و معدنی اجزا کے طبی خواص)کا مفصل جائزہ لیا گیا ہے۔ تیسری جلد میں ان بیماریوں کے علاج پر بحث کی گئی ہے، جو جسم کے کسی ایک عضو کو متاثر کرتی ہیں۔ چوتھی جلد میں ان بیماریوں کے علاج پر تفصیلی بحثیں ہیں جو ایک سے زائد اعضاء یا پورے جسم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پانچویں جلد میں تقریباً ۶۵۰ مرکب دواؤں اور ان کے اجزائے ترکیبی کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ القانون فی الطب  کو یورپ کی یونی ورسٹیوں میں سترھویں اور اٹھارھویں صدی تک علم طب کی بنیادی نصابی کتاب کی حیثیت حاصل رہی۔ مختلف یورپی زبانوں میں اس کے ترجموں کے دسیوں ایڈیشن شائع ہوئے۔ یہ ڈاکٹر آسلر کا مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت بیانی ہے کہ القانون  کو یورپ میں ’طبی انجیل‘ کی حیثیت حاصل تھی۔ جدید طب پر ابن سینا کے بے شمار احسانات کے پیش نظر انھیں Father of Modern Medicineبھی کہا جاتا ہے۔

طب میں ابن سینا کو یہ درجہ اس وجہ سے بھی حاصل ہوا کہ انھوں نے اس علم کو مروجہ رجحانات سے آگے لے جانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ مثلاً انھوں نے یونانی مسلمات سے ہٹ کر یہ تصور پیش کیا کہ مختلف بیماریوں کے لیے جراثیم ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انھی بنیادوں پر لوئی پاسچر نے انیسویں صدی میں Immunologyکی پوری عمارت تعمیر کی۔ ابن سینا کی القانون اور دیگر   طبی کتابوں کے مطالعے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ وہ طب میں دواؤں کے ذریعے علاج کے یک رُخے تصور کے بجائے صحت کے سلسلے میں ایک جامع نقطۂ نظر کے حامل ہیں، جس میں پرہیز، غذا ، پانی، نیند، آب و ہوا، نفسیات، طرز زندگی،جسمانی سرگرمی وغیرہ عوامل کےاپنے خصوصی مقام کو تسلیم کیا گیاہے۔ ان کے تجویز کردہ نسخوں میں بھی مریض کی عمر، وزن اور کھانے پینے کے معمولات کے اعتبار سے اختلاف نظر آتا ہے۔ انھوں نے علم طب میں سائنٹی فک تجربے کی بنیاد ڈالی، اور ان شرائط کا تفصیل سے ذکر کیا، جن کے پورے ہونے پر دوا کا اثر معلوم کیا جاسکے۔ جدید آلات اور ٹکنالوجی کی عدم موجودگی میں بھی انسانی اعضاء بالخصوص آنکھ جیسے نازک عضو کی معیاری تشریح بھی ان کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ ذیابیطس، موتیابند، ذات الصدر، اور گردن توڑ بخار وغیرہ پر ابن سینا کے تحقیقی مشاہدات سے بظاہر یکساں علامات کے حامل مختلف امراض کے درمیان خطِ امتیاز واضح ہوا۔ ابن سینا نے بتایا کہ ٹی بی متعدی بیماری ہے، نیز طاعون کی وبا میں چوہوں کے مسموم کردار کی پیش گوئی کی جو بعد میں صحیح ثابت ہوئی۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ہر کوئی قرنطینہ (Quarantine)سے واقف ہوگیا ہے، لیکن اس حقیقت سے بہت سے لوگ لاعلم رہے کہ ٹھوس طبی بنیادوں پر سب سے پہلے ابن سینا ہی نے متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ۴۰دنوں کے قرنطینہ کا تصور دیا تھا۔

  • فکروفلسفہ:ابن سینا جتنے ماہر طبیب تھے، اتنے ہی بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر فلسفی تھے۔ طب جیسے عملی اور فلسفے جیسے نظری علم میں بھی ابن سینا نے ایک بڑا قریبی رشتہ ڈھونڈ لیا تھا۔ ان کے مطابق انسانی جسم کے لیے علم طب کی جو حیثیت ہے، وہی حیثیت نفس انسانی کے لیے فلسفے کی ہے۔ ان کی دوسری مشہور ترین تصنیف کا نام کتاب الشفاء ہے۔ نام سے یہ ایک طبی تصنیف معلوم پڑتی ہے مگر اسے ایک فلسفیانہ انسائیکلوپیڈیا کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس میں انھوں نے انسانی جسم کی نہیں بلکہ بنیادی طور پر انسانی عقل، روح اور نفس کی شفا کو موضوع بحث بنایا ہے۔

فلسفے کے میدان میں ابن سینا کے اثرات دیر پا ہیں۔وہ محض یونانی فلسفے کے شارح نہیں تھے، ان کا خیال تھا کہ قدما کی کتابوں کی شروحات سے آگے بڑھ کر اپنا فلسفہ مدون کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں ابن سینا کو بجا طور پر یونانی فلسفہ اور مشرقی حکمت کا جامع کہا جاتا ہے۔ ایک نامور فلسفی ہونے کے باوجود ابن سینا نے انسان کی قوتِ خیال کو ناقص قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قوتِ فکر و خیال آزاد نہیں ہے،منطق کی محتاج ہے۔ جس طرح کوئی قیافہ شناس کسی فرد کے ظاہر سے اس کے باطن پر گمان قائم کرتا ہے، اسی طرح منطق داں معلوم مقدمات سے نامعلوم نتائج کا استنباط کرتے ہیں۔ ابن سینا کے مطابق اس عمل میں غلطیوں اور تعصبات کی آمیزش کا احتمال قوی ہوتا ہے، لہٰذا منطق سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا، وحی الٰہی سے ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کے سایۂ عاطفت میں انسان منطق سے اس طور پر غنی (بے نیاز) ہوجاتا ہے جیسا کہ کوئی عرب بدو علمِ صرف و نحو سے۔

  • فکری و عملی تجربات:ابن سینا نے ’ممکن‘ اور ’واجب‘ کے فلسفیانہ تصورات سے ایک ’ذات واجب‘ کا وجود ثابت کیا۔ مؤرخِ فلسفہ پیٹر ایڈمسن عہد متوسط کے فلسفہ الٰہیات میں ابن سیناکے عظیم مرتبے کو نمایاں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’واجب الوجود‘ والی یہ دلیل وجود باری تعالیٰ کی سب سے مؤثر فلسفیانہ دلیل ہے۔ دور حاضر میں الحاد جدید کے طوفان بدتمیزی کے تناظر میں اس فلسفیانہ دلیل کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔

ابن سینا کا اختراعی ذہن اپنے زمانے سے بہت آگے تھا۔ ان کا مبلغ علم کتب بینی سے آگے بڑھ کر تجربات تک وسیع تھا۔ انھوں نے فکری وعملی ہر دو طرح کے تجربے کیے۔ مثلاً ’الرجل المعلق‘ (The Floating Man)کے فکری تجربے (Thought Experiment) کے ذریعے انھوں نے شعور اور روح کے غیر مادی وجود کو ثابت کیا ہے۔ تقریباً چھ سو برسوں کے بعد ڈیکارٹ کا یہ کہنا کہ I think therefore I am،ابن سینا کے اسی فکری تجربے کو خراج عقیدت محسوس ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک مثال اس عملی تجربے کی ہے، جس میں ابن سینا نے دو بھیڑ کے بچوں کو لیا جن میں عمر، نسل، جسامت، اور وزن کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں تھا۔ ان دونوں بھیڑوں کو الگ الگ پنجروں میں رکھا گیا۔ ایک تیسرے پنجرے میں ایک بھیڑیے کو بھی بند کیا گیا اور اسے ذرا دور کچھ اس زاویے سے رکھا گیا کہ ایک بھیڑ کے بچے کو بھیڑیا نظر آتا مگردوسرے کو دکھائی نہیں دیتا۔دونوں بھیڑ کے بچے اس ایک معمولی فرق کے علاوہ بالکل یکساں ماحول میں تھے، انھیں غذا بھی ایک سی دی جارہی تھی۔ابن سینا نے یہ نوٹ کیا کہ جس بھیڑ کے بچے کی نظر سے بھیڑیا دور تھا وہ صحت مند رہا، لیکن جس بھیڑ کے بچے کو بھیڑیا دکھائی دیتا تھا، اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بوکھلاہٹ، سراسیمگی، اور دیوانگی کے آثار پائے جانے لگے۔ اس کی نشوونما متاثر ہونے لگی، وزن بھی گھٹنے لگا، حتیٰ کہ ایک دن وہ مرگیا۔ بھیڑیے کی دسترس سے بظاہر محفوظ رہنے کے باوجود بھیڑ کے بچے کا جو حال ہوااس سے ابن سینا نے خوف، دہشت، گھبراہٹ، اور منفی سوچ جیسے غیر مادی عوامل کے صحت پر اثرات کو ثابت کیا ہے۔

  • علم ہیئت و فلکیات:عبقری ابن سینا کے کارنامے صرف طب وفلسفہ یا مطالعہ و مطب تک محدود نہیں ہیں۔ ان کے علم اور اکتشاف و انکشاف کا دائرہ بڑا وسیع تھا۔ مثلاً انھوں نے علم ہیئت و فلکیات میں بھی دسترس پیدا کی تھی اور ان کا اچھا خاصا وقت رصدگاہ میں گزرتا تھا۔ اپنے مشاہدات سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ زمین کی بہ نسبت زہرہ، سورج سے زیادہ قریب ہے۔ اور زہرہ جیسے سیارے سورج کی طرح بذاتِ خود روشن نہیں ہیں۔ بہتر مشاہدات اور اجرام فلکی کے درمیان فاصلے کی درست معلومات کے لیے ایک مخصوص اضطرلاب کی ایجاد بھی ان سے منسوب ہے (جس سے سورج اور ستاروں کے درمیان فاصلہ معلوم کیا جاتا ہے)۔
  • عجز و انکساری:ابن سینا کی عبقریت، ان کے علم کی وسعت، فکر کی گہرائی، تجرباتی حکمت، اور ذہن کی رسائی میں طلبہ کے لیے سبق ہی سبق ہے۔ ان کا تحقیقی ذوق اور تنقیدی بصیرت بھی مشعل راہ ہے۔ وہ بڑے بڑوں سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں انھوں نے حکیم جالینوس، حکیم بقراط، بلکہ اطباء کرام کے اجماع کے خلاف بھی آراء دی ہیں۔ لیکن ایک بڑا سبق ان کے انکسار میں بھی ہے۔ اس انکسار ایک پہلو احساس بندگی ہے، جو علمی مشکلات و مسائل میں انھیں خدا سے رجوع اور سجدہ و آہ وزاری کی دعوت دیتا تھا اور گتھی سلجھ جانے پر شکرانے اور صدقہ و خیرات پر اکساتا تھا۔ اس انکسار کا دوسرا پہلو احساس ذمہ داری ہے، جس کے نتیجے میں وہ اقلیم علم و حکمت پر حکمرانی کے باوجود اپنی کتب میں جابجا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں سانپ اور فلاں زہر اور فلاں پودے کے بارے میں میری یہ رائے تخمینی ہے، تحقیقی نہیں۔ شاگردوں کی تربیت پر ان کی خصوصی توجہ ہوتی تھی، اکثر ان کے ساتھ بالکل برابری کی سطح سے فلسفیانہ مباحث کیا کرتے تھے۔ ابن سینا نے جس طرح اپنے وقت کی تنظیم اور اس کے بہتر سے بہتر استعمال کو یقینی بنایا، اس میں بھی عقل مندوں کے لیے بے شمار اسباق ہیں۔ ابن سینا کا عہد افراتفری اور سیاسی خلفشار کا عہد تھا۔ خود ان کی زندگی میں پے در پے سفر اور خانہ بدوشی کے حادثات پیش آئے۔ قید میں بھی رہنا پڑا۔ لیکن ابن سینا نے مطالعہ اور تصنیفی کام میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ دورانِ سفر بھی مطالعہ کے علاوہ کتابوں کا خلاصہ اور مختصر رسائل کی تصنیف کا کام جاری رکھتے۔ خیال رہے کہ اس دور کے اسفار کو آج کے آرام دہ اسفار سے کوئی نسبت نہیں تھی۔

قصہ المختصر یہ کہ ابن سینا کے تجسس و جستجو اور پیہم سرگردانی میں ہمارے لیے سبق ہے۔ ان کی طبی و فلسفیانہ کتابیں ہی نہیں بلکہ مذہبی مضامین، صوفیانہ رسائل، متفرق اشعار و مضامین بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی انشاپردازی بھی غضب کی تھی۔ منطق و فلسفہ اور طب کی کتابوں کی خوب صورت اور بلیغ نثر میں اہل ذوق کو شاعری کا مزہ ملتا ہے۔

  • قرآن میں تدبرو تفکر:قرآن سے تعلق اور تدبر ابن سینا کی ایک امتیازی صفت تھی۔ کثرت تلاوت کے عادی تھے، ہر تیسرے چوتھے روز تکمیل قرآن کا معمول تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں جابجا قرآنی حکمتوں کے موتی بکھرے نظر آتے ہیں۔ یورپ پر انھوں نے صرف طبی و فلسفیانہ اثرات ہی مرتب نہیں کیے بلکہ تہذیبی اثرات بھی ڈالے۔ مثال کے طور پر اپنی تصانیف کا آغاز جب وہ تسمیہ اور حمد و نعت سے کرتے ہیں اور حمد و صلوٰۃ اور دعا پر اختتام کرتے ہیں تو اس کی بازگشت یورپی ترجموں بلکہ خوشہ چیں یورپی حکماء کی طبع زاد کتابوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔

مشہور ہے کہ تنوع، گہرائی اور وسعت کے اعتبار سے سمندر بے مثال ہوتے ہیں، لیکن ابن سینا کی علمی کاوشوں کے تنوع، فکر و فلسفے کی گہرائی، اور اختصاصی میدانوں کی وسعت بحر الکاہل اور بحراوقیانوس کو شرماتی ہے۔ ڈی بورو نے لکھا ہے: ’’ابن سینا میں بیک وقت اتنے اوصاف و کمالات یکجا ہوگئے تھے کہ اہل یورپ انھیں ’جادوگر‘ کہا کرتے تھے‘‘۔ ایک عام انسان حیران و ششدر  رہ جاتا ہے کہ ابن سینا، ربِّ ذوالجلال سے کتنی زندگیاں مانگ لائے تھے۔ لیکن ایک عقل مند جانتا ہے کہ زندگی میں کامیابی کا اصل راز ماہ و سال کی کثرت تعداد پر نہیں بلکہ ہر گزرتے لمحے کی استعداد سے بھرپور استفادے پر ہے۔

خود ابن سینا کا قول ہے کہ میں مختصر مگر کشادہ زندگی کو لمبی مگر تنگ زندگی پر ترجیح دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ لغویات و کسل مندی کے پھندوں اور تنگ و محدود زندگی کی لعنت سے حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی مہلت عمل کے احسن اور بہترین استعمال کی توفیق دے، آمین!