ایک مسلمان جب دعوتِ اقامت ِدین کا نیک اور مقدس ارادہ لے کر اُٹھتا ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کا آغاز کس طرح کرے؟ کیا وہ چھوٹتے ہی مخاطب کو پہلے اپنی ساری بات سنا دے اور پھر اسے اعتراضات کا موقع دے، یا مخاطب کو پہلے اپنی اُلجھنوں اور پریشانیوں کو بیان کرنے کی دعوت دے، اور پھر اُن کی روشنی میں اُس سے تبادلۂ خیالات کیا جائے؟
دعوتِ دین کے لیے نقطۂ آغاز معلوم کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے، جس سے دعوت کا کام کرنے والا ہرشخص زندگی میں ایک بار یا چند بار نہیں بلکہ ایک دن میں کئی کئی بار دوچار ہوتا ہے۔ جو لوگ مزدوروں اور کسانوں میں کام کرتے ہیں، وہ بھی اس معاملے میں وہی دقّت محسوس کرتے ہیں جو علمی کام کرنے والوں کوپیش آتی ہے۔ دعوت کے کام اور ذمہ داری سے وابستہ ہر کارکن کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اگرچہ کوئی لگابندھا ضابطہ یا طریقہ تو طے نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس مسئلے کے حل کے لیے متعین قاعدہ کلیہ ہی بنایا جاسکتا ہے، لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے متعلق چند بنیادی باتیں پیش کی جاتی ہیں:
بعض حضرات کا اس بارے میں یہ خیال ہے کہ جذبہ ہی درحقیقت اس معاملے میں بہترین رہنما ہے۔ جب ایک شخص کے دل میں کسی نصب العین یا مقصد کے لیے سچی طلب پیدا ہوجاتی ہے، تو وہ اپنی بات کہنے کے طریقے اور راہیں خود بخود نکال لیتا ہے۔ اس ’جذبِ اندروں‘ میں یہ قدرت اور طاقت موجود ہے کہ وہ نئے نئے طریقے ایجاد اور اختیار کرے اور اپنے عمل کے نتائج پر غوروفکر کرکے حسب ِ ضرورت ان میں ترمیم و تبدیلی کرتا رہے۔ منزلِ مقصود تک پہنچنے کی آرزو جتنی شدید اور گہری ہوگی، راستے کی مشکلات اسی تناسب سے آسان ہوتی چلی جائیں گی۔ لہٰذا، اصل ضرورت دعوت کے طریقے معلوم کرنا نہیں، بلکہ دین کے لیے سچی محبت اور لگن پیدا کرنا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ دعوت کے طریق کار کا بہترین فیصلہ اسی شخص کا وجدان اور ذوق کرسکتا ہے جو خود یہ کام انجام دے رہا ہو۔ اس معاملے میں کسی لگے بندھے ضابطے یا طریقے کی پابندی نہیں کی جاسکتی، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی کچھ کم قابلِ لحاظ نہیں ہے کہ دعوت و تبلیغ کی حکمت سے واقف ہونا اور اُن لوگوں کے طریق کار سے سبق لینا، اس وجدان و ذوق کی رہنمائی کے لیے بہت مفید ہے جو اس سے پہلے یہ کام بہترین طریقے سے کرچکے ہیں۔ اس غرض کے لیے دیکھنا ہوگا کہ کسی شخص یا گروہ کے سامنے دعوتِ دین پیش کرنے کے لیے آغاز کہاں سے کیا جائے؟
اردگرد کی پھیلی ہوئی وسیع دُنیا میں آباد انسانوں پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہاں ہرشخص مضطرب اور پریشان ہے۔ اگر ایک شخص معاشی حیثیت سے غیرمطمئن ہے، تو دوسرا سیاسی اعتبار سے بے چین۔ اسی طرح اگر ایک فرد کی جسمانی ضروریات پوری ہورہی ہیں تو اس کی روح پیاسی رہ جاتی ہے۔ الغرض دُنیا میں ہرفرد کسی نہ کسی لحاظ سے پریشان نظر آتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ بڑے ملک اور بڑی قومیں تک اس کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ دُنیا کی کئی اقوام غیرملکی سامراج کے استبداد میں ہیں اور انھیں یہ فکر لاحق ہے کہ کسی طرح اس لعنت سے نجات حاصل کی جائے۔ دوسری طرف غالب قوتیں اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح ان مظلوموں کو زیادہ سے زیادہ مدت تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا جائے اور اس دوران جس قدر ممکن ہو ان کا خون نچوڑا جاسکے۔ کسی کو ملک گیری کی ہوس کھائے جارہی ہے اور کسی کے سر پر ایک عالم گیر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
پھر یہ کش مکش صرف قوموں اور ملکوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ ہر قوم کے اپنے اندر ایک زبردست ہیجان اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اگر ایک طبقے کے لوگ ایک طرزِ فکر اختیار کرتے ہیں، تو اُس سے عجیب و غریب نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں اور جب اس کو بدل کر دوسری راہ پر چلتے ہیں، تو دوسرے مسائل پریشان کرنے لگتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب معیشت کو آزاد کیا جائے تو اس سے ایک گروہ کے لیے ناجائز استحصال کا میدان ہموار ہو جاتا ہے۔ بے روزگاری بڑھتی ہے اور طبقاتی تقسیم معرضِ وجود میں آتی ہے۔ اس کے برعکس جب پیدائش دولت اور تقسیم دولت کو حکومت اپنی تحویل میں لے لے، تو انسان کو ایک نہایت ہی جابرانہ نظام کی جکڑبندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں، جس میں نہ کسی شخص کو ضمیر کی آزادی حاصل ہوتی ہے، نہ اظہار رائے کی آزادی۔ وہ بے چارا اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ نہ صرف حکومتی معاشی منصوبہ بندی کے تحت زندگی گزارے، بلکہ اپنے جذبات و احساسات اور افکار و تصورات کو بھی ایک لگے بندھے منصوبے کے مطابق ڈھال لے۔
یہ اضطراب انگیز کیفیات اور یہ پریشان کُن حالات ہیں جن میں سے ہر فرد گزر رہا ہے اور انھیں وہ نہایت شدت سے محسوس بھی کرتا ہے۔ یہ دعوتِ دین کا بڑی آسانی کے ساتھ نقطۂ آغاز بن سکتے ہیں۔ ان حالات میں اپنے مخاطب کو بغیر کسی دقّت کے یہ بات سمجھائی جاسکتی ہے کہ جس چیز پر وہ مضطرب ہے، وہ اصل بگاڑ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی بگاڑ کا محض ایک رُخ ہے۔ جب تک تم مجموعی خرابی کو اوراس کے بنیادی سبب کو نہ سمجھ لو، اس کے محض ایک جُز یا چند اجزا کو بدل دینے میں اوّل تو کامیاب نہیں ہوسکتے اور اگر کامیاب ہو بھی جائو تو اس سے اضطراب کے وجوہ ختم ہوجانے کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ اس طریقے سے جب آدمی کا ذہن ایک مرتبہ عمومی مظاہر کے اُلجھائو سے نکل کر حقائق کا سرا تلاش کرنے پر آمادہ ہوجائے تو اسے بآسانی اس بنیادی اصلاح کو سمجھنے کے قابل بنایا جاسکتاہے۔
اس وقت ملک کی معاشی صورتِ حال سے ایک عام اضطراب ہر طرف برپا ہے۔ یہاں دولت کی تقسیم نہ صرف غیر مساوی ہے بلکہ غیر عادلانہ بھی۔غریب اور متوسط طبقے اشیاء کی روز افزوں گرانی کی وجہ سے بُری طرح پس رہے ہیں۔ ان کے برعکس ایک چھوٹا سا طبقہ ناجائز طریقوں سے حیرت انگیز تیزی کے ساتھ امیر ہورہا ہے۔ چونکہ اس طبقہ کو دولت بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہورہی ہے، اس لیے وہ اسے نہایت بے پروائی سے خرچ کرتا ہے ۔اس طبقے کے اس طرزِعمل سے ملک میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے رجحان کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس طرح یہاں بے راہ روی اور دھونس اور دھاندلی کا بازار گرم ہے۔ لوگ جب اس صورتِ حال کو سرسری نظر سے دیکھتے ہیں تو اُن کو یہ صرف معاشی مسئلہ نظر آتا ہے۔ ایک آدمی فوراً یہ کہہ سکتا ہے کہ اس صورتِ حال کو ہم معاشی پالیسی میں تبدیلی کر کے بدل سکتے ہیں، مثلاً اس معاملے میں وہ آپ کو یہ بتائے گا کہ منافعوں پر بڑھتی ہوئی شرح پر ٹیکس عائد کرنے سے اور اخراجات پر پابندی لگادینے سے حالات درست ہوسکتے ہیں۔
کیا حالات کا یہ صحیح تجزیہ ہے؟ اگر منافعوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا دیتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وصول کرنے والے کارندے ایمان داری سے اُس کو وصول کریں اور ٹیکس ادا کرنے والے بغیر کسی ہیرپھیر کا طریقہ اختیار کیے پوری دیانت داری سے یہ ٹیکس دیں۔ اسی طرح ہمارے پاس اس قدر زرِمبادلہ نہیں ہے کہ ہم آزاد تجارت کی پالیسی پر عمل پیرا ہوسکیں اور نہ آزاد تجارت کے نتائج بھگتنے کی ہم سکت ہی رکھتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ اپنی بیرونی تجارت کو محدود رکھیں۔ زیادہ سے زیادہ ہم جو کرسکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ جن لوگوں پر ریاستی غفلت یا محکمانہ پشت پناہی سے عنایات جاری ہیں اُن کی یہ عنایات بند کردی جائیں یا حکومت موزوں لوگوں کو منتخب کرے۔ اب ہمارے پاس اس امر کی کیا گارنٹی ہے کہ اربابِ حکومت یا وہ دوسرے لوگ اس معاملے میں بڑی دیانت داری سے کام لیں گے۔ جہاں تک اخراجات پر پابندی عائد کرنے کا سوال ہے تو اس معاملے میں بھی خارج سے کوئی حد نہیں لگائی جاسکتی ۔ آپ اخراجات کی اگر ایک شکل کو ناجائز قرار دیں گے تو وہ فوراً انھیں دوسری شکل میں ڈھال لیں گے۔
ان گزارشات پر اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آئین و ضوابط کی تبدیلیاں خواہ بڑی اہم ہی سہی، لیکن وہ اس وقت تک کوئی قابلِ قدر نتائج پیدا نہیں کرسکتیں، جب تک انسان کے زاویہ ہائے فکرونگاہ کو نہ بدلا جائے اور یہ معاملہ معاشی نہیں بلکہ اخلاقی ہے، یا دوسرے الفاظ میں خارجی نہیں بلکہ داخلی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اخلاق کا وہ کون سا ضابطہ اختیار کریں جس سے صورتِ حال میںبامعنی تبدیلی پیدا ہو سکے؟
اس کے لیے ایک تو اخلاق کی وہ شکل ہے جو مغربی قوموں میں نظر آتی ہے۔ اس اخلاق کو ہم ’مصلحت پرستانہ قومی اخلاق‘ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں یعنی جس طرزِعمل میں ملک اور قوم کا فائدہ دکھائی دیا، اُسے ہی اخلاقی ضابطہ بنا لیا۔ اخلاق کی یہ قسم معروضی اقدار پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ وہ سیمابی اخلاق ہے جس کی قدریں خارجی حالات کے تبدیل ہونے سے ہرآن تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ممکن ہے اس اخلاق سے ایک گروہ، قوم یا ملک کو وقتی طور پر کچھ فائدہ حاصل ہوجائے، لیکن اس سے مجموعی طور پر قوم کی اخلاقی سطح بلند نہیں ہوتی۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ برطانیہ کے وہ نام نہاد اخلاق پرست جو حُریت اور شرفِ انسانیت کا پرچار کرتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے۔ وہ جب ہندستان پر قابض ہوئے تو یہاں خوں ریزی اور سفاکی برتنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو زیردستوں کی آزادی کے دیوتا ثابت کرنے کے دعویدار دکھائی دیئے۔ وہ لوگ جو اخلاقِ انسانی کے اصولوں کی حفاظت اور پاسبانی کے دعویدار تھے انھوں نے استعماری عزائم کے ساتھ یہاں کے کروڑوں مظلوم بندگانِ خدا کو ہلاک و پامال کرڈالا۔
اخلاق کی اس قسم کو کوئی انسان جسے انسانیت کا ذرا بھی پاس ہے، قبول کرنا گوارا نہیں کرسکتا۔ وہ ہمیشہ اُن اخلاقی اقدار کو تسلیم کرے گا، جو آفاقی ہوں، جو ’من و تو‘ کے ساتھ بدلتی نہ رہیں، جن کے پیچھے پوری نوعِ انسانی کی بلندی کا جذبہ کام کر رہا ہو۔ آپ جب اس معاملے پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ اخلاق اس وقت تک معرضِ وجود میں نہیں آسکتا، جب تک ایک انسان کائنات اور اُس کے خالق کے ساتھ اپنے رشتے کا صحیح صحیح تعین نہ کرلے۔
قرآن عظیم میں متعدد مقامات ایسے ملتے ہیں، جہاں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ انسان کی انفرادی، اجتماعی اور سماجی زندگی سے اضطراب اُسی وقت دُور ہوسکتا ہے جب انسانوں کا اپنے خالق کے ساتھ رشتہ درست ہو۔ جب تک اس رشتے کو صحیح نہیں کیا جائے گا، اُس وقت تک زندگی سے بُرائی کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو ایک عادتِ بد سے باز رہنے کی دعوت دی، تو سب سے پہلے انھیں اس بات کی نصیحت کی کہ تم اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خوف کے مٹ جانے سے ہی فسق و فجور کے سارے چشمے پھوٹتے ہیں:
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِۨ الْمُرْسَلِيْنَ۱۶۰ۚۖ اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ۱۶۱ۚ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۱۶۲ۙ فَاتَّــقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۱۶۳ۚ (الشعراء ۲۶:۱۶۰-۱۶۳) قومِ لوط نے پیغام لانے والوں کو جھٹلایا جب اُن کے بھائی لوطؑ نے اُن سے کہا: کیا تم ڈرتے نہیں، میں تمھارے لیے پیغام لانے والا امین ہوں، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
پھر اسی طرح حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو لین دین میں دیانت داری کا سبق دینے سے پہلے اُسے یہ ذہن نشین کرایا ہے کہ تمھارا اپنے خالق و مالک سے تعلق درست ہونا چاہیے:
اِذْ قَالَ لَہُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ۱۷۷ۚ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۱۷۸ۙ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۱۷۹ۚ وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ۰ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱۸۰ۭ ۞ اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ۱۸۱ۚ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ۱۸۲ۚ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۱۸۳ۚ وَاتَّقُوا الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِيْنَ۱۸۴ۭ (الشعراء ۲۶: ۱۷۷-۱۸۴) یاد کرو، جب کہ شعیبؑ نے اُن سے کہا تھا:’’کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمے ہے۔ پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دو۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو اور اُس ذات کا خوف کروجس نے تمھیں اور گذشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔
اسی قسم کی بہت سی آیات ہمیں قرآنِ حکیم میں ملتی ہیں، جن میں اس بنیادی حقیقت کی طرف نہایت واضح الفاظ میں رہنمائی کی گئی ہے کہ اُس وقت تک اصلاح کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی جب تک انسان اُن نسبتوں کو درست نہ کرے، جو اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان اور انسان اور اس کائنات کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ حضرت جعفرؓ بن ابی طالب نے نجاشی کے دربار میں دعوتِ دین کے لیے جو فصیح و بلیغ تقریر ارشاد فرمائی، وہ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے۔ اس تقریر کے دوحصے ہیں: ایک میں انھوں نے یہ بتایا ہے کہ جب ہمارے خالق کے ساتھ تعلق کی نوعیت صحیح نہ تھی، تو ہم میں کون کون سی بُرائیاں پائی جاتی تھیں۔ اس کے بعد جب ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ نمائی میں خداوندتعالیٰ سے صحیح تعلق قائم کرنے کی توفیق حاصل ہوئی تو پھر ہماری زندگی کے سارے گوشوں میں،خواہ ان کا تعلق اُمورِ دُنیا سے تھا یا اُمورِ آخرت سے___ ایک خوش گوار انقلاب آیا۔ انھوں نے فرمایا:
اے بادشاہ! ہماری قوم کی یہ حالت تھی کہ ہم سب جاہل تھے، بتوں کی پرستش کرتے، مردار کھاتے، بُرے کاموں کے مرتکب ہوتے، رشتے ناتے توڑ دیتے، پڑوسیوں سے بُرا سلوک کرتے تھے۔ ہم میں سے طاقت ور، کمزور کو کھا جاتے تھے۔ ہماری اس بُری حالت کا یہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب ہمیں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ جس کے نسب، سچائی، امانت اور پاک دامنی کو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس نے ہمیں تعلیم دی کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانیں اور اُسی کی عبادت کریں۔ ہم اور ہمارے بزرگوں نے اس کو چھوڑ کر پتھروں اور بتوں کی جو پرستش شروع کر رکھی تھی اس کو ترک کردیں۔ اس رسولؐ نے ہمیں صداقت، امانت، صلہ رحمی اور پڑوسیوں سے حُسنِ سلوک، حرام باتوں اور قتل و خوں ریزی سے باز رہنے کا حکم دیا اور ہمیں بُری باتیں، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع فرمایا۔ اُس نے ہمیں حکم دیا کہ خدائے واحد کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں۔ اس نے ہمیں نماز، زکوٰۃ اور روزوں کا حکم دیا۔ ہم نے اس شخص کی تصدیق کی اور اس پر ایمان لے آئے۔(سیرت ابن ہشام، ص ۳۵۸)
یہ تقریر اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا تعلق درست نہ ہو تو اس سے نہ صرف اس کی روحانی زندگی میں، بلکہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، لیکن جب اس تعلق کو درست کردیا جائے تو اس سے پوری زندگی تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس سے نہ صرف فکر میں سلجھائو، طبیعت میں سلامتی اور روح میں لطافت پیدا ہوتی ہے، بلکہ معاشرت میں حُسنِ سلوک، تمدن میں توازن اور معیشت میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پارس ہے جس کی تاثیر اگر کوئی ٹھیک ٹھیک قبول کرے تو کندن بن جائے۔ اور یہی وہ طرزِ فکر ہے جو دعوت کے طریق کار کو مؤثر اور باثمر بناسکتا ہے۔ (ادارہ)
ہم چاہتے ہیں کہ اپنا مقصد کھول کر پیش کر دیں، اپنا طریق کار پوری طرح واضح کردیں اور لوگوں کے سامنے اس طرح اپنی دعوت رکھیں کہ نہ اس میں کوئی پیچیدگی ہو اور نہ ابہام۔ وہ سورج سے زیادہ روشن، سحر سے زیادہ تابناک اور نصف النہار سے زیادہ درخشاں ہو۔
ہماری دعوت نہایت صاف ستھری اور پاکیزہ دعوت ہے۔ وہ شخصی آرزوئوں سے پاک، مادی فائدوں سے بے نیاز اور اغراض و خواہشات کی غلامی سے بہت بلند ہے۔ وہ شروع سے ہی ان خطوط پر چل رہی ہے، جو حق تعالیٰ نے داعیانِ حق کے لیے متعین کر دیئے ہیں:
قُلْ ہٰذِہٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللہِ۰ۣؔ عَلٰي بَصِيْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ۰ۭ وَسُبْحٰنَ اللہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۱۰۸(یوسف ۱۲:۱۰۸) تم ان سے صاف کہہ دو کہ ’’میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں‘‘۔
چنانچہ لوگوں سے ہم کچھ نہیں مانگتے۔ نہ ہم دولت مانگتے ہیں، نہ کوئی وجاہت یا قدرومنزلت چاہتے ہیں۔ ہمیں نہ کسی صلے کی تمنا ہے، اور نہ کسی شکروسپاس کی خواہش۔ ہمارا اجر تو وہی مالک دے گا جس خالق نے ہمیں پیدا کیا ہے۔
یہی جذبہ ہے جس نے ہمیں اس راہ کا دیوانہ بنادیا ہے۔ یہ جذبہ ہمارے رگ و پے میں سرایت کرگیا ہے۔ دل و دماغ پر چھا گیا ہے اور جذبات و احساسات پر حاوی ہوگیا ہے۔ چنانچہ اب آنکھیں اُمڈی پڑتی ہیں، اور بستر کانٹوں کی طرح چبھتے ہیں۔
آخر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ یہ آنکھیں قوم کو ہلاکت کے نرغے میں تڑپتے اور جاتے دیکھیں اور پھر ہم ذلّت کے آگے ہتھیار ڈال دیں، رُسوائی پر راضی ہوجائیں اور یاس و نااُمیدی کے آگے سرجھکا دیں؟ ہم اپنے لیے جتنا کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ اوروں کے لیے کرتے ہیں۔ میرے دوستو! یقین رکھو، ہم آپ ہی کے ہیں کسی اور کے نہیں، اور ہم کبھی آپ کے بدخواہ نہیں ہوسکتے۔
بَلِ اللہُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ ہَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۱۷ (الحجرات ۴۹:۱۷) بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے، کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت دی، اگر تم واقعی اپنے (دعوائے ایمان میں) سچّے ہو۔
ہماری کتنی تمنا ہوتی ہے، اگر کہیں تمنائیں کارگر ہوتیں، کہ یہ دل سینوں سے باہر آجاتے اور ہمارے بھائی دیکھ لیتے کہ اُن کے لیے ہمارے دلوں میں خیرخواہی، اخلاص، دردمندی اور جاں سوزی کے سوا کیا اور بھی کچھ ہے؟
اور کیا ایسا نہیں ہے کہ اپنی اس زبوں حالی پر ہمارے دلوں پر ایک داغِ غم کے سوا کچھ بھی نہیں؟ مگر ہمارے لیے یہی کیا کم ہے کہ اللہ ان باتوں سے واقف ہے، مدد اسی کے ہاتھوں میں ہے اور توفیق دینے والا پروردگار وہی ہے۔ دلوں کی زبان اور ذہنوں کی کنجی اسی کے ہاتھ میں ہے، جسے وہ ہدایت دے، اسے کوئی خطرہ نہیں، اور جسے وہ گمراہ رکھے، اس کا کوئی راہ نما نہیں۔ وہ ہمارے لیے کافی ہے، وہ بہترین سرپرست ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔
اب اگر اس کی آنکھیں کھل گئیں اور طمع کا یہ روگ دُور ہوگیا تو وہ محسوس کرے گا کہ اللہ کے یہاں جوکچھ ہے وہی بہتر اور لازوال ہے۔ پھر راہِ خدا میںخرچ کرنے اور ثوابِ الٰہی سے سرفراز ہونے کے لیے اللہ کی راہ پر چلنے والوں کے قافلے سے آملے گا۔ بلاشبہ اس دُنیا کی لذت چندروزہ ہے اور آخرت کی نعمت لازوال وبے پایاں ہے۔ لیکن اگر اس کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور حرص و آز کی آگ اسی طرح دہکتی رہی تو خدا بھی اس سے بے نیاز ہے۔ ظاہر ہے اسے ایسوں کی کیا ضرورت ہے جو جان و مال، دُنیا و آخرت اور موت و زندگی میں سب سے پہلا حق خدا کا نہیں سمجھتے۔ غالباً اسی طرح کے لوگ تھے، جنھوں نے دستِ رسالتؐ پر بھی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ وہ بس اسی شرط پر راضی تھے کہ آپؐ کے بعد اقتدار کے وارث ہوں۔ اس موقعے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا تھا:’’زمین اللہ کی ہے ، وہ جسے چاہے گا اس کا وارث بنائے گا اور کامیابی متقین ہی کے لیے ہے‘‘۔
اِنَّكَ لَا تَہْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ۰ۚ (القصص ۲۸:۵۶) اے نبیؐ، تم جسے چاہو، اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
ہماری محبتیں برابر اس کے ساتھ ہوں گی اور ہم کبھی اس سے مایوس نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے تو ہمارا وہی انداز ہوگا جو اس سے پہلے محسن عالمؐ کا رہا ہے کہ آپؐ اپنی قوم کے لیے دُعا فرماتے: اَللّٰھُمَّ اَغْفِرْلِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ’’خدایا! میری قوم کو بخش دے، کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں‘‘۔
آج لوگوں کی انھی چار صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ مومن اپنی غایت کو پہچانے اور اپنی سمت ِسفر طے کرے، پھر اسی سمت کی طرف بڑھنے اور منزل تک پہنچنے کے لیے کوشاں رہے۔ رہی یہ غفلت کی بدمستی اور خیالات کی آوارگی، یہ دلوں کی بےحسی، اور یہ آنکھیں موند کے ہر آواز پہ دوڑنا اور ہر پکارنے والے کے ساتھ ہوجانا، تو یہ تو مومنین کا شیوہ نہیں۔
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۲۴(التوبۃ ۹:۲۴)اے نبیؐ، کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی، اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب، اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیزتر ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی راہ نمائی نہیں کیا کرتا۔
یاد رہے! یہ دعوت قربانی و سرفروشی کی دعوت ہے، اسے تردّد اور تذبذب سے بے انتہا نفرت ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی اس کے لیے یکسو ہوتا ہے ، تو وہ دعوت کا ہوگا اور دعوت اس کی ہوگی۔ لیکن اگر طبیعت اس کے لیے آمادہ نہیں، تو وہ اللہ کی راہ پر چلنے والوں کے ثواب سے محروم ہوگا، اور اسے نکمّوں کے ساتھ ہی بیٹھ رہنا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی دعوت کے لیے کوئی اور قوم برپا کرے گا، جو مومنین کے لیے ریشم کی طرح نرم اور کفّار کے لیے فولاد ہوگی۔ وہ راہِ خدا میں جہاد کرے گی اور ملامت گروں کی ملامت سے بے پروا ہوگی۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے اسے نوازتا ہے: اَذِلَّۃٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۰ۡيُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاۗىِٕمٍ۰ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۰ۭ (المائدہ۵:۵۴) ’’جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے۔ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے‘‘۔
ہم لوگوں کو ایک ’عقیدے‘ کی دعوت دیتے ہیں۔ ایک ایسے عقیدے کی، جو بالکل واضح، متعین اور سب کا دل پسند ہے۔ جو سب کا جانا پہچانا عقیدہ ہے۔ جو سب کی عقیدتوں کا مرکز اور محبتوں کا محور ہے۔ جس کی برتری و بہتری کے سب قائل ہیں۔ جس پر سب کا یقین ہے کہ نجات و کامرانی اور خوش بختی کی کلید یہی ہے، جس کی موزونیت تجربے سے ثابت ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ وہ ہر دور کے لیے سازگار ہے،خواہ کوئی بھی دور ہو۔ انسانیت کی اصلاح اس کے بغیر ناممکن ہے۔
ہم اہلِ مشرق کے اندر ایک عجیب نفسیاتی کمزوری ہے، جس کا احساس ہم سبھی کو ہے۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ جب اس فکر کے سلسلے میں ہم لب کشا ہوتے ہیں، تو نہ پوچھو ہمارا زورِ کلام اور جوشِ بیان ایسا لگتا ہے گویا ہم جینے سے بے زار اور مرمٹنے کے لیے بے قرار ہیں۔ نہ خطرات کا کوئی ڈر ہے، نہ آزمائشوں کی کوئی پروا۔ مال کی ضرورت ہو تو مال لٹائیں، خون کی ضرورت ہو تو خون بہائیں اور راہ میں کوئی پہاڑ ہو تو وہ پہاڑ بھی پاش پاش کرڈالیں۔ یہ کہ اب تو ہمیں نیند نہ آئے گی، نہ چین ملے گا، جب تک اسے غالب نہ کرلیں، یا خود اس کی راہ میں کام نہ آجائیں۔
پھر جب گفتگو کا جوش ٹھنڈا ہوتا ہے تو ہر ایک کا ایمان کسی سردخانے کی زینت بن جاتا ہے۔ کسی کو اپنے فکر کا ذرا بھی خیال نہیں رہتا، نہ اس کے لیے کوئی اُمنگ ہوتی ہے، نہ کوئی جذبہ اور حوصلہ اُمڈتا ہے، بلکہ کبھی تو اس غفلت و نسیان کا ایسا غلبہ ہوتا ہے کہ آدمی یکسر متضاد روش اختیار کربیٹھتا ہے، چاہے اسے احساس ہو یا نہ ہو۔ کیا تم سر نہ پیٹ لو گے اگر ایک سمجھ دار، ذی شعور اور تعلیم یافتہ شخص کو دیکھو کہ وہ دہریوں کی مجلس میں تو دہریہ نظر آتا ہے اور عابدوں کے حلقے میں عابد!
اسی کمزور کردار یا اسی نسیان یا اسی غفلت یا اسی نیند نے، یا اسے جو چاہیں ، نام دے لیجیے، بہرکیف اسی کیفیت نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ پُرسوز ایمان کی فکر کو ہم زندہ کریں اور یہی ہے وہ ہر دل عزیز فکر، جو ان محبوب روحوں میں رچ بس گئی ہے۔
لہٰذا، کارکنانِ دعوت کا فرض ہے کہ وہ سارے ہی وسائل حاصل کرلیں اور ان سے پوری طرح فائدہ اُٹھائیں، تاکہ ان کی کوششیں زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز ہوسکیں۔میں پھر کہوں گا: دُنیا اس وقت دعوتوں اور تحریکوں کی وبا میں مبتلا ہے، اور یہ دعوتیں سیاسی ،قومی، وطنی، اقتصادی، عسکری اور امن پسند بھی ہیں۔ آپ پوچھیں گے اس پورے ملغوبے کے سلسلے میں اخوان کا کیا موقف ہے؟
اس کے لیے آپ کو دو باتیں سمجھنی ہوں گی: ایک تو ہماری دعوت کی خالص ایجابی شکل، دوسرے ان تحریکات کے سلسلے میں اخوان کا موقف۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ میں نے طے کیا ہے کہ میری تحریر و گفتگو میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ میں کسی تکلف سے کام نہیں لوں گا، اور پوری سادگی سے باتیں کہوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے اصل رنگ میں دیکھیں۔ میری باتیں دلوں میں اس طرح پہنچیں کہ وہ تزئین و آرائش اور ملمع کاری سے پاک ہوں۔
اسلام تو ایک ایسا ہمہ گیر نظام ہے، جو زندگی کے سارے پہلوئوں پر حاوی ہے۔ وہ تو زندگی کے ایک ایک معاملے میں راہ نمائی کرتا اور اس کے لیے انتہائی گہرا، مربوط اور محکم نظام پیش کرتا ہے۔ وہ مسائل کے سامنے بے دست و پا نہیں ہوجاتا اور نہ ایسے اصول دینے سے عاجز رہتا ہے، جواصلاح کے لیے ناگزیر ہوں۔ کس قدر غلط فہمی میں ہیں وہ لوگ جن کا گمان ہے کہ اسلام تو بس چند عبادتوں یا روحانیت کی کچھ شکلوں کا نام ہے۔ اور اس طرح وہ ناقص فہم کے تنگ دائروں میں محصور ہیں۔ اسلام تو ایک ایسا وسیع اور ہمہ گیر نظام ہے، جو دُنیا و آخرت کے تمام مسائل سے بحث کرتا ہے۔
ہمہ گیری کا یہ تصور خود اپنی اختراع نہیں، بلکہ کتاب اللہ اور اسوئہ سلف سے ہم نے یہی سمجھا ہے۔ اب اگر قاری کو محض لفظ ’اسلامی‘ سے تسکین نہ ہو تو وہ پہلے اپنے نفس کو خواہشات و اغراض سے پاک کرے۔پھر قرآن کھول کر دیکھے۔ اس کو اس میں اخوان کی دعوت نظر آجائے گی۔
ہاں، ہماری دعوت’ اسلامی‘ ہے اور ان سارے مفاہیم کے ساتھ اسلامی ہے ، جن کی اس لفظ میں گنجائش ہے۔ اب آپ اس کے اندر جتنی چاہیں، معنی آفرینی کرلیں۔ البتہ اس معنی آفرینی میں آپ کتاب اللہ اور اسوئہ سلف کے پابند ہوںگے، کیوں کہ کتاب اللہ ہی اسلام کی اساس ہے۔ سنت ِ رسولؐ اس کی شارح و ترجمان ہے اور سلف صالحین ہی اس کی فوج و سپاہ اور اس کی تعلیمات کے علَم بردار تھے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ وہی ان تعلیمات کا عملی نمونہ اور ان احکام کی سچی تصویر تھے۔
خاتم المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم کی تورات میں نازل شدہ صفات کو بیان فرماتے ہوئے ا للہ ربّ العزت کا ارشاد ہے:تَرٰىہُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا۰ۡ (الفتح ۴۸:۲۹)’’تم انھیں دیکھو گے رکوع و سجدہ کرتے ہوئے، اللہ کا فضل اور اس کی رضا طلب کرتے ہوئے‘‘۔
اِس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تحریر کیا :’’ یہ اُن[ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے متبعین] کی توجہ الی اللہ،ان کی شب بیداری اور ان کی تہجد گزاری کی تصویر ہے۔ مطلب یہ کہ جو بھی ان کو دیکھے گا،اس پر پہلی ہی نظر میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ دنیا کے عام انسانوں سے بالکل مختلف ایسے قدسی صفت لوگوں کی ایک جماعت ہے جن کی زندگی کا اصل نصب العین اللہ کی رضا طلبی ہے۔ چنانچہ کبھی وہ ان کو رکوع میں پائے گا اورکبھی سجود میں۔اس آیت کے اس سے ماقبل حصہ میں ان کا وہ پہلو (رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ : آپس میں ر حم دل ہیں) سامنے آیا ہے جس کا تعلق خَلق سے ہے۔اس ٹکڑے میں اُن کی زندگی کے اُس پہلو کی طرف اشارہ ہے جس کا تعلق خالق سے ہے‘‘۔ (تدبّرِ قرآن، ج ۷، ص ۴۷۲)
اُمّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ اِلتْمَسَ رِضَا اللّٰہِ بسَخَطِ النَّاسِ کَفَاہُ اللّٰہُ مَؤْنَۃَ النَّاسِ وَ مَنْ الْتَمِسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ وَکَلَّہُ اللّٰہُ اِلَی النَّاسِ ( جامع ترمذی،ابواب الزہد ،باب عاقبۃ من التمس رضی النّاس بسخط اللہ وکّلہ اللہ الی النّاس)’’جو شخص اللہ کی رضا کی طلب میں لوگوں کی ناخوشی کی پرواہ نہیں کرے گا، اللہ اسے لوگوں کی فکر سے مستغنی [بے نیاز] کردے گا ،اور جو شخص انسانوں کی رضا حاصل کرنے میں اللہ کی ناخوشی کی پروا نہیں کرے گا تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کردے گا‘‘۔
اس حدیث کی تشریح میں شارحِ حدیث مولانا محمد فاروق خاں تحریر کرتے ہیں:’’آپؐ کے [اس] ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کو اصل فکر اس کی ہونی چاہیے کہ اسے دنیا وآخرت میں اللہ کی خوشنودی و رضا حاصل ہو۔ اُسے ایسے کام میںدل کھول کر حصہ لینا چاہیے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔اگر اس سے لوگ نا خوش ہو تے ہیں تو ہُو اکریں۔ ایسے موقع پر، جب کہ لوگوں کی خوشی اللہ کی خوشی سے ٹکرارہی ہو، آدمی کو اللہ کی خوشی کا لحاظ رکھنا چاہیے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں سے مستغنی کرد ے گا اوراس کی ضرورتوں اور حاجتوں کی خود کفالت کرے گا ، اس کی ضروریات اس طرح پوری کرے گا کہ وہ پہلے سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔لیکن اگر اسے اللہ کی ر ضا اور خوش نودی کی فکر نہیں ہے،بلکہ وہ بندوں کو راضی کرنے میں اپنی کامیابی سمجھ رہا ہے ، توایسے شخص کا ذمہ دار اللہ نہیں ہے۔وہ اس کو لوگوں ہی کے حوالے کرد یتا ہے اور وہ ان کی غلامی سے کبھی نجا ت نہیں پاسکتا۔اللہ کی سرپرستی سے محروم ہوکر وہ ایسے لوگوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اسی کی طرح کمزور و بے بس ہوتے ہیں‘‘ (کلام نبوت، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ۲۰۱۴ء،ج۱،ص ۲۲۴-۲۲۵)
قرآن کریم میں یہ امر بالکل واضح فرما دیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے راضی کیا جائے۔ ارشاد ِ الٰہی ہے: وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْہُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ۶۲ (التوبۃ ۹:۶۲) ’’اور اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ مستحق ہیں کہ وہ ان کو راضی کریں ،اگر وہ صحیح معنوں میں اہلِ ایمان ہیں‘‘ ۔ بہت سے لوگ اس تجربے ومشا ہدے سے گزرتے رہتے ہیں کہ سچ بات کہنے یا علانیہ حق کو حق کہنے پر بعض اوقات غیر تو ایک طرف اپنے قریبی بھی ناراض ہوجا تے ہیں،لیکن رضائے الٰہی کے طلب گار کسی کی ناراضی کی پرواہ کیے بغیر حق کی راہ پر چلتے رہتے ہیں اور حق کو حق کہنے کا فریضہ ادا کرتے رہتے ہیں۔ فکرِ اسلامی کے علم بردار شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا یہ شعر اسی حقیقت کا ترجمان ہے:
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رضائے الٰہی کی طلب میں حق وصداقت کی راہ اختیار کر تے ہوئے لوگوں کی ناراضی کی پروا نہ کرنے والوں کے بارے میں جب کچھ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی یہ روش بہت سے قریبی لوگوں ( جن کی بے جا خواہش یا ناجائز فرمائش پوری نہیں ہوپاتی) کی ناراضی کا باعث بن جائے گی ،تو وہ انھیں اس طور پر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’آپ کِس چکّر میں پڑگئے ہیں، اپنے اس طرز عمل سے اپنوں کی ناراضی مول لے رہے ہیں ،اور اپنے مخالفین کی تعداد بڑھا رہے ہیں ۔ اپنے قریبی لوگوں کی بات مان لیجیے اور انھیں راضی رکھنے کی کوشش کیجیے‘‘۔ یہ باتیں سن کر اللہ رب العزت کی رضا کے طلب گار زبانِ قال یا زبانِ حال سے نصیحت کرنے والوں سے یہ کہتے ہیں :اُن کو خفا ہونے دو،وہ جو کچھ کہیں سن لو،مجھے حق و صداقت کی راہ پر چلنے دو، اسی میں مجھے سکون محسوس ہوتا ہے اور میں اِسی میں اپنی عافیت سمجھتا ہوں ،اس لیے کہ میرا رب مجھ سے راضی ہوجائے،بس یہی فکر مجھے دامن گیر رہتی ہے، یہی میری دلی مراد ہے، اور اسی کے لیے میں بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہوں۔
ارشادِ الٰہی ہے:وَكَفٰى بِاللہِ وَلِيًّا۰ۤۡ وَّكَفٰى بِاللہِ نَصِيْرًا۴۵( النساء۴:۴۵) ’’ اللہ ہی تمھارا ولی ، حامی و مددگار ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ وَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۰ۭ وَكَفٰي بِاللہِ وَكِيْلًا۳ (الاحزاب ۳۳:۳) ’’اور اللہ پر بھروسا کرو ،وہ تمھارا کارساز ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۰ۭ ہُوَمَوْلٰىكُمْ۰ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ۷۸ۧ (الحج۲۲:۷۸)’’اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرلو، وہی تمھارا حقیقی مولیٰ و سرپرست ہے،کیا ہی خوب مولیٰ ہے وہ اور کیا ہی خوب مدد گار ہے وہ‘‘۔
منقولہ بالا سورۂ احزاب کی آیت ۳ کی تشریح میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ جو فرض تم پر عائد کیا گیا ہے اسے اللہ کے بھروسے پر انجام دو اور دنیا بھر بھی اگر مخالف ہو تو اس کی پروا نہ کرو۔جب آدمی کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ فلاں حکم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے، تو پھر اسے بالکل مطمئن ہوجا نا چاہیے کہ ساری خیر اور مصلحت اسی حکم کی تعمیل میں ہے۔اس کے بعد حکمت و مصلحت دیکھنا اس شخص کا اپنا کام نہیں ہے،بلکہ اسے اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیلِ ارشاد کرنی چاہیے۔اللہ اس کے لیے کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے۔وہ رہنمائی کے لیے کافی ہے اور مدد کے لیے بھی، اور وہی اس امر کا ضامن بھی ہے کہ اس کی رہنما ئی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائجِ بد سے دوچار نہ ہو‘‘۔ (تفہیم القرآن،ج۴، ص۶۹،حاشیہ نمبر ۴)
مفسرین کی تشریح کے مطابق مذکورہ آیت کے خاص مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپؐ کے توسط سے پوری امت ِ مسلمہ اس آیت کی مخاطب ہے، او راُس کا پیغام بالکل عام ہے، اور وہ یہ کہ اللہ قادرِ مطلق جس کا سرپرست، محافظ و حامی ہو، پروردگارِ عالم جس کی حفاظت و نصرت کا وعدہ فرما ئے اور مختارِکُل جس کو اپنے کارساز و مشکل کشا ہونے کا یقین دلائے، تو اسے طمانیت و سکینت کی بیش بہا نعمت میسّر آنا لازمی امر ہے، پھر اسے کس بات کا رنج و غم ہو گا،یا اسے کس چیز کی فکر ہوسکتی ہے؟ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اس آیت سے قبل کی آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ قرآن کی پیروی کی جائے جو اللہ علیم و خبیر کا نازل کردہ ہے،یعنی روز مرّہ زندگی ہدایاتِ الٰہی کے مطابق بسر کی جائے اور پھر توکل علی اللہ کیا جائے، تو اللہ تمھاری مد د فرمائے گا، اپنی کارسازی کے کرشمے دکھائے گا اور تمھارے مشکل سے مشکل مسائل حل فرما ئے گا اور تمھیں پریشانیوں سے نجات دے گا۔
سورۂ آل عمران کی آیت ۷۳ا (وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۱۷۳ ) کی تفسیر کے ضمن میں مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ قیمتی نکتہ اجاگر کیا ہے : ’’بہترین ہستی جس کو بندہ اپنا معاملہ سپرد کر سکتا ہے،وہ اللہ ہی کی ہستی ہے،تو جس نے اللہ کو اپنا وکیل و معتمدبنایا اب اُس کے لیے کسی خوف و ہراس کی گنجائش کہاں باقی رہی:
کیا غم ہے، اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے، اگر ایک خدا میرے لیے ہے
( تدبّر ِ قرآن، ج۲،ص ۲۱۷)
ارشاد ربّانی ہے: فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ( المائدۃ۵:۴۴)’’پس لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو‘‘۔ فَاللہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۱۳ (التوبۃ ۹:۱۳)’’پس اللہ زیادہ اس کا مستحق ہے کہ تم لوگ اس سے ڈرو، اگر تم (سچے )مومن ہو‘‘۔ یہاں یہ واضح رہے کہ یہ اور اِس نوع کی دیگر آیات خاص طور سے اِس پس منظر میں آئی ہیں جس میں لوگ کسی شخص یا لوگوں کو خوش کرنے یا ان کی خفگی سے بچنے کی خاطر ایسے کام کرتے تھے جو اللہ کی ناراضی کاباعث بنتے تھے۔
اسی ضمن میں یہ اضافہ بھی مفید معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ آل عمران کی آیت۱۷۵( جس میں اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ شیطان دین کی خاطر جان و مال کی قربانی کے موقع پر اپنے انسانی دوستو ں یا ہم نوائوں سے ڈراتا ہے، پس تم لوگ ان سے نہ ڈرو،مجھ سے ڈرو ) کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے خوفِ الٰہی سے متعلق یہ قیمتی نکتہ واشگاف کیا ہے کہ ’’ خوفِ خدا رونے اور آنسو پونچھنے کا نام نہیں،بلکہ اللہ سے ڈرنے والا وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس پر اللہ کی طرف سے عذاب کا خطرہ ہو‘‘ (معارف القرآن،ج۲، ص۲۴۴ )
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ درحقیقت اللہ سے ڈرنا اسی وقت ہوگا جب اس کے ثمرہ میں اللہ کی نافرمانی سے بچا جائے یا گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے کہ معصیت اور گناہ کے کام اللہ کی ناراضی کا موجب بنتے ہیں، تو پھر جو بندئہ مومن اللہ کی گرفت یا اس کے عذاب سے ڈرے گا تو وہ اس کے اثر سے نیکی کمانے میں تگ ودو کر ے گا اور بُرے اعمال یا گناہ کے کاموں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اس لیے اللہ کی رضا (جو اس کا مقصودِ اصلی ہے) کی طلب کے لیے اللہ کی اطاعت میں مصروف رہنا اور گناہ یعنی اللہ کی ہرقسم کی نافرمانی سے دُور رہنا ضروری ہے ۔ یہ نکتہ کہ ایک مومن کی زندگی میں خوفِ الٰہی کا اصل نتیجہ اللہ تعا لیٰ کی اطاعت میں سبقت لے جانااور گناہ سے پرہیز کرنا ہے، اُن آیات سے واضح ہوتا ہے جن میں مومنین و صالحین کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ روز مرّہ زندگی میں احکامِ الٰہی پر کاربند رہتے ہیں اور روزِ جزا اللہ کے حضور حاضری اور محاسبۂ اعمال سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (التوبۃ ۹:۱۸، الرعد ۱۳:۲۰-۲۱، المؤمنون ۲۳: ۵۷-۶۰، النّٰزعٰت۷۹: ۴۰-۴۱، الرحمٰن۵۵:۴۶ )
اُن آیات سے اس نکتہ کی مزید وضاحت ہو تی ہے جن میں صالحین یا نیکو کاروں کو جنت نصیب ہونے اور اس میں نہایت سکون وفرحت بخش سکونت میسر آنے کی بشار ت دی گئی ہے، اُن کی دُنیوی زندگی کے احوال میں خاص طور سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نیک کام کرنے کی ہمہ تن کوشش میں حد درجہ محتاط زندگی گزارتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اُن سے اللہ کی نافرمانی نہ سر زد ہوجائے اور اِس فکر و کوشش میںلگے رہتے تھے کہ اُن سے جان بوجھ کر گناہ کا کوئی کام نہ صادر ہونے پا ئے۔( قٓ۵۰:۳۱-۳۴،الطّور۵۲:۵۲۔۲۸؛ الدھر۷۶:۶-۱۱)
مختصراً یہ کہ قرآن و حدیث کا بہت ہی واضح پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مومن کی زندگی کا مقصودِ اصلی ہے۔یہ مقصود اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی دل ودماغ میں پوری طرح نقش ہو جائے،بعث بعد الموت پر ایمان کو تازہ رکھا جائے،اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور محاسبہ کی گھڑی کو ہردم یاد رکھا جائے اور ربِّ ذی الجلال کی خشیت سے دل کو معمور رکھا جائے۔ اس کی نافرمانی اور گنا ہ کے کاموں سے پرہیز کیا جائے اور ربِّ کریم کے محبوب بندوں میں شامل ہونے کی خاطر ہر شعبۂ حیات میں اس کے رسول محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کیا جائے۔ سچ یہ ہے کہ یہی طرزِ عمل اختیار کرنے پر ہم سب کو اللہ ربّ العالمین کی خوشنودی نصیب ہو گی، اور اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے مسائل حل ہوں گے اورہماری دُنیا و آخرت کی مشکلات دُور ہوں گی۔ ہم خود بھی یاد رکھیں اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے رہیں کہ عظیم ترین کتابِ ہدایت نے کئی مقام پر انسان کو اس جانب متوجہ کیا ہے اور ہرانسان کے ذہن میں یہ نکتہ جاگزیں کرنا چاہاہے کہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کو راضی کیا جائے ،اور وہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اُن لوگوں کا طرزِ عمل نہ اختیار کیا جا ئے جو اللہ سے زیادہ کسی انسان سے یا لوگوں سے ڈرتے ہیں۔واقعہ یہ کہ اگر ہر بات اور ہر کام کے وقت ان نکات کو ہم اچھی طرح یاد رکھیں تو ہم قرآن و سنت کے مطابق شب و روز بسر کرنے والے بن سکیں گے، ربِّ کریم کے نیک و فرماں بردار بندوں میں شامل ہوسکیں گے، نیکی کی طرف سبقت کر نا اور برائی یا گناہ سے بچتے رہنا ہمارا معمول بن سکے گا۔ اللہ کرے ہمیں اس کی توفیق نصیب ہو اور اس کے صلہ میں ہماری دنیوی زندگی خوش گوار ہو جائے اور آخرت میں ہم سب حقیقی فوز وفلاح سے ہم کنار ہوں۔
اسلام کا تیسرا بنیادی ستون زکوٰۃ ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ایمان کے بعد صرف دو اعمالِ صالحہ کا تذکرہ آیا ہے: ایک نماز، دوسرا زکوٰۃ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے درمیان گہرا ربط ہے اور ایک مسلمان کے اسلام کی تکمیل ان دونوں سے ہوتی ہے۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں اقامتِ صلوٰۃ کے لیے جتنی محنت ہو رہی ہے، ایتائے زکوٰۃ، کی طرف اتنی توجہ نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ زکوٰۃ کے اجتماعی نظام اور اس کے حقیقی مقصد کے بارے میں پایا جانے والا عام تصور ہے:
۱- لوگ زکوٰۃ کو ٹھیک سے نہیں سمجھتے: زکوٰۃ کے معاملے میں عام لوگ اکثر الجھن اور عدم واقفیت کا شکار ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے، یا تو وہ زکوٰۃ غلط طریقے سے ادا کرتے ہیں، یا اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وہ اس فرض کو سرے سے ادا ہی نہیں کرتے۔
۲-زکٰوۃ صرف صدقہ نہیں، ایک اجتماعی نظام ہے: اکثر لوگ زکوٰۃ کو عام صدقے یا خیرات کی طرح سمجھتے ہیں کہ بس کسی غریب کو کچھ پیسے دے دیے اور فرض پورا ہو گیا۔ درحقیقت زکوٰۃ صرف ایک خیرات نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل اجتماعی نظام ہے۔ اس کا مقصد صرف وقتی مدد کرنا نہیں، بلکہ دینے والے کے ایمان کو مضبوط کرنا اور لینے والے کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لانا ہے۔
۳- غلط تقسیم کا نتیجہ: قرآن نے واضح طور پر بتایا ہے کہ زکوٰۃ کے اصل حقدار کون ہیں (اس کی آٹھ قسمیں ہیں)۔ لیکن اکثر لوگ تحقیق نہیں کرتے اور کسی بھی ضرورت مند کو تھوڑا سا اناج، چند جوڑے کپڑے یا معمولی رقم دے کر سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غریب آدمی وہ تھوڑی سی چیز استعمال تو کر لیتا ہے، لیکن اس کی غربت ختم نہیں ہوتی۔ وہ غریب کا غریب ہی رہتا ہے کیونکہ اسے اتنی مدد نہیں ملتی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔
خلاصہ یہ کہ زکوٰۃ کا اصل مقصد غربت کو جڑ سے ختم کرنا ہے، نہ کہ صرف وقتی طور پر بھوک مٹانا۔ اگر اسے صحیح طریقے سے ایک نظام کے تحت جمع اور تقسیم کیا جائے تو معاشرے سے غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور ’’زکوٰۃ لینے والے بھی ایک دن زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں‘‘۔
مولانا صدر الدین اصلاحی ؒ فرماتے ہیں کہ کتاب و سنت کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کے تین مقاصد ہیں:
۱-تزکیۂ نفس:زکوٰۃ کا حقیقی اور بنیادی مقصد، جس کا تعلق بالکلیہ شخص کی اپنی ذات سے ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے کا دل دنیا کی حرص سے پاک ہو رہے، اور پاک ہوکر نیکی اور تقویٰ کے کاموں کے لیے تیار ہو جائے۔ قرآن مجید میں ہے:
وَسَيُجَنَّبُہَا الْاَتْقَى۱۷ۙ الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَہٗ يَتَزَكّٰى۱۸ۚ (اللیل۹۲:۱۷-۱۸)اور اسے جہنم سے دُور رکھا جائے گا جو اللہ سے بہت ڈرنے والا ہے جو اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے (محض) پاک ہونے کے لیے۔
ایک اور جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا (التوبۃ۹: ۱۰۳)ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لو، جس کے ذریعے انھیں پاک کرو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے۔
۲-غریبوں کی کفالت:اب زکوٰۃ کے ثانوی مقاصد کو لیجیے۔ ان میں سے ایک مقصد تو یہ ہے کہ ملت کے نادار افراد کی مدد کی جائے، اور ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: إِنَّ اللہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ (بخاری، حدیث: ۷۳۷۲) ’’بے شک اللہ نے لوگوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور اُن کے حاجت مندوں کو دے دی جائے گی‘‘۔ (مسلم ، جلداوّل، کتاب الایمان، ص۱۹)
۳-دین کی نصرت:زکوٰۃ کے ثانوی مقاصد میں سے دوسرا مقصد دین کی حفاظت اور نصرت ہے۔ قرآن مجید یہ بتاتے ہوئے کہ زکوٰۃ کی رقم کن لوگوں پر اور کہاں کہاں خرچ کی جانی چاہیے؟ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۰ۭ (التوبۃ۹:۶۰)’’یہ صدقات تو صرف حاجت مندوں، مسکینوں، محکمۂ صدقات کے ملازموں، اور ان لوگوں کے لیے ہیں جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو، نیز گردنیں چھڑانے میں، قرض داروں کی مدد کرنے میں، اللہ کی راہ میں، اور مسافروں کی خبر گیری میں صرف ہونے کے لیے ہیں‘‘۔ (اسلام: ایک نظر میں، ص ۲۷-۲۸)
قرآن وسنت میں زکوٰۃ کا تصور انفرادی خیرات کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور ریاستی نظام کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی صفات میں فرمایا:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۰ۚ (البقرۃ۲: ۲۷۷) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے صالح اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہو گا۔
کلام اللہ کی صراحتیں بتاتی ہیں کہ کسی غیر مسلم کا مسلمان قرار پانا کلمۂ شہادت ادا کرنے کے بعد بھی دو باتوں پر موقوف ہے: ایک یہ کہ وہ نماز قائم کرے، دوسرے یہ کہ وہ زکوٰۃ ادا کرے۔
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۰ۭ (التوبۃ۹: ۱۱) سواگر یہ لوگ توبہ کر لیں، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو اب وہ تمھارے دینی بھائی ہوں گے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:’’ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کی نماز ہی نہیں ہوتی‘‘۔ (المعجم الکبیر طبرانی، ۱۰۰۹۵، مجمع الزوائد ۴۳۲۹)
اسی لیے جب حضرت ابو بکر صدیقؓ کے زمانۂ خلافت میں کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، تو آپؓ نے ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور فرمایا:وَ اللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ (مسلم، جلد اول، کتاب الایمان، ص ۲۰، بخاری، حدیث: ۱۳۹۹) ’’بخدا! میں ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا، جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرتے ہیں‘‘۔
علامہ یوسف القرضاویؒ لکھتے ہیں:’’حضرت ابوبکرؓ کا مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کرنا غالباً اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی حکومت و ریاست معاشرے کے کمزور افراد اور فقراء ومساکین کے حقوق انھیں دلانے کے لیے آمادۂ جنگ ہوئی‘‘۔ (علامہ یوسف القرضاوی، فقہ الزکوٰۃ، ص ۱۱۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے باقاعدہ ایک اجتماعی نظم قائم کیا، جس کے چند اہم شعبے یہ تھے:
۱- عمال الصدقات: زکوٰۃ وصول کرنے والے افسران، جن میں حضرت عمرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’حق و انصاف کے ساتھ زکوٰۃ کا وصول کرنے والا اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ وہ عامل اپنے گھر کو لوٹ جائے‘‘۔ (ابن ابی شیبہ، حدیث: ۱۰۸۱۸)
۲- کاتبین صدقات: حساب کتاب کے انچارج، جیسے حضرت زبیر بن عوامؓ۔
۳- خارصین: باغات میں پھلوں کی پیداوار کا تخمینہ لگانے والے، جیسے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک ماہر خراص تھے۔ غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ نے ایک مسلمان خاتون کے باغ کی پیداوار کا تخمینہ لگایا جو بالکل درست ثابت ہوا۔ (بخاری)
۴- عمال علی الحمی: مویشیوں کی چراگاہ سے محصول وصول کرنے والے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کا یہ واقعہ نظامِ زکوٰۃ کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبلؓ نے یمن سے زکوٰۃ کا ایک تہائی حصہ بھیجا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے تمھیں زکوٰۃ وصول کرنے نہیں بھیجا تھا، بلکہ اغنیاء سے لے کر وہیں کے فقراء میں تقسیم کرنے بھیجا تھا۔ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ وہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملا۔ تیسرے سال حضرت معاذؓ نے زکوٰۃ کا سارا مال بھیج دیا اور فرمایا: ’’یہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا ہی نہیں ہے‘‘۔
یہی صورت حال حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں پیدا ہوگئی کہ معاشرے میں تمام لوگ مال دار ہو گئے اور غربت و افلاس کا کوئی نام و نشان نہیں رہا۔ (ابو عبید: کتاب الاموال)
غریب اور ضرورت مند افراد کا خیال رکھنا مسلم معاشرے کی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ معاشی ترقی کی طرف عدم توجہ ہے۔ ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی لکھتے ہیں: ’’تعجب کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسی تحریک نہیں چلی، جس نے عام مسلمانوں کو للکارا ہو کہ محنت کرو، دولت پیدا کرو، کماؤ اور اپنی کمائی کا ایک حصہ بچا کر نفع آور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدنی اور دولت میں اضافہ کرنے کی کوشش کرو۔ پورے ملک کی سطح پر مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے، ان کی معاشی قوت میں اضافہ کرنے کے لیے کوئی تحریک نہیں چلی‘‘۔ (معاش، اسلام اور مسلمان، ص ۳۶)
ہمارے ملک میں زکوٰۃ کا اجتماعی نظم نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر ملت اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔ عموماً دینی مدارس کے سفیر اور مختلف اداروں کے ذمہ دار ماہِ رمضان میں اسے وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ غرباء کا ایک جم غفیر اہل ثروت کے مکانات پر آکر چند سو روپے، اناج یا کپڑے لے جاتا ہے۔ اس سے زکوٰۃ کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا، یعنی زکوٰۃ دینے والے کا تزکیۂ نفس، غربت کا خاتمہ اور مستحق کو خود کفیل بنانا، اور دین کی نصرت وحفاظت۔
جب اجتماعی نظام کی بات آتی ہے تو عموماً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا بیت المال قائم کرنے کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا ضروری نہیں ہے؟
زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے جس کے اصول تو سلف سے ملتے ہیں لیکن جدید مسائل کی تطبیق میں رہنمائی کم ملتی ہے۔ جیسا کہ مولانا حافظ سید عبدالکبیر عمری فرماتے ہیں:’’دین کے جو دیگر ارکان ہیں ان سے متعلق مسائل کے لیے علمائے سلف نے اصول وضوابط وضع کیے ہیں۔ مگر زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے کہ اس سلسلے میں علمائے سلف کے بیان کردہ اصول تو ملیں گے مگر تطبیق میں ان سے رہنمائی بہت کم مل سکے گی، کیوں کہ دورِ جدید کے مسائل کا تصور عہدِسلف میں نہیں تھا۔ لہٰذا عصرِ جدید کے مسائل کا اسلامی حل پیش کرنا اور ان کا شرعی حکم معلوم کرنے کی کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے‘‘۔ (ماہنامہ راہ اعتدال، زکوٰۃ نمبر، اکتوبر ۲۰۰۳ء، ص ۸)
غیر اسلامی ملک میں بیت المال کے قیام پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزادؒ لکھتے ہیں: ’’اگر کہا جائے کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت موجود نہیں، اس لیے مسلمان مجبور ہوگئے اور انفرادی طور پر خرچ کرنے لگے تو شرعاً و عقلاً یہ عذر مسموع نہیں ہو سکتا۔ اگر اسلامی حکومت کے فقدان سے جمعہ ترک نہیں کر دیا گیا، جس کا قیام امام و سلطان کی موجودگی پر موقوف تھا، تو زکوٰۃ کا نظام ترک کر دیا جائے؟ کس نے مسلمانوں کے ہاتھ اس بات سے باندھ دیے تھے کہ اپنے اسلامی معاملات کے لیے ایک امیر منتخب کر لیں یا ایک مرکزی بیت المال پر متفق ہوجائیں یا اپنی ویسی ہی انجمنیں بنالیں، جیسی انجمنیں بے شمار غیرضروری باتوں کے لیے بلکہ بعض حالتوں میں بدع و محدثات کے لیے انھوں نے جابجا بنائی ہیں؟‘‘ (حقیقۃ الزکوٰۃ، الہلال بک ایجنسی، لاہور، ص ۲۹)
مولانا ابوالکلام آزادؒ آگے لکھتے ہیں: ’’اُٹھو اور ہر ہر قصبہ اور محلہ میں کم سے کم پانچ آدمیوں کی ایک جماعت بنالو، جو زکوٰۃ کی تحصیل و تنظیم کرے اور اُسے پوری ذمہ داری اور باقاعدگی کے ساتھ صرف کرے‘‘۔ (ایضاً، ص ۱۱)
مفتی کفایت اللہ صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے: ’’زکوٰۃ و عشر فرائض مالیہ کا وجوب جن احکامِ شرعیہ اور مصالح بشریہ پر مبنی ہے، ان کا تقاضا یہ ہے کہ ادائے زکوٰۃ و عشر اور ان کی تقسیم میں تنظیم کا کامل لحاظ رکھا جائے اور ظاہر ہے کہ انفرادی تصرفات میں تنظیم مفقود ہوتی ہے۔ اس غلامی کے دور میں جو تفرق وتشتت کا دور ہے، امکانی صورت یہی نظر آتی ہے کہ اہل حل و عقد کی کوئی جماعت اس کام کو اپنے ہاتھ میں لے‘‘۔ (کفایت المفتی، ج ۴، ص ۲۷۹/ امین احسن اصلاحی، توضیحات، اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ، لاہور، ۱۹۶۹ء، ص ۱۴۱)
مولانا صدرالدین اصلاحیؒ لکھتے ہیں: ’’مسلم بستیاں جس طرح اپنی نمازوں کے لیے مسجد کا، جماعت کا اور امامت کا انتظام کرتی ہیں، اسی طرح اپنی زکوٰۃ کے لیے بھی بیت المال قائم کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ اجتماعی غلط کاری ہوگی‘‘۔ (اسلام: ایک نظر میں، ص ۹۲)
بعض علما اموالِ زکوٰۃ کو ظاہرہ (غلہ، مویشی) اور باطنہ (سونا، چاندی، تجارتی سامان) میں تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اموالِ باطنہ کی تقسیم مالک کی صوابدید پر چھوڑ دینی چاہیے، جیساکہ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے دور میں کیا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں امت تین براعظموں میں پھیل گئی تھی اور دور دراز علاقوں سے زکوٰۃ وصول کرنے کا انتظامی خرچ (مصارف) آمدنی سے زیادہ ہو سکتا تھا، اس لیے انھیں خود تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ بھی دراصل حکومت ہی کے ذریعے تقسیم کا ایک خاص انتظام تھا۔
ملک میں غربت کے خاتمے اور زکوٰۃ کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ بحال کرنے کے لیے ایک جامع اور منصوبہ بند تحریک کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل دس نکات پر عمل درآمد ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے:
۱- زکوٰۃ سے متعلق آ گاہی اور ماہر افراد کی شراکت:سب سے پہلے عوام میں زکوٰۃ کی اہمیت اور عہدِ نبوی و خلافت راشدہ کے دور میں اس کے اجتماعی نظام کے بارے میں آگاہی پیدا کرنی ہوگی۔ اس نظام کے انتظام کے لیے صرف دیندار افراد ہی نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے مرد و خواتین کو بھی شامل کرنا ہوگا، مثلاً:
’ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز‘ نے زکوٰۃ کے متعلق ایک سروے کیا جس میں یہ اہم باتیں سامنے آئیں:
زکوٰۃ دینے والوں کی ایک بڑی تعداد (تیس فی صد) کو زکوٰۃ اور اُس کے فوائد کے بارے میں یا تو علم نہیں ہے یا وہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ ۴۰ فی صد سے زیادہ جواب دینے والے اپنی زکوٰۃ کا صحیح حساب لگانے کے بارے میں جانتے ہی نہیں تھے۔ جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ۷۵ فی صد سے زیادہ لوگ اپنی زکوٰۃ انفرادی طور پر رشتہ داروں یا مقامی ضرورت مندوں کو دیتے ہیں، جب کہ صرف ۱۵ فی صد ہی اسے منظم اداروں جیسے بیت المال یا غیرسرکاری تنظیموں کو دیتے ہیں۔ تاہم، ۷۰ فی صد سے زیادہ لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’اجتماعی نظامِ زکوٰۃ‘ ہی بہترین طریقہ ہے اور اسے تعلیم اور معاشی خود مختاری پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح زکوٰۃ کے نصاب کے تعلق سے بھی صحیح آگاہی نہیں ہے جو دوسو درہم چاندی یا ۵۹۵ گرام ہے اور ۲۰ دینار سونا یا ۸۵ گرام ہے (حجۃ اللہ البالغہ، جلد۲، ص ۵۰۶)
اسلام کے نزدیک ہر وہ شخص غریب ہے جو صاحبِ نصاب نہیں ہے۔ شاہ ولیؒ اللہ نے نصاب کی حکمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے: ’’یہ وہ ضروری اثاثہ ہے جس کے ذریعے ایک چھوٹے خاندان کے سال بھر کے ضروری اخراجات کی تکمیل ہو سکتی ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، جلد۲، ص ۶۶)
۲-مالیاتی علم اور دولت کی پیدائش:عوام میں مالیاتی خواندگی کی شدید کمی ہے۔ دولت پیدا کرنے، کاروبار میں حصہ لینے اور نفع بخش روزگار اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ بچت کرنے اور منافع بخش کاروبار میں سرمایہ کاری کی عادت کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ ’دینے والوں‘ کی ایک مضبوط جماعت تشکیل دی جا سکے۔
جنت کی بشارت پانے والے دس جلیل القدر صحابہ (عشرہ مبشرہ) میں سے چار، یعنی حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، آج کے دور کے حساب سے ارب پتی تھے۔
۳- مدارس کے نصاب میں زکوٰۃ کے جدید کورس کی ضرورت: علمائے کرام کو اس تحریک کی قیادت کرنی چاہیے۔ اس کے لیے زکوٰۃ کو ایک تفصیلی مضمون کے طور پر دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنا ہوگا اور سماجی و معاشی جائزے جیسے عملی میدانی کام بھی کرائے جانے چاہییں۔ زکوٰۃ کے نظام کے لیے نفسیات، تعلقاتِ عامہ، اکاؤنٹنگ، آڈٹ اور مالیاتی انتظام میں مہارت درکار ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی جیسے اداروں کو ورلڈ زکوٰۃ کونسل سے تعاون حاصل کر کے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر عبید اللہ کا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ فنانس (آئی آئی بی ایف) زکوٰۃ کے مینجمنٹ کورس کا اہتمام کرتا ہے جس سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔
راقم کے مضمون ’مسلم فاضلین اور معاشی میدان‘ (ترجمان القرآن، لاہور ۲۰۲۱ء) میں بھی مدارس سے فارغ ہونے والے علما کے لیے معاش کی نئی راہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں سر فہرست زکوٰۃ کا اجتماعی نظام ہے۔
۴- مسجد بحیثیت مرکز عمل: ہر محلے کی مسجد میں ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے، جس میں ایک جید عالم، ایک ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور چند سماجی کارکن شامل ہوں۔ یہ کمیٹی اپنے علاقے کا سماجی و معاشی جائزہ لے کر کام کا آغاز کرے۔ اس کوشش میں خواتین کو بھی شامل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ خاندانوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کی مالی حالت کا جائزہ لے سکیں۔
۵- فائنانشیل ٹکنالوجی (فِن ٹیک) کا استعمال: مالیاتی ٹکنالوجی زکوٰۃ کو جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے عمل میں کھلے پن اور بھروسے کو مستحکم بنا سکتی ہے۔ آج دنیا بھر کی فلاحی تنظیمیں اجتماعی مالیاتی امداد کے انٹرنیٹ نظام کے ذریعے یہ کام کر رہی ہیں۔ مثلاً کراؤڈ فنڈنگ (Crowdfunding)، انٹرنیٹ آف تھنگس (Internet of Things - ITO) یا اسی طرح بلاک چین (Blockchain) کا استعمال حسابات (جانچ پڑتال) کے مقاصد کے لیے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر وطنِ عزیز میں بھی اس جدید طریقۂ کار کو زکوٰۃ کے انتظام و انصرام میں استعمال کیا جائے تو ایک نئے معاشی فروغ کا خواب پورا ہو سکتاہے۔ (ICIF Newsletter،مئی ۲۰۲۴ء، ص ۴، ۱۰، ۱۴، ۱۶)
۶- زکوٰۃ اور چھوٹے قرضے(Microfinance) : زکوٰۃ کی رقم کا ایک مصرف ’الغارمین‘ (قرض دار) ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق، حضرت عمرؓ کے زمانے میں غارمین سے ایک نئی بات کا حوالہ ہمیں ملتا ہے اور وہ سرکاری خزانے سے لوگوں کو امداد نہیں بلکہ قرضہ دینا ہے۔ اس طرح حضرت عمرؓ کے دور میں زکوٰۃ کی رقم سے غیر سودی قرض دینے کا ثبوت ملتا ہے۔
اگر زکوٰۃ کی رقم چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کو ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے تو اس سے غربت بتدریج ختم ہو سکتی ہے اور زکوٰۃ کے مستحق لوگ چند سالوں میں زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں۔
بعض ممالک، مثلاً ملائشیا میں، غریبوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
Habib Ahmed, Role of Zakah and Awqaf in Poverty Alleviation (Occasional Paper No.8.Islamic Development Bank Group, IRTI, Jeddah, 2004, p.77-82.
۷- زکوٰۃ اور غیرمسلم : قرآن نے مصارفِ زکوٰۃ میں ’فقراء‘ اور’مساکین‘ کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق، ان میں فرق یہ ہے کہ فقراء سے مراد غریب مسلمان اور مساکین سے مراد غریب غیر مسلم ہیں۔
پروفیسر عبد العظیم اصلاحی لکھتے ہیں: ’’ خلیفہ ثانی نے زکوٰۃ کے مصارف ثمانیہ میں سے فقراء سے مراد مسلمان اور مساکین سے مراد اہل کتاب لیا ہے‘‘۔ (علامہ شبلی نعمانی، الفاروق، ص۱۲۸)
ڈاکٹر محمد حمیداللہ امام ابو یوسف کی کتاب الخراج کا حوالہ دیتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مدینہ کی گلیوں میں ایک یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا تو اس کا جزیہ معاف کر دیا اور اس کا روزینہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ہذا مسکین أہل الکتب (یہ اہل کتاب کے مساکین میں سے ہے)۔ (خطبات بہاولپور، صفحات ۳۴۱-۳۴۲)
ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی لکھتے ہیں: ’’زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر خرچ نہیں کی جائے گی بلکہ ان تمام لوگوں پر جو اس کے مستحق ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ عقیدہ اور مسلک کے اعتبار سے کیا ہیں۔ قرآن کریم کی آیاتِ زکوٰۃ میں فقراء و مساکین اور دوسرے ضرورت مندوں کے ساتھ ایمان کی شرط نہیں لگائی گئی ہے‘‘۔ (عدل کی تلاش، ص ۴۹)
۸- دیگر ممالک کے کامیاب تجربات سے استفادہ:عالمی زکوٰۃ فورم (World Zakat Forum) میں تقریباً چالیس ممالک شامل ہیں۔ ہمیں ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے:
بیزناس (BAZNAS): انڈونیشیا کے زکوٰۃ کا یہ ادارہ سماجی، تعلیمی اور عوامی صحت کے منصوبوں میں زکوٰۃ کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
سینزف (SENZAF): جنوبی افریقہ کا یہ ادارہ ایک ایسے ملک میں قائم ہے جہاں مسلمان صرف دو سے تین فی صد ہیں، لیکن یہ دہائیوں سے کامیابی سے کام کر رہا ہے۔
سینٹر فار زکوٰۃ مینجمنٹ (Center for Zakat Management): اس تنظیم کی سربراہی دو خواتین- چیئرپرسن فیروز محمد اور سی ای او یاسمینہ فراٹنک ہیں اور اس ادارہ میں ۵۲ فی صد خواتین کام کرتی ہیں۔ اس کی سماجی صلاحیتوں کی تعمیر اور رفاہی کاموں کا اعتراف کرتے ہوئے کیمبرج (Cambridge) اور برطانیہ کی بین الاقوامی معاشی ایڈوائزری کی جانب سے اس کو 3G کا عالمی سطح کا بہترین انتظامیہ کا ایوارڈ دیا گیا۔
بنگلہ دیش: یہاں کے زکوٰۃ کا نظام دیہی ترقی اور بچوں کی تعلیم میں مؤثر نتائج فراہم کررہا ہے۔
۹- زکوٰۃ اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDG): اقوامِ متحدہ نے (۲۰۱۵ء- ۲۰۳۰ء) پندرہ برسوں کے لیے ’پائیدار ترقی کے مقاصد‘ مقرر کیے ہیں، جن میں ناداری کا خاتمہ، بھوک کا خاتمہ، بہتر صحت، معیاری تعلیم اور معاشی عدم مساوات میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔
یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ زکوٰۃ کا اسلامی نظام چودہ سو سال پہلے ان تمام مقاصد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے بھی انڈونیشیا کی زکوٰۃ کی تنظیم کے ساتھ مل کر تیار کردہ ایک منصوبے میں یہ تسلیم کیا ہے کہ اسلام کا فریضۂ زکوٰۃ دولت کو مالداروں سے ناداروں کی طرف منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور اس میں پائیدار ترقی کے مقاصد کی کامیابی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ (ایچ عبدالرقیب، ’اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف اور حلف الفضول‘، ماہنامہ راہ اعتدال، اپریل ۲۰۲۳ء، ص ۱۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ زکوٰۃ محض ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک اجتماعی، معاشی اور سماجی نظام ہے۔ اس کا مقصد صرف بھوک مٹانا نہیں، بلکہ غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ایک ایسی سوسائٹی قائم کرنا ہے، جہاں دولت صرف امیروں میں گردش نہ کرے، بلکہ معاشرے کے تمام افراد معاشی طور پر خود کفیل ہوں۔
سید سعادت اللہ حسینی لکھتے ہیں:’’ضرورت اس بات کی ہے کہ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے قیام کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل میں چلایا جائے۔ یہ نظام ابتداء میں گاؤں، قصبہ یا شہر کی سطح پر قائم کیا جاسکتا ہے۔ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے یہ ادارے منصوبہ بند طریقے سے غریب طلبہ کو وظیفے اور تعلیمی امداد اور نوجوانوں کو فنی اور تجارتی ٹریننگ دے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں‘‘۔ (نظامِ زکوٰۃاور ہندوستان میں سماجی ترقی، ۲۰۱۸ء،ص ۲۰)
مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اس ضرورت کو یوں بیان کیا تھا:’’اگر مسلمان آج اور کچھ نہ کریں صرف زکوٰۃ کا معاملہ ہی احکام قرآنی کے مطابق درست کر لیں تو بغیر کسی تامل کے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تمام اجتماعی مشکلات و مصائب کا حل خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں نے یا تو احکام قرآنی کی تعمیل یک قلم ترک کر دی ہے یا پھر عمل بھی کر رہے ہیں تو اس طرح کہ فی الحقیقت عمل نہیں کر رہے ہیں‘‘۔ (حقیقۃ الزکوٰۃ، لاہور، ص۲۶)
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسلم ملت کے مرد و خواتین، علمائے کرام، سماجی کارکنان اور دانش ور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ اجتماعی نظمِ زکوٰۃ کے اس عظیم نظام کو قائم کرنے کے لیے خصوصی توجہ دیں، تاکہ چند برسوں میں ہم منصوبہ بندی کے ساتھ ایک متوازن اور متمول اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
عام طور پر ہم اس حقیقت سے بڑی حد تک بے خبر ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں معاشی نظام کے نفاذ کے لیے ایک نئی مارکیٹ بنائی تھی۔ اس وقت مدینہ میں یہودیوں کے چار بازار تھے جن میں تجارت، دھوکا دہی اور لوٹ کھسوٹ عام تھی۔ ہجرت کے وقت مدینہ کےانصار اور مکّہ سے آنے والے مہاجر مسلمان اس حالت میں نہیں تھے کہ یہودیوں کے چار مستحکم بازاروںکے مقابلے میں نئی مارکیٹ قائم کرسکیں مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نئی مارکیٹ ایک بڑے خیمہ کے نیچے لگائی اور فلاح پر مبنی تجارت کا آغاز کیا۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ خیمہ والی مارکیٹ نے تھوڑے ہی عرصہ میں کامیابی حاصل کرلی اور تاجر اور خریدار پہلے سے قائم شدہ بازاروں سے نقل مکانی کرکے خیمہ والی مارکیٹ میں آگئے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں ایرانی اور رومی حکومت کی شکست کے بعد اسلامی ریاست مستحکم ہوئی تو اٹلی، اسپین اور فرانس سے تاجر مکہ اور مدینہ آئے۔ یورپ کے تاجر اسلامی طرزِ تجارت سے بہت مرعوب ہوئے، خاص طور پر صرف عرب میں رائج مضاربہ کے تحت تجارت شروع کر دی جو کچھ عرصہ کے بعد سارے یورپ میں پھیل گئی۔ تاریخی شواہد تو یہاںتک بتاتے ہیں کہ بارھویں، تیرھویں صدی میں یورپ کی ترقی میں مضاربہ کا بڑا ہاتھ تھا۔
درج ذیل مضمون میں ہم مضاربہ کی حقیقت قارئین کی نذر کریں گے اور پاکستانی تجارت میں مضاربہ کی ممکنہ بحالی کا جائزہ لیں گے۔
عرب میں تجارت اپنی تمام تر اشکال میں موجود تھی۔ سود پر رقم اُدھار دینے کے ساتھ ساتھ نفع و نقصان کی بنیاد پر شراکت (Partnership) کے بھی کئی طریقے موجود تھے۔ مضاربہ ایک ایسی ہی شراکت پر مبنی کاروبار تھا جو دُنیائے عرب کے علاوہ کہیں بھی موجود نہ تھا۔ یہ تجارت ایسے دوافراد کے درمیان ہوتی جن میں ایک کے پاس سرمایہ ہوتا اور دوسرے کے پاس محنت اور ہنر۔ سادہ الفاظ میں یہ سرمائے اور محنت کا خوب صورت امتزاج تھا جو معاشی جدوجہد کو جنم دیتا۔ تجارت کا نفع پہلے سے طے شدہ فارمولا کے مطابق تقسیم کرلیا جاتا، جب کہ نقصان سرمایہ فراہم کرنے والا شخص (جسے ربّ المال کہتے تھے) برداشت کرتا کیونکہ محنت کرنے والا ساتھی (مضارب) تو پہلے ہی سرمایہ کے بغیر تھا۔ تجارت میں سچائی کے فروغ کے لیے مضاربہ بہت ہی کارآمد تجارتی طریقہ تھا۔ غیرذمہ داری اور بددیانتی سے کام کرنے والا مضارب سرمایہ فراہم کرنے والے (Capital Provider) لوگوں کا اعتماد کھو کر مزید کاروباری مواقعوں سے محروم ہوجاتا۔ اس کے برعکس بار بار منافع کمانے والا سچّا مضارب ایسے اشخاص کی توجہ کا مرکز بن جاتا جن کے پاس سرمایہ تو ہوتا مگر وہ کسی وجہ کی بناپر خودتجارت کرنے سے قاصر ہوتے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی کاروباری زندگی کا آغاز کیا تو حضرت خدیجہؓ نے اپنا مالِ تجارت مضاربہ کے تحت فروخت کرنے کے لیے آپؐ کو دیا کیونکہ اس وقت مکہ میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے جانے جاتے تھے۔اس طریقۂ کاروبار کے باعث مکہ کے تقریباً تمام باشندے بین الاقوامی تجارتی قافلوں میں حصہ لیتے اور نفع کماتے۔ جنگ ِ بدر کے لیے قریش کی بلاپس و پیش آمادگی کی ایک بڑی وجہ ایسے ہی تجارتی قافلے کو مسلمانوں کے روکنے کی خبر تھی جس میں اہل مکہ کا مال لگا ہوا تھا۔
مضاربہ کے علاوہ ایسے سودوں کی بھی مثالیں ملتی ہیں جنھیں ہم آج کی زبان میں Forward Sale/Purchase کہتے ہیں۔ اُونٹنی کے پیٹ میں موجود unborn child کو بنیاد بناکر عرب ایسا سودا کرلیتے جس کی ادائیگی مستقبل میں کی جاتی، مثلاً یہ طے کر لیا جاتا کہ اس سودے (deal) کی ادائیگی اُونٹنی کے بچّے کی پیدائش کے بعد اسے بیچ کر کی جائے گی۔
عربی زبان میں ایسے لین دین کو ’حبل الحبلہ‘ کہتے ہیں۔ دورِحاضر میں یہ تجارت Asset Backed Securities (ABS) کی مانند ہے جس میں ایک غیرسیال (Non-Liquid Assest) اثاثے کو بنیاد بنا کر ایک کاروبار کیا جاتا ہے۔ اسلام کے ظہور کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تجارت سے منع کر دیا کیونکہ اس میں بہت زیادہ رسک (Risk) اور غیر یقینی صورت ہوسکتی ہے۔
بڑی حیرانی کی بات ہے کہ ۱۴۰۰ برس قبل مکّہ ایک بہت بڑا تجارتی مرکز تھا۔ خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کے لیے آنے والے زائرین اور حاجی مذہبی رسومات کے علاوہ چھوٹی موٹی تجارت بھی کرلیتے۔ عکاظ ایک ایسی ہی بڑی مارکیٹ تھی جس میں ہروقت تاجروں کا ہجوم رہتا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مارکیٹ میں دو مقاصد کے لیے گئے: نبوت سے پہلے تجارت کی خاطر اور نبوت کے بعد تبلیغ کے لیے۔ کیونکہ عرب کے دُور دراز علاقوں کے لوگ یہاں موجود رہتے۔ یہ مکّہ کی گھریلو تجارت تھی۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے بڑے بڑے قافلے تیار کیے جاتے جن میں اُونٹوں کی تعداد ۲۵۰۰ تک بیان کی جاتی ہے جو مختلف اشیاء سے لدے ہوتے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ایسے کاروان میں شرکت کرتے اور مختلف قسم کے فرائض سرانجام دیتے، مثلاً حساب کتاب، جانوروں اور انسانوں کی خوراک کا انتظام اور دوسرے انتظامی اُمور۔ سفر کے دوران قیام کے مقام طے تھے۔ پڑائو کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جاتا جو آبادی کے نزدیک ہوں اور پانی و خوراک کی دستیابی آسان ہو۔ قافلے کے قیام سے وہ جگہ عارضی منڈی یا میلے کی سی شکل اختیار کرلیتی۔
اسلام کے ظہور سے دُنیا کا پہلا معاشی نظام، مدینہ اکنامکس وجود میں آیا جس کے احکامات قرآن میں نازل ہوئے اور اسے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے خود ساتویں صدی کی ریاست مدینہ میں نافذ کیا۔ حضرت عمرؓ کے دور میں اسلامی معاشیات مزید مستحکم ہوئی۔ مورس لمبارڈ (Mauric Lombord) کے مطابق یہ معاشی نظام چار سو سال تک پوری دُنیا میں چھایا رہا جس کی دو بڑی خصوصیات تھیں۔ اوّل اسلامی دینار عالم گیر کرنسی کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور عربی زبان عالم گیر تجارتی زبان، سود کی ممانعت کے باعث ساری تجارت نفع و نقصان کی بنیاد پر تھی، جس میں مشارکہ اور مضاربہ نمایاں تھے۔ یورپ میں لوگ مشارکہ (Partnership)سے تو واقف تھے مگر مضاربہ ان کے لیے بالکل نیا طرزِتجارت تھا کیونکہ یہ ایسے نوجوانوں جو سرمایہ کے بغیر تھے انھیں بھی تجارت میں لے آتا۔ نویں اور دسویں صدی اسلامی تجارت کے عروج کا دور ہے، جس میں تمام بڑی تجارتی گزرگاہیں (Trade Routes) کی تجارت اسلامی حکومت کے زیراثر تھی۔ یورپی تاجروں نے مضاربہ طرز تجارت ایک نئے نام Commendaسے اپنا لیا۔ مورات سی ذاکا (Murat Cizacka) اور رابرٹ لی (Robert Lee) کے مطابق یورپ کی ترقی میں مضاربہ کا نمایاں کردار تھا۔
بارھویں صدی سے اسلامی حکومت کا زوال شروع ہوا جو بتدریج بڑھتا چلا گیا۔ اس تنزلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان یکسر اپنے معاشی ورثہ سے بے خبر ہوگئے۔ ۱۲۵۸ء میں ہلاکوخان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی نے اسلامی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ آنے والے وقتوں میں تین بڑی اسلامی حکومتیں ترکیہ، ایران اور ہندوستان میں قائم ہوئیں مگر اسلامی معاشی نظام کی دریافت نہ ہوسکی۔ اسی اثناء میں یورپ میں سود کا کاروبار بڑی تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ ترکیہ نے سود کے کاروبار کو روکنے کے لیے اسلامی طرزِ تجارت مرابحہ کا استعمال کیا۔ مرابحہ میں خریدار کو اشیاء کی لاگت اور اس پر لیا جانے والا منافع بتاناضروری ہوتا ہے۔ مورات سی ذاکا کے مطابق ترکیہ حکومت لاگت پر لیے جانے والے منافع کا اعلان کرتی اور تاجر اسی کے مطابق اشیاء مرابحہ پر فروخت کرتے تھے۔ ہندوستان اور ایران میں اسلامی طرزِ تجارت (مضاربہ اور مرابحہ) فروغ نہ پاسکا اورساری تجارت مقامی طور طریقوں کے مطابق تھی جس میں سود کا کاروبار بھی شامل تھا۔
یکم جولائی ۱۹۴۸ء میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بانی ٔپاکستان محمد علی جناح ؒنے مغربی معاشی نظام کو رَد کرتے ہوئے مساوات اور عدل پر مبنی اسلامی معاشی نظام کی بات کی تھی مگر اس پر کام نہ ہوسکا۔ یہی سمجھا گیا کہ یہ صرف اسٹیٹ بنک کی ہی ذمہ داری ہے۔ کالج اور یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم سرمایہ داری نظام پر مشتمل رہی اور مذہبی جماعتوں کے تبلیغی پروگرام اور دوسرے اجتماعات بھی اسلامی طرزِ تجارت سے دُور رہے۔ ۱۹۸۵ء سے پاکستان میں اسلامی بنکاری کا آغاز ہوا تو لوگ مشارکہ ، مضاربہ اور مرابحہ کے ناموں سے واقف ہوئے مگر حقیقی تجارتی شعبہ میں تاجروں اور کاروباری لوگوں نے اسلامی طرزِ تجارت کو نہیں اپنایا۔ کیونکہ ہمارا سارا جوش و جذبہ اسلامی بنکاری کے بارے میں تھا۔
اسلامی بنکوں نے عوام سے رقوم حاصل (Deposits)کرنے کے لیے مضاربہ کا استعمال تو کیا مگر یہ روایتی مضاربہ کے برعکس تھا۔ مضاربہ کا بنیادی مقصد تو سرمایہ کےبغیر نوجوانوں کو تجارت میں شامل کرنا تھا جس سے کاروبار میں اضافہ ہو۔ اسلامی بنکوں کا مضاربہ تو صرف اُن لوگوں کے لیے تھا جن کے پاس سرمایہ موجود ہو جو وہ پہلے سے کاروبار کرنے والے (بنک) کو کاروبار کے لیے دے دیں۔ بنکاری کی زبان میں اسے Liability Sideمضاربہ کہتے ہیں، یعنی پہلے سے کاروبار کرنے والے لوگ دوسرے لوگوں کے سرمایہ سے اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔
یہ نہیں سوچا گیا کہ جو نوجوان سرمائے کے بغیر ہیں، وہ کہاں جائیں؟ تاجر اور کاروباری لوگ ایسے نوجوانوں کو چھوٹی موٹی ملازمت تو دے دیتے ہیں مگر انھیں مضاربہ کاروبار میں شامل نہیں کرتے۔ اسلامی بنکوں نے Asset Side مضاربہ کی کوئی گنجائش نہیں رکھی۔ اسلامی بنکوں کو کام کرتے ہوئے تقریباً ۴۰ برس ہوگئے ہیں مگر سرمایہ کے بغیر نوجوانوں کو سرمایہ دے کر کاروبار کروانے کی کوئی اسکیم کسی اسلامی یا سودی بنک کے پاس نہیں ہے۔ سودی بنکوں نے بھی لوگوں کے سرمایہ سے مضاربہ کمپنیاں بنالیں جو اکثر نقصان سے دوچار ہوئیں۔
۲۰۲۶ء کے پاکستان میں سرمایہ کے بغیر نوجوانوں کے لیے تجارت میں شمولیت کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ۲۰۲۵ء میں پرائم منسٹر یوتھ لون اسکیم متعارف ہوئی مگر وہ کم شرح سود پر تھی۔ اس صورتِ حال کے باعث پڑھے لکھے مگر سرمایہ کے بغیر نوجوان چھوٹی چھوٹی نوکریاں حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ کم پڑھے لکھے نوجوانوں کا مسئلہ اور بھی گمبھیر ہے، جو اکثردیہاتی علاقوں میں ہیں اور بے روزگار ہیں۔ بڑے دُکھ کی بات ہے کہ یورپی اقوام نے مضاربہ طرزِ تجارت کو اپنے کاروبار کا حصہ بنالیا تھا مگر ہم اس کے وارث اور امین ہونے کے باوجود مضاربہ کو اپنی اصل حالت میں اپنانے سے گریزاں ہیں۔
۲۰۲۱ء میں شائع ہونے والی کتاب Muhammad, The World Changer کے مصنف محمد جی بارا لکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ سے شادی کے بعد مکہ کے کم سرمایہ والے افراد کے لیے روزگار کا بندوبست کیا تھا۔ حضرت صہیبؓ رومی غلام تھے مگر زیورات بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ حضرت زیدؓ کو آپؐ نے خود آزاد کر دیا تھا۔ اسی طرح کے اور لوگوں کا سرمایہ اکٹھا کر کے ایک مشترکہ کمپنی (Joint Company) کے طرز پر کاروبار شروع کروایا تھا جو مضاربہ اور مشارکہ پر مشتمل تھا۔ سب لوگوں نے اپنا اپنا سرمایہ اکٹھا کر کے زیورات بنانے کا کاکام شروع کیا۔ اس کاروبارکے انچارنج حضرت صہیبؓ رومی تھے اور حساب کتاب کا کام حضرت زیدؓ کے پاس تھا۔ کاروبار کا منافع طے شدہ طریقے سے پورے گروپ میں تقسیم کرلیا جاتا۔
مضاربہ کی اقسام اور کاروبار کے طے شدہ اصولوں کے باعث اسے بہت سی شکلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ کاروبار عام یا مخصوص طرح کا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر سرمایہ فراہم کرنے والا کوئی خاص کاروبار کا تعین کردے گا تو مضارب صرف وہی تجارت کرے گا۔ اگر مضارب کو اپنی مرضی سے کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی تو یہ عام مضاربہ کہلائے گا۔
اسی طرح مضاربہ مشروط اور غیرمشروط نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ شرائط کام کی نوعیت، کاروبار کی جگہ یا کاروبار کی نوعیت وغیرہ کے بارے میں ہوسکتی ہیں۔ مضارب کے لیے لازم ہے کہ ربّ المال کی تمام شرائط اور ہدایات پر عمل کرے۔ کسی شرط یا ہدایت کی عدم تعمیل کی صورت میں مضارب سرمایہ میں نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔ مضاربہ معاہدہ میں مضارب دیئے گئے سرمایہ پر امین اور ضامن ہوتاہے۔ عام کاروباری صورت میں مضارب نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوتا لیکن غفلت اور بدعہدی کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس سے ضمانت بھی لی جاسکتی ہے۔ دراصل مضاربہ تجارت میں فروغ اور ایمانداری لے کر آتا ہے۔ایک بے احتیاط اور بے عہد مضارب جلد ہی کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، جب کہ ایماندار اور محتاط مضارب کو کئی اور رب المال تجارت میں شامل کرلیتے ہیں۔
بڑی عجیب بات ہے کہ مالیاتی شعبہ میں اسلامی بنک تجارت کے طریقے، مثلاً مشارکہ، مضاربہ اور مرابحہ استعمال کرتے ہیں مگر حقیقی شعبہ کی تجارت ان سے کوسوں دُور ہے۔ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے مگر ہرحکومت بلاسود قرضہ جات سے آگے نہیں جاتی، اور ایسے قرضہ جات حکومت سے وابستہ لوگ ہی لے جاتے ہیں۔ ساتویںصدی کی ریاست مدینہ میں اسلامی تجارت کے مذکورہ طریقے حقیقی شعبہ کے تاجر استعمال کرتے تھے کیونکہ مالیاتی شعبہ اس دور میں موجود ہی نہیں تھا۔ نظامِ سرمایہ داری میں نئے کاروبار (New Startup) کے لیے Venture Capital کی سہولت موجودہے مگر یہ سود پر مبنی ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ مضاربہ پر عمل کرنا سنت ِ رسولؐ بھی ہے۔اگر آج کوئی نوجوان کسی بنک، تاجر یا حکومت سے مضاربہ کے لیے سرمائے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ سود کے خاتمہ کا وعدہ پہلے تو اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے کیا تھا مگر اب مرکزی حکومت نے بھی یکم جنور ی۲۰۲۸ء سے پہلے سود ختم کرنے کا خواب پوری قوم کو دکھایا ہے۔ ان حالات میں مضاربہ کی بحالی بہت بڑا رول ادا کرسکتی ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل تجاویز پر عمل کرکے تجارت کو ایمان داری اور فروغ مل سکتا ہے۔
ماضی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے اہم مگر بنکاری سہولتوں سے محروم سیکٹرز کی ترقی کے لیے بہت کام کیا ہے۔ ۱۹۷۱ء کے آغاز میں تجارتی بنک زرعی پیداواری قرضے جاری نہیں کرتے تھے۔ ان بنکوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک طرف تو زرعی قرضوں کی اسکیم شروع ہوئی جس میں نادہندگی کی صورت میں اسٹیٹ بنک ایسے نقصان کا نصف خود برداشت کرتا۔ دوسری طرف اسٹیٹ بنک نے کثیر رقم سے زرعی ترقیاتی فنڈ قائم کیا جو آج بھی موجود ہے۔ پچھلے سال اسٹیٹ بنک نے ۳۴ سو ارب روپے کا منافع کمایا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ ضروری ہے کہ اس خطیر منافع سے ۱۰۰؍ارب روپے کا مضاربہ فنڈ قائم کیا جائے جو اسلامی بنکوں کے جاری کردہ مضاربہ سرمایہ کے ممکن نقصان میں ۵۰ فی صد شریک ہو۔ اس طرح اسلامی بنک نوجوانوں کو مضاربہ کے تحت سرمایہ فراہم کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
ساتویں صدی کے عرب معاشرے میں مضاربہ تجارت میں بخوبی شامل تھا۔ دورِ فاروقی میں حضرت عمرؓ کے دو صاحبزادے کوفہ گئے اور وہاں کے گورنر حضرت ابوموسیٰؓ نے کچھ سرمایہ ان کے حوالے کر دیا جو بیت المال (Treasury) کے لیے تھا۔ دونوں بھائیوں نے اس سرمایہ سے مال خرید کر بعد میں بیچ دیا اور اصل زر رقم بیت المال میں جمع کروا دی۔ مگر حضرت عمرؓ نے اسے مضاربہ کا معاہدہ قرار دیا اور منافع کی آدھی رقم بھی بیت المال میں جمع کروانے کا حکم دیا کیونکہ اس تجارت میں حکومت رب المال تھی اور حضرت عمرؓ کے بیٹے مضارب۔
اسلامی بنک کام تو کر رہے ہیں مگر اسلامی تجارت فروغ نہیں پارہی۔اسٹیٹ بنک کی طرح دوسرے بنکوں بشمول اسلامی بنک کا منافع بھی بہت زیادہ ہوا ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ اسلامی بنک بھی مضاربہ فنڈ قائم کریں۔ محنتی، ایماندار اور ذمہ دار نوجوانوں کو مضاربہ سرمایہ فراہم کریں۔ چونکہ مضاربہ کثیر المقاصد کاروبار ہے، اسے موجودہ حالات کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔ ان سے ضمانت بھی لی جاسکتی ہے اور انھیں محدود یا مشروط کاروبار بھی کروایا جاسکتا ہے۔ جب نقصان کی صورت میں ۵۰ فی صد اسٹیٹ بنک سے آئے گا تو سارا بوجھ اسلامی بنکوں پر نہیں آئے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اسلامی بنکوں سے تحریک لے کر سودی بنک بھی اسے اپنالیں۔ اسلامی بنکوں میں کام کرنے والے شریعہ اسکالر کے تعاون سے اس کام کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں اسلامی معاشی نظام کا نفاذ اگرچہ طے شدہ پالیسی ہے مگر کالج اور یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم، سرمایہ داری نظام کی روشنی میں دی جارہی ہے جو ساری کی ساری سود پر مبنی ہے۔ کچھ اداروں میں اسلامی معاشیات کو پڑھایا تو جاتا ہے مگر اس پر کوئی تحقیق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشیات اور بنکوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ مضاربہ کے بارے میں بنیادی آگاہی اسے تعلیم میں شامل کرنے سے آئے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مضاربہ کو بطور ٹریڈ پراڈکٹ ایم اے اکنامکس، ایم بی اے اور کامرس کے نصاب میں شامل کیا جائے اور اس پر انٹرشپ رپورٹ تیار کرکے انھیں شائع کیا جائے۔ اکانومی میں مضاربہ کو متعارف کروانے میں یہ انتہائی قدم ہوگا۔
مضاربہ مدرسہ کی تعلیم میں صرف نظریاتی طور پر موجود ہے۔ یہ پڑھایا تو جاتا ہے مگر اس پر عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر اساتذہ اپنے شاگردوں کو مضاربہ کی تجارت میں لگادیں، یعنی حقیقی مضاربہ کاروبار ان کی تعلیم کا لازمی جز و بنادیا جائے تو تجارت کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ مختلف مدارس کو عطیات،زکوٰۃ اور صدقات کی مد میں خاصی رقوم ملتی ہیں۔ ان میں سے کچھ حصہ مضاربہ کاروبار کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں سماجی کاروباری ذمہ داری کے تحت تعلیمی اور فلاحی اداروں کو خطیر رقوم مہیا کی جاتی ہیں۔ تاجر لوگ اپنی ذاتی حیثیت میں بھی خرچ کرتے ہیں۔ مختلف چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے ہاں کم آمدنی والے لوگوں کے لیے کفالتی پروگرام ہیں مگر سب مضاربہ کے بغیر ہیں۔ ان رقوم سے یونی ورسٹی میں Modarbah Chains قائم کی جاسکتی ہیں جس میں دیئے گئے عطیات سے یونی ورسٹی میں مضاربہ تجارت کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔
پچھلے ۷۸برس سے پاکستان میں اسلامی معاشی نظام کے سلسلے میں ہم نے بڑی ڈھٹائی سے روحانی بددیانتی (Spiritual Dishonesty) کا مظاہرہ کیا ہے۔ وطن عزیز میں ہم سب نے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں تو بہت کی ہیں مگر عملی طور پر بہت کم کام کیا ہے۔ درج بالا تفصیلات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ مضاربہ آج بھی قابلِ عمل طرزِ تجارت ہے مگر اس کے نفاذ کے لیےانتہائی خلوص، اَن تھک محنت اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہے۔ بقول علّامہ اقبال:
آج بھی جو ہو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
_______________
وضاحت:ترجمان القرآن کے گذشتہ شمارے(دسمبر۲۰۲۵ء) میں سینیٹر برنی سینڈرز کی جس وائرل تقریر کا ترجمہ شائع ہوا، وہ دراصل برنی اور کنگ چارلیس کے مختلف بیانات کا مجموعہ تھی، جسے کسی نے یوٹیوب پر یکجا کردیا تھا۔ شمارے کی اشاعت کے بعد،متعلقہ پلیٹ فارم سے ویڈیو ہٹنے پر معاملے کی یہ نوعیت سامنے آئی جس پہ ہم معذرت خواہ ہیں۔(ادارہ)
اسلامی تحریک کی کامیابی کے لیے جتنے بھی اصول اور ضابطے ہوسکتے ہیں، ان میں سے ایک اہم ترین اصول اطاعتِ نظم ہے۔ یہ محض ایک انتظامی امر نہیں بلکہ ایمان اور بندگی کا لازمی تقاضا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات ہوں یا صحابہ کرامؓ کی زندگیاں، اسلامی تاریخ کے ہر دور میں اطاعت اور نظم و ضبط کو اجتماعی بقا اور فکری تسلسل کی شرطِ اوّل قرار دیا گیا ہے۔
اطاعت، لغت میں فرماںبرداری اور حکم بجا لانے کو کہتے ہیں۔ لفظ ’اطاعت‘ کا اصل مادہ ط-و-ع ہے (طوع ، اطاع ، یطیع ، أطاعۃً وھو مطیع وغیرہ)۔ یہ عربی زبان کا نہایت بامعنی مادہ ہے جس میں اطاعت، رضا، نرمی، خوشی سے ماننا اور آسانی سے قبول کرنا جیسے مفاہیم پائے جاتے ہیں:
ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَہِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْہًا۰ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ۱۱ (حم السجدۃ۴۱:۱۱) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت دھواں تھا۔ اُس نے آسمان اور زمین سے کہا:’’ وجود میں آجاوٴ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو‘‘۔ دونوں نے کہا:’’ ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح‘‘۔
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِ اللہِ۰ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِہِمَا۰ۭ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا۰ۙ فَاِنَّ اللہَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ۱۵۸(البقرہ ۲:۱۵۸)یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے یہ گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں (پہاڑیوں) کے درمیان سعی کرےاور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اوروہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔
گویا اطاعت کے معنی خوش دلی، رضا اور اختیار کے ساتھ کسی حکم کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اطاعت کا مفہوم، اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع، اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ضمن میں اُولی الامر یا جماعتی نظم و قیادت کے فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرکے ان کی اطاعت کرنا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی تحریک، چاہے وہ دینی ہو یا دنیوی، اپنے مقصد کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتی، جب تک اس کے کارکنان میں نظم و ضبط اور اطاعتِ نظم نہ ہو۔ اگر ایک فوج کے سپاہی اپنی مرضی کرنے لگیں، یا ایک کارخانے کے مزدور نظم کو توڑ دیں، تو نتیجہ تباہی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ پھر بھلا اقامت ِدین کی عظیم تحریک بغیر نظم و ضبط اور اطاعتِ نظم کے کیسے آگے بڑھ سکتی ہے؟فرمانِ الٰہی ہے:
وَاذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَہُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِہٖٓ۰ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۰ۡ (المائدہ۵:۷)یاد کرو اللہ کے اس انعام کو اور اس پختہ عہد کو جس کو تم نے پختگی سے باندھتے ہوئے اقرار کیا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔
یہ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ ایک ایمانی رویہ ہے۔ ایک میثاق، یعنی پختہ عہد ہے، ایک طرزِ زندگی ہے اور یہی اطاعتِ نظم کی اساس ہے۔ قرآن مجید نے بار بار یہ حقیقت واضح کی ہے کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عملی عہد ہے۔ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا دراصل مؤمن کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔ ایمان والے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو سن کر اپنے اختیار کو اللہ کی اطاعت کے تابع کر دیتے ہیں۔ یہاں سَمِعْنَا صرف سماعت نہیں بلکہ قبولیت کا اعلان ہے، اور اَطَعْنَا صرف رسمی اطاعت نہیں بلکہ دل کی رضامندی اور عملی پیروی ہے۔ گویا یہ ایمان کے حقیقی تقاضے اور بندگی کی علامت ہیں۔
جماعت اسلامی کا رکن جب اطاعتِ نظم کا عہد کرتا ہے تو وہ اسی قرآنی روح کو دُہراتا ہے۔ وہ عہد کرتا ہے کہ ’’میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنا میری زندگی کا نصب العین ہے اور میں نے دستور جماعت اسلامی کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور میں عہد کرتا ہوں کہ اس دستور کے مطابق نظام جماعت کا پوری طرح پابند رہوں گا‘‘۔ (دستور جماعت اسلامی)
یہ الفاظ کوئی رسمی اعلان نہیں بلکہ یہ اس میثاق کا اعادہ ہے جسے قرآن نے یاد رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک فرد رکنِ جماعت بنتے ہوئے جب یہ اقرار کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے ایمان کی تجدید کرتے ہوئے اپنی آزادی و خواہشات کو جماعت کے اجتماعی نظم کے تابع کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
مولانا مودودیؒ ’سمع و طاعت اور نظمِ جماعت کی پابندی‘ کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں: ’’آپ چند مٹھی بھر آدمی ہیں جو تھوڑے سے وسائل لے کر میدان میں آئے ہیں اور کام آپ کے سامنے یہ ہے کہ فسق اور جاہلیت کی ہزاروں گنی زیادہ طاقت اور لاکھوں گنے زیادہ وسائل کے مقابلے میں نہ صرف ظاہری نظامِ زندگی کو ہی بلکہ اس کی باطنی روح تک کو بدل ڈالیں ۔ آپ خواہ تعداد کے لحاظ سے دیکھ لیں یاوسائل کے لحاظ سے، آپ کے اور ان کے درمیان کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ اب آخر ا خلاق اور نظم کی طاقت کے سوا اور کون سی طاقت آپ کے پاس ایسی ہو سکتی ہے جس سے آپ ان کے مقابلے میں اپنی جیت کی امید کر سکیں؟ آپ کی امانت و دیانت کا سکہ اپنے ماحول پر بیٹھا ہوا ہو اور آپ کا نظم اتنا مضبوط و زبردست ہو کہ آپ کے ذمہ دار لوگ جس وقت جس نکتے پر جتنی طاقت جمع کرنا چاہیں، ایک اشارے پر جمع کر سکیں ، تب ہی آپ اپنے مقصدِ عظیم میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اقامتِ دین کی سعی کرنے والی ایک جماعت میں جماعت کے اُولی الامر کی اطاعت فی المعروف دراصل اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہی ایک جز ہے۔ جو شخص اللہ کا کام سمجھ کر یہ کام کر رہاہے اور اللہ ہی کے کام کی خاطر جس نے کسی کو اپنا امیر مانا ہے ، وہ اس کے جائز احکام کی اطاعت کر کے دراصل اس [امیر] کی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے۔ جس قدر اللہ سے اور اس کے دین سے آدمی کا تعلق زیادہ ہوگا ، اتنا ہی وہ سمع و طاعت میں بڑھا ہوا ہوگا، اور جتنی اس تعلق میں کمی ہوگی، اتنی ہی سمع و طاعت میں بھی کمی ہوگی۔ (ہدایات )
یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ ’کیا اطاعتِنظم فرد کی آزادی کو سلب کر لیتی ہے؟‘
درحقیقت اطاعت، غلامی نہیں بلکہ نظم و ضبط (discipline) ہے۔ فرد کی اصل آزادی یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات کا غلام نہ بنے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو ایک اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے وقف کردے۔ جماعت کے عہدِ رکنیت میں اطاعت کا وعدہ، فرد کو انتشار اور اپنی خواہشات سے بچا کر اس کی صلاحیتوں کو ایک بڑی اجتماعی قوت کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک کارکن ' سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ' کہتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کو محدود کرتے ہوئے اپنے مقصد اور مشن کو وسیع کرتا ہے۔ ایمان والے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہہ کر اللہ کے احکام کے سامنے جھکتے ہوئے اپنے دینی قافلے کے نظم و ضبط کی پابندی کرکے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ پابندی اور ڈسپلن ہے جو صحابہؓ کی جماعت کو دنیا میں فاتح اور آخرت میں جنّت کا وارث بنا گیا اور یہی وہ اصول ہے جو آج بھی اسلامی تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
اسلام میں اطاعت کا مفہوم، دین کے عقائدی اور تشریعی اصولوں سے قوت اور طاقت حاصل کرنا ہے۔ اس لیے کہ اسلام میں اطاعت دراصل اللہ ہی کی ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ کا حکم ہے کہ معروف میں امیر اور نظم کی اطاعت کی جائے۔اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۰ۚ (النساء۴:۵۹) ’’اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں‘‘۔
اس کی تعبیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس طرح فرمائی:’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی‘‘ (صحیح مسلم:۴۷۴۷) ۔اس لیے معروف میں اطاعت ِ نظم دراصل اللہ کی اطاعت ہوتی ہے اور معروف میں اس کی نافرمانی اللہ کی نا فرمانی۔
صحابہ کرامؓ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پائی تھی اور وہ نہ صرف اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کی اطاعت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ معروف میں امیر کی بھی پوری طرح اطاعت کرتے تھے۔ چند واقعات تو انتہائی متاثر کن ہیں، مثلاً غزوۂ تبوک میں صرف سُستی کی بناپر پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کا واقعہ پوری جماعت صحابہؓ کی اطاعت ِ نظم کی حیرت انگیز مثال ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے:وَّعَلَي الثَّلٰثَۃِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللہِ اِلَّآ اِلَيْہِ۰ۭ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ لِيَتُوْبُوْا۰ۭ اِنَّ اللہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۱۱۸ (التوبہ۹:۱۱۸)’’اور اُن تینوں کو بھی اُس نے معاف کیا جن کے معاملے کو ملتوی کر دیا گیا تھا ۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجوداُن پر تنگ ہوگئی اور اُن کی اپنی جانیں بھی اُن پر بار ہو نے لگیں اور انھوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامنِ رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے اُن کی طرف پلٹا تاکہ وہ اُس کی طرف پلٹ آئیں ، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: یہ تینوں صاحب کَعب بن مالک ، ہلال بن اُمیّہ اور مُرارہ بن رُبیع رضی اللہ عنہم تھے۔ تینوں سچے مومن تھے۔ اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ آخرالذکر دو اصحاب تو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے جن کی صداقتِ ایمانی ہرشبہ سے بالاتر تھی۔ اور اول الذکر بزرگ اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بد رکے سوا ہرغزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود اس نازک موقع پر، جب کہ تمام قابلِ جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لیے نکل آنے کا حکم دیاگیا تھا ، جو سُستی ان حضرات نے دکھائی اُس پر سخت گرفت کی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک سے واپس تشریف لاکر مسلمانوں کو حکم دیا کہ کوئی ان سے سلام کلام نہ کرے ۔ ۴۰ دن کے بعدان کی بیویوں کو بھی ان سے الگ رہنے کی تاکید کردی گئی۔ فی الواقع مدینہ کی بستی میں ان کا وہی حال ہو گیا تھاجس کی تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے۔ آخرکار جب ان کے مقاطعہ کو ۵۰ دن ہو گئے تب معانی کا حکم نازل ہوا…
جماعت کو دیکھیے تو اس کے ڈسپلن اور اس کی صالح اخلاقی اسپرٹ پر انسان عش عش کر جاتا ہے۔ ڈسپلن کا یہ حال کہ اُدھر لیڈر کی زبان سے بائیکاٹ کا حکم نکلا اِدھر پوری جماعت نے معتوب سے نگاہیں پھیر لیں ۔ جلوت تو در کنار خلوت تک میں کوئی قریب سے قریب رشتہ دار اور کوئی گہرے سے گہرا دوست بھی اس سے بات نہیں کرتا۔ بیوی تک اس سے الگ ہو جاتی ہے۔ وہ اللہ کا واسطہ دے دے کر پوچھتا ہے کہ میرے خلوص میں تو تم کو شبہ نہیں ہے، مگر وہ لوگ بھی جو مدت العمر سے اس کو مخلص جانتے تھے، صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے نہیں، اللہ اوراس کے رسولؐ سے اپنے خلوص کی سند حاصل کرو ۔ دوسری طرف اخلاقی اسپرٹ اتنی بلند اور پاکیزہ کہ ایک شخص کی چڑھی ہوئی کمان اُترتے ہی مُردار خوروں کا کوئی گروہ اس کا گوشت نوچنےاور اسے پھاڑ کھانے کےلیے نہیں لپکتا، بلکہ اس پورے زمانۂ عتاب میں جماعت کا ایک ایک فرد اپنے اس معتوب بھائی کی مصیبت پر رنجیدہ اوراس کو پھرسے اٹھا کر گلے لگانے کےلیے بے تاب رہتا ہے اور معافی کاا علان ہوتے ہی لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ جلدی سے جلدی پہنچ کر اس سے ملیں اور اسے خوش خبری پہنچائیں۔ یہ نمونہ ہےاُس صالح جماعت کا جسے قرآن دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے ۔ (تفہیم القرآن، دوم، سیّد مودودی، حاشیہ ۱۱۹)
یعنی زیرِعتاب فرد نے بھی دل سے اطاعت کی اور پوری جماعت نے بھی ڈسپلن کی مکمل پابندی کی۔ مشکل ترین حالات میں بھی ایمان اور باہمی محبت قائم و دائم نظر آتے ہیں۔ ایمان و باہمی محبت اور ہمدردی کی اس فضا میں غیبت، نجویٰ اور بددلی کی بُو تک نہ پائی گئی۔
ایمان، قربانی اور اطاعتِ نظم کا حسین امتزاج پوری طرح جگمگاتا اس واقعے میں نظر آتا ہے۔ غزوہ ذات السلاسل، ۸ ہجری میں پیش آیا۔شام کی سرحدوں پر قبیلہ قضاعہ اور دیگر دشمن قبائل مسلمانوں کے خلاف لشکر تیار کر رہے تھے۔ مدینہ کے امن کو خطرہ لاحق تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جواں سال صحابی عمرو بن العاصؓ کو تین سو جانبازوں کے ساتھ ان کی سرکوبی کے لیےبھیجا۔ اس لشکر میں ابوبکر صدیق، عمربن الخطاب، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر اصحاب بھی شامل تھے۔ یہ عمرو بن العاصؓ کی پہلی بڑی سپہ سالاری تھی۔ دشمن قریب آیا تو اندازہ ہوا کہ وہ کثیر تعداد میں ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کمک کی درخواست کی۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور لشکر بھیجا جس کی قیادت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے سپرد کی۔ جب یہ لشکر عمرو بن العاصؓ کے ساتھ جاملا تو سوال کھڑا ہوا: اب امیر کون ہوگا؟ کیونکہ ابو عبیدہ بن الجراحؓ جیسے کہنہ مشق کمانڈر ِلشکر بھی موجود تھے، لیکن رسولؐ اللہ کا فرمان تھا کہ جب لشکر ملے تو عمروؓ ہی امیررہیں گے۔ ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے کوئی تردّد نہ کیا، فوراً عمرو بن العاصؓ کی اطاعت قبول کی اور نظم کی پاسداری کی اعلیٰ مثال بنے۔
میدان میں پڑاؤ ڈالا گیا۔ سخت سردی تھی۔ صحابہؓ نے کہا: ’’آگ جلائی جائے تاکہ کھانے پکیں اور گرمی حاصل ہو‘‘۔ لیکن عمرو بن العاصؓ نے کسی کو آگ جلانے کی اجازت نہیں دی ۔ کئی صحابہؓ کے دل میں یہ فیصلہ سخت ناگوار گزرا۔ مگر حکمِ امیر کے سامنے سب نے صبر کیا۔ رات اندھیرے اور سردی میں کٹ گئی( امیرلشکر عمرو بن العاص ؓ جانتے تھے کہ اگر آگ جلائی گئی تو دشمن ہماری کم تعداد دیکھ لے گا اور حملہ کر دے گا۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر مشکل تھا، لیکن دراصل یہ لشکر کو بچانے کی حکمت عملی تھی)۔
غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں خود عمرو بن العاصؓ کو احتلام ہو گیا اور وہ تیمم کر کے فجر پڑھانے کھڑے ہو گئے۔ بعض صحابہؓ اس پر بہت جزبز ہوئے لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کمانڈر میں ہوں، لہٰذا امامت میں ہی کراؤں گا۔ جنگ ہوئی، مسلمانوں کے قلیل لشکر نے فتح پائی، دشمن کے قبائل بکھر گئے۔ کچھ صحابہؓ نے کہا کہ دشمن کا پیچھا کریں لیکن عمرو بن العاصؓ نے یہ رائے تسلیم نہ کی اور لشکر کو واپس جانے کا حکم دیا ۔ کچھ صحابہؓ نے یہ فیصلہ بھی ناپسند کیا، مگر اطاعت کی۔
جب لشکر واپس آیا تو کچھ صحابہؓ نے ان فیصلوں کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی صورت میں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاصؓ سے وضاحت طلب کی۔ انھوں نے وضاحت پیش کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمام تدابیر کو درست قرار دیا اور فرمایا کہ امیر کی اطاعت ضروری ہے۔ خاص طور پر تیمم اور نماز پڑھانے کے واقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمرو ! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا : ’’میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًـا۲۹ (النساء ۴:۲۹) ’’تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے‘‘۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور عمر بن العاصؓ کو کچھ نہیں کہا۔ (ابوداؤد :۳۳۴)
یہ واقعہ ہمیں تین روشن سبق دیتا ہے:
آج کے اس دورِ پُرفتن میں امتِ مسلمہ ایک ہمہ گیر یلغار کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف عالمی فوجی قوتوں نے ہمارے ملکوں کو کمزور کر دیا ہے۔ دوسری طرف تہذیبی اور فکری حملوں نے ہماری نئی نسل کے ایمان اور اخلاق کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر ہماری صفیں کمزور ہوں، اور ہم منتشر اور بے نظم ہوں، تو ہم دشمن کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکیں گے۔
اسلامی تحریکات میں جب بعض اوقات کارکنان کی اطاعت میں کمزوری سامنے آتی ہے، تو یہ تحریک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
بعض اوقات کارکنان میں نظم و اطاعتِ نظم کے موضوع پر باقاعدہ تربیت اور شعور نہیں ہوتا، خصوصاً نئے کارکنان کو صحیح انداز سے اس اصول کی اہمیت معلوم نہیں ہوتی۔ کارکنان کو یہ شعور اور تربیت دینا بھی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
جبلہ بن ایہم آل جفنہ کا بادشاہ تھا۔ جب وہ اسلام قبول کرکے اپنے خاندان کے پانچ سو افراد کو لے کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں آیا تو انھیں بہت خوشی ہوئی۔ آپؓ نے لوگوں کو اس کا استقبال کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ لطف و عنایت کا معاملہ کیا اور اسے اپنی نشست سے قریب کر لیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حج کا ارادہ کیا تو جبلہ بھی ان کے ساتھ حج کے لیے نکلا۔ خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت اس کی لنگی بنو فزارہ کے ایک شخص کے پیر کے نیچے آگئی اور کھل گئی۔ جبلہ نے طیش میں آکرفزاری کی ناک لوچ لی، اس پر حضرت عمرؓ نے جبلہ کو بلوایا اور اس معاملہ کے بارے میں دریافت فرمایا۔
جبلہ نے کہا: یہ واقعہ بالکل صحیح ہے امیرالمومنین ، اس نے میری لنگی گرا دی، اگر حرمت کعبہ کا پاس اور احترام نہ ہوتا تو میں اس کی گردن اڑا دیتا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: تو نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ اب یا تو اس شخص کو راضی کر لو، ورنہ میں اسے تم سے قصاص دلواؤں گا۔ جبلہ نے پوچھا: آپ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں تمھاری ناک نوچنے کا حکم دوں گا جس طرح تو نے اس کی ناک نوچی۔جبلہ نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے امیرالمومنین؟ میں ایک بادشاہ ہوں اور وہ ایک عام آدمی ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اسلام کی نگاہ میں تم دونوں برابر ہو۔ تم اس پر تقویٰ اور خدا ترسی کے ذریعے ہی فوقیت حاصل کر سکتے ہو۔ اگر تم نے اسے راضی نہ کیا تو میں اسے تم سے قصاص دلواؤں گا۔جبلہ نے جواب دیا: پھر تو میں نصرانی ہوجاؤں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر تم نصرانی ہو گئے تو تمھاری گردن مار دی جائے گی، اس لیے کہ تم اب مسلمان ہوچکے ہو۔ اسلام لانے کے بعد مرتد ہونے والے کی سزا قتل ہے۔
جب جبلہ نے امیرالمومنین ؓ کی صداقت اور جرأت کو بھانپ لیا تو اس نے کہا: میں اس پر رات میں غور کروں گا۔پھر جب لوگ سو گئے تو جبلہ اپنے ہم سفر ساتھیوں اور خاندان کے لوگوں کو لے کر چپکے سے شام کی طرف فرار ہو گیا اور وہاں سے قسطنطنیہ کی طرف جانکلا اور نصرانی ہو گیا۔
جبلہ نے کبرو غرور کی بناپر امیر المومنینؓ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اس نے اسلام کو چھوڑ کر نصرانیت اختیار کر لی اور ہدایت پر ضلالت کو ترجیح دی۔
مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’جو شخص اس [اقامت دین کی جدوجہد کے]کام میں شریک ہونے کے بعد بھی کسی حال میں چھوٹا بننے پر راضی نہ ہو اور اطاعت کو اپنے مرتبے سے گری ہوئی چیز سمجھے یا حکم کی چوٹ اپنے نفس کی گہرائیوں میں محسوس کرے اور تلخی کے ساتھ اس پر تلملائے یا اپنی خواہش اور مفاد کے خلاف احکام کو ماننے میں ہچکچائے، وہ دراصل اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ ابھی اس کے نفس نے اللہ کے آگے پوری طرح سرِ اطاعت خم نہیں کیا ہے اور ابھی اس کی انانیت اپنے دعوؤں سے دست بردار نہیں ہوئی ہے‘‘۔(ہدایات)
اطاعت سے منہ موڑنا فرد کے ساتھ تحریک کے لیے درج ذیل خطرات کا باعث بن سکتا ہے:
اللہ تعالیٰ نے اطاعت سے رُوگردانی کو منافقین کی صفت بھی قرار دیا: يَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ۰ۡ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ۰ۭ (النساء۴:۸۱) ’’وہ کہتے ہیں ہم اطاعت کریں گے لیکن جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو آپ کی باتوں کے خلاف سازشیں کرتا ہے‘‘۔
یہ بڑی اہم آیت ہے۔ اس دور میں منافقین یہ کام کرتے تھے۔ آج کے دور میں بعض ارکان جماعت کے اندر بھی یہ امراض پائے جاتے ہیں۔ قائد تحریک کے خلاف گفتگو، نجویٰ، نجی محفلوں میں تنقید اور تحقیر ، جماعت کی پالیسیوں کے خلاف تبصرے، یہ سب تحریک کو کمزور کرنے والی چیزیں ہیں۔ سورئہ مجادلہ میں واضح الفاظ میں اس سے منع فرمایا گیا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۰ۭ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ۹ (المجادلہ۵۸:۹)اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کر و تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اُس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہوجس کے حضور تمھیں حشر میں پیش ہونا ہے۔
غور طلب بات ہے کہ اطاعت بھی نہ کرنا اور پھر نجی محفلوں میں تنقید و تبصرے بھی کرنا دراصل کبروغرور کی علامت ہے اور قرآن مجید اس کو نفاق کی علامت بھی قرار دیتا ہے۔نیز جب کارکنانِ تحریک، مقاصدِ تحریک سے دُور ہوجاتے ہیں تو تعلق باللہ میں بھی کمزور ہوجاتے ہیں، پھر ان سے کمزوریوں کا صدور ہوتا ہے۔ اس پر قیادت اور کارکنان سب کو تفکر و تدبر اور تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی قیادت کو سمجھنی چاہیے کہ جب ارکان کی رائے کو مطلوبہ اہمیت نہ دی جائے تو اس سے بھی اضطراب اور نجویٰ جنم لیتے ہیں۔
نعیم صدیقی تحریکی شعور میں لکھتے ہیں: اسلامی نظامِ سمع و طاعت کے متعلق متعدد ہم معنی احادیث میں سے صرف ایک کو یہاں نقل کرتا ہوں:’’روایت جنادہ بن امیہ کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم عبادہ بن صامتؓ کے پاس گئے جو حالت مرض میں تھے، پھر ان سے ہم نے کہا کہ اللہ آپ کو شفا دے، ہم سے کوئی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تاکہ اللہ اسے ہمارے لیے باعثِ افادہ اور آپ کے لیے باعثِ صحت بنا د ہے ۔ انھوں نے (جواباً) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (بیعت کی) دعوت دی۔ اور ہم نے (رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر) بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو اقرار لیا ( اور جس پر ہم نے بیعت کی) وہ یہ بات تھی کہ ہم سمع و طاعت کے پابند رہیں ، پسندیدہ صورتوں میں بھی اور ناپسندیدہ صورتوں میں بھی ، آسانی کی حالت میں بھی اور تنگی کی حالت میں بھی۔ اور اس صورت میں بھی کہ ہم دباؤ میں ہوں اور یہ کہ ہم اختیار کے معاملے میں اہل اختیار سے نزاع نہ کریں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اضافہ فرمایا: ’’اِلاّ یہ کہ تم صریح و نمایاں کفر ( کے صدور) کو دیکھو، جس کے متعلق تمھارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہو‘‘۔ (صحیح مسلم)
فرمانِ نبویؐ سے یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ایک صحیح اسلامی اجتماعیت کا معاملہ عام سیاسی پارٹیوں کی طرح کا نہیں ہوتا، جو چیز چاہی مان لی ، جس معاملے میں چاہا اختلاف کر کے الگ بیٹھ رہے، اور دوسروں میں اپنا اختلافی نقطۂ نظر پھیلانا شروع کردیا اور اس سے بھی تسکین نہ ہو تو معاملہ کو پریس میں لاکر الْمَجَالِسُ بِالْاَمَانَۃَ کی تعلیم کو پامال کردیا۔ یہ حقیقت بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ اسلامی اجتماعیت کے نظامِ امر اور نظامِ مشاورت اور حدودِ اختلاف کی خلاف ورزی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی نافرمانی ہے جس کے سرزد ہونے کے بعد توبہ کے علاوہ کوئی راہِ نجات نہیں۔
مندرجہ بالا فرمانِ نبویؐ کی رُو سے جماعتی فیصلوں کے مخالف دلائل سامنے لانے، براءت کا اظہار کرنے یا بگڑجانے کے لیے صرف ایک ہی حتمی بنیاد ہے، اور وہ یہ کہ اصحابِ امر یا اربابِ مشاورت کی طرف سے کھلے کھلے کفر کا ارتکاب ہو ، اور کھلے کفر کا فیصلہ محض جذبات سے نہیں کیا جائے گا، بلکہ آدمی کے پاس اللہ کی طرف سے صاف صریح دلیل ہونی چاہیے۔ یہ ہے کسی اسلامی نظامِ جماعت میں طاعت کی آخری حد۔ اگر لوگ اس آخری حد کے آنے سے پہلے ہی ہراختلاف پر منہ پھیر لیں تو نتیجہ سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ ’’ایک تیز رو ندی جو چٹانوں کو ریلتی جاتی ہو، کئی دھاروں میں تقسیم ہو جائے اور چھوٹے چھوٹے دھارے اس قابل بھی نہ ہوں کہ راستے میں جمع ہوجانے والے انبارِ خس و خاشاک کو بہا لے جاسکیں ۔اختلاف جب اپنی حدود کا پابند نہ رہے تو پھر اجتماعیت کا قائم رہنا ممکن نہیں رہتا ۔ سمع وطاعت کے اسلامی اصولوں اور دیرینہ عملی روایات کو اگر توڑا جانے لگے تو اور پھر کسی فرد کی بھی سربراہی اور کسی مجلس کی مشاورت کی قوت کام نہ کر سکے گی‘‘۔ (تحریکی شعور،ص ۳۱۴-۳۱۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے‘‘۔مزید فرمایا: ’’ایک مسلمان پر اپنے امیر کی سمع و طاعت فرض ہے خواہ اس کا حکم اسے پسند ہو یا نا پسند، تا وقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے ۔ اور جب معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر کوئی سمع و طاعت نہیں‘‘۔ (بخاری ، کتاب الاحکام)
یہ مضمون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت ارشادات میں مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے۔
امیرالمومنین ابوبکرؓ اپنے ایک خطبے میں فرماتے ہیں: ’’جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے معاملات میں سے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا گیا اور پھر اس نے لوگوں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق کام نہ کیا اس پر اللہ کی لعنت‘‘۔اسی بنا پر خلیفہ مقرر ہونے کے بعد انھوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ ’’میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا رہوں اور جب میں اللہ اور اس کے رسول ؐکی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے‘‘۔ (کنز العمال)
اسلام نے اگر حق کے معاملے میں قیادت کی اطاعت کو مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے، تو غیر حق میں اس کی نافرمانی کو جائز بلکہ واجب کہا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’مسلمان پر اس کی پسند و ناپسند کے تمام معاملات میں سمع و طاعت واجب ہے، الا یہ کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔ اگر اس کو گناہ کا حکم دیا جائے تو سمع و طاعت کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
امیرالمومنین علیؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا جس کا امیر ایک انصاری کو بنایا اور لشکر کو امیر کی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔ مگران لوگوں نے امیر کو کسی معاملے میں غضب ناک کر دیا اور امیر نے حکم دیا کہ میرے سامنے لکڑیاں جمع کرو۔ چنانچہ لوگوں نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر حکم دیا کہ اس میں آگ لگاؤ، لوگوں نے حکم کی تعمیل میں اسے شعلہ دکھا دیا۔ پھر اس نے کہا:کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ میری اطاعت کرو گے؟ لوگوں نے کہا، کیوں نہیں۔ تب امیر نے کہا، تو اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا، ہم تو آگ سے بھاگ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے۔ لوگ اسی طرح ٹال مٹول کرتے رہے یہاں تک کہ امیر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی۔ بعد میں جب لوگ واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر یہ لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو کبھی نہ نکل پاتے‘‘۔ اور فرمایا: ’’اللہ کی معصیت میں اطاعت نہیں ، اطاعت تو صرف معروف میں ہے‘‘۔
یہ دراصل جماعتی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ امیر کی اپیل کارکنان پر اثر انداز نہ ہو اور وہ [مجبور ہو کر] ’حکم‘ دینے کی ضرورت محسوس کرے ۔ ’حکم‘ تو تنخواہ دارفوج کے سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ رضاکار سپاہی جو اپنے دل کے جذبے سے اپنے خدا کی خاطر اکٹھے ہوئے ہوں، خدا کے کام میں خود اپنے بنائے ہوئے امیر کی اطاعت کے لیے حکم کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ ان کو تو صرف یہ اشارہ مل جانا کافی ہے کہ فلاں جگہ تم کو اپنے رب کی فلاں خدمت بجالانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ کیفیت جس روز اصحابِ امر اور ان کے رفقا میں پیدا ہو جائے گی ، آپ دیکھیں گے کہ آپس کی و ہ بہت سی بدمزگیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی، جو وقتاً فوقتاً [امیروں اور ماموروں کے درمیان] پیدا ہوتی رہتی ہیں‘‘۔ (ہدایات)
اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ میں بہت وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اور قابض اسرائیل نے وہاں کے شہریوں کا بہت بڑے پیمانے پر قتل عام کیا ہے۔ لہٰذا غزہ کی فوری تعمیرِ نو نہایت ضروری ہے۔ لیکن تعمیرِ نو کے اس عمل کا امکان کن مسائل اور مشکلات سے ہو کر گزرے گا ، اس کا اندازہ کرنے کے لیے چند حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
غزہ کا جاری بحران صرف انسانی پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ واضح طور پر سیاسی بحران ہے۔ حماس ۲۰۰۷ء سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹوں کے مطابق شفاف ترین انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر غزہ کے حکومتی معاملات چلا رہی ہے، جس کو بنیاد بناکر تعمیرِ نو کی کوششوں کوپیچیدہ بنایا جارہا ہے کیونکہ اسرائیل حماس کی حکومت کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
یہ موضوع سیاسی میدان میں ایک کانٹے دار مسئلہ ہے، کیونکہ تعمیرِ نو کا گہرا تعلق سیاسی رسہ کشی سے ہے جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا۔ ہر فریق کے پاس جنگ کے بعد کے غزہ کے لیے ایک الگ وژن ہے، جو باہم متضاد ہے، جس سے ملبہ ہٹانے کا عمل مستقبل میں ایک ’پراکسی جنگ‘ میں بدل جاتا ہے۔
رام اللہ، القدس، واشنگٹن، برسلز، دوحہ اور قاہرہ کے ایوانوں میں جو سوال گونج رہا ہے وہ یہ نہیں کہ کیا غزہ دوبارہ تعمیر ہوگا؟ بلکہ یہ ہے کہ یہ کیسے دوبارہ تعمیر ہوگا؟ اور کون اسے دوبارہ تعمیر کرے گا؟ اور کس کے اختیار کے تحت یہ تعمیر ہوگا ؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ غزہ کو کس مقصد کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا؟ غزہ کی تعمیرِ نو محض انجینئرنگ یا انسانی چیلنج نہیں ہے، بلکہ یہ فلسطینی عوام کے مستقبل اور قابض فلسطینی اتھارٹی کی کش مکش کے بارے میں ایک ہائی اسٹیکس بات چیت ہے۔
مابعد جنگ کی حقیقت (post-war reality) میں یہ تعین کرنا کہ غزہ میں کس کی حکومت ہوگی، کسی بھی تعمیرِ نو کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل امر ہے۔ عطیہ دینے والے ممالک ضمانتیں چاہتے ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری دوبارہ تنازع کی وجہ سے تباہ نہ ہو ۔ سرمایہ کاری کے لیے حکمرانی میں استحکام (governance stability) اور حکمرانی کی قانونی حیثیت (governance legitimacy)کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ حکمرانی کی قانونی حیثیت اور اس کا کنٹرول ابھی تک حل طلب ہے۔ حماس سے منسلک کئی سرکاری ملازمین اس ماحول میں بھی عملی کام کر رہے ہیں اگرچہ اسے متنازع قرار دیا جاتا ہے ۔
رام اللہ میں کمزور فلسطینی اتھارٹی، جو مغربی کنارے میں بھی قانونی عوامی حیثیت سے محروم ہے، جنگ کے بعد کے مرحلے کو دونوں علاقوں میں فلسطینی عوام کے واحد جائز نمائندے کے طور پر اپنے کردار کی دوبارہ تصدیق کا ایک ممکنہ ذریعہ دیکھتی ہے، اگرچہ اس کا مشن خطرات سے بھرا ہوا ہے۔ صدر عباس اور ان کے حکومتی عہدے داروں نے ایک’نو تشکیل شدہ‘ (revitalized) فلسطینی اتھارٹی کی تجویز دی ہے جو غزہ میں حکومت سنبھالے، جس میں بین الاقوامی امن فورس بھی موجود ہو تاکہ استحکام بھی ممکن ہو سکے اور یہودی ریاست بھی مطمئن ہوجائے ۔ اس کے باوجود، فلسطینی اتھارٹی کو زبردست چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس کی سیکیورٹی فورسز کمزور ہیں، غزہ کے رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد اس کے اداروں کو بدعنوان اور غیر مؤثر سمجھتی ہے، اور تباہ شدہ پٹی میں مؤثر حکومت کے لیے مالی وسائل اور ضروری عرب سیاسی حمایت سے بھی یہ محروم ہے۔ سیکیورٹی خدمات فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت پر بھی بڑے شکوک و شبہات ہیں۔
ٹرمپ حکومت اور اس سے قبل بائیڈن حکومت نے ’فلسطینی اتھارٹی کی بحالی‘ کے ماڈل کا ’دو ریاستی حل‘ کے طور پر کھلے عام دفاع کیا ہے۔ اس وژن کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے اور تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد کے وعدے حاصل کرنے کے لیے بڑی سفارتی کوششیں کی ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود، امریکی پالیسی سب سے پہلے کانگریس سے جڑی ہوئی ہے، اور دوسری بات یہ کہ صہیونیت نواز لابیوں کے ذریعے اپنے اندرونی سیاسی دباؤ کے تابع ہو کر، صہیونی ریاست کے سیکیورٹی مطالبات کی غیرمتزلزل حمایت سے بھی وابستہ ہے، اور تیسری بات یہ کہ امریکا کو فلسطینی اتھارٹی کے لیے اپنی حمایت کو متوازن بنانے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے تاکہ حماس کو مضبوط کیے بغیر شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے، جو کہ تقریباً ناممکن ہے۔
جہاں تک قطر کا تعلق ہے، یہ کئی برسوں سے غزہ کے لیے ایک بڑا فنڈ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، جو اکثر حماس کو تنخواہوں اور ایندھن کی ادائیگی کے لیے براہ راست رقم بھیجتا رہا ہے، جس سے یہ ایک فیصلہ کن لیکن متنازع فریق بن جاتا ہے۔
امریکا حالیہ لڑائی سے پہلے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک تاریخی معاہدے میں ثالثی کر رہا تھا۔ اگرچہ جنگ نے ان مذاکرات کو روک دیا، لیکن اس نے ایک نیا تعلق بھی پیدا کیا۔ سعودی عرب نے اب تعلقات کے ایک قابل اعتماد راستے کو فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیادی شرط بنا دیا ہے، جس سے ریاض کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات انسانی امداد فراہم کرتے ہیں، لیکن وہ ’ابراہیم معاہدوں‘ کے ذریعے قابض اسرائیل کے ساتھ اپنے معمول کے معاہدوں پر تیزی سے توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر زور دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت میں غزہ کو فنڈ دینے کے لیے کم ہی مائل ہو سکتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے وژن کے لیے ان کی حمایت اکثر غیر فعال اور مشروط ہوتی ہے۔
غزہ کی تعمیرِ نو اور اس کی مستقبل کی حکمرانی کے لیے مختلف بین الاقوامی تجاویز اور منصوبے ہیں، جن میں سب سے پرانا متنازعہ ’دی گریٹ ٹرسٹ پلان‘ ہے جو امریکی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک ہے، اور پھر اب اس میں سرفہرست ۲۱ نکات پر مشتمل امریکا کا منصوبہ اور مربوط بحالی کی کوششیں ہیں جو عرب لیگ، بین الاقوامی برادری اور کثیر جہتی تنظیموں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔
ناقدین ’عظیم اعتماد منصوبے‘ کو حقیقی تعمیرِ نو کے بجائے آبادی کو بے دخل کرنے کا ایک خاکہ سمجھتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ یہ فلسطینی خودمختاری کو کمزور کرے گا، اور ترقی اور سلامتی کے پردے میں انسانی بحرانوں کو جنم دے گا۔ مقامی مخالفت اور جغرافیائی سیاسی پیچیدگیاں اس کی عملیت اور اخلاقی بنیادوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں۔
یہ منصوبہ امریکی انتظامیہ کے سیکورٹی خدشات اور انسانی و سیاسی حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کا عکاس ہے۔ تاہم، غزہ کے رہائشیوں اور عالمی برادری کے درمیان اعتماد سازی اب بھی ایک مشکل کام ہے۔
بین الاقوامی برادری بحالی کے لیے مالی امداد کے وعدے کرنے میں تو جلدی میں تھی، چنانچہ جنوری/فروری ۲۰۲۴ء میں منعقدہ پیرس کانفرنس میں، عطیہ دہندگان نے فوری انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے لیے ۷؍ارب ڈالر سے زیادہ کا وعدہ کیا۔ یورپی یونین اور خلیجی ممالک اور دیگر نے بڑی رقمیں شامل کیں، لہٰذا فنڈز نظریاتی طور پر تو موجود ہیں لیکن درحقیقت وعدوں سے عمل درآمد (from pledge to pavement) تک کا راستہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے۔
امریکا فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑا انفرادی عطیہ دہندہ رہا ہے۔ تاہم، غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈنگ واشنگٹن میں ایک کانٹے دار سیاسی میدان ہے، کیونکہ ٹیلر فورس ایکٹ جیسی قانون سازی، جو امریکی اقتصادی امداد کو براہِ راست فلسطینی اتھارٹی کو فراہم کرنے سے روکتی ہے۔ اگر وہ عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو تنخواہیں (شہداء کے لیے معاوضے) جاری رکھتی ہے،تو یہ قانون سازی اس کو سختی سے محدود کرتی ہے۔ مزید برآں، غزہ کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی کسی بھی انتظامیہ کو کانگریس میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، جہاں حماس کو فائدہ پہنچانے والی کسی بھی امداد کے خلاف دونوں جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
سعودی عرب غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈ فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے معاہدے کے حصے کے طور پر ہی تیار ہوسکتا ہے کہ جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے مقابلے میں ہی صہیونی نظام کو رعایتیں شامل ہوں۔ یہ ایک ایسا امکان ہے، جس کی قابض اسرائیلی حکومت سختی سے مخالفت کرتی ہے۔
متحدہ عرب امارات بڑی رقم کی صورت میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر ایک وسیع تر سیاسی تصفیے کے حصے کے طور پر، جو ایرانی اثر و رسوخ کے مقابلے میں خطے کے بارے میں ان کے وژن سے ہم آہنگ ہو۔ اور ان کی سرمایہ کاری حماس کو گورننس سے دُور رکھنے کے ہتھیاروں سے پاک کرنے کی سخت شرائط کے ساتھ ہی آئے گی۔
یہ سارا عمل دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو محض ایک سراب ہے، یاوعدوں کی خوش نما جھلک، جس کا حقیقت میں ڈھلنا شاید ہی ممکن ہو۔
بھارت کے ایک سول سوسائٹی گروپ نے حال ہی میں کشمیر کا تفصیلی دورہ کرکے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خطے میں حالات پریشان کن، غیر مستحکم اور خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ سیاسی، سول سروس اور فوج سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مشتمل اس گروپ نے ۲۸ سے ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کے درمیان کشمیر اور جموں کا تفصیلی دورہ کیا، درجنوں افراد سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت بھارتی حکومت کے بیانیے سے بالکل مختلف ہے۔ ’کنسرنڈ سٹیزنز‘ یعنی ’فکر مند شہریوں کے گروپ‘ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سماجی کارکن سشوبابھا ر وے، ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ)کپل کاک اور سینئر صحافی بھارت بھوشن شامل تھے۔
یہ گروپ دراصل ۲۰۱۶ء میں وادیٔ کشمیر میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے بعد قائم کیا گیا تھا۔گروپ کے اراکین نے واضح کیا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، اور ان کے تمام دورے اور سرگرمیاں ذاتی وسائل سے انجام پاتی ہیں۔حال ہی میں کیا گیا ان کا کشمیر میں یہ گیارھواں دورہ تھا، جس کے بعد انھوں نے نئی دہلی میں ایک رپورٹ جاری کی۔
سول سوسائٹی اراکین کے مطابق ’’کشمیر بظاہر خاموش ہے، مگر یہ خاموشی اطمینان یا بہتری کی علامت نہیں، بلکہ خوف، دباؤ، نگرانی اور دبے ہوئے غصے کا نتیجہ ہے‘‘۔ رپورٹ کے الفاظ میں ’’کشمیر ’خاموش اور اُداس‘ ہے، اختلافِ رائے خطرناک ہو چکا ہے، اور ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے اقدامات کے بعد سے بیگانگی اس حد تک بڑھ چکی ہے، جو ماضی کے کسی بھی دور میں دیکھنے میں نہیں آتی ہے‘‘۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ’’غصہ اب صرف وادی تک محدود نہیں رہا بلکہ جموں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے‘‘۔
دورے کے دوران گروپ نے سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، تاجروں، صحافیوں، طالب علموں، وکیلوں اور مذہبی شخصیتوں سے تفصیلی بات چیت کی۔ تقریباً تمام ملاقاتوں میں سب سے نمایاں، غالب اور مشترک احساس خوف کا تھا۔ سری نگر میں مقیم ایک سینئر ڈاکٹر نے گروپ کو بتایا کہ ’’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے، جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے‘‘۔اسی ڈاکٹر سے ملاقات اور دیگر کئی ملاقاتوں میں بھی، لوگوں نے گروپ کو بار بار یہ احساس دلایا کہ حالات کسی بڑے دھماکے کی طرف بڑھ رہے ہیں‘‘۔ متعدد افراد نے ایک ہی جملہ دہرایا کہ ’’کچھ بڑا ہونے والا ہے، کچھ بڑا ہونے والا ہے۔‘‘ایک سینئر ایڈیٹر نے کہا کہ ’’کشمیری معاشرے کی یہ خاموشی غیر فطری اور غیر مستحکم ہے، اور جب یہ ٹوٹے گی تو اس کے نتائج نہ صرف کشمیر بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہوں گے‘‘۔
سب سے چونکا دینے والا انکشاف حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے کیا۔ انھوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’اکثر اوقات مجھے تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے۔ جس روز اس کی اجازت ملتی ہے، اس سے ایک روز قبل مجھے خطبہ اور وعظ کے نکات حکام کے حوالے کرنے پڑتے ہیں، اور ان کی اجازت کے بعد ہی ان کو خطاب کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ نکاح کی مجالس میں جانے سے قبل دُلھا اور دُلھن کے خاندان کے کوائف حکام کو دینے پڑتے ہیں اور جانچ پڑتا ل کے بعد ہی نکاح کی مجالس میں جانے اور نکاح خوانی کی اجازت ملتی ہے‘‘۔
ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ’’ ۲۰۱۹ء کے بعد سے کشمیری شناخت کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر بندوبست موجود نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’معاشی محرومی کے بڑھتے ہوئے احساس کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ کشمیری ہونے کی کوئی ضمانت یا تحفظ باقی نہیں ہے‘‘۔ کئی افراد نے بتایا کہ ’’ہمیںانڈیا کے دیگر حصوں میں گالیوں، نفرت انگیز رویوں اور دقیانوسی تصورات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔سرینگر کی سول سوسائٹی کے ایک رکن نے وفد کو بتایا کہ کشمیر میں منعقد ہونے والے ایک متنازعہ فلمی گلوکار کے ایونٹ کو ’ثقافتی یلغار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’مقامی لوگ اسے کشمیری تہذیب اور وقار کی دانستہ توہین سمجھتے ہیں‘‘۔
رپورٹ کے مطابق: ’’مئی ۲۰۲۵ء میں ’آپریشن سِندور‘ اور اس کے بعد نومبر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد انڈیا مخالف جذبات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر نوجوان شدید ذہنی اور سماجی بحران کا شکار ہیں۔ گروپ کا مشاہدہ ہے کہ نوجوان دو خطرناک راستوں کے درمیان پھنس چکے ہیں: ایک طرف منشیات کی لت، اور دوسری طرف شدت پسندی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہے‘‘۔
سیاسی سطح پر رپورٹ کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۴ء کے اسمبلی انتخابات کے باوجود جموں و کشمیر میں جمہوریت کی شکل محض رسمی حیثیت رکھتی ہے۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں منتخب حکومت کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے، مگر حقیقی اختیار بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ عمر عبداللہ نے خود گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو ’’آدھا وزیر اعلیٰ‘‘ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’وادی کی ۴۷میں سے ۴۱ نشستوں کا واضح مینڈیٹ حاصل ہونے کے باوجود منتخب حکومت بے اختیار ہے، جب کہ انتظامیہ پر لیفٹیننٹ گورنر کا کنٹرول برقرار ہے۔اہم فیصلے، جن میں سول سرونٹس اور پولیس افسران کی تعیناتیاں شامل ہیں، منتخب ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ اس طرزِ حکمرانی نے عوام میں شدید مایوسی کو جنم دیا ہے‘‘۔ شہریوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’بہت کم کشمیری افسران کو ضلعی سطح پر ذمہ داریاں دی جاتی ہیں، جب کہ باہر سے آنے والے افسران نہ مقامی زبان سمجھتے ہیں اور نہ زمینی حقیقت جانتے ہیں، جس سے عدم اعتماد مزید گہرا ہوتا جارہا ہے۔
’نیشنل کانفرنس‘ کے اندرونی اختلافات، خاص طور پر عمر عبداللہ اور بڈگام سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ کے درمیان تنازعات، نے حکومت کو مزید کمزور کیا ہے۔حال ہی میں بڈگام کے ضمنی انتخاب میں نیشنل کانفرنس کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف پی ڈی پی کی لیڈر محبوبہ مفتی کی سیاسی سرگرمیوں میں دوبارہ جان آتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کی طرف سے کشمیری قیدیوں کو مقامی جیلوں میں منتقلی کے مطالبے پر دائر عوامی مفاد کی درخواست اور احتجاجی سیاست نے ان کے لیے ہمدردی پیدا کی ہے۔
یہ رپورٹ یاد دلاتی ہے کہ ’’اکتوبر ۲۰۲۴ء میں جموں و کشمیر اسمبلی نے ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کی قرارداد منظور کی تھی، مگر ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ریاستی درجہ نہ ہونے کے باعث انسانی حقوق کمیشن، صارفین کے ازالے کے ادارے اور اپیلٹ فورم مؤثر طور پر کام نہیں کر پا رہے، جس سے شہری ادارہ جاتی انصاف سے محروم ہیں‘‘۔
لوگوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’اگست ۲۰۱۹ء کے بعد آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی منسوخی کے نقصانات آج بھی تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ اس اقدام کو انھوں نے شناخت، عزت اور وقار کے نقصان سے تعبیر کیا‘‘۔ رپورٹ کے مطابق: ’’انڈین سپریم کورٹ کو بھی مرکز کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، اور اُس وقت کے جسٹس سنجیو کھنہ نے ایک علیحدہ عدالتی نوٹ میں ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ تاہم، پہلگام حملے اور مبینہ لال قلعہ جیسے واقعات کو فیصلے میں مزید تاخیر کے جواز کے طور پر استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے‘‘۔
نئی ریزرویشن پالیسی کو طلبہ نے ایک ’ٹائم بم‘قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق گو کہ انڈیا کے دیگر علاقوں میں ریزرویشن یعنی نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے نچلے طبقے کے لیے نشستیں مخصوص رکھنے کا ایک پس منظرہے، کشمیر میںاس کو اکثریتی آبادی کو بے اختیار کرنے اور سسٹم سے باہر کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ریزرویشن پالیسی کے تحت ریاست میں ۶۹فی صد کشمیری بولنے والی مسلم آبادی کے لیے نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ۴۰ فی صد سے کم نشستیں رہ گئی ہیں۔
میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کہتی ہے کہ ۲۰۲۴ء کے انتخابات کے باوجود صحافتی آزادی بحال نہیں ہوئی۔ سنسرشپ، دھمکی اور نگرانی بدستور جاری ہے۔کئی ایسے صحافی جو بڑے قومی اداروں سے منسلک ہیں، اُن کی ایکریڈیشن منسوخ یا مسترد کی جا چکی ہے۔ ’آپریشن سِندور‘ کے دوران مقامی صحافی آزادانہ رپورٹنگ سے قاصر رہے اور کئی صحافیوں کو پولیس نے طلب کیا۔ ایک صحافی نے کہا کہ سرکاری تقریبات کی کوریج کی اجازت نہ دیناجان بوجھ کر ہمارے صحافتی کیریئر کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ پھر ایک نیا سرکاری ہدایت نامہ صحافیوں سے کہتا ہے کہ وہ چھ ماہ کی تنخواہ کی رسیدیں اور تفصیلی پس منظر کی معلومات جمع کرائیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ ’حقیقی صحافی‘ ہیں۔ انتظامیہ نقالی اور اسناد کے غلط استعمال کی شکایات کا حوالہ دیتی ہے، لیکن صحافی اسے دخل اندازی اور خوف زدہ کرنے والا ہتھکنڈا قرار دیتے ہیں۔رپورٹ میں اس خدشے کو نمایاں کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر اکثر عسکری گروہوں کے ’اوور گراؤنڈ ورکرز‘ پر کریک ڈاون کی بات کرتے ہیں، جس سے رپورٹروں کو یہ خوف ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ’دہشت گرد ماحولیاتی نظام‘ کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔انھوں نے صحافی عرفان معراج کی طویل حراست کا حوالہ دیا، جنھیں دہلی کی روہنی جیل میںسوسے زیادہ دنوں سے رکھا گیا ہے، اور سماعتیں بار بار ملتوی کی جاتی ہیں۔
معاشی محاذ پر صورتِ حال مزید تشویش ناک ہے۔ پہلگام حملے کے بعد سیاحت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ ہزاروں ہوٹل مالکان، ٹیکسی ڈرائیور اور دکان دار موسمِ سرما سے قبل اپنی بنیادی آمدنی سے محروم ہو گئے۔ سری نگر جموں ہائی وے کی طویل بندش نے سیب کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، اور صرف پلوامہ منڈی میں نقصانات۲۰ بلین روپے سے تجاوز کر گئے۔
رپورٹ کے مطابق ہندو اکثریتی جموں میں بھی بیگانگی اور غصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ’آپریشن سِندور‘ کے بعد گولہ باری کے واقعات جموں شہر کے قریب تک پہنچ گئے، جس کے باعث کئی خاندان عارضی طور پر ہماچل پردیش اور دہلی منتقل ہوئے۔ بعض علاقوں میں مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جموں کے ایک دانش ور نے گروپ کو بتایا کہ وہ بھی خود کو ایک مقبوضہ کالونی کی طرح محسوس کرتے ہیں کیونکہ منصوبہ بندی میں جموں کا کوئی واضح مقام نظر نہیں آتا۔
چار دن کے سفر اور درجنوں ملاقاتوں کے بعد کنسرنڈ سٹیزنز گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال غیر مستحکم، پریشان کن اور منظم انداز میں غلط طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ رپورٹ اس واضح انتباہ کے ساتھ اختتام کو پہنچتی ہے کہ اگر سیاسی مکالمے، ریاستی درجہ کی بحالی، انتظامی اصلاحات اور اقتصادی تحفظات پر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، تو جموں و کشمیر پر چھائی بظاہر یہ خاموشی زیادہ دیر تک نہیں رہے گی۔
اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو ظالموں سے انتقام لینے والا، اہل ایمان کی دوستی اور نصرت و حمایت کا حکم دینے والا، اور ظالموں کے ساتھ دوستی اور ان کی طرف جھکاؤ سے منع کرنے والا ہے۔
درود و سلام ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے تمام آل و اصحاب پر، جو ذمہ داریوں کو نبھانے والے، مظلوموں کو پناہ دینے والے، ظلم کو مٹانے والے، ظلم کی عمارت اور بنیاد کو منہدم کرنے والے اور ظلم کےقریب جانے اور اس کا ارتکاب کرنے سے ڈرانے والے تھے۔
مسلمان کا خون اور عزت یقیناً معصوم اور محفوظ ہے، اور اگر وہ کسی مسلم ملک میں پناہ لیتا ہے تو اس ریاست پر اس کی نصرت و حمایت واجب ہے، یا کمزوری و بے بسی کی صورت میں کم سے کم اسے اس کی محفوظ جگہ تک پہنچانا واجب ہے۔ اس مسئلے میں ہمیں ان اہلِ علم کے درمیان کوئی اختلاف معلوم نہیں جو حق کے ساتھ فیصلہ کرتے ، اور حق کی بنیاد پر ہی انصاف کرتے ہیں۔البتہ اس شخص کو حوالے کرنا جسے زمین میں سرکشی، ظلم، زیادتی اور فساد کرنے والے طلب کریں، یہ تو بہت بڑے کبیرہ گناہوں، عظیم ہلاکتوں، اور بہت بڑی مہلکات اور فسادات میں سے ہے۔
ایک مسلمان کیسے ایک مسلمان کو کسی مفسد، فسادی اور ظالم کے حوالے کر سکتا ہے جو اس مسلمان کی عزت و آبرو اور جان و مال کو پامال کرے؟
یہ تو سرکشی، زیادتی اور زمین میں فساد برپا کرنے میں تعاون کرنا ہے، اور بلاشبہ یہ قطعی طور پر حرام ہے اور اس کی حرمت پر اہل علم کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔اس پر کتاب و سنت کے دلائل اس قدر قطعی اور حتمی ہیں کہ انھیں پڑھ اور سن کر دل لرز جاتے ہیں، ان کی ہیبت سے پیشانیاں کانپ جاتی ہیں اور جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہاں ان میں سے سترہ وجوہ، دلائل اور واضح ثبوت ذکر کیے جاتے ہیں:
۱- شریعت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول مسلمان کے خون، عزت اور مال کو حرام قرار دینا ہے، اور یہ بات دین میں نہایت ضروری اور لازمی طور پر معلوم ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون، عزت اور مال حرام ہے۔‘‘ (مسلم ،حدیث: ۴۷۵۶)
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر (قربانی کے دن) لوگوں سے خطاب میں فرمایا: ’’اے لوگو! یہ کون سا دن ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ’’حرمت والا دن‘‘۔ آپؐ نے مزید پوچھا:’’یہ کون سا علاقہ ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ’’حرمت والا علاقہ‘‘۔ آپؐ نے پھر پوچھا: ’’یہ کون سا مہینہ ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا:’’حرمت والا مہینہ‘‘۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: ’’تو تمھارے خون، تمھارے مال اور تمھاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے تمھارے اس دن کی حرمت ہے، تمھارے اس علاقے میں، تمھارے اس مہینے میں‘‘۔ آپؐ نے اس جملے کو کئی بار دُہرایا، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا:’’اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟‘‘ ابن عباسؓ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ آپ کی اپنی امت کے لیے وصیت تھی، لہٰذا جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچا دے کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘۔(بخاری، حدیث:۱۷۳۹)
یہ حدیث خطبۂ حجۃ الوداع کا حصہ ہے اور یہ اسلام کے بڑے، بنیادی اور حاکم قسم کے اصولوں میں سے ایک ہے۔لہٰذا جو شخص کسی پُر امن مسلمان کو کسی ظالم کے حوالے کرتا ہے، وہ اللہ کے غضب اور لعنت کا مستحق ہے، اور مسلمانوں کی عزت، خون اور مال کو حرام قرار دینے والے ان بڑے اور قطعی اصولوں کا مخالف ہے۔ اور مسلمان کو کسی ظالم کے سپرد کرنا اس کے خون، عزّت اور مال کی حرمت کو توڑنا اور پامال کرنا ہی ہے، اور یہ وہی ہلاکت خیز گناہ ہے جسے شریعت نے قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔
۲-اسلام نے تو پناہ کے طالب کافر کی حمایت و حفاظت کو بھی فرض ٹھیرایا ہے اور اسے اس کی جائے امن تک پہنچانا فرض قرار دیا ہے، کجا یہ کہ اسے کسی ظالم کے حوالے کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْہُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ۰ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ۶ۧ ( التوبہ۹ : ۶) اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمھارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اُسے اس کے مامن تک پہنچا دو۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے۔
اس آیت میں دو فرائض کا ذکر ہے: پہلا فرض، اس شخص کو پناہ دینا اور اسے قرآن سنانا، اور دوسرا فرض، اسے اس کے پُر امن ٹھکانے تک پہنچانا۔ غور کیجیے کہ یہ تو ایک کافر اور مشرک کے بارے میں حکم ہے، تو اُس مسلمان کے بارے میں حکم کی نزاکت کیا ہوگی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے؟ اور یہ نبوت کے آخری دور میں نازل ہونے والے احکام کی محکم (مضبوط) نص ہے۔ اس کو منسوخ کرنے یا ختم کرنے والا کوئی حکم نہیں ہے۔
مأمن سے مراد ’امن کی جگہ‘ ہے، اور یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں پناہ مانگنے والا اپنی سابق حالتِ امن کو پالیتا ہے، کیونکہ وہ اس کی قوم کا گھر ہوتا ہے جہاں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا۔(التحریر والتنویر ، ابن عاشور:۱۰/۱۱۹)
اسے اس کے محفوظ مقام پر پہنچانا اور اسے تحفظ فراہم کرنا، یہ ریاست کے اندر بھی ہوسکتا ہے، یا اس جگہ جہاں وہ جانے کی ریاست سے درخواست کرے۔ یہ مطلب اس لفظ کے عموم کی وجہ سے اخذ ہوتا ہے(المقدمة في فقه العصر، فضل بن مراد:۱/۲۹۱)
اور وہ محفوظ راستوں سے سفر کر سکیں یہاں تک کہ اپنے محفوظ مقام پر پہنچ جائیں(ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ ) کیونکہ وہ امان والے ہیں۔(المقدمہ فی فقہ العصر، ۲/۷۰۳)
اور سیاسی پناہ کا حق در اصل ہر انسان کے لیے یقینی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْہُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ۰ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ۶ۧ ( التوبہ۹ : ۶) اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمھارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اُسے اس کے مامن تک پہنچا دو۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے۔
یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ پناہ مانگنے والے کو پناہ دینا واجب ہے خواہ وہ مشرک ہو، اور اس میں سیاسی پناہ کا حق بھی شامل ہے۔اور اس کا مقصد ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ (پھر اسے اس کے محفوظ مقام پر پہنچا دو) (التوبہ۹ :۶) پر عمل کرنا ہے، اور یہی پناہ گزین اور پناہ کے طالب کے لیے تحفظ اور دیکھ بھال کا مقصود ہے۔
اگر وہ پناہ مانگ رہا ہو تو اسے اس کے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کو اس کے محفوظ مقام پر پہنچایا جائے گا، وہ مقام جہاں کہیں بھی ہو۔اور اس کا محفوظ مقام اُسی کے بتانے سے معلوم ہوگا، کیونکہ کسی شخص کے لیے محفوظ جگہ کا تعین عام طور پر اس کے ذاتی علم پر منحصر ہوتا ہے۔اور اس کا محفوظ مقام عام طور پر اس کا اپنا ملک ہی ہوتا ہے، یا اس میں کوئی خاص جگہ، یا دنیا کا کوئی مقام اور ملک، لہٰذا پناہ کے طالب کو یہ فراہم کیا جائے گا خواہ وہ کافر ہی ہو(المقدمة في فقه العصر،۱/۷۰۳)
۳-نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: مسلمان نہ اپنے مسلمان بھائی پر ظلم کرے اور نہ اسے دشمن کے حوالے کرے۔
سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے دشمن کے حوالے کرتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی تکلیف دُور کرے، اللہ اس سے قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دُور کرے گا، اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا‘‘۔(بخاری، حدیث:۲۲۴۴، ۶۹۵۱، مسلم ،حدیث:۶۶۷۰)
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی مسلمان کو کسی ایسے ظالم کے حوالے کرے جو اس کی عزّت اور خون کو پامال کرے گا، تو وہ حوالے کرنے والا شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی، اس کے حکم کی مخالفت ، ظالموں کا مددگار ، اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنےوالا اور تباہ کرنے والا قرار پائے گا۔
حافظ ابن حجر نے مذکورہ حدیث کی شرح میں فرمایا ہے: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے الفاظ لَا یَظْلِمُہ خبر ہے لیکن اس کا معنی امر میں لیا جائے گا، کیونکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر ظلم کرنا حرام ہے، اور آپ کے الفاظ وَلَا یَسْلِمُہ کا مطلب ہے: اسے اس شخص کے ساتھ نہ چھوڑے جو اُسے تکلیف پہنچاتا ہو اور نہ ایسی چیز یا حالت میں چھوڑے جو اسے تکلیف دیتی ہو، بلکہ اس کی مدد کرے اور اس کا دفاع کرے۔(فتح الباری لابن حجر ۵/ ۹۷)
ابن اثیر نے کہا ہے :اَسْلَمَ فُلَانٌ فُلَانًـا اس وقت کہا جاتا ہےجب کوئی شخص کسی شخص کی اس کے دشمن سے حفاظت نہ کرے اور اسے ہلاکت میں ڈال دے۔(جامع الاصول : ۶/۵۶۲)
ابن حزم نے اس کی مختلف صورتیں بیان کرتے ہوئے کہا ہے: ابو محمد نے فرمایا: جس نے کسی کو بھوکا اور ننگا چھوڑ دیا، جب کہ وہ اسے کھانا کھلانے اور کپڑے پہنانے پر قادر تھا ، تو اس نے اسے (دشمن کے) حوالے کر دیا۔ (المحلی بالآثار: ۴/۲۸۲)
اور جس نے اسے ظالموں کے حوالے کر دیا، اس نے نہ صرف اسے بھوک اور ننگ کے حوالے کیا ، بلکہ قتل، ہلاکت، بھوک، ننگ اور عزت کی پامالی کے حوالے کر دیا، لہٰذا اس کا گناہ قیامت تک اس کی گردن پر ہے۔
۴- اللہ تعالیٰ نے ایسے بہت سے نصوص میں مومنوں سے دوستی کا حکم دیا ہے جو نصوص علمی اور عملی طور پر ثبوت اور دلالت کی قطعی حد تک پہنچتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان کو زمین میں سرکشی اور ظلم کرنے والوں کے حوالے کرنا ایمان والوں سے رشتہ و تعلق اور دوستی کو توڑنا، ظلم و سرکشی اور فساد کرنا ہے، اور یہ کام وہی کرتا ہے جس کا ایمانی عہد و پیمان خراب ہو چکا ہو اور وہ ظالموں کی طرف مائل ہو چکا ہو اور ایمان کی بڑی شاخوں کے بندھنوں سے آزاد ہو چکا ہو۔
۵- شریعت کے بڑے قطعی اصولوں میں سے ایک اصول عہد کی وفاداری، اور غداری کی حرمت ہے، کیونکہ یہ بڑے ہلاکت خیز گناہوں میں سے ہے اور اس معاملے میں یہ سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔ گناہ اس چیز کے عظیم ہونے سے عظیم ہو جاتا ہے جس سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور یہاں یہ مسلمان کے خون، عزت، جان اور وقار کو پامال کرنے سے متعلق ہے۔ اور غداری تو منافقوں کی صفت ہے، اس سے اللہ کی پناہ! لہٰذا جس نے کسی مسلمان سے غداری کی وہ منافقوں کی صفت پر ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک بڑا گناہ ہے۔
بڑے گناہوں سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور جان بوجھ کر قتل کرنا بھی انھی بڑے گناہوں میں سے ہے اور مسلمان کو کسی ایسے شخص کے حوالے کرنا جو اسے قتل کردے بلا شبہ کبیرہ گناہ ہے۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو دیکھیے:
وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۲۹ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْہِ نَارًا۰ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرًا۳۰ اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا۳۱ (النساء۴:۲۹-۳۱)
اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمھارے اوپر مہربان ہے۔|جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ |اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمھیں منع کیا جا رہا ہے تو تمھاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزّت کی جگہ داخل کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے جان کے قتل کو حرام کیا پھر بڑے گناہوں سے ڈرایا اور خبردار کیا، لہٰذا ہرمسلمان کو اپنی جان کو بڑے گناہوں کی گہرائیوں میں گرانے سے بچانا چاہیے، خاص طور پر ان گناہوں سے ، جو جان، عزّت، خون اور مال سے متعلق ہیں۔
ایک عام مسلمان کی نسبت حکمران زیادہ ذمہ دار ہے،کیونکہ اس کے ہاتھ میں امر و نہی (حکم دینے اور منع کرنے) کا اختیار ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن یہ اس کے اوپر کتنی بڑی آفت بن کر ٹوٹے گی جب گواہ کھڑے ہو کر کہیں گے کہ وہ ایک مسلمان کو ایک ظالم کے حوالے کر کے اس کے قتل یا اس کی عزّت پامال کرنے کا سبب بنا تھا۔
۶- علما نے تصریح کی ہے کہ مومن کو ڈرانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
مناوی نے فیض القدیر میں کہاہے : مسلمان کو ڈرانا حرام ہے، سخت حرام۔
ابن حجر ہیثمی اور دیگر نے بھی قرار دیا ہے کہ ڈرانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اپنے بھائی کی طرف لوہے (ہتھیار) سے اشارہ کیا فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں، چاہے وہ اُس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔(مسلم، حدیث: ۴۸۴۸)
امام نووی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے : اس میں مسلمان کی حرمت کی تاکید اور اسے ڈرانے، خوف زدہ کرنے اور اسے ایسی چیز سے دوچار کرنے سے سخت ممانعت ہے جو اسے نقصان پہنچا سکتی ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ’چاہے وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو‘، ہرکسی کے لیے ممانعت کے عموم کو واضح کرنے کی انتہا ہے، چاہے اس پر اس کا الزام ہو یا نہ ہو، اور چاہے یہ مذاق اور کھیل ہی میں کیوں نہ ہو، کیونکہ مسلمان کو ڈرانا بہرحال حرام ہے۔(شرح نووی، علی مسلم ۱۶/۱۷۰)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک آدمی سو گیا تو صحابہ میں سے ایک نے اس کے پاس موجود رسی کو پکڑ لیا (جس سے وہ ڈر گیا)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، حدیث: ۴۳۷۲)
مذکورہ واقعے میں اس معمولی چیز کے ذریعے ڈرانا تھا، تو اس شخص کا معاملہ کیسا سنگین ہوگا جو ایک مسلمان کو زیادہ بڑی چیز سے خوف زدہ کرے اور اسے زنجیروں میں جکڑ کر ایسے شخص کے حوالے کردے جو نہ نیکی کو پہچانتا ہو اور نہ برائی کو برا سمجھتا ہو۔ اللہ کی قسم! یہ سب سے بڑی دہشت گردی اور خوف و ہراس ہے، اور جو مسلمان کو ڈرائے گا اللہ اسے دنیا اور آخرت میں جلد سزا دے گا کیونکہ یہ ظلم اور سرکشی ہے اور اللہ فرماتا ہے:
اسْـتِكْبَارًا فِي الْاَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۰ۭ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ۰ۭ فَہَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ۰ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَبْدِيْلًا۰ۥۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَحْوِيْلًا۴۳(الفاطر۳۵:۴۳)یہ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے لگے اور بُری بُری چالیں چلنے لگے، حالانکہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اِس کا انتظار کر رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کا جو طریقہ رہا ہے وہی اِن کے ساتھ بھی برتا جائے؟ یہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے۔
ایک پناہ گزین جو ایک مسلمان ملک میں پناہ لینے آیا ہو اُسے کمزور سمجھنا، پکڑلینا اور کسی ظالم کی طرف بھیج دینا زمین پر تکبر اور بُری چال ہے، اور بُری چالیں اپنے چلنے والوں کو ہی اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔
علامہ ابن عاشور نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چال چلنے والے سے انتقام لینا اللہ کی سنت ہے۔ یہ ان قوانین میں سے ہے جنھیں تقدیر نے اس نظامِ دنیا کے لیے مقرر کیا ہے، کیونکہ اس قسم کے نقصان دہ معاملات لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں، اور اللہ نے اس دنیا کا نظام لوگوں کے باہمی تعاون پر قائم کیا ہے، کیونکہ انسان فطرتاً معاشرت پسند ہے۔ اگر لوگوں کو ایک دوسرے پر بھروسا نہ ہو تو وہ ایک دوسرے سے منہ موڑ لیں گے اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے اور ہلاک کرنے میں جلدبازی سے کام لیں گے، تاکہ ہر کوئی دوسرے کی سازش کا شکار ہونے سے پہلے اس کی سازش کو ناکام بنا دے، اور یہ چیز دنیا میں بڑے فساد کا باعث بنے گی اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا، اور وہ اپنے بندوں کو نقصان نہیں پہنچاتا مگر صرف وہاں جہاں اس کی شریعت کسی چیز کی اجازت دے۔ اسی لیے کہاوت ہے کہ ہر ظالم کسی دوسرے ظالم کے ہاتھوں ہلاک ہوتا ہے۔
اس دنیا میں کتنے ہی ایسے قوانین ہیں جن سے لوگ غافل ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ واضح فرما چکا ہے : وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۲۰۵ (البقرہ۲:۲۵) ’’اور اللہ تعالیٰ فسادکو پسند نہیں کرتا‘‘۔
ابن مبارک کتاب الزھد میں زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پہنچی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’نہ سازش اور مکر کرو اور نہ مکر کرنے اور سازش کرنے والوں کی مدد کرو، کیونکہ اللہ فرماتا ہے: اور برا مکر اس کے کرنے والے کو ہی گھیر لیتا ہے‘‘۔
عربی مقولہ ہے: جس نے اپنے بھائی کے لیے گڑھا کھودا وہ خود اس میں اوندھے منہ گرے گا۔تیونس کے عام لوگوں کی کہاوت ہے: ’’اے برائی کا گڑھا کھودنے والے، تو اپنے ہی لیے گڑھا کھود رہا ہے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان کے آخرت کے لیے جمع کردہ گناہوں میں ، کوئی گناہ ایسا نہیں جس کی اللہ دنیا میں جلد سزا دے ، سوائے سرکشی اور قطع رحمی کے‘‘۔ (ابوداؤد ، ابن ماجہ، احمد ، تفسیر ابن عاشور التحریر والتنویر ۲۲/۲۳۵)
میں کہتا ہوں مسلمان کو اس شخص کے حوالے کر دینا جو اس پر ظلم کرے اور اس کی عزت پامال کرے، یہ سب سے بڑی سرکشی اور قطع رحمی اور اسلام کے حقِ وفاداری، دشمن سے بیزاری، اور اپنوں سے اخوت کے رشتے کا خاتمہ ہے۔ یہ بدترین اخلاق اور بدترین رزائل ہیں جو صرف اُسی منافق کی صفت ہوسکتے ہیں جس کا کوئی اخلاق نہیں۔
۷- اللہ نے اہل اسلام میں سے قدرت رکھنے والوں پر جہاد فرض کیا ہے تاکہ زمین میں کمزوروں کی مدد کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا۰ۚ (النساء۴:۷۵)آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ۔
طاقت رکھنے کی صورت میں کمزوروں کی مدد و نصرت کرنا شرعی طور پر مقصود ہےخواہ یہ جہاد ہی کے ذریعے کرنا پڑے ۔ لہٰذا مستضعفین کو ظالموں کے حوالے کرنے والوں کی، شریعت کے خلاف اور اللہ کے خلاف جسارت کتنی عظیم ہے اور وہ کتنے دلیر اور بے شرم ہیں۔
۸- مسلمان کا کسی اسلامی ملک میں داخل ہوجانا اُس ملک کی حفاظت میں آجانا تصور ہوتا ہے، اور اسے ویزا جاری ہوجانا اس کے لیے امان ہے۔ خاص طور پر اگر وہ زمین میں فساد پھیلانے والے ظالم سے جان بچانے کی خاطر بھاگا ہو۔ اسلامی ملک اگر کسی کافر محارب یا مسالم کو بھی ویزا دے تو یہ امان ہے اور اس سے غداری حرام ہے۔ پھر ایک مسلمان کو کیسے حوالے کیا جا سکتا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور ظالم سے بھاگا ہو؟ علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ لَا بَأسْ (کوئی حرج نہیں) کا لفظ کہہ دیا جائے تو یہ بھی امان ہے۔
ابن قدامہ کہتے ہیں: روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا:’’ بات کرو، اور تم پر کوئی حرج نہیں‘‘ (لَا بَأسَ عَلَیْکَ)۔ جب اُس نے بات کر لی تو عمر نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ انس بن مالک نے کہا:’’ آپ کو اس کا اختیار نہیں، آپ نے اسے امان دی ہے‘‘۔ عمر نے کہا:’’ ہرگز نہیں‘‘۔ زبیر نے کہا:’’ آپ نے اس سے کہا تھا: بات کرو، اور تم پر کوئی حرج نہیں‘‘۔ چنانچہ عمر نے اس کے قتل سے روک دیا۔ یہ واقعہ سعید اور دیگر نے روایت کیا ہے اور اس سب میں کوئی اختلاف معلوم نہیں۔(المغنی ۱۳/۱۹۳)
اسی طرح امان کا اشارہ بھی امان ہے، اس کے بعد غداری حرام ہے۔ ابن قدامہ کہتے ہیں: اگر مسلمان ان (کفار) کی طرف ایسی چیز سے اشارہ کرے جسے وہ امان سمجھتے ہوں، اور کہے کہ میرا ارادہ امان کا تھا تو وہ امان ہے، اور اگر کہے کہ میرا ارادہ امان کا نہیں تھا تو یہ بات اسی کی معتبر مانی جائے گی کیونکہ وہ اپنی نیت کو بہتر جانتا ہے۔ لیکن اگر کفار اس اشارے کی بنا پر اپنے قلعوں سے نکل آئیں تو انھیں قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ انھیں ان کی جگہ واپس بھیج دیا جائے گا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی اپنی انگلی آسمان کی طرف کر کے کسی مشرک کی طرف اشارہ کرے، اور وہ اس کی امان پر نیچے اُتر آئے، اور تم اسے قتل کر دو، تو میں تمھیں اس کے بدلے قتل کر دوں گا‘‘۔(المغنی ۱۳/۱۹۴)
چنانچہ کسی ملک کا جاری کیا گیا ویزا ایک معتبر امان ہے جو ان اجماعی نصوص، صحابہ کے عمل، اور حضرت عمرؓ کے قول و فیصلے کے تحت آتا ہے جو تمام حکمرانوں کے لیے عام ہے۔ لہٰذا، ویزا رکھنے والے سے غداری کرنا اور اسے ظالم کے حوالے کرنا بھی حرام ہے، اور جو بھی ایسا کرے گا ، شرعی ذمہ داری سے اس کی رُوگردانی کا جرم بھی اسی پر ہوگا۔
۹-ذمیوں، معاہدین اور مستامنین(پناہ گزین) سے غداری کبیرہ گناہ ہے۔ یہ تو کافر کے بارے میں ہے، اُس مسلمان کے بارے میں کیا حکم ہوگا جو مظلوم ہو اور اپنے بھائی سے پناہ بھی مانگ رہا ہو؟
۱۰- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’ مسلمانوں کی ذمہ داری (امان) ایک ہے، ان میں سے ادنیٰ بھی اس کی کوشش کرسکتا ہے، لہٰذا جس نے کسی مسلمان کی امان کو توڑا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ اس سے کوئی فرض یا نفل (عبادت) قبول نہیں کی جائے گی‘‘۔(بخاری ، حدیث:۱۸۷۰ اور مسلم، حدیث:۱۳۷۰)
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ کسی مسلمان کو (ظالم کے حوالے کرنا) سب سے بڑا گناہ ہے، لہٰذا جو کوئی یہ کام کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
۱۱- تمام اسلامی مذاہب کے جمہور علمائے اسلام نے کہا ہے کہ جان بوجھ کر، دشمنی کے ساتھ قتل کرنے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک ’سبب بننا‘ ہے، اور یہ دانستہ طور پر قصاص واجب کرنے والی صورتوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ ابن قدامہ نے کہا ہے:
’’چوتھی قسم، یہ ہے کہ اسے کسی ہلاکت خیز جگہ میں پھینک دیا جائے، پھر انھوں نے کئی صورتیں ذکر کی ہیں جن میں ایک اسے کسی شکاری درندے کے سامنے پھینکنا ہے، حالانکہ وہ ایک حیوان ہے، لیکن یہ دانستہ دشمنی کے ساتھ قتل ہے جس پر قصاص واجب ہوتا ہےــ۔ ــ پھر اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو ایک مسلمان کو باندھ کر، قید کر کے ایک ظالم قاتل کے حوالے کر دے؟ اللہ کی قسم! یہ دانستہ قتل ہے جو اس کے فاعل پر قصاص واجب کرتا ہے۔ لہٰذا یہ صورت، یعنی ایک مسلمان کو جو ظالم سے بھاگ رہا ہو، ایک قاتل کے حوالے کرنا، قتل میں سبب بننے کے مترادف ہے جس پر قصاص کی صورت میں ضمانت واجب ہوتی ہے۔
قیامت کے دن اس کا خون، اس کی عزّت اور اس کا مال اس شخص کی گردن پر ہوگا جس نے اسے باغی کے حوالے اور سپرد کیا۔ اور اس مسئلے میں کہ جس نے ایک شخص کو دوسرے کے لیے پکڑا اور اس نے اسے قتل کر دیا،اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قاتل کو قتل کیا جائے گا، کیونکہ اس نے جان بوجھ کر ایسے شخص کو ناحق قتل کیا جو اس کا ہم پلہ تھا، لیکن پکڑنے والے کو اگر علم نہیں تھا کہ قاتل اسے قتل کر دے گا، تو اس پر کچھ کوئی سزا نہیں، کیونکہ وہ سبب بننے والا ہے، اور قاتل براہِ راست عمل کرنے والا ہے، تو سبب بننے والے کا حکم ساقط ہو جاتا ہے۔ اور اگر اس نے اسے اس لیے پکڑا کہ قاتل اسے قتل کر دے، مثلاً اس نے اسے دبائے رکھا یہاں تک کہ قاتل نے اسے ذبح کر دیا، تو اس بارے میں امام احمد نے مختلف روایات نقل کی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے قید رکھا جائے گا یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ یہ عطاء اور ربیعہ کا قول ہے۔ یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
ایک روایت احمد سے یہ بھی ہے کہ اسے بھی قتل کیا جائے گا۔ اور یہ مالک کا قول ہے۔ سلیمان بن موسیٰ نے کہا کہ ہمارا اتفاق اس پر ہے کہ دونوں کو قتل کیا جائے، کیونکہ اگر وہ اسے نہ پکڑتا، تو قاتل اسے قتل نہ کرسکتا، اور اسے پکڑنے سے قاتل اسے قتل کرنے پر قادر ہوا، چنانچہ قتل دونوں کے فعل سے سرزد ہوا، لہٰذا وہ دونوں اس میں شریک ہوں گے۔ لہٰذا ان دونوں پر قصاص واجب ہوگا، جیسا کہ اگر دونوں نے اسے زخمی کیا ہو۔ اور ابو حنیفہ، شافعی، ابو ثور اور ابن منذر نے کہا کہ اسے سزا دی جائے گی اور وہ گنہگار ہوگا۔(المغنی ۱۱/۵۹۶)
اسی طرح اس مسئلے میں کہ جس نے ایک شخص کو جو قاتل سے بھاگ رہا تھا، ٹانگ اڑا کر گرا دیا، تو وہ بلاشبہ گنہگار اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا، اور علما کی ایک جماعت کے نزدیک اسے قتل کیا جائے گا، جیسا کہ ابن قدامہ نے اسی جگہ ذکر کیا ہے۔اور جس نے (مسلمان کو) پکڑا اور حوالے کیا اس پر ان احکام کا زیادہ اطلاق ہوتا ہے۔
۱۲- گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرنے کا حرام ہونا واضح نص سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۰۠ وَاتَّقُوا اللہَ۰ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۲ (المائدہ۵:۲) ’’اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے‘‘۔
یہ مسئلہ مذکورہ نص میں شامل ہے، لہٰذا اس (مظلوم) کو ظالم کے حوالے کرنا بلا شک و شبہ تمام علما کے نزدیک گناہ اور زیادتی پر تعاون کرنا ہے۔ اگر یہ گناہ اور زیادتی نہیں تو شرع میں گناہ اور کیا ہے؟ بلکہ یہ سب سے بڑا گناہ اور زیادتی ہے۔
۱۳- ظالموں کی طرف میلان رکھنا اور جھکنا منصوص طور پر حرام ہے اور ایسا کرنے والے کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ علما نے فرمایا ہے کہ جس کام پر عذاب کی وعید ہو وہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اس اعتبار سے جو ظالموں سے تعاون کرے وہ اُن کی طرف جھکنے والے سے بھی بڑا ظالم ہے۔ اسی جھکاؤ، ظلم اور تعاون کی ایک صورت مظلوم کو ظالم کے حوالے کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
فَاسْتَقِمْ كَـمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۰ۭ اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۱۱۲ وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ۰ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۱۱۳ (ھود ۱۱:۱۱۲-۱۱۳) پس اے نبیؐؐ، تم، اور تمھارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمھیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کررہے ہو اس پر تمھارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ |اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے اور تمھیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمھیں بچاسکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔
یہ سیاق و سباق استقامت اختیار کرنے، سرکشی چھوڑنے اور ظالموں کی طرف جھکاؤ سے ڈرانے پر دلالت کرتا ہے۔ اور جو شخص ایسا کرے گا اس کا قدم جہنم میں پڑے گا، اللہ اسے رُسوا کرے گا اور اس کی مدد نہیں کرے گا۔ اور یہی اس آیت کے اختتام کا راز ہے کہ’’اور تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہ ہوگا، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی‘‘۔
مذکورہ آیت کی روشنی میں یہ اللہ کی طرف سے بیان ہے کہ وہ ممالک اور ظالم لوگ، اپنی طرف جھکنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکیں گے، بلکہ ان جھکنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے ذلت، عدم نصرت اور رسوائی کا وعدہ ہے۔ العیاذ باللہ!
۱۴- اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا۵۸(الاحزاب۳۳:۵۸ ) اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنھوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔
اور سب سے بڑی ایذا رسانی یہ ہے کہ’مسلمان کو ‘ ایک ایسے سرکش، ظالم کے حوالے کر دیا جائے جس کا’اہل اسلام کو دنیا بھر میں اذیت دینا ‘مشہور ہو چکا ہو، لہٰذا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ایسا کرتا ہے، اس پر ہم انا للہ و انا الیہ راجعون ہی پڑھ سکتے ہیں ۔
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ جس نے ظالم کی مدد کی، اللہ اس سے انتقام لے گا اور ظالموں کو اس پر مسلط کر دے گا۔
۱۵- ’’نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ‘‘، شریعت کے عظیم ترین متفقہ قواعد میں سے ہے۔
لہٰذا نقصان کو دُور کیا جائے گا لیکن نقصان کو نقصان سے دور نہیں کیا جائے گا۔ اور نقصان اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب اس کا تعلق دین، عزت، جان اور مال جیسے بڑے ضروری امور سے ہو اور یہ سب چیزیں مسلمان کو سرکشوں اور ظالموں کے حوالے کرنے سے پامال ہوتی ہیں۔
۱۶- ان دلائل میں سے ایک دلیل اجماع بھی ہے اور جو اہل اسلام کے اجماع کی مخالفت کرے وہ گمراہ ہے اور مومنوں کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی کرنے والا ہے۔ اور یہ بات ثابت شدہ صحیح اجماعات میں سے ہے کہ فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مجبور شخص کو کھانا پینا فراہم کرنا واجب ہے تاکہ اس کی زندگی بچائی جا سکے۔ اسی طرح اسے ہر اس چیز سے بچانا جو اسے ہلاکت میں ڈال سکتی ہے، جیسے ڈوبنا یا جلنا۔ اگر کوئی شخص اس پر قادر ہو اور کوئی دوسرا موجود نہ ہو تو یہ مدد اس پر انفرادی طور پر عین واجب ہے، اور اگر دوسرے لوگ بھی موجود ہوں تو یہ قادر افراد پر کفایہ طور پر واجب ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شخص یہ کام کر لے تو باقیوں سے یہ ذمہ داری ساقط ہوجاتی ہے، ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔( الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:۵/۱۹۶)
یہ اجماع اس بات پر ہے کہ مسلمان کو بچانا واجب ہے، لہٰذا اسے کسی ظالم کے حوالے کرنا ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، جو سلف اور خلف کے اجماع کے خلاف ہے۔
۱۷- اس سلسلے میں ہر قسم کا معاہدہ باطل ہے کیونکہ یہ زیادتی، ظلم اور سرکشی ہے، لہٰذا کسی مسلمان کو کسی کافر یا ظالم کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے اس کی وضاحت المقدمة في فقه العصر میں کی ہے، جہاں ہم نے کہا ہے:مسلمانوں کو حوالے کرنے کی حرمت اور کسی بھی نام کے تحت مسلمانوں کو حوالے کرنا حرام ہے۔
ایسے بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہونا جو انھیں افراد کے حوالے کرنے کے پابند کرتے ہیں، حرام ہے۔ اگر ایسا کیا جائے تو وہ باطل ہے، کیونکہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اسے رُسوا نہیں کرتا، اور اس لیے بھی کہ حوالے کرنا ریاست کی خودمختاری میں کمی اور کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں خودمختاری کی وجہ سے اپنے شہریوں کو کبھی حوالے نہیں کرتیں۔
اسلامی ممالک کے اندر کسی بھی دعوے کی صورت میں شریعت اور اس سے ماخوذ قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔ کسی مسلمان حاکم، یا دین کے عالم، یا دنیا کے عالم جیسے ایٹمی سائنسدان، یا کسی علامت، یا رہنما کو حوالے کرنا سب سے بڑا جرم اور خیانت ہے۔ یہ کافروں کی اطاعت اور ان سے دوستی، اور مسلمانوں کو رُسوا اور کمزور کرنے کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ سب حرام ہے، کیونکہ یہ گناہ اور زیادتی میں تعاون ہے۔
اسے صلح حدیبیہ کے مسائل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ،کیونکہ وہ وحی کے ذریعے خاص تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب صحابہ نے اسے ناپسند کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحت طلب کی۔ آپؐ نے بتایا کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی ہے اور وہ اسے کالعدم نہیں کریں گے، لہٰذا باقی معاملات اصل اصول پر رہیں گے۔
ایک اسلامی دستور کی ضروری خصوصیت یہ ہے کہ، اس کے اندر ایگزیکٹو [انتظامیہ] کی ساری مطلق العنانیوں کا پوری طرح سدباب کردیا جائے۔ عام رعایا جس قانون کی تابع ہو، ایگزیکٹو کے ارکان بھی اُسی قانون کے تابع ہوں۔ جس طرح عام رعایا کو اُن کی بدکرداریوں پر عدالتوں میں مقدمہ چلاکر سزا دلائی جاسکتی ہے، اُسی طرح ایگزیکٹو کے بڑے سے بڑے ارکان کو بھی اُن کی بدکرداریوں پر عام عدالتوں میں، عام قانون کے ماتحت مقدمہ چلا کر سزا دلائی جاسکتی ہو۔ اسلامی شریعت میں ایگزیکٹو کا منصب صرف خدا کی شریعت کی تنفیذ اور اس کا اجرا ہے۔ اُن کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خدا کی شریعت میں کوئی تغیر کرسکیں، یا اس کے کسی جزو کو منسوخ کرسکیں، یا اُس کے کسی حصے کو من مانے قوانین سے بدل سکیں۔
اسلامی شریعت کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُسی طرح اللہ کے قوانین کے تابع ہیں، جس طرح ایک عام مسلمان اِن قوانین کے تابع ہے۔ اِس وجہ سے اسلامی نظام کے اندر ایگزیکٹو کا کوئی اُونچا سے اُونچا فرد بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنے لیے قانون سے بالاتر کوئی مقام مخصوص کرانے کی کوشش کرے، یا قانون کو معطل یا ملتوی کرنے کی جرأت کرے۔ اسلامی قانون خدا اور اس کے رسولؐ کا بنایا ہوا ہے۔ اور خدا اور خدا کے رسولؐ کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اُس کے اندر ترمیم یا تغیر کرسکیں۔ کسی دوسرے کا یہ منصب نہیں ہے کہ وہ اس کے اندر سرِمُو تغیر کرسکے۔
اگر آپ دستور کے اندر کوئی ایسا خلا [چھوڑتے ہیں]، جو آپ کے ایگزیکٹو کے ارکان کو اس بات کا موقع دیتا ہو، کہ وہ کسی پہلو سے اپنے آپ کو عام قانون سے بالاتر بنا سکیں، تو آپ اس ملک میں قیصروکسریٰ کا نظام ہی لائیں گے، وہ نظام نہیں لائیں گے جو حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمرفاروقؓ نے قائم کیا تھا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نے جو نظام قائم کیا تھا، اُس کی سب سے بڑی خصوصیت کا اظہار خود حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس طرح فرما دیا تھا: ’’میں تمھارے اندر خدا کی شریعت کو جاری کرنے والا ہوں، اپنی طرف سے کوئی نئی بات کرنے والا نہیں ہوں۔ اور اگر مَیں اس شریعت سے سرِمُو انحراف کروں تو تم مجھے ٹھیک کردینا‘‘۔
اسی طرح عدلیہ سے متعلق بھی دستور میں چند باتوں کی تصریح نہایت ضروری ہے، جو عدلیہ کے مزاج کو اسلامی بنانے کے لیے ضروری ہیں:
اسلامی شریعت میں اس بات کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ قانون اور نظامِ عدالت میں کسی قسم کی تفریق کی جاسکے۔ جاہلی نظاموں میں قانونی مساوات کا دعویٰ تو بڑی بلند آہنگی سے کیا جاتا ہے اور ہرملک کے دستور میں قولاً اس بات کی ضمانت دی جاتی ہے کہ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہوں گے، لیکن عملاً نہ صرف ایگزیکٹو کے ارکان، نہ صرف جمہوریتوں کے صدر، نہ صرف ملک کے بادشاہ، بلکہ بعض حالات میں پارلیمنٹوں کے ارکان اور ملک کے دوسرے شرفا و اعیان کو بھی عام قانون اور عدالتوں کی داروگیر سے بالکل بالاتر کردیا جاتا ہے۔
یہ صورت حال ایک خالص جاہلی صورتِ حال ہے، جس کواسلام سے کوئی دُور کا بھی تعلق نہیں۔ اسلام میں غریب اور امیر، امیر اور مامور، سب کے لیے ہرحالت میں ایک ہی قانون اور ایک ہی نظامِ عدالت ہے۔ اور اسلام نے اِس بات کو کسی حال میں رَوا نہیں رکھا ہے کہ قانون اور عدالت کے نظام میں سرِمُو کوئی تفریق کی جائے۔
یہ مسئلہ کوئی استنباطی اور اجتہادی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس کے بارے میں قرآن اور پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تصریحات بھی موجود ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدینؓ کے عہد کی متعدد عملی اور واقعاتی شہادتیں بھی موجود ہیں۔ حضرت عمرفاروقؓ کے زمانے میں بعض ترفع پسند سرکاری حکام نے حضرت عمرؓ کے سامنے حکومت کی ساکھ قائم رکھنے کے لیے یہ خیال پیش کیا تھا کہ ایگزیکٹو کے ارکان کو عام قانون اور عام عدالتوں کی داروگیر سے ایک حد تک بالاتر کردیا جائے۔ لیکن حضرت عمرؓ نے اُن کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور صاف صاف یہ فرمایا کہ: اسلامی شریعت میں جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قانون سے بالاتر کوئی جگہ حاصل نہیں تھی تو میں کسی دوسرے کو قانون اور عدالت کی داروگیر سے، کسی درجے میں بھی سہی، کس طرح بالاتر قرار دے سکتا ہوں۔ حضرت عمرؓ کے اس اعلان نے اس حقیقت کو بالکل غیرمشتبہ طور پر واضح کردیا کہ اسلام نے ہرشخص کے لیے قانونی مساوات کا جو حق تسلیم کیا ہے، وہ حق ایسا نہیں ہے جو ایک طرف قانونی مساوات کے بلندبانگ دعوے کے ساتھ لوگوں کو دیا جائے اور دوسری طرف انتظامی قوانین (Administrative Laws) کے ہتھکنڈوں کے ذریعے اِس حق کو بالکل سلب کرلیا جائے اور معاشرے کے اکابر مجرمین کو قانون اور عدالت سب کی گرفت سے بالکل آزاد کردیا جائے، تاکہ وہ خدا کی زمین کو ظلم اور فساد سے بے روک ٹوک بھرتے رہیں۔
اسلام نے جس قانونی مساوات سے دنیا کو آشنا کیا ہے اُس کی میزان میں فاطمہؓ بنت محمدؐ اور ایک معمولی بدوی عورت بالکل مساوی درجے پر ہیں۔ حضرت عمرؓ ایک معمولی بدوی کی پشت پر جس طرح کوڑے لگوا دیتے تھے اُسی طرح ایک بڑے سے بڑے گورنر اور بڑے سے بڑے فاتح کو بھی، اگر کسی جرم کا مرتکب پاتے تو بے تکلف عام قانون کے تحت اُس کو سزا دلوا دیتے۔ وہ جس قانون کو دوسروں پر جاری کرتے تھے اپنے آپ کو بھی اسی قانون کے ماتحت سمجھتے تھے، اور برابر یہ کہا کرتے تھے کہ جس طرح میں دوسروں کو انصاف کے آگے جھکائوں گا اسی طرح خود اپنے آپ کو بھی انصاف کے آگے جھکائوں گا۔
اسی طرح ہمارے ائمہ اور فقہا نے جو اجتہادات فرمائے ہیں، وہ بڑی قدروقیمت رکھتے ہیں۔ ہمارے ائمہ اجتہاد کی تمام شرائط کے حامل تھے۔ اس لیے، اگرچہ ان کے اجتہادات اور استنباطات کو غلطی سے مبرا نہ قرار دیا جاسکے، تاہم یہ کہنا کچھ بے جا نہیں ہے کہ بحیثیت ِ مجموعی حق و صواب سے جس قدر اقرب ان کا اجتہاد ہے دوسروں کا اجتہاد نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کوئی ایسا اجتہاد جو تمام ائمہ کے اجتہاد سے مختلف ہو، نہ عامۃ المسلمین کو مطمئن کرسکے گا، نہ اہلِ علم کو۔ پس، حق سے قریب تر راہ اس معاملے میں یہ ہے کہ کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے جو تمام اہلِ سنت کے اجتہاد کے خلاف ہو۔(۱۱؍نومبر ۱۹۵۱ء: ’ہم اس ملک میں کیا تغیرات چاہتے ہیں؟‘روداد جماعت اسلامی، ششم، ص ۳۳۲-۳۳۷)
وطن عزیز میں ’طاقت اور اختیار کا کھیل‘ اپنی تمام کثافتوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ دیکھنے میں چلاآرہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کھیل کے کھلاڑی غالباً ہرآن یہی سوچتے ہیں کہ ’طاقت و اختیار‘ کا کب کتنا مزید حصہ حاصل کرنا ہے۔ باقی رہی قوم اور قوم کے روزمرہ اُمور، یا مستقبل کے معاملات، تو اُن کے بارے میں جب فرصت ملی تو سوچ لیا جائے گا۔
قوم کے اعصابی مراکز پر فائز قوتیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا عسکری، عدالتی ہوں یا سول، اپنے کردار سے کم و بیش اسی کھیل میں کبھی تیزگامی اور کبھی سُست رفتاری اختیار کرنے کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ مقتدر طبقوں کی یہی وہ لَت تھی جس نے قیامِ پاکستان کے بعد دستور بنانے میں قوم کے نوسال ضائع کردیئے، اور انھی ۹برسوں میں ایسے ایسے امراض قومی وجود کو لاحق ہوگئے کہ پہلے انھوں نے دسمبر۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ دکھایا، اور پھر باقی پاکستان کو بھی مسلسل خطرات کے گرداب میں رکھا ہے۔ یہ پریشان کن تبصرہ بے وجہ نہیں۔ اس لیے کہ سیاسی قوتوں کی آمریت پسندی اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کبھی عسکری قوتوں سے گٹھ جوڑ اور کبھی اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ سازباز کا چلن سب کے سامنے ہے۔ یہ سب ’بے زبان‘ قوم کی تاریخ کے سیاہ باب ہیں۔
اس تمہید کا ایک تلخ پہلو فروری۲۰۲۴ء کے وہ انتخابات بھی ہیں، جن میں عدالت عظمیٰ کے ذریعے ایک پارٹی کا نشان سلب کرکے قبل اَز انتخابات دھاندلی کا ظلم شامل کیا گیا، اور پھر من پسند لوگوں کو ’فارم ۴۷‘کے کٹھولے میں بٹھا کر پارلیمنٹ میں پہنچایا گیا۔ مشہور کہاوت ہے کہ ’غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی، وہ نئی غلطی کو جنم دیتی ہے‘۔ یہی کام یہاں بھی ہوا کہ سالِ انتخابات ۲۰۲۴ء ختم ہونے سے پہلے ہی ۲۶ویں ترمیم کا ایسا ڈول ڈالا گیا کہ جس نے خود آئینی ترمیم کے طریق کار کو ہی مشکوک نہیں بنایا، بلکہ اُس کے متعدد منفی نتائج بھی سیاسی و قانونی کلچر کی خرابی کی بنیاد بنے، اور اس کی ضربِ کاری کا اصل نشانہ اعلیٰ عدلیہ ہی بنی۔ چونکہ اس ترمیم میں بدنیتی کے کئی عوامل موجود تھے، اس لیے ’ھل من مزید‘ کی پیاس نے ۲۰۲۵ء کے خاتمے تک ۲۷ویں آئینی ترمیم کی یلغار کرادی۔ یہ ترمیم کیا ہے؟جزوی چیزوں کو چھوڑ کر درحقیقت عدل و انصاف پر ایک غیراسلامی، غیراخلاقی اور غیر جمہوری خودکش حملہ ہے۔
اس ترمیم میں عدلیہ کو مقتدرہ کے ہاتھوں یرغمال بنانے اور مسلسل دہشت زدہ رکھنے کا بارود رکھا گیا ہے، اور مقتدرہ کے کچھ مناصب پر فائز افراد کو ’تاحیات استثناء‘ دے کر، اسلام اور انصاف کے اصولوں کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ پھر اس ترمیم کے ذریعے ’قراردادِ مقاصد‘ کی روح کچل کر رکھ دی گئی ہے۔’قراردادِ مقاصد‘ تحریک پاکستان کے لیے مسلمانانِ برصغیر کے عمرانی معاہدے کی غماز اور آئینِ پاکستان کی بنیاد ہے۔جو واضح طور پر متعین کرتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے، اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقررہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے۔اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا مملکت تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اللہ کی امانت کے طور پر استعمال کریں گے، اور متفقہ قومی دستور نے کہا ہےکہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا، اور اگر کوئی ایسا متصادم قانون ہوگا تو چیلنج کرکے تبدیل کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ قائم کیے گئے ہیں۔
حالیہ ۲۷ویں ترمیم کے ذریعے دستور میں صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری اور دیوانی مقدمات سے دیا گیا تاحیات استثناء سراسر قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ قرآن و سنت میں تویہ استثناء رسولِ معصوم عن الخطاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفائے راشدینؓ کو بھی حاصل نہیں۔یہ غیر اسلامی اور غیر عادلانہ دفعہ مسلّمہ جمہوری و مہذب اصولوں یعنی مساوات، عدل کی گردن اُڑانے کا اعلان بھی ہے اور اختیار بھی۔ یہ دفعہ اسلام کے ان اصولوں، جن میں سماجی انصاف اور برابری کے اصولوں کو مرکزیت حاصل ہے، پامال کرنے کی جسارت بھی ہے۔
مزید ملاحظہ فرمایئے کہ ۲۷ویں ترمیم بھی اسی طرح اناڑی پن، عجلت پسندی اور اَدھوری ڈرافٹنگ کی بھونڈی تصویر پیش کر رہی ہے، جس انداز سے ۲۶ویں ترمیم کی گئی تھی (غلطیوں اور اَدھورے پن کے اسی تسلسل میں اب ۲۸ویں ترمیم لانے کے لیے ذہن سازی کی جارہی ہے)۔ اس ترمیم کے مطابق ایک ’وفاقی آئینی عدالت‘ (فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جسے ۲۶ویں ترمیم میں چند حلیفوں کو غچہ دینے کے لیے واپس لیا گیا تھا، مگر ’زخم مندمل‘ ہونے اور اس دوران مزید پارلیمانی نمبر حاصل کرلینے کے بعد اب اس بلّی کو تھیلے سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ اس نومولود عدالت کے جج حضرات کو اب انتظامیہ اور مقننہ مل کر چُنے گی اور ظاہر ہے چناؤ کے فیصلے کا وزن مقتدر قوتوں کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ایسی عدالت سے بھلا کوئی شہری، ریاست کی جابرقوت کے خلاف عدل کی اُمید کیسے باندھ سکتا ہے؟ جب کہ اس نومولود عدالت کو مقرر کرنے والی قوت وہی ہو، جس کے جبر یا ناانصافی کے خلاف اسے ایوانِ عدل میں دستک دینے کی ضرورت محسوس ہو؟ اسی طرح یہ عدالت ہو یا اعلیٰ عدلیہ، اس کے ججوں کی دوسری جگہوں پر منتقلی، تقرر یا برطرفی کے لیے کوئی واضح معیار مقرر نہیں کیا گیا، مگر بازو مروڑنے کا راستہ رکھا گیا ہے۔ ایسے فیصلوں کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے، جس میں انتظامیہ کا پلڑا بھاری ہوگا۔
یاد رہے، دستور کی دفعہ ۲۰۰ میں درج تھا کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو دوسری جگہ تبدیل کرنے کے لیے، متعلقہ جج صاحب کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔ لیکن موجودہ ۲۷ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جج صاحب کی مرضی کے بغیر بھی انھیں تبدیل کیا جاسکے گا، اور اگر وہ یہ حکم یا ہدایت ماننے سے انکار کریں تو اُن کے خلاف ۳۰ روز کے اندر ’اعلیٰ عدالتی کونسل‘ (SJC) میں تادیبی کارروائی ہوگی، اور انھیں کام کرنے سے منع کردیا جائے گا۔
اس ’آئینی عدالت‘ کو غیرآئینی کام کرنے کے لیے یہ کہہ کر پوری سہولت بہم پہنچا دی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں سابقہ عدالتی نظائر (فیصلوں) کی پابند نہ ہوگی، ان کے سامنے سابقہ فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اس طرح انسانی سماج کے تجربات سے حاصل شدہ راہ نمائی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ایسی صاف سلیٹ پر من پسند آئینی عدالت کو اختیارات کا ڈنڈا پکڑا کر، دراصل یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ وہ پرانے ’ناپسندیدہ‘ تجربات کو نظرانداز کرنے کی ’شرمندگی‘ سے بچ سکیں۔
۲۶ویں ترمیم میں اس کج روی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ۹مئی ۲۰۲۵ء کو دس رکنی ’آئینی بنچ‘ نے سپریم کورٹ کے جولائی ۲۰۲۴ء کے اس فیصلے کو پلٹ کر کالعدم کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمے چلانا دستور کی دفعہ ۱۰-الف (منصفانہ مقدمے اور قانونی حق) کی خلاف ورزی ہوگی۔درحقیقت نئی ’آئینی عدالت‘ کا یہ وجود عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ، پارلیمانی قانون سازی کے اسلامی اور عدالتی ریویو اور جائزے کے اختیار کو بھی سلب کرنے کا اعلان ہے۔
نومبر ۱۹۸۵ء میں ’آٹھویں ترمیم‘ اور دسمبر۲۰۰۳ء میں ’سترھویں آئینی ترمیم‘ میں شامل ۵۸(۲-الف) کا غیرجمہوری حق، مقتدر قوتوں نے مارشل لا کے فیصلوں کو تحفظ دینے کی دھونس برت کر حاصل کیا تھا کہ اس کے بغیر ان کے سابق دور کے فیصلے بے وجود ہوجاتے۔ لیکن اب ۲۶ویں اور ۲۷ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایسے فیصلوں کے لیے تو کوئی دبائو بھی موجود نہیں ہے، تو پھر پارلیمنٹ نے یہ غیرآئینی اور غیر جمہوری اور غیر عادلانہ اقدام کیوں کیے ہیں؟
ان ترامیم نے فی الحقیقت مستقبل کے معاشی اُمور کو بھی داغدار کر دیا ہے، اور قومی زندگی میں سیاسی ساکھ اور اعتماد کا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ ان ترامیم سے انتظامی اور عسکری غلبے کو آئینی تحفظ ملنے سے طاقت وروں کے اختیارات اور قوت میں مزید اضافہ ہواہے، جب کہ جمہور کی طاقت میں بڑی کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس کے تقرر کے لیے میرٹ یا معیار کے بجائے انتظامیہ کی پسند و ناپسند کو راہ دی گئی ہے، جس سے عدل کے ایوان گروہ بندی اور سیاسی جھکائو کے اندھے گڑھے میں گرائے جاسکتے ہیں۔ آئینی بنچوں کی تشکیل میں سیاسی مداخلت کا سامان فراہم کرکے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو سوالیہ نشان بنا ڈالا گیا ہے۔
وطنِ عزیز میں جمہوری قدروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطلب معاشرے کو توازن سے روشناس کرانا ہے۔ لیکن اگر عدل کے حصول کا راستہ کھوٹا ہوگا اور رکاوٹ زدہ ہوگا تواس سے مایوسی پیدا ہوگی۔ اس کے لیے تمام طبقوں کو درست بات حکامِ بالا اور عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔تمام سیاسی اور دینی قوتوں کے ساتھ وکلا اور صحافیوں کو غیرجذباتی انداز سے اس ضمن میں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔
ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کے دسمبر ۲۰۲۵ء کے شمارے میں ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کا المناک انجام‘ کے عنوان سے معروف نو مسلم فاضل علامہ محمد اسد (۱۹۰۰ء تا ۱۹۹۲ء) کا ایک مضمون (مترجم و مرتب: جناب اوریا مقبول جان) شائع ہوا ہے۔ قیامِ پاکستان کے ڈیڑھ ماہ بعد حکومت مغربی پنجاب (نواب افتخار حسین ممدوٹ کی سربراہی میں قائم) کی طرف سے ’محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ‘ (Department of Islamic Reconstruction) اکتوبر ۱۹۴۷ء میں قائم ہوا تھا۔ محمداسد اس کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ علامہ محمد اسد کی یہ تحریر دراصل ایک ’محضرنامہ‘ (یادداشت) ہے، جو انھوں نے ۱۸؍ اگست ۱۹۴۸ء کو مرکزی حکومت کو پیش کیا تھا، جس میں ’محکمۂ احیائے ملتِ اسلامیہ‘ کے قیام کی غرض و غایت، اہداف و مقاصد اور سرگرمیوں کے بارے میں بعض مقتدر حلقوں کے ہاں پائے جانے والے شکوک و شبہات اور بدگمانیوں کے ازالے کی سعی کی گئی تھی۔ یہاں پر اس محکمے کے اہداف و مقاصد اور کارگزاری پر بحث مقصود نہیں ہے بلکہ ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن میں شائع شدہ اس مضمون کے آغاز میں جناب اوریا مقبول جان کے تعارفی شذرے میں موجود بعض تاریخی وواقعاتی غلط فہمیوں کی نشان دہی کرنا پیش نظر ہے۔
فاضل مترجم و مرتب نے اپنے تعارفی و تمہیدی شذرے میں لکھا ہے:
۱- علامہ محمد اسد، علامہ محمد اقبال کی شخصیت سے متاثر ہو کر ہندستان آگئے اور علامہ اقبال نے اپنے دوست کو ہندستان کے موسم کی سختیوں سے بچانے کے لیے، چودھری نیاز علی خان سے کہا شملہ میں ان کی رہائش کا بندوبست کیاجائے۔ وہاں رہائش کے دوران انھوں نے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ترجمے کا آغاز کیا ہی تھا کہ [۱۹۳۹ء میں] جنگِ عظیم دوم شروع ہوگئی اور انھیں جرمن جاسوس سمجھ کر انگریز حکومت نے گرفتار کر لیا۔(ص ۸۷ تا ۸۸)
۲- جب انھیں رہائی نصیب ہوئی تو انھوں نے اپنا مشہور رسالہ عرفات نکالا۔ اس ضمن میں ان کی خط کتابت اسلامی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ قائد اعظم سے بھی رہی، جو ان کے رسالے کے قاری تھے۔(ص ۸۸)
۳- رسالے میں علامہ محمد اسد نےWhat Pakistan Means? [کذا ،What Do We Mean by Pakistan?] کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا، یعنی ’پاکستان کا مطلب کیا؟ اور ان مضامین میں اس کا جواب ہوتا ’لاالٰہ الا اللہ‘ یعنی تحریری طور پر یہ نعرہ پہلی دفعہ علامہ اسد نے قیام پاکستان سے دوسال قبل ہی بلند کردیا تھا۔ (ص ۸۸)
۴- اگست ۱۹۴۷ء کے آخری ہفتے میں ہی ’ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن‘ [’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘] کے اغراض و مقاصد کا کتابچہ شائع ہوا۔ جس میں محکمے کی ذمہ داریوں میں اسلام کے تعزیراتی قوانین کی تدوین سے لے کر تعلیمی، معاشی اور معاشرتی نظام کے نفاذ پر سفارشات مرتب کرنا شامل تھا۔ (ص۸۸)
۵- یہ محکمہ حکومتِ مغربی پنجاب کے تحت قائم ہوا تھا، لیکن فوراً ہی منظوری کے لیے اس کو مرکزی حکومت کے پاس بھیجا گیا(کذا)۔ اس موضوع پر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں طویل بحثیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ آخر کار جنوری ۱۹۴۸ میں منظوری کے بعد علامہ محمد اسد کو ریڈیو پاکستان سے اپنے اغراض و مقاصد اور اہداف بیان کرنے اور پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے محکمے کے کام کا تعارف کروانے کی اجازت دی گئی۔ ریڈیو پاکستان سے علامہ اسد کی سات ولولہ انگیز اور فکر سے بھر پور تقریریں نشر ہوئیں۔ بعد ازاں ریڈیو پاکستان کی اجازت سے رسالہ عرفات کے ستمبر ۱۹۴۸ء کے شمارے میں شائع ہوئیں ۔(ص۸۸)
۶-محکمہ میں علامہ اسد کے ساتھ کام کرنے والوں میں مفکرین، ڈاکٹر حسین الہمدانی، سیّدنذیر نیازی، محمد جعفرشاہ پھلواری (کذا، پھلواروی)، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا ابو یحییٰ امام خان نوشہروی، رشید اختر ندوی، مولانا شفیق الرحمٰن اور افتخار احمد چشتی شامل تھے۔ (ص ۸۸ تا ۸۹)
۷- ادارے نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں اسلامی قوانین کی تدوین کے لیے علما کی ایک کمیٹی بھی قائم کی۔ صرف چند ماہ کی محنت سے محکمے نے اپنی سفارشات مرتب کرلیں۔ جب یہ سفارشات مرکزی حکومت کو موصول ہوئیں تو حکومت پر قابض انگریز کی تیار کردہ بیوروکریسی نے اس ادارے کے راستے میں روڑے اٹکانے شروع کردیے۔ آخر کار ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے، علامہ اسد سے کہا گیا کہ وہ عالم اسلام میں پاکستان کی شناخت کروانے میں مدد کریں۔ یوں انھیں سفیر بناکر مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا گیا۔ ان کے جانے کے صرف ایک ماہ کے اندر ہی ادارے کا وہ مرکزی دفتر جو پنجاب سیکرٹیریٹ کے ساتھ پیپلز ہاؤس میں قائم تھا، وہاں پُراسرار آتش زدگی کے ذریعے سارا ریکارڈ جلادیا گیا۔ (ص ۸۹)
محمد اسد اور محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کے بارے میں فاضل مترجم کے ان ملاحظات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہ خیالات ٹھوس اور مستند تاریخی و دستاویزی شہادتوں پرنہیں بلکہ ادھورے مطالعے اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ بعض واقعات کی تاریخی و زمانی ترتیب میں بھی اُلٹ پھیر ہوگیا ہے۔ بعض باتیں حقائق کے منافی ہیں۔ ذیل میں ترتیب سے، ان نکات کاجائزہ پیش کیا جاتا ہے:
۱- محمد اسد سرزمین حجاز (جہاں وہ ۱۹۲۷ء کے اوائل سے مقیم تھے، اور شاہ ابن سعود کے مصاحبین و مقربین میں شامل ہو چکے تھے) سے ہندستان علامہ محمد اقبال کی شخصیت سے متاثر ہو کر نہیں آئے تھے۔ محمد اسد ایک متجسّس اور سیلانی مزاج کے حامل انسان تھے۔ صحرا نوردی و جہاں گردی اور مہم جوئی تو گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ وہ سچ مچ ایک جہاں گشت تھے۔ وہ نوعمری میں ہی بعض مغربی اخبارات کے مراسلہ نگار کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک، طرابلس و البرقہ (لیبیا) اور ایران و افغانستان کی سیاحت کر چکے تھے۔محمد اسد کا یہی شوق سیاحت و جہاں گردی انھیں کشاں کشاں ہندستان لے آیا تھا۔ البتہ ہندستان کی سیاحت کا ایک محرک حجاز میں قیام کے دوران میں ان کی بعض ممتاز ہندی مسلمانوں،جن میں ڈاکٹر عبدالغنی جلالپوری پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور، پرنسپل حبیبیہ کالج کابل اور ناظم تعلیماتِ عامّہ افغانستان رہے ۔(سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے رسالہ دینیات کے اوّلیں انگریزی مترجم)، مولانا عبدالقادر قصوری، مولوی محمد اسماعیل غزنوی (موصوف امرتسر کے معروف اہل حدیث غزنوی خاندان کے چشم و چراغ اور شاہ ابن سعود کے منظورِنظر افراد میں سے تھے) سے میل ملاقات اور ان سے اسلامیانِ ہند کی تاریخ و سیاست اور تہذیب و معاشرت کے بارے میں بحث و گفتگو بھی تھی۔ چنانچہ محمد اسد ۱۹۳۲ء کے وسط میں ہندستان کے لیے روانہ ہوئے۔ محمد اسد کے بارے میں یہ بات تو یقینا وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ علامہ محمداقبال کے بڑے قدر دان تھے اور اس امر کا اظہار انھوں نے اپنی متعدد تحریروں میں واشگاف الفاظ میں کیا بھی ہے۔ پھر ہندستان آمد کے بعد جس شخصیت سے ان کا سب سے قریبی تعلق رہا وہ علامہ محمد اقبال کی ذات گرامی ہی تھی، لیکن یہ تاثر دینا درست نہیں کہ وہ سرزمینِ حجاز سے محض ان کی شخصیت و فکر سے متاثر ہوکر ہندستان آئے تھے۔
اسی طرح محمد اسد کی ہندستان آمد پر علامہ محمد اقبال کی فرمائش پر چودھری نیاز علی خان کا اس نووارد کے لیے شملہ میں رہائش کا انتظام کرنا بھی درست نہیں ہے۔ محمد اسد ہندستان آمد (ستمبر ۱۹۳۲ء) کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک مختلف شہروں، امرتسر، لاہور، دہلی، بھوپال، حیدرآباد دکن اور کشمیر کی سیاحت میں مشغول رہے۔ ۱۹۳۴ء کے موسم بہار میں وہ کچھ عرصے کے لیے دہلی (قرول باغ) میں مقیم ہوئے۔ چنانچہ یہیں سے اپریل (۱۹۳۴ء) میں فکراسلامی پر ان کی پہلی شہرۂ آفاق تصنیف Islam at The Crossroad شائع ہوئی۔ دو ماہ بعد اس کا دوسرا اور ستمبر میں اس کا تیسرا ایڈیشن نکلا۔ اسی سال انھوں نے صحیح بخاری کے انگریزی ترجمہ و شرح کا آغاز کیا اور اس کی اشاعت کے انتظامات میں مشغول ہوگئے۔ ۱۹۳۵ میں انھوں نےاس کی طباعت و اشاعت کے لیے سری نگر میں عرفات پبلی کیشنز کے نام سے اپنا ذاتی مطبع اور دارالاشاعت قائم کیا۔ اسی سال کے اواخر میں صحیح بخاری کے ترجمے کی پہلی قسط (مشتمل بر کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ وکتاب الایمان) چھپ کر منظر عام پر آئی۔ مجلہIslamic Culture کے بانی ایڈیٹر علامہ محمد مارماڈیوک پکتھال کی وفات (۱۹ مئی ۱۹۳۶ء) کے بعد دولت آصفیہ حیدر آباد دکن کی طرف سے محمداسد اس مجلے کے ایڈیٹر مقرر کیے جانے پر لاہور منتقل ہوگئے۔ چنانچہ جنگ عظیم دوم کے آغاز تک وہ لاہور ہی سے اس مجلے کی ادارت اور اس کی اشاعت کا انتظام کرتے رہے۔ جنگ کے آغاز پر ہندستان کے برطانوی حکام نے انھیں ’دشمن قوم کا شہری‘ قرار دیتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ جنگ کے اختتام (۱۹۴۵ء)پر رہائی ملنے کے بعد کم و بیش ایک سال دارالاسلام، پٹھانکوٹ اور لاہور میں گزارا، اور پھر محمد اسد ڈلہوزی میں مقیم ہوئے تھے۔ یہیں سے انھوں نے ستمبر ۱۹۴۶ء میں مجلہ عرفات کا اجرا کیا۔محمد اسد برصغیر ہند میں اپنے کم و بیش بیس سالہ قیام (ستمبر ۱۹۳۲ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۵۱ء) کے دوران میں، ما سوائے چند ر روزہ سیر و سیاحت کے، کبھی شملہ میں مقیم نہیں رہے۔
۲- یہ کہنا کہ شملہ سے مجلہ عرفات کے اجرا (جلد اول، شمارہ اول، ستمبر ۱۹۴۶ء )کے بعد محمداسد کی اس مجلے کے بارے میں اسلامی مفکرین، سیاسی شخصیات اور بالخصوص قائد اعظم محمد علی جناح سے خط کتابت رہی، ایک قیاس آرائی ہے۔ اس میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ مجلہ عرفات کے افتتاحی شمارے کی طباعت کے بعد محمد اسد نے اس کے اعزازی نسخے ملک کی ممتاز سیاسی، اور علمی و فکری شخصیات کو ارسال کیے تھے اور اُن کے نام خطوط میں مجلے کی اشاعت کی غایت و مقصد کی وضاحت کی تھی۔چنانچہ اس کا ایک نسخہ مع ایک عریضےکے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی ارسال کیا گیا تھا۔ جواب میں قائد اعظم کی طرف سے ایک مختصر خط لکھا گیا، جس میں محمد اسد کے اس کام کی تحسین کی گئی۔ اس کے علاوہ محمد اسد کی قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ خط کتابت کےشواہد نہیں ملتے۔ محمد اسد کے قائد اعظم محمد علی جناح سے کبھی قریبی روابط قائم نہیں رہے۔محمد اسد نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا برملا طور پر اظہار کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر محمد اقبال کی شخصیت و فکر سے ضرور متاثر تھے، البتہ قائداعظم محمد علی جناح سے کچھ زیادہ متاثر نہ تھے۔
۳- اسی طرح یہ دعویٰ بھی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہے کہ ’پاکستان کا مطلب کیا؟___ لاالٰہ الا اللہ‘ کا نعرہ پہلی دفعہ (یعنی سب سے پہلے) محمد اسد نے قیام پاکستان سے دوسال قبل ہی مجلہ عرفات میںشائع ہونے والے اپنے مضامین میں بلند کر دیا تھا۔ محمد اسد کا ایک مفصل مضمون What Do We Mean by Pakistan? کے عنوان سے مجلہ عرفات کے شمارہ بابت مئی ۱۹۴۷ء (جلد اول، شمارہ ۸مئی ۱۹۴۷ء) میں شائع ہوا تھا، جس میں انھوں نے واشگاف لفظوں میں ’پاکستان کا مطلب کیا؟___لا الٰہ الا اللہ‘ کا نعرہ ضرور بلند کیا تھا۔ تاہم، اس باب میں معروف شاعر پروفیسر اصغر سودائی (۱۹۲۶ء تا ۲۰۰۸ء)کو سبقت حاصل ہے۔ انھوں نے ۱۹۴۴ء میں،جب کہ وہ مرے کالج سیالکوٹ کے طالب علم تھے، ’پاکستان کا مطلب کیا؟‘ کے عنوان سے ایک شہرۂ آفاق نظم کہی تھی۔ یوں اس نعرے کے خالق محمد اسد نہیں بلکہ پروفیسر اصغر سودائی ہیں۔
۴- ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کتابچے کی ماہِ اگست ۱۹۴۷ء کے اواخر میں اشاعت کا قصہ درست معلوم نہیں ہوتا۔ محمد اسد۱۴ ؍اگست کو قیام پاکستان کے بعد ڈلہوزی سے لاہور پہنچے تھے۔لاہور آمد کے بعد وہ مہاجرین کی آبادکاری کے کاموں میں مشغول ہوگئے تھے۔ انھی دنوں ریڈیو سے ان کی تقریریں نشر ہوئیں۔ اکتوبر میں ’محکمۂ احیائے ملّت‘ کا قیام عمل میں آیا۔اس محکمے کے قیام سے قبل اس کی طرف سے اپنے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کسی کتابچے کی اشاعت امرِواقعہ نہیں ہے۔ محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کتابچے، جو ایک محتاط اندازے کے مطابق اکتوبر نومبر میں شائع ہوا، کی رُو سے اس محکمے کی اوّلین ذمہ داری ’اسلام کے تعزیری قانون‘ کی تدوین نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی قانونِ اسلامی کی تدوین اور تعلیمی، معاشی اور معاشرتی نظام کے نفاذ کے سلسلے میں سفارشات مرتب کرنا تھا۔ محمداسد کی متعدد تحریروں سے یہ امر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی مسلم معاشرے میں اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے کا آغاز حدود و تعزیرات کے نفاذ سے کرنے کے طرف دار نہیں تھے۔ اس کے مقابلے میں وہ اس امر کے داعی و علَم بردار تھے کہ ’ملک و معاشرے کی اسلامی تشکیل کا آغاز تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ اور سماجی عدل و انصاف کے قیام سے کیا جائے‘۔
۵- ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کا قیام دراصل حکومت مغربی پنجاب کی طرف سے عمل میں آیا تھا۔ یہ نواب افتخار حسین ممدوٹ (۱۹۰۶ء تا ۱۹۶۹ء) کے اقدام کا نتیجہ تھا، اور اس ادارے کے قیام میں مرکزی حکومت کا کوئی حصہ نہ تھا اور نہ اس بات کی کوئی دستاویزی شہادت موجود ہے۔ اگر اس منصوبے کو ’مرکزی حکومت کی بھر پور تائید و حمایت‘ حاصل ہوتی تو نواب افتخار حسین ممدو ٹ کی حکومت کے خاتمے (۲۵ جنوری ۱۹۴۹ء) کے بعد اس کی بساط نہ لپیٹ دی جاتی۔وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان(۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء تا ۱۶؍اکتوبر۱۹۵۱ء) اپنے جیتے جی اس کا خاتمہ نہ ہونے دیتے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت کے خاتمے کے چند ماہ بعد ہی محمد اسد کا تقرر دفتر خارجہ میں ’مڈل ایسٹ ڈویژن‘ (قسمت مشرقِ وسطیٰ) میں کردیا گیا، جس کے ساتھ ہی اس محکمے کا عملاً قصہ تمام ہوگیا۔
یہ بات بھی درست نہیں کہ جنوری ۱۹۴۸ء میں مرکزی حکومت کی منظوری کے بعد محمد اسد کو اس محکمے کے اغراض و مقاصد اور نفاذ شریعت کی سرگرمیوں اور منصوبوں کے تعارف کے سلسلے میں ریڈیوپاکستان پر تقریروں کی اجازت دی گئی۔ نیز یہ کہ محمد اسد کی نشری تقریریں ’محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کے ترجمان مجلے عرفات کے ستمبر ۱۹۴۸ء کے شمارے میں شائع ہوئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد اسد کی یہ تقریریں اگست اور ستمبر ۱۹۴۷ء کے مہینوں میں نشر ہوئی تھیں ۔ ان تقریروں کا موضوع محکمہ احیائے ملّت کے اغراض و مقاصد کی تشریح اور پاکستان میں نفاذشریعت کے سلسلے میں اس محکمے کے کام کا تعارف و تذکرہ ہرگز نہ تھا۔ ان تقریروں کا موضوع مملکت خداداد پاکستان کو درپیش مسائل و مشکلات (مہاجرین کی آمد و آبادکاری، نیز انتظامی، اقتصادی اور سیاسی مسائل) اور اس مملکت کی اسلامیانِ ہند کی نظریاتی اُمنگوں کے مطابق تعمیر و تشکیل سے متعلق امور و مسائل سے تھا۔ محمد اسد نے اپنی ان تقریروں میں دو قومی نظریے اور مملکت پاکستان کی تعمیر وتشکیل میں اسلام کو مرکزی حیثیت دینے کی مؤثر طور پر وضاحت کی تھی۔ محمد اسد کی یہ نشری تقریریں مجلّہ عرفات کے افتتاحی اور آخری شمارے (مارچ ۱۹۴۸ء) میں شائع ہوئیں، نہ کہ ستمبر۱۹۴۸ء کے شمارے میں۔
۶- زیر نظر تعارفی شذرے میں محکمہ سے وابستہ جن اہل علم کا ذکر کیا گیا ہے، ان سب کو ’مفکر‘ قرار دیا گیا ہے۔ برصغیر کی سنجیدہ علمی و فکری روایت میں ’مفکر‘ کا خطاب جس پائے کے اہل علم و فکر کے لیے استعمال ہوتا ہے ، وہ ان اشخاص خصوصاً مؤخرالذکر چار حضرات ،پر صادق نہیں آتا۔
۷- جناب مرتب نے لکھا ہے کہ اسلامی قوانین کی تدوین کے لیے محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کی طرف سے تحریک پاکستان کے مقتدر رہنما اور ممتاز عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی (م:۱۳دسمبر ۱۹۴۹ء) کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ محمداسد نے مرکزی حکومت کے نام اپنے ’محضرنامے‘ (محررہ و مرسلہ ۱۸؍ اگست ۱۹۴۸ء) میں مولانا شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں قائم کی گئی جس کمیٹی کا ذکر کیا ہے، اس کا تعلق قانون اسلامی کی تدوین سے نہیں بلکہ ایک جدید دارالعلوم کے قیام سے تھا۔ دراصل محمد اسد نےاسلامی علوم اور فقہ و قانون کے ماہرین کی تیاری اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک جدید دارالعلوم کے قیام کے لیے ایک پلاننگ کمیٹی کی تشکیل کے لیے حکومت پنجاب (نواب افتخار حسین ممدوٹ، وزیر اعلیٰ پنجاب) سے منظوری حاصل کی تھی۔ روایتی مذہبی طبقوں کی مخالفت سے بچنے کے لیے محمداسد نے اس کمیٹی کی سربراہی کے لیے مولانا شبیر احمد عثمانی سے درخواست کی ، جو انھوں نے منظور کر لی تھی۔ اس کمیٹی میں محمد اسد نے مختلف دینی مکاتب سے متعدد علما بھی شامل کیے، مگر اس بات کا بطور خاص اہتمام کیا کہ کمیٹی کے ارکان میں روشن خیال جدید تعلیم یافتہ ارکان کی حیثیت غالب رہے۔ (دیکھیے: محمد اسد، ’میمورنڈم‘ در مجلہ اقبال، جولائی ۱۹۹۸، ص ۱۰)
جناب مرتب کا یہ بیان بھی کسی حد تک محلِ نظر ہے کہ برطانوی سامراج کی تربیت یافتہ بیوروکریسی نے نفاذ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے محمد اسد کو محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کی سربراہی سے ہٹا کر دفتر خارجہ میں تعینات کرایا تھا، اور بعدازاں انھیں عرب ممالک میں پاکستان کی شناخت کرانے کے لیے سفیر مقرر کر کے مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ محمداسد کو وزیراعظم لیاقت علی خان کے ایما پر ۱۹۴۹ء میں ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ سے ہٹا کر وزارتِ خارجہ کے مڈل ایسٹ ڈویژن میں تعینات کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ میں تعیناتی کے دوران ہی میں دسمبر ۱۹۵۱ء کے اواخر میں انھیں اقوام متحدہ میں پاکستانی ناظم الامور مقرر کیا گیا۔ چنانچہ، جنوری ۱۹۵۲ء کے اوائل میں محمد اسد نے نیویارک میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ سے محمد اسد کی علیحدگی اور دفتر خارجہ میں ان کی تعیناتی کے پیچھے محض مرکزی حکومت پر مسلط ’برطانوی تربیت یافتہ بیوروکریسی‘ ہی نہیں بلکہ کچھ دیگر طاقت ورعوامل بھی کارفرما تھے۔اس سلسلے میں متعدد علما کا کردار بھی بڑا اہم تھا، جو محمد اسد کے خلاف محض اس لیے سرگرم عمل تھے کہ ان کی نظر میں وہ ’حنفیت کو جڑ سے اُکھاڑنے‘ کے درپے تھے اور اسی تسلسل میں بریلوی علما پر مشتمل ’جمعیت علمائے پاکستان‘ کی طرف سے نواب افتخار حسین ممدوٹ کی وزارت اعلیٰ کے منصب سے علیحدگی کے بعد حکومت پنجاب (نواب ممدوٹ کے بعد ۱۹۵۱ء میں ممتاز دولتانہ کے اس منصب پر فائز ہونے تک پنجاب میں گورنر راج قائم رہا) سے محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ اور اس کے ڈائریکٹر (محمداسد)کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بڑے زوردار انداز سے کیا گیاتھا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک سے مضبوط و مستحکم تعلقات کی استواری کی غرض سے محمداسد کا انتخاب خود کیا تھا۔ (دیکھیے: محمد اکرام چغتائی، محمداسد: بندۂ صحرائی، ص ۱۲۳ تا ۱۲۴)
سوال : ایک شخص کسی پر بڑے ظلم ڈھاتا ہے، اس کی حق تلفی کرتا ہے، اسے ہر طریقے سے نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے باوجود جب یہ ظالم مرجاتا ہے تو مظلوم اس کے جنازے میں شریک ہوتا ہے، نمازِ جنازہ پڑھتا ہے اور دُعائے مغفرت کرتا ہے۔ کیا یہ صحیح طرزِعمل ہے؟ کیا اس طرح ظالم کے گناہ بخش دیئے جائیں گے؟
جواب :اس کے گناہ بخشے جائیں یا نہ بخشے جائیں، مظلوم کو اپنے طرزِعمل کا اجر ضرور ملے گا کہ اس نے اس حد تک درگزر سے کام لیا ہے۔
سوال : اگر میں کسی مرنے والے کو اپنا حق معاف کردوں تو کیا اسے معاف نہیں کردیا جائے گا اور بخش نہیں دیا جائے گا؟
جواب : اگر کوئی شخص آپ سے قرض لیتا ہے اور واپس کرنے کی خواہش اور کوشش کے باوجود اپنے حالات کے باعث واپس نہیں کرسکتا اور اس حالت میں وہ مرجاتا ہے اور آپ اس کے ذمے اپنا قرض معاف کر دیتے ہیں، تو خدا بھی اسے معاف کر دے گا۔ لیکن اگر صورت یہ ہو کہ وہ واپس کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اس کے باوجود جان بوجھ کر واپس نہ کرے اور قرض دبا کر خوش ہو، تو آپ چاہیں معاف کر دیں، خدا کے ہاں وہ اپنے اس طرزِعمل اور ظلم و بددیانتی کی سزا پائے گا۔
سوال :ہمارے قصبے میں ایک صاحب کہتے ہیں کہ سزا اور تعذیب کی یہ سب باتیں محض ڈرانے کے لیے ہیں، خدا سب کو معاف کردے گا، چاہے گناہ کی کوئی شکل بھی ہو؟
جواب :شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا نے صرف جنّت بنائی ہے، دوزخ کا کوئی وجود نہیں ہے؟
سوال :کیا نیند لانے والی گولیاں ’نشے ‘کی تعریف میں نہیں آتیں؟
جواب :’نشہ‘ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے آدمی کی عقل ماؤف ہوجائے، بھلے بُرے کی تمیز ختم ہوجائے اور آدمی کو کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے۔ اِس لحاظ سے خواب آور گولیاں ’نشے‘ کی ذیل میں نہیں آتیں۔
سوال :لیکن اگر کسی کو خواب آور گولیاں کھانے کی باقاعدہ عادت ہوجائے؟
جواب : محض عادت، ’نشے‘ کا نام نہیں، اور نہ ایسی عادت بھلے بُرے کی تمیز یا بھلائی بُرائی کے احساس کو ختم کرسکتی ہے۔
سوال : ہمیں تاریخ کا مطالعہ کس طرح کرنا چاہیے؟ کس مقام پر پہنچ کر اسلام کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے اور صرف مسلمانوں کی تاریخ رہ جاتی ہے؟
جواب : اسلام تاریخ کے ہر دور میں موجود رہا ہے اور جب تک دُنیا قائم ہے اس کی تاریخ جاری رہے گی۔ مختلف اَدوار میں فرق ہوسکتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اسلامی تاریخ ختم ہوگئی۔ عہد نبوتؐ و خلافت ِ راشدہؓ کی تاریخ، اسلام کی مکمل ترین شکل کی تاریخ ہے۔ اس وقت دستور بھی اسلام کا تھا، قانون بھی اسلام کے مطابق تھا اور قیادت بھی اسلامی تھی۔ بعد میں دستور کی شکل بدل گئی، لیکن قانون بحیثیت مجموعی اسلام کا ہی جاری رہا۔ قیادت کے باب میں بھی یہ اسلام ہی کا اعجاز ہے کہ دورِ ملوکیت میں مختلف مواقع پر جتنے خداترس اور حق پرست حکمران ہماری تاریخ میں ملتے ہیں، اتنے کسی اور جگہ دکھائی نہیں دیتے۔ پھر بعد کے اَدوار میں بھی اسلام اس صورت میں جلوہ گر رہا ہے کہ اُمّت نے اپنی دینی رہنمائی کے لیے بادشاہوں کی طرف نہیں دیکھا بلکہ ائمۂ کرام کی طرف رجوع کیا ہے، جنھوں نے اِقتدار کی سختیوں اور ناراضیوں کے باوجود اُمّت کے سامنے وہی چیز پیش کی جس کو انھوں نے حق سمجھا ، اور اسی چیز کو قبولِ عام حاصل ہوا۔(۵-اے ذیلدار پارک، اوّل)
دُعا کے بارے میں بھی یہ سمجھ لیجیے کہ دُعا ایک درخواست ہی ہے، جو مالک ِ کائنات سے کی جاتی ہے۔ مالک ہر دُعا کو قبول کرنے کا پابند نہیں ہے، اور نہ وہ اس شرط کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ مالک لازماً اس کو قبول ہی کرے۔
ہمارا کام صرف اس سے التجا کرنا ہے۔ یہ اس کے مالک ہونے اور ہمارے بندہ ہونے کا عین تقاضا ہے۔ وہ قبول کرے تو اس کا کرم ، نہ قبول کرے تو اس کو اختیارہے۔ اگر معمولی انسانی حکومتیں بھی ہرسائل کی ہر درخواست کو قبول نہیں کرتیں اور ان کے قبول نہ کرنے کی وجہ بہت سی ایسی مصلحتیں ہوتی ہیں، جنھیں سائلین نہیں جانتے، تو آخر کائنات کی حکومت کیسے ہماری ہر درخواست کو قبول کرلینے کی پابند ہوسکتی ہے، اور کائنات کا یہ نظام کیسے چل سکتا ہے اگر ہر دُعا مانگنے والے کی ہر ایک دُعا جُوںکی توں قبول کرلی جائے۔(’رسائل و مسائل‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، جنوری ۱۹۶۶ء، جلد۶۴، عدد۵، ص۶۱-۶۲)