جنوری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی | جنوری ۲۰۲۶ | رسائل ومسائل

Responsive image Responsive image

ظالم کی مغفرت 

سوال : ایک شخص کسی پر بڑے ظلم ڈھاتا ہے، اس کی حق تلفی کرتا ہے، اسے ہر طریقے سے نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے باوجود جب یہ ظالم مرجاتا ہے تو مظلوم اس کے جنازے میں شریک ہوتا ہے، نمازِ جنازہ پڑھتا ہے اور دُعائے مغفرت کرتا ہے۔ کیا یہ صحیح طرزِعمل ہے؟ کیا اس طرح ظالم کے گناہ بخش دیئے جائیں گے؟  

جواب :اس کے گناہ بخشے جائیں یا نہ بخشے جائیں، مظلوم کو اپنے طرزِعمل کا اجر ضرور ملے گا کہ اس نے اس حد تک درگزر سے کام لیا ہے۔ 

سوال : اگر میں کسی مرنے والے کو اپنا حق معاف کردوں تو کیا اسے معاف نہیں کردیا جائے گا اور بخش نہیں دیا جائے گا؟ 

جواب : اگر کوئی شخص آپ سے قرض لیتا ہے اور واپس کرنے کی خواہش اور کوشش کے باوجود اپنے حالات کے باعث واپس نہیں کرسکتا اور اس حالت میں وہ مرجاتا ہے اور آپ اس کے ذمے اپنا قرض معاف کر دیتے ہیں، تو خدا بھی اسے معاف کر دے گا۔ لیکن اگر صورت یہ ہو کہ وہ واپس کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اس کے باوجود جان بوجھ کر واپس نہ کرے اور قرض دبا کر خوش ہو، تو آپ چاہیں معاف کر دیں، خدا کے ہاں وہ اپنے اس طرزِعمل اور ظلم و بددیانتی کی سزا پائے گا۔ 

سوال :ہمارے قصبے میں ایک صاحب کہتے ہیں کہ سزا اور تعذیب کی یہ سب باتیں محض ڈرانے کے لیے ہیں، خدا سب کو معاف کردے گا، چاہے گناہ کی کوئی شکل بھی ہو؟ 

جواب :شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا نے صرف جنّت بنائی ہے، دوزخ کا کوئی وجود نہیں ہے؟ 


نیند کی گولیاں اور نشہ 

سوال :کیا نیند لانے والی گولیاں ’نشے ‘کی تعریف میں نہیں آتیں؟ 

جواب :’نشہ‘ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے آدمی کی عقل ماؤف ہوجائے، بھلے بُرے کی تمیز ختم ہوجائے اور آدمی کو کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے۔ اِس لحاظ سے خواب آور گولیاں ’نشے‘ کی ذیل میں نہیں آتیں۔ 

سوال :لیکن اگر کسی کو خواب آور گولیاں کھانے کی باقاعدہ عادت ہوجائے؟ 

جواب : محض عادت، ’نشے‘ کا نام نہیں، اور نہ ایسی عادت بھلے بُرے کی تمیز یا بھلائی بُرائی کے احساس کو ختم کرسکتی ہے۔ 


تاریخ کا مطالعہ کس طرح؟ 

سوال : ہمیں تاریخ کا مطالعہ کس طرح کرنا چاہیے؟ کس مقام پر پہنچ کر اسلام کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے اور صرف مسلمانوں کی تاریخ رہ جاتی ہے؟ 

جواب : اسلام تاریخ کے ہر دور میں موجود رہا ہے اور جب تک دُنیا قائم ہے اس کی تاریخ جاری رہے گی۔ مختلف اَدوار میں فرق ہوسکتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اسلامی تاریخ ختم ہوگئی۔ عہد نبوتؐ و خلافت ِ راشدہؓ کی تاریخ، اسلام کی مکمل ترین شکل کی تاریخ ہے۔ اس وقت دستور بھی اسلام کا تھا، قانون بھی اسلام کے مطابق تھا اور قیادت بھی اسلامی تھی۔ بعد میں دستور کی شکل بدل گئی، لیکن قانون بحیثیت مجموعی اسلام کا ہی جاری رہا۔ قیادت کے باب میں بھی یہ اسلام ہی کا اعجاز ہے کہ دورِ ملوکیت میں مختلف مواقع پر جتنے خداترس اور حق پرست حکمران ہماری تاریخ میں ملتے ہیں، اتنے کسی اور جگہ دکھائی نہیں دیتے۔ پھر بعد کے اَدوار میں بھی اسلام اس صورت میں جلوہ گر رہا ہے کہ اُمّت نے اپنی دینی رہنمائی کے لیے بادشاہوں کی طرف نہیں دیکھا بلکہ ائمۂ کرام کی طرف رجوع کیا ہے، جنھوں نے اِقتدار کی سختیوں اور ناراضیوں کے باوجود اُمّت کے سامنے وہی چیز پیش کی جس کو انھوں نے حق سمجھا ، اور اسی چیز کو قبولِ عام حاصل ہوا۔(۵-اے ذیلدار پارک، اوّل)