اپریل۲۰۲۲

فہرست مضامین

کشمیری پنڈتوں کے نام پر نفرت کا کھیل

افتخار گیلانی | اپریل۲۰۲۲ | اخبار اُمت

یہ ۱۹۴۷ءکا پُر آشوب دور تھا۔ ریاست جموں و کشمیر کے جموں خطے میں خود ڈوگرہ حکومت کے ایما پر مسلم کُش فسادات کی آگ انسانیت کو شرمسار کر رہی تھی۔ اکھنور کے علاقے میں ہندوسکھ فسادیوں کے ایک گروپ نے ایک مسلم خاندان کے مرد وں کو ہلاک کرکے، خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انھیں مردوں کا گوشت پکانے اور پھر زبردستی کھانے پر مجبور کروایا۔ چند سال قبل جب کشمیر کے ایک سابق اعلیٰ سول افسر خالد بشیر کی تحقیق پر مبنی رپورٹ کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے کالم نگار سوامی انکلیشور ائیر اور معروف صحافی سعید نقوی نے جیسے ہی جموں کے ان خونریز فسادات کو اپنے کالم کا موضوع بنایا، تو تحقیقی اداروں میں تہلکہ مچ گیا۔ جدید تاریخ کی اس بدترین نسل کشی پر تعصب اور بے حسی کی ایسی موٹی تہہ جم چکی ہے، کہ کوئی یقین ہی نہیں کر رہا ہے۔

اس نسل کشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے، کہ جمو ں میں ۶۹فی صد مسلم آبادی تھی، جس کو چند مہینوں میں ہی اقلیت میں تبدیل کردیا گیا۔ روزنامہ دی ٹائمز، لندن کی ۱۰؍اگست ۱۹۴۸ء کی ایک رپورٹ کے مطابق: ’’ان فسادات میں چند ماہ کے اندر ۲ لاکھ۳۷ہزار افراد ہلاک ہوئے‘‘۔ جموں کی ایک سیاسی شخصیت رشی کمار کوشل نے مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ خود مسلمانوں پر گولیاں چلارہے تھے۔ اودھم پور کے رام نگر میں تحصیل دار اودھے سنگھ اور مہاراجا کے اے ڈی سی کے فرزند بریگیڈیئر فقیر سنگھ اس قتل عام کی خود نگرانی کررہے تھے۔

دوسری طرف انھی دنوں اس درندگی کے بالکل برعکس، وادیِ کشمیر میں کس طرح عام کشمیر ی مسلمان پنڈتوں، یعنی ہندوؤں کو بچانے کے لیے ایک ڈھال بنے ہوئے تھے۔ معروف صحافی و سیاسی کارکن پنڈت پران ناتھ جلالی اس کا ایک چشم دید واقعہ سناتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ شیخ محمد عبداللہ نے بطور چیف ایڈمنسٹریٹر جب زمامِ کار سنبھالی تو جلالی کو کشمیری پنڈتوں کی آباد کاری کا کام سونپا گیا۔ ان کو اطلاع ملی کہ ہندواڑ ہ تحصیل کے کسی گاؤں میں کشمیری پنڈتوں کے کئی خاندان ہفتوں سے غائب ہیں۔ سرینگر سے روانہ ہوکر سوپور تھانے سے سپاہیوں کی کمک لے کر وہ اس گاؤں میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ اطلاع صحیح تھی۔ گاؤں کے سرکردہ افراد کو بلا کر تفتیش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی سخت پٹائی کی ، حتیٰ کہ ان کی خواتین و بچوں تک کو بھی نہیں بخشا۔ سبھی گائوں والے عذا ب تو سہتے رہے اور بس یہی کہتے رہے کہ ان کو کچھ نہیں معلوم کہ یہ پنڈت خاندان کہاں چلے گئے ہیں۔

خیر جلالی صاحب کا کہنا تھا کہ ’’ایک پنڈت کے خالی مکان میں انھوں نے اور سپاہیوں نے ڈیرا ڈال لیا۔ ایک رات، ایک سپاہی نے ان کو بتایا کہ رات گئے گاؤں میں لوگوں کی کچھ غیرمعمولی نقل و حرکت محسوس ہوتی ہے۔ اگلی رات پران ناتھ جلالی اور سپاہیوں نے ہوشیاری کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ میل بھر چلنے کے بعد معلوم ہوا کہ ’’نالے کے دوسری طرف ایک محفوظ اور تنگ گھاٹی میں کشمیری پنڈت خاندان چھپے ہوئے تھے اور گائوں والے ہر رات ٹوکریوں میں ان کو کھانا پہنچا رہے تھے‘‘۔ جلالی صاحب کہتے تھے کہ ’’ندامت سے میرے پائوں زمین میں گڑ گئے۔ گذشتہ کئی روز سے ہم نے ان گائوں والوں پر جس طرح ٹارچر کیا تھا، اس پہ پشیمان تھے۔ دراصل گائوں والے سمجھتے تھے کہ پولیس کے بھیس میں وہ لوگ پنڈتوں کو مارنے اور لوٹنے کی غرض سے آئے ہیں۔ اِن اَن پڑھ دیہاتیوں نے ٹارچر اور گالیا ں کھانا برداشت تو کیا، مگرکیا بچے کیا خواتین، کسی نے پنڈتوں کے ٹھکانے کا راز افشا نہ کیا‘‘۔

اب حال ہی میں جس طرح بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے کٹر حامی وویک اگنہوتری کی لکھی اور ڈائریکٹ کی ہوئی ہندی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ ۱۱مارچ کو نمایش کے لیے پیش کی گئی ہے۔ فلم میں ۱۹۹۰ء میں وادیِ کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ ایسی کہانی کہ جو نہ صرف یکطرفہ ہے، بلکہ اس سے کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر پورے بھارت میں  ان کا جینا دوبھر کیا جا رہا ہے۔ ایسا ہیجان برپا کر دیا گیا ہے کہ ایک ویڈیو میں ایک شخص فلم ختم ہونے کے بعد چیختے ہوئے کہتا ہے کہ ’’ہندو بھائیوں سے میری اپیل ہے کہ ان (مسلمانوں) سے ہوشیار رہیں، یہ کسی بھی وقت ہم پر حملہ کرسکتے ہیں‘‘۔ اس فلم کی حقیقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایئے کہ ’را‘ کے سابق چیف اے ایس دولت نے اعتراف کیا ہے: ’’یہ ایک پروپیگنڈا فلم ہے، جس میں پیش کی گئی تفصیلات کا حقائق کی دُنیا سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔(اخبار مسلم مرر، ۲۲مارچ ۲۰۲۲ء)

دہلی میں ایک سینیر صحافی فراز احمد پریس کلب میں اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’کشمیر کا مسئلہ دراصل کشمیری پنڈتوں کا داخلی جھگڑا ہے، جس نے جنوبی ایشیا کے امن و امان کو نشانہ بنایا ہوا ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’علامہ اقبال، جنھوں نے پاکستان کا تصور دیا، بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہرلال نہرو ، جنھوں نے مسئلہ کشمیر کو پیچیدہ بنایا، اور پھر شیخ محمد عبداللہ ، جنھوں نے اس کو مزید اُلجھانے میں معاونت کی، تینوں کشمیری پنڈتوں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے‘‘۔ کشمیری پنڈت کی اصطلاح دراصل زوال پذیر مغل بادشاہ محمد شاہ نے اپنے ایک درباری جے رام بھان کے مشورے پر ایک فرمان کے ذریعے شروع کروائی تھی۔ کشمیری پنڈتوں کا مغل دربار میں اچھا خاصا اثر و رسوخ تھا، اس لیے وہ اپنے آپ کو دیگر برہمنوں سے اعلیٰ اور برتر نسل تصور کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے رسم و رواج دیگر برہمنوں سے جدا ہیں‘‘۔ وہ دیوالی و ہولی نہیں مناتے ہیں۔ انھوں نے کشمیر میں ایک متوازی گنگا کا ایک سنگم تیرتھ بھی اختراع کیا ہوا ہے اور کھیربھوانی اور شاریکا دیوی ان کے دیوی دیوتا ہیں۔

ویسے کشمیر میں ہندو اور مسلمان میں تفریق کرنا مشکل تھا۔ الگ الگ بستیوں کے بجائے دیہات و قصبات میں دونوں ساتھ ساتھ ہی رہتے تھے۔ میر سید علی ہمدانی کی خانقاہ ، شیخ نورالدین ولی اور سرینگر شہر کے قلب میں کوہ ماراں پر شیخ حمزمخدوم کی درگاہوں پر کشمیری پنڈتوں کا بھی جم غفیر نظر آتا تھا۔ کشمیر کی معروف شاعرہ لل دید ، تو دونوں مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ ابھی تک یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ ہندو تھی یا مسلمان۔ تاہم، اس کا پورا کلام ہی اللہ کی وحدانیت پر مشتمل ہے۔

کشمیر میں اسلام کی آمد ۱۴ویں صدی میں اس وقت ہوئی،جب بدھ مت اور برہمنوں کے درمیان زبردست معرکہ آرائی جاری تھی۔ اس دوران جب بلبل شاہ اور بعد میںمیر سید علی ہمدانی نے اسلام کی تبلیغ کی، تو عوام کی ایک بڑی اکثریت نے اس پر لبیک کہا۔ یہ شاید واحد خطہ ہوگا، جہاں ہندوؤں کی اعلیٰ ذاتوں نے بھی جوق در جوق دائرہ اسلام میں پناہ لی۔ لیکن برہمنوں کا ایک طبقہ بدستور اپنے دھرم پر ڈٹا رہا۔ اسی صدی میں جب شہمیری خاندان کے سلطان سکندر کےدورِحکومت میں ایک کشمیری برہمن سہہ بٹ نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام سیف الدین رکھا، تو اس نے کشمیری برہمنوں کے اقتدار کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے اکثر پنڈتوں نے ہجرت کی۔ مگر سلطان سکندر کے فرزند زین العابدین جنھیں بڈشاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے تخت نشینی کے فوراً بعد ہی اس پالیسی کو ختم کرواکے، ان کشمیری پنڈتوں کو واپس لینے کے لیے وفود بھیجے اور ان کو دربار میں مراعات اور عہدے بخشے۔

شیخ عبداللہ اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کے اقلیتی احساس اور عصبیت کو اُبھارنے میں مغل بادشاہوں نے کلیدی کردار ادا کیا، کہ وہ مسلمان امرا سے خائف رہتے تھے۔معروف مؤرخ جادو ناتھ سرکار لکھتے ہیں، کہ مغل دور میں بہت کم کشمیر ی مسلمان اعلیٰ عہدوں پر نظر آتے ہیں۔ امور سلطنت میں مغل حکمران ، کشمیری پنڈتوں پر زیادہ اعتبار کرتے تھے۔ ملکہ نو ر جہاں کے ذاتی محافظ دستے کا سربراہ میرو پنڈت بھی ایک کشمیری برہمن تھا۔ پنڈتوں کی بالادستی اورنگ زیب کے دور میں بھی جاری رہی۔ افغانوں کا دو ر حکومت تو کشمیر میں ظلم و ستم کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے، مگر ان کے دربار میں بھی کشمیری پنڈت ہی حاوی تھے۔ بلند خان سدوزئی نے کیلاش در پنڈت کو وزیر اعظم مقرر کیا تھا۔ افغان دور میں تو قبائلی علاقوں میں کشمیر ی پنڈت نند رام نکوکے نام پرسکّے ڈھالے گئے تھے، جو غالباً ۱۸۱۰ءتک جاری رہے۔ مؤرخ جیالال کلم کا کہنا ہے کہ افغان دور میں کشمیری پنڈت حکومت پر چھائے رہے۔

 افغانوں کے زوال کے بعد پنڈت بیربل در نے سکھوں کو کشمیر پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی۔ پھر جب سکھ سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا ، تو ڈوگرہ حکمران مہاراجا گلاب سنگھ نے بیربل کاک کے بیٹے راج کاک در کو کشمیر کا گورنر بنا کر بھیجا۔جس نے شال بافی صنعت پر ٹیکس لگا کر ، مسلمان کشمیری کاریگروں کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ انگریز سرویر جنرل والٹر لارنس، اُن دنوں کشمیر میں تعینات تھے، انھوں نے لکھا تھا کہ:’’کشمیر کی ساری سیاسی قوت کشمیری پنڈتوں کے ہاتھوں میں ہے، جب کہ مسلمان کاشت کار یا مزدور ہے اور اس کو برہمنوں کے آرام و آسائش کے لیے بیگار پر مجبور کیا جاتا ہے‘‘۔ اسی دور میں کشمیری پنڈتوں کو انگریزی جاننے والے ہندو افسران سے مسابقت کا سامنا کرنا پڑا، تو انھوں نے نعرہ بلند کیا کہ صرف ریاستی باشندوں کے نوکری کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ چونکہ مسلمان ان دنوں اَن پڑھ تھے، اس لیے ان کے ساتھ کسی مسابقت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مگر بعد میں جب مسلمانوں نے پڑھنا لکھنا شروع کیا، تو ان ہی پنڈتوں نے اسی اسٹیٹ سبجکٹ قانون کے خلاف زمین و آسمان ایک کر دیئے۔

شیخ محمد عبداللہ کے مطابق جب ۱۹۳۱ء میں کشمیر میں تحریک آزادی کا آغاز ہوا، تو راجا ہری سنگھ نے کشمیری پنڈتوں کو ڈھال بناکر انھیں پروپیگنڈا کرنے کی شہہ دی کہ ’’یہ تحریک ہندو مہاراجا کے خلاف بغاوت ہے اور کشمیری پنڈت خطرے میں ہیں‘‘ کا شور برپا کر ڈالا۔ گلانسی کمیشن کی سفارشات اور اس تحریک کی بدولت جب چند نوکریاں مسلمانوں کو ملنے لگیں، تو کشمیر میں پنڈت لیڈروں نے اس کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی۔ مگر ان کی ہی برادری کے چند افراد پریم ناتھ بزاز، کشپ بندھو اور جیالال کلم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ۔

 تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں کو تعلیمی اور سیاسی میدانوں میں اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع ہاتھ آیا، تو یہ اقلیتی طبقہ (پنڈت) احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگا۔ اسی نفسیات کے تحت آج بھی بعض انتہا پسند پنڈتوںکو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ نئی دہلی کی پشت پناہی سے کشمیری مسلمانوں کو ایک مرتبہ پھر اپنے غلاموں اور ماتحتوں کے طور پر گزر بسر کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

شیخ عبداللہ کے مطابق: ان میں اکثر پنڈتوں کو حکمرانوں کی خدمت اور اپنے ہم وطنوں کی جاسوسی کرنے میں ہی سکون ملتا رہا ہے۔ مہاتما جی گاندھی کہتے تھے، کہ ’’کشمیر کی مثال ایسی ہے جیسی خشک گھاس کے انبار میں ایک دہکتا ہوا انگارہ ڈال دیا گیا ہو۔ذرا بھی ناموافق ہوا چلی تو سارے کا سار ا برصغیر اس کی آگ کے شعلوں میں لپٹ جائے گا‘‘۔ اور گاندھی کے نام لیوا تو اس کی تنبیہہ کب کی بھول چکے ہیں، اور اس کے نام کی صرف سفارتی ڈگڈگی بجا کر دنیا کے سامنے کھیل رچایا جاتا ہے۔کشمیری پنڈت لیڈران سے اپیل ہے کہ اپنے اثر و رسوخ کا مثبت استعمال کرکے، نسلی نفرت کی آگ بجھانے اور مسئلۂ کشمیر پاٹنے کا کا م کریں، بلکہ سیاسی لیڈروں کو مسئلے کے سیاسی حل کی طرف بھی گامزن کروائیں، تاکہ خطے میں ایک حقیقی اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہوسکے۔