بھارت کے ایک سول سوسائٹی گروپ نے حال ہی میں کشمیر کا تفصیلی دورہ کرکے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خطے میں حالات پریشان کن، غیر مستحکم اور خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ سیاسی، سول سروس اور فوج سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مشتمل اس گروپ نے ۲۸ سے ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کے درمیان کشمیر اور جموں کا تفصیلی دورہ کیا، درجنوں افراد سے ملاقاتیں کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت بھارتی حکومت کے بیانیے سے بالکل مختلف ہے۔ ’کنسرنڈ سٹیزنز‘ یعنی ’فکر مند شہریوں کے گروپ‘ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سماجی کارکن سشوبابھا ر وے، ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ)کپل کاک اور سینئر صحافی بھارت بھوشن شامل تھے۔
یہ گروپ دراصل ۲۰۱۶ء میں وادیٔ کشمیر میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کے بعد قائم کیا گیا تھا۔گروپ کے اراکین نے واضح کیا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، اور ان کے تمام دورے اور سرگرمیاں ذاتی وسائل سے انجام پاتی ہیں۔حال ہی میں کیا گیا ان کا کشمیر میں یہ گیارھواں دورہ تھا، جس کے بعد انھوں نے نئی دہلی میں ایک رپورٹ جاری کی۔
سول سوسائٹی اراکین کے مطابق ’’کشمیر بظاہر خاموش ہے، مگر یہ خاموشی اطمینان یا بہتری کی علامت نہیں، بلکہ خوف، دباؤ، نگرانی اور دبے ہوئے غصے کا نتیجہ ہے‘‘۔ رپورٹ کے الفاظ میں ’’کشمیر ’خاموش اور اُداس‘ ہے، اختلافِ رائے خطرناک ہو چکا ہے، اور ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کے اقدامات کے بعد سے بیگانگی اس حد تک بڑھ چکی ہے، جو ماضی کے کسی بھی دور میں دیکھنے میں نہیں آتی ہے‘‘۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ’’غصہ اب صرف وادی تک محدود نہیں رہا بلکہ جموں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے‘‘۔
دورے کے دوران گروپ نے سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، تاجروں، صحافیوں، طالب علموں، وکیلوں اور مذہبی شخصیتوں سے تفصیلی بات چیت کی۔ تقریباً تمام ملاقاتوں میں سب سے نمایاں، غالب اور مشترک احساس خوف کا تھا۔ سری نگر میں مقیم ایک سینئر ڈاکٹر نے گروپ کو بتایا کہ ’’ہمیں خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن یہ خوفناک خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ دبایا گیا غصہ اور مایوسی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے، جو نفرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک محرک درکار ہے‘‘۔اسی ڈاکٹر سے ملاقات اور دیگر کئی ملاقاتوں میں بھی، لوگوں نے گروپ کو بار بار یہ احساس دلایا کہ حالات کسی بڑے دھماکے کی طرف بڑھ رہے ہیں‘‘۔ متعدد افراد نے ایک ہی جملہ دہرایا کہ ’’کچھ بڑا ہونے والا ہے، کچھ بڑا ہونے والا ہے۔‘‘ایک سینئر ایڈیٹر نے کہا کہ ’’کشمیری معاشرے کی یہ خاموشی غیر فطری اور غیر مستحکم ہے، اور جب یہ ٹوٹے گی تو اس کے نتائج نہ صرف کشمیر بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہوں گے‘‘۔
سب سے چونکا دینے والا انکشاف حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے کیا۔ انھوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’اکثر اوقات مجھے تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے۔ جس روز اس کی اجازت ملتی ہے، اس سے ایک روز قبل مجھے خطبہ اور وعظ کے نکات حکام کے حوالے کرنے پڑتے ہیں، اور ان کی اجازت کے بعد ہی ان کو خطاب کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ نکاح کی مجالس میں جانے سے قبل دُلھا اور دُلھن کے خاندان کے کوائف حکام کو دینے پڑتے ہیں اور جانچ پڑتا ل کے بعد ہی نکاح کی مجالس میں جانے اور نکاح خوانی کی اجازت ملتی ہے‘‘۔
ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ’’ ۲۰۱۹ء کے بعد سے کشمیری شناخت کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر بندوبست موجود نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’معاشی محرومی کے بڑھتے ہوئے احساس کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ کشمیری ہونے کی کوئی ضمانت یا تحفظ باقی نہیں ہے‘‘۔ کئی افراد نے بتایا کہ ’’ہمیںانڈیا کے دیگر حصوں میں گالیوں، نفرت انگیز رویوں اور دقیانوسی تصورات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔سرینگر کی سول سوسائٹی کے ایک رکن نے وفد کو بتایا کہ کشمیر میں منعقد ہونے والے ایک متنازعہ فلمی گلوکار کے ایونٹ کو ’ثقافتی یلغار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’مقامی لوگ اسے کشمیری تہذیب اور وقار کی دانستہ توہین سمجھتے ہیں‘‘۔
رپورٹ کے مطابق: ’’مئی ۲۰۲۵ء میں ’آپریشن سِندور‘ اور اس کے بعد نومبر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد انڈیا مخالف جذبات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر نوجوان شدید ذہنی اور سماجی بحران کا شکار ہیں۔ گروپ کا مشاہدہ ہے کہ نوجوان دو خطرناک راستوں کے درمیان پھنس چکے ہیں: ایک طرف منشیات کی لت، اور دوسری طرف شدت پسندی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہے‘‘۔
سیاسی سطح پر رپورٹ کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۴ء کے اسمبلی انتخابات کے باوجود جموں و کشمیر میں جمہوریت کی شکل محض رسمی حیثیت رکھتی ہے۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں منتخب حکومت کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے، مگر حقیقی اختیار بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ عمر عبداللہ نے خود گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو ’’آدھا وزیر اعلیٰ‘‘ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’وادی کی ۴۷میں سے ۴۱ نشستوں کا واضح مینڈیٹ حاصل ہونے کے باوجود منتخب حکومت بے اختیار ہے، جب کہ انتظامیہ پر لیفٹیننٹ گورنر کا کنٹرول برقرار ہے۔اہم فیصلے، جن میں سول سرونٹس اور پولیس افسران کی تعیناتیاں شامل ہیں، منتخب ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ اس طرزِ حکمرانی نے عوام میں شدید مایوسی کو جنم دیا ہے‘‘۔ شہریوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’بہت کم کشمیری افسران کو ضلعی سطح پر ذمہ داریاں دی جاتی ہیں، جب کہ باہر سے آنے والے افسران نہ مقامی زبان سمجھتے ہیں اور نہ زمینی حقیقت جانتے ہیں، جس سے عدم اعتماد مزید گہرا ہوتا جارہا ہے۔
’نیشنل کانفرنس‘ کے اندرونی اختلافات، خاص طور پر عمر عبداللہ اور بڈگام سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ کے درمیان تنازعات، نے حکومت کو مزید کمزور کیا ہے۔حال ہی میں بڈگام کے ضمنی انتخاب میں نیشنل کانفرنس کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف پی ڈی پی کی لیڈر محبوبہ مفتی کی سیاسی سرگرمیوں میں دوبارہ جان آتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کی طرف سے کشمیری قیدیوں کو مقامی جیلوں میں منتقلی کے مطالبے پر دائر عوامی مفاد کی درخواست اور احتجاجی سیاست نے ان کے لیے ہمدردی پیدا کی ہے۔
یہ رپورٹ یاد دلاتی ہے کہ ’’اکتوبر ۲۰۲۴ء میں جموں و کشمیر اسمبلی نے ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کی قرارداد منظور کی تھی، مگر ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ریاستی درجہ نہ ہونے کے باعث انسانی حقوق کمیشن، صارفین کے ازالے کے ادارے اور اپیلٹ فورم مؤثر طور پر کام نہیں کر پا رہے، جس سے شہری ادارہ جاتی انصاف سے محروم ہیں‘‘۔
لوگوں نے گروپ کو بتایا کہ ’’اگست ۲۰۱۹ء کے بعد آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کی منسوخی کے نقصانات آج بھی تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ اس اقدام کو انھوں نے شناخت، عزت اور وقار کے نقصان سے تعبیر کیا‘‘۔ رپورٹ کے مطابق: ’’انڈین سپریم کورٹ کو بھی مرکز کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، اور اُس وقت کے جسٹس سنجیو کھنہ نے ایک علیحدہ عدالتی نوٹ میں ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ تاہم، پہلگام حملے اور مبینہ لال قلعہ جیسے واقعات کو فیصلے میں مزید تاخیر کے جواز کے طور پر استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے‘‘۔
نئی ریزرویشن پالیسی کو طلبہ نے ایک ’ٹائم بم‘قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق گو کہ انڈیا کے دیگر علاقوں میں ریزرویشن یعنی نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے نچلے طبقے کے لیے نشستیں مخصوص رکھنے کا ایک پس منظرہے، کشمیر میںاس کو اکثریتی آبادی کو بے اختیار کرنے اور سسٹم سے باہر کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ریزرویشن پالیسی کے تحت ریاست میں ۶۹فی صد کشمیری بولنے والی مسلم آبادی کے لیے نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ۴۰ فی صد سے کم نشستیں رہ گئی ہیں۔
میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کہتی ہے کہ ۲۰۲۴ء کے انتخابات کے باوجود صحافتی آزادی بحال نہیں ہوئی۔ سنسرشپ، دھمکی اور نگرانی بدستور جاری ہے۔کئی ایسے صحافی جو بڑے قومی اداروں سے منسلک ہیں، اُن کی ایکریڈیشن منسوخ یا مسترد کی جا چکی ہے۔ ’آپریشن سِندور‘ کے دوران مقامی صحافی آزادانہ رپورٹنگ سے قاصر رہے اور کئی صحافیوں کو پولیس نے طلب کیا۔ ایک صحافی نے کہا کہ سرکاری تقریبات کی کوریج کی اجازت نہ دیناجان بوجھ کر ہمارے صحافتی کیریئر کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ پھر ایک نیا سرکاری ہدایت نامہ صحافیوں سے کہتا ہے کہ وہ چھ ماہ کی تنخواہ کی رسیدیں اور تفصیلی پس منظر کی معلومات جمع کرائیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ ’حقیقی صحافی‘ ہیں۔ انتظامیہ نقالی اور اسناد کے غلط استعمال کی شکایات کا حوالہ دیتی ہے، لیکن صحافی اسے دخل اندازی اور خوف زدہ کرنے والا ہتھکنڈا قرار دیتے ہیں۔رپورٹ میں اس خدشے کو نمایاں کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر اکثر عسکری گروہوں کے ’اوور گراؤنڈ ورکرز‘ پر کریک ڈاون کی بات کرتے ہیں، جس سے رپورٹروں کو یہ خوف ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ’دہشت گرد ماحولیاتی نظام‘ کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔انھوں نے صحافی عرفان معراج کی طویل حراست کا حوالہ دیا، جنھیں دہلی کی روہنی جیل میںسوسے زیادہ دنوں سے رکھا گیا ہے، اور سماعتیں بار بار ملتوی کی جاتی ہیں۔
معاشی محاذ پر صورتِ حال مزید تشویش ناک ہے۔ پہلگام حملے کے بعد سیاحت تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ ہزاروں ہوٹل مالکان، ٹیکسی ڈرائیور اور دکان دار موسمِ سرما سے قبل اپنی بنیادی آمدنی سے محروم ہو گئے۔ سری نگر جموں ہائی وے کی طویل بندش نے سیب کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، اور صرف پلوامہ منڈی میں نقصانات۲۰ بلین روپے سے تجاوز کر گئے۔
رپورٹ کے مطابق ہندو اکثریتی جموں میں بھی بیگانگی اور غصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ’آپریشن سِندور‘ کے بعد گولہ باری کے واقعات جموں شہر کے قریب تک پہنچ گئے، جس کے باعث کئی خاندان عارضی طور پر ہماچل پردیش اور دہلی منتقل ہوئے۔ بعض علاقوں میں مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ جموں کے ایک دانش ور نے گروپ کو بتایا کہ وہ بھی خود کو ایک مقبوضہ کالونی کی طرح محسوس کرتے ہیں کیونکہ منصوبہ بندی میں جموں کا کوئی واضح مقام نظر نہیں آتا۔
چار دن کے سفر اور درجنوں ملاقاتوں کے بعد کنسرنڈ سٹیزنز گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال غیر مستحکم، پریشان کن اور منظم انداز میں غلط طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ رپورٹ اس واضح انتباہ کے ساتھ اختتام کو پہنچتی ہے کہ اگر سیاسی مکالمے، ریاستی درجہ کی بحالی، انتظامی اصلاحات اور اقتصادی تحفظات پر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، تو جموں و کشمیر پر چھائی بظاہر یہ خاموشی زیادہ دیر تک نہیں رہے گی۔