ایک مسلمان جب دعوتِ اقامت ِدین کا نیک اور مقدس ارادہ لے کر اُٹھتا ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دعوت کا آغاز کس طرح کرے؟ کیا وہ چھوٹتے ہی مخاطب کو پہلے اپنی ساری بات سنا دے اور پھر اسے اعتراضات کا موقع دے، یا مخاطب کو پہلے اپنی اُلجھنوں اور پریشانیوں کو بیان کرنے کی دعوت دے، اور پھر اُن کی روشنی میں اُس سے تبادلۂ خیالات کیا جائے؟
دعوتِ دین کے لیے نقطۂ آغاز معلوم کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے، جس سے دعوت کا کام کرنے والا ہرشخص زندگی میں ایک بار یا چند بار نہیں بلکہ ایک دن میں کئی کئی بار دوچار ہوتا ہے۔ جو لوگ مزدوروں اور کسانوں میں کام کرتے ہیں، وہ بھی اس معاملے میں وہی دقّت محسوس کرتے ہیں جو علمی کام کرنے والوں کوپیش آتی ہے۔ دعوت کے کام اور ذمہ داری سے وابستہ ہر کارکن کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اگرچہ کوئی لگابندھا ضابطہ یا طریقہ تو طے نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس مسئلے کے حل کے لیے متعین قاعدہ کلیہ ہی بنایا جاسکتا ہے، لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے متعلق چند بنیادی باتیں پیش کی جاتی ہیں:
بعض حضرات کا اس بارے میں یہ خیال ہے کہ جذبہ ہی درحقیقت اس معاملے میں بہترین رہنما ہے۔ جب ایک شخص کے دل میں کسی نصب العین یا مقصد کے لیے سچی طلب پیدا ہوجاتی ہے، تو وہ اپنی بات کہنے کے طریقے اور راہیں خود بخود نکال لیتا ہے۔ اس ’جذبِ اندروں‘ میں یہ قدرت اور طاقت موجود ہے کہ وہ نئے نئے طریقے ایجاد اور اختیار کرے اور اپنے عمل کے نتائج پر غوروفکر کرکے حسب ِ ضرورت ان میں ترمیم و تبدیلی کرتا رہے۔ منزلِ مقصود تک پہنچنے کی آرزو جتنی شدید اور گہری ہوگی، راستے کی مشکلات اسی تناسب سے آسان ہوتی چلی جائیں گی۔ لہٰذا، اصل ضرورت دعوت کے طریقے معلوم کرنا نہیں، بلکہ دین کے لیے سچی محبت اور لگن پیدا کرنا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ دعوت کے طریق کار کا بہترین فیصلہ اسی شخص کا وجدان اور ذوق کرسکتا ہے جو خود یہ کام انجام دے رہا ہو۔ اس معاملے میں کسی لگے بندھے ضابطے یا طریقے کی پابندی نہیں کی جاسکتی، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی کچھ کم قابلِ لحاظ نہیں ہے کہ دعوت و تبلیغ کی حکمت سے واقف ہونا اور اُن لوگوں کے طریق کار سے سبق لینا، اس وجدان و ذوق کی رہنمائی کے لیے بہت مفید ہے جو اس سے پہلے یہ کام بہترین طریقے سے کرچکے ہیں۔ اس غرض کے لیے دیکھنا ہوگا کہ کسی شخص یا گروہ کے سامنے دعوتِ دین پیش کرنے کے لیے آغاز کہاں سے کیا جائے؟
اردگرد کی پھیلی ہوئی وسیع دُنیا میں آباد انسانوں پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ یہاں ہرشخص مضطرب اور پریشان ہے۔ اگر ایک شخص معاشی حیثیت سے غیرمطمئن ہے، تو دوسرا سیاسی اعتبار سے بے چین۔ اسی طرح اگر ایک فرد کی جسمانی ضروریات پوری ہورہی ہیں تو اس کی روح پیاسی رہ جاتی ہے۔ الغرض دُنیا میں ہرفرد کسی نہ کسی لحاظ سے پریشان نظر آتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ بڑے ملک اور بڑی قومیں تک اس کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ دُنیا کی کئی اقوام غیرملکی سامراج کے استبداد میں ہیں اور انھیں یہ فکر لاحق ہے کہ کسی طرح اس لعنت سے نجات حاصل کی جائے۔ دوسری طرف غالب قوتیں اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح ان مظلوموں کو زیادہ سے زیادہ مدت تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا جائے اور اس دوران جس قدر ممکن ہو ان کا خون نچوڑا جاسکے۔ کسی کو ملک گیری کی ہوس کھائے جارہی ہے اور کسی کے سر پر ایک عالم گیر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
پھر یہ کش مکش صرف قوموں اور ملکوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ ہر قوم کے اپنے اندر ایک زبردست ہیجان اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اگر ایک طبقے کے لوگ ایک طرزِ فکر اختیار کرتے ہیں، تو اُس سے عجیب و غریب نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں اور جب اس کو بدل کر دوسری راہ پر چلتے ہیں، تو دوسرے مسائل پریشان کرنے لگتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب معیشت کو آزاد کیا جائے تو اس سے ایک گروہ کے لیے ناجائز استحصال کا میدان ہموار ہو جاتا ہے۔ بے روزگاری بڑھتی ہے اور طبقاتی تقسیم معرضِ وجود میں آتی ہے۔ اس کے برعکس جب پیدائش دولت اور تقسیم دولت کو حکومت اپنی تحویل میں لے لے، تو انسان کو ایک نہایت ہی جابرانہ نظام کی جکڑبندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں، جس میں نہ کسی شخص کو ضمیر کی آزادی حاصل ہوتی ہے، نہ اظہار رائے کی آزادی۔ وہ بے چارا اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے کہ نہ صرف حکومتی معاشی منصوبہ بندی کے تحت زندگی گزارے، بلکہ اپنے جذبات و احساسات اور افکار و تصورات کو بھی ایک لگے بندھے منصوبے کے مطابق ڈھال لے۔
یہ اضطراب انگیز کیفیات اور یہ پریشان کُن حالات ہیں جن میں سے ہر فرد گزر رہا ہے اور انھیں وہ نہایت شدت سے محسوس بھی کرتا ہے۔ یہ دعوتِ دین کا بڑی آسانی کے ساتھ نقطۂ آغاز بن سکتے ہیں۔ ان حالات میں اپنے مخاطب کو بغیر کسی دقّت کے یہ بات سمجھائی جاسکتی ہے کہ جس چیز پر وہ مضطرب ہے، وہ اصل بگاڑ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی بگاڑ کا محض ایک رُخ ہے۔ جب تک تم مجموعی خرابی کو اوراس کے بنیادی سبب کو نہ سمجھ لو، اس کے محض ایک جُز یا چند اجزا کو بدل دینے میں اوّل تو کامیاب نہیں ہوسکتے اور اگر کامیاب ہو بھی جائو تو اس سے اضطراب کے وجوہ ختم ہوجانے کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ اس طریقے سے جب آدمی کا ذہن ایک مرتبہ عمومی مظاہر کے اُلجھائو سے نکل کر حقائق کا سرا تلاش کرنے پر آمادہ ہوجائے تو اسے بآسانی اس بنیادی اصلاح کو سمجھنے کے قابل بنایا جاسکتاہے۔
اس وقت ملک کی معاشی صورتِ حال سے ایک عام اضطراب ہر طرف برپا ہے۔ یہاں دولت کی تقسیم نہ صرف غیر مساوی ہے بلکہ غیر عادلانہ بھی۔غریب اور متوسط طبقے اشیاء کی روز افزوں گرانی کی وجہ سے بُری طرح پس رہے ہیں۔ ان کے برعکس ایک چھوٹا سا طبقہ ناجائز طریقوں سے حیرت انگیز تیزی کے ساتھ امیر ہورہا ہے۔ چونکہ اس طبقہ کو دولت بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہورہی ہے، اس لیے وہ اسے نہایت بے پروائی سے خرچ کرتا ہے ۔اس طبقے کے اس طرزِعمل سے ملک میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے رجحان کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس طرح یہاں بے راہ روی اور دھونس اور دھاندلی کا بازار گرم ہے۔ لوگ جب اس صورتِ حال کو سرسری نظر سے دیکھتے ہیں تو اُن کو یہ صرف معاشی مسئلہ نظر آتا ہے۔ ایک آدمی فوراً یہ کہہ سکتا ہے کہ اس صورتِ حال کو ہم معاشی پالیسی میں تبدیلی کر کے بدل سکتے ہیں، مثلاً اس معاملے میں وہ آپ کو یہ بتائے گا کہ منافعوں پر بڑھتی ہوئی شرح پر ٹیکس عائد کرنے سے اور اخراجات پر پابندی لگادینے سے حالات درست ہوسکتے ہیں۔
کیا حالات کا یہ صحیح تجزیہ ہے؟ اگر منافعوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا دیتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وصول کرنے والے کارندے ایمان داری سے اُس کو وصول کریں اور ٹیکس ادا کرنے والے بغیر کسی ہیرپھیر کا طریقہ اختیار کیے پوری دیانت داری سے یہ ٹیکس دیں۔ اسی طرح ہمارے پاس اس قدر زرِمبادلہ نہیں ہے کہ ہم آزاد تجارت کی پالیسی پر عمل پیرا ہوسکیں اور نہ آزاد تجارت کے نتائج بھگتنے کی ہم سکت ہی رکھتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ اپنی بیرونی تجارت کو محدود رکھیں۔ زیادہ سے زیادہ ہم جو کرسکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ جن لوگوں پر ریاستی غفلت یا محکمانہ پشت پناہی سے عنایات جاری ہیں اُن کی یہ عنایات بند کردی جائیں یا حکومت موزوں لوگوں کو منتخب کرے۔ اب ہمارے پاس اس امر کی کیا گارنٹی ہے کہ اربابِ حکومت یا وہ دوسرے لوگ اس معاملے میں بڑی دیانت داری سے کام لیں گے۔ جہاں تک اخراجات پر پابندی عائد کرنے کا سوال ہے تو اس معاملے میں بھی خارج سے کوئی حد نہیں لگائی جاسکتی ۔ آپ اخراجات کی اگر ایک شکل کو ناجائز قرار دیں گے تو وہ فوراً انھیں دوسری شکل میں ڈھال لیں گے۔
ان گزارشات پر اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آئین و ضوابط کی تبدیلیاں خواہ بڑی اہم ہی سہی، لیکن وہ اس وقت تک کوئی قابلِ قدر نتائج پیدا نہیں کرسکتیں، جب تک انسان کے زاویہ ہائے فکرونگاہ کو نہ بدلا جائے اور یہ معاملہ معاشی نہیں بلکہ اخلاقی ہے، یا دوسرے الفاظ میں خارجی نہیں بلکہ داخلی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اخلاق کا وہ کون سا ضابطہ اختیار کریں جس سے صورتِ حال میںبامعنی تبدیلی پیدا ہو سکے؟
اس کے لیے ایک تو اخلاق کی وہ شکل ہے جو مغربی قوموں میں نظر آتی ہے۔ اس اخلاق کو ہم ’مصلحت پرستانہ قومی اخلاق‘ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں یعنی جس طرزِعمل میں ملک اور قوم کا فائدہ دکھائی دیا، اُسے ہی اخلاقی ضابطہ بنا لیا۔ اخلاق کی یہ قسم معروضی اقدار پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ وہ سیمابی اخلاق ہے جس کی قدریں خارجی حالات کے تبدیل ہونے سے ہرآن تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ممکن ہے اس اخلاق سے ایک گروہ، قوم یا ملک کو وقتی طور پر کچھ فائدہ حاصل ہوجائے، لیکن اس سے مجموعی طور پر قوم کی اخلاقی سطح بلند نہیں ہوتی۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ برطانیہ کے وہ نام نہاد اخلاق پرست جو حُریت اور شرفِ انسانیت کا پرچار کرتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے۔ وہ جب ہندستان پر قابض ہوئے تو یہاں خوں ریزی اور سفاکی برتنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو زیردستوں کی آزادی کے دیوتا ثابت کرنے کے دعویدار دکھائی دیئے۔ وہ لوگ جو اخلاقِ انسانی کے اصولوں کی حفاظت اور پاسبانی کے دعویدار تھے انھوں نے استعماری عزائم کے ساتھ یہاں کے کروڑوں مظلوم بندگانِ خدا کو ہلاک و پامال کرڈالا۔
اخلاق کی اس قسم کو کوئی انسان جسے انسانیت کا ذرا بھی پاس ہے، قبول کرنا گوارا نہیں کرسکتا۔ وہ ہمیشہ اُن اخلاقی اقدار کو تسلیم کرے گا، جو آفاقی ہوں، جو ’من و تو‘ کے ساتھ بدلتی نہ رہیں، جن کے پیچھے پوری نوعِ انسانی کی بلندی کا جذبہ کام کر رہا ہو۔ آپ جب اس معاملے پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ اخلاق اس وقت تک معرضِ وجود میں نہیں آسکتا، جب تک ایک انسان کائنات اور اُس کے خالق کے ساتھ اپنے رشتے کا صحیح صحیح تعین نہ کرلے۔
قرآن عظیم میں متعدد مقامات ایسے ملتے ہیں، جہاں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ انسان کی انفرادی، اجتماعی اور سماجی زندگی سے اضطراب اُسی وقت دُور ہوسکتا ہے جب انسانوں کا اپنے خالق کے ساتھ رشتہ درست ہو۔ جب تک اس رشتے کو صحیح نہیں کیا جائے گا، اُس وقت تک زندگی سے بُرائی کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو ایک عادتِ بد سے باز رہنے کی دعوت دی، تو سب سے پہلے انھیں اس بات کی نصیحت کی کہ تم اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خوف کے مٹ جانے سے ہی فسق و فجور کے سارے چشمے پھوٹتے ہیں:
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِۨ الْمُرْسَلِيْنَ۱۶۰ۚۖ اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ۱۶۱ۚ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۱۶۲ۙ فَاتَّــقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۱۶۳ۚ (الشعراء ۲۶:۱۶۰-۱۶۳) قومِ لوط نے پیغام لانے والوں کو جھٹلایا جب اُن کے بھائی لوطؑ نے اُن سے کہا: کیا تم ڈرتے نہیں، میں تمھارے لیے پیغام لانے والا امین ہوں، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
پھر اسی طرح حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو لین دین میں دیانت داری کا سبق دینے سے پہلے اُسے یہ ذہن نشین کرایا ہے کہ تمھارا اپنے خالق و مالک سے تعلق درست ہونا چاہیے:
اِذْ قَالَ لَہُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ۱۷۷ۚ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۱۷۸ۙ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ۱۷۹ۚ وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ۰ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱۸۰ۭ ۞ اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ۱۸۱ۚ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ۱۸۲ۚ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۱۸۳ۚ وَاتَّقُوا الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِيْنَ۱۸۴ۭ (الشعراء ۲۶: ۱۷۷-۱۸۴) یاد کرو، جب کہ شعیبؑ نے اُن سے کہا تھا:’’کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمے ہے۔ پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دو۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو اور اُس ذات کا خوف کروجس نے تمھیں اور گذشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔
اسی قسم کی بہت سی آیات ہمیں قرآنِ حکیم میں ملتی ہیں، جن میں اس بنیادی حقیقت کی طرف نہایت واضح الفاظ میں رہنمائی کی گئی ہے کہ اُس وقت تک اصلاح کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی جب تک انسان اُن نسبتوں کو درست نہ کرے، جو اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان اور انسان اور اس کائنات کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ حضرت جعفرؓ بن ابی طالب نے نجاشی کے دربار میں دعوتِ دین کے لیے جو فصیح و بلیغ تقریر ارشاد فرمائی، وہ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے۔ اس تقریر کے دوحصے ہیں: ایک میں انھوں نے یہ بتایا ہے کہ جب ہمارے خالق کے ساتھ تعلق کی نوعیت صحیح نہ تھی، تو ہم میں کون کون سی بُرائیاں پائی جاتی تھیں۔ اس کے بعد جب ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ نمائی میں خداوندتعالیٰ سے صحیح تعلق قائم کرنے کی توفیق حاصل ہوئی تو پھر ہماری زندگی کے سارے گوشوں میں،خواہ ان کا تعلق اُمورِ دُنیا سے تھا یا اُمورِ آخرت سے___ ایک خوش گوار انقلاب آیا۔ انھوں نے فرمایا:
اے بادشاہ! ہماری قوم کی یہ حالت تھی کہ ہم سب جاہل تھے، بتوں کی پرستش کرتے، مردار کھاتے، بُرے کاموں کے مرتکب ہوتے، رشتے ناتے توڑ دیتے، پڑوسیوں سے بُرا سلوک کرتے تھے۔ ہم میں سے طاقت ور، کمزور کو کھا جاتے تھے۔ ہماری اس بُری حالت کا یہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب ہمیں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ جس کے نسب، سچائی، امانت اور پاک دامنی کو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس نے ہمیں تعلیم دی کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانیں اور اُسی کی عبادت کریں۔ ہم اور ہمارے بزرگوں نے اس کو چھوڑ کر پتھروں اور بتوں کی جو پرستش شروع کر رکھی تھی اس کو ترک کردیں۔ اس رسولؐ نے ہمیں صداقت، امانت، صلہ رحمی اور پڑوسیوں سے حُسنِ سلوک، حرام باتوں اور قتل و خوں ریزی سے باز رہنے کا حکم دیا اور ہمیں بُری باتیں، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع فرمایا۔ اُس نے ہمیں حکم دیا کہ خدائے واحد کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں۔ اس نے ہمیں نماز، زکوٰۃ اور روزوں کا حکم دیا۔ ہم نے اس شخص کی تصدیق کی اور اس پر ایمان لے آئے۔(سیرت ابن ہشام، ص ۳۵۸)
یہ تقریر اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا تعلق درست نہ ہو تو اس سے نہ صرف اس کی روحانی زندگی میں، بلکہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، لیکن جب اس تعلق کو درست کردیا جائے تو اس سے پوری زندگی تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس سے نہ صرف فکر میں سلجھائو، طبیعت میں سلامتی اور روح میں لطافت پیدا ہوتی ہے، بلکہ معاشرت میں حُسنِ سلوک، تمدن میں توازن اور معیشت میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پارس ہے جس کی تاثیر اگر کوئی ٹھیک ٹھیک قبول کرے تو کندن بن جائے۔ اور یہی وہ طرزِ فکر ہے جو دعوت کے طریق کار کو مؤثر اور باثمر بناسکتا ہے۔ (ادارہ)