خاتم المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم کی تورات میں نازل شدہ صفات کو بیان فرماتے ہوئے ا للہ ربّ العزت کا ارشاد ہے:تَرٰىہُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا۰ۡ (الفتح ۴۸:۲۹)’’تم انھیں دیکھو گے رکوع و سجدہ کرتے ہوئے، اللہ کا فضل اور اس کی رضا طلب کرتے ہوئے‘‘۔
اِس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تحریر کیا :’’ یہ اُن[ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے متبعین] کی توجہ الی اللہ،ان کی شب بیداری اور ان کی تہجد گزاری کی تصویر ہے۔ مطلب یہ کہ جو بھی ان کو دیکھے گا،اس پر پہلی ہی نظر میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ دنیا کے عام انسانوں سے بالکل مختلف ایسے قدسی صفت لوگوں کی ایک جماعت ہے جن کی زندگی کا اصل نصب العین اللہ کی رضا طلبی ہے۔ چنانچہ کبھی وہ ان کو رکوع میں پائے گا اورکبھی سجود میں۔اس آیت کے اس سے ماقبل حصہ میں ان کا وہ پہلو (رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ : آپس میں ر حم دل ہیں) سامنے آیا ہے جس کا تعلق خَلق سے ہے۔اس ٹکڑے میں اُن کی زندگی کے اُس پہلو کی طرف اشارہ ہے جس کا تعلق خالق سے ہے‘‘۔ (تدبّرِ قرآن، ج ۷، ص ۴۷۲)
اُمّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ اِلتْمَسَ رِضَا اللّٰہِ بسَخَطِ النَّاسِ کَفَاہُ اللّٰہُ مَؤْنَۃَ النَّاسِ وَ مَنْ الْتَمِسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ وَکَلَّہُ اللّٰہُ اِلَی النَّاسِ ( جامع ترمذی،ابواب الزہد ،باب عاقبۃ من التمس رضی النّاس بسخط اللہ وکّلہ اللہ الی النّاس)’’جو شخص اللہ کی رضا کی طلب میں لوگوں کی ناخوشی کی پرواہ نہیں کرے گا، اللہ اسے لوگوں کی فکر سے مستغنی [بے نیاز] کردے گا ،اور جو شخص انسانوں کی رضا حاصل کرنے میں اللہ کی ناخوشی کی پروا نہیں کرے گا تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کردے گا‘‘۔
اس حدیث کی تشریح میں شارحِ حدیث مولانا محمد فاروق خاں تحریر کرتے ہیں:’’آپؐ کے [اس] ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کو اصل فکر اس کی ہونی چاہیے کہ اسے دنیا وآخرت میں اللہ کی خوشنودی و رضا حاصل ہو۔ اُسے ایسے کام میںدل کھول کر حصہ لینا چاہیے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔اگر اس سے لوگ نا خوش ہو تے ہیں تو ہُو اکریں۔ ایسے موقع پر، جب کہ لوگوں کی خوشی اللہ کی خوشی سے ٹکرارہی ہو، آدمی کو اللہ کی خوشی کا لحاظ رکھنا چاہیے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں سے مستغنی کرد ے گا اوراس کی ضرورتوں اور حاجتوں کی خود کفالت کرے گا ، اس کی ضروریات اس طرح پوری کرے گا کہ وہ پہلے سے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔لیکن اگر اسے اللہ کی ر ضا اور خوش نودی کی فکر نہیں ہے،بلکہ وہ بندوں کو راضی کرنے میں اپنی کامیابی سمجھ رہا ہے ، توایسے شخص کا ذمہ دار اللہ نہیں ہے۔وہ اس کو لوگوں ہی کے حوالے کرد یتا ہے اور وہ ان کی غلامی سے کبھی نجا ت نہیں پاسکتا۔اللہ کی سرپرستی سے محروم ہوکر وہ ایسے لوگوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اسی کی طرح کمزور و بے بس ہوتے ہیں‘‘ (کلام نبوت، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ۲۰۱۴ء،ج۱،ص ۲۲۴-۲۲۵)
قرآن کریم میں یہ امر بالکل واضح فرما دیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے راضی کیا جائے۔ ارشاد ِ الٰہی ہے: وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْہُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ۶۲ (التوبۃ ۹:۶۲) ’’اور اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ مستحق ہیں کہ وہ ان کو راضی کریں ،اگر وہ صحیح معنوں میں اہلِ ایمان ہیں‘‘ ۔ بہت سے لوگ اس تجربے ومشا ہدے سے گزرتے رہتے ہیں کہ سچ بات کہنے یا علانیہ حق کو حق کہنے پر بعض اوقات غیر تو ایک طرف اپنے قریبی بھی ناراض ہوجا تے ہیں،لیکن رضائے الٰہی کے طلب گار کسی کی ناراضی کی پرواہ کیے بغیر حق کی راہ پر چلتے رہتے ہیں اور حق کو حق کہنے کا فریضہ ادا کرتے رہتے ہیں۔ فکرِ اسلامی کے علم بردار شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا یہ شعر اسی حقیقت کا ترجمان ہے:
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رضائے الٰہی کی طلب میں حق وصداقت کی راہ اختیار کر تے ہوئے لوگوں کی ناراضی کی پروا نہ کرنے والوں کے بارے میں جب کچھ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی یہ روش بہت سے قریبی لوگوں ( جن کی بے جا خواہش یا ناجائز فرمائش پوری نہیں ہوپاتی) کی ناراضی کا باعث بن جائے گی ،تو وہ انھیں اس طور پر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’آپ کِس چکّر میں پڑگئے ہیں، اپنے اس طرز عمل سے اپنوں کی ناراضی مول لے رہے ہیں ،اور اپنے مخالفین کی تعداد بڑھا رہے ہیں ۔ اپنے قریبی لوگوں کی بات مان لیجیے اور انھیں راضی رکھنے کی کوشش کیجیے‘‘۔ یہ باتیں سن کر اللہ رب العزت کی رضا کے طلب گار زبانِ قال یا زبانِ حال سے نصیحت کرنے والوں سے یہ کہتے ہیں :اُن کو خفا ہونے دو،وہ جو کچھ کہیں سن لو،مجھے حق و صداقت کی راہ پر چلنے دو، اسی میں مجھے سکون محسوس ہوتا ہے اور میں اِسی میں اپنی عافیت سمجھتا ہوں ،اس لیے کہ میرا رب مجھ سے راضی ہوجائے،بس یہی فکر مجھے دامن گیر رہتی ہے، یہی میری دلی مراد ہے، اور اسی کے لیے میں بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہوں۔
ارشادِ الٰہی ہے:وَكَفٰى بِاللہِ وَلِيًّا۰ۤۡ وَّكَفٰى بِاللہِ نَصِيْرًا۴۵( النساء۴:۴۵) ’’ اللہ ہی تمھارا ولی ، حامی و مددگار ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ وَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۰ۭ وَكَفٰي بِاللہِ وَكِيْلًا۳ (الاحزاب ۳۳:۳) ’’اور اللہ پر بھروسا کرو ،وہ تمھارا کارساز ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ۰ۭ ہُوَمَوْلٰىكُمْ۰ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ۷۸ۧ (الحج۲۲:۷۸)’’اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرلو، وہی تمھارا حقیقی مولیٰ و سرپرست ہے،کیا ہی خوب مولیٰ ہے وہ اور کیا ہی خوب مدد گار ہے وہ‘‘۔
منقولہ بالا سورۂ احزاب کی آیت ۳ کی تشریح میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ جو فرض تم پر عائد کیا گیا ہے اسے اللہ کے بھروسے پر انجام دو اور دنیا بھر بھی اگر مخالف ہو تو اس کی پروا نہ کرو۔جب آدمی کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ فلاں حکم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے، تو پھر اسے بالکل مطمئن ہوجا نا چاہیے کہ ساری خیر اور مصلحت اسی حکم کی تعمیل میں ہے۔اس کے بعد حکمت و مصلحت دیکھنا اس شخص کا اپنا کام نہیں ہے،بلکہ اسے اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیلِ ارشاد کرنی چاہیے۔اللہ اس کے لیے کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے۔وہ رہنمائی کے لیے کافی ہے اور مدد کے لیے بھی، اور وہی اس امر کا ضامن بھی ہے کہ اس کی رہنما ئی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائجِ بد سے دوچار نہ ہو‘‘۔ (تفہیم القرآن،ج۴، ص۶۹،حاشیہ نمبر ۴)
مفسرین کی تشریح کے مطابق مذکورہ آیت کے خاص مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپؐ کے توسط سے پوری امت ِ مسلمہ اس آیت کی مخاطب ہے، او راُس کا پیغام بالکل عام ہے، اور وہ یہ کہ اللہ قادرِ مطلق جس کا سرپرست، محافظ و حامی ہو، پروردگارِ عالم جس کی حفاظت و نصرت کا وعدہ فرما ئے اور مختارِکُل جس کو اپنے کارساز و مشکل کشا ہونے کا یقین دلائے، تو اسے طمانیت و سکینت کی بیش بہا نعمت میسّر آنا لازمی امر ہے، پھر اسے کس بات کا رنج و غم ہو گا،یا اسے کس چیز کی فکر ہوسکتی ہے؟ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اس آیت سے قبل کی آیت میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ قرآن کی پیروی کی جائے جو اللہ علیم و خبیر کا نازل کردہ ہے،یعنی روز مرّہ زندگی ہدایاتِ الٰہی کے مطابق بسر کی جائے اور پھر توکل علی اللہ کیا جائے، تو اللہ تمھاری مد د فرمائے گا، اپنی کارسازی کے کرشمے دکھائے گا اور تمھارے مشکل سے مشکل مسائل حل فرما ئے گا اور تمھیں پریشانیوں سے نجات دے گا۔
سورۂ آل عمران کی آیت ۷۳ا (وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۱۷۳ ) کی تفسیر کے ضمن میں مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ قیمتی نکتہ اجاگر کیا ہے : ’’بہترین ہستی جس کو بندہ اپنا معاملہ سپرد کر سکتا ہے،وہ اللہ ہی کی ہستی ہے،تو جس نے اللہ کو اپنا وکیل و معتمدبنایا اب اُس کے لیے کسی خوف و ہراس کی گنجائش کہاں باقی رہی:
کیا غم ہے، اگر ساری خدائی ہو مخالف
کافی ہے، اگر ایک خدا میرے لیے ہے
( تدبّر ِ قرآن، ج۲،ص ۲۱۷)
ارشاد ربّانی ہے: فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ ( المائدۃ۵:۴۴)’’پس لوگوں سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو‘‘۔ فَاللہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۱۳ (التوبۃ ۹:۱۳)’’پس اللہ زیادہ اس کا مستحق ہے کہ تم لوگ اس سے ڈرو، اگر تم (سچے )مومن ہو‘‘۔ یہاں یہ واضح رہے کہ یہ اور اِس نوع کی دیگر آیات خاص طور سے اِس پس منظر میں آئی ہیں جس میں لوگ کسی شخص یا لوگوں کو خوش کرنے یا ان کی خفگی سے بچنے کی خاطر ایسے کام کرتے تھے جو اللہ کی ناراضی کاباعث بنتے تھے۔
اسی ضمن میں یہ اضافہ بھی مفید معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ آل عمران کی آیت۱۷۵( جس میں اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ شیطان دین کی خاطر جان و مال کی قربانی کے موقع پر اپنے انسانی دوستو ں یا ہم نوائوں سے ڈراتا ہے، پس تم لوگ ان سے نہ ڈرو،مجھ سے ڈرو ) کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے خوفِ الٰہی سے متعلق یہ قیمتی نکتہ واشگاف کیا ہے کہ ’’ خوفِ خدا رونے اور آنسو پونچھنے کا نام نہیں،بلکہ اللہ سے ڈرنے والا وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس پر اللہ کی طرف سے عذاب کا خطرہ ہو‘‘ (معارف القرآن،ج۲، ص۲۴۴ )
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ درحقیقت اللہ سے ڈرنا اسی وقت ہوگا جب اس کے ثمرہ میں اللہ کی نافرمانی سے بچا جائے یا گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے کہ معصیت اور گناہ کے کام اللہ کی ناراضی کا موجب بنتے ہیں، تو پھر جو بندئہ مومن اللہ کی گرفت یا اس کے عذاب سے ڈرے گا تو وہ اس کے اثر سے نیکی کمانے میں تگ ودو کر ے گا اور بُرے اعمال یا گناہ کے کاموں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اس لیے اللہ کی رضا (جو اس کا مقصودِ اصلی ہے) کی طلب کے لیے اللہ کی اطاعت میں مصروف رہنا اور گناہ یعنی اللہ کی ہرقسم کی نافرمانی سے دُور رہنا ضروری ہے ۔ یہ نکتہ کہ ایک مومن کی زندگی میں خوفِ الٰہی کا اصل نتیجہ اللہ تعا لیٰ کی اطاعت میں سبقت لے جانااور گناہ سے پرہیز کرنا ہے، اُن آیات سے واضح ہوتا ہے جن میں مومنین و صالحین کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ روز مرّہ زندگی میں احکامِ الٰہی پر کاربند رہتے ہیں اور روزِ جزا اللہ کے حضور حاضری اور محاسبۂ اعمال سے ڈرتے رہتے ہیں۔ (التوبۃ ۹:۱۸، الرعد ۱۳:۲۰-۲۱، المؤمنون ۲۳: ۵۷-۶۰، النّٰزعٰت۷۹: ۴۰-۴۱، الرحمٰن۵۵:۴۶ )
اُن آیات سے اس نکتہ کی مزید وضاحت ہو تی ہے جن میں صالحین یا نیکو کاروں کو جنت نصیب ہونے اور اس میں نہایت سکون وفرحت بخش سکونت میسر آنے کی بشار ت دی گئی ہے، اُن کی دُنیوی زندگی کے احوال میں خاص طور سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نیک کام کرنے کی ہمہ تن کوشش میں حد درجہ محتاط زندگی گزارتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اُن سے اللہ کی نافرمانی نہ سر زد ہوجائے اور اِس فکر و کوشش میںلگے رہتے تھے کہ اُن سے جان بوجھ کر گناہ کا کوئی کام نہ صادر ہونے پا ئے۔( قٓ۵۰:۳۱-۳۴،الطّور۵۲:۵۲۔۲۸؛ الدھر۷۶:۶-۱۱)
مختصراً یہ کہ قرآن و حدیث کا بہت ہی واضح پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مومن کی زندگی کا مقصودِ اصلی ہے۔یہ مقصود اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب اللہ رب العزت کی عظمت و کبریائی دل ودماغ میں پوری طرح نقش ہو جائے،بعث بعد الموت پر ایمان کو تازہ رکھا جائے،اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور محاسبہ کی گھڑی کو ہردم یاد رکھا جائے اور ربِّ ذی الجلال کی خشیت سے دل کو معمور رکھا جائے۔ اس کی نافرمانی اور گنا ہ کے کاموں سے پرہیز کیا جائے اور ربِّ کریم کے محبوب بندوں میں شامل ہونے کی خاطر ہر شعبۂ حیات میں اس کے رسول محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کیا جائے۔ سچ یہ ہے کہ یہی طرزِ عمل اختیار کرنے پر ہم سب کو اللہ ربّ العالمین کی خوشنودی نصیب ہو گی، اور اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے مسائل حل ہوں گے اورہماری دُنیا و آخرت کی مشکلات دُور ہوں گی۔ ہم خود بھی یاد رکھیں اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے رہیں کہ عظیم ترین کتابِ ہدایت نے کئی مقام پر انسان کو اس جانب متوجہ کیا ہے اور ہرانسان کے ذہن میں یہ نکتہ جاگزیں کرنا چاہاہے کہ اللہ ہی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کو راضی کیا جائے ،اور وہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اُن لوگوں کا طرزِ عمل نہ اختیار کیا جا ئے جو اللہ سے زیادہ کسی انسان سے یا لوگوں سے ڈرتے ہیں۔واقعہ یہ کہ اگر ہر بات اور ہر کام کے وقت ان نکات کو ہم اچھی طرح یاد رکھیں تو ہم قرآن و سنت کے مطابق شب و روز بسر کرنے والے بن سکیں گے، ربِّ کریم کے نیک و فرماں بردار بندوں میں شامل ہوسکیں گے، نیکی کی طرف سبقت کر نا اور برائی یا گناہ سے بچتے رہنا ہمارا معمول بن سکے گا۔ اللہ کرے ہمیں اس کی توفیق نصیب ہو اور اس کے صلہ میں ہماری دنیوی زندگی خوش گوار ہو جائے اور آخرت میں ہم سب حقیقی فوز وفلاح سے ہم کنار ہوں۔