اپریل ۲۰۲۵

فہرست مضامین

’اورنگزیب: ایک شخص اور فرضی قصّے‘

شکیل رشید | اپریل ۲۰۲۵ | مطالعہ کتاب

Responsive image Responsive image

 ایک امریکی خاتون مؤرخ پروفیسر آڈری ٹروشکی (Audrey Truschke) کی مغل فرمانروا اورنگزیب عالمگیر کے بارے میں ایک ایسی کتاب جس نے ہندوتوادیوں میں ہلچل مچا دی، تو وہ سب آڈری ٹروشکی کے خلاف یکجا ہوگئے۔ ساورکر کے پرستار اور ’ہندوتوا‘ کے علَم بردار مؤرخ  وکرم سمپت اس میں پیش پیش تھے ۔ اب،جب کہ پھر اورنگزیب کے نام پر [انڈیا میں]سیاست کھیلی جا رہی ہے اور ان مباحث کو تازہ کیے رہتے ہیں۔ مغل فرمانروا اورنگزیب نہ ولی تھے اور نہ صوفی ۔اسی طرح اورنگزیب متعصب یا کٹّر مسلمان بھی نہیں تھے ۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ زیادہ تر مؤرخین نے اورنگزیب کی ذات، صفات اور خدمات کا مطالعہ انھی دو متضاد انتہاؤں سے کیا ہے۔ یا اگر کچھ ہٹ کر کرنا چاہا تو ان دونوں انتہاؤں کے درمیان سے یہ جگہ نکالی کہ اورنگزیب کو نہ قطعی متعصب قرار دیا اور نہ ان کے صوفی ہونے سےکُلّی طور پر انکار کیا ۔ یہ ایک طرح سے اورنگزیب کا دفاع کرنے کی سعی ہے ۔ مگر کیا ان بنیادوں پر اورنگزیب کا درست اور صحیح مطالعہ ممکن ہے؟

آڈری ٹروشکی نے اپنی کتاب Aurangzeb: The Man the and The Myth  (’’اورنگزیب : ایک شخص اور فرضی قصے‘‘، اُردو ترجمہ: اقبال حسین، فہد ہاشمی) میں اورنگزیب کا مطالعہ جدید پیمانے پر پیش کیا ہے ۔مصنّفہ کے مطابق: ’’ماضی کے تئیں ایمان دار رہتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ بحیثیت ایک شہزادہ اور بحیثیت ایک بادشاہ، ان کی مکمل تصویر پیش کریں‘‘۔ ایک جگہ وہ لکھتی ہیں کہ میری یہ کوشش رہی ہے کہ اورنگزیب کی زندگی اور دورِ حکومت کا ایک تاریخی خاکہ تیار کیا جائے، اور اس طرح غلط بیانیوں کے انبار تلے دبے اورنگزیب کو بحیثیت ایک بادشاہ اور ایک انسان، بازیابی کو ممکن بنایا جا سکے جن کے بارے میں صدیوں سے ہم نے افواہوں کو من و عن قبول کرنے میں سادگی اور جہالت سے کام لیا ہے‘‘۔

 وہ کون سی غلط بیانیاں ہیں جن کے انبار تلے اورنگزیب دبے ہوئے ہیں؟ اس سوال کا جواب مشکل نہیں ہے ۔ آڈری نے آٹھ ابواب میں ، جو محض ۱۲۸ صفحات پر مشتمل ہیں، اورنگزیب کی ایک انسان، شہزادے اور شہنشاہ کی حیثیت سے وہ تصویر پیش کی ہے، جو ان کی خوبیوں اور خامیوں کو پوری طرح عیاں کردیتی ہے۔ جن کے تعلق سے فرضی قصوں کا ایک ایسا جال بنا گیا ہے کہ لوگ اس میں پھنستے ہی چلے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بقول آڈری: ’’ اکیسویں صدی کے جنوبی ایشیا میں اورنگزیب کی شبیہ غلط بیانی اور تردید کے بھنور میں پھنس کر رہ گئی ہے، اور اورنگزیب کی ذات ایک پہیلی بن گئی ہے ‘‘۔

اورنگزیب نے ۴۹ سال تک ۱۵ کروڑ انسانوں پر حکومت کی۔ ان کے دور میں مغلیہ سلطنت کی آبادی پورے یورپ سے زیادہ تھی اور وہ خود اپنے وقت کے امیرترین انسان تھے۔ جب ۱۷۰۷ء میں انھوں نے دنیا سے کوچ کیا تب مغل ہندستان جغرافیائی اور معاشی بنیاد پر دنیا کی سب سے بڑی حکومت بن چکا تھا، مگر اورنگزیب دنیا سے جاتے ہوئے خوش نہیں تھے، انھیں یہ لگ رہا تھا کہ ان کی زندگی ناکام رہی ہے ۔ بستر مرگ سے تحریر کیے گئے اپنے ایک خط میں انھوں نے لکھا ہے: ’’میں ایک اجنبی کی حیثیت سے آیا ہوں، اور ایک اجنبی ہی کی طرح چلا جاؤں گا۔‘‘انھیں یہ احساس تھا کہ ایک بادشاہ کے طور پر وہ اپنی ذمہ داریوں کی پوری طرح ادائیگی نہیں کرسکے۔

ایک خط میں اورنگزیب نے یہ اعتراف کیا ہے:’’ حکمرانی کی ذمہ داریوں اور عوام کی اعلیٰ درجے میں خدمت اور ان کے تحفظ کے مَیں لائق نہیں تھا‘‘۔ دنیا اورنگزیب کو سخت مذہبی فرد سمجھتی ہے، بلکہ اسی چیز کو ان کا سب سے بڑا ’جرم‘ قرار دیتی ہے، لیکن انھوں نے ایک خط میں اپنی دینی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’میں جلد ہی خدا کی عدالت میں ایک گناہ گار کے طور پر سامنا کروں گا‘‘۔ اپنے آخری خط میں دنیا سے کوچ کا اظہار جذباتی انداز میں کرتے ہوئے تین بار ’’خداحافظ، خدا حافظ، خدا حافظ‘‘ لکھا ہے ۔ مذکورہ خطوط سے اورنگزیب کی تصویر، اُس تصویر سے بالکل الگ صورت میں اُبھرتی ہے کہ جو تصویر ہمیں دکھائی جاتی ہے۔

اورنگزیب کو یہ احساسِ محرومی زندگی بھر دامن گیر رہا کہ وہ عوام کی حفاظت نہیں کر سکے، اور حکمرانی کے فرائض ادا نہیں ہو سکے۔ یہ کہ وہ ساری زندگی خدا کو ایسے بھولے رہے کہ مذہبی تعلیمات پر عمل نہیں کرسکے۔ لیکن آج اُن کے سارے ’کرم فرما‘ انھیں کٹّر مذہبی، ظالم بادشاہ، متعصب اور جبراً ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرنے والے کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں ۔ آڈری ٹروشکی نے اپنی اس کتاب کے ذریعے ان کی درست تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ کتاب ہمیں بہت سی ایسی باتیں بھی بتاتی ہے، جو انڈیا کی ’ہندوتوا سیاست‘ اور بھگوا تاریخ اور صحافت ہم سے چھپاتی ہے ۔ مثلاً یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے ’ہولی‘ پر روک لگائی تھی، مگر یہ امرواقعہ چھپایا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے ’عیدالفطر‘ اور ’بقرعید‘ پر بھی اسی طرح روک لگائی تھی ۔ آڈری ٹروشکی لکھتی ہیں ’’اورنگزیب نے ’نوروز‘ پر بھاری بھرکم تقریبات کے انعقاد کو محدود کیا، اور مسلمانوں کے بڑے تہواروں عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقعوں پر بڑے پیمانے پر جشن منا نے کے رسم و رواج کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔ بالکل اسی طرح انھوں نے ہندوؤں کے تہواروں ’ہولی‘ اور ’دیوالی‘ کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے محرم کے یادگاری جلوس سے متعلق ہنگامہ خیزی پر بھی لگام کسنے کی کوشش کی تھی ۔‘‘یہ احکامات ایک تو اس لیے تھے کہ انھیں رنگ رلیاں کرنے والوں کے بے ہنگم جوش و خروش سے کسی قدر بیزاری تھی، اور دوسرا مقصد عوام کی حفاظت تھی کہ ایسے مواقع پر اکثر پُرتشدد ہنگامے ہو جاتے تھے ۔

آڈری یہ بھی بتاتی ہیں کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے ان مذہبی تہواروں پر فضول خرچی اور لہوولعب پر گرفت کرنے کے لیے احکامات تو دیے گئے، مگر ان پر کبھی پوری طرح عمل نہیں ہوا، یہاں تک کہ درباری اور شاہی خاندان کے افراد بھی تہوار مناتے رہے ۔ پروپیگنڈا مواد یہ تو بتاتا ہے کہ اورنگزیب نے بہت سارے لوگوں کو جبراً مسلمان بنایا تھا، مگر یہ نہیں بتاتا کہ کچھ لوگوں نے مغلیہ سلسلۂ مراتب میں ترقی کے لیے بھی اسلام قبول کیا تھا اور کچھ لوگوں نے دوسرے محرکات اور ترقی کے حصول کے لیے بھی اسلام قبول کیا تھا ۔

آڈری کے مطابق: تبدیلیٔ مذہب کرنے والے لوگ اورنگزیب کی تنقیدی نظر میں آجاتے تھے، اپنے ایک خط میں ایسے ہی دو لوگوں کی، جنھوں نے اپنے قبولِ اسلام کی فخریہ تشہیر کی تھی، اورنگزیب نے مذمت کی تھی اور انھیں قید کرنے کا حکم دیا تھا ۔ آڈری نے لکھا ہے: ’’ مجموعی طور پر اورنگزیب کے ہندستان میں نسبتاً ہندوؤں کی قلیل تعداد نے اسلام قبول کیا تھا‘‘۔ اسی طرح لکھا ہے کہ یہ بات بھی سامنے نہیں لائی جاتی کہ اورنگزیب اپنی مسلمان رعایا کے تئیں اقدامی کارروائی میں پہل کیا کرتے تھے ۔ انھوں نے شیخ احمد سرہندی نقشبندیؒ (مجدد الف ثانی)کی کچھ تحریروں پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، مہدویہ فرقے کے چند درجن افراد قتل کردیئے تھے، اپنی شہزادگی میں شیعہ اور اسماعیلی بوہرہ فرقے پر نگرانی سخت کردی تھی۔ اسماعیلی بوہرہ فرقہ کے لیے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی مساجد میں سنّی طریقے سے نماز پڑھیں ۔ لیکن پھر یہی اورنگزیب دوسری طرف ہندو مذہبی برادری کے لیے نرم رو تھے ۔

آڈری ٹروشکی بتاتی ہیں: ’’اورنگزیب کا یہ ماننا تھا کہ اسلامی تعلیمات اور مغلیہ روایات نے انھیں ہندو مندروں، زیارت گاہوں، اور مقدس شخصیتوں کی حفاظت کے لیے پابند کیا تھا‘‘۔ ان پر ہندو مندروں کی مسماری کا الزام لگتا ہے، لیکن مصنّفہ لکھتی ہیں: ’’ اورنگزیب کی سلطنت میں زمین کا پورا خطہ ہندو اور جین مندروں سے مزین تھا ۔ یہ مذہبی ادارے مغل حکومت کی محافظت میں تھے،  اورنگزیب عموماً ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہتے تھے ۔ علیٰ ہذا القیاس، جب کبھی کوئی خاص مندر یا اس سے منسلک لوگ شاہی سلطنت کے مفاد کے خلاف کسی عمل میں شامل ہوتے، تب مغل نقطۂ نظر کے تحت ایسے خیر سگالی عمل کو منسوخ بھی کر دیا جاتا تھا ۔اسی اسکیم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اورنگزیب نے کچھ مخصوص مندروں کے انہدام کا حکم صادر کیا تھا‘‘ ۔

اس ضمن میں بنارس کے وشوناتھ مندر اور متھرا کے کیشو دیوا مندر کے انہدام کا الزام اورنگزیب پر لگتا ہے، مگر یہ بات سامنے نہیں لائی جاتی کہ یہ مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی اقدامی فیصلے تھے، اور مقصد کچھ لوگوں کو ان کی سیاسی غلطیوں کی سزا دینا تھا ۔ ورنہ اورنگزیب کے دور میں کثیر پیمانے پر مندر بنے، مندروں کو بڑی بڑی جاگیریں دی گئیں اور ان کی حفاظت کی گئی ۔ بنارس کے پنڈتوں کی حفاظت کا فرمان تک جاری کیا گیا ۔ شہنشاہ کے امراء میں ۵۰ فی صد ہندو تھے، جن میں مراٹھے سب سے زیادہ تھے ۔ مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ شیواجی، جو مراٹھا تھے، آخر دم تک ان کے لیے دردِسر بنے رہے۔

اس کتاب میں اورنگزیب اور شیواجی کی ملاقات کا دلچسپ احوال شامل ہے، نیز شیواجی کے تعلق سے دیگر اہم باتیں بھی درج ہیں ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب ’جزیہ‘ لیتے تھے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ برہمن پروہتوں، راجپوت اور مراٹھا درباریوں، اور ہندو منصب داروں سے ’جزیہ‘ نہیں لیا جاتا تھا۔ جین، سکھ، اور دیگر غیر مسلم عوام پر جزیہ کی ادائیگی لازم تھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ انھیں کچھ مخصوص حقوقِ فراہم کیے گئے تھے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا تھا۔

 آڈری بتاتی ہیں کہ علما کی ایک بڑی تعداد کو بادشاہ کی مذہبی سنجیدگی پر شبہ تھا۔ انھی علما کو، اور جو مذہب تبدیل کرکے مسلمان بنے تھے، انھیں ’جزیہ‘ کی وصولی میں لگایا گیا تھا۔ اس طرح علما کے حلقے میں اورنگزیب کی ساکھ کچھ بحال ہوئی تھی، مگر بہت سے مسلم امراء اور شاہی خاندان کے افراد، جن میں اورنگزیب کی بہن جہاں آراء بھی شامل تھیں، وہ ’جزیہ‘ وصولی کے ناقص انتظامی فیصلے کا مذاق اڑاتے تھے کہ ’جزیہ‘ وصولی کے بعد بڑا حصہ وصول کرنے والے ہڑپ کرلیتےتھے ، بادشاہ اس کو روکنے میں بے بس تھا ۔

اورنگزیب نے ہندو مذہبی کتابوں کے تراجم پر کوئی روک نہیں لگائی،بلکہ ’رامائن‘ کے فارسی تراجم تحفتاً قبول کیے ۔ اورنگزیب کے دربار میں اخبار بھی تھا، جی ہاں انھیں اپنی حکومت کے ہرکونے کی خبر پڑھ کر سنائی جاتی تھی ۔ اپنے بھائیوں کو قتل کرنے کے واقعات پر آج تک سخت ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن بقول آڈری: مغلوں میں سیاسی طاقت کے حصول پر خاندان کے تمام مردوں کا دعویٰ ہوتا تھا ۔ اکبر بادشاہ نے قانونی حق داروں کو کم کر کے اسے صرف بیٹوں تک محدود کر دیا تھا، لہٰذا حکومت کے حصول کے لیے اورنگزیب نے اپنے بھائیوں کے ساتھ جو کچھ کیا، وہی کارروائیاں ان کے بھائی بھی موقع پاتے تو اورنگزیب کے ساتھ کرتے ۔

اورنگزیب کے ہاتھوں والد شہنشاہ شاہجہاں کی بے دخلی اور قید کرنا ایک سخت افسوس ناک عمل سمجھا جاتا تھا اور مغل سلطنت کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس)نے اس پر برہمی کا اظہار کیا تھا، جس پہ انھیں ہٹا دیا گیا تھا ۔ اسی طرح بیرون ملک بھی ان کا یہ عمل ناپسندیدہ قرار پایا تھا۔ ’شریف مکہ‘ نے تو اورنگزیب کو ہندستان کا جائز بادشاہ ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ صفوی حکمران شاہ سلیمان نے تو اس کی مذمت کی تھی ۔ دراصل اپنے والد سے برتاؤ کے معاملے میں اورنگزیب کو کبھی چھٹکارا نہیں ملا۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے موسیقی پر پابندی لگا دی تھی، لیکن سچی بات یہ ہے کہ انھوں نے کچھ مخصوص قسم کی موسیقی پر، وہ بھی صرف اپنے ایوان ہی میںپابندی لگائی تھی ۔ اورنگزیب کے سب سے چھوٹے بیٹے کام بخش کی والدہ اودیپوری ایک مغنیہ تھیں، جو علالت کے دنوں میں اورنگ زیب کے ساتھ رہیں۔

ایک دلچسپ بات آڈری نے یہ لکھی ہے: اورنگزیب نے کئی بار ریاستی مفاد میں اسلامی اصولوں پر سمجھوتہ کیا۔ اسی لیے علمائے دین کی ایک قابلِ ذکر تعداد اور خاص طور پر قاضی القضاۃ سے پورے عہد حکومت میں نہیں نبھی۔ حالانکہ دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ انھوں نے فتاویٰ عالمگیری کو ترتیب دینے کے لیے بہت سے قابل علمائے کرام کو خصوصی وظائف بھی دیئے۔

اورنگزیب کی یہ تصویر، جو آڈری ٹروشکی نے دکھائی ہے، یہ کسی متشدد شہنشاہ کی نہیں ہے، لیکن قوم پرست ہندو نظریے کی رُو سے ظہیرالدین بابر اور اورنگزیب عالم گیر ظالم بادشاہ ہیں۔  سیکولر ذہن کے حامل دانش وروں اور مؤرخوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی نسل پرست ہندوئوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اورنگزیب کو متشدد مسلمان ہی قرار دیتی ہے ۔

انڈیا کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا  میں اورنگزیب کو ایک متعصب اور متشدد حد تک کٹّر مذہبی کہا اور مذمت کی ہے ۔ مؤرخ جادو ناتھ سرکار نے بھی متعصب قرار دیا ہے ۔پاکستانی ’ترقی پسند‘ ڈرامہ نگار شاہد ندیم نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ ’’اورنگزیب نے اپنے بھائی داراشکوہ پر فتح حاصل کرکے تقسیم کے بیج بودیے تھے‘‘۔ آڈری لکھتی ہیں کہ اورنگزیب بحیثیت ایک ’شر‘ اور ’متعصب‘ ہونے کے فرضی قصوں کو بہت ہی کم تاریخی شہادتوں کی موجودگی کے بغیر پھیلایا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بی جے پی اور دیگر قوم پرست جماعتوں سے سیاسی و نظریاتی طور پر متفق نہ ہونے والے افراد بھی اورنگزیب کو ’شر‘ قرار دیتے اور ’متعصب‘ کہتے ہیں۔ افسوس کہ اپنی وصیت کے مطابق خلد آباد میں کھلے آسمان تلے ایک معمولی سی قبر میں دفنائے گئے۔ اورنگزیب تاریخ کا ایک ایسا زندہ تار بن گئے ہیں، جس میں مسلسل برقی رو دوڑتی رہتی ہے۔ انڈیا کی حالیہ سیاست ان کے نام کو مکمل مٹانے کے درپے ہے۔ اسی لیے دہلی میں ان کے نام کی سڑک کو دوسرا نام دے دیا گیا ہے ۔ لیکن بقول آڈری اس طرح کی باتوں سے اورنگزیب کا نام مٹنے کے بجائے لوگوں کے ذہن پر مزید گہرا نقش ہو گیا ہے اور مسلمانوں کو اورنگزیب کی اولاد کہا جانے لگا ہے۔

 آڈری کے بقول: غالباً اورنگزیب اس بات سے مطمئن ہوتے کہ انھیں فراموش کر دیا گیا ہے، لیکن لوگ ہیں کہ انھیں بھولنے کو تیار نہیں ہیں ۔ قصوروار بی جے پی اور سنگھ پریوار ہے، جو بار بار ان کا نام لیتی رہتی ہے ۔ کتاب شاندار ہے،اور موضوع کی دلچسپی کے سبب اس کا مطالعہ مفید ہے۔