جنوری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

’دستوری‘ ترامیم کا کھیل

سلیم منصور خالد | جنوری ۲۰۲۶ | پاکستانیات

Responsive image Responsive image

وطن عزیز میں ’طاقت اور اختیار کا کھیل‘ اپنی تمام کثافتوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ دیکھنے میں چلاآرہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کھیل کے کھلاڑی غالباً ہرآن یہی سوچتے ہیں کہ ’طاقت و اختیار‘ کا کب کتنا مزید حصہ حاصل کرنا ہے۔ باقی رہی قوم اور قوم کے روزمرہ اُمور، یا مستقبل کے معاملات، تو اُن کے بارے میں جب فرصت ملی تو سوچ لیا جائے گا۔ 

قوم کے اعصابی مراکز پر فائز قوتیں چاہے وہ سیاسی ہوں یا عسکری، عدالتی ہوں یا سول، اپنے کردار سے کم و بیش اسی کھیل میں کبھی تیزگامی اور کبھی سُست رفتاری اختیار کرنے کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ مقتدر طبقوں کی یہی وہ لَت تھی جس نے قیامِ پاکستان کے بعد دستور بنانے میں قوم کے نوسال ضائع کردیئے، اور انھی ۹برسوں میں ایسے ایسے امراض قومی وجود کو لاحق ہوگئے کہ پہلے انھوں نے دسمبر۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ دکھایا، اور پھر باقی پاکستان کو بھی مسلسل خطرات کے گرداب میں رکھا ہے۔ یہ پریشان کن تبصرہ بے وجہ نہیں۔ اس لیے کہ سیاسی قوتوں کی آمریت پسندی اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کبھی عسکری قوتوں سے گٹھ جوڑ اور کبھی اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ سازباز کا چلن سب کے سامنے ہے۔ یہ سب ’بے زبان‘ قوم کی تاریخ کے سیاہ باب ہیں۔ 

اس تمہید کا ایک تلخ پہلو فروری۲۰۲۴ء کے وہ انتخابات بھی ہیں، جن میں عدالت عظمیٰ کے ذریعے ایک پارٹی کا نشان سلب کرکے قبل اَز انتخابات دھاندلی کا ظلم شامل کیا گیا، اور پھر من پسند لوگوں کو ’فارم ۴۷‘کے کٹھولے میں بٹھا کر پارلیمنٹ میں پہنچایا گیا۔ مشہور کہاوت ہے کہ ’غلطی کبھی بانجھ نہیں رہتی، وہ نئی غلطی کو جنم دیتی ہے‘۔ یہی کام یہاں بھی ہوا کہ سالِ انتخابات ۲۰۲۴ء ختم ہونے سے پہلے ہی ۲۶ویں ترمیم کا ایسا ڈول ڈالا گیا کہ جس نے خود آئینی ترمیم کے طریق کار کو ہی مشکوک نہیں بنایا، بلکہ اُس کے متعدد منفی نتائج بھی سیاسی و قانونی کلچر کی خرابی کی بنیاد بنے، اور اس کی ضربِ کاری کا اصل نشانہ اعلیٰ عدلیہ ہی بنی۔ چونکہ اس ترمیم میں بدنیتی کے کئی عوامل موجود تھے، اس لیے ’ھل من مزید‘ کی پیاس نے ۲۰۲۵ء کے خاتمے تک ۲۷ویں آئینی ترمیم کی یلغار کرادی۔ یہ ترمیم کیا ہے؟جزوی چیزوں کو چھوڑ کر درحقیقت عدل و انصاف پر ایک غیراسلامی، غیراخلاقی اور غیر جمہوری خودکش حملہ ہے۔ 

اس ترمیم میں عدلیہ کو مقتدرہ کے ہاتھوں یرغمال بنانے اور مسلسل دہشت زدہ رکھنے کا بارود رکھا گیا ہے، اور مقتدرہ کے کچھ مناصب پر فائز افراد کو ’تاحیات استثناء‘ دے کر، اسلام اور انصاف کے اصولوں کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ پھر اس ترمیم کے ذریعے ’قراردادِ مقاصد‘ کی روح کچل کر رکھ دی گئی ہے۔’قراردادِ مقاصد‘ تحریک پاکستان کے لیے مسلمانانِ برصغیر کے عمرانی معاہدے کی غماز اور آئینِ پاکستان کی بنیاد ہے۔جو واضح طور پر متعین کرتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کُل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے، اور اسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقررہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے۔اور چونکہ یہ اختیارِ حکمرانی ایک مقدس امانت ہے، لہٰذا مملکت تمام حقوق و اختیاراتِ حکمرانی عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اللہ کی امانت کے طور پر استعمال کریں گے، اور متفقہ قومی دستور نے کہا ہےکہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا، اور اگر کوئی ایسا متصادم قانون ہوگا تو چیلنج کرکے تبدیل کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت بنچ قائم کیے گئے ہیں۔ 

حالیہ ۲۷ویں ترمیم کے ذریعے دستور میں صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری اور دیوانی مقدمات سے دیا گیا تاحیات استثناء سراسر قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ قرآن و سنت میں تویہ استثناء رسولِ معصوم عن الخطاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفائے راشدینؓ کو بھی حاصل نہیں۔یہ غیر اسلامی اور غیر عادلانہ دفعہ مسلّمہ جمہوری و مہذب اصولوں یعنی مساوات، عدل کی گردن اُڑانے کا اعلان بھی ہے اور اختیار بھی۔ یہ دفعہ اسلام کے ان اصولوں، جن میں سماجی انصاف اور برابری کے اصولوں کو مرکزیت حاصل ہے، پامال کرنے کی جسارت بھی ہے۔ 

مزید ملاحظہ فرمایئے کہ ۲۷ویں ترمیم بھی اسی طرح اناڑی پن، عجلت پسندی اور اَدھوری ڈرافٹنگ کی بھونڈی تصویر پیش کر رہی ہے، جس انداز سے ۲۶ویں ترمیم کی گئی تھی (غلطیوں اور اَدھورے پن کے اسی تسلسل میں اب ۲۸ویں ترمیم لانے کے لیے ذہن سازی کی جارہی ہے)۔ اس ترمیم کے مطابق ایک ’وفاقی آئینی عدالت‘ (فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جسے ۲۶ویں ترمیم میں چند حلیفوں کو غچہ دینے کے لیے واپس لیا گیا تھا، مگر ’زخم مندمل‘ ہونے اور اس دوران مزید پارلیمانی نمبر حاصل کرلینے کے بعد اب اس بلّی کو تھیلے سے باہر نکال لیا گیا ہے۔ اس نومولود عدالت کے جج حضرات کو اب انتظامیہ اور مقننہ مل کر چُنے گی اور ظاہر ہے چناؤ کے فیصلے کا وزن مقتدر قوتوں کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ایسی عدالت سے بھلا کوئی شہری، ریاست کی جابرقوت کے خلاف عدل کی اُمید کیسے باندھ سکتا ہے؟ جب کہ اس نومولود عدالت کو مقرر کرنے والی قوت وہی ہو، جس کے جبر یا ناانصافی کے خلاف اسے ایوانِ عدل میں دستک دینے کی ضرورت محسوس ہو؟ اسی طرح یہ عدالت ہو یا اعلیٰ عدلیہ، اس کے ججوں کی دوسری جگہوں پر منتقلی، تقرر یا برطرفی کے لیے کوئی واضح معیار مقرر نہیں کیا گیا، مگر بازو مروڑنے کا راستہ رکھا گیا ہے۔ ایسے فیصلوں کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے، جس میں انتظامیہ کا پلڑا بھاری ہوگا۔ 

یاد رہے، دستور کی دفعہ ۲۰۰ میں درج تھا کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو دوسری جگہ تبدیل کرنے کے لیے، متعلقہ جج صاحب کی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔ لیکن موجودہ ۲۷ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جج صاحب کی مرضی کے بغیر بھی انھیں تبدیل کیا جاسکے گا، اور اگر وہ یہ حکم یا ہدایت ماننے سے انکار کریں تو اُن کے خلاف ۳۰ روز کے اندر ’اعلیٰ عدالتی کونسل‘ (SJC) میں تادیبی کارروائی ہوگی، اور انھیں کام کرنے سے منع کردیا جائے گا۔  

اس ’آئینی عدالت‘ کو غیرآئینی کام کرنے کے لیے یہ کہہ کر پوری سہولت بہم پہنچا دی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں سابقہ عدالتی نظائر (فیصلوں) کی پابند نہ ہوگی، ان کے سامنے سابقہ فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اس طرح انسانی سماج کے تجربات سے حاصل شدہ راہ نمائی کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ایسی صاف سلیٹ پر من پسند آئینی عدالت کو اختیارات کا ڈنڈا پکڑا کر، دراصل یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ وہ پرانے ’ناپسندیدہ‘ تجربات کو نظرانداز کرنے کی ’شرمندگی‘ سے بچ سکیں۔ 

 ۲۶ویں ترمیم میں اس کج روی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ۹مئی ۲۰۲۵ء کو دس رکنی ’آئینی بنچ‘ نے سپریم کورٹ کے جولائی ۲۰۲۴ء کے اس فیصلے کو پلٹ کر کالعدم کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمے چلانا دستور کی دفعہ ۱۰-الف (منصفانہ مقدمے اور قانونی حق) کی خلاف ورزی ہوگی۔درحقیقت نئی ’آئینی عدالت‘ کا یہ وجود عدلیہ کی آزادی ختم کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ، پارلیمانی قانون سازی کے اسلامی اور عدالتی ریویو اور جائزے کے اختیار کو بھی سلب کرنے کا اعلان ہے۔ 

نومبر ۱۹۸۵ء میں ’آٹھویں ترمیم‘ اور دسمبر۲۰۰۳ء میں ’سترھویں آئینی ترمیم‘ میں شامل ۵۸(۲-الف) کا غیرجمہوری حق، مقتدر قوتوں نے مارشل لا کے فیصلوں کو تحفظ دینے کی دھونس برت کر حاصل کیا تھا کہ اس کے بغیر ان کے سابق دور کے فیصلے بے وجود ہوجاتے۔ لیکن اب ۲۶ویں اور ۲۷ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایسے فیصلوں کے لیے تو کوئی دبائو بھی موجود نہیں ہے، تو پھر پارلیمنٹ نے یہ غیرآئینی اور غیر جمہوری اور غیر عادلانہ اقدام کیوں کیے ہیں؟ 

ان ترامیم نے فی الحقیقت مستقبل کے معاشی اُمور کو بھی داغدار کر دیا ہے، اور قومی زندگی میں سیاسی ساکھ اور اعتماد کا بحران بھی پیدا کیا ہے۔ ان ترامیم سے انتظامی اور عسکری غلبے کو آئینی تحفظ ملنے سے طاقت وروں کے اختیارات اور قوت میں مزید اضافہ ہواہے، جب کہ جمہور کی طاقت میں بڑی کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس کے تقرر کے لیے میرٹ یا معیار کے بجائے انتظامیہ کی پسند و ناپسند کو راہ دی گئی ہے، جس سے عدل کے ایوان گروہ بندی اور سیاسی جھکائو کے اندھے گڑھے میں گرائے جاسکتے ہیں۔ آئینی بنچوں کی تشکیل میں سیاسی مداخلت کا سامان فراہم کرکے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو سوالیہ نشان بنا ڈالا گیا ہے۔ 

وطنِ عزیز میں جمہوری قدروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطلب معاشرے کو توازن سے روشناس کرانا ہے۔ لیکن اگر عدل کے حصول کا راستہ کھوٹا ہوگا اور رکاوٹ زدہ ہوگا تواس سے مایوسی پیدا ہوگی۔ اس کے لیے تمام طبقوں کو درست بات حکامِ بالا اور عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔تمام سیاسی اور دینی قوتوں کے ساتھ وکلا اور صحافیوں کو غیرجذباتی انداز سے اس ضمن میں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔