ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کے دسمبر ۲۰۲۵ء کے شمارے میں ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کا المناک انجام‘ کے عنوان سے معروف نو مسلم فاضل علامہ محمد اسد (۱۹۰۰ء تا ۱۹۹۲ء) کا ایک مضمون (مترجم و مرتب: جناب اوریا مقبول جان) شائع ہوا ہے۔ قیامِ پاکستان کے ڈیڑھ ماہ بعد حکومت مغربی پنجاب (نواب افتخار حسین ممدوٹ کی سربراہی میں قائم) کی طرف سے ’محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ‘ (Department of Islamic Reconstruction) اکتوبر ۱۹۴۷ء میں قائم ہوا تھا۔ محمداسد اس کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ علامہ محمد اسد کی یہ تحریر دراصل ایک ’محضرنامہ‘ (یادداشت) ہے، جو انھوں نے ۱۸؍ اگست ۱۹۴۸ء کو مرکزی حکومت کو پیش کیا تھا، جس میں ’محکمۂ احیائے ملتِ اسلامیہ‘ کے قیام کی غرض و غایت، اہداف و مقاصد اور سرگرمیوں کے بارے میں بعض مقتدر حلقوں کے ہاں پائے جانے والے شکوک و شبہات اور بدگمانیوں کے ازالے کی سعی کی گئی تھی۔ یہاں پر اس محکمے کے اہداف و مقاصد اور کارگزاری پر بحث مقصود نہیں ہے بلکہ ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن میں شائع شدہ اس مضمون کے آغاز میں جناب اوریا مقبول جان کے تعارفی شذرے میں موجود بعض تاریخی وواقعاتی غلط فہمیوں کی نشان دہی کرنا پیش نظر ہے۔
فاضل مترجم و مرتب نے اپنے تعارفی و تمہیدی شذرے میں لکھا ہے:
۱- علامہ محمد اسد، علامہ محمد اقبال کی شخصیت سے متاثر ہو کر ہندستان آگئے اور علامہ اقبال نے اپنے دوست کو ہندستان کے موسم کی سختیوں سے بچانے کے لیے، چودھری نیاز علی خان سے کہا شملہ میں ان کی رہائش کا بندوبست کیاجائے۔ وہاں رہائش کے دوران انھوں نے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ترجمے کا آغاز کیا ہی تھا کہ [۱۹۳۹ء میں] جنگِ عظیم دوم شروع ہوگئی اور انھیں جرمن جاسوس سمجھ کر انگریز حکومت نے گرفتار کر لیا۔(ص ۸۷ تا ۸۸)
۲- جب انھیں رہائی نصیب ہوئی تو انھوں نے اپنا مشہور رسالہ عرفات نکالا۔ اس ضمن میں ان کی خط کتابت اسلامی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ قائد اعظم سے بھی رہی، جو ان کے رسالے کے قاری تھے۔(ص ۸۸)
۳- رسالے میں علامہ محمد اسد نےWhat Pakistan Means? [کذا ،What Do We Mean by Pakistan?] کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا، یعنی ’پاکستان کا مطلب کیا؟ اور ان مضامین میں اس کا جواب ہوتا ’لاالٰہ الا اللہ‘ یعنی تحریری طور پر یہ نعرہ پہلی دفعہ علامہ اسد نے قیام پاکستان سے دوسال قبل ہی بلند کردیا تھا۔ (ص ۸۸)
۴- اگست ۱۹۴۷ء کے آخری ہفتے میں ہی ’ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن‘ [’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘] کے اغراض و مقاصد کا کتابچہ شائع ہوا۔ جس میں محکمے کی ذمہ داریوں میں اسلام کے تعزیراتی قوانین کی تدوین سے لے کر تعلیمی، معاشی اور معاشرتی نظام کے نفاذ پر سفارشات مرتب کرنا شامل تھا۔ (ص۸۸)
۵- یہ محکمہ حکومتِ مغربی پنجاب کے تحت قائم ہوا تھا، لیکن فوراً ہی منظوری کے لیے اس کو مرکزی حکومت کے پاس بھیجا گیا(کذا)۔ اس موضوع پر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں طویل بحثیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ آخر کار جنوری ۱۹۴۸ میں منظوری کے بعد علامہ محمد اسد کو ریڈیو پاکستان سے اپنے اغراض و مقاصد اور اہداف بیان کرنے اور پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے محکمے کے کام کا تعارف کروانے کی اجازت دی گئی۔ ریڈیو پاکستان سے علامہ اسد کی سات ولولہ انگیز اور فکر سے بھر پور تقریریں نشر ہوئیں۔ بعد ازاں ریڈیو پاکستان کی اجازت سے رسالہ عرفات کے ستمبر ۱۹۴۸ء کے شمارے میں شائع ہوئیں ۔(ص۸۸)
۶-محکمہ میں علامہ اسد کے ساتھ کام کرنے والوں میں مفکرین، ڈاکٹر حسین الہمدانی، سیّدنذیر نیازی، محمد جعفرشاہ پھلواری (کذا، پھلواروی)، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا ابو یحییٰ امام خان نوشہروی، رشید اختر ندوی، مولانا شفیق الرحمٰن اور افتخار احمد چشتی شامل تھے۔ (ص ۸۸ تا ۸۹)
۷- ادارے نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں اسلامی قوانین کی تدوین کے لیے علما کی ایک کمیٹی بھی قائم کی۔ صرف چند ماہ کی محنت سے محکمے نے اپنی سفارشات مرتب کرلیں۔ جب یہ سفارشات مرکزی حکومت کو موصول ہوئیں تو حکومت پر قابض انگریز کی تیار کردہ بیوروکریسی نے اس ادارے کے راستے میں روڑے اٹکانے شروع کردیے۔ آخر کار ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے، علامہ اسد سے کہا گیا کہ وہ عالم اسلام میں پاکستان کی شناخت کروانے میں مدد کریں۔ یوں انھیں سفیر بناکر مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا گیا۔ ان کے جانے کے صرف ایک ماہ کے اندر ہی ادارے کا وہ مرکزی دفتر جو پنجاب سیکرٹیریٹ کے ساتھ پیپلز ہاؤس میں قائم تھا، وہاں پُراسرار آتش زدگی کے ذریعے سارا ریکارڈ جلادیا گیا۔ (ص ۸۹)
محمد اسد اور محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کے بارے میں فاضل مترجم کے ان ملاحظات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہ خیالات ٹھوس اور مستند تاریخی و دستاویزی شہادتوں پرنہیں بلکہ ادھورے مطالعے اور سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ بعض واقعات کی تاریخی و زمانی ترتیب میں بھی اُلٹ پھیر ہوگیا ہے۔ بعض باتیں حقائق کے منافی ہیں۔ ذیل میں ترتیب سے، ان نکات کاجائزہ پیش کیا جاتا ہے:
۱- محمد اسد سرزمین حجاز (جہاں وہ ۱۹۲۷ء کے اوائل سے مقیم تھے، اور شاہ ابن سعود کے مصاحبین و مقربین میں شامل ہو چکے تھے) سے ہندستان علامہ محمد اقبال کی شخصیت سے متاثر ہو کر نہیں آئے تھے۔ محمد اسد ایک متجسّس اور سیلانی مزاج کے حامل انسان تھے۔ صحرا نوردی و جہاں گردی اور مہم جوئی تو گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ وہ سچ مچ ایک جہاں گشت تھے۔ وہ نوعمری میں ہی بعض مغربی اخبارات کے مراسلہ نگار کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک، طرابلس و البرقہ (لیبیا) اور ایران و افغانستان کی سیاحت کر چکے تھے۔محمد اسد کا یہی شوق سیاحت و جہاں گردی انھیں کشاں کشاں ہندستان لے آیا تھا۔ البتہ ہندستان کی سیاحت کا ایک محرک حجاز میں قیام کے دوران میں ان کی بعض ممتاز ہندی مسلمانوں،جن میں ڈاکٹر عبدالغنی جلالپوری پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور، پرنسپل حبیبیہ کالج کابل اور ناظم تعلیماتِ عامّہ افغانستان رہے ۔(سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے رسالہ دینیات کے اوّلیں انگریزی مترجم)، مولانا عبدالقادر قصوری، مولوی محمد اسماعیل غزنوی (موصوف امرتسر کے معروف اہل حدیث غزنوی خاندان کے چشم و چراغ اور شاہ ابن سعود کے منظورِنظر افراد میں سے تھے) سے میل ملاقات اور ان سے اسلامیانِ ہند کی تاریخ و سیاست اور تہذیب و معاشرت کے بارے میں بحث و گفتگو بھی تھی۔ چنانچہ محمد اسد ۱۹۳۲ء کے وسط میں ہندستان کے لیے روانہ ہوئے۔ محمد اسد کے بارے میں یہ بات تو یقینا وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ علامہ محمداقبال کے بڑے قدر دان تھے اور اس امر کا اظہار انھوں نے اپنی متعدد تحریروں میں واشگاف الفاظ میں کیا بھی ہے۔ پھر ہندستان آمد کے بعد جس شخصیت سے ان کا سب سے قریبی تعلق رہا وہ علامہ محمد اقبال کی ذات گرامی ہی تھی، لیکن یہ تاثر دینا درست نہیں کہ وہ سرزمینِ حجاز سے محض ان کی شخصیت و فکر سے متاثر ہوکر ہندستان آئے تھے۔
اسی طرح محمد اسد کی ہندستان آمد پر علامہ محمد اقبال کی فرمائش پر چودھری نیاز علی خان کا اس نووارد کے لیے شملہ میں رہائش کا انتظام کرنا بھی درست نہیں ہے۔ محمد اسد ہندستان آمد (ستمبر ۱۹۳۲ء) کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک مختلف شہروں، امرتسر، لاہور، دہلی، بھوپال، حیدرآباد دکن اور کشمیر کی سیاحت میں مشغول رہے۔ ۱۹۳۴ء کے موسم بہار میں وہ کچھ عرصے کے لیے دہلی (قرول باغ) میں مقیم ہوئے۔ چنانچہ یہیں سے اپریل (۱۹۳۴ء) میں فکراسلامی پر ان کی پہلی شہرۂ آفاق تصنیف Islam at The Crossroad شائع ہوئی۔ دو ماہ بعد اس کا دوسرا اور ستمبر میں اس کا تیسرا ایڈیشن نکلا۔ اسی سال انھوں نے صحیح بخاری کے انگریزی ترجمہ و شرح کا آغاز کیا اور اس کی اشاعت کے انتظامات میں مشغول ہوگئے۔ ۱۹۳۵ میں انھوں نےاس کی طباعت و اشاعت کے لیے سری نگر میں عرفات پبلی کیشنز کے نام سے اپنا ذاتی مطبع اور دارالاشاعت قائم کیا۔ اسی سال کے اواخر میں صحیح بخاری کے ترجمے کی پہلی قسط (مشتمل بر کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ وکتاب الایمان) چھپ کر منظر عام پر آئی۔ مجلہIslamic Culture کے بانی ایڈیٹر علامہ محمد مارماڈیوک پکتھال کی وفات (۱۹ مئی ۱۹۳۶ء) کے بعد دولت آصفیہ حیدر آباد دکن کی طرف سے محمداسد اس مجلے کے ایڈیٹر مقرر کیے جانے پر لاہور منتقل ہوگئے۔ چنانچہ جنگ عظیم دوم کے آغاز تک وہ لاہور ہی سے اس مجلے کی ادارت اور اس کی اشاعت کا انتظام کرتے رہے۔ جنگ کے آغاز پر ہندستان کے برطانوی حکام نے انھیں ’دشمن قوم کا شہری‘ قرار دیتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ جنگ کے اختتام (۱۹۴۵ء)پر رہائی ملنے کے بعد کم و بیش ایک سال دارالاسلام، پٹھانکوٹ اور لاہور میں گزارا، اور پھر محمد اسد ڈلہوزی میں مقیم ہوئے تھے۔ یہیں سے انھوں نے ستمبر ۱۹۴۶ء میں مجلہ عرفات کا اجرا کیا۔محمد اسد برصغیر ہند میں اپنے کم و بیش بیس سالہ قیام (ستمبر ۱۹۳۲ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۵۱ء) کے دوران میں، ما سوائے چند ر روزہ سیر و سیاحت کے، کبھی شملہ میں مقیم نہیں رہے۔
۲- یہ کہنا کہ شملہ سے مجلہ عرفات کے اجرا (جلد اول، شمارہ اول، ستمبر ۱۹۴۶ء )کے بعد محمداسد کی اس مجلے کے بارے میں اسلامی مفکرین، سیاسی شخصیات اور بالخصوص قائد اعظم محمد علی جناح سے خط کتابت رہی، ایک قیاس آرائی ہے۔ اس میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ مجلہ عرفات کے افتتاحی شمارے کی طباعت کے بعد محمد اسد نے اس کے اعزازی نسخے ملک کی ممتاز سیاسی، اور علمی و فکری شخصیات کو ارسال کیے تھے اور اُن کے نام خطوط میں مجلے کی اشاعت کی غایت و مقصد کی وضاحت کی تھی۔چنانچہ اس کا ایک نسخہ مع ایک عریضےکے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی ارسال کیا گیا تھا۔ جواب میں قائد اعظم کی طرف سے ایک مختصر خط لکھا گیا، جس میں محمد اسد کے اس کام کی تحسین کی گئی۔ اس کے علاوہ محمد اسد کی قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ خط کتابت کےشواہد نہیں ملتے۔ محمد اسد کے قائد اعظم محمد علی جناح سے کبھی قریبی روابط قائم نہیں رہے۔محمد اسد نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا برملا طور پر اظہار کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر محمد اقبال کی شخصیت و فکر سے ضرور متاثر تھے، البتہ قائداعظم محمد علی جناح سے کچھ زیادہ متاثر نہ تھے۔
۳- اسی طرح یہ دعویٰ بھی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہے کہ ’پاکستان کا مطلب کیا؟___ لاالٰہ الا اللہ‘ کا نعرہ پہلی دفعہ (یعنی سب سے پہلے) محمد اسد نے قیام پاکستان سے دوسال قبل ہی مجلہ عرفات میںشائع ہونے والے اپنے مضامین میں بلند کر دیا تھا۔ محمد اسد کا ایک مفصل مضمون What Do We Mean by Pakistan? کے عنوان سے مجلہ عرفات کے شمارہ بابت مئی ۱۹۴۷ء (جلد اول، شمارہ ۸مئی ۱۹۴۷ء) میں شائع ہوا تھا، جس میں انھوں نے واشگاف لفظوں میں ’پاکستان کا مطلب کیا؟___لا الٰہ الا اللہ‘ کا نعرہ ضرور بلند کیا تھا۔ تاہم، اس باب میں معروف شاعر پروفیسر اصغر سودائی (۱۹۲۶ء تا ۲۰۰۸ء)کو سبقت حاصل ہے۔ انھوں نے ۱۹۴۴ء میں،جب کہ وہ مرے کالج سیالکوٹ کے طالب علم تھے، ’پاکستان کا مطلب کیا؟‘ کے عنوان سے ایک شہرۂ آفاق نظم کہی تھی۔ یوں اس نعرے کے خالق محمد اسد نہیں بلکہ پروفیسر اصغر سودائی ہیں۔
۴- ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کتابچے کی ماہِ اگست ۱۹۴۷ء کے اواخر میں اشاعت کا قصہ درست معلوم نہیں ہوتا۔ محمد اسد۱۴ ؍اگست کو قیام پاکستان کے بعد ڈلہوزی سے لاہور پہنچے تھے۔لاہور آمد کے بعد وہ مہاجرین کی آبادکاری کے کاموں میں مشغول ہوگئے تھے۔ انھی دنوں ریڈیو سے ان کی تقریریں نشر ہوئیں۔ اکتوبر میں ’محکمۂ احیائے ملّت‘ کا قیام عمل میں آیا۔اس محکمے کے قیام سے قبل اس کی طرف سے اپنے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کسی کتابچے کی اشاعت امرِواقعہ نہیں ہے۔ محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کے اغراض و مقاصد کے بیان پر مشتمل کتابچے، جو ایک محتاط اندازے کے مطابق اکتوبر نومبر میں شائع ہوا، کی رُو سے اس محکمے کی اوّلین ذمہ داری ’اسلام کے تعزیری قانون‘ کی تدوین نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی قانونِ اسلامی کی تدوین اور تعلیمی، معاشی اور معاشرتی نظام کے نفاذ کے سلسلے میں سفارشات مرتب کرنا تھا۔ محمداسد کی متعدد تحریروں سے یہ امر بخوبی واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی مسلم معاشرے میں اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے کا آغاز حدود و تعزیرات کے نفاذ سے کرنے کے طرف دار نہیں تھے۔ اس کے مقابلے میں وہ اس امر کے داعی و علَم بردار تھے کہ ’ملک و معاشرے کی اسلامی تشکیل کا آغاز تعلیم و تربیت، دعوت و تبلیغ اور سماجی عدل و انصاف کے قیام سے کیا جائے‘۔
۵- ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کا قیام دراصل حکومت مغربی پنجاب کی طرف سے عمل میں آیا تھا۔ یہ نواب افتخار حسین ممدوٹ (۱۹۰۶ء تا ۱۹۶۹ء) کے اقدام کا نتیجہ تھا، اور اس ادارے کے قیام میں مرکزی حکومت کا کوئی حصہ نہ تھا اور نہ اس بات کی کوئی دستاویزی شہادت موجود ہے۔ اگر اس منصوبے کو ’مرکزی حکومت کی بھر پور تائید و حمایت‘ حاصل ہوتی تو نواب افتخار حسین ممدو ٹ کی حکومت کے خاتمے (۲۵ جنوری ۱۹۴۹ء) کے بعد اس کی بساط نہ لپیٹ دی جاتی۔وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان(۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء تا ۱۶؍اکتوبر۱۹۵۱ء) اپنے جیتے جی اس کا خاتمہ نہ ہونے دیتے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت کے خاتمے کے چند ماہ بعد ہی محمد اسد کا تقرر دفتر خارجہ میں ’مڈل ایسٹ ڈویژن‘ (قسمت مشرقِ وسطیٰ) میں کردیا گیا، جس کے ساتھ ہی اس محکمے کا عملاً قصہ تمام ہوگیا۔
یہ بات بھی درست نہیں کہ جنوری ۱۹۴۸ء میں مرکزی حکومت کی منظوری کے بعد محمد اسد کو اس محکمے کے اغراض و مقاصد اور نفاذ شریعت کی سرگرمیوں اور منصوبوں کے تعارف کے سلسلے میں ریڈیوپاکستان پر تقریروں کی اجازت دی گئی۔ نیز یہ کہ محمد اسد کی نشری تقریریں ’محکمہ احیائے ملّت اسلامیہ‘ کے ترجمان مجلے عرفات کے ستمبر ۱۹۴۸ء کے شمارے میں شائع ہوئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد اسد کی یہ تقریریں اگست اور ستمبر ۱۹۴۷ء کے مہینوں میں نشر ہوئی تھیں ۔ ان تقریروں کا موضوع محکمہ احیائے ملّت کے اغراض و مقاصد کی تشریح اور پاکستان میں نفاذشریعت کے سلسلے میں اس محکمے کے کام کا تعارف و تذکرہ ہرگز نہ تھا۔ ان تقریروں کا موضوع مملکت خداداد پاکستان کو درپیش مسائل و مشکلات (مہاجرین کی آمد و آبادکاری، نیز انتظامی، اقتصادی اور سیاسی مسائل) اور اس مملکت کی اسلامیانِ ہند کی نظریاتی اُمنگوں کے مطابق تعمیر و تشکیل سے متعلق امور و مسائل سے تھا۔ محمد اسد نے اپنی ان تقریروں میں دو قومی نظریے اور مملکت پاکستان کی تعمیر وتشکیل میں اسلام کو مرکزی حیثیت دینے کی مؤثر طور پر وضاحت کی تھی۔ محمد اسد کی یہ نشری تقریریں مجلّہ عرفات کے افتتاحی اور آخری شمارے (مارچ ۱۹۴۸ء) میں شائع ہوئیں، نہ کہ ستمبر۱۹۴۸ء کے شمارے میں۔
۶- زیر نظر تعارفی شذرے میں محکمہ سے وابستہ جن اہل علم کا ذکر کیا گیا ہے، ان سب کو ’مفکر‘ قرار دیا گیا ہے۔ برصغیر کی سنجیدہ علمی و فکری روایت میں ’مفکر‘ کا خطاب جس پائے کے اہل علم و فکر کے لیے استعمال ہوتا ہے ، وہ ان اشخاص خصوصاً مؤخرالذکر چار حضرات ،پر صادق نہیں آتا۔
۷- جناب مرتب نے لکھا ہے کہ اسلامی قوانین کی تدوین کے لیے محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کی طرف سے تحریک پاکستان کے مقتدر رہنما اور ممتاز عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی (م:۱۳دسمبر ۱۹۴۹ء) کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ محمداسد نے مرکزی حکومت کے نام اپنے ’محضرنامے‘ (محررہ و مرسلہ ۱۸؍ اگست ۱۹۴۸ء) میں مولانا شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں قائم کی گئی جس کمیٹی کا ذکر کیا ہے، اس کا تعلق قانون اسلامی کی تدوین سے نہیں بلکہ ایک جدید دارالعلوم کے قیام سے تھا۔ دراصل محمد اسد نےاسلامی علوم اور فقہ و قانون کے ماہرین کی تیاری اور ان کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک جدید دارالعلوم کے قیام کے لیے ایک پلاننگ کمیٹی کی تشکیل کے لیے حکومت پنجاب (نواب افتخار حسین ممدوٹ، وزیر اعلیٰ پنجاب) سے منظوری حاصل کی تھی۔ روایتی مذہبی طبقوں کی مخالفت سے بچنے کے لیے محمداسد نے اس کمیٹی کی سربراہی کے لیے مولانا شبیر احمد عثمانی سے درخواست کی ، جو انھوں نے منظور کر لی تھی۔ اس کمیٹی میں محمد اسد نے مختلف دینی مکاتب سے متعدد علما بھی شامل کیے، مگر اس بات کا بطور خاص اہتمام کیا کہ کمیٹی کے ارکان میں روشن خیال جدید تعلیم یافتہ ارکان کی حیثیت غالب رہے۔ (دیکھیے: محمد اسد، ’میمورنڈم‘ در مجلہ اقبال، جولائی ۱۹۹۸، ص ۱۰)
جناب مرتب کا یہ بیان بھی کسی حد تک محلِ نظر ہے کہ برطانوی سامراج کی تربیت یافتہ بیوروکریسی نے نفاذ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے محمد اسد کو محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ کی سربراہی سے ہٹا کر دفتر خارجہ میں تعینات کرایا تھا، اور بعدازاں انھیں عرب ممالک میں پاکستان کی شناخت کرانے کے لیے سفیر مقرر کر کے مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ محمداسد کو وزیراعظم لیاقت علی خان کے ایما پر ۱۹۴۹ء میں ’محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ‘ سے ہٹا کر وزارتِ خارجہ کے مڈل ایسٹ ڈویژن میں تعینات کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ میں تعیناتی کے دوران ہی میں دسمبر ۱۹۵۱ء کے اواخر میں انھیں اقوام متحدہ میں پاکستانی ناظم الامور مقرر کیا گیا۔ چنانچہ، جنوری ۱۹۵۲ء کے اوائل میں محمد اسد نے نیویارک میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ سے محمد اسد کی علیحدگی اور دفتر خارجہ میں ان کی تعیناتی کے پیچھے محض مرکزی حکومت پر مسلط ’برطانوی تربیت یافتہ بیوروکریسی‘ ہی نہیں بلکہ کچھ دیگر طاقت ورعوامل بھی کارفرما تھے۔اس سلسلے میں متعدد علما کا کردار بھی بڑا اہم تھا، جو محمد اسد کے خلاف محض اس لیے سرگرم عمل تھے کہ ان کی نظر میں وہ ’حنفیت کو جڑ سے اُکھاڑنے‘ کے درپے تھے اور اسی تسلسل میں بریلوی علما پر مشتمل ’جمعیت علمائے پاکستان‘ کی طرف سے نواب افتخار حسین ممدوٹ کی وزارت اعلیٰ کے منصب سے علیحدگی کے بعد حکومت پنجاب (نواب ممدوٹ کے بعد ۱۹۵۱ء میں ممتاز دولتانہ کے اس منصب پر فائز ہونے تک پنجاب میں گورنر راج قائم رہا) سے محکمۂ احیائے ملّت اسلامیہ اور اس کے ڈائریکٹر (محمداسد)کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بڑے زوردار انداز سے کیا گیاتھا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک سے مضبوط و مستحکم تعلقات کی استواری کی غرض سے محمداسد کا انتخاب خود کیا تھا۔ (دیکھیے: محمد اکرام چغتائی، محمداسد: بندۂ صحرائی، ص ۱۲۳ تا ۱۲۴)