امریکی صدر ٹرمپ کے یک طرفہ غزہ قبضہ منصوبے کے جواب میں، ۵۷ رکنی اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے ایک کثیرجہتی تعمیر نو منصوبہ منظور کیا، جس کی قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس نے بھی توثیق اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح فرانس، جرمنی، اٹلی (یورپی یونین کے رکن ممالک) اور برطانیہ نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔
ٹرمپ کے نام نہاد’غزہ رویرا‘ منصوبے کے برعکس، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، او آئی سی کا تجویز کردہ منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کو تسلیم کرتا ہے، جب کہ ٹرمپ کے منصوبے میں ۲۴ لاکھ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی شامل ہے۔ او آئی سی کا کثیرالملکی منصوبہ غزہ کو تعمیرِ نو کے ذریعے بحال کرنے کا خواہاں ہے، بغیر کسی مقامی باشندے کی نقل مکانی کے۔
اسی طرح جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کے حوالے سے امریکا، عرب ممالک اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
قاہرہ سمٹ (۴ مارچ) میں عرب رہنماؤں نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ۵۳ بلین ڈالر کے مصری منصوبے پر اتفاق کیا، جس کا بنیادی نکتہ ۲۴ لاکھ فلسطینیوں کی نقل مکانی کو روکنا ہے۔ اس کے بعد، ۷مارچ کو جدہ، سعودی عرب میں منعقدہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ کے ہنگامی اجلاس میں اس عرب متبادل منصوبے کو باضابطہ طور پر منظور کیا گیا۔
یہ منصوبہ ایک آزاد تکنیکی کمیٹی کے ذریعے غزہ کا چھ ماہ تک انتظام سنبھالنے کے بعد اختیار منتقل کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے۔
’اسلامی تعاون تنظیم‘ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے مطابق: تنظیم نے غزہ کی ’جلد بحالی اور تعمیرِ نو‘ کے منصوبے کو اپنایا اور بین الاقوامی برادری، مالیاتی اداروں اور خطے کے فنڈنگ ذرائع سے فوری امداد کی اپیل کی۔مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے مطابق: ’’او آئی سی کے ہنگامی وزارتی اجلاس نے مصری منصوبے کو اپنا لیا ہے، جو اَب ’عرب-اسلامی منصوبہ‘ بن چکا ہے۔ اگلا قدم یہ ہوگا کہ اس منصوبے کو یورپی یونین اور دیگر عالمی قوتوں جیسے جاپان، روس اور چین کی منظوری حاصل ہو، تاکہ اسے بین الاقوامی منصوبہ بنایا جا سکے‘‘۔
علاوہ اَزیں، پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے زور دیا:’’او آئی سی کو اجتماعی طور پر فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش کی مزاحمت کرنی چاہیے، چاہے وہ انسانی ہمدردی کے پردے میں ہو یا تعمیرِ نو کے بہانے۔ اور یہ کہ فلسطینیوں کی بے دخلی کو ’سرخ لکیر‘ تصور کیا جائے، کیونکہ یہ نسل کشی کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے‘‘۔ انھوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارے UNRWA کے فلسطینیوں کی بحالی میں کردار کو بحال کرنے پر بھی زور دیا اور نشاندہی کی کہ اسرائیل پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل ۲(۵) کے تحت فلسطینیوں کو انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنائے‘‘۔
’اسلامی تعاون تنظیم‘ کے منظور کردہ منصوبے کا بنیادی مقصد تباہ حال غزہ کی تعمیرِ نو اور ’فلسطینی اتھارٹی‘ (PA) کے فعال کردار کے ذریعے وہاں امن و استحکام قائم کرنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت، پانچ سال میں غزہ کی تعمیر نو کے تین مراحل مکمل کیے جائیں گے:
عرب منصوبے کے تحت ایک ’انتظامی کمیٹی‘ قائم کی جائے گی، جو آزاد فلسطینی ماہرین پر مشتمل ہوگی اور عبوری مدت کے دوران غزہ کا انتظام سنبھالے گی، تاکہ فلسطینی اتھارٹی کو مکمل اختیار کی منتقلی ممکن ہو سکے۔
’اسلامی تعاون تنظیم‘ کے طویل مدتی منصوبے کے مطابق، ۲۰۳۰ء تک غزہ میں لاکھوں نئے مکانات، ایئرپورٹ، صنعتی زون، ہوٹل اور پارک بنائے جائیں گے اور اسے ایک جدید، خودمختار فلسطینی علاقہ بنایا جائے گا، جہاں فلسطینی اتھارٹی کی حکمرانی ہوگی۔
’فلسطینی اتھارٹی‘ (PA) اور حماس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ’’غزہ کو عبوری طور پر آزاد ماہرین کی کمیٹی کے ذریعے چلایا جائے اور وہاں بین الاقوامی امن دستے تعینات کیے جائیں‘‘۔
تاہم، امریکا اور اسرائیل نے ’اسلامی تعاون تنظیم‘ کے اس تعمیرِ نو منصوبے کو مسترد کر دیا ہے، جو امریکی-اسرائیلی غزہ قبضہ پالیسی کے خلاف ایک کثیرالملکی مزاحمتی حکمت عملی کا نمونہ ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی ہچکچاہٹ کے باوجود، صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی، اسٹیو وٹکوف نے بعد میں کہا کہ ’’یہ مصریوں کی جانب سے نیک نیتی پر مبنی پہلا قدم ہے‘‘۔
اُمید ہے کہ عالمی برادری جلد ہی ’اسلامی تعاون تنظیم‘ کے اس منصوبے کو ایک قابلِ عمل روڈمیپ کے طور پر تسلیم کرے گی۔لہٰذا، قاہرہ کو اپنی سفارتی کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور ایک وسیع ورکنگ گروپ تشکیل دینا ہوگا، جس میں مصر، اُردن، امریکا، فلسطینی اتھارٹی، خلیجی ریاستیں، یورپی یونین اور دیگر عطیہ دہندگان شامل ہوں۔
فلسطینی قیادت کے اندر مجوزہ منصوبے پر اتفاق رائے کی شدید ضرورت کے پیش نظر، ایک مشترکہ امریکی-عرب کوشش بھی ضروری ہے، تاکہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز ہو سکے اور حماس کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ایک دیرپا معاہدہ طے پاسکے، اور امن سفارتکاری کو کامیاب ہونے کا موقع دیا جا سکے۔(ترجمہ: ادارہ)