اپریل ۲۰۲۵

فہرست مضامین

معاشی استحکام یا نیوگریٹ گیم کا استعماری کھیل!

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی | اپریل ۲۰۲۵ | پاکستانیات

Responsive image Responsive image

پاکستان کی معیشت کو بدستور سنگین خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔حکومت بہرحال معاشی استحکام لانے اور معیشت کو بہتری کی طرف گامزن کرنے کے دعوے تواتر سے کرتی رہی ہے۔یہ بات صحیح ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضے کی قسط حاصل کرنے کے لیے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ان کے نتیجے میں معیشت میں عارضی استحکام یقیناًنظر آرہا ہے۔ تاہم، ہر محب وطن پاکستانی کے لیے یہ امر باعث تشویش ہونا چاہیے کہ یہ عارضی معاشی استحکام دراصل ملک کی معیشت، کروڑوں عوام اور قومی سلامتی کی قیمت پرحاصل کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی نظر آرہی ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضے کے موجودہ پروگرام کے دوران معیشت لڑکھڑاتی رہے گی اور پاکستان کے گردگھیرا مزید تنگ کرنے کے لیے خدانخواستہ ۲۰۲۷ءکے بعد بھی پاکستان ایک مرتبہ پھر۲۵ویں پروگرام کے لیے آئی ایم ایف سے دستِ سوال دراز کرے گا۔ حکومت کے ان دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں کہ آئی ایم ایف کا قرضے کا موجودہ پروگرام پاکستان کا آخری پروگرام ہوگا۔

ملکی و بیرونی اشرافیہ کے گٹھ جوڑ،وڈیرہ شاہی کلچر پر مبنی پالیسیاں یا اقدامات، بڑھتی ہوئی مالیاتی وانٹی لیکچویل (ذہنی) بدعنوانی سے معیشت وقومی سلامتی کو جو سنگین خطرات اور چیلنج درپیش ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:

ٹیکسوں کا غیر منصفانہ نظام

 پاکستان میں ٹیکسوں کا نظام غیر منصفانہ اور استحصالی ہے۔ یہ نظام طاقتور طبقوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ اور مراعات دیتا ہے، ٹیکس چوری ہونے دیتا ہے، معیشت کو دستاویزی بنانے میں رکاوٹیں ڈالتا ہے، کالے دھن کی پیداوار کو روکنے کے بجائے کالے دھن کو سفید بنانے کے راستے کھلے رکھتا ہے، اور ایک مقررہ رقم سے زائد ہر قسم کی آمدنی پر مؤثر طور سے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے اُونچی شرح سے ’جنرل سیلز ٹیکس‘ نافذ کرتا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر ہی پڑتا ہے۔ یہی نہیں، عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقوم کا صحیح استعمال بھی نہیں ہوتا اور ان رقوم کا بڑا حصہ حکومت اور حکومتی اداروں کی شاہ خرچیوں، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں اور کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ کئی ہزار ارب روپے سالانہ ٹیکس دینے والے عوام کو ان کی ادا کردہ رقوم سے عملاً کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچتا۔

 اس ضمن میں کچھ حقائق پیش ہیں:

۱- ہماری تحقیق کے مطابق موجودہ مالی سال میں وفاق اور صوبائی حکومتیں مجموعی طور پر ٹیکسوں کی مد میں حقیقی استعداد کے مقابلے میں تقریباً ۲۳ہزار ارب روپے کم وصول کریں گی، یعنی تقریباً ۱۹۰۰؍ ارب روپے ماہانہ کی کم وصولی۔ اس کم وصولی کے بڑے حصے کو ٹیکسوں کے منصفانہ نظام کے تحت وصول کیے بغیر معیشت کی بحالی اور تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے خاطر خواہ رقوم مختص کرنا ممکن ہی نہیں ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ وفاق اور صوبے۱۰ لاکھ روپے سالانہ سے زائد ہر قسم کی آمدنی پر بلا کسی چھوٹ، مؤثر طور سے ٹیکس نافذ اور وصول کریں اور ساتھ ہی جنرل سیلزٹیکس کی شرح بھی مرحلہ وار ۷ء۵ فی صد پر لے آئیں،ماسوائے ان اشیاء کے جو لگژری کے زمرے میں آتی ہیں۔

بدقسمتی سے وفاق، صوبے اور اشرافیہ ان اصلاحات کے لیے تیار ہی نہیں ہیں اور نہ اس ضمن میں کسی سیاسی، دینی یا مذہبی جماعت کا کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے کیونکہ کوئی بھی طاقتور اشرافیہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، خصوصاً وہ جماعتیں جو ان سے ووٹ اور نوٹ لینے کی خواہش رکھتی ہیں، انتخابات جیتنےکے لیےان کی مدد ضروری سمجھتی ہیں یا ان سے چندہ وغیرہ وصول کرتی ہیں۔

۲- معیشت کو دستاویزی بنانے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں نقد کاروبار عروج پر ہے ۔ تخمینہ ہے کہ کالے دھن کا حجم تقریباً ۷۰ ہزار ارب روپے ہے۔

۳- پاکستان میں پراپرٹی سیکٹر میں کئی ہزار ارب روپے کا کالا دھن لگا ہوا ہے۔ ان رقوم میں ٹیکس کی چوری اور کرپشن وغیرہ سے حاصل کی ہوئی رقوم بھی شامل ہیں۔پراپرٹی کی مالیت مارکیٹ کے نرخوں کے برابر لانے کے لیے نہ وفاقی حکومت تیار ہے اور نہ صوبائی حکومتیں۔ چنانچہ اس سیکٹر سے ٹیکسوں کی وصولی بہت کم ہورہی ہے۔

ہماری تجویز یہی ہے کہ ۱۵ملین روپے سے زائد ہر جائیداد کی فروخت کے اخبار میں شائع شدہ اعلان کے بعد ہر پاکستانی شخص کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ ۱۵ فی صد زیادہ قیمت کی پیش کش کرکے جائیداد کو خرید سکے۔ اس طرح یہ سودے بڑی حد تک مارکیٹ کے نرخوںپر ہوسکیں گے۔

پاکستان میں حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں وقتاً فوقتاًملک سے لوٹ کر بیرونی ملکوں میں منتقل کی گئی خطیر رقم پاکستان واپس لا کر عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کرنے کے بارے میںسیاسی بیانات دیتی رہی ہیںچونکہ وہ سب اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ مختلف وجوہ کی بنا پر اب اس ضمن میں کامیابی کا امکان بہت ہی کم ہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ ٹیکس حکام سے خفیہ رکھےہوئے کئی ہزار ارب روپےکے ایسے اثاثے ملک کے اندر موجود ہیں، جن کی تفصیلات بہرحال ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔

 ہم برس ہا برس سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے حکومتوں کی توجہ اس طرف دلاتے رہے ہیںلیکن یہ ملکی اشرافیہ کے گٹھ جوڑ ہی کا کمال ہے کہ سیاسی، مذہبی، رفاہی، صحافتی اور اصلاحی قوتوں میں سے کوئی بھی ان کی ناراضی مول لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسلام کا نظامِ زکوٰۃ

پاکستان میں زکوٰۃ ، خیرات اور چندہ کی رقوم میں بڑے پیمانے پر غلط کاریاں ہوتی رہی ہیں۔ مختلف ادارے یہ مہم زور شور سے چلاتے رہے ہیں کہ زکوٰۃو خیرات وغیرہ کی رقوم ان کو دی جائیں تاکہ وہ مستحقین تک پہنچاسکیں۔ اسلام میں اجتماعیت کا تصور ہے۔ ارشادِربانی ہے: ’’ان کے اموال میں سے زکوٰۃ وصول کرکے ان کو پاک و صاف کردو‘‘(التوبہ ۹:۱۰۳)۔ اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ آپؐ ان سے زکوٰۃ وصول کریں یعنی مسلمانوں کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ زکوٰۃ کی رقوم کو الگ الگ خرچ کریں۔ اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صاحب ِنصاب مسلمانوں بشمول اداروں سے زکوٰۃ وصول کرے اوران رقوم کو مستحقین تک پہنچانے کا ایک باقاعدہ نظام بھی وضع کرے۔ ان قرآنی احکامات کے باوجود کوئی بھی یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ حکومت، معاشرے کی اصلاح کرکے بیت المال کے نظام کا شفاف ڈھانچا قائم کرنے کے لیے حکمت عملی تشکیل دے۔ پاکستان میں جو سماجی ادارے ’رجسٹرڈ این پی اوز‘ (منافع نہ کمانے والے سماجی ادارے)ہیں،ان کی تعداد ۴۵۰۹ ہے مگر صرف ۲۷۷۶؍ ادارے انکم ٹیکس کے گوشوارے جمع کراتے ہیں۔ اس سے زکوٰۃ،خیرات اور چندہ وغیرہ کی وصولی اور ان رقوم کی تقسیم وغیرہ کے ضمن میں متعدد شبہات جنم لیتے رہے ہیں۔ ان امور کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔

ترسیلات،برآمدات،درآمدات

یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہے کہ برآمدات بڑھانے کے بجائے حکومتوں نے یہ پالیسی اختیار کیے رکھی ہے کہ انکم ٹیکس آرڈنینس کی شق ۱۱۱(۴) کے تحت کارکنوں کی ’ترسیلات‘ (Remittances) کے نام پر بڑی بڑی رقوم کی ’ترسیلات‘ پاکستان آنے دی جائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ :

۱-         لوگ قومی خزانے میں ایک پیسہ جمع کرائے بغیراپنا کالادھن سفید کراسکیں۔

۲-         غیر ضروری درآمدات کی وجہ سے پیدا ہونے والے تجارتی خسارے کے جھٹکے کو سنبھالنے کے لیے زرمبادلہ کی رقوم حاصل ہوسکیں۔

مالی سال۲۰۱۹ءسے مالی سال ۲۰۲۴ءکے ۶ برسوں کے یہ اعداد و شمار چشم کشا ہیں:

۱-         ملک کی مجموعی درآمدات کا حجم   ۳۴۶؍ ارب ڈالر

۲-         ملک کی مجموعی برآمدات کا حجم   ۱۶۱؍ ارب ڈالر

۳-         ملک کے تجارتی خسارے کامجموعی حجم     ۱۸۵؍ارب ڈالر

۴-         ملک میںآنے والی ترسیلات کا مجموعی حجم   ۱۶۳؍ارب ڈالر

 ۵-        ملک کے جاری حسابات کے خسارے کا مجموعی حجم ۴۲؍ارب ڈالر

            پاکستان میں مختلف حکومتیں بڑی چابک دستی سے جاری حسابات کے خسارے کے کم ہونے یا جاری حسابات کے عارضی طور پر فاضل ہونے پر کامیابیوں کی دعوے کرتی ہیں، جوعملاً پاکستان کے مخصوص حالات میں سفاکانہ خود فریبی کے مترادف ہے۔ حالانکہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنج یہ ہے کہ اپنے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہوگا۔ مسلم لیگ(ن )کے منشور میں کہا گیا تھا ’’سمندر پار پاکستانیوں کی آنے والی ترسیلات کا کم از کم ۵۰ فی صد سرمایہ کاری میں تبدیل کریں گے‘‘۔ اگر گذشتہ چھ برسوں میں ۱۶۳؍ارب ڈالر کی ترسیلات کا ۵۰فی صد ملکی سرمایہ کاری میں منتقل کردیا جاتا تو یقینا پاکستان کی قسمت بدل جاتی، مگر بدقسمتی سے ترسیلات کی رقوم، تجارتی خسارے کو سنبھالنے کے لیے استعمال کی جارہی ہیں جو کہ تباہی کا نسخہ ہے۔

            ہماری تجویز ہے کہ کسی شخص کو اگر ایک مالی سال میں ۱۰ہزار ڈالر سالانہ سے زیادہ کی رقوم کی ترسیلات وصول ہوں، تو ان ترسیلات پر ملکی قوانین کے تحت انکم ٹیکس نافذ اور وصول کیا جائے۔ ہم یہ بھی تجویز کریں گے کہ انکم ٹیکس آرڈنینس کی شق ۱۱۱(۴)کو منسوخ کردیا جائے۔ جس کے نتیجے میں حکومت برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگی اور ٹیکسوں کی وصولی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ ان اضافی رقوم کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ سال میں پاکستان کی ترسیلات ۳۵؍ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جب کہ برآمدات تقریباً ۳۲؍ارب ڈالر تک رہیں گی۔ یہ تخمینے حکومت کی غلط ترجیحات کی واضح مثال ہیں۔

کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ

کرپشن کا ناسور پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلاکررہا ہے۔ یہ ایک محتاط تخمینہ ہے کہ کرپشن، بدانتظامی، نااہلی، بدعنوان ونااہل افراد کی حکومتی اداروں میں تقرریوںو ترقیوں ، قواعدو ضوابط کو نظرانداز کرنے، شاہانہ اخراجات کرتے چلے جانے اور وفاق اور صوبوںکی جانب سے ٹیکسوں کی استعداد سے کم از کم۲۳ہزار ارب روپے سالانہ کی کم وصولی سمیت، قومی خزانے کومجموعی طور پر تقریباً ۳۴ہزار ارب روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے، یعنی تقریباً۲۸۸؍ارب روپے ماہانہ۔ اس نقصان کے صرف ۲۵ فی صدپر قابو پانے سے پاکستان کی معیشت میں اتنی بہتری آسکتی ہے جس کا فوری طور پر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، مگر اشرافیہ کے ناجائزمفادات کے تحفظ کے لیے کوئی بھی حکومت اس ضمن میں سیاسی عزم نہیں رکھتی۔اس صورتِ حال میں اسلامی نظام معیشت و بنکاری شریعت کی روح کے مطابق نافذ ہوہی نہیں سکتا۔

 سرمائے کا فرار۔ بنکوں میں بیرونی کرنسی کے کھاتے

گذشتہ تقریباً ۳۲برسوں سے ملک میں رہائش پذیر پاکستانی اپنی ناجائز اور جائز رقوم سے کھلی منڈی سے بڑے پیمانے پر ڈالر خرید کرپاکستان میں کام کرنے والے بنکوں میں یہ رقوم اپنے بیرونی کرنسی کے کھاتوں میںجمع کراتے رہے ہیں۔ تخمینہ ہے کہ ملکی قوانین کے تحت ان کھاتوں میں جمع کرائی گئی رقوم میں سے تقریباً ۲۰۰؍ارب ڈالر بنکوں کے ذریعے پاکستان سے باہر بھجوائے گئے ہیں۔اس طرح ان کاکچھ کالادھن بھی سفید ہوگیا،جو بہرحال منی لانڈرنگ کی زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاںقومی خزانے میں ایک روپیہ جمع کرائے بغیر لوٹی ہوئی دولت کو قانونی تحفظ حاصل کرنا اب بھی ممکن ہے۔ گذشتہ برسوں میں حکومت نے ان کھاتوں کے ذریعے بیرونی کرنسی میں رقوم باہر منتقل کرنے پر کچھ پابندیاں لگائی ہیں،مگر سرمائے کا فرار بدستور جاری ہے ۔بیرونی کرنسیوں کے کھاتوںکے ذریعے رقوم کی باہر منتقلی کے مندرجہ ذیل تخمینے چشم کشا ہیں:

۱- گذشتہ ۳۲برسوں میں کھلی منڈی سے ڈالر خرید کر بیرونی کرنسی کے کھاتوں کے ذریعے بیرونی ممالک میں رقوم کی منتقلی کا مجموعی حجم   ۲۰۰؍ارب ڈالر

۲- آزادی کے تقریباً ۷۷برسوں کے بعد ۳۱دسمبر۲۰۲۴ءتک  پاکستان پر بیرونی قرضوں اور ذمہ داریوں کامجموعی حجم  ۱۳۱؍ ارب ڈالر

            اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ اگر تعلیم اور علاج معالجے وغیرہ کے علاوہ بیرونی کرنسیوں کے کھاتوں کے ذریعے مارکیٹ سے خریدے ہوئے ڈالرز کو باہر منتقل نہ ہونے دیا جائے، تو عملاً پاکستان پر بیرونی قرضہ ہوتا ہی نہیں اور پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام سے باہر آکر دانش مندانہ معاشی پالیسیاں بنانے کی پوزیشن میں آسکتا تھا۔ مگر حکومت اور اسٹیٹ بنک ان کھاتوں کے ذریعے تعلیم اور صحت کے علاوہ ملک سے باہررقوم کی منتقلی پر پابندی لگانے کے لیے تیارہی نہیں ہیں۔

شعبہ بنکاری ، معیشت اور قومی سلامتی

گذشتہ تقریباً چھ برسوں میں پاکستان میں کام کرنے والے بنکوں نے اپنے سالانہ منافع میں جس تیز رفتاری سے اضافہ کیا ہے، اس کی پہلے کوئی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہے۔ بنکوں کے منافع میں زبردست اضافے کی وجوہ میں مندرجہ ذیل عوامل بھی شامل ہیں:

۱-         بنک نفع و نقصان میں شرکت کےکھاتے داروں کو اپنے منافع میں شریک نہیں کرتے رہے ہیں۔ اس طرح کروڑوں کھاتے داروں کو قانون توڑ کرکئی ہزار ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

۲-         بنکوں نے صنعت ، تجارت، زراعت اور برآمدات وغیرہ کے لیے قرضے کی فراہمی کو ثانوی حیثیت دے کر حکومتی تمسکات میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جہاں فی الحال نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس طرح پاکستان میں کرپشن کی پیداوار بجٹ خسارے کی مال کاری کو بنکوں نے اپنا فرض اولین بنا لیا ہے۔

۳-         بنکوں نے بیرونی کرنسی میں سٹے بازی کی اور عملاً ڈالرائزیشن اور سرمائے کے فرار میں کردار ادا کیا۔

یہ بات حیرت انگیز ہے کہ۲۰۰۸ء کابنکوں کا ٹیکس سے قبل مجموعی منافع ۶۳؍ارب روپے تھا جو۲۰۱۸ء میں۲۴۲؍ارب روپے،۲۰۲۱ء میں۴۵۱؍ارب روپے، ۲۰۲۲ء میں۷۰۳؍ارب روپے اور ۲۰۲۳ء میں۱۲۸۷؍ارب روپے ہوگیا۔ پاکستان کی تاریخ میںبنکوں کے منافع میں اس حیرت انگیز تیز رفتاری سے اضافہ ہونے کی پہلے سے کوئی مثال نہیں ہے۔یہی نہیں، ۲۰۰۸ءمیں بنکوں کے قرضوں کا مجموعی حجم بنکوں کی مجموعی سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ تھا،لیکن ۲۰۲۳ءمیں بنکوںکی مجموعی سرمایہ کاری بنکوںکے قرضوں کے حجم سے دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی۔ یہ خسارے اور تباہی کا سودا ہے اور اس سے قومی سلامتی کے لیے خطرات بڑھےہیں۔

بنکوں کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی شرح نمو سست ہوئی، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ،بچتوں کی حوصلہ شکنی ہوئی، ڈالرائزیشن و سرمائے کے فرار میں اضافہ ہوا، اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات بھی دوچند ہوگئے۔ یہ نجکاری کے عمل کی زبردست ناکامی کا ایک اور ثبوت ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والے تمام بنکوںکے دسمبر ۲۰۲۴ء میں مجموعی قرضوں کا حجم تقریباً  ۱۶۳۰۹؍۱ رب روپے تھا، لیکن مجموعی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً ۲۹۱۲۹؍ارب روپے تھا ۔تجارتی بنکوں کا اپنے قرضے کے مقابلے میں اتنی بڑی رقوم کی سرمایہ کاری کرنے کی پاکستان میں کوئی مثال موجود نہیں ہے اور شاید ہی دنیا بھر میں کوئی اور مثال ہو۔ ہم اس بارے میں برس ہا  برس سے تواتر کے ساتھ اپنی پریشانی کا اظہار کرتے رہے ہیں مگر وزارتِ خزانہ،اسٹیٹ بنک اور بنکوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے یہ تباہ کن پالیسی برقرار رہی ہے۔ اب چونکہ پانی سر سے گزرچکا ہے، اس لیے ملک میں اِکا دکا کچھ آوازیں نیم دلی سے اٹھنا شروع ہوئی ہیں۔

 پاکستان میں کام کرنے والے بنکوں کے ڈپازٹس کا تقریباً ۸۰فی صد ان بنکوں کے پاس ہے، جن کے مالکان غیر ملکی ہیں۔ ستمبر ۲۰۲۴ء میں پاکستان میں کام کرنے والے تمام بنکوں کے مجموعی اثاثوں کا حجم تقریباً۵۲۱۱۲ ارب روپے تھا،جب کہ پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی کا حجم تقریباً ۱۰۵۰۰۰؍ارب روپے تھا یعنی بنکوں کے مجموعی اثاثے پاکستان کی جی ڈی پی کا تقریباً ۵۰فی صدہیں۔

پاکستان میں کام کرنے والے بنکوں نے برس ہا برس سے اسٹیٹ بنک اور وزارتِ خزانہ کے تعاون سے نجی شعبے کو قرضے فراہم کرنے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا، جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ہم یہ مسئلہ برس ہا برس سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اٹھاتے رہے ہیں ۔ آخر کار بعد از خرابیٔ بسیار گورنر اسٹیٹ بنک نے ۲۰۲۵ء میں یہ تسلیم کر ہی لیا کہ مالی سال ۲۰۰۴ءمیں بنکوں نے نجی شعبے کو جو قرضے دیے تھے،ان کا تناسب جی ڈی پی کا ۱۵فی صد تھا، جو مالی سال ۲۰۲۴ء میں کم ہوکر۸ء۴ فی صد رہ گیا۔ یہ حکومت، اسٹیٹ بنک اور بنکوں کے گٹھ جوڑ سے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بنکوں کی جانب سے حکومتی تمسکات میںسرمایہ کاری کی پالیسی کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بنکوں کے شاہانہ اخراجات میںبھی حیرت انگیز تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔

ہم یہ بات کہنے کے لیے اپنے آپ کو مجبور پاتےہیں کہ بنکوں کی نجکاری کے بعد ان کی کارکردگی کی جو صورتِ حال سامنے آئی ہے، وہ ہمیں ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ (EIC)کے دور کی یاد دلاتی ہے،جو نیوگریٹ گیم کے تناظر میں نو آبادیاتی نظام کی ایک نئی شکل میں واپسی کے مترادف ہے۔ اس پس منظر میں موجودہ حکومت کا نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ بہت پریشان کن ہے۔

دہشت گردی ۔ امریکا کے استعماری مقاصد برقرار

یہ امر بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ گذشتہ تقریباًدوبرسوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتاچلاجارہا ہے۔ یہ سنگین وارداتیںپہلے سے طے شدہ منصوبےاورایک مربوط حکمت عملی کے تحت کروائی جارہی ہیں۔ اب یہ چیزیں کھل کر سامنے آرہی ہیں کہ امریکا نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جولائی ۲۰۲۱ء میںطالبان سےمفاہمت کے بعد اپنی افواج افغانستان سے اچانک واپس بلا لی تھیں۔ امریکا کا افغانستان سے انخلا کو پاکستان میں فتح مبین، امریکا کی شرمناک شکست اور طالبان کی زبردست کامیابی قرار دیاگیا تھا ۔ہم نےبہرحال اسی وقت کہاتھا:

۱-         امریکا نے خطے میں اپنے استعماری مقاصد تبدیل کیے بغیر افغانستان سے انخلا کرکے صرف اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔اسے شکست سے منسوب کرنا خوش فہمی ہے۔

۲-         امریکا، پاکستان اور افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی پالیسی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

۳-         امریکی انخلا کے بعدنئی افغان حکومت کے پاکستان سے تعلقات کشیدہ رہیں گے۔

۴-         امریکا دہشت گردی کے نام پر جنگ جیتنےمیں کبھی بھی دلچسپی نہیں رکھتاتھا اور نہ وہ طالبان کی طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔

گذشتہ تقریباً چار برسوں میں یہ تمام باتیں درست ثابت ہوئی ہیں۔نائن الیون کے فوراً بعد ہم نے لکھا تھا: ’’دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی امریکی جنگ میں معاونت و شرکت پاکستان کے لیے خسارے اور تباہی کا سودا ہوگا اور اس معاونت و شرکت کے بدلے پاکستان کو جو امداد و مراعات ملیں گی، ان سے کہیں زیادہ نقصانات پاکستان کو اس دہشت گردی کی جنگ میںمعاونت کے نتیجے میں اٹھانا پڑیں گے‘‘(۲؍اکتوبر ۲۰۲۱ء)۔ اور اُسی وقت یہ بھی کہا تھا: ’’امریکی پالیسیوں کی نتیجے میں دہشت گردی کی اس جنگ میں معاونت اور شرکت سے جو چیلنج سامنے آئیں گے، ان سے نمٹنا پاکستان کی طاقت اور صلاحیت سے باہر ہوگا‘‘۔

عالمی دہشت گردی انڈیکس

افغانستان سے امریکی انخلا کے چند ماہ بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میںایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ عالمی دہشت گردی انڈیکس ۲۰۲۵ءکے مندرجہ ذیل نکات انتہائی تشویشناک ہیں:

۱- عالمی دہشت گردی انڈیکس میںپاکستان کو دہشت گردی سے متاثر ہونے والا دنیا کا دوسراسب سے بڑا ملک قرار دیا گیا ہے۔

۲- کا لعدم تحریک طالبان پاکستان کو دنیا کی چار بڑی دہشت گرد تنظیموں میں شامل کیا گیاہے۔ اس تنظیم نے پاکستانی قوم اور مملکت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی خوفناک اور خونی مہم شروع کی ہوئی ہے۔

۳- ۲۰۲۳ءکے مقابلے میں ۲۰۲۴ء میں پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیںدوگنی اور ۲۰۲۵ء کے پہلے تین ماہ ہی میں شدت پکڑگئی ہیں۔

۴- دہشت گردی کی ۹۶ فی صد وارداتیں صوبہ خیبر پختونخوا اورصوبہ بلوچستان میں ہورہی ہیں۔ بلوچستان کی دہشت گرد تنظیم، وہاں پر ہونے والی خوفناک دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے۔

یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ افغانستان میں ۲۰۲۱ء میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے افغانستان ہی پاکستان میں دہشت گردی کرنے والی تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے۔   ان برسوںمیں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

پاکستان میں مختلف حکومتوں کے دور میںدہشت گردی کی وارداتوں سے نمٹنے کے لیے صرف طاقت کا استعمال کیا جاتارہا ہے۔ حالانکہ دہشت گردی کی جنگ جیتنے کے لیے خطےکے عوام کے دل و دماغ بھی جیتنا ہوں گے اورپاکستان میں حکومتوں کو خود اپنی معاشی و مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے عوام کے خلاف اقتصادی دہشت گردی کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی امریکی جنگ میں معاونت اور بعد میں اس جنگ کوامریکی ایجنڈے کے مطابق پاکستان کی خود اپنی جنگ بنانے کے صلے میں امریکا نے پاکستان کے کچھ قرضے معاف کیے تھے۔ پاکستان کو نقد امداددی تھی اور دہشت گردی کی جنگ کے نقصانات کے ایک حصے کی تلافی بھی کی تھی، مگر یہ خسارے اور تباہی کا سودا ہی رہا۔ پاکستان میںدہشت گردی کی وارداتوںسے اب تک تقریباً ۸۵ ہزار افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا بھی سامنا ہے۔

اب سے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں صبح شام ڈیفالٹ کرنے کے نعرے خود حکومتی حلقوں کی جانب سےبھی لگائے جاتے رہے تھے، مگر ہم نے درجنوں بار کہا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا،کیونکہ امریکا کوپاکستان میں جہادی تنظیموں کے خلاف کارروائی، افغانستان کے معاملات، روس یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور’گریٹر اسرائیل‘ کے ناپاک منصوبے میں پیش رفت کرنے اور اپنے استعماری مقاصد کے حصو ل کے لیےبہترین محل وقوع کا حامل پاکستان، اس کی طاقت ور فوج اور عالم اسلام کا اہم ملک ہونے کی وجہ سے ابھی بھی امریکا کو پاکستان کی مددکی ضرورت ہے۔

حالیہ تشویشناک پہلو

۲۸ فروری ۲۰۲۵ءکو مدرسہ حقانیہ میں خود کش حملہ اور ماضی میں دینی مدارس کے خلاف اسلام دشمن قوتوں کے پروپیگنڈا سے اس بات کا خدشہ نظر آرہا ہے کہ استعماری طاقتیں آگے چل کر پاکستان میں دینی مدارس کے معاملات اور نصاب میں کسی نہ کسی شکل میں مداخلت کریں گی۔

 افغانستان سے امریکی افواج نے انخلا کے وقت اربوں ڈالر کا اسلحہ اور فوجی سازوسامان دانستہ افغانستان میں چھوڑا تھا تاکہ یہ ہتھیار پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کے لیے بھی استعمال کیے جاسکیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نےایک حکمت عملی کے تحت امریکی اسلحہ اور (چین پر نظر رکھنے کے لیے) افغانستان کا بگرام ائربیس واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ عزائم متعدد سنگین خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ دراصل نیو گریٹ گیم کےمقاصد کے حصول کے لیےاٹھائے جانے والے امریکی اقدامات اور پالیسیاںاس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی امریکی جنگ کا پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور فیصلہ کن مرحلہ چار برس قبل ہی شروع ہوچکا ہے، اور اس کا محور افغانستان اور پاکستان تک محدود نہیں ہے اور نہ رہے گا۔

امریکا میں حکومت ڈیموکریٹک پارٹی کی ہو یا ری پبلکن پارٹی کی، سی پیک کو نقصان پہنچانے کی کوششیں وہ بہرحال جاری رکھے گا۔ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان کی معیشت آنے والے برسوں میںبحال تو نہ ہو مگر لڑکھڑاتی ہوئی چلتی رہے۔ بدقسمتی سےوفاقی وصوبائی حکومتوں ، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں، اسٹیٹ بنک اور ایف بی آروغیرہ کی پالیسیاں اس مقصد کے حصول میںعملاً معاونت کررہی ہیں۔ امریکا کا موجودہ نسبتاً ’ہمدردانہ رویہ‘ لمبے عرصےتک برقرار نہیں رہے گا اور ایک مرتبہ پھر معاندانہ ہوجائے گا ۔ اس مدت کو ایک مہلت سمجھ کر پاکستان کو معیشت، مالیات اور توانائی کے شعبے میں اسٹرکچرل اصلاحات کرنا ہوںگی اور معیشت کو خود انحصاری کے زریں اصولوں پر استوار کرنے کے لیے اسلامی نظام معیشت کےاصولوں کے مطابق انقلابی نوعیت کے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

تنبیہہ:مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں ہم سمجھتے ہیں کہ اگر جوہری طاقت کے حامل پاکستان نے ایک فلاحی اسلامی مملکت کے شایان شان، اسلام کےعادلانہ معاشی نظام کے مطابق اپنی پالیسیاں اور قوانین وضع نہیں کیے اور سرمایہ دارانہ نظام کی بگڑی ہوئی شکل پر مبنی مختلف پالیسیاں برقرار رکھیں، تو خدشہ ہے کہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو خطرات دو چند ہوجائیں گے بلکہ معیشت سے سود کے خاتمے اور اسلامی نظام معیشت وبنکاری شریعت کی رو ح کے مطابق نافذ کرنے کے دعوے خواب و خیال بن کر رہ جائیں گے، جو کہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔