اسلام کا تیسرا بنیادی ستون زکوٰۃ ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ایمان کے بعد صرف دو اعمالِ صالحہ کا تذکرہ آیا ہے: ایک نماز، دوسرا زکوٰۃ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کے درمیان گہرا ربط ہے اور ایک مسلمان کے اسلام کی تکمیل ان دونوں سے ہوتی ہے۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں اقامتِ صلوٰۃ کے لیے جتنی محنت ہو رہی ہے، ایتائے زکوٰۃ، کی طرف اتنی توجہ نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ زکوٰۃ کے اجتماعی نظام اور اس کے حقیقی مقصد کے بارے میں پایا جانے والا عام تصور ہے:
۱- لوگ زکوٰۃ کو ٹھیک سے نہیں سمجھتے: زکوٰۃ کے معاملے میں عام لوگ اکثر الجھن اور عدم واقفیت کا شکار ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے، یا تو وہ زکوٰۃ غلط طریقے سے ادا کرتے ہیں، یا اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وہ اس فرض کو سرے سے ادا ہی نہیں کرتے۔
۲-زکٰوۃ صرف صدقہ نہیں، ایک اجتماعی نظام ہے: اکثر لوگ زکوٰۃ کو عام صدقے یا خیرات کی طرح سمجھتے ہیں کہ بس کسی غریب کو کچھ پیسے دے دیے اور فرض پورا ہو گیا۔ درحقیقت زکوٰۃ صرف ایک خیرات نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل اجتماعی نظام ہے۔ اس کا مقصد صرف وقتی مدد کرنا نہیں، بلکہ دینے والے کے ایمان کو مضبوط کرنا اور لینے والے کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لانا ہے۔
۳- غلط تقسیم کا نتیجہ: قرآن نے واضح طور پر بتایا ہے کہ زکوٰۃ کے اصل حقدار کون ہیں (اس کی آٹھ قسمیں ہیں)۔ لیکن اکثر لوگ تحقیق نہیں کرتے اور کسی بھی ضرورت مند کو تھوڑا سا اناج، چند جوڑے کپڑے یا معمولی رقم دے کر سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غریب آدمی وہ تھوڑی سی چیز استعمال تو کر لیتا ہے، لیکن اس کی غربت ختم نہیں ہوتی۔ وہ غریب کا غریب ہی رہتا ہے کیونکہ اسے اتنی مدد نہیں ملتی کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔
خلاصہ یہ کہ زکوٰۃ کا اصل مقصد غربت کو جڑ سے ختم کرنا ہے، نہ کہ صرف وقتی طور پر بھوک مٹانا۔ اگر اسے صحیح طریقے سے ایک نظام کے تحت جمع اور تقسیم کیا جائے تو معاشرے سے غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور ’’زکوٰۃ لینے والے بھی ایک دن زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں‘‘۔
مولانا صدر الدین اصلاحی ؒ فرماتے ہیں کہ کتاب و سنت کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کے تین مقاصد ہیں:
۱-تزکیۂ نفس:زکوٰۃ کا حقیقی اور بنیادی مقصد، جس کا تعلق بالکلیہ شخص کی اپنی ذات سے ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے کا دل دنیا کی حرص سے پاک ہو رہے، اور پاک ہوکر نیکی اور تقویٰ کے کاموں کے لیے تیار ہو جائے۔ قرآن مجید میں ہے:
وَسَيُجَنَّبُہَا الْاَتْقَى۱۷ۙ الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَہٗ يَتَزَكّٰى۱۸ۚ (اللیل۹۲:۱۷-۱۸)اور اسے جہنم سے دُور رکھا جائے گا جو اللہ سے بہت ڈرنے والا ہے جو اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے (محض) پاک ہونے کے لیے۔
ایک اور جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا (التوبۃ۹: ۱۰۳)ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لو، جس کے ذریعے انھیں پاک کرو گے اور ان کا تزکیہ کرو گے۔
۲-غریبوں کی کفالت:اب زکوٰۃ کے ثانوی مقاصد کو لیجیے۔ ان میں سے ایک مقصد تو یہ ہے کہ ملت کے نادار افراد کی مدد کی جائے، اور ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: إِنَّ اللہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ (بخاری، حدیث: ۷۳۷۲) ’’بے شک اللہ نے لوگوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور اُن کے حاجت مندوں کو دے دی جائے گی‘‘۔ (مسلم ، جلداوّل، کتاب الایمان، ص۱۹)
۳-دین کی نصرت:زکوٰۃ کے ثانوی مقاصد میں سے دوسرا مقصد دین کی حفاظت اور نصرت ہے۔ قرآن مجید یہ بتاتے ہوئے کہ زکوٰۃ کی رقم کن لوگوں پر اور کہاں کہاں خرچ کی جانی چاہیے؟ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۰ۭ (التوبۃ۹:۶۰)’’یہ صدقات تو صرف حاجت مندوں، مسکینوں، محکمۂ صدقات کے ملازموں، اور ان لوگوں کے لیے ہیں جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو، نیز گردنیں چھڑانے میں، قرض داروں کی مدد کرنے میں، اللہ کی راہ میں، اور مسافروں کی خبر گیری میں صرف ہونے کے لیے ہیں‘‘۔ (اسلام: ایک نظر میں، ص ۲۷-۲۸)
قرآن وسنت میں زکوٰۃ کا تصور انفرادی خیرات کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور ریاستی نظام کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی صفات میں فرمایا:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۰ۚ (البقرۃ۲: ۲۷۷) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے صالح اعمال کیے، نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہو گا۔
کلام اللہ کی صراحتیں بتاتی ہیں کہ کسی غیر مسلم کا مسلمان قرار پانا کلمۂ شہادت ادا کرنے کے بعد بھی دو باتوں پر موقوف ہے: ایک یہ کہ وہ نماز قائم کرے، دوسرے یہ کہ وہ زکوٰۃ ادا کرے۔
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۰ۭ (التوبۃ۹: ۱۱) سواگر یہ لوگ توبہ کر لیں، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو اب وہ تمھارے دینی بھائی ہوں گے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:’’ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کی نماز ہی نہیں ہوتی‘‘۔ (المعجم الکبیر طبرانی، ۱۰۰۹۵، مجمع الزوائد ۴۳۲۹)
اسی لیے جب حضرت ابو بکر صدیقؓ کے زمانۂ خلافت میں کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، تو آپؓ نے ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور فرمایا:وَ اللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ (مسلم، جلد اول، کتاب الایمان، ص ۲۰، بخاری، حدیث: ۱۳۹۹) ’’بخدا! میں ان لوگوں سے ضرور لڑوں گا، جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرتے ہیں‘‘۔
علامہ یوسف القرضاویؒ لکھتے ہیں:’’حضرت ابوبکرؓ کا مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کرنا غالباً اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی حکومت و ریاست معاشرے کے کمزور افراد اور فقراء ومساکین کے حقوق انھیں دلانے کے لیے آمادۂ جنگ ہوئی‘‘۔ (علامہ یوسف القرضاوی، فقہ الزکوٰۃ، ص ۱۱۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے باقاعدہ ایک اجتماعی نظم قائم کیا، جس کے چند اہم شعبے یہ تھے:
۱- عمال الصدقات: زکوٰۃ وصول کرنے والے افسران، جن میں حضرت عمرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’حق و انصاف کے ساتھ زکوٰۃ کا وصول کرنے والا اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ وہ عامل اپنے گھر کو لوٹ جائے‘‘۔ (ابن ابی شیبہ، حدیث: ۱۰۸۱۸)
۲- کاتبین صدقات: حساب کتاب کے انچارج، جیسے حضرت زبیر بن عوامؓ۔
۳- خارصین: باغات میں پھلوں کی پیداوار کا تخمینہ لگانے والے، جیسے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک ماہر خراص تھے۔ غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ نے ایک مسلمان خاتون کے باغ کی پیداوار کا تخمینہ لگایا جو بالکل درست ثابت ہوا۔ (بخاری)
۴- عمال علی الحمی: مویشیوں کی چراگاہ سے محصول وصول کرنے والے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کا یہ واقعہ نظامِ زکوٰۃ کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبلؓ نے یمن سے زکوٰۃ کا ایک تہائی حصہ بھیجا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے تمھیں زکوٰۃ وصول کرنے نہیں بھیجا تھا، بلکہ اغنیاء سے لے کر وہیں کے فقراء میں تقسیم کرنے بھیجا تھا۔ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ وہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملا۔ تیسرے سال حضرت معاذؓ نے زکوٰۃ کا سارا مال بھیج دیا اور فرمایا: ’’یہاں کوئی زکوٰۃ لینے والا ہی نہیں ہے‘‘۔
یہی صورت حال حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں پیدا ہوگئی کہ معاشرے میں تمام لوگ مال دار ہو گئے اور غربت و افلاس کا کوئی نام و نشان نہیں رہا۔ (ابو عبید: کتاب الاموال)
غریب اور ضرورت مند افراد کا خیال رکھنا مسلم معاشرے کی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ معاشی ترقی کی طرف عدم توجہ ہے۔ ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی لکھتے ہیں: ’’تعجب کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسی تحریک نہیں چلی، جس نے عام مسلمانوں کو للکارا ہو کہ محنت کرو، دولت پیدا کرو، کماؤ اور اپنی کمائی کا ایک حصہ بچا کر نفع آور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی آمدنی اور دولت میں اضافہ کرنے کی کوشش کرو۔ پورے ملک کی سطح پر مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے، ان کی معاشی قوت میں اضافہ کرنے کے لیے کوئی تحریک نہیں چلی‘‘۔ (معاش، اسلام اور مسلمان، ص ۳۶)
ہمارے ملک میں زکوٰۃ کا اجتماعی نظم نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر ملت اس پر عمل پیرا نہیں ہے۔ عموماً دینی مدارس کے سفیر اور مختلف اداروں کے ذمہ دار ماہِ رمضان میں اسے وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ غرباء کا ایک جم غفیر اہل ثروت کے مکانات پر آکر چند سو روپے، اناج یا کپڑے لے جاتا ہے۔ اس سے زکوٰۃ کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا، یعنی زکوٰۃ دینے والے کا تزکیۂ نفس، غربت کا خاتمہ اور مستحق کو خود کفیل بنانا، اور دین کی نصرت وحفاظت۔
جب اجتماعی نظام کی بات آتی ہے تو عموماً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا بیت المال قائم کرنے کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا ضروری نہیں ہے؟
زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے جس کے اصول تو سلف سے ملتے ہیں لیکن جدید مسائل کی تطبیق میں رہنمائی کم ملتی ہے۔ جیسا کہ مولانا حافظ سید عبدالکبیر عمری فرماتے ہیں:’’دین کے جو دیگر ارکان ہیں ان سے متعلق مسائل کے لیے علمائے سلف نے اصول وضوابط وضع کیے ہیں۔ مگر زکوٰۃ ایک ایسا رکن ہے کہ اس سلسلے میں علمائے سلف کے بیان کردہ اصول تو ملیں گے مگر تطبیق میں ان سے رہنمائی بہت کم مل سکے گی، کیوں کہ دورِ جدید کے مسائل کا تصور عہدِسلف میں نہیں تھا۔ لہٰذا عصرِ جدید کے مسائل کا اسلامی حل پیش کرنا اور ان کا شرعی حکم معلوم کرنے کی کوشش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے‘‘۔ (ماہنامہ راہ اعتدال، زکوٰۃ نمبر، اکتوبر ۲۰۰۳ء، ص ۸)
غیر اسلامی ملک میں بیت المال کے قیام پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزادؒ لکھتے ہیں: ’’اگر کہا جائے کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت موجود نہیں، اس لیے مسلمان مجبور ہوگئے اور انفرادی طور پر خرچ کرنے لگے تو شرعاً و عقلاً یہ عذر مسموع نہیں ہو سکتا۔ اگر اسلامی حکومت کے فقدان سے جمعہ ترک نہیں کر دیا گیا، جس کا قیام امام و سلطان کی موجودگی پر موقوف تھا، تو زکوٰۃ کا نظام ترک کر دیا جائے؟ کس نے مسلمانوں کے ہاتھ اس بات سے باندھ دیے تھے کہ اپنے اسلامی معاملات کے لیے ایک امیر منتخب کر لیں یا ایک مرکزی بیت المال پر متفق ہوجائیں یا اپنی ویسی ہی انجمنیں بنالیں، جیسی انجمنیں بے شمار غیرضروری باتوں کے لیے بلکہ بعض حالتوں میں بدع و محدثات کے لیے انھوں نے جابجا بنائی ہیں؟‘‘ (حقیقۃ الزکوٰۃ، الہلال بک ایجنسی، لاہور، ص ۲۹)
مولانا ابوالکلام آزادؒ آگے لکھتے ہیں: ’’اُٹھو اور ہر ہر قصبہ اور محلہ میں کم سے کم پانچ آدمیوں کی ایک جماعت بنالو، جو زکوٰۃ کی تحصیل و تنظیم کرے اور اُسے پوری ذمہ داری اور باقاعدگی کے ساتھ صرف کرے‘‘۔ (ایضاً، ص ۱۱)
مفتی کفایت اللہ صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے: ’’زکوٰۃ و عشر فرائض مالیہ کا وجوب جن احکامِ شرعیہ اور مصالح بشریہ پر مبنی ہے، ان کا تقاضا یہ ہے کہ ادائے زکوٰۃ و عشر اور ان کی تقسیم میں تنظیم کا کامل لحاظ رکھا جائے اور ظاہر ہے کہ انفرادی تصرفات میں تنظیم مفقود ہوتی ہے۔ اس غلامی کے دور میں جو تفرق وتشتت کا دور ہے، امکانی صورت یہی نظر آتی ہے کہ اہل حل و عقد کی کوئی جماعت اس کام کو اپنے ہاتھ میں لے‘‘۔ (کفایت المفتی، ج ۴، ص ۲۷۹/ امین احسن اصلاحی، توضیحات، اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ، لاہور، ۱۹۶۹ء، ص ۱۴۱)
مولانا صدرالدین اصلاحیؒ لکھتے ہیں: ’’مسلم بستیاں جس طرح اپنی نمازوں کے لیے مسجد کا، جماعت کا اور امامت کا انتظام کرتی ہیں، اسی طرح اپنی زکوٰۃ کے لیے بھی بیت المال قائم کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ اجتماعی غلط کاری ہوگی‘‘۔ (اسلام: ایک نظر میں، ص ۹۲)
بعض علما اموالِ زکوٰۃ کو ظاہرہ (غلہ، مویشی) اور باطنہ (سونا، چاندی، تجارتی سامان) میں تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اموالِ باطنہ کی تقسیم مالک کی صوابدید پر چھوڑ دینی چاہیے، جیساکہ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے دور میں کیا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں امت تین براعظموں میں پھیل گئی تھی اور دور دراز علاقوں سے زکوٰۃ وصول کرنے کا انتظامی خرچ (مصارف) آمدنی سے زیادہ ہو سکتا تھا، اس لیے انھیں خود تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ بھی دراصل حکومت ہی کے ذریعے تقسیم کا ایک خاص انتظام تھا۔
ملک میں غربت کے خاتمے اور زکوٰۃ کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ بحال کرنے کے لیے ایک جامع اور منصوبہ بند تحریک کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل دس نکات پر عمل درآمد ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے:
۱- زکوٰۃ سے متعلق آ گاہی اور ماہر افراد کی شراکت:سب سے پہلے عوام میں زکوٰۃ کی اہمیت اور عہدِ نبوی و خلافت راشدہ کے دور میں اس کے اجتماعی نظام کے بارے میں آگاہی پیدا کرنی ہوگی۔ اس نظام کے انتظام کے لیے صرف دیندار افراد ہی نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے مرد و خواتین کو بھی شامل کرنا ہوگا، مثلاً:
’ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز‘ نے زکوٰۃ کے متعلق ایک سروے کیا جس میں یہ اہم باتیں سامنے آئیں:
زکوٰۃ دینے والوں کی ایک بڑی تعداد (تیس فی صد) کو زکوٰۃ اور اُس کے فوائد کے بارے میں یا تو علم نہیں ہے یا وہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ ۴۰ فی صد سے زیادہ جواب دینے والے اپنی زکوٰۃ کا صحیح حساب لگانے کے بارے میں جانتے ہی نہیں تھے۔ جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ۷۵ فی صد سے زیادہ لوگ اپنی زکوٰۃ انفرادی طور پر رشتہ داروں یا مقامی ضرورت مندوں کو دیتے ہیں، جب کہ صرف ۱۵ فی صد ہی اسے منظم اداروں جیسے بیت المال یا غیرسرکاری تنظیموں کو دیتے ہیں۔ تاہم، ۷۰ فی صد سے زیادہ لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’اجتماعی نظامِ زکوٰۃ‘ ہی بہترین طریقہ ہے اور اسے تعلیم اور معاشی خود مختاری پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح زکوٰۃ کے نصاب کے تعلق سے بھی صحیح آگاہی نہیں ہے جو دوسو درہم چاندی یا ۵۹۵ گرام ہے اور ۲۰ دینار سونا یا ۸۵ گرام ہے (حجۃ اللہ البالغہ، جلد۲، ص ۵۰۶)
اسلام کے نزدیک ہر وہ شخص غریب ہے جو صاحبِ نصاب نہیں ہے۔ شاہ ولیؒ اللہ نے نصاب کی حکمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے: ’’یہ وہ ضروری اثاثہ ہے جس کے ذریعے ایک چھوٹے خاندان کے سال بھر کے ضروری اخراجات کی تکمیل ہو سکتی ہے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، جلد۲، ص ۶۶)
۲-مالیاتی علم اور دولت کی پیدائش:عوام میں مالیاتی خواندگی کی شدید کمی ہے۔ دولت پیدا کرنے، کاروبار میں حصہ لینے اور نفع بخش روزگار اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ بچت کرنے اور منافع بخش کاروبار میں سرمایہ کاری کی عادت کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ ’دینے والوں‘ کی ایک مضبوط جماعت تشکیل دی جا سکے۔
جنت کی بشارت پانے والے دس جلیل القدر صحابہ (عشرہ مبشرہ) میں سے چار، یعنی حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ، آج کے دور کے حساب سے ارب پتی تھے۔
۳- مدارس کے نصاب میں زکوٰۃ کے جدید کورس کی ضرورت: علمائے کرام کو اس تحریک کی قیادت کرنی چاہیے۔ اس کے لیے زکوٰۃ کو ایک تفصیلی مضمون کے طور پر دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنا ہوگا اور سماجی و معاشی جائزے جیسے عملی میدانی کام بھی کرائے جانے چاہییں۔ زکوٰۃ کے نظام کے لیے نفسیات، تعلقاتِ عامہ، اکاؤنٹنگ، آڈٹ اور مالیاتی انتظام میں مہارت درکار ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی جیسے اداروں کو ورلڈ زکوٰۃ کونسل سے تعاون حاصل کر کے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر عبید اللہ کا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ فنانس (آئی آئی بی ایف) زکوٰۃ کے مینجمنٹ کورس کا اہتمام کرتا ہے جس سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔
راقم کے مضمون ’مسلم فاضلین اور معاشی میدان‘ (ترجمان القرآن، لاہور ۲۰۲۱ء) میں بھی مدارس سے فارغ ہونے والے علما کے لیے معاش کی نئی راہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں سر فہرست زکوٰۃ کا اجتماعی نظام ہے۔
۴- مسجد بحیثیت مرکز عمل: ہر محلے کی مسجد میں ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے، جس میں ایک جید عالم، ایک ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور چند سماجی کارکن شامل ہوں۔ یہ کمیٹی اپنے علاقے کا سماجی و معاشی جائزہ لے کر کام کا آغاز کرے۔ اس کوشش میں خواتین کو بھی شامل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ خاندانوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کی مالی حالت کا جائزہ لے سکیں۔
۵- فائنانشیل ٹکنالوجی (فِن ٹیک) کا استعمال: مالیاتی ٹکنالوجی زکوٰۃ کو جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے عمل میں کھلے پن اور بھروسے کو مستحکم بنا سکتی ہے۔ آج دنیا بھر کی فلاحی تنظیمیں اجتماعی مالیاتی امداد کے انٹرنیٹ نظام کے ذریعے یہ کام کر رہی ہیں۔ مثلاً کراؤڈ فنڈنگ (Crowdfunding)، انٹرنیٹ آف تھنگس (Internet of Things - ITO) یا اسی طرح بلاک چین (Blockchain) کا استعمال حسابات (جانچ پڑتال) کے مقاصد کے لیے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر وطنِ عزیز میں بھی اس جدید طریقۂ کار کو زکوٰۃ کے انتظام و انصرام میں استعمال کیا جائے تو ایک نئے معاشی فروغ کا خواب پورا ہو سکتاہے۔ (ICIF Newsletter،مئی ۲۰۲۴ء، ص ۴، ۱۰، ۱۴، ۱۶)
۶- زکوٰۃ اور چھوٹے قرضے(Microfinance) : زکوٰۃ کی رقم کا ایک مصرف ’الغارمین‘ (قرض دار) ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق، حضرت عمرؓ کے زمانے میں غارمین سے ایک نئی بات کا حوالہ ہمیں ملتا ہے اور وہ سرکاری خزانے سے لوگوں کو امداد نہیں بلکہ قرضہ دینا ہے۔ اس طرح حضرت عمرؓ کے دور میں زکوٰۃ کی رقم سے غیر سودی قرض دینے کا ثبوت ملتا ہے۔
اگر زکوٰۃ کی رقم چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کو ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے تو اس سے غربت بتدریج ختم ہو سکتی ہے اور زکوٰۃ کے مستحق لوگ چند سالوں میں زکوٰۃ دینے والے بن سکتے ہیں۔
بعض ممالک، مثلاً ملائشیا میں، غریبوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
Habib Ahmed, Role of Zakah and Awqaf in Poverty Alleviation (Occasional Paper No.8.Islamic Development Bank Group, IRTI, Jeddah, 2004, p.77-82.
۷- زکوٰۃ اور غیرمسلم : قرآن نے مصارفِ زکوٰۃ میں ’فقراء‘ اور’مساکین‘ کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق، ان میں فرق یہ ہے کہ فقراء سے مراد غریب مسلمان اور مساکین سے مراد غریب غیر مسلم ہیں۔
پروفیسر عبد العظیم اصلاحی لکھتے ہیں: ’’ خلیفہ ثانی نے زکوٰۃ کے مصارف ثمانیہ میں سے فقراء سے مراد مسلمان اور مساکین سے مراد اہل کتاب لیا ہے‘‘۔ (علامہ شبلی نعمانی، الفاروق، ص۱۲۸)
ڈاکٹر محمد حمیداللہ امام ابو یوسف کی کتاب الخراج کا حوالہ دیتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مدینہ کی گلیوں میں ایک یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا تو اس کا جزیہ معاف کر دیا اور اس کا روزینہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ہذا مسکین أہل الکتب (یہ اہل کتاب کے مساکین میں سے ہے)۔ (خطبات بہاولپور، صفحات ۳۴۱-۳۴۲)
ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی لکھتے ہیں: ’’زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر خرچ نہیں کی جائے گی بلکہ ان تمام لوگوں پر جو اس کے مستحق ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ عقیدہ اور مسلک کے اعتبار سے کیا ہیں۔ قرآن کریم کی آیاتِ زکوٰۃ میں فقراء و مساکین اور دوسرے ضرورت مندوں کے ساتھ ایمان کی شرط نہیں لگائی گئی ہے‘‘۔ (عدل کی تلاش، ص ۴۹)
۸- دیگر ممالک کے کامیاب تجربات سے استفادہ:عالمی زکوٰۃ فورم (World Zakat Forum) میں تقریباً چالیس ممالک شامل ہیں۔ ہمیں ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے:
بیزناس (BAZNAS): انڈونیشیا کے زکوٰۃ کا یہ ادارہ سماجی، تعلیمی اور عوامی صحت کے منصوبوں میں زکوٰۃ کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
سینزف (SENZAF): جنوبی افریقہ کا یہ ادارہ ایک ایسے ملک میں قائم ہے جہاں مسلمان صرف دو سے تین فی صد ہیں، لیکن یہ دہائیوں سے کامیابی سے کام کر رہا ہے۔
سینٹر فار زکوٰۃ مینجمنٹ (Center for Zakat Management): اس تنظیم کی سربراہی دو خواتین- چیئرپرسن فیروز محمد اور سی ای او یاسمینہ فراٹنک ہیں اور اس ادارہ میں ۵۲ فی صد خواتین کام کرتی ہیں۔ اس کی سماجی صلاحیتوں کی تعمیر اور رفاہی کاموں کا اعتراف کرتے ہوئے کیمبرج (Cambridge) اور برطانیہ کی بین الاقوامی معاشی ایڈوائزری کی جانب سے اس کو 3G کا عالمی سطح کا بہترین انتظامیہ کا ایوارڈ دیا گیا۔
بنگلہ دیش: یہاں کے زکوٰۃ کا نظام دیہی ترقی اور بچوں کی تعلیم میں مؤثر نتائج فراہم کررہا ہے۔
۹- زکوٰۃ اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDG): اقوامِ متحدہ نے (۲۰۱۵ء- ۲۰۳۰ء) پندرہ برسوں کے لیے ’پائیدار ترقی کے مقاصد‘ مقرر کیے ہیں، جن میں ناداری کا خاتمہ، بھوک کا خاتمہ، بہتر صحت، معیاری تعلیم اور معاشی عدم مساوات میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔
یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ زکوٰۃ کا اسلامی نظام چودہ سو سال پہلے ان تمام مقاصد کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے بھی انڈونیشیا کی زکوٰۃ کی تنظیم کے ساتھ مل کر تیار کردہ ایک منصوبے میں یہ تسلیم کیا ہے کہ اسلام کا فریضۂ زکوٰۃ دولت کو مالداروں سے ناداروں کی طرف منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور اس میں پائیدار ترقی کے مقاصد کی کامیابی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ (ایچ عبدالرقیب، ’اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف اور حلف الفضول‘، ماہنامہ راہ اعتدال، اپریل ۲۰۲۳ء، ص ۱۹)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ زکوٰۃ محض ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک اجتماعی، معاشی اور سماجی نظام ہے۔ اس کا مقصد صرف بھوک مٹانا نہیں، بلکہ غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ایک ایسی سوسائٹی قائم کرنا ہے، جہاں دولت صرف امیروں میں گردش نہ کرے، بلکہ معاشرے کے تمام افراد معاشی طور پر خود کفیل ہوں۔
سید سعادت اللہ حسینی لکھتے ہیں:’’ضرورت اس بات کی ہے کہ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے قیام کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل میں چلایا جائے۔ یہ نظام ابتداء میں گاؤں، قصبہ یا شہر کی سطح پر قائم کیا جاسکتا ہے۔ اجتماعی نظام زکوٰۃ کے یہ ادارے منصوبہ بند طریقے سے غریب طلبہ کو وظیفے اور تعلیمی امداد اور نوجوانوں کو فنی اور تجارتی ٹریننگ دے سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں‘‘۔ (نظامِ زکوٰۃاور ہندوستان میں سماجی ترقی، ۲۰۱۸ء،ص ۲۰)
مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اس ضرورت کو یوں بیان کیا تھا:’’اگر مسلمان آج اور کچھ نہ کریں صرف زکوٰۃ کا معاملہ ہی احکام قرآنی کے مطابق درست کر لیں تو بغیر کسی تامل کے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تمام اجتماعی مشکلات و مصائب کا حل خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں نے یا تو احکام قرآنی کی تعمیل یک قلم ترک کر دی ہے یا پھر عمل بھی کر رہے ہیں تو اس طرح کہ فی الحقیقت عمل نہیں کر رہے ہیں‘‘۔ (حقیقۃ الزکوٰۃ، لاہور، ص۲۶)
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسلم ملت کے مرد و خواتین، علمائے کرام، سماجی کارکنان اور دانش ور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ اجتماعی نظمِ زکوٰۃ کے اس عظیم نظام کو قائم کرنے کے لیے خصوصی توجہ دیں، تاکہ چند برسوں میں ہم منصوبہ بندی کے ساتھ ایک متوازن اور متمول اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔