اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو ظالموں سے انتقام لینے والا، اہل ایمان کی دوستی اور نصرت و حمایت کا حکم دینے والا، اور ظالموں کے ساتھ دوستی اور ان کی طرف جھکاؤ سے منع کرنے والا ہے۔
درود و سلام ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے تمام آل و اصحاب پر، جو ذمہ داریوں کو نبھانے والے، مظلوموں کو پناہ دینے والے، ظلم کو مٹانے والے، ظلم کی عمارت اور بنیاد کو منہدم کرنے والے اور ظلم کےقریب جانے اور اس کا ارتکاب کرنے سے ڈرانے والے تھے۔
مسلمان کا خون اور عزت یقیناً معصوم اور محفوظ ہے، اور اگر وہ کسی مسلم ملک میں پناہ لیتا ہے تو اس ریاست پر اس کی نصرت و حمایت واجب ہے، یا کمزوری و بے بسی کی صورت میں کم سے کم اسے اس کی محفوظ جگہ تک پہنچانا واجب ہے۔ اس مسئلے میں ہمیں ان اہلِ علم کے درمیان کوئی اختلاف معلوم نہیں جو حق کے ساتھ فیصلہ کرتے ، اور حق کی بنیاد پر ہی انصاف کرتے ہیں۔البتہ اس شخص کو حوالے کرنا جسے زمین میں سرکشی، ظلم، زیادتی اور فساد کرنے والے طلب کریں، یہ تو بہت بڑے کبیرہ گناہوں، عظیم ہلاکتوں، اور بہت بڑی مہلکات اور فسادات میں سے ہے۔
ایک مسلمان کیسے ایک مسلمان کو کسی مفسد، فسادی اور ظالم کے حوالے کر سکتا ہے جو اس مسلمان کی عزت و آبرو اور جان و مال کو پامال کرے؟
یہ تو سرکشی، زیادتی اور زمین میں فساد برپا کرنے میں تعاون کرنا ہے، اور بلاشبہ یہ قطعی طور پر حرام ہے اور اس کی حرمت پر اہل علم کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔اس پر کتاب و سنت کے دلائل اس قدر قطعی اور حتمی ہیں کہ انھیں پڑھ اور سن کر دل لرز جاتے ہیں، ان کی ہیبت سے پیشانیاں کانپ جاتی ہیں اور جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہاں ان میں سے سترہ وجوہ، دلائل اور واضح ثبوت ذکر کیے جاتے ہیں:
۱- شریعت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول مسلمان کے خون، عزت اور مال کو حرام قرار دینا ہے، اور یہ بات دین میں نہایت ضروری اور لازمی طور پر معلوم ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون، عزت اور مال حرام ہے۔‘‘ (مسلم ،حدیث: ۴۷۵۶)
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر (قربانی کے دن) لوگوں سے خطاب میں فرمایا: ’’اے لوگو! یہ کون سا دن ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ’’حرمت والا دن‘‘۔ آپؐ نے مزید پوچھا:’’یہ کون سا علاقہ ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ’’حرمت والا علاقہ‘‘۔ آپؐ نے پھر پوچھا: ’’یہ کون سا مہینہ ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا:’’حرمت والا مہینہ‘‘۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: ’’تو تمھارے خون، تمھارے مال اور تمھاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے تمھارے اس دن کی حرمت ہے، تمھارے اس علاقے میں، تمھارے اس مہینے میں‘‘۔ آپؐ نے اس جملے کو کئی بار دُہرایا، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا:’’اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟‘‘ ابن عباسؓ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ آپ کی اپنی امت کے لیے وصیت تھی، لہٰذا جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچا دے کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘۔(بخاری، حدیث:۱۷۳۹)
یہ حدیث خطبۂ حجۃ الوداع کا حصہ ہے اور یہ اسلام کے بڑے، بنیادی اور حاکم قسم کے اصولوں میں سے ایک ہے۔لہٰذا جو شخص کسی پُر امن مسلمان کو کسی ظالم کے حوالے کرتا ہے، وہ اللہ کے غضب اور لعنت کا مستحق ہے، اور مسلمانوں کی عزت، خون اور مال کو حرام قرار دینے والے ان بڑے اور قطعی اصولوں کا مخالف ہے۔ اور مسلمان کو کسی ظالم کے سپرد کرنا اس کے خون، عزّت اور مال کی حرمت کو توڑنا اور پامال کرنا ہی ہے، اور یہ وہی ہلاکت خیز گناہ ہے جسے شریعت نے قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔
۲-اسلام نے تو پناہ کے طالب کافر کی حمایت و حفاظت کو بھی فرض ٹھیرایا ہے اور اسے اس کی جائے امن تک پہنچانا فرض قرار دیا ہے، کجا یہ کہ اسے کسی ظالم کے حوالے کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْہُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ۰ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ۶ۧ ( التوبہ۹ : ۶) اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمھارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اُسے اس کے مامن تک پہنچا دو۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے۔
اس آیت میں دو فرائض کا ذکر ہے: پہلا فرض، اس شخص کو پناہ دینا اور اسے قرآن سنانا، اور دوسرا فرض، اسے اس کے پُر امن ٹھکانے تک پہنچانا۔ غور کیجیے کہ یہ تو ایک کافر اور مشرک کے بارے میں حکم ہے، تو اُس مسلمان کے بارے میں حکم کی نزاکت کیا ہوگی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے؟ اور یہ نبوت کے آخری دور میں نازل ہونے والے احکام کی محکم (مضبوط) نص ہے۔ اس کو منسوخ کرنے یا ختم کرنے والا کوئی حکم نہیں ہے۔
مأمن سے مراد ’امن کی جگہ‘ ہے، اور یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں پناہ مانگنے والا اپنی سابق حالتِ امن کو پالیتا ہے، کیونکہ وہ اس کی قوم کا گھر ہوتا ہے جہاں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا۔(التحریر والتنویر ، ابن عاشور:۱۰/۱۱۹)
اسے اس کے محفوظ مقام پر پہنچانا اور اسے تحفظ فراہم کرنا، یہ ریاست کے اندر بھی ہوسکتا ہے، یا اس جگہ جہاں وہ جانے کی ریاست سے درخواست کرے۔ یہ مطلب اس لفظ کے عموم کی وجہ سے اخذ ہوتا ہے(المقدمة في فقه العصر، فضل بن مراد:۱/۲۹۱)
اور وہ محفوظ راستوں سے سفر کر سکیں یہاں تک کہ اپنے محفوظ مقام پر پہنچ جائیں(ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ ) کیونکہ وہ امان والے ہیں۔(المقدمہ فی فقہ العصر، ۲/۷۰۳)
اور سیاسی پناہ کا حق در اصل ہر انسان کے لیے یقینی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْہُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ۰ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ۶ۧ ( التوبہ۹ : ۶) اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمھارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اُسے اس کے مامن تک پہنچا دو۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے۔
یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ پناہ مانگنے والے کو پناہ دینا واجب ہے خواہ وہ مشرک ہو، اور اس میں سیاسی پناہ کا حق بھی شامل ہے۔اور اس کا مقصد ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ (پھر اسے اس کے محفوظ مقام پر پہنچا دو) (التوبہ۹ :۶) پر عمل کرنا ہے، اور یہی پناہ گزین اور پناہ کے طالب کے لیے تحفظ اور دیکھ بھال کا مقصود ہے۔
اگر وہ پناہ مانگ رہا ہو تو اسے اس کے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کو اس کے محفوظ مقام پر پہنچایا جائے گا، وہ مقام جہاں کہیں بھی ہو۔اور اس کا محفوظ مقام اُسی کے بتانے سے معلوم ہوگا، کیونکہ کسی شخص کے لیے محفوظ جگہ کا تعین عام طور پر اس کے ذاتی علم پر منحصر ہوتا ہے۔اور اس کا محفوظ مقام عام طور پر اس کا اپنا ملک ہی ہوتا ہے، یا اس میں کوئی خاص جگہ، یا دنیا کا کوئی مقام اور ملک، لہٰذا پناہ کے طالب کو یہ فراہم کیا جائے گا خواہ وہ کافر ہی ہو(المقدمة في فقه العصر،۱/۷۰۳)
۳-نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: مسلمان نہ اپنے مسلمان بھائی پر ظلم کرے اور نہ اسے دشمن کے حوالے کرے۔
سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے دشمن کے حوالے کرتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی تکلیف دُور کرے، اللہ اس سے قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دُور کرے گا، اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا‘‘۔(بخاری، حدیث:۲۲۴۴، ۶۹۵۱، مسلم ،حدیث:۶۶۷۰)
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی مسلمان کو کسی ایسے ظالم کے حوالے کرے جو اس کی عزّت اور خون کو پامال کرے گا، تو وہ حوالے کرنے والا شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی، اس کے حکم کی مخالفت ، ظالموں کا مددگار ، اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنےوالا اور تباہ کرنے والا قرار پائے گا۔
حافظ ابن حجر نے مذکورہ حدیث کی شرح میں فرمایا ہے: رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے الفاظ لَا یَظْلِمُہ خبر ہے لیکن اس کا معنی امر میں لیا جائے گا، کیونکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر ظلم کرنا حرام ہے، اور آپ کے الفاظ وَلَا یَسْلِمُہ کا مطلب ہے: اسے اس شخص کے ساتھ نہ چھوڑے جو اُسے تکلیف پہنچاتا ہو اور نہ ایسی چیز یا حالت میں چھوڑے جو اسے تکلیف دیتی ہو، بلکہ اس کی مدد کرے اور اس کا دفاع کرے۔(فتح الباری لابن حجر ۵/ ۹۷)
ابن اثیر نے کہا ہے :اَسْلَمَ فُلَانٌ فُلَانًـا اس وقت کہا جاتا ہےجب کوئی شخص کسی شخص کی اس کے دشمن سے حفاظت نہ کرے اور اسے ہلاکت میں ڈال دے۔(جامع الاصول : ۶/۵۶۲)
ابن حزم نے اس کی مختلف صورتیں بیان کرتے ہوئے کہا ہے: ابو محمد نے فرمایا: جس نے کسی کو بھوکا اور ننگا چھوڑ دیا، جب کہ وہ اسے کھانا کھلانے اور کپڑے پہنانے پر قادر تھا ، تو اس نے اسے (دشمن کے) حوالے کر دیا۔ (المحلی بالآثار: ۴/۲۸۲)
اور جس نے اسے ظالموں کے حوالے کر دیا، اس نے نہ صرف اسے بھوک اور ننگ کے حوالے کیا ، بلکہ قتل، ہلاکت، بھوک، ننگ اور عزت کی پامالی کے حوالے کر دیا، لہٰذا اس کا گناہ قیامت تک اس کی گردن پر ہے۔
۴- اللہ تعالیٰ نے ایسے بہت سے نصوص میں مومنوں سے دوستی کا حکم دیا ہے جو نصوص علمی اور عملی طور پر ثبوت اور دلالت کی قطعی حد تک پہنچتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان کو زمین میں سرکشی اور ظلم کرنے والوں کے حوالے کرنا ایمان والوں سے رشتہ و تعلق اور دوستی کو توڑنا، ظلم و سرکشی اور فساد کرنا ہے، اور یہ کام وہی کرتا ہے جس کا ایمانی عہد و پیمان خراب ہو چکا ہو اور وہ ظالموں کی طرف مائل ہو چکا ہو اور ایمان کی بڑی شاخوں کے بندھنوں سے آزاد ہو چکا ہو۔
۵- شریعت کے بڑے قطعی اصولوں میں سے ایک اصول عہد کی وفاداری، اور غداری کی حرمت ہے، کیونکہ یہ بڑے ہلاکت خیز گناہوں میں سے ہے اور اس معاملے میں یہ سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔ گناہ اس چیز کے عظیم ہونے سے عظیم ہو جاتا ہے جس سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور یہاں یہ مسلمان کے خون، عزت، جان اور وقار کو پامال کرنے سے متعلق ہے۔ اور غداری تو منافقوں کی صفت ہے، اس سے اللہ کی پناہ! لہٰذا جس نے کسی مسلمان سے غداری کی وہ منافقوں کی صفت پر ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک بڑا گناہ ہے۔
بڑے گناہوں سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور جان بوجھ کر قتل کرنا بھی انھی بڑے گناہوں میں سے ہے اور مسلمان کو کسی ایسے شخص کے حوالے کرنا جو اسے قتل کردے بلا شبہ کبیرہ گناہ ہے۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو دیکھیے:
وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۲۹ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْہِ نَارًا۰ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرًا۳۰ اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا۳۱ (النساء۴:۲۹-۳۱)
اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمھارے اوپر مہربان ہے۔|جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ |اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمھیں منع کیا جا رہا ہے تو تمھاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزّت کی جگہ داخل کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے جان کے قتل کو حرام کیا پھر بڑے گناہوں سے ڈرایا اور خبردار کیا، لہٰذا ہرمسلمان کو اپنی جان کو بڑے گناہوں کی گہرائیوں میں گرانے سے بچانا چاہیے، خاص طور پر ان گناہوں سے ، جو جان، عزّت، خون اور مال سے متعلق ہیں۔
ایک عام مسلمان کی نسبت حکمران زیادہ ذمہ دار ہے،کیونکہ اس کے ہاتھ میں امر و نہی (حکم دینے اور منع کرنے) کا اختیار ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن یہ اس کے اوپر کتنی بڑی آفت بن کر ٹوٹے گی جب گواہ کھڑے ہو کر کہیں گے کہ وہ ایک مسلمان کو ایک ظالم کے حوالے کر کے اس کے قتل یا اس کی عزّت پامال کرنے کا سبب بنا تھا۔
۶- علما نے تصریح کی ہے کہ مومن کو ڈرانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
مناوی نے فیض القدیر میں کہاہے : مسلمان کو ڈرانا حرام ہے، سخت حرام۔
ابن حجر ہیثمی اور دیگر نے بھی قرار دیا ہے کہ ڈرانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اپنے بھائی کی طرف لوہے (ہتھیار) سے اشارہ کیا فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں، چاہے وہ اُس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔(مسلم، حدیث: ۴۸۴۸)
امام نووی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے : اس میں مسلمان کی حرمت کی تاکید اور اسے ڈرانے، خوف زدہ کرنے اور اسے ایسی چیز سے دوچار کرنے سے سخت ممانعت ہے جو اسے نقصان پہنچا سکتی ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ’چاہے وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو‘، ہرکسی کے لیے ممانعت کے عموم کو واضح کرنے کی انتہا ہے، چاہے اس پر اس کا الزام ہو یا نہ ہو، اور چاہے یہ مذاق اور کھیل ہی میں کیوں نہ ہو، کیونکہ مسلمان کو ڈرانا بہرحال حرام ہے۔(شرح نووی، علی مسلم ۱۶/۱۷۰)
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک آدمی سو گیا تو صحابہ میں سے ایک نے اس کے پاس موجود رسی کو پکڑ لیا (جس سے وہ ڈر گیا)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، حدیث: ۴۳۷۲)
مذکورہ واقعے میں اس معمولی چیز کے ذریعے ڈرانا تھا، تو اس شخص کا معاملہ کیسا سنگین ہوگا جو ایک مسلمان کو زیادہ بڑی چیز سے خوف زدہ کرے اور اسے زنجیروں میں جکڑ کر ایسے شخص کے حوالے کردے جو نہ نیکی کو پہچانتا ہو اور نہ برائی کو برا سمجھتا ہو۔ اللہ کی قسم! یہ سب سے بڑی دہشت گردی اور خوف و ہراس ہے، اور جو مسلمان کو ڈرائے گا اللہ اسے دنیا اور آخرت میں جلد سزا دے گا کیونکہ یہ ظلم اور سرکشی ہے اور اللہ فرماتا ہے:
اسْـتِكْبَارًا فِي الْاَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۰ۭ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ۰ۭ فَہَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ۰ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَبْدِيْلًا۰ۥۚ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَحْوِيْلًا۴۳(الفاطر۳۵:۴۳)یہ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے لگے اور بُری بُری چالیں چلنے لگے، حالانکہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اِس کا انتظار کر رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کا جو طریقہ رہا ہے وہی اِن کے ساتھ بھی برتا جائے؟ یہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے۔
ایک پناہ گزین جو ایک مسلمان ملک میں پناہ لینے آیا ہو اُسے کمزور سمجھنا، پکڑلینا اور کسی ظالم کی طرف بھیج دینا زمین پر تکبر اور بُری چال ہے، اور بُری چالیں اپنے چلنے والوں کو ہی اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔
علامہ ابن عاشور نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چال چلنے والے سے انتقام لینا اللہ کی سنت ہے۔ یہ ان قوانین میں سے ہے جنھیں تقدیر نے اس نظامِ دنیا کے لیے مقرر کیا ہے، کیونکہ اس قسم کے نقصان دہ معاملات لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں، اور اللہ نے اس دنیا کا نظام لوگوں کے باہمی تعاون پر قائم کیا ہے، کیونکہ انسان فطرتاً معاشرت پسند ہے۔ اگر لوگوں کو ایک دوسرے پر بھروسا نہ ہو تو وہ ایک دوسرے سے منہ موڑ لیں گے اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے اور ہلاک کرنے میں جلدبازی سے کام لیں گے، تاکہ ہر کوئی دوسرے کی سازش کا شکار ہونے سے پہلے اس کی سازش کو ناکام بنا دے، اور یہ چیز دنیا میں بڑے فساد کا باعث بنے گی اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا، اور وہ اپنے بندوں کو نقصان نہیں پہنچاتا مگر صرف وہاں جہاں اس کی شریعت کسی چیز کی اجازت دے۔ اسی لیے کہاوت ہے کہ ہر ظالم کسی دوسرے ظالم کے ہاتھوں ہلاک ہوتا ہے۔
اس دنیا میں کتنے ہی ایسے قوانین ہیں جن سے لوگ غافل ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ واضح فرما چکا ہے : وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۲۰۵ (البقرہ۲:۲۵) ’’اور اللہ تعالیٰ فسادکو پسند نہیں کرتا‘‘۔
ابن مبارک کتاب الزھد میں زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پہنچی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’نہ سازش اور مکر کرو اور نہ مکر کرنے اور سازش کرنے والوں کی مدد کرو، کیونکہ اللہ فرماتا ہے: اور برا مکر اس کے کرنے والے کو ہی گھیر لیتا ہے‘‘۔
عربی مقولہ ہے: جس نے اپنے بھائی کے لیے گڑھا کھودا وہ خود اس میں اوندھے منہ گرے گا۔تیونس کے عام لوگوں کی کہاوت ہے: ’’اے برائی کا گڑھا کھودنے والے، تو اپنے ہی لیے گڑھا کھود رہا ہے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان کے آخرت کے لیے جمع کردہ گناہوں میں ، کوئی گناہ ایسا نہیں جس کی اللہ دنیا میں جلد سزا دے ، سوائے سرکشی اور قطع رحمی کے‘‘۔ (ابوداؤد ، ابن ماجہ، احمد ، تفسیر ابن عاشور التحریر والتنویر ۲۲/۲۳۵)
میں کہتا ہوں مسلمان کو اس شخص کے حوالے کر دینا جو اس پر ظلم کرے اور اس کی عزت پامال کرے، یہ سب سے بڑی سرکشی اور قطع رحمی اور اسلام کے حقِ وفاداری، دشمن سے بیزاری، اور اپنوں سے اخوت کے رشتے کا خاتمہ ہے۔ یہ بدترین اخلاق اور بدترین رزائل ہیں جو صرف اُسی منافق کی صفت ہوسکتے ہیں جس کا کوئی اخلاق نہیں۔
۷- اللہ نے اہل اسلام میں سے قدرت رکھنے والوں پر جہاد فرض کیا ہے تاکہ زمین میں کمزوروں کی مدد کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا۰ۚ (النساء۴:۷۵)آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ۔
طاقت رکھنے کی صورت میں کمزوروں کی مدد و نصرت کرنا شرعی طور پر مقصود ہےخواہ یہ جہاد ہی کے ذریعے کرنا پڑے ۔ لہٰذا مستضعفین کو ظالموں کے حوالے کرنے والوں کی، شریعت کے خلاف اور اللہ کے خلاف جسارت کتنی عظیم ہے اور وہ کتنے دلیر اور بے شرم ہیں۔
۸- مسلمان کا کسی اسلامی ملک میں داخل ہوجانا اُس ملک کی حفاظت میں آجانا تصور ہوتا ہے، اور اسے ویزا جاری ہوجانا اس کے لیے امان ہے۔ خاص طور پر اگر وہ زمین میں فساد پھیلانے والے ظالم سے جان بچانے کی خاطر بھاگا ہو۔ اسلامی ملک اگر کسی کافر محارب یا مسالم کو بھی ویزا دے تو یہ امان ہے اور اس سے غداری حرام ہے۔ پھر ایک مسلمان کو کیسے حوالے کیا جا سکتا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور ظالم سے بھاگا ہو؟ علما کا اس بات پر اجماع ہے کہ لَا بَأسْ (کوئی حرج نہیں) کا لفظ کہہ دیا جائے تو یہ بھی امان ہے۔
ابن قدامہ کہتے ہیں: روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا:’’ بات کرو، اور تم پر کوئی حرج نہیں‘‘ (لَا بَأسَ عَلَیْکَ)۔ جب اُس نے بات کر لی تو عمر نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ انس بن مالک نے کہا:’’ آپ کو اس کا اختیار نہیں، آپ نے اسے امان دی ہے‘‘۔ عمر نے کہا:’’ ہرگز نہیں‘‘۔ زبیر نے کہا:’’ آپ نے اس سے کہا تھا: بات کرو، اور تم پر کوئی حرج نہیں‘‘۔ چنانچہ عمر نے اس کے قتل سے روک دیا۔ یہ واقعہ سعید اور دیگر نے روایت کیا ہے اور اس سب میں کوئی اختلاف معلوم نہیں۔(المغنی ۱۳/۱۹۳)
اسی طرح امان کا اشارہ بھی امان ہے، اس کے بعد غداری حرام ہے۔ ابن قدامہ کہتے ہیں: اگر مسلمان ان (کفار) کی طرف ایسی چیز سے اشارہ کرے جسے وہ امان سمجھتے ہوں، اور کہے کہ میرا ارادہ امان کا تھا تو وہ امان ہے، اور اگر کہے کہ میرا ارادہ امان کا نہیں تھا تو یہ بات اسی کی معتبر مانی جائے گی کیونکہ وہ اپنی نیت کو بہتر جانتا ہے۔ لیکن اگر کفار اس اشارے کی بنا پر اپنے قلعوں سے نکل آئیں تو انھیں قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ انھیں ان کی جگہ واپس بھیج دیا جائے گا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی اپنی انگلی آسمان کی طرف کر کے کسی مشرک کی طرف اشارہ کرے، اور وہ اس کی امان پر نیچے اُتر آئے، اور تم اسے قتل کر دو، تو میں تمھیں اس کے بدلے قتل کر دوں گا‘‘۔(المغنی ۱۳/۱۹۴)
چنانچہ کسی ملک کا جاری کیا گیا ویزا ایک معتبر امان ہے جو ان اجماعی نصوص، صحابہ کے عمل، اور حضرت عمرؓ کے قول و فیصلے کے تحت آتا ہے جو تمام حکمرانوں کے لیے عام ہے۔ لہٰذا، ویزا رکھنے والے سے غداری کرنا اور اسے ظالم کے حوالے کرنا بھی حرام ہے، اور جو بھی ایسا کرے گا ، شرعی ذمہ داری سے اس کی رُوگردانی کا جرم بھی اسی پر ہوگا۔
۹-ذمیوں، معاہدین اور مستامنین(پناہ گزین) سے غداری کبیرہ گناہ ہے۔ یہ تو کافر کے بارے میں ہے، اُس مسلمان کے بارے میں کیا حکم ہوگا جو مظلوم ہو اور اپنے بھائی سے پناہ بھی مانگ رہا ہو؟
۱۰- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’ مسلمانوں کی ذمہ داری (امان) ایک ہے، ان میں سے ادنیٰ بھی اس کی کوشش کرسکتا ہے، لہٰذا جس نے کسی مسلمان کی امان کو توڑا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ اس سے کوئی فرض یا نفل (عبادت) قبول نہیں کی جائے گی‘‘۔(بخاری ، حدیث:۱۸۷۰ اور مسلم، حدیث:۱۳۷۰)
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ کسی مسلمان کو (ظالم کے حوالے کرنا) سب سے بڑا گناہ ہے، لہٰذا جو کوئی یہ کام کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
۱۱- تمام اسلامی مذاہب کے جمہور علمائے اسلام نے کہا ہے کہ جان بوجھ کر، دشمنی کے ساتھ قتل کرنے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک ’سبب بننا‘ ہے، اور یہ دانستہ طور پر قصاص واجب کرنے والی صورتوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ ابن قدامہ نے کہا ہے:
’’چوتھی قسم، یہ ہے کہ اسے کسی ہلاکت خیز جگہ میں پھینک دیا جائے، پھر انھوں نے کئی صورتیں ذکر کی ہیں جن میں ایک اسے کسی شکاری درندے کے سامنے پھینکنا ہے، حالانکہ وہ ایک حیوان ہے، لیکن یہ دانستہ دشمنی کے ساتھ قتل ہے جس پر قصاص واجب ہوتا ہےــ۔ ــ پھر اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو ایک مسلمان کو باندھ کر، قید کر کے ایک ظالم قاتل کے حوالے کر دے؟ اللہ کی قسم! یہ دانستہ قتل ہے جو اس کے فاعل پر قصاص واجب کرتا ہے۔ لہٰذا یہ صورت، یعنی ایک مسلمان کو جو ظالم سے بھاگ رہا ہو، ایک قاتل کے حوالے کرنا، قتل میں سبب بننے کے مترادف ہے جس پر قصاص کی صورت میں ضمانت واجب ہوتی ہے۔
قیامت کے دن اس کا خون، اس کی عزّت اور اس کا مال اس شخص کی گردن پر ہوگا جس نے اسے باغی کے حوالے اور سپرد کیا۔ اور اس مسئلے میں کہ جس نے ایک شخص کو دوسرے کے لیے پکڑا اور اس نے اسے قتل کر دیا،اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قاتل کو قتل کیا جائے گا، کیونکہ اس نے جان بوجھ کر ایسے شخص کو ناحق قتل کیا جو اس کا ہم پلہ تھا، لیکن پکڑنے والے کو اگر علم نہیں تھا کہ قاتل اسے قتل کر دے گا، تو اس پر کچھ کوئی سزا نہیں، کیونکہ وہ سبب بننے والا ہے، اور قاتل براہِ راست عمل کرنے والا ہے، تو سبب بننے والے کا حکم ساقط ہو جاتا ہے۔ اور اگر اس نے اسے اس لیے پکڑا کہ قاتل اسے قتل کر دے، مثلاً اس نے اسے دبائے رکھا یہاں تک کہ قاتل نے اسے ذبح کر دیا، تو اس بارے میں امام احمد نے مختلف روایات نقل کی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے قید رکھا جائے گا یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ یہ عطاء اور ربیعہ کا قول ہے۔ یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
ایک روایت احمد سے یہ بھی ہے کہ اسے بھی قتل کیا جائے گا۔ اور یہ مالک کا قول ہے۔ سلیمان بن موسیٰ نے کہا کہ ہمارا اتفاق اس پر ہے کہ دونوں کو قتل کیا جائے، کیونکہ اگر وہ اسے نہ پکڑتا، تو قاتل اسے قتل نہ کرسکتا، اور اسے پکڑنے سے قاتل اسے قتل کرنے پر قادر ہوا، چنانچہ قتل دونوں کے فعل سے سرزد ہوا، لہٰذا وہ دونوں اس میں شریک ہوں گے۔ لہٰذا ان دونوں پر قصاص واجب ہوگا، جیسا کہ اگر دونوں نے اسے زخمی کیا ہو۔ اور ابو حنیفہ، شافعی، ابو ثور اور ابن منذر نے کہا کہ اسے سزا دی جائے گی اور وہ گنہگار ہوگا۔(المغنی ۱۱/۵۹۶)
اسی طرح اس مسئلے میں کہ جس نے ایک شخص کو جو قاتل سے بھاگ رہا تھا، ٹانگ اڑا کر گرا دیا، تو وہ بلاشبہ گنہگار اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا، اور علما کی ایک جماعت کے نزدیک اسے قتل کیا جائے گا، جیسا کہ ابن قدامہ نے اسی جگہ ذکر کیا ہے۔اور جس نے (مسلمان کو) پکڑا اور حوالے کیا اس پر ان احکام کا زیادہ اطلاق ہوتا ہے۔
۱۲- گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرنے کا حرام ہونا واضح نص سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۰۠ وَاتَّقُوا اللہَ۰ۭ اِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۲ (المائدہ۵:۲) ’’اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے‘‘۔
یہ مسئلہ مذکورہ نص میں شامل ہے، لہٰذا اس (مظلوم) کو ظالم کے حوالے کرنا بلا شک و شبہ تمام علما کے نزدیک گناہ اور زیادتی پر تعاون کرنا ہے۔ اگر یہ گناہ اور زیادتی نہیں تو شرع میں گناہ اور کیا ہے؟ بلکہ یہ سب سے بڑا گناہ اور زیادتی ہے۔
۱۳- ظالموں کی طرف میلان رکھنا اور جھکنا منصوص طور پر حرام ہے اور ایسا کرنے والے کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ علما نے فرمایا ہے کہ جس کام پر عذاب کی وعید ہو وہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اس اعتبار سے جو ظالموں سے تعاون کرے وہ اُن کی طرف جھکنے والے سے بھی بڑا ظالم ہے۔ اسی جھکاؤ، ظلم اور تعاون کی ایک صورت مظلوم کو ظالم کے حوالے کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
فَاسْتَقِمْ كَـمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۰ۭ اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۱۱۲ وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ۰ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۱۱۳ (ھود ۱۱:۱۱۲-۱۱۳) پس اے نبیؐؐ، تم، اور تمھارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمھیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کررہے ہو اس پر تمھارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ |اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے اور تمھیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمھیں بچاسکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔
یہ سیاق و سباق استقامت اختیار کرنے، سرکشی چھوڑنے اور ظالموں کی طرف جھکاؤ سے ڈرانے پر دلالت کرتا ہے۔ اور جو شخص ایسا کرے گا اس کا قدم جہنم میں پڑے گا، اللہ اسے رُسوا کرے گا اور اس کی مدد نہیں کرے گا۔ اور یہی اس آیت کے اختتام کا راز ہے کہ’’اور تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہ ہوگا، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی‘‘۔
مذکورہ آیت کی روشنی میں یہ اللہ کی طرف سے بیان ہے کہ وہ ممالک اور ظالم لوگ، اپنی طرف جھکنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکیں گے، بلکہ ان جھکنے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے ذلت، عدم نصرت اور رسوائی کا وعدہ ہے۔ العیاذ باللہ!
۱۴- اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا۵۸(الاحزاب۳۳:۵۸ ) اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنھوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔
اور سب سے بڑی ایذا رسانی یہ ہے کہ’مسلمان کو ‘ ایک ایسے سرکش، ظالم کے حوالے کر دیا جائے جس کا’اہل اسلام کو دنیا بھر میں اذیت دینا ‘مشہور ہو چکا ہو، لہٰذا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ایسا کرتا ہے، اس پر ہم انا للہ و انا الیہ راجعون ہی پڑھ سکتے ہیں ۔
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ جس نے ظالم کی مدد کی، اللہ اس سے انتقام لے گا اور ظالموں کو اس پر مسلط کر دے گا۔
۱۵- ’’نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ‘‘، شریعت کے عظیم ترین متفقہ قواعد میں سے ہے۔
لہٰذا نقصان کو دُور کیا جائے گا لیکن نقصان کو نقصان سے دور نہیں کیا جائے گا۔ اور نقصان اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب اس کا تعلق دین، عزت، جان اور مال جیسے بڑے ضروری امور سے ہو اور یہ سب چیزیں مسلمان کو سرکشوں اور ظالموں کے حوالے کرنے سے پامال ہوتی ہیں۔
۱۶- ان دلائل میں سے ایک دلیل اجماع بھی ہے اور جو اہل اسلام کے اجماع کی مخالفت کرے وہ گمراہ ہے اور مومنوں کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے کی پیروی کرنے والا ہے۔ اور یہ بات ثابت شدہ صحیح اجماعات میں سے ہے کہ فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مجبور شخص کو کھانا پینا فراہم کرنا واجب ہے تاکہ اس کی زندگی بچائی جا سکے۔ اسی طرح اسے ہر اس چیز سے بچانا جو اسے ہلاکت میں ڈال سکتی ہے، جیسے ڈوبنا یا جلنا۔ اگر کوئی شخص اس پر قادر ہو اور کوئی دوسرا موجود نہ ہو تو یہ مدد اس پر انفرادی طور پر عین واجب ہے، اور اگر دوسرے لوگ بھی موجود ہوں تو یہ قادر افراد پر کفایہ طور پر واجب ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک شخص یہ کام کر لے تو باقیوں سے یہ ذمہ داری ساقط ہوجاتی ہے، ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔( الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:۵/۱۹۶)
یہ اجماع اس بات پر ہے کہ مسلمان کو بچانا واجب ہے، لہٰذا اسے کسی ظالم کے حوالے کرنا ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، جو سلف اور خلف کے اجماع کے خلاف ہے۔
۱۷- اس سلسلے میں ہر قسم کا معاہدہ باطل ہے کیونکہ یہ زیادتی، ظلم اور سرکشی ہے، لہٰذا کسی مسلمان کو کسی کافر یا ظالم کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے اس کی وضاحت المقدمة في فقه العصر میں کی ہے، جہاں ہم نے کہا ہے:مسلمانوں کو حوالے کرنے کی حرمت اور کسی بھی نام کے تحت مسلمانوں کو حوالے کرنا حرام ہے۔
ایسے بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہونا جو انھیں افراد کے حوالے کرنے کے پابند کرتے ہیں، حرام ہے۔ اگر ایسا کیا جائے تو وہ باطل ہے، کیونکہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اسے رُسوا نہیں کرتا، اور اس لیے بھی کہ حوالے کرنا ریاست کی خودمختاری میں کمی اور کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں خودمختاری کی وجہ سے اپنے شہریوں کو کبھی حوالے نہیں کرتیں۔
اسلامی ممالک کے اندر کسی بھی دعوے کی صورت میں شریعت اور اس سے ماخوذ قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔ کسی مسلمان حاکم، یا دین کے عالم، یا دنیا کے عالم جیسے ایٹمی سائنسدان، یا کسی علامت، یا رہنما کو حوالے کرنا سب سے بڑا جرم اور خیانت ہے۔ یہ کافروں کی اطاعت اور ان سے دوستی، اور مسلمانوں کو رُسوا اور کمزور کرنے کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ سب حرام ہے، کیونکہ یہ گناہ اور زیادتی میں تعاون ہے۔
اسے صلح حدیبیہ کے مسائل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ،کیونکہ وہ وحی کے ذریعے خاص تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب صحابہ نے اسے ناپسند کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحت طلب کی۔ آپؐ نے بتایا کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی ہے اور وہ اسے کالعدم نہیں کریں گے، لہٰذا باقی معاملات اصل اصول پر رہیں گے۔