ڈاکٹر خان یاسر


عمر کیسی ہی دراز ہوجائے، چار دن کی چاندنی ہوتی ہے۔ دو دن آرزو اور دو انتظار میں کٹ جاتے ہیں، پھر انسان خود کو رخت ِسفر باندھ لینے پر مجبور پاتا ہے۔ صبح شام ہونے اور عمر تمام ہونے کی یہ کہانی انسانوں کے انبوہ عظیم کی داستانِ حیات ہے۔ جو چند مستثنیٰ ہوتے ہیں، وہ وقت اور صلاحیتوں کی قدر کرکے کسی مخصوص میدان میں انسانیت کے قافلے کو ذرا آگے لے جاتے ہیں۔ ان کا یہ اختصاص انسانیت کی عظیم خدمت شمار ہوتا ہے اور تاریخ انھیں محسنوں کی حیثیت سے یاد رکھتی ہے۔ البتہ خال خال کچھ ایسے دیدہ ور بھی پیدا ہوتے ہیں، جو کسی ایک صلاحیت کی فصل لگاکر عمر بھر اسی کھیتی کو جوتنے کے بجائے اپنی شخصیت میں صلاحیتوں کا ایک باغ لگاتے ہیں۔ وہ فطرت کے عطا کردہ بالقویٰ جواہر کی ہمہ جہت پرداخت پر کچھ ایسی توجہ صرف کرتے ہیں کہ ہر جوہر اپنی جگہ آفتاب بن جاتا ہے۔ ابن سینا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ منٹ، سیکنڈ اور ماہ و سال کے اعتبار سے ان کی ۵۷ سالہ زندگی اور عام زندگیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، لیکن زندگی کے ہر لمحے کی انھوں نے کچھ ایسی قدر کی کہ آج بھی ان کی فکری فتوحات کا پورا مال غنیمت اکٹھا نہیں کیا جاسکا ہے۔ ایک سنجیدہ، ذہین، اور محنتی طالب علم کے لیے وہ بجا طور پر ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ابن سینا افشنہ (مضافات بخارا)میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد حکومت کی جانب سے ملکی اُمور کی انجام دہی پر مامور تھے۔ ابتدائی تعلیم وطن ہی میں حاصل کی۔ ذہنی استعداد خداداد تھی، اس پر علمی تجسس، فکری ذوق ، اور تحقیقی مزاج سونے پر سہاگہ تھا۔ زبان و ادب اور علومِ دینیہ کی تحصیل کے ساتھ ساتھ دس برس کی عمر میں قرآن کے حفظ سے فارغ ہوئے۔پھر فقہ، فلسفہ و ریاضی کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کے شوق اور لگن کا یہ عالم تھا کہ ۱۶ برس کی عمر تک رائج علوم و فنون پر عبور حاصل کرلیا۔ واضح رہے کہ ابن سینا کے لیے ان کے والد نے وقت کے بہترین اساتذہ کے ذریعے گھر پر ہی تعلیم کا انتظام کیا تھا۔لیکن بیٹے کی ذہانت و ذکاوت اور استعداد علمی کی وجہ سے کسی لائق استاد کی تلاش خود ان کے والد کے لیے ایک خوش گوار پریشانی بن گئی تھی۔حصولِ علم کے جنون میں ابن سینا نے ایک سبزی فروش سے ہندستانی ریاضی اور ایک عیسائی مسافر سے طب یونانی کے ابتدائی درس لیے۔

طبرستان کے ابو عبداللہ ناتلی جب بخارا آئے تو ابن سینا کے والد نے انھیں اپنے یہاں جگہ دی۔ ایک بڑے عالم کی قدردانی کے علاوہ ابن سینا کو استفادے کا موقع بہم پہنچانا بھی مقصود تھا۔ ان سے ابن سینا نے منطق کے بنیادی مسائل سیکھے، اور ذاتی مطالعے سے دقیق مسائل تک رسائی حاصل کی۔ پھر تو حالت یہ ہوگئی کہ بطلیموس اور اقلیدس کی کتابوں کے ان مسائل کو بھی خود حل کرنے لگے، جن کے استاذ محترم بھی متحمل نہ تھے۔ ابن سینا کے علمی شوق، سرعت مطالعہ، دورانِ درس سوالات و اعتراضات اور بحث و مباحثے سے استاذ کو شاگرد کے علمی مقام کا اندازہ ہوگیا۔ انھوں نے ابن سینا کے والد سے کہا کہ اس لڑکے کو علم کے علاوہ کسی اور کام میں مصروف نہ کریں۔

  • ذوقِ مطالعہ:ابن سینا اب اساتذہ سے بے نیاز تھے۔ انھوں نے اس انہماک سے مطالعہ شروع کیا کہ سارا سارا دن اور ساری ساری رات مطالعے اور غور و فکر کے لیے وقف ہوکر رہ گئی۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرتے، پھر زیر بحث مسائل پر از خود سوچتے، جس دلیل پر تفکر کررہے ہوتے، اس پر قیاسی مقدمات بناتے، اسے متعلقہ مسائل میں رکھ کر غور کرتے کہ کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے؟ اس طرح لکیر کا فقیر بننے کے بجائے انھوں نے اپنے اندر ایک اختراعی اور تنقیدی ذہن پروان چڑھایا۔علمی و اجتہادی خطاؤں سے تو کسی بشر کو مفر نہیں لیکن ان کے تنقیدی ذہن نے انھیں متعدد فکری گمراہیوں سے محفوظ رکھا۔ مثلاً اس دور میں فاطمی سلطنت کا اثر و رسوخ بڑھا،ان کے والد نے بھی اسماعیلی عقائد کی پیروی اختیار کرلی، مگر ابن سینا نے والد کی خواہش اور طبقۂ اشرافیہ میں چلتے ایک فیشن سے مرعوب و متاثر ہوکر اپنی راہ کھوٹی نہیں کی۔ابن سینا جب کسی مسئلے پر اٹک جاتے اور بار بار مطالعے اور قیاس سے بھی مسئلہ نہ سلجھ رہا ہوتا تو جامع مسجد میں جاکر نماز پڑھتے، رو کر، گڑگڑاکر دعائیں مانگتے یہاں تک کہ گتھی سلجھ جاتی۔ راتوں میں چراغ کی روشنی میں پڑھتے لکھتے، نیند کا غلبہ یا کمزوری کا احساس ہوتا تو نبیذ پی کر پھر مطالعے میں مصروف ہوجاتے۔ نیند فطری ہے، مگر وہ بھی کچھ اس شان سے آتی کہ خواب میں مختلف علمی مسائل حل ہورہے ہوتے۔

کثرتِ مطالعہ کا ایک فتنہ یہ ہے کہ انسان بے سمجھے بوجھے حروف پر نظر کی اسکیننگ سے مطمئن ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ابن سینا معلومات، دقیق نکات، اور فلسفیانہ دلائل کو اپنے فہم کا حصہ بنانے کے حریص تھے۔ چنانچہ ارسطو کی مابعد الطبیعۃ کے مطالب ان پر نہ کھلے تو انھوں نے اس کتاب کا چالیس چالیس مرتبہ مطالعہ کرڈالا۔ اور پھر جب فارابی کی شرح سے ارسطو کی گرہیں کھلیں تو سجدۂ شکر بجا لائے اور فرحت و انبساط کے عالم میں فقراء و مساکین کو دل کھول کر صدقہ دیا۔

ابن سینا جب طب کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک آدھ برس ہی میں یعنی عمر کی اٹھارھویں منزل پر پہنچتے پہنچتے یہ استعداد حاصل کرلی کہ باقاعدہ علاج معالجہ کرنے لگے۔سیکھنے کا ایسا جنون تھا کہ اپنے مطب میں مریضوں کا مفت علاج کرتے، مرض کی علامات کو باقاعدہ نوٹ کرتے اور وجوہ پر غور کرتے۔ اس طرح اپنے قاموسی دماغ میں کتابی معلومات کے ساتھ ساتھ ذاتی تجربے کی حکمتوں کا خزانہ بھی جمع کیا۔ جلد ہی ان کی طبی مہارت و تحقیقات کی دھوم مچ گئی۔ انھیں سلطانِ بخارا کے علاج کے لیے شاہی دربار بلایا گیا۔ جہاں بڑے بڑے اطباء نے ہاتھ کھڑے کردیے تھے، وہاں اس نوعمر حکیم نے سلطان کو پیروں پر کھڑا کردیا۔ کوئی اور ہوتا تو اس کامیابی پر بادشاہ سے دنیا جہان کی دولت مانگ لیتا، لیکن ابن سینا نے شاہی کتب خانے سے استفادے کی اجازت مانگی۔ شاید نادر و نایاب کتب کی معیت ہی ابن سینا کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی دولت تھی۔

  • تصنیف و تالیف:والد کے انتقال کے بعد ابن سینا کو ورثے میں ملی انتظامی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لانا پڑا۔ مختلف درباروں میں شاہی طبیب سے لے کر وزیر اعظم تک انھیں متعدد مناصب ملے، خانہ بدوشی سے لے کر قید خانے کی صعوبتیں جھیلیں، لیکن اپنی علم دوستی سے تہی دامن نہ ہوئے۔ ابن سینا کے لیے تحصیل علم و ترسیل بالقلم کا سفر عمر بھر جاری رہا۔ وہ پوری زندگی طالب علم رہے مگر دوسروں نے بہت جلد انھیں’شیخ الرئیس‘بنادیا۔ اس لقب میں استادوں کے استاد اور حکماء کے سردارسے لے کر تمام علوم میں کامل کے مفاہیم شامل ہیں۔ یہ لقب کسی شاعر کی لفاظی نہیں بلکہ اس شخص کی علمیت کا اعتراف تھا، جسے وقت کی تینوں علمی زبانوں (عربی، فارسی، اور یونانی) اور علمی خزانوں پر عبور حاصل تھا، اور جس نے طب، فلسفہ، منطق، کیمیا، نفسیات، طبیعیات، الٰہیات، ارضیات، فلکیات، اخلاقیات، نباتیات، حیوانیات، ہیئت، تدبیرِ منزل، تفسیر، تصوف، جغرافیہ، ریاضی، موسیقی،اور شعر و ادب وغیرہ پر تقریباً ۴۵۰تصانیف یادگار چھوڑیں، جن میں سے تقریباً ڈھائی سو آج بھی دنیا کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔
  • طبّی خدمات:طب کے میدان میں ابن سینا کی فتوحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اہل یورپ نے انھیں بقراط و جالینوس کا ہم پلہ بلکہ طبیبوں کا شہنشاہ (Prince of Physicians)قرار دیا۔ ابن سینا نے طب کے موضوع پر دسیوں کتابیں اور رسائل تصنیف کیے۔ البتہ القانون فی الطب کے حصے میں وہ مقبولیت و پذیرائی آئی، جو دنیا کی کسی دوسری طبی کتاب کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس شہرۂ آفاق طبی انسائیکلوپیڈیا کو ابن سینا نے پانچ جلدوں میں مرتب کیا۔ پہلی جلد انسانی جسم، تشریح الاعضاء، ماہیت الامراض، حفظان صحت، اور طب و علاج کے بنیادی اصولوں کی توضیح کرتی ہے۔ دوسری جلد میں تقریباً ۸۰۰؍ادویہ مفردہ (یعنی نباتی، حیوانی و معدنی اجزا کے طبی خواص)کا مفصل جائزہ لیا گیا ہے۔ تیسری جلد میں ان بیماریوں کے علاج پر بحث کی گئی ہے، جو جسم کے کسی ایک عضو کو متاثر کرتی ہیں۔ چوتھی جلد میں ان بیماریوں کے علاج پر تفصیلی بحثیں ہیں جو ایک سے زائد اعضاء یا پورے جسم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پانچویں جلد میں تقریباً ۶۵۰ مرکب دواؤں اور ان کے اجزائے ترکیبی کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ القانون فی الطب  کو یورپ کی یونی ورسٹیوں میں سترھویں اور اٹھارھویں صدی تک علم طب کی بنیادی نصابی کتاب کی حیثیت حاصل رہی۔ مختلف یورپی زبانوں میں اس کے ترجموں کے دسیوں ایڈیشن شائع ہوئے۔ یہ ڈاکٹر آسلر کا مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت بیانی ہے کہ القانون  کو یورپ میں ’طبی انجیل‘ کی حیثیت حاصل تھی۔ جدید طب پر ابن سینا کے بے شمار احسانات کے پیش نظر انھیں Father of Modern Medicineبھی کہا جاتا ہے۔

طب میں ابن سینا کو یہ درجہ اس وجہ سے بھی حاصل ہوا کہ انھوں نے اس علم کو مروجہ رجحانات سے آگے لے جانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ مثلاً انھوں نے یونانی مسلمات سے ہٹ کر یہ تصور پیش کیا کہ مختلف بیماریوں کے لیے جراثیم ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انھی بنیادوں پر لوئی پاسچر نے انیسویں صدی میں Immunologyکی پوری عمارت تعمیر کی۔ ابن سینا کی القانون اور دیگر   طبی کتابوں کے مطالعے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ وہ طب میں دواؤں کے ذریعے علاج کے یک رُخے تصور کے بجائے صحت کے سلسلے میں ایک جامع نقطۂ نظر کے حامل ہیں، جس میں پرہیز، غذا ، پانی، نیند، آب و ہوا، نفسیات، طرز زندگی،جسمانی سرگرمی وغیرہ عوامل کےاپنے خصوصی مقام کو تسلیم کیا گیاہے۔ ان کے تجویز کردہ نسخوں میں بھی مریض کی عمر، وزن اور کھانے پینے کے معمولات کے اعتبار سے اختلاف نظر آتا ہے۔ انھوں نے علم طب میں سائنٹی فک تجربے کی بنیاد ڈالی، اور ان شرائط کا تفصیل سے ذکر کیا، جن کے پورے ہونے پر دوا کا اثر معلوم کیا جاسکے۔ جدید آلات اور ٹکنالوجی کی عدم موجودگی میں بھی انسانی اعضاء بالخصوص آنکھ جیسے نازک عضو کی معیاری تشریح بھی ان کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ ذیابیطس، موتیابند، ذات الصدر، اور گردن توڑ بخار وغیرہ پر ابن سینا کے تحقیقی مشاہدات سے بظاہر یکساں علامات کے حامل مختلف امراض کے درمیان خطِ امتیاز واضح ہوا۔ ابن سینا نے بتایا کہ ٹی بی متعدی بیماری ہے، نیز طاعون کی وبا میں چوہوں کے مسموم کردار کی پیش گوئی کی جو بعد میں صحیح ثابت ہوئی۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ہر کوئی قرنطینہ (Quarantine)سے واقف ہوگیا ہے، لیکن اس حقیقت سے بہت سے لوگ لاعلم رہے کہ ٹھوس طبی بنیادوں پر سب سے پہلے ابن سینا ہی نے متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ۴۰دنوں کے قرنطینہ کا تصور دیا تھا۔

  • فکروفلسفہ:ابن سینا جتنے ماہر طبیب تھے، اتنے ہی بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر فلسفی تھے۔ طب جیسے عملی اور فلسفے جیسے نظری علم میں بھی ابن سینا نے ایک بڑا قریبی رشتہ ڈھونڈ لیا تھا۔ ان کے مطابق انسانی جسم کے لیے علم طب کی جو حیثیت ہے، وہی حیثیت نفس انسانی کے لیے فلسفے کی ہے۔ ان کی دوسری مشہور ترین تصنیف کا نام کتاب الشفاء ہے۔ نام سے یہ ایک طبی تصنیف معلوم پڑتی ہے مگر اسے ایک فلسفیانہ انسائیکلوپیڈیا کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس میں انھوں نے انسانی جسم کی نہیں بلکہ بنیادی طور پر انسانی عقل، روح اور نفس کی شفا کو موضوع بحث بنایا ہے۔

فلسفے کے میدان میں ابن سینا کے اثرات دیر پا ہیں۔وہ محض یونانی فلسفے کے شارح نہیں تھے، ان کا خیال تھا کہ قدما کی کتابوں کی شروحات سے آگے بڑھ کر اپنا فلسفہ مدون کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں ابن سینا کو بجا طور پر یونانی فلسفہ اور مشرقی حکمت کا جامع کہا جاتا ہے۔ ایک نامور فلسفی ہونے کے باوجود ابن سینا نے انسان کی قوتِ خیال کو ناقص قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قوتِ فکر و خیال آزاد نہیں ہے،منطق کی محتاج ہے۔ جس طرح کوئی قیافہ شناس کسی فرد کے ظاہر سے اس کے باطن پر گمان قائم کرتا ہے، اسی طرح منطق داں معلوم مقدمات سے نامعلوم نتائج کا استنباط کرتے ہیں۔ ابن سینا کے مطابق اس عمل میں غلطیوں اور تعصبات کی آمیزش کا احتمال قوی ہوتا ہے، لہٰذا منطق سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا، وحی الٰہی سے ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کے سایۂ عاطفت میں انسان منطق سے اس طور پر غنی (بے نیاز) ہوجاتا ہے جیسا کہ کوئی عرب بدو علمِ صرف و نحو سے۔

  • فکری و عملی تجربات:ابن سینا نے ’ممکن‘ اور ’واجب‘ کے فلسفیانہ تصورات سے ایک ’ذات واجب‘ کا وجود ثابت کیا۔ مؤرخِ فلسفہ پیٹر ایڈمسن عہد متوسط کے فلسفہ الٰہیات میں ابن سیناکے عظیم مرتبے کو نمایاں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’واجب الوجود‘ والی یہ دلیل وجود باری تعالیٰ کی سب سے مؤثر فلسفیانہ دلیل ہے۔ دور حاضر میں الحاد جدید کے طوفان بدتمیزی کے تناظر میں اس فلسفیانہ دلیل کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔

ابن سینا کا اختراعی ذہن اپنے زمانے سے بہت آگے تھا۔ ان کا مبلغ علم کتب بینی سے آگے بڑھ کر تجربات تک وسیع تھا۔ انھوں نے فکری وعملی ہر دو طرح کے تجربے کیے۔ مثلاً ’الرجل المعلق‘ (The Floating Man)کے فکری تجربے (Thought Experiment) کے ذریعے انھوں نے شعور اور روح کے غیر مادی وجود کو ثابت کیا ہے۔ تقریباً چھ سو برسوں کے بعد ڈیکارٹ کا یہ کہنا کہ I think therefore I am،ابن سینا کے اسی فکری تجربے کو خراج عقیدت محسوس ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک مثال اس عملی تجربے کی ہے، جس میں ابن سینا نے دو بھیڑ کے بچوں کو لیا جن میں عمر، نسل، جسامت، اور وزن کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں تھا۔ ان دونوں بھیڑوں کو الگ الگ پنجروں میں رکھا گیا۔ ایک تیسرے پنجرے میں ایک بھیڑیے کو بھی بند کیا گیا اور اسے ذرا دور کچھ اس زاویے سے رکھا گیا کہ ایک بھیڑ کے بچے کو بھیڑیا نظر آتا مگردوسرے کو دکھائی نہیں دیتا۔دونوں بھیڑ کے بچے اس ایک معمولی فرق کے علاوہ بالکل یکساں ماحول میں تھے، انھیں غذا بھی ایک سی دی جارہی تھی۔ابن سینا نے یہ نوٹ کیا کہ جس بھیڑ کے بچے کی نظر سے بھیڑیا دور تھا وہ صحت مند رہا، لیکن جس بھیڑ کے بچے کو بھیڑیا دکھائی دیتا تھا، اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بوکھلاہٹ، سراسیمگی، اور دیوانگی کے آثار پائے جانے لگے۔ اس کی نشوونما متاثر ہونے لگی، وزن بھی گھٹنے لگا، حتیٰ کہ ایک دن وہ مرگیا۔ بھیڑیے کی دسترس سے بظاہر محفوظ رہنے کے باوجود بھیڑ کے بچے کا جو حال ہوااس سے ابن سینا نے خوف، دہشت، گھبراہٹ، اور منفی سوچ جیسے غیر مادی عوامل کے صحت پر اثرات کو ثابت کیا ہے۔

  • علم ہیئت و فلکیات:عبقری ابن سینا کے کارنامے صرف طب وفلسفہ یا مطالعہ و مطب تک محدود نہیں ہیں۔ ان کے علم اور اکتشاف و انکشاف کا دائرہ بڑا وسیع تھا۔ مثلاً انھوں نے علم ہیئت و فلکیات میں بھی دسترس پیدا کی تھی اور ان کا اچھا خاصا وقت رصدگاہ میں گزرتا تھا۔ اپنے مشاہدات سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ زمین کی بہ نسبت زہرہ، سورج سے زیادہ قریب ہے۔ اور زہرہ جیسے سیارے سورج کی طرح بذاتِ خود روشن نہیں ہیں۔ بہتر مشاہدات اور اجرام فلکی کے درمیان فاصلے کی درست معلومات کے لیے ایک مخصوص اضطرلاب کی ایجاد بھی ان سے منسوب ہے (جس سے سورج اور ستاروں کے درمیان فاصلہ معلوم کیا جاتا ہے)۔
  • عجز و انکساری:ابن سینا کی عبقریت، ان کے علم کی وسعت، فکر کی گہرائی، تجرباتی حکمت، اور ذہن کی رسائی میں طلبہ کے لیے سبق ہی سبق ہے۔ ان کا تحقیقی ذوق اور تنقیدی بصیرت بھی مشعل راہ ہے۔ وہ بڑے بڑوں سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں انھوں نے حکیم جالینوس، حکیم بقراط، بلکہ اطباء کرام کے اجماع کے خلاف بھی آراء دی ہیں۔ لیکن ایک بڑا سبق ان کے انکسار میں بھی ہے۔ اس انکسار ایک پہلو احساس بندگی ہے، جو علمی مشکلات و مسائل میں انھیں خدا سے رجوع اور سجدہ و آہ وزاری کی دعوت دیتا تھا اور گتھی سلجھ جانے پر شکرانے اور صدقہ و خیرات پر اکساتا تھا۔ اس انکسار کا دوسرا پہلو احساس ذمہ داری ہے، جس کے نتیجے میں وہ اقلیم علم و حکمت پر حکمرانی کے باوجود اپنی کتب میں جابجا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں سانپ اور فلاں زہر اور فلاں پودے کے بارے میں میری یہ رائے تخمینی ہے، تحقیقی نہیں۔ شاگردوں کی تربیت پر ان کی خصوصی توجہ ہوتی تھی، اکثر ان کے ساتھ بالکل برابری کی سطح سے فلسفیانہ مباحث کیا کرتے تھے۔ ابن سینا نے جس طرح اپنے وقت کی تنظیم اور اس کے بہتر سے بہتر استعمال کو یقینی بنایا، اس میں بھی عقل مندوں کے لیے بے شمار اسباق ہیں۔ ابن سینا کا عہد افراتفری اور سیاسی خلفشار کا عہد تھا۔ خود ان کی زندگی میں پے در پے سفر اور خانہ بدوشی کے حادثات پیش آئے۔ قید میں بھی رہنا پڑا۔ لیکن ابن سینا نے مطالعہ اور تصنیفی کام میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ دورانِ سفر بھی مطالعہ کے علاوہ کتابوں کا خلاصہ اور مختصر رسائل کی تصنیف کا کام جاری رکھتے۔ خیال رہے کہ اس دور کے اسفار کو آج کے آرام دہ اسفار سے کوئی نسبت نہیں تھی۔

قصہ المختصر یہ کہ ابن سینا کے تجسس و جستجو اور پیہم سرگردانی میں ہمارے لیے سبق ہے۔ ان کی طبی و فلسفیانہ کتابیں ہی نہیں بلکہ مذہبی مضامین، صوفیانہ رسائل، متفرق اشعار و مضامین بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی انشاپردازی بھی غضب کی تھی۔ منطق و فلسفہ اور طب کی کتابوں کی خوب صورت اور بلیغ نثر میں اہل ذوق کو شاعری کا مزہ ملتا ہے۔

  • قرآن میں تدبرو تفکر:قرآن سے تعلق اور تدبر ابن سینا کی ایک امتیازی صفت تھی۔ کثرت تلاوت کے عادی تھے، ہر تیسرے چوتھے روز تکمیل قرآن کا معمول تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں جابجا قرآنی حکمتوں کے موتی بکھرے نظر آتے ہیں۔ یورپ پر انھوں نے صرف طبی و فلسفیانہ اثرات ہی مرتب نہیں کیے بلکہ تہذیبی اثرات بھی ڈالے۔ مثال کے طور پر اپنی تصانیف کا آغاز جب وہ تسمیہ اور حمد و نعت سے کرتے ہیں اور حمد و صلوٰۃ اور دعا پر اختتام کرتے ہیں تو اس کی بازگشت یورپی ترجموں بلکہ خوشہ چیں یورپی حکماء کی طبع زاد کتابوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔

مشہور ہے کہ تنوع، گہرائی اور وسعت کے اعتبار سے سمندر بے مثال ہوتے ہیں، لیکن ابن سینا کی علمی کاوشوں کے تنوع، فکر و فلسفے کی گہرائی، اور اختصاصی میدانوں کی وسعت بحر الکاہل اور بحراوقیانوس کو شرماتی ہے۔ ڈی بورو نے لکھا ہے: ’’ابن سینا میں بیک وقت اتنے اوصاف و کمالات یکجا ہوگئے تھے کہ اہل یورپ انھیں ’جادوگر‘ کہا کرتے تھے‘‘۔ ایک عام انسان حیران و ششدر  رہ جاتا ہے کہ ابن سینا، ربِّ ذوالجلال سے کتنی زندگیاں مانگ لائے تھے۔ لیکن ایک عقل مند جانتا ہے کہ زندگی میں کامیابی کا اصل راز ماہ و سال کی کثرت تعداد پر نہیں بلکہ ہر گزرتے لمحے کی استعداد سے بھرپور استفادے پر ہے۔

خود ابن سینا کا قول ہے کہ میں مختصر مگر کشادہ زندگی کو لمبی مگر تنگ زندگی پر ترجیح دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ لغویات و کسل مندی کے پھندوں اور تنگ و محدود زندگی کی لعنت سے حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی مہلت عمل کے احسن اور بہترین استعمال کی توفیق دے، آمین!

گھر سے آگ کی لپٹیں اٹھ رہی ہوں، والدین، بیوی بچے، بھائی بہن سب جھلس رہے ہوں اور کوئی شخص دور محلے کے کسی گھر میں لگی آگ بجھانے میںمشغول ہو،تو آپ اسے کیا کہیںگے؟ بیوقوفی؟ پاگل پن؟ جہالت؟ اب صورت حال ذرا بدل کر غور کرتے ہیں۔ گھر سے آگ کی لپٹیں اُٹھ رہی ہوں، گھر والے جھلس رہے ہوں اور کوئی شخص ملک بھر کے دورے کرکے آگ بجھانے کی ترکیبوں پر تقریریں کرتا پھرے، تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کاہلی؟ بزدلی؟ یا ذمہ داری سے فرار؟ یہ حرکت کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ کیوں نہ انجام دی جائے، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص تہجد پڑھنے کے لیے فجر قضا کرنے کو اپنا معمول بنالے۔ یقینا ایسے شخص کو یہی مشورہ دیاجاسکتا ہے کہ ہوسکے تو وہ تہجد اور فجر دونوں کو نبھالے یا پھر تہجد ترک کردے۔

اسلام دینِ فطرت ہے جس میں کوئی ایچ پیچ نہیں ہے اور اس کی حکمتیں بے شمار ہیں۔ وحی الٰہی کی نگرانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں ہمیں جو تدریج نظرآتی ہے، وہ بھی حکمتوں سے لبریز ہے۔ ختمِ نبوت سے سرفراز کیے جانے کے بعد آپؐ نے سب سے پہلے اپنے قریب ترین لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔ پھر خاندان اور قبیلے والوں تک دین کا پیغام پہنچایا اور پھر اہل مکہ کو عمومی دعوت دی۔ اس کے بعد مختلف قبائل تک اسلام کا پیغام پہنچایا، طائف کا سفر کیا اور مدینہ میں اسلام کا پودا لگایا۔ ہجرت کے بعد دعوت کاپیغام جزیرۂ عرب کے کونے کونے تک پہنچانے کااہتمام کیا،  جس کے لیے متعدد دعوتی وفود بھیجے گئے۔ بالآخر دعوتی خطوط کے ذریعے عالم گیر پیمانے پروقت کی عظیم سلطنتوں کو اسلام کے سایۂ عاطفت میں آجانے کی تلقین کی گئی۔

بعض لوگوں کاخیال ہے کہ آپؐ نے کسی اسلامی ریاست کے قیام یا اسلامی نظام کی اقامت کے لیے شعوری کوشش نہیں کی تھی بلکہ اقتدار بطورِ انعام خود بخود ’نازل‘ ہوگیاتھا۔ بالکل اسی طرح بعض لوگ مندرجہ بالا تدریج کو بھی محض اتفاقی امر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس کی حکمتوں پرغور کرنا انتہائی آسان ہے۔ مثال کے طورپر دعوت کی اس نبویؐ ترتیب کو اُلٹ دیاجائے اور دعوت کی ابتدا مختلف بادشاہوں کو خطوط بھیجنے سے ہوتو اس کے غیرمنطقی ہونے پر شاید کسی کو تعجب نہ ہو۔ لیکن پتے کی بات تو یہ ہے کہ اگر ایک مرحلے سے پہلے دوسرا مرحلہ آجائے تو یہ بھی کچھ کم نقصان دہ نہیں۔ مثال کے طورپر قریب ترین اور ہمراز لوگوں کو پیغام دینے سے پہلے اگر خاندان اور قبیلے والوں کو دعوت دی جاتی یا خاندان اور قبیلے والوں سے قبل سارے شہر مکہ کو، تو کیا ہوتا؟پہلی صورت میں داعی اعظم ؐ اس اخلاقی تعاون سے محروم ہوجاتے جو حضرت خدیجہؓ،حضرت ابوبکرؓ، حضرت زیدؓاور حضرت علیؓ کی صورت میں آپؐ کو ملا۔ پھر دنیا بھر کی مخالفتوں پر آپؐ کے زخمی دل پر کون مرہم رکھتا؟ بھری محفل میں انتہائی دلگداز انداز میں یہ پوچھنے پر کہ ’کون میرا ساتھ دے گا؟‘ آخر کون اٹھتاکہ ’اللہ کے رسولؐ میں آپ کاساتھ دوںگا‘۔

اسی طرح سامنے کی بات ہے، رشتے داروں میں بھی عام طورپر شادی کا پیغام نہ پہنچنے پر باوجود جاننے کے لوگ شریک نہیں ہوتے کہ بھئی ہمیں تو دعوت نہیں دی گئی۔ خاندان کے معاملے میں دین کا قصہ یہی ہے۔ جب مکہ بھر میں اسلام کاآواز ہ گونج اُٹھتا اور بیرونی ذرائع سے ﴿نہ کہ آپؐ کے ذریعے آپؐ کے خاندان کو اس کی خبر لگتی، تو خاندان بھر کو شکایت ہوتی کہ ہم یہ کیسی اجنبی صدا سن رہے ہیں، آپؐ نے ہمیں تو اس کے بارے میں کبھی بتایا نہیں، اور نہ ہمیں اعتماد میں لیا؟

آپؐ کے اسوے پر چل کر دنیا میں شہادتِ حق کا فریضہ انجام دینے والوں اوراقامتِ دین کی راہ پر چلنے والوں کے لیے تو اس اسوے پر چلنا ناگزیرہے۔ جملۂ معترضہ کے طورپر یہ عرض ہے کہ مراحل کی اس تقسیم میںتسلسل پایا جاتاہے اورقرآن میں ایک نہیں متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو اپنے خاندان کی اصلاح کی طرف متوجہ کیاگیا ہے اور کہیں کہیں اندازِ بیان اتنا خوف ناک ہے کہ دل دہل جاتاہے: ’’اپنے قریب ترین رشتے داروں کو ڈراؤ‘‘۔(الشعراء۲۶:۲۱۴﴾)

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے دادا کی اولاد کو جمع کرکے خطاب فرمایا: ’’اے بنی عبدالمطلب! اے عباس، اے صفیہ ﴿آپؐ کی پھوپھی ﴾ اور اے فاطمہؑ بنت محمدؐ! تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرلو، میںخدا کی پکڑ سے تم کو نہیں بچاسکتا۔ البتہ میرے مال میں سے تم جو چاہو مانگ سکتے ہو‘‘۔ پھر کوہ صفاپر، یاصباہ حاہ  کی صدا بلند فرمائی اور قریش کے ہر قبیلے کو نام بنام آواز دی۔ جب سب جمع ہوگئے تو دریافت کیاکہ ’’اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کی دوسری جانب ایک بھاری لشکر ہے جو تم پر ٹوٹ پڑنا چاہتا ہے تو کیا تم یقین کروگے؟‘‘ لوگوں نے یک زبان ہوکر کہاکہ ’’ہم نے آپ کو ہمیشہ سچ بولتے ہوئے پایا ہے‘‘۔ ان سے یہ اقرار کرالینے کے بعد آپؐ نے کہا: ’’اچھا تو میں خدا کا سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو خبردار کرتا ہوں۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو۔ میں خدا کے مقابلے میں تمھارے کسی کام نہیں آسکتا۔ قیامت میں میرے رشتے دار صرف متقی ہوں گے۔ ایسا نہ ہوکہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم دنیا کا وبال سر پر اٹھائے ہوئے آؤ۔ اس وقت تم پکاروگے:’’یا محمدؐ! مگر میں مجبور ہوںگا کہ تمھاری طرف سے منہ پھیرلوں۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمھارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمھارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروںگا‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔( طہٰ۲۰:۱۳۲﴾)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔(التحریم۶۶: ۶)

مولانا مودودیؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظامِ فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے، اس کو بھی وہ اپنی حدِاستطاعت تک ایسی تعلیم وتربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان بنیں، اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جارہے ہوں تو جہاں تک اس کے بس میں ہو، ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔ اُس کو صرف یہی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے بال بچے دنیا میں خوش حال ہوں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ آخرت میں جہنم کاایندھن نہ بنیں‘‘۔(تفہیم القرآن، ج۶،ص ۲۹-۳۰)

 نعیم صدیقی لکھتے ہیں: ’’قرآن کریم کے طالب علم کی توجہ اس امر پر بھی جانی چاہیے کہ یہ سورۂ تحریم کی آیت تھی، جس کے شروع میں ازواجِ مطہراتؓ کی طرف سے ایک طرح کی محاذ آرائی کرکے دباؤ ڈالنے کی کوشش کا ذکر ہے۔اسی واقعے کو پس منظر میں رکھ کر مسلم سوسائٹی کو خصوصی توجہ دلائی گئی کہ اگرتم اپنے گھروں کی فضا کو دین کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ نہ کرلوگے تو تمھارے نظامِ معاشرت میں خلل آجائے گا اور تمھارے گھروں میں ہی مخالفانہ محاذ قائم ہوجائیں گے، جو تمھاری قوتوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے تمھیں دشمنوں اور شریروں کی سرکوبی کے قابل نہیں چھوڑیں گے‘‘۔

جان رکھو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں۔(الانفال ۸:۲۸﴾)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمھاری بیویوں اور تمھاری اولاد میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں، اُن سے ہوشیار رہو… تمھارے مال اور تمھاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں۔(التغابن۶۴:۱۴-۱۵﴾)

ان آیات کی تفسیر میںمولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:

ہوتایہ ہے کہ شوہر اگر نیک اور ایماندار ہے تو بیوی اور اولاد اُسے ایسی ملتی ہے جو اس کی دیانت و امانت اور راست بازی کو اپنے حق میں بدقسمتی سمجھتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ شوہر اور باپ اُن کی خاطر جہنم مول لے اور ان کے لیے حرام و حلال کی تمیز چھوڑکر ہرطریقے سے عیش و طرب اور فسق و فجور کے سامان فراہم کرے۔ اور اس کے برعکس بسااوقات ایک نیک مومن عورت کو ایسے شوہر سے سابقہ پیش آتاہے، جسے اس کی پابندیٔ شریعت ایک آنکھ نہیں بھاتی، اور اولاد بھی باپ کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی گمراہی اور بدکرداری سے ماں کی زندگی اجیرن کردیتی ہے۔ پھر خصوصیت کے ساتھ جب کفرو دین کی کش مکش میں ایک انسان کے ایمان کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر نقصانات برداشت کرے، طرح طرح کے خطرات مول لے، ملک چھوڑکر ہجرت کرجائے، یا جہادمیں جاکر اپنی جان تک جوکھوں میں ڈال دے، تو سب سے بڑھ کر اس کی راہ میں اس کے اہل وعیال ہی رکاوٹ بنتے ہیں۔(تفہیم القرآن، ج۵، ص۵۴۴)

انبیاؑ نے اپنے بیوی بچوں کی ذمہ داری کو واقعی آزمائش سمجھاتھا اور ان کی اصلاح وتربیت سے ہرگز غافل نہیں تھے۔ احساسِ ذمہ داری اور احساسِ جواب دہی کی حد یہ تھی کہ بسترِ مرگ پر بھی بے چین تھے۔ ارشاد خداوندی ہے:

جب یعقوبؑ کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بچوں سے پوچھا:بچّو! میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے؟(البقرہ۲:۱۳۲﴾)

قرآن کریم میں اپنے بچوں کے لیے حضرت ابراہیمؑ کی یہ وصیت بھی محفوظ ہے:

میرے بچو! اللہ نے تمھارے لیے یہی دین پسند کیا ہے، لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا۔(البقرہ۲:۱۳۱﴾)

 اورلقمان حکیم کی یہ نصیحت بھی :

بیٹا! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا… وہ باریک بین اورباخبر ہے۔ بیٹا! نماز قائم کر، نیکی کاحکم دے، بدی سے منع کر، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر… اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑکرچل… اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ۔(لقمان۳۱:۱۳-۱۹﴾)

خاندان میں دعوت کاکام واقعی کوئی کھیل نہیں، طرح طرح کی رکاوٹوں کاسامنا ہوسکتاہے۔ انسان کو تعلقات کے بگاڑ اور طعنوں کااندیشہ ہوتاہے۔ پہلی بار جھجک محسوس ہوتی ہے، لیکن اس ذمہ داری سے فرار ممکن نہیں۔ مولانا سیّد جلال الدین عمری کہتے ہیں:

روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۝۲۱۴ۙ  (الشعراء ۲۶:۲۱۴) نازل ہوئی تو آپؐ نے محسوس کیاکہ بڑی مشکل ذمہ داری آپؐ پر آن پڑی ہے۔ خاندان کی طرف سے اور قریب ترین افراد کی طرف سے اس کی مخالفت ہوسکتی ہے، لیکن اللہ کے فرشتے جبرئیلؑ نے کہاکہ آپ کو اس حکم پر لازماً عمل کرنا ہوگا، ورنہ اللہ کے ہاں بازپُرس ہوگی۔ اس حکم کے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر قبیلے کی مختلف شاخوں میں سے ایک ایک کا نام لے کر انھیں جمع کرکے دعوتِ دین پیش کی۔

  • اہلِ خانہ کی تربیت کے عملی تقاضے: اب تک جو باتیں کہی گئیں، ان کی روشنی میں اگر ہم اپناجائزہ لیں تو بہت کچھ کمیوں کا احساس ہوتاہے، جنھیں نظرانداز کرنا مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ایک واقعہ درج کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے: ایک شناسا اور تحریک اسلامی کے سرگرم کارکن سے سرِراہ ملاقات ہوگئی۔ کچھ گفتگو کے بعد میں نے ان سے عرض کیا: ہماری طلبہ تنظیم کا ایک تزکیہ کیمپ ہونے والا ہے، اس میں وہ اپنے بیٹے کو ضرور بھیجیں۔  یہ سنتے ہی انھوںنے ہاتھ کھڑے کرلیے: ’آپ خود کیوں نہیں کہتے؟‘ میں نے کہاتھا ’لیکن مجھے یقین ہے کہ ہر بار کی طرح صرف میرے کہنے پر وہ نہیں آئے گا، آپ اس کے ابّا ہیں، آپ کہیںگے تو وہ نہیں ٹالے گا‘۔ جواب میں فرمانے لگے: ’بھئی میں اس قسم کی باتیںاس سے نہیں کرتا،ایک نہ ایک دن اسے سمجھ آہی جائے گی۔ ویسے بھی دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی تو ہے نہیں، لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ۔ میں نے عرض کیا: ’زبردستی کرنے کو کب کہہ رہاہوں؟ صرف  یہ کہہ رہاہوں کہ آپ صرف ایک بار اچھی طرح کہہ کر دیکھیں‘۔ مگر اُن صاحب نے بات ٹال دی۔ لیکن اصرار پر انھوں نے بیٹے سے کہہ ہی دیا۔ نتیجہ یہ کہ بیٹے نے ﴿اپنے والد کے کہنے پر اس تزکیہ کیمپ میں شرکت کی اور اس کے بعد سے پابندی سے ہماری سرگرمیوں میں حصہ لینے لگا۔

اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۝۲۱۴ۙ  کے ضمن میں مولانا مودودیؒ کا یہ تفسیری نوٹ بھی ملاحظہ فرمایئے: ’’معاملہ صرف اس حد تک نہیںتھاکہ قرآن میں اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۝۲۱۴ۙ   کا حکم آیا اور حضوؐر نے اپنے رشتے داروں کو جمع کرکے بس اس کی تعمیل کردی۔ دراصل اس میں جواصول واضح کیاگیاتھا وہ یہ تھاکہ دین میں نبی اور اس کے خاندان کے لیے کوئی امتیازی مراعات نہیں ہیں جن سے دوسرے محروم ہوں۔ جو چیز زہرِ قاتل ہے وہ سب ہی کے لیے قاتل ہے۔ نبی کا کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اس سے خود بچے اور اپنے قریبی لوگوں کو اس سے ڈرائے، پھر ہر خاص و عام کو متنبہ کردے کہ جو بھی اسے کھائے گا، ہلاک ہوجائے گا۔ اور جو چیز نافع ہے وہ سب ہی کے لیے نافع ہے، نبی کا منصب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے خود اختیار کرے اور اپنے عزیزوں کو اس کی تلقین کرے،تاکہ ہر شخص دیکھ لے کہ یہ وعظ و نصیحت دوسروں ہی کے لیے نہیں ہے،بلکہ نبی اپنی دعوت میں مخلص ہے‘‘۔( تفہیم القرآن، ج۳،ص ۵۴۳)

ذہن نشین کرلینے کی بات یہ ہے کہ بچہ آرٹس لینا چاہتاہے اور والدین دھونس جماکر اسے سائنس دلادیتے ہیں اور اسے زبردستی نہیں سمجھتے حالانکہ یہ زبردستی ہے۔ وہ اپنا بزنس کرنا چاہتاہے اسے ایم بی بی ایس میں گھسادیتے ہیں حالانکہ یہ بھی زبردستی ہے۔ لیکن جب وہ تنظیم کے ہفتہ وار پروگرام میں نہیں آتا، دینی مطالعہ نہیں کرتا، نمازوں سے غفلت برتتا ہے تو اس پر ٹوکنے کے بجائے، جھٹ سے لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی چٹان کے پیچھے جاچھپتے ہیں۔ حالانکہ یہ زبردستی نہیں ان کا فریضہ ہے۔

ایک مسلمان اگر اسلام کے وسیع تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسلامی تحریک سے کسی بھی سطح پرقریب آتاہے، تو اس سے بجاطورپر یہ توقع ہوتی ہے کہ جس طرح وہ اپنے محلے،شہر اور ملک کو اسلامی خطوط پر چلانے کے لیے سعی و جہد کررہاہے، اس عمل میں وہ خاندان سے غفلت نہ برتے بلکہ اس پر خاص توجہ دے کہ اس جدوجہد میں اس کا خاندان اس کا دست و بازو ہو، اس کے پاؤں کی زنجیر نہ بنے۔ ایک مومن کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ خدا نہ کرے کل کو اس کے اپنے ہی قدم صراطِ مستقیم سے بھٹکتے ہیں تو کم از کم بیوی بچّے ایسے ہوں کہ اس گمراہی کا خیرمقدم کرنے کے بجائے، ہاتھ پکڑکر دوبارہ صحیح راستے پر لے آئیں۔ اگر ایسے پچاس ہزار مثالی خاندان ملک میں موجود ہوں کہ ایمان کی پختگی، عمل کی بلندی اور دینی غیرت میں فکروعمل کے بلند مرتبے پر فائز نظر آئیں، تو یہ ممکن نہیں کہ معاشرہ ان سے متاثر نہ ہو۔ ہمارا زور ایک فرد پر نہیں، ایک خاندان پر ہے۔

کوئی نوجوان اگر آج جاہلیت سے لتھڑے اس ماحول میں حق کو پہچان کر نکلتاہے مگر چار پانچ سال گزرنے پر بھی اس کے بھائی بہنوں کو نہیںمعلوم کہ تحریک کس چیز کانام ہے، اس کے والدین کو نظم کی ہوا تک نہیں لگتی، مگر دوسری جانب وہ اپنی ذات میں اقامتِ دین کا سودا سر میں سموئے معاشرے کی اصلاح اور ریاست کی تشکیل کابیڑا اٹھاتا ہے، اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو عار دلاتاہے کہ مسلمانوں نے قرآن جیسے نسخۂ کیمیا کو چھپارکھا ہے۔ مگر چراغ تلے اندھیرا وہ خود اپنے بیوی بچوں کو دین کے مکمل تصور سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت نہ سمجھے تو ایسی صورت میں دو میں سے صرف ایک بات کا احتمال ہوسکتا ہے: ﴿۱ن دونوں کو اپنے خاندان سے محبت نہیں ہے، ﴾یا تحریک سے ان کی کمٹمنٹ ناقص ہے۔

یہاں بڑا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم نہیں چاہتے کہ جب اللہ کو اپنا سب کچھ’قرض‘ میں دے دیں تو بیوی ہماری ’کم عقلی‘ پر ماتم کرنے کے بجائے بالکل ام دحداحؓکی طرح کہے: ’’ابودحداحؓ! یہ تو کافی نفع بخش تجارت رہی‘؟کیا ہم نہیں چاہتے کہ جب خداکی راہ میں نکلنے کا موقع آئے تو بجائے اس کے کہ ہمارے والد اپنے بڑھاپے کا حوالہ دے کر راستہ روکیں، حضرت عمروبن جموحؓکی طرح خود ہی کہیں کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو، یا حضرت سعد بن خیثمہؓکے والد کی طرح قرعہ اندازی پر آمادہ ہوجائیں کہ کون پہلے جائے گا؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ زندگی میں اگر عزّت و شہادت کی موت یا گیدڑوں کی زندگی میں سے کسی ایک کو چننے کا موقع آئے تو بوڑھی والدہ پاؤں کی زنجیر بننے کے بجائے حضرت اسماءؓکی طرح ’زرہ بکتر‘ اتار پھینکنے پر اُبھارے کہ یہ ’مردوں‘ کی شان سے فروتر ہے، اور حضرت خنساءؓکی طرح دشمن کی صفوں میں اندر تک گھس جانے کی تلقین کریں؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ جب شیطان ہم پر حاوی ہونے لگے، اور سستی و بے عملی سے آج کاکام کل پر یا صبح کاکام شام پر ٹالنے لگیں تو ہمارا ہی لخت جگر بالکل حضرت عمر بن عبدالعزیزؓکے بیٹے کی طرح معصومیت سے کہے: ’ابّا! کیاآپ کو یقین ہے کہ آپ شام تک زندہ رہیں گے؟‘ اس مثالی خاندان کا اگر واقعی ہم خواب دیکھتے ہیں تو کامیابی کا پہلا زینہ آپ چڑھ چکے ہیں۔ لیکن خواب صرف دیکھ لینے سے سچ نہیں ہوتے۔

اسی مقصد کے لیے تحریک نے ایک اور اہم پروگرام اجتماعِ اہل خانہ کا رکھا ہے۔ یہ بیوی بچوں کی تربیت کی خاطر بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہفتے میں کم از کم ایک بار بھی اہلِ خانہ ایک دعوتی اجتماع کے لیے ایک آدھ گھنٹے کے لیے مل بیٹھیں تو پورے خاندان کی فضا پر بہت مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محترم قاضی حسین احمد کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں کہ: ’’اگر گھر میں بھی دعوتِ دین کا ماحول پیداہوجائے تو یہ ایک مسلم گھرانا قائم کرنے کے لیے بہت مددگار ثابت ہوسکتاہے۔ اپنی انفرادی تربیت اور مطالعۂ قرآن و حدیث کے بعد اپنے خاندان کی تعلیم و تربیت ہمارا سب سے اوّلین کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے واضح الفاظ میں ہمیں اس کی فکر کرنے کا حکم دیا ہے کہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ دعوت کی حکمت عملی کے اعتبار سے خاندان کی اصلاح خشتِ اوّل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ درست ہوجائے تو پوری دیوار سیدھی کھڑی ہوتی ہے اور یہ کمزور یا ٹیڑھی رہے تو عمارت میں بھی ٹیڑھ رہے گی۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کام کی تدریج یہ ہے کہ مسلم فرد کی تربیت ہو، مسلم گھرانے کی تعمیر ہو، مسلم معاشرے کی تعمیر ہو اور مسلم حکومت کے ذریعے سے ان سب کو قوت عطا ہو اور انسان تہذیب و تمدن اور خیر و صلاح کا گہوارہ بن جائے گا‘‘۔