جنوری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

بے روزگاری کا خاتمہ بذریعہ ’مضاربہ‘

محمد منیر احمد | جنوری ۲۰۲۶ | نظامِ حیات

Responsive image Responsive image

عام طور پر ہم اس حقیقت سے بڑی حد تک بے خبر ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں معاشی نظام کے نفاذ کے لیے ایک نئی مارکیٹ بنائی تھی۔ اس وقت مدینہ میں یہودیوں کے چار بازار تھے جن میں تجارت، دھوکا دہی اور لوٹ کھسوٹ عام تھی۔ ہجرت کے وقت مدینہ کےانصار اور مکّہ سے آنے والے مہاجر مسلمان اس حالت میں نہیں تھے کہ یہودیوں کے چار مستحکم بازاروںکے مقابلے میں نئی مارکیٹ قائم کرسکیں مگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نئی مارکیٹ ایک بڑے خیمہ کے نیچے لگائی اور فلاح پر مبنی تجارت کا آغاز کیا۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ خیمہ والی مارکیٹ نے تھوڑے ہی عرصہ میں کامیابی حاصل کرلی اور تاجر اور خریدار پہلے سے قائم شدہ بازاروں سے نقل مکانی کرکے خیمہ والی مارکیٹ میں آگئے۔ 

حضرت عمرؓ کے دور میں ایرانی اور رومی حکومت کی شکست کے بعد اسلامی ریاست مستحکم ہوئی تو اٹلی، اسپین اور فرانس سے تاجر مکہ اور مدینہ آئے۔ یورپ کے تاجر اسلامی طرزِ تجارت سے بہت مرعوب ہوئے، خاص طور پر صرف عرب میں رائج مضاربہ کے تحت تجارت شروع کر دی جو کچھ عرصہ کے بعد سارے یورپ میں پھیل گئی۔ تاریخی شواہد تو یہاںتک بتاتے ہیں کہ بارھویں، تیرھویں صدی میں یورپ کی ترقی میں مضاربہ کا بڑا ہاتھ تھا۔  

درج ذیل مضمون میں ہم مضاربہ کی حقیقت قارئین کی نذر کریں گے اور پاکستانی تجارت میں مضاربہ کی ممکنہ بحالی کا جائزہ لیں گے۔ 

اسلام سے پہلے عربوں کی معاشی زندگی 

عرب میں تجارت اپنی تمام تر اشکال میں موجود تھی۔ سود پر رقم اُدھار دینے کے ساتھ ساتھ نفع و نقصان کی بنیاد پر شراکت (Partnership) کے بھی کئی طریقے موجود تھے۔ مضاربہ ایک ایسی ہی شراکت پر مبنی کاروبار تھا جو دُنیائے عرب کے علاوہ کہیں بھی موجود نہ تھا۔ یہ تجارت ایسے دوافراد کے درمیان ہوتی جن میں ایک کے پاس سرمایہ ہوتا اور دوسرے کے پاس محنت اور ہنر۔ سادہ الفاظ میں یہ سرمائے اور محنت کا خوب صورت امتزاج تھا جو معاشی جدوجہد کو جنم دیتا۔ تجارت کا نفع پہلے سے طے شدہ فارمولا کے مطابق تقسیم کرلیا جاتا، جب کہ نقصان سرمایہ فراہم کرنے والا شخص (جسے ربّ المال کہتے تھے) برداشت کرتا کیونکہ محنت کرنے والا ساتھی (مضارب) تو پہلے ہی سرمایہ کے بغیر تھا۔ تجارت میں سچائی کے فروغ کے لیے مضاربہ بہت ہی کارآمد تجارتی طریقہ تھا۔ غیرذمہ داری اور بددیانتی سے کام کرنے والا مضارب سرمایہ فراہم کرنے والے (Capital Provider) لوگوں کا اعتماد کھو کر مزید کاروباری مواقعوں سے محروم ہوجاتا۔ اس کے برعکس بار بار منافع کمانے والا سچّا مضارب ایسے اشخاص کی توجہ کا مرکز بن جاتا جن کے پاس سرمایہ تو ہوتا مگر وہ کسی وجہ کی بناپر خودتجارت کرنے سے قاصر ہوتے۔  

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی کاروباری زندگی کا آغاز کیا تو حضرت خدیجہؓ نے اپنا مالِ تجارت مضاربہ کے تحت فروخت کرنے کے لیے آپؐ کو دیا کیونکہ اس وقت مکہ میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے جانے جاتے تھے۔اس طریقۂ کاروبار کے باعث مکہ کے تقریباً تمام باشندے بین الاقوامی تجارتی قافلوں میں حصہ لیتے اور نفع کماتے۔ جنگ ِ بدر کے لیے قریش کی بلاپس و پیش آمادگی کی ایک بڑی وجہ ایسے ہی تجارتی قافلے کو مسلمانوں کے روکنے کی خبر تھی جس میں اہل مکہ کا مال لگا ہوا تھا۔ 

مضاربہ کے علاوہ ایسے سودوں کی بھی مثالیں ملتی ہیں جنھیں ہم آج کی زبان میں Forward Sale/Purchase کہتے ہیں۔ اُونٹنی کے پیٹ میں موجود unborn child کو بنیاد بناکر عرب ایسا سودا کرلیتے جس کی ادائیگی مستقبل میں کی جاتی، مثلاً یہ طے کر لیا جاتا کہ اس سودے (deal) کی ادائیگی اُونٹنی کے بچّے کی پیدائش کے بعد اسے بیچ کر کی جائے گی۔ 

عربی زبان میں ایسے لین دین کو ’حبل الحبلہ‘ کہتے ہیں۔ دورِحاضر میں یہ تجارت Asset Backed Securities  (ABS) کی مانند ہے جس میں ایک غیرسیال (Non-Liquid Assest) اثاثے کو بنیاد بنا کر ایک کاروبار کیا جاتا ہے۔ اسلام کے ظہور کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تجارت سے منع کر دیا کیونکہ اس میں بہت زیادہ رسک (Risk) اور غیر یقینی صورت ہوسکتی ہے۔ 

بڑی حیرانی کی بات ہے کہ ۱۴۰۰ برس قبل مکّہ ایک بہت بڑا تجارتی مرکز تھا۔ خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کے لیے آنے والے زائرین اور حاجی مذہبی رسومات کے علاوہ چھوٹی موٹی تجارت بھی کرلیتے۔ عکاظ ایک ایسی ہی بڑی مارکیٹ تھی جس میں ہروقت تاجروں کا ہجوم رہتا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مارکیٹ میں دو مقاصد کے لیے گئے: نبوت سے پہلے تجارت کی خاطر اور نبوت کے بعد تبلیغ کے لیے۔ کیونکہ عرب کے دُور دراز علاقوں کے لوگ یہاں موجود رہتے۔ یہ مکّہ کی گھریلو تجارت تھی۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے بڑے بڑے قافلے تیار کیے جاتے جن میں اُونٹوں کی تعداد ۲۵۰۰ تک بیان کی جاتی ہے جو مختلف اشیاء سے لدے ہوتے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ایسے کاروان میں شرکت کرتے اور مختلف قسم کے فرائض سرانجام دیتے، مثلاً حساب کتاب، جانوروں اور انسانوں کی خوراک کا انتظام اور دوسرے انتظامی اُمور۔ سفر کے دوران قیام کے مقام طے تھے۔ پڑائو کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جاتا جو آبادی کے نزدیک ہوں اور پانی و خوراک کی دستیابی آسان ہو۔ قافلے کے قیام سے وہ جگہ عارضی منڈی یا میلے کی سی شکل اختیار کرلیتی۔ 

اسلامی معاشی نظام کا عروج 

اسلام کے ظہور سے دُنیا کا پہلا معاشی نظام، مدینہ اکنامکس وجود میں آیا جس کے احکامات قرآن میں نازل ہوئے اور اسے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے خود ساتویں صدی کی ریاست مدینہ میں نافذ کیا۔ حضرت عمرؓ کے دور میں اسلامی معاشیات مزید مستحکم ہوئی۔ مورس لمبارڈ (Mauric Lombord) کے مطابق یہ معاشی نظام چار سو سال تک پوری دُنیا میں چھایا رہا جس کی دو بڑی خصوصیات تھیں۔ اوّل اسلامی دینار عالم گیر کرنسی کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور عربی زبان عالم گیر تجارتی زبان، سود کی ممانعت کے باعث ساری تجارت نفع و نقصان کی بنیاد پر تھی، جس میں مشارکہ اور مضاربہ نمایاں تھے۔ یورپ میں لوگ مشارکہ (Partnership)سے تو واقف تھے مگر مضاربہ ان کے لیے بالکل نیا طرزِتجارت تھا کیونکہ یہ ایسے نوجوانوں جو سرمایہ کے بغیر تھے انھیں بھی تجارت میں لے آتا۔  نویں اور دسویں صدی اسلامی تجارت کے عروج کا دور ہے، جس میں تمام بڑی تجارتی گزرگاہیں (Trade Routes) کی تجارت اسلامی حکومت کے زیراثر تھی۔ یورپی تاجروں نے مضاربہ طرز تجارت ایک نئے نام Commendaسے اپنا لیا۔ مورات سی ذاکا (Murat Cizacka) اور رابرٹ لی (Robert Lee) کے مطابق یورپ کی ترقی میں مضاربہ کا نمایاں کردار تھا۔  

اسلامی تہذیب کا زوال 

بارھویں صدی سے اسلامی حکومت کا زوال شروع ہوا جو بتدریج بڑھتا چلا گیا۔ اس تنزلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان یکسر اپنے معاشی ورثہ سے بے خبر ہوگئے۔ ۱۲۵۸ء میں ہلاکوخان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی نے اسلامی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ آنے والے وقتوں میں تین بڑی اسلامی حکومتیں ترکیہ، ایران اور ہندوستان میں قائم ہوئیں مگر اسلامی معاشی نظام کی دریافت نہ ہوسکی۔ اسی اثناء میں یورپ میں سود کا کاروبار بڑی تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ ترکیہ نے سود کے کاروبار کو روکنے کے لیے اسلامی طرزِ تجارت مرابحہ کا استعمال کیا۔ مرابحہ میں خریدار کو اشیاء کی لاگت اور اس پر لیا جانے والا منافع بتاناضروری ہوتا ہے۔ مورات سی ذاکا کے مطابق ترکیہ حکومت لاگت پر لیے جانے والے منافع کا اعلان کرتی اور تاجر اسی کے مطابق اشیاء مرابحہ پر فروخت کرتے تھے۔ ہندوستان اور ایران میں اسلامی طرزِ تجارت (مضاربہ اور مرابحہ) فروغ نہ پاسکا اورساری تجارت مقامی طور طریقوں کے مطابق تھی جس میں سود کا کاروبار بھی شامل تھا۔ 

یکم جولائی ۱۹۴۸ء میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بانی ٔپاکستان محمد علی جناح ؒنے مغربی معاشی نظام کو رَد کرتے ہوئے مساوات اور عدل پر مبنی اسلامی معاشی نظام کی بات کی تھی مگر اس پر کام نہ ہوسکا۔ یہی سمجھا گیا کہ یہ صرف اسٹیٹ بنک کی ہی ذمہ داری ہے۔ کالج اور یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم سرمایہ داری نظام پر مشتمل رہی اور مذہبی جماعتوں کے تبلیغی پروگرام اور دوسرے اجتماعات بھی اسلامی طرزِ تجارت سے دُور رہے۔ ۱۹۸۵ء سے پاکستان میں اسلامی بنکاری کا آغاز ہوا تو لوگ مشارکہ ، مضاربہ اور مرابحہ کے ناموں سے واقف ہوئے مگر حقیقی تجارتی شعبہ میں تاجروں اور کاروباری لوگوں نے اسلامی طرزِ تجارت کو نہیں اپنایا۔ کیونکہ ہمارا سارا جوش و جذبہ اسلامی بنکاری کے بارے میں تھا۔ 

اسلامی بنکاری اور مضاربہ 

اسلامی بنکوں نے عوام سے رقوم حاصل (Deposits)کرنے کے لیے مضاربہ کا استعمال تو کیا مگر یہ روایتی مضاربہ کے برعکس تھا۔ مضاربہ کا بنیادی مقصد تو سرمایہ کےبغیر نوجوانوں کو تجارت میں شامل کرنا تھا جس سے کاروبار میں اضافہ ہو۔ اسلامی بنکوں کا مضاربہ تو صرف اُن لوگوں کے لیے تھا جن کے پاس سرمایہ موجود ہو جو وہ پہلے سے کاروبار کرنے والے (بنک) کو کاروبار کے لیے دے دیں۔ بنکاری کی زبان میں اسے Liability Sideمضاربہ کہتے ہیں، یعنی پہلے سے کاروبار کرنے والے لوگ دوسرے لوگوں کے سرمایہ سے اپنے کاروبار کو ترقی دے سکیں۔  

یہ نہیں سوچا گیا کہ جو نوجوان سرمائے کے بغیر ہیں، وہ کہاں جائیں؟ تاجر اور کاروباری لوگ ایسے نوجوانوں کو چھوٹی موٹی ملازمت تو دے دیتے ہیں مگر انھیں مضاربہ کاروبار میں شامل نہیں کرتے۔ اسلامی بنکوں نے Asset Side مضاربہ کی کوئی گنجائش نہیں رکھی۔ اسلامی بنکوں کو کام کرتے ہوئے تقریباً ۴۰ برس ہوگئے ہیں مگر سرمایہ کے بغیر نوجوانوں کو سرمایہ دے کر کاروبار کروانے کی کوئی اسکیم کسی اسلامی یا سودی بنک کے پاس نہیں ہے۔ سودی بنکوں نے بھی لوگوں کے سرمایہ سے مضاربہ کمپنیاں بنالیں جو اکثر نقصان سے دوچار ہوئیں۔  

۲۰۲۶ء کے پاکستان میں سرمایہ کے بغیر نوجوانوں کے لیے تجارت میں شمولیت کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ۲۰۲۵ء میں پرائم منسٹر یوتھ لون اسکیم متعارف ہوئی مگر وہ کم شرح سود پر تھی۔ اس صورتِ حال کے باعث پڑھے لکھے مگر سرمایہ کے بغیر نوجوان چھوٹی چھوٹی نوکریاں حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ کم پڑھے لکھے نوجوانوں کا مسئلہ اور بھی گمبھیر ہے، جو اکثردیہاتی علاقوں میں ہیں اور بے روزگار ہیں۔ بڑے دُکھ کی بات ہے کہ یورپی اقوام نے مضاربہ طرزِ تجارت کو اپنے کاروبار کا حصہ بنالیا تھا مگر ہم اس کے وارث اور امین ہونے کے باوجود مضاربہ کو اپنی اصل حالت میں اپنانے سے گریزاں ہیں۔  

مضاربہ سود سے پاک مکمل طرزِ تجارت 

۲۰۲۱ء میں شائع ہونے والی کتاب Muhammad, The World Changer کے مصنف محمد جی بارا لکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ سے شادی کے بعد مکہ کے کم سرمایہ والے افراد کے لیے روزگار کا بندوبست کیا تھا۔ حضرت صہیبؓ رومی غلام تھے مگر زیورات بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ حضرت زیدؓ کو آپؐ نے خود آزاد کر دیا تھا۔ اسی طرح کے اور لوگوں کا سرمایہ اکٹھا کر کے ایک مشترکہ کمپنی (Joint Company) کے طرز پر کاروبار شروع کروایا تھا جو مضاربہ اور مشارکہ پر مشتمل تھا۔ سب لوگوں نے اپنا اپنا سرمایہ اکٹھا کر کے زیورات بنانے کا کاکام شروع کیا۔ اس کاروبارکے انچارنج حضرت صہیبؓ رومی تھے اور حساب کتاب کا کام حضرت زیدؓ کے پاس تھا۔ کاروبار کا منافع طے شدہ طریقے سے پورے گروپ میں تقسیم کرلیا جاتا۔ 

مضاربہ کی اقسام اور کاروبار کے طے شدہ اصولوں کے باعث اسے بہت سی شکلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ کاروبار عام یا مخصوص طرح کا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر سرمایہ فراہم کرنے والا کوئی خاص کاروبار کا تعین کردے گا تو مضارب صرف وہی تجارت کرے گا۔ اگر مضارب کو اپنی مرضی سے کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی تو یہ عام مضاربہ کہلائے گا۔  

اسی طرح مضاربہ مشروط اور غیرمشروط نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ شرائط کام کی نوعیت، کاروبار کی جگہ یا کاروبار کی نوعیت وغیرہ کے بارے میں ہوسکتی ہیں۔ مضارب کے لیے لازم ہے کہ ربّ المال کی تمام شرائط اور ہدایات پر عمل کرے۔ کسی شرط یا ہدایت کی عدم تعمیل کی صورت میں مضارب سرمایہ میں نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔ مضاربہ معاہدہ میں مضارب دیئے گئے سرمایہ پر امین اور ضامن ہوتاہے۔ عام کاروباری صورت میں مضارب نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوتا لیکن غفلت اور بدعہدی کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس سے ضمانت بھی لی جاسکتی ہے۔ دراصل مضاربہ تجارت میں فروغ اور ایمانداری لے کر آتا ہے۔ایک بے احتیاط اور بے عہد مضارب جلد ہی کاروبار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، جب کہ ایماندار اور محتاط مضارب کو کئی اور رب المال تجارت میں شامل کرلیتے ہیں۔ 

دورِحاضر میں مضاربہ کی بحالی 

بڑی عجیب بات ہے کہ مالیاتی شعبہ میں اسلامی بنک تجارت کے طریقے، مثلاً مشارکہ، مضاربہ اور مرابحہ استعمال کرتے ہیں مگر حقیقی شعبہ کی تجارت ان سے کوسوں دُور ہے۔ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے مگر ہرحکومت بلاسود قرضہ جات سے آگے نہیں جاتی، اور ایسے قرضہ جات حکومت سے وابستہ لوگ ہی لے جاتے ہیں۔ ساتویںصدی کی ریاست مدینہ میں اسلامی تجارت کے مذکورہ طریقے حقیقی شعبہ کے تاجر استعمال کرتے تھے کیونکہ مالیاتی شعبہ اس دور میں موجود ہی نہیں تھا۔ نظامِ سرمایہ داری میں نئے کاروبار (New Startup)  کے لیے Venture Capital کی سہولت موجودہے مگر یہ سود پر مبنی ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ مضاربہ پر عمل کرنا سنت ِ رسولؐ بھی ہے۔اگر آج کوئی نوجوان کسی بنک، تاجر یا حکومت سے مضاربہ کے لیے سرمائے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ سود کے خاتمہ کا وعدہ پہلے تو اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے کیا تھا مگر اب مرکزی حکومت نے بھی یکم جنور ی۲۰۲۸ء سے پہلے سود ختم کرنے کا خواب پوری قوم کو دکھایا ہے۔ ان حالات میں مضاربہ کی بحالی بہت بڑا رول ادا کرسکتی ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل تجاویز پر عمل کرکے تجارت کو ایمان داری اور فروغ مل سکتا ہے۔ 

اسٹیٹ بنک آف پاکستان 

ماضی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے اہم مگر بنکاری سہولتوں سے محروم سیکٹرز کی ترقی کے لیے بہت کام کیا ہے۔ ۱۹۷۱ء کے آغاز میں تجارتی بنک زرعی پیداواری قرضے جاری نہیں کرتے تھے۔ ان بنکوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک طرف تو زرعی قرضوں کی اسکیم شروع ہوئی جس میں نادہندگی کی صورت میں اسٹیٹ بنک ایسے نقصان کا نصف خود برداشت کرتا۔ دوسری طرف اسٹیٹ بنک نے کثیر رقم سے زرعی ترقیاتی فنڈ قائم کیا جو آج بھی موجود ہے۔ پچھلے سال اسٹیٹ بنک نے ۳۴ سو ارب روپے کا منافع کمایا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ ضروری ہے کہ اس خطیر منافع سے ۱۰۰؍ارب روپے کا مضاربہ فنڈ قائم کیا جائے جو اسلامی بنکوں کے جاری کردہ مضاربہ سرمایہ کے ممکن نقصان میں ۵۰ فی صد شریک ہو۔ اس طرح اسلامی بنک نوجوانوں کو مضاربہ کے تحت سرمایہ فراہم کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ 

اسلامی تجارتی بنک 

ساتویں صدی کے عرب معاشرے میں مضاربہ تجارت میں بخوبی شامل تھا۔ دورِ فاروقی میں حضرت عمرؓ کے دو صاحبزادے کوفہ گئے اور وہاں کے گورنر حضرت ابوموسیٰؓ نے کچھ سرمایہ   ان کے حوالے کر دیا جو بیت المال (Treasury) کے لیے تھا۔ دونوں بھائیوں نے اس سرمایہ سے مال خرید کر بعد میں بیچ دیا اور اصل زر رقم بیت المال میں جمع کروا دی۔ مگر حضرت عمرؓ نے اسے مضاربہ کا معاہدہ قرار دیا اور منافع کی آدھی رقم بھی بیت المال میں جمع کروانے کا حکم دیا کیونکہ اس تجارت میں حکومت رب المال تھی اور حضرت عمرؓ کے بیٹے مضارب۔  

اسلامی بنک کام تو کر رہے ہیں مگر اسلامی تجارت فروغ نہیں پارہی۔اسٹیٹ بنک کی طرح دوسرے بنکوں بشمول اسلامی بنک کا منافع بھی بہت زیادہ ہوا ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ اسلامی بنک بھی مضاربہ فنڈ قائم کریں۔ محنتی، ایماندار اور ذمہ دار نوجوانوں کو مضاربہ سرمایہ فراہم کریں۔ چونکہ مضاربہ کثیر المقاصد کاروبار ہے، اسے موجودہ حالات کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔ ان سے ضمانت بھی لی جاسکتی ہے اور انھیں محدود یا مشروط کاروبار بھی کروایا جاسکتا ہے۔ جب نقصان کی صورت میں ۵۰ فی صد اسٹیٹ بنک سے آئے گا تو سارا بوجھ اسلامی بنکوں پر نہیں آئے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اسلامی بنکوں سے تحریک لے کر سودی بنک بھی اسے اپنالیں۔ اسلامی بنکوں میں کام کرنے والے شریعہ اسکالر کے تعاون سے اس کام کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ 

تعلیمی شعبہ 

پاکستان میں اسلامی معاشی نظام کا نفاذ اگرچہ طے شدہ پالیسی ہے مگر کالج اور یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم، سرمایہ داری نظام کی روشنی میں دی جارہی ہے جو ساری کی ساری سود پر مبنی ہے۔ کچھ اداروں میں اسلامی معاشیات کو پڑھایا تو جاتا ہے مگر اس پر کوئی تحقیق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشیات اور بنکوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ مضاربہ کے بارے میں بنیادی آگاہی اسے تعلیم میں شامل کرنے سے آئے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ مضاربہ کو بطور ٹریڈ پراڈکٹ ایم اے اکنامکس، ایم بی اے اور کامرس کے نصاب میں شامل کیا جائے اور اس پر انٹرشپ رپورٹ تیار کرکے انھیں شائع کیا جائے۔ اکانومی میں مضاربہ کو متعارف کروانے میں یہ انتہائی قدم ہوگا۔ 

مدرسہ کی تعلیم 

مضاربہ مدرسہ کی تعلیم میں صرف نظریاتی طور پر موجود ہے۔ یہ پڑھایا تو جاتا ہے مگر اس پر عملی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر اساتذہ اپنے شاگردوں کو مضاربہ کی تجارت میں لگادیں، یعنی  حقیقی مضاربہ کاروبار ان کی تعلیم کا لازمی جز و بنادیا جائے تو تجارت کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ مختلف مدارس کو عطیات،زکوٰۃ اور صدقات کی مد میں خاصی رقوم ملتی ہیں۔ ان میں سے کچھ حصہ مضاربہ کاروبار کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔  

کارپوریٹ سیکٹر 

پاکستان میں سماجی کاروباری ذمہ داری کے تحت تعلیمی اور فلاحی اداروں کو خطیر رقوم مہیا کی جاتی ہیں۔ تاجر لوگ اپنی ذاتی حیثیت میں بھی خرچ کرتے ہیں۔ مختلف چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے ہاں کم آمدنی والے لوگوں کے لیے کفالتی پروگرام ہیں مگر سب مضاربہ کے بغیر ہیں۔ ان رقوم سے یونی ورسٹی میں Modarbah Chains قائم کی جاسکتی ہیں جس میں دیئے گئے عطیات سے یونی ورسٹی میں مضاربہ تجارت کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔  

پچھلے ۷۸برس سے پاکستان میں اسلامی معاشی نظام کے سلسلے میں ہم نے بڑی ڈھٹائی سے روحانی بددیانتی (Spiritual Dishonesty) کا مظاہرہ کیا ہے۔ وطن عزیز میں ہم سب نے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں تو بہت کی ہیں مگر عملی طور پر بہت کم کام کیا ہے۔ درج بالا تفصیلات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ مضاربہ آج بھی قابلِ عمل طرزِ تجارت ہے مگر اس کے نفاذ کے لیےانتہائی خلوص، اَن تھک محنت اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہے۔ بقول علّامہ اقبال: 

آج بھی جو ہو براہیمؑ کا ایماں پیدا 

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا 

 _______________ 

وضاحت:ترجمان القرآن کے گذشتہ شمارے(دسمبر۲۰۲۵ء) میں سینیٹر برنی سینڈرز کی جس وائرل تقریر کا ترجمہ شائع ہوا، وہ دراصل برنی اور کنگ چارلیس کے مختلف بیانات کا مجموعہ تھی، جسے کسی نے یوٹیوب پر یکجا کردیا تھا۔ شمارے کی اشاعت کے بعد،متعلقہ پلیٹ فارم سے ویڈیو ہٹنے پر معاملے کی یہ نوعیت سامنے آئی جس پہ ہم معذرت خواہ ہیں۔(ادارہ)