جنوری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ہماری دعوت اور تحریک!

حسن البنا شہیدؒ | جنوری ۲۰۲۶ | دعوت و تحریک

Responsive image Responsive image

ہم چاہتے ہیں کہ اپنا مقصد کھول کر پیش کر دیں، اپنا طریق کار پوری طرح واضح کردیں اور لوگوں کے سامنے اس طرح اپنی دعوت رکھیں کہ نہ اس میں کوئی پیچیدگی ہو اور نہ ابہام۔ وہ سورج سے زیادہ روشن، سحر سے زیادہ تابناک اور نصف النہار سے زیادہ درخشاں ہو۔ 

ہماری دعوت نہایت صاف ستھری اور پاکیزہ دعوت ہے۔ وہ شخصی آرزوئوں سے پاک، مادی فائدوں سے بے نیاز اور اغراض و خواہشات کی غلامی سے بہت بلند ہے۔ وہ شروع سے ہی ان خطوط پر چل رہی ہے، جو حق تعالیٰ نے داعیانِ حق کے لیے متعین کر دیئے ہیں: 

قُلْ ہٰذِہٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللہِ۝۰ۣؔ عَلٰي بَصِيْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ۝۰ۭ وَسُبْحٰنَ اللہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝۱۰۸(یوسف ۱۲:۱۰۸) تم ان سے صاف کہہ دو کہ ’’میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں‘‘۔ 

چنانچہ لوگوں سے ہم کچھ نہیں مانگتے۔ نہ ہم دولت مانگتے ہیں، نہ کوئی وجاہت یا قدرومنزلت چاہتے ہیں۔ ہمیں نہ کسی صلے کی تمنا ہے، اور نہ کسی شکروسپاس کی خواہش۔ ہمارا اجر تو وہی مالک دے گا جس خالق نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ 

  • جذبۂ بـے تاب: ہماری قوم کو جاننا چاہیے کہ وہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔ یہ روحیں تو اس آرزو میں جیتی ہیں کہ اس کی عزّت و ناموس پر فدا ہوجائیں۔ وہ اپنی جانوں پر کھیل کر اس کے شرف، اس کی عزّت، اس کے دین و مذہب اور اس کے ارمانوں کی قیمت ادا کریں۔  

یہی جذبہ ہے جس نے ہمیں اس راہ کا دیوانہ بنادیا ہے۔ یہ جذبہ ہمارے رگ و پے میں سرایت کرگیا ہے۔ دل و دماغ پر چھا گیا ہے اور جذبات و احساسات پر حاوی ہوگیا ہے۔ چنانچہ اب آنکھیں اُمڈی پڑتی ہیں، اور بستر کانٹوں کی طرح چبھتے ہیں۔ 

آخر یہ کیوں کر ممکن ہے کہ یہ آنکھیں قوم کو ہلاکت کے نرغے میں تڑپتے اور جاتے دیکھیں اور پھر ہم ذلّت کے آگے ہتھیار ڈال دیں، رُسوائی پر راضی ہوجائیں اور یاس و نااُمیدی کے آگے سرجھکا دیں؟ ہم اپنے لیے جتنا کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ اوروں کے لیے کرتے ہیں۔ میرے دوستو! یقین رکھو، ہم آپ ہی کے ہیں کسی اور کے نہیں، اور ہم کبھی آپ کے بدخواہ نہیں ہوسکتے۔ 

  • خدا ہی کا احسان ہـے: ہم کسی پر کوئی احسان نہیں دھرتے اور نہ اپنی نیکی و پارسائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہمارے سینوں میں جو احساسات ہیں، ان کا اندازہ اس آیت پاک سے ہوسکتا ہے: 

بَلِ اللہُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ ہَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝۱۷ (الحجرات ۴۹:۱۷) بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے، کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت دی، اگر تم واقعی اپنے (دعوائے ایمان میں) سچّے ہو۔ 

ہماری کتنی تمنا ہوتی ہے، اگر کہیں تمنائیں کارگر ہوتیں، کہ یہ دل سینوں سے باہر آجاتے اور ہمارے بھائی دیکھ لیتے کہ اُن کے لیے ہمارے دلوں میں خیرخواہی، اخلاص، دردمندی اور جاں سوزی کے سوا کیا اور بھی کچھ ہے؟ 

اور کیا ایسا نہیں ہے کہ اپنی اس زبوں حالی پر ہمارے دلوں پر ایک داغِ غم کے سوا کچھ بھی نہیں؟ مگر ہمارے لیے یہی کیا کم ہے کہ اللہ ان باتوں سے واقف ہے، مدد اسی کے ہاتھوں میں ہے اور توفیق دینے والا پروردگار وہی ہے۔ دلوں کی زبان اور ذہنوں کی کنجی اسی کے ہاتھ میں ہے، جسے وہ ہدایت دے، اسے کوئی خطرہ نہیں، اور جسے وہ گمراہ رکھے، اس کا کوئی راہ نما نہیں۔ وہ ہمارے لیے کافی ہے، وہ بہترین سرپرست ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔ 

  • چار طرح کے لوگ: ہماری اس دعوت کے جواب میں چاررویوں میں سے کوئی ایک ہی رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے اور ہر رویے کے مناسب حال ہمارا بھی ایک مشورہ اور ایک موقف ہوگا: 
  •  اہل ایمان: اگر کوئی شخص ہماری دعوت کو سمجھ چکا ہے، ہماری باتوں سے اتفاق رکھتا ہے، ہمارے اصولوں سے وہ متاثر ہے اور انھی کوخیروبہتری کی کنجی سمجھتا ہے،نیز اس کے دل کو یقین کی ٹھنڈک حاصل ہے، اور ذہن لذتِ اطمینان سے بہرہ مند ہے، تو ایسے شخص کو ہم دعوت دیں گے کہ وہ جلدسے جلد آکر ہمارے ساتھ شامل ہوجائے۔ ہمارے ساتھ مل کر کام کرے کہ اس طرح راہِ حق میں خدمت انجام دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو اور اہل دعوت کی آواز پُراثر ہو۔ ورنہ ایسے ایمان کے کیا معنی جو ولولۂ شوق اور جوشِ عمل سے بے تاب نہ کردے؟ ایسے عقیدے سے کیا حاصل، جو کردار اور جذبۂ ایثار سے سرشار نہ کردے؟ اوّلین مومنین جن کے سینےاللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے کھول دیئے تھے، ان کا یہی حال تھا۔ انھوں نے انبیا علیہم السلام کی پیروی کی، ان کے پیغامات پر ایمان لائے اور راہِ خدا میں جی جان سے قربان ہوگئے۔ بلاشبہہ وہ خدا کے ہاں اجرعظیم سے ہم کنار ہوں گے۔ اور بعد میں جتنے لوگ بھی ان کی راہ اپنائیں گے، ان کے ثواب میں شریک ہوں گے، تاہم خود ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ 
  •  تردّد کے شکار:اگر کوئی تردّد اور تذبذب کا شکار ہے، حقیقت اس کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور ہماری باتوں میں اسے اخلاص یا افادیت کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ہے، تو اسے ہم تحریک سے وابستہ ہونے کی دعوت نہیں دیں گے۔ البتہ یہ مشورہ ضرور دیں گے کہ وہ قریب سے ہمیں دیکھنے اور دُورونزدیک سے ہمیں سمجھنے کی کوشش کرے۔ وہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کرے۔ ہماری مجلسوں میں شریک ہو اور ہمارے بھائیوں سے ربط رکھے۔ ان شاء اللہ وہ جلد مطمئن ہوجائے گا۔ انبیائے کرام ؑ کے پیروئوں میں جو لوگ تردّد کا شکار ہوتے تو ان کی یہی صورت ہوتی تھی۔ 
  •  منفعت کے غلام :اگر کسی نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ اس وقت تک ہمارا ساتھ نہ دے گا، جب تک اسے کسی منفعت کی توقع یا مالِ غنیمت کی اُمید نہ ہو، تو اس سے ہم کہیں گے: ذرا دردمندی سے کام لو، ہمارے پاس تو کچھ ہے نہیں۔ البتہ، اگر اخلاص سے کام لو گے، اور نیک نیتی کو راہ دو گے، تو اللہ تمھیں بہت دے گا، وہ اپنی جنّت سے نوازے گا، اور نعمتوں سے نہال کردے گا۔ ورنہ ہم تو گم نام اور نادار لوگ ہیں، ہمارے پاس ہے ہی کیا؟ ہمارے پاس جاہ و منزلت ہے، نہ مال ودولت، پس جو کچھ مل جائے، اسے ہم اس راہ میں لٹاتے اور رضائے الٰہی کی اُمید رکھتے ہیں، وہی ہمارا بہترین سرپرست اور بہترین مددگار ہے۔  

اب اگر اس کی آنکھیں کھل گئیں اور طمع کا یہ روگ دُور ہوگیا تو وہ محسوس کرے گا کہ اللہ کے یہاں جوکچھ ہے وہی بہتر اور لازوال ہے۔ پھر راہِ خدا میںخرچ کرنے اور ثوابِ الٰہی سے سرفراز ہونے کے لیے اللہ کی راہ پر چلنے والوں کے قافلے سے آملے گا۔ بلاشبہ اس دُنیا کی لذت چندروزہ ہے اور آخرت کی نعمت لازوال وبے پایاں ہے۔ لیکن اگر اس کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور حرص و آز کی آگ اسی طرح دہکتی رہی تو خدا بھی اس سے بے نیاز ہے۔ ظاہر ہے اسے ایسوں کی کیا ضرورت ہے جو جان و مال، دُنیا و آخرت اور موت و زندگی میں سب سے پہلا حق خدا کا نہیں سمجھتے۔ غالباً اسی طرح کے لوگ تھے، جنھوں نے دستِ رسالتؐ پر بھی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ وہ بس اسی شرط پر راضی تھے کہ آپؐ کے بعد اقتدار کے وارث ہوں۔ اس موقعے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی جواب دیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا تھا:’’زمین اللہ کی ہے ، وہ جسے چاہے گا اس کا وارث بنائے گا اور کامیابی متقین ہی کے لیے ہے‘‘۔ 

  •  جنگ جُو طبیعتیں:اور اگر کوئی ہم سے بدگمان ہے۔ وہ ہم سے متنفر اور بے زار ہے۔ وہ ہمیشہ سیاہ عینک سے ہمیں دیکھتا ہے اور جب بھی زبان کھولتا ہے تو فتنہ انگیزی کی باتیں کرتا ہے۔ وہ اپنے فریب خوردہ ہی رہنے پر نازاں ہے، اور شکوک سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہے، تو ہم اللہ سے دُعا کریں گے کہ وہ ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق دے اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے دُور رہنے کا شعور عطا کرے۔ اور ہم دونوں کے دلوں میں پاکیزہ جذبات اور اچھے خیالات کا الہام کرے۔ نیز ہم اسے بھی پکاریں گے اگر وہ پکار کو سنے اور اسے بھی آواز دیں گے اگر وہ آواز پر کان دھرے، اور اس کے لیے برابر خدا سے دُعائیں بھی کریں گے کہ حقیقت میں اُمیدیں اور توقعات تو اسی سے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

اِنَّكَ لَا تَہْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۚ (القصص ۲۸:۵۶) اے نبیؐ، تم جسے چاہو، اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ 

ہماری محبتیں برابر اس کے ساتھ ہوں گی اور ہم کبھی اس سے مایوس نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے تو ہمارا وہی انداز ہوگا جو اس سے پہلے محسن عالمؐ کا رہا ہے کہ آپؐ اپنی قوم کے لیے دُعا فرماتے: اَللّٰھُمَّ اَغْفِرْلِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ’’خدایا! میری قوم کو بخش دے، کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں‘‘۔ 

آج لوگوں کی انھی چار صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ مومن اپنی غایت کو پہچانے اور اپنی سمت ِسفر طے کرے، پھر اسی سمت کی طرف بڑھنے اور منزل تک پہنچنے کے لیے کوشاں رہے۔ رہی یہ غفلت کی بدمستی اور خیالات کی آوارگی، یہ دلوں کی بےحسی، اور یہ آنکھیں موند کے ہر آواز پہ دوڑنا اور ہر پکارنے والے کے ساتھ ہوجانا، تو یہ تو مومنین کا شیوہ نہیں۔ 

  • فنائیت: ہماری قوم کو جاننا چاہیے کہ اس دعوت کے لیے وہی لوگ مفید ہوسکتے ہیں، جو اس کی راہ میں فنا ہوجائیں، اور اسی کو اپنی آرزوئوں اور تمنائوں کا مرکز سمجھیں۔ دعوت جس چیز کا مطالبہ کرے اس کے لیے ہروقت تیار رہیں، تن من دھن سے اس کے لیے حاضر رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝۲۴(التوبۃ ۹:۲۴)اے نبیؐ، کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی، اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب، اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیزتر ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی راہ نمائی نہیں کیا کرتا۔ 

یاد رہے! یہ دعوت قربانی و سرفروشی کی دعوت ہے، اسے تردّد اور تذبذب سے بے انتہا نفرت ہے۔ لہٰذا، اگر کوئی اس کے لیے یکسو ہوتا ہے ، تو وہ دعوت کا ہوگا اور دعوت اس کی ہوگی۔ لیکن اگر طبیعت اس کے لیے آمادہ نہیں، تو وہ اللہ کی راہ پر چلنے والوں کے ثواب سے محروم ہوگا، اور اسے نکمّوں کے ساتھ ہی بیٹھ رہنا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی دعوت کے لیے کوئی اور قوم برپا کرے گا، جو مومنین کے لیے ریشم کی طرح نرم اور کفّار کے لیے فولاد ہوگی۔ وہ راہِ خدا میں جہاد کرے گی اور ملامت گروں کی ملامت سے بے پروا ہوگی۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے اسے نوازتا ہے: اَذِلَّۃٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۝۰ۡيُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاۗىِٕمٍ۝۰ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ  (المائدہ۵:۵۴) ’’جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے۔ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے‘‘۔ 

ہم لوگوں کو ایک ’عقیدے‘ کی دعوت دیتے ہیں۔ ایک ایسے عقیدے کی، جو بالکل واضح، متعین اور سب کا دل پسند ہے۔ جو سب کا جانا پہچانا عقیدہ ہے۔ جو سب کی عقیدتوں کا مرکز اور محبتوں کا محور ہے۔ جس کی برتری و بہتری کے سب قائل ہیں۔ جس پر سب کا یقین ہے کہ نجات و کامرانی اور خوش بختی کی کلید یہی ہے، جس کی موزونیت تجربے سے ثابت ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ وہ ہر دور کے لیے سازگار ہے،خواہ کوئی بھی دور ہو۔ انسانیت کی اصلاح اس کے بغیر ناممکن ہے۔ 

  • دو ایمان: اس عقیدے پر ہمارا بھی ایمان ہے اور ہماری قوم کا بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قوم کا ایمان ایک خوابیدہ و بے حس ایمان ہے، جب کہ یہی ایمان اخوان کے دلوں میں ایک بیدار، توانا اور پُرسوز ایمان ہے۔ 

ہم اہلِ مشرق کے اندر ایک عجیب نفسیاتی کمزوری ہے، جس کا احساس ہم سبھی کو ہے۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ جب اس فکر کے سلسلے میں ہم لب کشا ہوتے ہیں، تو نہ پوچھو ہمارا زورِ کلام اور جوشِ بیان ایسا لگتا ہے گویا ہم جینے سے بے زار اور مرمٹنے کے لیے بے قرار ہیں۔ نہ خطرات کا کوئی ڈر ہے، نہ آزمائشوں کی کوئی پروا۔ مال کی ضرورت ہو تو مال لٹائیں، خون کی ضرورت ہو تو خون بہائیں اور راہ میں کوئی پہاڑ ہو تو وہ پہاڑ بھی پاش پاش کرڈالیں۔ یہ کہ اب تو ہمیں نیند نہ آئے گی، نہ چین ملے گا، جب تک اسے غالب نہ کرلیں، یا خود اس کی راہ میں کام نہ آجائیں۔ 

پھر جب گفتگو کا جوش ٹھنڈا ہوتا ہے تو ہر ایک کا ایمان کسی سردخانے کی زینت بن جاتا ہے۔ کسی کو اپنے فکر کا ذرا بھی خیال نہیں رہتا، نہ اس کے لیے کوئی اُمنگ ہوتی ہے، نہ کوئی جذبہ اور حوصلہ اُمڈتا ہے، بلکہ کبھی تو اس غفلت و نسیان کا ایسا غلبہ ہوتا ہے کہ آدمی یکسر متضاد روش اختیار کربیٹھتا ہے، چاہے اسے احساس ہو یا نہ ہو۔ کیا تم سر نہ پیٹ لو گے اگر ایک سمجھ دار، ذی شعور اور تعلیم یافتہ شخص کو دیکھو کہ وہ دہریوں کی مجلس میں تو دہریہ نظر آتا ہے اور عابدوں کے حلقے میں عابد! 

اسی کمزور کردار یا اسی نسیان یا اسی غفلت یا اسی نیند نے، یا اسے جو چاہیں ، نام دے لیجیے، بہرکیف اسی کیفیت نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ پُرسوز ایمان کی فکر کو ہم زندہ کریں اور یہی ہے وہ ہر دل عزیز فکر، جو ان محبوب روحوں میں رچ بس گئی ہے۔ 

  • دعوتیں اور تحریکیں: میں پھر اپنی پہلی بات کی طرف پلٹوں گا اور کہوں گا کہ اخوان کی دعوت ایک عقیدے اور فکر کی دعوت ہے۔ اس وقت مشرق و مغرب میں دعوتوں اور تحریکوں کا ایک ہجوم ہے۔ اصول و نظریات کا ایک انبار ہے۔ خیالات و رجحانات کا ایک طوفان ہے اور ہر ایک دلوں کو جیتنے اور ذہنوں پر کمندیں ڈالنے کے لیے بے تاب ہے۔ ہر ایک کے کچھ افراد ہیں جو اس کے مداح اور ثناخواں ہیں، اور ہر ایک کے پیروئوں اور پرستاروں کا ایک لشکر ہے جو اس کے پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ جو اس کی خصوصیات اور خوبیوں کے دعوے کرتا ہے اور اس دعوے میں اس قدر مبالغہ کرتا ہے کہ وہ نظریہ واقعی حسین و جمیل اور دل کش نظر آنے لگتا ہے۔ 
  • دعوتوں کے کارکن: آج دعوتوں کے کارکن بھی ویسے نہیں رہے۔ آج تووہ بہت ہی ’کلچرڈ‘ ،کیل کانٹوں سے لیس، نہایت ٹرینڈ اور فن کار ہوتے ہیں۔ خصوصاً مغرب میں تو ہر ہر نظریے کا ایک ٹرینڈ دستہ ہوتا ہے، جو اسے اُچھالتا اور اس کی خوبیوں کے چرچے کرتا ہے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کے نئے نئے وسائل اور پروپیگنڈے کے نئے نئے انداز سوچتا ہے۔ ایسی راہیں اور تیربہدف تدبیریں تلاش کرتا ہے، جن سے وہ دلوں میں نفوذ کرسکے، اور انھیں ہم نوا و ہم خیال بناسکے۔ 
  • اسباب و وسائل: پروپیگنڈے کے اسباب و وسائل بھی آج وہ نہیں رہے، جوکل تھے۔ کل تک تو بس تقریریں تھیں، اجتماعات تھے یا خطوط و رسائل تھے، جب کہ آج نشریے ہیں، اخبارات و رسائل ہیں،سینما گھر اور تھیٹر ہیں، ریڈیواور ٹیلی ویژن ہیں۔ ان وسائل نے دلوں کو جیتنا بہت آسان کردیا ہے۔خواہ عورتیں ہوں یا مرد، اور خواہ گھروں میں ہوں یا دُکانوں پر، کھیتوں میں ہوں یا کارخانوں میں، ان سب کو اپنی باتیں سنانا اور اپنا گرویدہ و ہم نوا بنالینا اب کچھ دشوار نہیں رہا۔ 

لہٰذا، کارکنانِ دعوت کا فرض ہے کہ وہ سارے ہی وسائل حاصل کرلیں اور ان سے پوری طرح فائدہ اُٹھائیں، تاکہ ان کی کوششیں زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز ہوسکیں۔میں پھر کہوں گا: دُنیا اس وقت دعوتوں اور تحریکوں کی وبا میں مبتلا ہے، اور یہ دعوتیں سیاسی ،قومی، وطنی، اقتصادی، عسکری اور امن پسند بھی ہیں۔ آپ پوچھیں گے اس پورے ملغوبے کے سلسلے میں اخوان کا کیا موقف ہے؟ 

اس کے لیے آپ کو دو باتیں سمجھنی ہوں گی: ایک تو ہماری دعوت کی خالص ایجابی شکل، دوسرے ان تحریکات کے سلسلے میں اخوان کا موقف۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ میں نے طے کیا ہے کہ میری تحریر و گفتگو میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ میں کسی تکلف سے کام نہیں لوں گا، اور پوری سادگی سے باتیں کہوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے اصل رنگ میں دیکھیں۔ میری باتیں دلوں میں اس طرح پہنچیں کہ وہ تزئین و آرائش اور ملمع کاری سے پاک ہوں۔ 

  • ہمارا اسلام: سنو میرے بھائی! ہماری دعوت کی اگر کوئی جامع تعبیر ہوسکتی ہے تو بس یہ کہ وہ ایک ’اسلامی دعوت‘ ہے۔ البتہ یہ لفظ ہم اس تنگ مفہوم میں نہیں بولتے، جس سے عام ذہن مانوس ہیں، کیوں کہ اسلام کا مفہوم تو بہت وسیع ہے۔ 

اسلام تو ایک ایسا ہمہ گیر نظام ہے، جو زندگی کے سارے پہلوئوں پر حاوی ہے۔ وہ تو زندگی کے ایک ایک معاملے میں راہ نمائی کرتا اور اس کے لیے انتہائی گہرا، مربوط اور محکم نظام پیش کرتا ہے۔ وہ مسائل کے سامنے بے دست و پا نہیں ہوجاتا اور نہ ایسے اصول دینے سے عاجز رہتا ہے، جواصلاح کے لیے ناگزیر ہوں۔ کس قدر غلط فہمی میں ہیں وہ لوگ جن کا گمان ہے کہ اسلام تو بس چند عبادتوں یا روحانیت کی کچھ شکلوں کا نام ہے۔ اور اس طرح وہ ناقص فہم کے تنگ دائروں میں محصور ہیں۔ اسلام تو ایک ایسا وسیع اور ہمہ گیر نظام ہے، جو دُنیا و آخرت کے تمام مسائل سے بحث کرتا ہے۔ 

ہمہ گیری کا یہ تصور خود اپنی اختراع نہیں، بلکہ کتاب اللہ اور اسوئہ سلف سے ہم نے یہی سمجھا ہے۔ اب اگر قاری کو محض لفظ ’اسلامی‘ سے تسکین نہ ہو تو وہ پہلے اپنے نفس کو خواہشات و اغراض سے پاک کرے۔پھر قرآن کھول کر دیکھے۔ اس کو اس میں اخوان کی دعوت نظر آجائے گی۔ 

ہاں، ہماری دعوت’ اسلامی‘ ہے اور ان سارے مفاہیم کے ساتھ اسلامی ہے ، جن کی اس لفظ میں گنجائش ہے۔ اب آپ اس کے اندر جتنی چاہیں، معنی آفرینی کرلیں۔ البتہ اس معنی آفرینی میں آپ کتاب اللہ اور اسوئہ سلف کے پابند ہوںگے، کیوں کہ کتاب اللہ ہی اسلام کی اساس ہے۔ سنت ِ رسولؐ اس کی شارح و ترجمان ہے اور سلف صالحین ہی اس کی فوج و سپاہ اور اس کی تعلیمات کے علَم بردار تھے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ وہی ان تعلیمات کا عملی نمونہ اور ان احکام کی سچی تصویر تھے۔