جنوری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

غزہ کی تعمیرِ نو، ایک سراب؟

جمال بن عمار احمر | جنوری ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ میں بہت وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، اور قابض اسرائیل نے وہاں کے شہریوں کا بہت بڑے پیمانے پر قتل عام کیا ہے۔ لہٰذا غزہ کی فوری تعمیرِ نو نہایت ضروری ہے۔ لیکن تعمیرِ نو کے اس عمل کا امکان کن مسائل اور مشکلات سے ہو کر گزرے گا ، اس کا اندازہ کرنے کے لیے چند حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے:  

 تعمیرِ نو کے منصوبوں میں مختلف موقف 

غزہ کا جاری بحران صرف انسانی پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ واضح طور پر سیاسی بحران ہے۔ حماس ۲۰۰۷ء سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹوں کے مطابق شفاف ترین انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر غزہ کے حکومتی معاملات چلا رہی ہے، جس کو بنیاد بناکر تعمیرِ نو کی کوششوں کوپیچیدہ بنایا جارہا ہے کیونکہ اسرائیل حماس کی حکومت کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ 

یہ موضوع سیاسی میدان میں ایک کانٹے دار مسئلہ ہے، کیونکہ تعمیرِ نو کا گہرا تعلق سیاسی رسہ کشی سے ہے جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا۔ ہر فریق کے پاس جنگ کے بعد کے غزہ کے لیے ایک الگ وژن ہے، جو باہم متضاد ہے، جس سے ملبہ ہٹانے کا عمل مستقبل میں ایک ’پراکسی جنگ‘ میں بدل جاتا ہے۔ 

رام اللہ، القدس، واشنگٹن، برسلز، دوحہ اور قاہرہ کے ایوانوں میں جو سوال گونج رہا ہے وہ یہ نہیں کہ کیا غزہ دوبارہ تعمیر ہوگا؟ بلکہ یہ ہے کہ یہ کیسے دوبارہ تعمیر ہوگا؟ اور کون اسے دوبارہ تعمیر کرے گا؟ اور کس کے اختیار کے تحت یہ تعمیر ہوگا ؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ غزہ کو کس مقصد کے لیے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا؟ غزہ کی تعمیرِ نو محض انجینئرنگ یا انسانی چیلنج نہیں ہے، بلکہ یہ فلسطینی عوام کے مستقبل اور قابض فلسطینی اتھارٹی کی کش مکش کے بارے میں ایک ہائی اسٹیکس بات چیت ہے۔ 

مابعد جنگ کی حقیقت (post-war reality) میں یہ تعین کرنا کہ غزہ میں کس کی حکومت ہوگی، کسی بھی تعمیرِ نو کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل امر ہے۔ عطیہ دینے والے ممالک ضمانتیں چاہتے ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری دوبارہ تنازع کی وجہ سے تباہ نہ ہو ۔   سرمایہ کاری کے لیے حکمرانی میں استحکام (governance stability) اور حکمرانی کی قانونی حیثیت (governance legitimacy)کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ حکمرانی کی قانونی حیثیت اور اس کا کنٹرول ابھی تک حل طلب ہے۔ حماس سے منسلک کئی سرکاری ملازمین اس ماحول میں بھی عملی کام کر رہے ہیں اگرچہ اسے متنازع قرار دیا جاتا ہے ۔  

  • قابض طاقت کا موقف:قابض اسرائیل غزہ پر فلسطینی اتھارٹی کی دوبارہ حکومت کے سخت خلاف ہے ۔ اسرائیل اسے دہشت گردی کا سہولت کار گردانتا ہے ۔ نیتن یاہو کے حکومتی اتحادی، خصوصاً دائیں بازو کے شدت پسند وزرا کا مطالبہ ہے کہ غزہ کو غیر معینہ مدت کے لیے امن فورس کی حکمرانی میں دے دیا جائے۔ جس میں دوبارہ سے زمینی قبضے اور فلسطینی باشندوں کی بہت بڑی تعداد کو منتشر کرنا ممکن ہو سکے۔ صہیونی حکومت کا اصرار ہے کہ ہر طرح کی تعمیرِ نو کا عمل غزہ کو بے ہتھیار اور غیرعسکری کرنے سے مشروط ہونا چاہیے ، ساتھ ہی حماس کی حکومتی اور عسکری طاقت کو توڑنا بھی ضروری ٹھیرایا جاتا ہے ۔ یہ ایسی شرط ہے جس کا عملی طور پر پورا کیا جانا بہت مشکل اور سیاسی انارکی کو بڑھانے کا سبب بھی ہوگا ۔ اسی طرح قابض یہودیوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو ہونے ہی نہ پائے۔ 
  • حماس کا موقف:حماس کو صہیونی ریاست، امریکا، یورپی یونین، اور بین الاقوامی برادری کا ایک بڑا حصہ دہشت گرد تنظیم (terrorist) سمجھتا ہے جو حکومت کرنے کی اہل نہیں ہے، جب کہ شدید فوجی ضربوں کے باوجود، حماس غزہ میں ایک فعال سیاسی اور سماجی قوت کے طور پر موجود ہے اور ہراس کوشش کو ایک وجودی خطرہ سمجھتی ہے جو اسے تعمیرِ نو کے عمل سے باہر کرنا چاہتی ہے یا اس کے حکومتی ڈھانچے کو توڑنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس بات کا امکان موجودہے کہ حماس فلسطینی اتھارٹی کے زیرقیادت یا باہر سے مسلط کی گئی کسی بھی انتظامیہ کے خلاف مزاحمت کرے، اور ان تمام کوششوں میں رکاوٹ ڈالے جنھیں وہ اپنے اختیار کو کمزور کرنے کا سبب سمجھتی ہو ۔ مبصرین کو خدشہ ہے کہ وہ وسائل کو موڑ کر تعمیرِ نو کے عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی طاقت سے کام لینے کی کوشش کرے گی۔ دوسرا یہ کہ غزہ میں اسلامی ریاست کا قیام اس کا وژن ہے، اگرچہ موجودہ حالات میں یہ بہت بعید ہے اور بین الاقوامی مطالبات سے بنیادی طور پر متصادم (at odds) ہے۔ 
  • فلسطینی اتھارٹی (PA) کا موقف:فلسطینی اتھارٹی کو موجودہ ریاستی مشنری اس کی ساکھ اور صلاحیت، اور غزہ کے اندر عوامی حمایت کی کمی کے باعث مسترد کرتی ہے۔ غزہ کے بہت سے باشندے اسے محاصرے کا ذمہ دار ٹھیراتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ دشمن کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ 

رام اللہ میں کمزور فلسطینی اتھارٹی، جو مغربی کنارے میں بھی قانونی عوامی حیثیت سے محروم ہے، جنگ کے بعد کے مرحلے کو دونوں علاقوں میں فلسطینی عوام کے واحد جائز نمائندے کے طور پر اپنے کردار کی دوبارہ تصدیق کا ایک ممکنہ ذریعہ دیکھتی ہے، اگرچہ اس کا مشن خطرات سے بھرا ہوا ہے۔ صدر عباس اور ان کے حکومتی عہدے داروں نے ایک’نو تشکیل شدہ‘ (revitalized) فلسطینی اتھارٹی کی تجویز دی ہے جو غزہ میں حکومت سنبھالے، جس میں بین الاقوامی امن فورس بھی موجود ہو تاکہ استحکام بھی ممکن ہو سکے اور یہودی ریاست بھی مطمئن ہوجائے ۔ اس کے باوجود، فلسطینی اتھارٹی کو زبردست چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس کی سیکیورٹی فورسز کمزور ہیں، غزہ کے رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد اس کے اداروں کو بدعنوان اور غیر مؤثر سمجھتی ہے، اور تباہ شدہ پٹی میں مؤثر حکومت کے لیے مالی وسائل اور ضروری عرب سیاسی حمایت سے بھی یہ محروم ہے۔ سیکیورٹی خدمات فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت پر بھی بڑے شکوک و شبہات ہیں۔ 

  • امریکا  کا موقف:امریکا ایران کے خلاف ’پراکسی جنگ‘ لڑ رہا ہے۔ واشنگٹن اس ’اسرائیل- فلسطین‘ لڑائی کو ایرانی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ ایران کے بازو حماس کو توڑنا اور ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو تہران کے ’مزاحمتی محور‘ کو کمزور کرے۔ اس کے برعکس، ایران کے نزدیک امریکا کی اتحادی حکومت کے تحت ایک مستحکم اور خوش حال غزہ میں کوئی مفاد نہیں ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کو نظر انداز کرنے والے کسی بھی انتظام کو سبوتاژ کرنے کے لیے کام کرے گا، شاید باقی ماندہ مسلح گروہوں کی مالی معاونت اور انھیں مسلح کر کے بھی۔ 

ٹرمپ حکومت اور اس سے قبل بائیڈن حکومت نے ’فلسطینی اتھارٹی کی بحالی‘ کے ماڈل کا ’دو ریاستی حل‘ کے طور پر کھلے عام دفاع کیا ہے۔ اس وژن کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے اور تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد کے وعدے حاصل کرنے کے لیے بڑی سفارتی کوششیں کی ہیں۔ اس سب کچھ کے باوجود، امریکی پالیسی سب سے پہلے کانگریس سے جڑی ہوئی ہے، اور دوسری بات یہ کہ صہیونیت نواز لابیوں کے ذریعے اپنے اندرونی سیاسی دباؤ کے تابع ہو کر، صہیونی ریاست کے سیکیورٹی مطالبات کی غیرمتزلزل حمایت سے بھی وابستہ ہے، اور تیسری بات یہ کہ امریکا کو فلسطینی اتھارٹی کے لیے اپنی حمایت کو متوازن بنانے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے تاکہ حماس کو مضبوط کیے بغیر شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے، جو کہ تقریباً ناممکن ہے۔ 

  • عالمی برادری کا موقف: صہیونی افواہوں کی بنیاد پر، کئی بڑے ڈونرز نے UNRWA  (اونروا) کو فنڈنگ روک دی ہے، جس سے بدترین انسانی صورتِ حال میں اس کے آپریشنز مفلوج ہوگئے ہیں۔ وسیع تر عالمی برادری، جس کی نمائندگی یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر کرتے ہیں، عام طور پر دو ریاستی حل اور فلسطینی اتھارٹی کی حکمرانی کی حمایت کرتی ہے، لیکن قابض طاقت کی پابندیوں اور فلسطینی انتشار (Palestinian disunity) کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے ایک واضح اور قابل عمل منصوبے کی عدم موجودگی کے سبب مایوس بھی ہے۔ 
  • عرب علاقائی قوتوں کا موقف:یہاں جن ممالک کا تذکرہ مقصود ہے وہ مصر، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہیں۔ غزہ کے ساتھ سرحد رکھنے والا مصر عدم استحکام کے پھیلنے اور اس کے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشے پر شدید تشویش محسوس کرتا ہے۔ مصرنے بڑی تعداد میں فلسطینی آبادی کی میزبانی کرتے ہوئے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ 

جہاں تک قطر کا تعلق ہے، یہ کئی برسوں سے غزہ کے لیے ایک بڑا فنڈ فراہم کرنے والا ملک رہا ہے، جو اکثر حماس کو تنخواہوں اور ایندھن کی ادائیگی کے لیے براہ راست رقم بھیجتا رہا ہے، جس سے یہ ایک فیصلہ کن لیکن متنازع فریق بن جاتا ہے۔ 

امریکا حالیہ لڑائی سے پہلے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک تاریخی معاہدے میں ثالثی کر رہا تھا۔ اگرچہ جنگ نے ان مذاکرات کو روک دیا، لیکن اس نے ایک نیا تعلق بھی پیدا کیا۔ سعودی عرب نے اب تعلقات کے ایک قابل اعتماد راستے کو فلسطینی ریاست کے قیام کی بنیادی شرط بنا دیا ہے، جس سے ریاض کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے۔ 

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات انسانی امداد فراہم کرتے ہیں، لیکن وہ ’ابراہیم معاہدوں‘ کے ذریعے قابض اسرائیل کے ساتھ اپنے معمول کے معاہدوں پر تیزی سے توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر زور دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت میں غزہ کو فنڈ دینے کے لیے کم ہی مائل ہو سکتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے وژن کے لیے ان کی حمایت اکثر غیر فعال اور مشروط ہوتی ہے۔ 

  • اقوام متحدہ کا موقف:اقوام متحدہ، اپنی ایجنسیوں جیسے UNRWA (اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں) کے ذریعے، زمین پر بنیادی انسانی ہمدردی کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود، UNRWA خود جارح قابض اسرائیل اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کی جانب سے شدید سیاسی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ ان الزامات میں UNRWA کے کچھ ملازمین کا ۷؍ اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونا شامل ہے، تاہم یہ الزامات ابھی تک تحقیق طلب ہیں۔ 

غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے 

غزہ کی تعمیرِ نو اور اس کی مستقبل کی حکمرانی کے لیے مختلف بین الاقوامی تجاویز اور منصوبے ہیں، جن میں سب سے پرانا متنازعہ ’دی گریٹ ٹرسٹ پلان‘ ہے جو امریکی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک ہے، اور پھر اب اس میں سرفہرست ۲۱ نکات پر مشتمل امریکا کا منصوبہ اور مربوط بحالی کی کوششیں ہیں جو عرب لیگ، بین الاقوامی برادری اور کثیر جہتی تنظیموں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔ 

  • عظیم اعتماد منصوبہ (Great Trust Plan):یہ سب سے پرانا اور سب سے زیادہ بنیاد پرست منصوبہ ہے اور اس کی جڑیں ٹرمپ انتظامیہ اور قابض صہیونی ریاست کے بعض سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی تجاویز میں موجود ہیں۔ اس منصوبے نے بنیادی ڈھانچے پر اپنے مختلف نقطۂ نظر کی وجہ سے سنگین تنازع کھڑا کیا ہے۔یعنی : 
  • براہ راست دس سالہ امریکی حکمرانی: جس کا مزعومہ ہدف جامع ترقیاتی منصوبوں اور شہری علاقوں کی تعمیرِ نو کو نافذ کرنا ہے۔ 
  • آبادی کی منتقلی (Population relocation): اس منصوبے میں، متنازع طور پر، غزہ کے رہائشیوں کی رضاکارانہ منتقلی کے بعد نئے شہروں کی تعمیر شامل ہے۔ یہ ایک ایسی تجویز ہے جسے ناقدین جبری نقل مکانی جتنا ہی خطرناک سمجھتے ہیں۔ 
  • اقتصادی تنظیم نو: جامع بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو غزہ کے ایک خصوصی علاقے کے وژن کے ساتھ جوڑتی ہے جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے زیرِ اثر ہو ۔ 

ناقدین ’عظیم اعتماد منصوبے‘ کو حقیقی تعمیرِ نو کے بجائے آبادی کو بے دخل کرنے کا ایک خاکہ سمجھتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ یہ فلسطینی خودمختاری کو کمزور کرے گا، اور ترقی اور سلامتی کے پردے میں انسانی بحرانوں کو جنم دے گا۔ مقامی مخالفت اور جغرافیائی سیاسی پیچیدگیاں اس کی عملیت اور اخلاقی بنیادوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں۔ 

  •   ۲۱ نکاتی امریکی منصوبہ:یہ مزعومہ سیاسی اصلاحات کے ساتھ تعمیرِ نو کا ایک وژن ہے۔ اس منصوبے کو غزہ کے مستقبل کے لیے سب سے زیادہ تفصیلی فریم ورک میں سے ایک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ کئی اہم اصولوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے: 
  • کوئی جبری نقل مکانی نہیں: غزہ کے جو باشندے جانا چاہتے ہیں وہ ایسا کرسکتے ہیں، لیکن ان کی واپسی کا حق بھی یقینی ہے، اور یہ عمدہ توازن ہے جو انفرادی انتخاب اور اجتماعی حقوق کا احترام کرتا ہے۔ 
  • حماس کو حکومت سے ہٹانا: اس منصوبے میں غزہ کی قیادت کے لیے امن اور بقائے باہمی کے عزم کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جو حماس کو اقتدار سے خارج کرتا ہے۔ 
  • عارضی بین  الاقوامی   استحکام    فورس (Temporary International Stabilization Force): یہ فورس فلسطینی پولیس کی تربیت کی نگرانی کرے گی اور غزہ میں عبوری مرحلے کے دوران سلامتی اور استحکام فراہم کرے گی۔ 
  • اسرائیل کا تدریجی انخلا (Gradual Withdrawal): اس منصوبے میں قابض اسرائیل کے زیرکنٹرول غزہ کے علاقوں کو بتدریج واپس کرنے کا تصور دیا گیا ہے۔ 
  • اقتصادی بحالی (Economic revitalization): پائیدار ترقی کی حوصلہ افزائی کے لیے کم کسٹم ڈیوٹی کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز کا قیام۔ 
  • فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ (Pathway to statehood): ضروری ہے کہ یہ منصوبہ تعمیرِ نو کو بالآخر ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم کے طور پر پیش کرے، اسی طرح سیاسی اصلاحات اور سیکورٹی ضمانتیں بھی فراہم کرے۔ 

یہ منصوبہ امریکی انتظامیہ کے سیکورٹی خدشات اور انسانی و سیاسی حقیقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کا عکاس ہے۔ تاہم، غزہ کے رہائشیوں اور عالمی برادری کے درمیان اعتماد سازی اب بھی ایک مشکل کام ہے۔ 

  • عرب لیگ اور مربوط بحالی کی کوششیں: اس کے علاوہ، عرب لیگ اور متعدد بین الاقوامی اداروں نے مربوط منصوبے پیش کیے ہیں جو چیلنجوں کے پیش نظر تعاون کے فریم ورک میں بحالی (recovery)، سیاسی اصلاحات اور انسانی امداد پر توجہ مرکوز کرتے ہیں: 
  • محاصرہ اٹھانا: عرب ممالک تعمیر نو میں آسانی کے لیے امداد جمع کرنے کے لیے اسرائیلی پابندیوں میں نرمی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ 
  • سیاسی اصلاحات: کئی عرب تجاویز غزہ میں نیا حکومتی ڈھانچہ بنانے کا مطالبہ کرتی ہیں جو فلسطینی خودمختاری اور استحکام پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ 
  • کثیرجہتی فنڈنگ: اقوام متحدہ، عالمی ایجنسیوں اور عرب ممالک کے درمیان رابطہ کاری کا مقصد بحالی کے لیے ضروری وسائل جمع کرنا ہے۔ 
  • چیلنجز: ان کوششوں کو تشدد کا جاری رہنا، سیاسی تقسیم، عطیہ دہندگان کی تھکاوٹ (donor fatigue)، اور بنیادی ڈھانچے کی وقتاً فوقتاً تباہی جیسی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ 
  • عربوں کی ساکھ کی بحالی: ان رکاوٹوں کے باوجود، عرب لیگ کا وژن غزہ کی تعمیر نو پر ایک ایسے طریقے سے توجہ مرکوز کرتا ہے جو اس کے باشندوں کے حقوق اور امنگوں کا احترام کرتا ہو، اور ان کی عزت اور معمول کی زندگی کی بحالی کے لیے کوشاں رہے۔ 

تعمیرِ نو اور دوبارہ تباہی کا خدشہ  

بین الاقوامی برادری بحالی کے لیے مالی امداد کے وعدے کرنے میں تو جلدی میں تھی، چنانچہ جنوری/فروری ۲۰۲۴ء میں منعقدہ پیرس کانفرنس میں، عطیہ دہندگان نے فوری انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے لیے ۷؍ارب ڈالر سے زیادہ کا وعدہ کیا۔ یورپی یونین اور خلیجی ممالک اور دیگر نے بڑی رقمیں شامل کیں، لہٰذا  فنڈز نظریاتی طور پر تو موجود ہیں لیکن درحقیقت وعدوں سے عمل درآمد (from pledge to pavement) تک کا راستہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ 

  • مارشل پلان کا سراب:ان وعدوں میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کے مارشل پلان سے موازنے دہرائے جاتے ہیں، لیکن یہ سب موازنے بے کار ہیں، کیونکہ مارشل پلان کا انتظام ایک غالب طاقت، یعنی امریکا نے مستحکم قومی ریاستوں کے لیے کیا تھا، اگرچہ وہ جنگوں سے گزرے تھے، جن کے پاس مؤثر بیوروکریسی تھی۔ جبکہ غزہ ایک بے ریاست علاقہ ہے، اور اس کے پاس کوئی مستحکم حکومت نہیں ہے جسے اہم عطیہ دہندگان (key donors) تسلیم کرتے ہوں۔ غزہ ایک سخت محاصرے میں ہے، اس کے لیے ایک حقیقی مارشل پلان کا اطلاق ایک بنیادی سیاسی حل کے بغیر ناممکن ہے۔ کوئی بھی عرب یا اتحادی عرب حکومت تعمیرِ نو کے لیے فنڈ نہیں دے گی اگر اس عمل کو حماس کی حکومت کے لیے حمایت سمجھا جاتا ہے۔ قابض جنگ کا بنیادی مقصد اس تحریک کو تباہ کرنا ہے اور حماس کی قیادت میں تعمیرِ نو اس بین الاقوامی اتحاد کے نقطۂ نظر میں شامل نہیں ہے جو اس کی فنڈنگ کے لیے درکار ہے۔ 
  • تعمیرِنو کے لیے امریکی فنڈنگ کا مسئلہ:پیرس کانفرنس کی بنیاد پر جو جنوری ۲۰۲۴ء میں منعقد ہوئی، امریکی کانگریس نے صہیونی نظام اور علاقے کے لیے ۹ء۲ بلین ڈالر کی امداد کی منظوری دی، جس میں بڑی انسانی امداد بھی شامل ہے۔ 

امریکا فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑا انفرادی عطیہ دہندہ رہا ہے۔ تاہم، غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈنگ واشنگٹن میں ایک کانٹے دار سیاسی میدان ہے، کیونکہ ٹیلر فورس ایکٹ جیسی قانون سازی، جو امریکی اقتصادی امداد کو براہِ راست فلسطینی اتھارٹی کو فراہم کرنے سے روکتی ہے۔ اگر وہ عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو تنخواہیں (شہداء کے لیے معاوضے) جاری رکھتی ہے،تو یہ قانون سازی اس کو سختی سے محدود کرتی ہے۔ مزید برآں، غزہ کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی کسی بھی انتظامیہ کو کانگریس میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا، جہاں حماس کو فائدہ پہنچانے والی کسی بھی امداد کے خلاف دونوں جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ 

  • خلیجی ریاستیں اور اسٹرے ٹیجک فلاحی کام:خلیجی طاقتوں کا کردار مرکزی ہے لیکن ہے پیچیدہ۔مثال کے طور پر، قطر ایک بڑا عطیہ دہندہ رہا ہے، جو اکثر فنڈز کو براہِ راست سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور انسانی منصوبوں کے لیے بھیجتا ہے۔ تاہم، اس کے دیگر علاقائی ممالک، مثلاً  مصر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات، جو حماس اور اس کے حامی ممالک خود قطر اور ترکی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک متحد نقطۂ نظر تک پہنچنے کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ 

سعودی عرب غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈ فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے معاہدے کے حصے کے طور پر ہی تیار ہوسکتا ہے کہ جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے مقابلے میں ہی صہیونی نظام کو رعایتیں شامل ہوں۔ یہ ایک ایسا امکان ہے، جس کی قابض اسرائیلی حکومت سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ 

متحدہ عرب امارات بڑی رقم کی صورت میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر ایک وسیع تر سیاسی تصفیے کے حصے کے طور پر، جو ایرانی اثر و رسوخ کے مقابلے میں خطے کے بارے میں ان کے وژن سے ہم آہنگ ہو۔ اور ان کی سرمایہ کاری حماس کو گورننس سے دُور رکھنے کے ہتھیاروں سے پاک کرنے کی سخت شرائط کے ساتھ ہی آئے گی۔ 

یہ سارا عمل دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو محض ایک سراب ہے، یاوعدوں کی خوش نما جھلک، جس کا حقیقت میں ڈھلنا شاید ہی ممکن ہو۔