ڈاکٹر محمد ارشد


یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اسلامیانِ برعظیم نے تحریک پاکستان کی پرجوش تائید و حمایت اس مقصد سے کی تھی کہ وہ ایک آزاد و خودمختار مسلم مملکت ’پاکستان‘ میں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی اپنے دین و عقیدے کے مطابق گزار سکیں گے اور وہاں شریعت کے مطابق قوانین پاس ہوکر نافذ ہوں گے۔{ FR 986 } چنانچہ قیام پاکستان کی صورت میں انھیں عملاً اپنی اس آرزو کی تعبیر و تکمیل کا موقع میسر آگیا تھا۔ اب اس مملکت کی اسلامی تشکیل، یعنی اس کے دستوری و سیاسی، قانونی و عدالتی، تعلیمی و معاشرتی اور اقتصادی نظام کو اسلام کے اصول و تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ یہ کام آسان نہ تھا بلکہ حد درجہ دشوار تھا۔

محمد اسد کی نگاہ میں پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست بنانے کی راہ میں متعدد بڑی رکاوٹیں موجود تھیں، جن کا ازالہ کیے بغیر پاکستان کی اسلامی تشکیل کی طرف پیش رفت کسی طور پر ممکن نہ تھی۔ چنانچہ ان مشکلات کا تدارک بے حد ضروری تھا۔ اسد کی نگاہ میں پاکستان کو اسلامی نمونے پر ڈھالنے میں جو رکاوٹیں موجود تھیں، ان میں سب سے اہم مسلم عوام کی بھاری اکثریت کا اسلام کے حقیقی فہم و شعور سے عاری ہونا تھا۔ کیونکہ ’’صدیوں سے اسلام کی اصلی و حقیقی تعلیمات سے ان کا رشتہ منقطع ہوچکا تھا۔ وہ صدیوں سے اسلام کے نام پر توہمات اور لایعنی رسومات میں مبتلا چلے آرہے تھے۔ اسلام سے ان کا تعلق عقلی و شعوری نہیں بلکہ رسمی اور موروثی و پیدائشی تھا‘‘۔{ FR 987 }

اسد کا تجزیہ تھا کہ جدید مغربی نظام تعلیم جو برطانوی نوآبادیاتی نظام سے ورثے میں ملا تھا اپنی روح کے اعتبار سے اسلامی نظریۂ حیات سے متصادم تھا۔ لارڈ میکالے کا مرتب کردہ نظام تعلیم اسلامی معاشرہ و ریاست کی تشکیل میں ہرگز معاون نہیں ہوسکتا تھا بلکہ اس راہ میں بڑی رکاوٹ تھا۔ چنانچہ اس نظام کے بجائے اسلامی اصول و تصورات سے ہم آہنگ نظام تعلیم کی تشکیل بے حد ضروری تھی۔{ FR 988 } اسد کے نزدیک اسلامی معاشرے اور ریاست کی تشکیل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ملت کا اخلاقی بگاڑ و انحطاط تھا، جو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے دوری ہی کا نتیجہ تھا۔ ان کو ملّت کی روحانی و اخلاقی زبوں حالی اور پستی و ادبار کا گہرا ادراک و شعور حاصل تھا۔ انھوں نے ملت کے اس بگاڑ کا برصغیر میں قیام کے دنوں میں بڑے قریب سے مشاہدہ کیا تھا اور تحریک پاکستان کے دنوں میں ہی سیاسی قیادت کو ملت کی روحانی و اخلاقی اصلاح کی ضرورت کا احساس دلایا تھا۔{ FR 989 }

پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اخلاقی پستی و گراوٹ کے جو مظاہر دیکھنے میں آئے، اسد اس پر بڑے دل گرفتہ تھے۔ انھوں نے عوام و خواص میں لُوٹ مار، متروکہ املاک پر قبضہ اور ان کی بندربانٹ، رشوت ستانی و اقربا پروری، حرص و ہوس اور دھوکا دہی کے واقعات اور بے سروسامان لٹے پٹے مہاجرین کی آبادکاری کے معاملے میں مقامی آبادی کی طرف سے ایثاروقربانی سے کام لینے کے بجائے سنگ دلی اور خود غرضی کے رویّے کا مشاہدہ کیا تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے:

The Muslim Millat, which a short while ago had offered a splendid picture of unity and determination, has overnight been changed into a chaotic, demoralised mass of human beings...... And many of those who had been asserting that their one and only object was selfless service of the Millat, seem now to regard Pakistan as a happy hunting ground for all kind of selfish endeavours, and have no thought for anything but the securing, by hook or by crook, of petty economic advantages, jobs, careers and government contracts for themselves and their relatives. Instead of growing in spiritual stature under the weight of a unique and tragic experience, the Millat appears to have sunk to almost unbelieveable depths of confusion and corruption. { FR 990 }

مسلم اُمت ، جس نے ابھی کچھ دیر پہلے تک اتحاد اور عزمِ استقلال کی بڑی شاندار تصویر (مثال) پیش کی تھی، راتوں رات ایک منتشر اور پست حوصلہ انسانی ہجوم کی شکل اختیار کرلی ہے… اور ایسے بہت سے لوگ جو اپنی جگہ ملّت کی بے غرض و بے لوث خدمت کے مدعی تھے، انھیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ پاکستان کو اپنی جملہ نفسانی و معاشی اغراض کی تکمیل کے لیے ایک آسان چراگاہ تصور کرنے لگے ہیں۔ اب ان کا مطمح نظر ہر طور پر اپنے اور اپنے اعزہ و اقربا کے لیے جائز و ناجائز طریقوں اور مکروفریب سے پست و گھٹیا معاشی مفادات، ملازمتوں اور تعمیروترقی کے سرکاری ٹھیکوں کے حصول کے سوا اور کچھ نہیں رہ گیا۔ ملت جن اندوہناک حالات سے دوچار ہوئی ہے، ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اخلاقی و روحانی اعتبار سے ترقی کرجاتی مگر اس کے بجائے یوں لگتا ہے کہ یہ ملّت ناقابلِ تصور حد تک اخلاق و کردار کی اتھاہ گہرائیوں میں جاپڑی ہے۔

اسد کی نگاہ میں خود اہل مذہب کا مذہبی طرز فکر بھی پاکستان کی اسلامی تشکیل کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔ روایتی مذہبی ذہن نہ صرف یہ کہ دورِحاضر کے سیاسی و سماجی، قانونی و اقتصادی اور تہذیبی و معاشرتی مسائل کے ادراک اور پھر ازروئے شریعت ان کا قابلِ عمل حل تجویز کرنے سے معذور ہے بلکہ وہ اس نوع کی کسی بھی مثبت اجتہادی کاوش کی راہ میں مزاحم ہے۔ وہ رجعت پسند ہے اور ذہنی جمودو تعطل کا شکار ہے اور صدیوں پرانی فقہ کو من و عن جاری و نافذ کرنا چاہتا ہے۔

اسد کے نزدیک شریعت کے نام پر قدیم روایتی فقہ کے نفاذ کا مطلب پاکستان کو زوال و انحطاط کی راہ پر بدستور گامزن رکھنا ہے۔{ FR 991 } گویا ان کی نظر میں جس طرح سے فرنگیت و مغربیت (مغرب زدگی) پاکستان کی اسلامی تشکیل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، بالکل اسی طرح قدامت پسندی بھی مانع ہے۔ پھر ایک اور رکاوٹ جو اس راہ میں درپیش تھی وہ اسلامی قانون کا مرتب و مدون حالت میں نہ ہونا ہے۔ اسد کے الفاظ میں: ’’دور جدید میں احیائے ملت کے راستے میں اسلامی نقطۂ نظر سے جو بڑی مشکل پیش آتی ہے اور جس کی وجہ سے ہم کوئی صاف، واضح اور عملی اسکیم تیار نہیں کرسکتے یہ ہے کہ ہمارے پاس قوانین شریعت کا کوئی ایسا جامع ضابطہ (Code) موجود نہیں ہے جس کا اطلاق تمام اجتماعی امور میں متفقہ طور پر ہوتا ہو، یعنی جس کے بارے میں سب مذاہب نہیں تو کم از کم اکثریت کا اتفاق موجود ہو‘‘۔{ FR 992 }

اسلامی تشکیل کے لیے  محمد اسد کا تجویز کردہ لائحہ عمل

محمد اسد پاکستان کے قیام کو جدید مسلم دُنیا میں ایک حقیقی اسلامی ریاست کی تشکیل کی طرف صرف پہلا قدم قرار دیتے تھے کہ اس سے اسلامیانِ برعظیم پاک و ہند کو اپنے دین و عقیدہ کے مطابق اپنی اجتماعی زندگی کی تعمیر و تنظیم کا موقع میسر آگیا تھا۔ تاہم، ان کی نظر میں پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی ریاست میں بدلنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔ ان کی سوچی سمجھی رائے یہ تھی کہ اسلامی ریاست خود بخود اور دفعتاً وجود میں نہیں آجاتی بلکہ وہ تو مسلم معاشرہ کے افراد کے اخلاق و کردار اور ان کے نظریاتی اور سماجی و سیاسی مطمح نظر کی عکاس اور آئینہ دار ہوتی ہے۔

چنانچہ اسد کے نزدیک پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست بنانے کے لیے اس ملک کے باشندوں میں صحیح اسلامی اسپرٹ پیدا کرنا، انھیں دین کی اصلی اقدار و تعلیمات سے روشناس کرانا اور ان کے اخلاق کی اصلاح اور ان کے معاشرتی رویوں کو اسلام سے ہم آہنگ کرنا ضروری تھا۔ ان کی رائے میں جب تک مسلم معاشرے کے افراد کی زندگی اسلام کے اصول و اقدار اور احکامات و تعلیمات سے ٹھیک طور پر ہم آہنگ نہ ہوجائے، وہ دین کے مقاصد کے صحیح شعور و فہم سے بہرہ ور ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے مطالبات اور تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے پوری طرح سے آمادہ نہ ہوجائیں اسلامی ریاست کا قائم ہونا ایک مشکل کام ہے۔{ FR 993 } محمد اسد نے ستمبر ۱۹۴۷ء کو ریڈیو پاکستان سے ایک نشری تقریر میں کہا:

The Muslims were determined, after all the centuries of their decay, to have an Islamic State; and the establishment of a Muslim homeland was the first step in this direction. It was the first step only, for a truly Islamic State can not be produced by a conjurer's trick. A country that was for centuries ruled by an alien government in accordance with principles entirely alien to the spirit of Islam can not overnight, as if by magic, be changed into a state similar to that of al-Khulafa' al-Rashidun. We must not forget that it is the spirit of the people which is ultimately, and always, responsible for the spirit of the state; and as long as we, the people, are unable to rise to the demands of Islam, no leader in the world can ever succeed in making Pakistan an Islamic State in the full sense of this word.{ FR 994 }

مسلمانوں نے صدیوں تک انحطاط و زوال سے دوچار رہنے کے بعد اس امر کا عزم کیا تھا کہ وہ اسلامی ریاست قائم  کریں گے، اور ایک مسلم مملکت (وطن) کا حصول تو محض اس راہ کی پہلی منزل ہوگی۔ یہ محض پہلا قدم ہے کیونکہ ایک حقیقی اسلامی ریاست کسی شعبدہ باز کے کرتب کی طرح آناً فاناً ریاستی وجود میں نہیں آجاتی۔ ایک ایسے ملک کو جس پر صدیوں تک اغیار نے ایسے اصول و قوانین کے مطابق حکمرانی کی، جو سراسر اسلامی روح کے منافی تھے، اسے راتوں رات کسی شعبدہ بازی سے خلفائے راشدین کی مملکت جیسی ریاست میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں اس امر کو ہرگز طور پر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اصل چیز عوام کی ایمانی اور اخلاقی و روحانی طاقت ہے جو انجام کار اور ہمیشہ ریاست کی روح اور مزاج کا تعین کرتی ہے، جب تک ہم، یعنی ہمارے عوام، اسلام کے تقاضوں پر پورا نہیں اُتریں گے، دُنیا کا کوئی رہنما پاکستان کو، حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست نہیں بنا سکتا۔

محمد اسد پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست بنانے کے لیے اسلامی دستور کی تدوین کے علاوہ ملت کے دینی و اخلاقی احیاء، نوجوان نسل کی صالح بنیادوں پر تعلیم و تربیت، اصلاح معاشرت و معیشت اور اسلامی قانون کی تدوین جدید کو بے حد ضروری خیال کرتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی اسلامی تشکیل کا لائحہ عمل تجویز کیا، جس کو اپنا کر ان کے خیال میں پاکستانی معاشرہ اور ریاست کو اسلام کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے:

۱- اخلاقِ ملّی کا احیاء اور اصلاحِ معاشرت: محمد اسد کے نزدیک ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کی غرض سے افراد معاشرہ کے اخلاق و کردار اور طرز زندگی کو اسلام کی تعلیمات سے ہم آہنگ بنانا ازحد ضروری ہے۔{ FR 995 } اسد پاکستان کے تحفظ و استحکام کی غرض سے بھی اسلامی اخلاق ملّی کے احیاء کو بے حد ضروری خیال کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ چیز شہری اخلاقیات (civic morality) کے لیے بھی تقویت کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ ایک اچھا مسلمان ہی اچھا پاکستانی بن سکتا ہے۔{ FR 996 }  اسد نے قیام پاکستان کے بعد مجلہ عرفات  اَز سر نو جاری کیا، تو اس کے پہلے ہی شمارے میں ملت کی اخلاقی حالت کی اصلاح کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی اور معاشرے کے صالح اور مخلص افراد کو اس مقصد سے اپنا کردار ادا کرنے کی تحریک ان الفاظ میں کی:

 The most perturbing aspect of our communel life is the utter deterioration of our morale from the Islamic and civic point of view. If Pakistan is to attain to its cherished goal and to become the cradle of a resourgent Islamic civilization, the active co-operation of all well-meaning Muslims must be secured in the Aervice of civic morale. Otherwise, even the best intentions of the Government cannot possibly bring about that change of outlook which is indispensable for our becoming an Islamic Millat in the true sense of the word.{ FR 1025 }

ہماری ملّی زندگی کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو وہ زبردست زوال اور پستی ہے جو اسلامی اور شہریتی (civic)دونوں اعتبار سے ہمارے اندر پیدا ہوچکی ہے۔ لہٰذا، اگر پاکستان کو اپنا محبوب نصب العین حاصل کرنا ہے اور ایک بار پھر سے حیات آفرین اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارا بننا ہے تو اخلاق ملّی کی تعمیر اور تربیت کے لیے ہر اچھے، نیک اور مخلص مسلمان کی خدمات سے استفادہ کرنا ضروری ہے، ورنہ مسلمانوں کے اندر وہ مطمح نظر پیدا نہ ہوسکے گا کہ جس کے بغیر ناممکن ہے کہ ہم فی الواقعی ایک اسلامی ملت کے خطاب کے مستحق قرار پاسکیں۔

اسد کے نزدیک اخلاقی و معاشرتی اصلاح اور اسلامی تعلیمات اور اصول و اقدار کو دل و جان سے عزیز رکھنے والے افراد کی تیاری کے بغیر محض شرعی قوانین خصوصاً حدود و تعزیرات کے نفاذ سے اسلامی ریاست کے قیام کا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اسد کے الفاظ میں:

An Islamic State should be the result of Islamic consciousness, not beginning. If anyone think that an Islamic State will automatically make everyone in it a good Muslim, he is greatly mistaken. But if a people become good Muslims, then an Islamic State will fall to them like a riple plum from a tree.{ FR 998 }

قیامِ اسلامی ریاست کو شعوری ایمان (اذعان) کا ثمر و حاصل تصور کرنا چاہیے نہ کہ اس کا نقطۂ آغاز۔ اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ اسلامی ریاست اپنے اندر بسنے والے ہرہرفرد و بشر کو خود بخود ایک اچھا مسلمان بنا دے گی، تو وہ بہت بڑے مغالطے میں ہے۔ البتہ اگر عوام اچھے، نیک اور صالح مسلمان بن جائیں گے تب ایک اسلامی ریاست پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آگرے گی۔

اسد کے نزدیک افراد معاشرہ میں سچے اسلامی احساس و شعور کی بیداری اور ان کے اخلاق و کردار اور طرزِ فکروعمل کو اسلامی رنگ میں رنگنے کا کام اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور دعوتی کاوشوں کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات و جرائد کے کردار کو بڑا مفید و معاون خیال کرتے ہیں۔ وہ مساجد کو خاص طور سے اسلامی تعلیمات کی اشاعت و تبلیغ اور عوام کی اخلاقی و روحانی تربیت کے مراکز بنانا چاہتے ہیں۔ وہ سرکاری ذرائع ابلاغ خصوصاً ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی اسلامی تعلیمات کی اشاعت کا کام لینا چاہتے ہیں۔ اسد بجاطور پر سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات سے ملت کو اخلاقی پستی کے عمیق گڑھے سے باہر نکالا جاسکتا ہے اور اس کے افرادکے دل و دماغ میں حق وراستی اور پاکیزگی کے بیج بوئے جاسکتے ہیں۔{ FR 999 }

اسد اصلاح اخلاق و معاشرت کے سلسلے میں بعض اخلاقی و اجتماعی مفاسد مثلاً شراب نوشی، قمار بازی اور قحبہ گری وغیرہ کا ریاستی قوت و طاقت سے انسداد چاہتے ہیں۔ وہ شراب نوشی کو قطعاً ممنوع اور عصمت فروشی کی ہر شکل کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب تک ان اجتماعی مفاسد کا قلع قمع نہیں ہوجاتا ہمارا معاشرہ کسی طور سے بھی اسلامی و اخلاقی نہیں قرار پاسکتا۔{ FR 1000 }

۲-نظام تعلیم کی اصلاح و تشکیل نَو: اگرچہ اسد مسلمان ملت کو بحیثیت مجموعی اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح سے روشناس کرانا ضروری سمجھتے ہیں، تاہم وہ نوجوان نسل کی اسلامی تعلیم و تربیت کو بہت زیادہ اہم خیال کرتے ہیں۔ اس غرض سے وہ نظام تعلیم کی تشکیل نو، اور نصابات کو اسلامی نظریۂ حیات سے ہم آہنگ کرنے اور ان میں اسلامی روح سمونے جیسے بنیادی اقدامات تجویز کرتے ہیں۔ انھوں نے اسکولوں اور کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم نوجوان نسل کی اسلامی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں جو اقدامات تجویز کیے وہ اس طرح سے ہیں:

الف: تمام اسکولوں اور کالجوں میں عربی زبان کی تدریس اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے۔ اسد نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ’’اگر پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بننا ہے تو مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر عربی زبان کی تعلیم و تدریس اور اشاعت مطلقاً ناگزیر ہے‘‘۔{ FR 1001 } 

اسی لیے اسد نے مجلہ عرفات کے شمارہ مئی ۱۹۴۷ء میں عربی زبان کی تدریس سے متعلق تجویز پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر ہماری موجودہ سیاسی جدوجہد کا مطمح نظر اور نصب العین ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے، تب یہ امر انتہائی ضروری و اہم ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد اسلامی تعلیمات سے واقفیت پیدا کریں۔ وہ قرآن اور احادیث رسول کے متن کو سمجھنے کی قابلیت و استعداد پیدا کریں۔ اس غرض سے ہر تعلیم یافتہ مسلمان کو عربی زبان میں قابلیت حاصل ہونی چاہیے۔ جب تک یہ تقاضا پورا نہیں کیا جاتا ہم اسلامی طرز معاشرت کے قیام میں کامیاب نہ ہوسکیں گے، نہ ملت کے تعلیم یافتہ افراد ان نظریاتی وفکری مسائل پر سوچ بچار اور بحث و گفتگو کے قابل ہوسکیں گے، کہ جن کا گہرا تعلق معاشرت اور معیشت و سیاست سے ہے۔ چنانچہ انھیں چاروناچار اسلام کے خود ساختہ شارحین کی تعبیرات و تشریحات پر انحصار کرنا پڑے گا، یا پھر انھیں اسلام کے بجائے کوئی اور راستہ، سیکولرازم وغیرہ، اختیار کرنا پڑے گا۔{ FR 1002 }

 عربی زبان کی تدریس محمد اسد کے نزدیک اس قدر اہم ہے کہ وہ اس کام کو قیام پاکستان تک مؤخر کرنے اور التوا میں ڈالنے کو مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ انھوں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ متحدہ ہندستان کے جن صوبوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں، وہاں کی قانون ساز مجالس ایک قانونی بل کو منظور کرکے ان صوبوں کے ہائی اسکولوں، کالجوں اور ایسے تعلیمی اداروں میں جو حکومت سے مالی امداد (گرانٹس) وصول کررہے تھے، عربی زبان کو ایک لازمی مضمون بنادیں۔ انھوں نے آغاز میں عربی زبان کی تعلیم و تدریس کے لیے ماہر اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے عرب ممالک سے اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے اور ملک میں عربی زبان کی تعلیم و تدریس کے لیے اساتذہ کی تعلیم و تربیت کی غرض سے تربیتی اداروں کے قیام کی بھی تجویز پیش کی۔ ان کے خیال میں اس اقدام کی بدولت چند برسوں کے اندر اندر کثیر تعداد میں عربی زبان میں اعلیٰ استعداد اور مہارت کے حامل اساتذہ تیار کیے جاسکتے ہیں۔{ FR 1003 }

ب:اسد پاکستان کے اسکولوں اور کالجوں میں اعلیٰ پیمانے پر اسلامیات کی تدریس چاہتے ہیں۔ ان کی رائے میں مسلمان طالب علموں کے لیے اسلامیات کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔ اسلامیات کی تعلیم میں قرآن و حدیث کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ اعلیٰ جماعتوں میں اصول تفسیر و کتب تفسیر کا مطالعہ بھی ضروری ہوگا۔اسلامیات کی تدریس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ قرآن حکیم اور سنت رسولؐ کا فہم حاصل کرسکیں اور پھر نصاب کے آخری مرحلے تک پہنچتے پہنچتے اس امر کو بھی جان لیں کہ مختلف فقہی مذاہب کا قرآن و سنت سے احکام کے اخذواستنباط کا اسلوب اور طریق کارکیا ہے؟ وہ اسلامیات کے نصاب میں اسلام کے ابتدائی عہد کی تاریخ کے مفصّل و تنقیدی مطالعہ کو شامل کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ مزید برآں وہ عام فلسفہ کے علاوہ اسلامی فلسفہ و کلام کے مطالعے کو بھی نصاب کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ { FR 1004 }

وہ اسلامیات کے نصاب کے آخری مرحلوں اور درجوں میں بحیثیت مجموعی اسلام کی اسکیم کا، معاشیات اور عمرانی علوم کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے عصری مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے، تجزیاتی مطالعہ بھی تجویز کرتے ہیں۔ اسد کی اس تعلیمی اسکیم کے مطابق اسلامیات کے نصاب کی آخری منزلوں میں اس امر کا التزام رکھا جائے گا کہ اسلام نے جو نظام حیات پیش کیا ہے، اس پر موجودہ زمانے کے ان مسائل کا لحاظ رکھتے ہوئے، جن کا تعلق معاشیات اور علوم اجتماعیہ سے ہے، ان پر گہری اور وسعت سے نظر ڈالی جائے۔{ FR 1005 } گویا کہ اسد کے نزدیک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے یہ امر بے حد ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلیمی مقاصد کا از سر نو تعین کرتے ہوئے عربی اور اسلامیات کی تعلیم و تدریس کو تعلیمی نصابات کا ایک انتہائی مؤثر جزوبنادیں۔

ج: جدید اسلامی دارالعلوم:علوم اسلامیہ کی تعلیم و تدریس کے سلسلے میں محمد اسد ایک جدید اسلامی دارالعلوم کا قیام بھی تجویز کرتے ہیں۔ اس تجویز کا باعث موجودہ روایتی دینی نظام تعلیم (دینی مدارس و جامعات کا تعلیمی نظام و طریق کار) سے ان کی بے اطمینانی معلوم ہوتی ہے۔ ان کی سوچی سمجھی رائے یہی ہے کہ دینی تعلیم کا روایتی نظام، عہد حاضر کی ضروریات اور تقاضوں سے میل نہیں کھاتا۔ دورِحاضر میں ملت کو اپنی عملی و اجتماعی زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالنے اور نت نئے فکری ونظریاتی مسائل، جن میں سے بہت سے جدید عمرانی علوم کی پیداوارہیں، ان کے حل میں جو رہنمائی درکار ہے وہ دینی تعلیم کا موجودہ نظام بہم پہنچانے سے قاصر ہے۔ اسد اسی نقطۂ نگاہ کے سبب سے دارالاسلام، پٹھان کوٹ کے اسلامی تعلیم کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تعاون و اشتراک عمل پر آمادہ ہوئے تھے اور اس غرض سے انھوں نے علامہ محمداقبال اورسیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ مل کر عملی کوششیں بھی کی تھیں۔{ FR 1006 }

محمد اسد پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ایک اعلیٰ پائے کے جدید اسلامی دارالعلوم کے قیام کو ایک ناگزیر ضرورت سمجھتے تھے۔ اس کا تخیّل انھوں نے ان الفاظ میں پیش کیا:

If Pakistan is to become a cuttural centre of the modern word of Islam - as she deserves to become by virtue of her great resources and her political position - we must posses in this country a central Dar-al-Ulum which would train outstanding Ulama for all purposes of the community... This academy should not only try to follow the example of the famous Al-Azher University of Egypt but also, if possible, introduce fresh elements to bring it into greater accord with the present requirements of life. To this end, the students shall receive thorough trainging in Qur'an, hadith, fiqh (of various schools of thought) and in the allied subjects, including old and modern Arabic literature; in addition to this, they should acquire that measure of general knowledge and awareness of contemporary developments, social and economic, which enable them to act - like the Ulama of the early period of Islam - as the real leaders of the community.{ FR 1026 }

اگر پاکستان کو جدید دنیائے اسلام کا ثقافتی مرکز بننا ہے، جیسا کہ اپنے زبردست وسائل اور سیاسی حیثیت کے اعتبار سے اس کا حق ہے، تو ہمیں اس ملک میں ایک مرکزی دارالعلوم قائم کرنا پڑے گا۔ جہاں ہماری علمی ضروریات کے لیے بڑے بڑے مقتدر علما پیدا ہوں۔ اس ادارے کو مصر کی مشہور و معروف درس گاہ جامعہ الازہر کے نقش قدم ہی پر نہیں چلایا جائے گا بلکہ ممکن ہوا تو اس کے نصابات میں عہد جدید کے وہ عناصر تعلیم بھی داخل کردیے جائیں گے جو اس زمانہ کے مقتضیات کو پورا کرسکیں۔ لہٰذا، اس دارالعلوم کے طلبہ کو قرآن، حدیث، فقہ اور علوم متعلقہ، جس میں قدیم و جدید عربی کا مطالعہ بھی شامل ہے، کے علاوہ موجودہ زمانے کے معاشی اور اجتماعی علوم میں ہونے والی پیش رفت سے بھی اس حد تک باخبر رکھا جائے گا کہ وہ علمائے متقدمین کی طرح ملت کے حقیقی معنوں میں رہنما و پیشوا بن سکیں۔

اسد مجوزہ اسلامی دارالعلوم کا سربراہ جامعہ الازہر سے فارغ التحصیل کسی ایسے مصری عالم کو مقرر کرنا چاہتے تھے، جو وسیع النظر ہونے کے ساتھ ساتھ عصر جدید میں ملت اسلامیہ کو درپیش سیاسی و قانونی، معاشی اور تہذیبی و معاشرتی مسائل سے واقفیت ہی نہیں بلکہ ان کا گہرا ادراک و شعور رکھتا ہو۔ اسد کے خیال میں اس طرح کی اہلیت رکھنے والے کسی فرد کا ہمارے روایتی علما کے طبقے سے میسر آنا محال تھا۔ { FR 1008 }

محمد اسد نے جدید اسلامی دارالعلوم کے قیام سے متعلق اپنے تخیّل کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے جنوری ۱۹۴۸ء کو پاکستان کی حکومت پنجاب کو علما اور علوم شرقیہ کے ماہرین پر مشتمل ایک منصوبہ ساز کمیٹی (پلاننگ کمیٹی)، جس کا مقصد دارالعلوم سے متعلق تفصیلی تجاویز مرتب کرنا اور عملی اقدامات تجویز کرنا ہو، اس کے قیام کی تجویز پیش کی، جسے حکومت نے منظور کرلیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نواب افتخار حسین ممدوٹ [یکم جوری ۱۹۰۶ء-۱۸؍اکتوبر ۱۹۶۹ء] نے محمد اسد کو اس مجلس کا کنوینر مقرر کیا۔  اسد کو اس طرح کے کسی تعلیمی منصوبے کے بارے میں، خصوصاً جو حکومتی سطح پر قائم کیا جارہا تھا، روایتی مذہبی طبقے کی طرف سے مخالفت و مزاحمت کا بھی خدشہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے روایتی مذہبی طبقے کی طرف سے کسی مخالفت و مزاحمت سے بچنے کے لیے منصوبہ ساز کمیٹی کی سربراہی علامہ شبیر احمد عثمانی [۲۸ستمبر ۱۸۸۷ء-۱۳دسمبر ۱۹۴۹ء]کو پیش کی، جسے انھوں نے قبول کرلیا۔ پھر دُوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسدنے بطور احتیاط مختلف مذہبی مکاتب فکر کے علما کو بھی اس مجلس میں شامل کیا،جب کہ جدید الخیال علما کو اس مجلس میں غالب حیثیت دینے سے گریز کیا۔{ FR 1009 }

جدید اسلامی دارالعلوم سے متعلق روایتی طبقۂ علما کی طرف سے مخالفت کے بارے میں اسد کے خدشات بالکل درست ثابت ہوئے۔اسد نے اسلامی دستور کا خاکہ پیش کرتے ہوئے قدیم فقہ کو ملکی قانون بنانے کے بجائے قرآن و سنت کے نصوص پر نئے سرے سے غور و فکر کرکے اجتہاد کو بروئے کار لاکر اسلامی قانون کی تدوین جدید کی ضرورت پر زور دیا تو بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے ان کے اس نقطۂ نظر کی سخت مخالفت کی گئی۔ ان کے دستوری خاکے کو ’غیر اسلامی‘ قرار دیا گیا اور ان پر ’حنفیّت کو جڑ سے اکھاڑنے اور الحادو زندقہ پھیلانے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت سے ان کے مجلہ عرفات کی اشاعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں جمعیت علمائے پاکستان (بریلوی مکتب فکر کے علما و مشائخ کی جماعت) بطور خاص قابل ذکر ہے۔ اس جماعت کے سربراہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری [۱۸۹۶ء-۲۰جنوری ۱۹۶۱ء] کی قیادت میں علما و مشائخ کے ایک وفد نے جنوری ۱۹۴۹ء میں افتخار حسین ممدوٹ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کی اور محمد اسد کے دستوری خاکے کو خلاف اسلام قرار دے کر اور مجلہ عرفات   کی اشاعت پر پابندی کا مطالبہ کیا۔{ FR 1023 }

محمد اسد کی اس تعلیمی اسکیم سے یہ امر بھی نکھر کر سامنے آتا ہے کہ وہ جامعہ الازہر کے تعلیمی ماڈل کو بھی عصر جدید کی ضروریات کے لیے ناکافی خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ جامعہ الازہر کے تعلیمی ماڈل میں نئے تعلیمی اجزا کی آمیزش سے ایک نیا تعلیمی ماڈل ترتیب دینا چاہتے ہیں۔ وہ جدید دور میں ملت کی ذہنی و فکری رہنمائی کے لیے مطلوبہ اہلیت و استعداد کے حامل علما کی تیاری کے لیے ایک ایسی تعلیمی و تربیتی درس گاہ کا قیام چاہتے ہیں، جس کے نصابات میں قرآن و حدیث، فقہ اور عربی زبان و ادب کے ساتھ ساتھ جدید عمرانی علوم کی تعلیم و تدریس بھی شامل ہو۔

محمد اسد نے اسکولوں، کالجوں میں تدریس اسلامیات اور اسلامی دارالعلوم کے قیام اور اس کے نصابات سے متعلق جو تجاویز پیش کیں، وہ علامہ محمد اقبال کی ان تجاویز سے گہری مماثلت رکھتی ہیں، جو انھوں نے ۱۹۲۵ء میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں اسلامیات کی تدریس اور نصاب کی تدوین کے بارے میں پیش کی تھیں۔ علامہ محمد اقبال نے آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ کے سیکرٹری صاحبزادہ آفتاب احمد خاں [۱۸۶۷-۱۹۳۰ء] کے نام ایک خط میں دورحاضر کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اعلیٰ پائے کے علما کی تیاری کی غرض سے علوم اسلامیہ کی تدریس و تعلیم کے لیے قدیم روایتی مدارس کے منہج پر کسی ادارے کے قیام کو نامناسب قرار دیا۔ انھوں نے ایک ایسے نئے طرز کے ادارے کے قیام کی تجویز پیش کی تھی، جس کے نصابات میں جدید سائنس اور فلسفہ کے علاوہ اقتصادیات اور عمرانیات کو بھی جگہ دی جائے۔ انھوں نے دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے تعلیمی نظام کے بہترین اجزا کے ساتھ جدید تعلیمی اجزا شامل کرکے اسلامیات کی تعلیم و تدریس کا ایک نیا نظام مرتب کرنے کا مشورہ دیا تھا۔{ FR 1010 }

 علامہ محمد اقبال کے خیال میں دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء کے ایسے فضلا کو، جو فقہی و کلامی ذوق رکھتے ہوں، جدید فلسفہ و سائنس، اسلامی فرقوں کے نظام اعتقادات، مسلمانوں کے فلسفۂ اخلاق و مابعد الطبیعات، علم الکلام اور تفسیر، اصول فقہ، جدید اصول قانون (جورس پروڈنس) اور جدید معاشیات و عمرانیات سے متعلق مناسب تعلیم و تربیت دے کر ایسے عالم بنایا جاسکتا ہے، جو واقعی جدید دور میں ملت کی مناسب رہنمائی کرسکتے ہوں۔ { FR 1011 }

علامہ محمد اقبال نے اپنے مشہور مقالے ’ملتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر‘ میں ایک جدید اسلامی یونی ورسٹی اور دارالعلوم کے قیام کو ملت اسلامیہ کے اسلامی و تہذیبی بقا کے لیے ایک ناگزیر ضرورت قراردیا۔ علامہ کے الفاظ میں:

اسلامی یونی ورسٹی کے خیال کا ہمارے دل میں پیدا ہونا حقیقت میں ہماری قومی ہستی کے حق میں ایک مبارک علامت ہے۔ جب ہم اپنی قوم کی نوعیت پر نظر ڈالتے ہیں تو اس قسم کے دارالعلم کی ضرورت میں شک اور شبہہ کی مطلق گنجایش نہیں رہتی بشرطیکہ یہ دارالعلم ٹھیٹھ اسلامی اصول پر چلایا جائے۔ مسلمانوں کو بے شک علوم جدید کی تیزپا رفتار کے قدم بہ قدم چلنا چاہیے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی تہذیب کا رنگ اسلامی ہو اور یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا، جب تک کہ ایک ایسی یونی ورسٹی موجود نہ ہو، جسے ہم اپنی قومی تعلیم کا مرکز قرار دے سکیں۔ ہم کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ہمارے نوجوانوں کی تعلیمی اٹھان اسلامی نہیں ہے تو ہم اپنی قومیت کے پودے کو اسلام کے آبِ حیات سے نہیں سینچ رہے۔

ہندستان میں اسلامی یونی ورسٹی کا قائم ہونا ایک اور لحاظ سے بھی بہت ضروری ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ہماری قوم کے عوام کی اخلاقی تربیت کا کام ایسے علما اور واعظ انجام دے رہے ہیں، جو اس خدمت کی انجام دہی کے پوری طرح سے اہل نہیں ہیں۔ اس لیے کہ ان کا مبلغ علم اسلامی تاریخ اور اسلامی علوم کے متعلق نہایت ہی محدود ہے۔ اخلاق اور مذہب کے اصول و فروع کی تلقین کے لیے موجودہ زمانہ کے واعظ کو تاریخ، اقتصادیات اور عمرانیات کے حقائق عظیمہ سے آشنا ہونے کے علاوہ اپنی قوم کے لٹریچر اورتخیّل میں پوری دسترس رکھنی چاہیے۔

الندوۃ، علی گڑھ کالج، مدرسہ دیوبند اور اس قسم کے دوسرے مدارس جو الگ الگ کام کررہے ہیں اس بڑی ضرورت کو رفع نہیں کرسکتے۔ ان تمام بکھری ہوئی تعلیمی قوتوں کا شیرازہ بند ایک وسیع تر اغراض کا مرکزی دارالعلم ہونا چاہیے۔ پس یہ امرقطعی طور پر ضروری ہے کہ ایک نیا مثالی دارالعلم قائم کیا جائے جس کی مسندنشین اسلامی تہذیب ہو، اور جس میں قدیم و جدید کی آمیزش عجب دلکش انداز سے ہوئی ہو۔{ FR 1024 }

محمد اسد کی اس تعلیمی اسکیم کو ایک جدید اسلامی یونی ورسٹی کا ’بنیادی اور عملی خاکہ‘ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔{ FR 1012 } اسکولوں اور کالجوں میں اعلیٰ پیمانے پر اسلامیات اور عربی زبان کی تدریس سے متعلق اسد کی تجاویز ایسی جان دار ہیں کہ اگر ان کو ٹھیک طور سے برسرعمل لایا جائے تو نہ صرف یہ کہ جدید تعلیم یافتہ نسل کو مغربی تعلیم کے فاسد اثرات سے کافی حد تک بچایا جاسکتا ہے، بلکہ ان کو گہرے طور سے اسلام کے اصول و تعلیمات اور اس کی تہذیب و تاریخ سے واقف کرایا جاسکتا ہے۔ مجوزہ دارالعلوم کا قیام پاکستان کے قانونی اور سیاسی و معاشی نظام کی اسلامی تشکیل کے لیے مطلوبہ علمی و فکری استعداد کے حامل افراد کی تیاری میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

 محمد اسد کی جدید اسلامی دارالعلوم کے قیام سے متعلق تجاویز اسلامی مدارس کے نظام تعلیم کی اصلاح کے سلسلے میں اپنے اندر رہنمائی کا سامان رکھتی ہیں۔ گذشتہ برسوں میں پاکستان میں اسلامی مدارس کی اصلاح کے لیے متعدد اصحاب فکرونظر نے محمد اسد کی تجاویز سے ملتی جلتی تجاویز پیش کی ہیں۔ سنجیدہ علمی و فکری حلقوں میں اس امر کا گہرا احساس و شعور پایا جاتا ہے کہ سائنسی و عمرانی علوم کی تعلیم و تدریس کو روایتی اسلامی مدارس کے نصابات کا حصہ بنانا چاہیے، تاکہ ان مدارس کے فضلا روایتی دینی علوم میں درک رکھنے کے علاوہ جدید امور و مسائل سے بھی واقفیت پیدا کرسکیں۔{ FR 1013 }

۳- اسلامی قانون کی تدوین جدید: محمد اسد کے نقطۂ نگاہ سے کسی بھی معاشرے میں اسلام اس وقت تک غالب نہیں ہوسکتا، جب تک اس (اسلام) کے قانون، یعنی شریعت کو اس معاشرے کے قانونی نظام کی اساس نہ بنا دیا جائے۔{ FR 1014 } اسی وجہ سے وہ پاکستان میں اسلامی شریعت کے نفاذ کو لازمی اور اسلامی قانون کی تدوین جدید کو ازحد ضروری قرار دیتے ہیں۔ ان کے تجزیے کے مطابق اسلامی قانون کی ترویج و تنفیذ کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اسلامی قانون مرتب و مدون حالت میں موجود نہیں۔

اسد کے نزدیک قدیم عہد کے مرتب اور مدون کردہ فقہی مجموعے عصر جدید کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں۔ جس زمانے میں یہ کتابیں مرتب کی گئیں، اس وقت ایسے بہت سے مسائل پیدا نہیں ہوئے تھے، جو عصرحاضر میں سامنے آئے ہیں، اس لیے ان مسائل کا صریح جواب ان کتابوں میں نہیں ملتا۔ مزیدبرآں اجتماعی مسائل میں فقہا کے مابین جو اختلافات کا تنوّع پایا جاتا ہے، وہ جدید ذہن کے لیے پریشان فکری کا موجب ہے۔ پھر ان فقہی مجموعوں کی ترتیب و تدوین کا اسلوب بھی ایسا ہے کہ کسی بھی فقہی و قانونی معاملے کی جزئیات و تفصیلات اور اس کے متعلقات تک رسائی صرف ایک ایسے فرد ہی کے لیے ممکن ہوسکتی ہے، جو اسلامی فقہ و شریعت میں گہرا درک رکھتا ہو۔ انھی وجوہ کی بناپر پر محمد اسد فقہی و قانونی سرمایہ کو جدید تعلیم یافتہ افراد کے فہم سے قریب تر لانے کے لیے اسلامی قانون کی تدوین جدید کو ناگزیر ضرورت خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف یہی ایک راستہ ہے، جس کو اختیار کرکے مغرب کے قانونی نظام کی تقلید سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔{ FR 1015 } محمد اسد نے اسلامی قانون کی تدوین جدید کا طریق بھی تجویز کیا۔{ FR 1016 }

محمد اسد کے نزدیک اسلامی قانون کی تدوین جدید کا کام جس قدر اہم اور ضروری ہے، اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ جس کے لیے طویل محنت و ریاضت اور اجتہادی بصیرت درکار ہے۔ پھر اس کام کے لیے مطلوبہ اجتہادی استعداد و قابلیت رکھنے والے علما، جو ایک طرف احکام شریعت سے گہری واقفیت رکھتے ہوں اور دوسری طرف زمانہ کے حالات و مسائل سے بھی بخوبی آگاہ ہوں، کی تعداد بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انھی اہداف کے لیے وہ ایک اعلیٰ پائے کے اسلامی دارالعلوم کے قیام کو ایک انتہائی اہم ملی ضرورت قرار دیتے ہیں کہ جہاں مطلوبہ استعداد و اہلیت رکھنے والے علما تیار کیے جاسکیں، جو اجتہاد اور اسلامی قانون کی تدوین جدید کا وظیفہ انجام دے سکیں۔{ FR 1017 }

محمد اسد بیک جُنبشِ قلم شریعت کے نفاذ کو قابلِ عمل خیال نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی رائے میں یہ کام بتدریج ہونا چاہیے۔ ان کے خیال میں اسلامی قانون کی مکمل طور پر تدوین اور پھر اس کی ٹھیک طور پرتنفیذ کے لیے دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔{ FR 1018 }  اسد نفاذ شریعت کے عمل کا آغاز حدود و تعزیرات کے قانون کے نفاذ و اجراء سے کرنے کے حامی نہیں ہیں۔ وہ حدود و تعزیرات کے اجراء و نفاذ سے قبل مسلم عوام کی اسلامی و اخلاقی تربیت کے لیے وسیع و مؤثر کوششوں کے علاوہ عدل اجتماعی کے قیام کو ضروری قرار دیتے ہیں۔{ FR 1019 }

۴- اصلاحِ نظامِ معیشت: محمد اسد کے نزدیک شریعت کا منشا معاشی استحصال سے پاک ایک عادلانہ معاشرے کا قیام ہے۔ شریعت نے جو سماجی اور اقتصادی احکام دیے ہیں، ان کی غایت معاشرے کے تمام افراد کے لیے یکساں معاشی مواقع کی ضمانت فراہم کرنا ہے اور کمزور افراد و طبقات کو طاقت وروں کی طرف سے ہر قسم کے اقتصادی ظلم و استحصال سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کو اپنے قیام کے وقت جو معاشی نظام ورثہ میں ملا تھا، وہ بہت حد تک جاگیردارانہ اور ایک محدود حد تک سرمایہ دارانہ تھا۔ اسد کے نزدیک جاگیردارانہ نظام عوام کے معاشی استحصال کا ایک طاقت ور ذریعہ اور اجتماعی عدل و انصاف کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے خیال میں صدیوں سے مسلم اقوام کی اقتصادی بدحالی کا ایک بڑا سبب زرعی املاک کا چند ہاتھوں میں جاگیردارانہ ارتکاز رہا ہے۔

چنانچہ اسد جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کو بہت ضروری خیال کرتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی جاگیروں کو ختم کرکے اور انھیں خلاف قانون قرار دے کر ان کا انصرام امداد باہمی کے اصول پر کرنا چاہتے ہیں۔زمین کی ملکیت کی حد مقرر کرکے جاگیرداروں کے پاس مقررہ حد سے زائد زمین کو بے زمین کسانوں اور کاشتکاروں میں تقسیم کرنے کے حامی ہیں۔ مزید برآں وہ معاشرے کے کمزور افراد کو طاقت وروں کی اقتصادی دھونس اور دھاندلی سے تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے نجی ملکیت کی تحدید بھی تجویز کرتے ہیں۔ وہ دولت کے ارتکاز کی حوصلہ شکنی کی غرض سے وراثت اور ترکے کی تقسیم اور زکوٰۃ سے متعلق شرعی احکام و قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کے لیے عشر و زکوٰۃ کے علاوہ دیگر محاصل کے اجراء و نفاذ کا حق و اختیار بھی تسلیم کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ سود کے لین دین، تجارتی سٹہ، اجارہ داری اور قابل فروخت اشیا کی ذخیرہ اندوزی جیسی قبیح اقتصادی سرگرمیوں کا مکمل طور پر انسداد چاہتے ہیں۔{ FR 1020 }

محمد اسد نے نظام معیشت کو اسلامی اصول و اقدار پر استوار کرنے کے لیے ایک اعلیٰ اسلامی تحقیقاتی ادارے کے قیام کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ ان کی رائے میں اس ادارے سے منسلک ماہرین شریعت اور ماہرین معیشت کا وظیفہ یہ ہو کہ وہ کتاب و سنت کے نصوص کی روشنی میں بعض جدید معاشی امور و مسائل مثلاً بنک کاری، بیمہ، قرضوں کا لین دین، اجتماعی مقاصد کے لیے نجی املاک میں تصرّف کا حق اور زرعی اصلاحات، جس میں زمینوں کی قومی تحویل و تقسیم نو کا سوال بھی آجاتا ہے، وغیرہ مسائل کی تحقیق کرے اور ان مسائل کے متعلق شرعی نقطۂ نظر کی وضاحت کرے۔ یہ ادارہ اس امر کی بھی وضاحت کرے کہ ہم اپنی موجودہ معاشی سرگرمیوں اور ضروریات کو اس اجتماعی نظام کے مطابق کیسے ڈھال سکتے ہیں جو اسلام کے پیش نظر ہے؟ یہ ادارہ اس امر سے متعلق بھی عملی تجاویز مرتب کرے کہ ہماری معاشی زندگی میں ازروئے اسلام کس طرح صحیح نشوونما ہوسکتی ہے؟{ FR 1021 }

مراد یہ ہے کہ اسد نہ تو جاگیردارانہ نظام کو ملت کے مفاد میں خیال کرتے ہیں اور نہ جدیدمغربی سرمایہ دارانہ نظام کی من و عن اسلامی ریاست میں ترویج کے حق میں ہیں، بلکہ وہ ملّی ضروریات کے مطابق نظام معیشت کی اسلامی تشکیل (Islamization) کے حامی و علَم بردار ہیں۔ وہ ایک ایسا نظام معیشت اپنانے کی تجویز پیش کرتے ہیں، جو زور آور اور زردار طبقے کے ہاتھوں کمزور طبقات کے ہر نوع کے استحصال کی لعنت سے پاک ہو اور اجتماعی عدل کے قیام میں معاون ہوسکتا ہو۔

نفاذِ شریعت : ترجیحات

پاکستان کی اسلامی تشکیل کے بارے میں محمد اسد کی مجوزہ اسکیم اور لائحہ عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شریعت کا ایک بڑا واضح تصوّر رکھتے ہیں۔ شریعت ان کے نزدیک صرف تعزیراتی قوانین کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ اجتماعی زندگی کو سنوارنے کے لیے ایک مثبت اور جامع پروگرام بھی ہے۔ ان کے نزدیک شریعت کا مقصد و منتہائے نظر انسانیت کی فلاح اور معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ہے۔ شریعت کے ٹھیک ٹھیک طور پر نفاذ سے مسلم معاشرے میں صدیوں سے موجود بگاڑ و فساد اور عدم توازن کو دور کیا جاسکتا ہے۔ شریعت کی بنیاد پر عدل اجتماعی اور اقتصادی مساوات کو قائم کیا جاسکتا ہے۔ محمد اسد شریعت کی بنیاد پر مسلم معاشرے میں ایک مکمل و ہمہ گیر انقلاب لانے کا منصوبہ تجویز کرتے ہیں اور پاکستانی معاشرے کو اسلام کی اخلاقی و رُوحانی بنیادوں پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔

شریعت کے نفاذ و اجراء کے معاملے میں ایک بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہے کہ اس کی ابتدا کہاں سے کی جائے؟ موجودہ وقت میں شریعت کے نفاذ کے لیے کون سی ترجیحات ہوں؟ کیا اس کی ابتدا معاشی و اجتماعی عدل کے قیام اور اخلاقی و معاشرتی اصلاح سے کی جائے یا تعزیرات و حدود کے اجراء و نفاذ سے؟ محمد اسد نے اس بات کو صاف کردیا ہے۔ ان کی رائے میں اس کام کی ابتدا اخلاقی و دینی تربیت، معاشرتی اصلاح اور معاشی عدل و انصاف کے قیام سے کی جائے۔ اس کا آغاز ہرگز طور پر حدود و تعزیرات کے اجراء و نفاذ سے نہ کیا جائے۔

 حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کی غرض سے اسد نے جو ترجیحات مقرر کی ہیں، ان میں اخلاقی انحطاط و علمی زوال کا ازالہ اور معاشی و سماجی ناہمواریوں اور ظلم و استحصال کے جملہ مظاہر کے انسداد کو حدود و تعزیرات کے اجراء و نفاذ پر بہرحال فوقیت حاصل ہے۔ گذشتہ چند عشروں میں بعض مسلم ممالک (بشمول پاکستان) میں اسلامائزیشن کی طرف جو تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی ہے،  اس میں اصلاح معاشرت، عوام کی اخلاقی و دینی تربیت اور سماجی و معاشی عدل کے قیام کے بجائے حدود و تعزیرات اور بعض دوسرے سطحی اقدامات پر زیادہ زور صرف کیا گیا ہے۔ محمد اسد اس کو درست حکمت عملی تصور نہیں کرتے۔(Asad, Law of Ours, "Author's Note", p.3.)

پاکستان کی اسلامی تشکیل سے متعلق محمد اسد کے اس لائحہ عمل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ملی زندگی کے بگڑے ہوئے ڈھانچے کو سنوارنے اور اسے اسلامی نمونے پر ڈھالنے کے لیے وہ اجتماعی زندگی کے جملہ شعبوں کی تعمیر نو چاہتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں تعلیم، قانون اور معیشت کے شعبے ایسے ہیں جو کلیدی اہمیت کے حامل ہیں اور جن کی اصلاح و تشکیلِ نو از حد ضروری ہے۔ تاہم، ان کے نزدیک دینی تعلیم و تربیت اور معاشرتی و اخلاقی اصلاح کا کام ان سب پر مقدم ہے۔(مکمل)

 

تحریک پاکستان کے دوران میں قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر زعمانے پاکستان کی مسلم ریاست کی تعمیروتشکیل میں اسلام کے ابدی اصولوں سے رہنمائی لینے اور قرآن و سنت کو اس مملکت کا دستور بنانے سے متعلق بیانات و اعلانات کے باوجود مجوزہ اسلامی ریاست کی وضع و ہیئت اور خط و خال واضح نہ کیے جاسکے۔  ایک بھرپور جدوجہد، بعض مؤثر مسلم علما اور سیاسی لیڈروں کی جانب سے مزاحمت اور چاروں طرف سے شدید مخالفتوں کا سامنا کرتے ہوئے مجوزہ ریاست کے دستور اور اس کے سیاسی نظام العمل کی تدوین کی طرف سیاسی قیادت خاطر خواہ توجہ نہ دے سکی۔ چنانچہ عوام تو کجا خواص پر بھی ایک اسلامی مملکت کے دستور اور اس کے سیاسی نظام کا نقشہ واضح نہ ہوسکا، بلکہ اس معاملے میں بعض ذہنوں میں فکری ابہام پایا جاتا تھا۔ جے ونڈرؤ سویٹ مین نے اس وقت پاکستان میں ریاست کی تشکیل کے بارے میں پائے جانے والے اس فکری الجھاؤ کے بارے میں لکھا ہے:

…there is wide interest in rethinking and reshaping the form of the state, nevertheless there is, for the most part, no clear definition of what an Islamic State in fact is.

[مملکت پاکستان] کی تشکیل و تعمیرنو کے بارے میں بہت وسیع حلقوں میں دلچسپی پائی جاتی ہے، لیکن ایک حقیقی اسلامی ریاست کے خط و خال کیاہوں، اس سے بہت سے حلقے شناسا نہیں ۔

اسلامی دستور سے متعلق فکری ابہام کے بارے اشتیاق حسین قریشی کا بیان ملاحظہ ہو:

What is an Islamic constitution?? Than, if we take up the question of an Islamic constitution,  what do we mean by it?? Are we thinking of the principles on which an Islamic polity should be based, or of the corpus of the rulings and principles built up by the jurists of Islam and based on the analogy of the Caliphate as it existed in its primeval and classical forms, or of the constitutions of such modern nation states as call themselves Muslim?? There is so much confusion in the minds of the Muslim peoples themselves on these questions.

اسلامی دستور سے کیا مراد ہے؟ کس نوع کے دستور کو اسلامی کہا جائے؟ جب ہم اسلامی دستور کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟ کیا اس سے ہماری مراد ایسے اصول و ضوابط ہیں، جن پر ایک اسلامی نظام مملکت و حکومت کو استوار ہونا چاہیے یا پھر اس سے مراد وہ فقہی و قانونی ذخیرہ مراد ہے، جو ہمارے فقہا نے زمانۂ قدیم کے نظامِ خلافت کے اَطوار و اوضاع پر قیاس کرتے ہوئے وضع کیا یا اسے دورِ جدید کی مسلمان ریاستوں کے دساتیر پر استوار ہونا چاہیے؟ اس بارے میں مسلمانوں کے ذہنوں میں خاصا ابہام پایا جاتا ہے۔

اسلامی دستور اور اسلام کے سیاسی و معاشی اور تعلیمی و معاشرتی نظام کا خاکہ مرتب کرنے کے لیے آزادی سے قبل جو چند ایک اقدامات اٹھائے گئے تھے، وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ اس سلسلے میں ایک اہم قدم ’صوبہ جات متحدہ‘ (UP) مسلم لیگ نے اٹھایا تھا۔ جس نے [غالباً] ۱۹۳۹ء کے اواخر میں نواب محمد اسماعیل خان (۱۸۸۶-۱۹۵۸ء) کی صدارت میں یہ تحریک منظور کی کہ منتخب علما کی ایک مجلس سے ایک مستند ومفصل ’نظام نامہ حکومتِ اسلامی‘ مرتب کرایا جائے۔ چنانچہ نواب سر محمداحمد سعید خان چھتاری (۱۸۸۸ء-۱۹۸۲ء) کی صدارت میں چند علما و اہل دانش پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی گئی، جس کے ارکان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی(۱۹۰۳ء- ۱۹۷۹ء)، مولانا آزاد سبحانی (۱۸۸۲-۱۹۵۷ء) مولانا شبیر احمد عثمانی (۱۸۸۵ء-۱۹۴۹ء)، مولانا عبدالحامد بدایونی (۱۹۰۰- ۱۹۷۰ء)، ڈاکٹر ذاکر حسین (۱۸۹۷ء-۱۹۶۹ء) اور مولانا عبدالماجد دریابادی (۱۸۹۲-۱۹۷۸ء) وغیرہ شامل تھے۔ علّامہ سید سلیمان ندوی (۱۸۸۴-۱۹۵۳ء) کو اس کمیٹی کا داعی (کنوینر) مقرر کیا گیا۔

یہ کمیٹی ’مجلس نظام اسلامی‘کہلاتی تھی۔ مجلس کے داعی سیّد سلیمان ندوی نے مولانا ابوالبرکات عبدالرؤف دانا پوری (۱۸۸۴-۱۹۴۸ء)، ڈاکٹر سید ظفرالحسن (۱۸۷۹ء-۱۹۴۹ء)، صدر شعبۂ فلسفہ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، مولانا مناظر احسن گیلانی (۱۸۹۲-۱۹۵۶ء) اور مولانا شبیر احمد عثمانی کو خطوط لکھے اور ان کو اسلامی دستور کا خاکہ مرتب کرنے کی غرض سے تجاویز پیش کرنے کا کہا۔

سید صاحب نے جن اصحاب علم و نظر کو خطوط لکھے تھے، ان میں سے صرف چار افراد، مولانا عبدالماجد دریابادی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر ذاکر حسین اور مولانا آزاد سبحانی نے دستوری خاکے مرتب کرکے ارسال کیے۔ ان خاکوں کی مدد سے مولانا محمد اسحاق سندیلوی نے ایک مسودہ ۱۹۴۵ء میں تیار کیا جو سید سلیمان ندوی اور نواب محمد احمد سعید چھتاری کی دلچسپی اور خواہش کے باوجود ۱۹۵۷ء سے قبل چھپ کر منظر عام پر نہ آسکا۔

پاکستان کی مسلم ریاست کے لیے مرتب کیے گئے، اس اسلامی دستور و سیاسی نظام نامہ سے منسوب کتاب اسلام کا سیاسی نظام پر سید مودودی نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا:

زیر نظر کتاب [میں] …اصل مسئلہ کی تحقیق بہت حد تک صحیح ہے، لیکن سائنٹی فک نہیں ہے… ایک بڑی خامی یہ نظر آتی ہے کہ اسلامی اسٹیٹ کے نظام اور دستور العمل پر کس قدر تفصیلی نگاہ [تو] ڈالی گئی ہے، لیکن ہر پہلو تشنہ، غیر مرتّب اور غیر مدلّل ہے۔ تیسری کمی یہ ہے کہ اصطلاحات کے استعمال اور طرز بیان میں علم السّیاست کی زبان سے کافی مدد نہیں لی گئی ہے، اس کا لحاظ بہت ضروری ہے۔ مجموعی طور پر کتاب اچھی، پر از معلومات اور قابل مطالعہ ہے۔

اس سلسلے میں دوسرا اہم اقدام جو تحریک پاکستان کے دنوں میں مستقبل کی مجوزہ مسلم ریاست ’پاکستان‘ کے لیے خالص اسلامی نقطۂ نظر سے معاشرتی، تعلیمی، معاشی اور دستوری و سیاسی نظام مرتب و مدوّن کرنے کے لیے مسلم لیگ کی طرف سے اٹھایا گیا، وہ اس کے سالانہ اجلاس منعقدہ کراچی (دسمبر ۱۹۴۳ء) میں ایک ’پلاننگ کمیٹی‘ کا قیام تھا۔ تاہم، اس کمیٹی کی ترکیب و تشکیل اور اس کی کارگزاری کبھی سامنے نہ آسکی۔ اس سے قبل مسلم لیگ کے تیسویں اجلاس منعقدہ ۲۴-۲۶؍اپریل ۱۹۴۳ء ، بمقام دہلی، کے موقع پر آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں قرار پایا تھا کہ چند مستند ماہرین اسلام کی ایک مجلس ’مجلس تعمیر ملّی‘ قائم کی جائے، جو قرآن شریف کو سامنے رکھ کر قومی زندگی کے مسائل پر نظر ڈالے اور ایک اسلامی ریاست کا خاکہ بنائے لیکن یہ مجلس قائم نہ ہوسکی تھی۔

 آل انڈیا مسلم لیگ کی کمیٹی آف رائٹرز (مسلم لیگ کے رکن اور حامی دانش وروں کی کمیٹی) نے بھی ۱۹۴۶ء میں مجوزہ مسلم مملکت پاکستان کو مستقبل میں درپیش مسائل کے جائزے، اس کے سیاسی نظام کی تدوین اور اس کی صنعتی و اقتصادی اور تعلیمی ترقی کا لائحہ عمل مرتب کرنے کی سعی کی تھی اور مختلف اُمور و مسائل پر کتابچے (۱۲ عدد) شائع کیے تھے۔ اس کمیٹی کے ایک ممتاز رکن ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی (۱۹۰۲-۱۹۸۱ء)، جو بعد میں وزیر تعلیم اور کراچی یونی ورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہوئے، انھوں نے اپنے کتابچے The Future Development of Islamic Polity میں پاکستان کی ریاست و حکومت کی تعمیروتشکیل میں اسلام کے کردار و حیثیت کی وضاحت کی سعی کی تھی۔  تاہم، ڈاکٹر قریشی اس ضمن میں کوئی مربوط اسکیم پیش نہ کرسکے۔ خالد بن سعید کی رائے ہے کہ اس کتابچے میں کوئی گہرائی موجود نہ تھی اور شاید یہ بڑی عجلت میں لکھا گیا تھا۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے علاوہ آل انڈیا سنّی کانفرنس (بریلوی مکتب فکر کے علما کی تنظیم، قائم:۱۹۲۵ء) نے اپنے اجلاس بنارس (۲۷-۳۰؍اپریل ۱۹۴۶ء) میں اسلامی حکومت کے لیے ایک مکمل و مفصل لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے جو کمیٹی قائم کی تھیاس کی کارگزاری بھی منظرعام پر نہ آسکی۔ البتہ آل انڈیا سنی کانفرنس نے ۱۳، اکابر علما پر مشتمل ’اسلامی حکومت کے مکمل لائحہ عمل‘ مرتب کرنے کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی تھی، اس کے ایک سربرآوردہ رکن مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی(۱۸۸۳-۱۹۴۸ء) نے ۱۹۴۸ء میں اسلامی دستور کے خاکہ کے لیے چند دفعات مرتب کی تھیں۔

یہ مجوزہ دستوری خاکہ ایک حقیقی شورائی اسلامی حکومت کی بنیاد بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اس میں امیر کو مطلق العنان کی سی حیثیت تجویز کی گئی تھی۔

اسلامی دستور کی تدوین  میں مشکلات

اسلامی دستور کی تدوین میں تاخیر کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اہل علم و فکر کو بھی یہ کام دِقّت طلب دکھائی دیتا تھا۔ یوپی مسلم لیگ کی طرف سے اسلامی دستور کی تدوین کے لیے قائم کی گئی، ’مجلس نظام اسلامی‘ کے صدر سید سلیمان ندوی نے اس مجلس کے ایک رکن مولانا عبدالماجد دریا بادی کے نام ایک خط (۹جنوری ۱۹۴۰ء) میں لکھا:آپ کے ذہن میں سیاسیاتِ اسلامی کا جو نقشہ ہو، اس کو قلم بند فرما کر عنایت فرمائیں۔ کام بڑا مشکل معلوم ہوتا ہے۔

یہ مشکلات کس نوعیت کی تھیں؟ اس کی نشان دہی اسلام کے نظام سیاست و حکومت کی توضیح و تشریح کرنے والے دو ممتاز علما مولانا حامد الانصاری غازی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کی ہے۔ مولانا حامد الانصاری کی رائے میں مشکل یہ تھی کہ صدیاں گزرنے کے باوجود اسلام کے نظام حکومت کا کوئی مکمل خاکہ مرتب نہیں کیا گیا۔ مسلمانوں نے سالہاسال سے اجتماعی میدان کو دوسری طاقتوں کے ہاتھ میں چھوڑ رکھا تھا۔

 علمی دائرہ میں الہٰیات کی درس و تدریس علما کا نصب العین تھا۔ اس کے لیے انھوں نے قابل تعریف کوشش کی، لیکن ان کے افکارو اعمال کی جولانگاہ میں اجتماعیات کو وہ درجہ حاصل نہ ہوسکا جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں (خلفائے راشدین) کے جہادِ حق سے حاصل ہوا تھا۔

 خلافت راشدہ ؓکے بعد مسلمانوں کے دور حکومت نے فرماںروائی کا جو نقشہ تیار کیا، اس نے اسلامیت کی حقیقت پر پردہ ڈال دیا۔ علما کو جزئی قوانین کا وسیع میدان ملا، جس میں انھوں نے شاندار، قابل تعریف اور یاد گار کارنامے کرکے دکھائے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت و سلطنت کے متعلق خلافت نبوی اور ریاستِ عامہ کے جو اصول و احکام تھے، وہ آنکھوں سے اوجھل اور علم و تحقیق کی دسترس سے باہر ہوگئے۔ یہاں تک کہ صدیوں سے اس طرف کافی توجہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ چنانچہ اس زمانے تک کسی کتب خانہ میں کوئی کتاب ایسی نہیں، جس کو گزشتہ چند صدیوں کے مطالبہ کے جواب میں پیش کیا جائے اور جس کو اسلام کے مکمل دستور حکومت کا نام دیا جاسکے۔

جہاں تک اسلامی دستور کے مآخذ (قرآن مجید، سنت ِرسولؐ ، تعامل خلفائے راشدین، اجماع اور مجتہدین امت کے فیصلے) کا تعلق ہے تو بلاشبہہ یہ سب تحریری شکل میں موجود تھے، تاہم ان مآخذ سے قواعد اخذ کرکے ان کو دستور کی شکل دینے میں چند مشکلات اور دِقّتیں حائل تھیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ان مشکلات کا جائزہ ان الفاظ میں پیش کیا:

۱-    اصطلاحات کی اجنبیت: سب سے پہلی دقّت زبان کی ہے۔ قرآن، حدیث اور فقہ میں احکام کو بیان کرنے کے لیے جو اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں، وہ اب بالعموم لوگوں کے ناقابل فہم ہوگئی ہیں، کیونکہ ایک مدت دراز سے ہمارے ہاں اسلام کا سیاسی نظام معطل ہوچکا ہے، اور ان اصطلاحوں کا چلن نہیں رہا ہے۔قرآنِ مجید میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں، جن کی ہم روز تلاوت کرتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ دستوری اصطلاحات [بھی] ہیں، مثلاً: سلطان، ملک، حکم، امر، ولایت وغیرہ۔

۲-    قدیم فقہی لٹریچر کی نامانوس ترتیب: دوسری دقت یہ ہے کہ ہمارے فقہی لٹریچر میں دستوری مسائل کہیں الگ ابواب کے تحت یکجا بیان نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ دستور اور قوانین ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہیں۔ پھر ان کی زبان اور اصطلاحات آج کل کی رائج اصطلاحوں سے اس قدر مختلف ہیں کہ جب تک کوئی شخص قانون کے مختلف شعبوں، اور ان کے مختلف مسائل پر کافی بصیرت نہ رکھتا ہو، اور پھر عربی زبان سے بھی بخوبی واقف نہ ہو، اس کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ کہاں قانونِ ملکی کے درمیان قانونِ بین الاقوام کا کوئی مسئلہ آگیا ہے، اور کہاں پرسنل لا کے درمیان دستوری قانون کے مسئلے پر روشنی ڈال دی گئی ہے۔ پچھلی صدیوں کے دوران میں ہمارے بہترین قانونی دماغوں نے غایت درجہ بیش قیمت ذخیرہ چھوڑا ہے۔ اس چھوڑی ہوئی میراث کو چھان پھٹک کر ایک ایک قانونی شعبے کے مواد کو الگ الگ کرنا اور اسے منقح صورت میں سامنے لانا ایک بڑی دیدہ ریزی کا کام ہے۔

۳-    نظام تعلیم کا نقص: تیسری مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم ایک کافی مدت سے بڑی ناقص ہورہی ہے۔ جو لوگ ہمارے ہاں دینی علوم پڑھتے ہیں، وہ موجودہ زمانے کے علم السیاست اور اس کے مسائل اور دستوری قانون اور اس سے تعلق رکھنے والے معاملات سے بے گانہ ہیں۔ ان کے لیے اس وقت کے سیاسی و دستوری مسائل کو آج کل کی زبان اور اصطلاحوں میں سمجھنا اور پھر ان کے بارے میں اسلام کے اصول و احکام کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری طرف ہمارے جدید تعلیم یافتہ لوگ ہیں، جو زندگی کے جدید مسائل سے تو واقف ہیں، مگر وہ دستور اور سیاست اور قانون کے متعلق جو کچھ جانتے ہیں، مغربی تعلیمات اور مغرب کے عملی نمونوں ہی کے ذریعے سے جانتے ہیں۔ قرآن اور سنت اور اسلامی روایات کے بارے میں ان کی معلومات بہت محدود ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی پیچیدگی ہے، جو ایک صحیح اسلامی دستور کی تدوین میں حارج ہورہی ہے۔

غرض یہ کہ اس وقت وہ مذہبی طبقہ جو اسلامی نظام کی فکری اساس کے لیے قرآن و حدیث سے حوالے پیش کرسکتا تھا وہ تو موجود تھا، عوام میں اس نظام کے لیے جذبہ اور خواہش بھی موجود تھی لیکن وہ طبقہ جو دور جدید کے لیے اسلامی نظام کی عملی، آئینی، سیاسی و معاشی اور انتظامی صورت متعین کرسکتا، وہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ چنانچہ جب پاکستان وجود میں آیا تو اس وقت نہ تو اسلامی دستور مرتب شدہ حالت میں کہیں موجود تھا اور نہ اس وقت کی سیاسی قیادت ہی کو اس کی فوری ضرورت و اہمیت کا کوئی شعور و ادراک تھا۔ سیاسی قیادت کی غفلت و کوتاہی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ’’معاصر دنیا کے تقاضوں اور خود اسلام کی حقیقی تعلیمات کے حوالے سے لیگی قیادت ذہنی افلاس کی گرفت میں تھی اور وہ ان امور و مسائل میں علمی و فکری سطح پر کوئی معقول موقف اختیار کرنے کی اہلیت سے عاری تھی‘‘۔ چنانچہ عوام تو کجا خواص کے ذہنوں میں بھی اسلامی دستور اور نظام حکومت کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔

محمد اسد نے اسلامی دستور اور نظام حکومت کے بارے میں خواص و عوام کے ذہنوں میں پائے جانے والے فکری ابہام کے بارے میں لکھا:

At that time, I was Director of the Department of Isamic Reconstruction.... among the problems which preoccupied me most intensely was, naturally enough, the question of the future constitution of Pakistan. The shape which that constitution should have was then, as it is now, by no means clear to everybody. Although the people of our country were, for the most part, imbued with enthusiasm for the idea of a truly Islamic State - that is a state based (in distinction from all other existing political groupments) not on the concept of nationality and race but solely on the ideology of Qur'an and Sunnah - they had as yet no concrete vision of the methods of government and of the institutions, which would give the state a distinctly  Islamic character and would, at the same time, fully correspond to the exigencies of the present age. Some elements of the populaton naively took it for grauted that, in order to be genuinely Islamic, the government of Pakistan must be closely modeled on the forms of the early caliphate, with an almost dictatorial position to be accorded to the head of the state, utter conservatism to all social forms (including a more or less complete seclusion of women), and a patriarchal economy, which would dispense with the complicated financial mechanism of the twentieth century and would resolve all the problems of the modern welfare state through the sole instrumentatity of the tax known as Zakat. Other sectors - more realistic but perhaps less interested in Islam as a formative element in social life - visualised a development of Pakistan on lines indistinguishable from those commonly accepted on valid and reasonable to the parliamentary democracies of the moder West, with no more that than a formal reference to the wording of the constitution to Islam as the "religion of the state" and possibly, the establishment of a "Ministry of Religious Affairs" as a concession to the emotions of the overwhelmin majority of the population.

اس زمانے میں [۱۹۴۷-۱۹۴۸ء] جو مسائل میرے دل و دماغ پر حد درجہ چھائے ہوئے تھے، طبعاً ان میں سے ایک مسئلہ پاکستان کے آئندہ دستور کا بھی تھا۔ اس زمانے میں اکثروبیشتر لوگوں پر یہ امر واضح نہ تھا کہ [اسلامی] دستور کی وضع و ہیئت کیا ہونی چاہیے؟ اگرچہ ہمارے ملک [پاکستان] کے باشندوں کی اکثریت حقیقی اسلامی مملکت کے تصور سے سرتاپا متأثر تھی، یعنی چاہتی تھی کہ ایک مملکت نسل و قومیت کے تصورات پر نہیں بلکہ خالصتاً قرآن و سنت کے نظریات پر تعمیر کی جائے۔ تاہم، وہ اپنے ذہنوں میں ایک ایسی مملکت جو عملاً واضح طور پر اسلامی ہو اور ساتھ ہی دور حاضر کے تقاضوں کو ٹھیک ٹھیک طور پر پورا کرسکے، کی حکومت اور اس کے اداروں کے اوضاع و اطوار کے بارے میں کوئی واضح تصوّر نہ رکھتے تھے۔ آبادی کے بعض عناصر سادہ لوحی سے سمجھے بیٹھے تھے کہ حقیقی اسلامی مملکت بننے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کا نظام ابتدائی عہد کی خلافت کے عین مطابق ہو۔ رئیس مملکت کو تقریباً وہی کُلّی اختیارات سونپ دیے جائیں۔ ویسا ہی بالکل ابتدائی اسلامی دور کا اقتصادی نظام بیسویں صدی کے پُرپیچ سلسلۂ نظم و نسق مالیات و معیشت کی جگہ لے لے اور یہ کہ دور حاضر کی فلاحی مملکت کے تمام مسائل صرف ایک محصول (Tax) یعنی محصول زکوٰۃ کی بنا پر حل ہوجائیں گے۔ دوسرے طبقے کے لوگ جنھیں اسلام کو اجتماعی زندگی میں ایک کارفرما عامل بنالینے سے کوئی دلچسپی نہ تھی، یہ تصور کیے بیٹھے تھے کہ پاکستان کے سیاسی و دستوری نظام کا نشو و ارتقا ان اصولوں پر ہوگا، جنھیں دور حاضر کے مغرب کی پارلیمانی جمہوریتوں میں مشترکاً درست و معقول مانا جاتا ہے اور ان دونوں میں بجز اس کے کوئی فرق نہ ہوگا کہ ہمارے دستور میں رسماً لکھ دیا جائے گاکہ ’’مملکت کا مذہب اسلام ہے‘‘ اور آبادی کی بہت بڑی اکثریت کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ایک وزارتِ مذہبی امور قائم کردی جائے گی-

غرضیکہ اس وقت ضرورت ایسے دستوری خاکے کی تھی جو ایک طرف حقیقی معنی میں اسلامی ہوتا، دوسری طرف عصر حاضر کے تمام عملی تقاضوں کو اس میں پیش نظر رکھا جاتا اور جس میں افراط و تفریط کے مذکورہ دو نظریوں کے درمیان توافق پیدا کیا جاتا۔ اس اہم علمی و فکری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بانی جماعتِ اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی اور محمد اسد نے قیام پاکستان کے ابتدائی زمانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ان دونوں مفکرین نے اسلام کے سیاسی نظریے کی توضیح و تشریح جدید علم السّیاست کی زبان و اصطلاحات میں کی تاکہ وہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے قابل فہم ہوسکے۔ دونوں نے اسلامی دستور کے بنیادی اُصول کو منقح کرکے پیش کیا اور موجودہ زمانے کے حالات اور تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر ان کے عملی طور پر اطلاق و انطباق کی صورتوں کی نقشہ گری بھی کی۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے تو، جو اقامتِ دین و حکومتِ الٰہیہ کی دعوت لے کر اٹھے تھے، ۱۹۳۹ء سے ہی اسلامی ریاست /حکومتِ الٰہیہ کے نظریے کی توضیح و تشریح اور اس کے عملاً قیام کی دعوت کو اپنی علمی و فکری جدوجہد کا خصوصی میدان بنالیا تھا۔ انھوں نے اپنی تقریروں خصوصاً جدید تعلیم یافتہ افراد کے اجتماعات سے اپنے خطابات میں ’’اسلام کا نظریۂ سیاسی‘‘ (جلسۂ انٹرکالجیٹ مسلم برادرہڈ، لاہور، اکتوبر ۱۹۳۹ء)، ’’اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟‘‘ (اسٹریچی ہال، مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ، ۱۲؍ستمبر ۱۹۴۰ء)، ’’اسلامی قانون اور پاکستان میں اُس کے نفاذ کی عملی تدابیر‘‘ (لاء کالج، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور، ۶جنوری و ۱۹فروری۱۹۴۸ء)، ’’اسلام کا سیاسی نظام‘‘ (ریڈیو پاکستان، لاہور، فروری۱۹۴۸ء) اور ’’اسلامی دستور کے بنیادی اُصول‘‘ (کراچی بار ایسوسی ایشن، ۲۴نومبر ۱۹۵۲ء) جیسے موضوعات و مسائل پر تسلسل کے ساتھ اظہارِ خیال کیا۔

مولانا مودودی نے ان تقریروں اور خطبات میں اسلامی ریاست کے بنیادی نظریے اور اُس کے نمایاں خدوخال کو لوگوں کے سامنے کھول کر رکھا تاکہ وہ اس کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ سید مودودی کا مطمح نظر ملک کے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو اسلامی ریاست کے نظریے سے محض واقف کرانا ہی نہیں بلکہ انھیں اس کے عملاً قیام کا قائل اور طالب بنانا تھا۔ ۱۹ فروری ۱۹۴۸ء کو لا کالج (پنجاب یونی ورسٹی، لاہور) میں اپنی تقریر میں انھوں نے اسلامی ریاست کے قیام کے حق میں آواز اٹھائی اور ملک کی مجلسِ دستور ساز سے اسلامی دستور کا مطالبہ کیا۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ مجلس دستور ساز ایک قرارداد کے ذریعے واضح طور پر یہ اعلان کرے کہ:

       ۱-    پاکستان کی بادشاہی [حاکمیت و اقتدارِ اعلیٰ] اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور حکومتِ پاکستان کی حیثیت اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ اپنے بادشاہ کی مرضی اس کے ملک میں پوری کرے۔

       ۲-    پاکستان کا بنیادی قانون اسلامی شریعت ہے۔

       ۳-    وہ تمام قوانین جو اسلامی شریعت کے خلاف اب تک جاری رہے ہیں، منسوخ کیے جائیں گے اور آیندہ ایسا قانون نافذ نہ کیا جائے گا جو شریعت کے خلاف ہو۔

       ۴-    حکومتِ پاکستان اپنے اختیارات اُن حدود کے اندر استعمال کرے گی جو شریعت نے مقرر کردی ہیں۔

سید مودودی نے اقامتِ دین کی جدوجہد کے لیے مطالبۂ دستورِ اسلامی کو نقطۂ آغاز کی حیثیت سے منتخب کیا تھا۔ چنانچہ اپریل ۱۹۴۸ء سے انھوں نے اس مطالبہ کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے ملک گیر مہم کا آغاز کیا۔ سید مودودی کی اس دستوری جدوجہد اور مولانا شبیر احمد عثمانی اور ڈاکٹر عمر حیات ملک جیسے ارکانِ مجلس دستور ساز کی مساعی کے نتیجے میں مجلس دستور ساز نے مارچ ۱۹۴۹ء میں قرار داد مقاصد منظور کی، جسے بعد میں پاکستان کے دستور کے رہنما اصولوں اور اُس کے دیباچہ (Preamble) کی حیثیت حاصل ہوئی۔ مطالبہ دستورِ اسلامی کے حق میں سید مودودی کی عملی سیاسی جدوجہد نے ۱۹۵۶ء کے دستور میں اسلامی اصولوں کو منوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

اسلامی دستور کے خاکے کی تدوین

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کی سیاسی تعلیمات کی توضیح و تشریح کا جو کارنامہ انجام دیا ہے، بلاشبہہ وہ پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ مملکتِ پاکستان کے لیے اسلامی دستور کے خاکہ کی تدوین کے معاملے میں محمد اسد کو تقدّم و سبقت حاصل ہے۔ محمد اسد نے ۳جون ۱۹۴۷ء کو تقسیم ہند کے منصوبہ کے اعلان کے ساتھ ہی مجلہ عرفات (Arafat) میں اسلام کے نظریۂ ریاست اور اسلامی دستور کے بنیادی اُصول پر بحث کا آغاز کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جب وہ محکمۂ احیائے ملتِ اسلامیہ (Department of Islamic Reconstruction)، کے ناظم مقرر ہوئے تو پاکستان کی اسلامی تشکیل کے لائحہ عمل بالخصوص ایک اسلامی دستوری خاکہ کی تدوین ان کی علمی و فکری کارگزاریوں کا ہدف ٹھیرا۔ چنانچہ ایک ایسے وقت میں ،جب کہ اسلامی دستور کا کوئی نمونہ موجود نہ تھا محمد اسد نے اس اہم اور مشکل و دقَّت طلب کام کا از خود بیڑا اٹھایا اور اسلامی دستور اور اسلام کے سیاسی نظام کا ایک مفصل خاکہ مرتب کیا، جسے مارچ ۱۹۴۸ء میں محکمۂ احیائے ملت اسلامیہ کی طرف سے شائع کراکے عوام کے سامنے پیش کیا۔

محمد اسد کو مغرب کے سیاسی نظاموں،دستوری و قانونی اصول و تصورات اور دستوری زبان و اصطلاحات کے علاوہ اسلام کے سیاسی اُصول و مبادی سے بھی گہری واقفیت حاصل تھی۔ چنانچہ انھوں نے قرآن و سنت کی نصوص سے عمومی دستوری اصول اخذ کرکے ان کی توضیح و تشریح جدید علم السّیاست کی زبان و اصطلاحات میں کی تاکہ وہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے قابلِ فہم ہوسکیں۔

محمد اسد نے اس دستوری خاکہ کی تدوین میں صرف قرآن مجید اور سنت رسولؐ کے نصوص کو بنیاد بنایا ہے۔ خلافت راشدہ کے تعامل و نظائر اور فقہاء و مجتہدین امت کے دستوری و سیاسی مسائل میں آراء سے انھوں نے اعتناء نہیں برتا ہے۔ ان کے نزدیک ان دونوں کی تقلید و پیروی امت پر لازم و واجب (binding)نہیں ہے، جب کہ قدیم فقہاء و مجتہدین کے ہاں سے اس بارے میں مناسب رہنمائی بھی نہیں ملتی۔ محمد اسد کی رائے میں دستوری و سیاسی مسائل و معاملات کے بارے میں اسلامی کتب کا جو ذخیرہ اس وقت موجود تھا، اس میں اس مشکل کے لیے رہنمائی کا کوئی سامان نہ تھا۔ کیونکہ گذشتہ صدیوں کے بعض علمائے اسلام نے خصوصاً عباسیوں کے عہد حکومت میں اسلام کے سیاسی قانون پر جو چند کتابیں مرتب کی تھیں، ان میں ان مسائل کے متعلق ان کا طریق فکر و نظر ان کے عہد کے ثقافتی ماحول اور اجتماعی و سیاسی تقاضوں پر مبنی تھا۔ یوں ان کی سعی و نشاط کے نتائج بیسویں صدی کی ایک اسلامی مملکت کی ضرورتوں کا جواب نہیں بن سکتے تھے۔

محمد اسد نے دور حاضر کے مغرب زدہ مسلمان مصنّفین و مفکرین کے دستوری وسیاسی مسائل سے متعلق افکار و خیالات کو بھی توجہ کے لائق نہیں سمجھا۔ ان کی رائے میں ’’دور حاضر میں مغرب سے مرعوب و متأثر مسلمانوں نے عموماً یورپ کے ایسے سیاسی تصوّرات و ادارات اور حکمرانی کے طور طریقے بے تکلفی سے قبول کرلیے اور انھیں دورِ حاضر کی مسلم مملکت کا معیار بنالیا جو اسلامی نظریات کے حقیقی تقاضوں سے بالکل متناقض تھے۔ غرض یہ کہ محمد اسد کی رائے میں ان کے معاصرین یا پیشروؤں کی تصانیف کوئی اطمینان بخش فکری بنیاد مہیا نہیں کرتی تھیں کہ جس پر پاکستان کی نئی مملکت کے دستور کی عمارت قائم کی جاتی۔ دریں صورت انھوں نے قرآن و سنت کی طرف راست طور پر رجوع کرکے ان کے نصوص سے دستوری اصول اخذ کرکے اس مملکت کے سیاسی و حکومتی نظام کا خاکہ مرتب کرنے کی کوشش کی۔ اسد کے الفاظ میں:

Thus, neither the works of our predecessors nor those of our contemporaries could furnish a satisfactory conceptual basis on which the new state of Pakistan should be built up. Only one way remained open to me: to turn to the original sources of Islamic Law, Qur'an and Sunnah, and to work out on their basis the concrete premises of the future constitution of Pakistan independently of all that has been written on the subject of the Islamic State.

غرض یہ کہ ہمارے پیش روؤں کی تصانیف کوئی اطمینان بخش فکری بنیاد مہیا نہیں کرتی تھیں، جس پر پاکستان کی نئی مملکت کی عمارت تعمیر کی جاتی۔ میرے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ گیا تھا اور وہ یہ کہ قانونِ اسلام کے بنیادی مآخذ قرآن و سنت کی طرف متوجہ ہوتا۔ اس طرح قدما نے امامت و خلافت (سیاست و حکومت) کے بارے میں جو تصنیفی سرمایہ چھوڑا ہے، اسے ایک طرف رکھتے ہوئے اور آزادانہ غوروفکر سے کام لیتے ہوئے پاکستان کے آیندہ دستور کے لیے مثبت اصول اخذ کرتا، جو اسلامی مملکت کے موضوع پر مرتبہ کتابوں سے بالکل مختلف ہوتے۔

ڈاکٹر منظور الدین احمد کی رائے میں پاکستان کے ابتدائی برسوں میں مختلف اہل علم کی طرف سے جو دستوری خاکے منظر عام پر آئے، ان میں سے محمد اسد کا مرتب کردہ یہ خاکہ زیادہ واضح اور جدید ذہن کے لیے زیادہ قابلِ فہم تھا۔

محمد اسد کے دستوری خاکہ کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ انھوں نے قرآن و سنت سے دستوری اصول اخذ کرتے ہوئے، معاصر مغربی دستوری و سیاسی نظاموں سے اخذو اکتساب کی راہ بھی نکالی ہے۔ اسلام کے سیاسی اصول اور مغرب کے سیاسی تجربات و اجتہادات میں ایک گونہ تطبیق قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ محمد اسد نے گویا اس دستوری خاکہ میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ قرآن و سنت کے اصول و تعلیمات پر قائم رہتے ہوئے کس طرح سے عصرحاضر میں ایک اسلامی ریاست قائم کی جاسکتی ہے۔ محمد اسد نے اس دستوری خاکہ کو، مملکت پاکستان کے سیاسی نظام اور ریاستی اداروں کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل و تنظیم کی غرض سے، ایک منشور اور دستور العمل کے طور پر پیش کیا ہے۔

محمد اسد نے اسلامی دستور کا مربوط و مفصل خاکہ پیش کرکے بعض اہل سیاست و اہل دانش کے اس اعتراض کو بے اصل ثابت کردیا کہ ’’اسلام دستور سازی اور نظام حکومت و سیاست کے بارے میں قطعاً کوئی رہنمائی نہیں کرتا، اور نہ اصول و مبادی تجویز کرتا ہے‘‘۔

محمد اسد کا تجویز کردہ دستوری خاکہ نوزائیدہ مملکت کے دستور کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے میں ایک مؤثر بنیاد فراہم کرتا تھا، تاہم حکومت وقت کے مصالح اور سیاسی قائدین کی ذاتی اغراض نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ محمداسد کو اس بات کا قلق رہا کہ دستور سازی کے سلسلے میں ان کی تجاویز سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

تاہم محمد اسد کی یہ کاوش بے اثر نہ رہی اور تحریک پاکستان میں سرگرم عمل علماء اور بعض اہل دانش کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی دستور ساز مجلس نے ۱۹۴۹ء میں مملکت کے دستور کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے کی غرض سے جو ’قرارداد مقاصد‘ منظور کی تھی یا پھر مختلف مکاتب فکر کے علما نے اسلامی دستور تشکیل دینے کے لیے جنوری ۱۹۵۱ء میں جو بائیس نکاتی دستوری فارمولا مرتب  کیا تھا، اس میں کسی حد تک محمد اسد کے دستوری خاکہ کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔(جاری)

قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد جب محمد اسد نے یہ دیکھا کہ معاشرے اور ریاست کی تعمیروتشکیل میں قرآن حکیم اور تعلیماتِ نبویؐ کو رہنما بنانے سے متعلق قائدین تحریک ِ پاکستان کی طرف سے کیے گئے اعلانات کے باوجود، نہ صرف یہ کہ عملاً اس راہ پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہاہے بلکہ حکومت ایک غیر اعلان شدہ پالیسی کے تحت سیکولرازم کی راہ پر چل نکلی ہے، اور نوآبادیاتی نظام کی محافظ و وارث بنتی چلی جارہی ہے ،تو اس منظرنامے پر وہ تڑپ اُٹھے جس پر اپنے تحفظات و خدشات کا انھوں نے اظہار یوں کیا:

In spite of the many pronouncements made on the highest levels to the effect that Pakistan will be run in accordance with the spirit of the Qur'an, it is widely felt that nothing concrete has been done so far to implement this promise, and that on the contrary there is evidence enough to show that the government is drifting towards a more or less pronounced "Secularism" on the model of Western world.

مملکت ِ پاکستان کے سیاسی و حکومتی نظام کو قرآنِ حکیم کی روح کے مطابق چلانے سے متعلق ہمارے صف ِ اوّل کے قائدین کے اَن گنت اعلانات کے باوجود، عام طور پریہ محسوس کیا جارہا ہے کہ تاحال اس عہد کو پورا کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا گیا ہے، بلکہ اس کے برعکس اس امر کے بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ حکومت علانیہ طور پر مغربی طرز کی لادینیت (سیکولرازم) کی راہ پر گامزن ہوچلی ہے۔

.... Today the government is estranged from the innermost longing of our people.They are looking upon it as an heir of the old British bureaucracy, and their original hope is gradually dying out. They wanted leadership in the ideological sense but they did not find it.

آج حکومت ہمارے عوام کی اُمنگوں سے بیگانہ اور لاتعلق ہوچکی ہے ، چنانچہ وہ اسے برطانوی افسرشاہی کی جانشین اور وارث کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اور ان کی حقیقی اُمنگیں دم توڑ رہی ہیں۔ وہ تو ایک نظریاتی قیادت کے خواہاں تھے لیکن اس نوع کی قیادت انھیں میسر نہ ہوسکی۔

محمد اسد نے نظریۂ پاکستان سے انحراف و برگشتگی کی روش اور سیکولرقومی ریاست کے تصور کی طرف مقتدر طبقوں کے میلان کو سخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ دراصل وہ اس طرز فکر و عمل کو امت مسلمہ کے دین و عقیدے کے منافی تو گردانتے ہی تھے، ان کی رائے میں سیکولر قومی ریاست کے تصور پر اصرار پاکستان کی بنیادوں پرتیشہ چلانے کے مترادف بھی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اسلامی ریاست کے نظریے، جو ان کی نگاہ میں تحریک پاکستان کا اساسی نصب العین، اس کی حقیقی غایت اور پاکستان کی اصل نظریاتی بنیاد تھا، سے انحراف و برگشتگی کے منفی نتائج و عواقب سے خبردار بھی کیا۔ انھوں نے اس بات پر بطور خاص زور دیا کہ پاکستان کا وجود ایک نظریے اور نصب العین کا رہین منت ہے اور یہ ملک اس نظریے اور نصب العین سے پختہ اور غیر متزلزل وابستگی کے سبب ہی سے قائم رہ سکتا ہے۔ اس نظریے سے انحراف اور اس کے بارے میں فکری ابہام کا مطلب پاکستان کو انتشار و افتراق اور خلفشار سے دوچار کرناہے۔

محمد اسد کے نزدیک قوموں کی زندگی میں ایک اعلیٰ و ارفع نصب العین اور مثالیت پسندی (Idealism) کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ چیز کسی بھی قوم کی ترقی و عروج کے لیے جذبۂ محرکہ کا کردار ادا کرتی ہے اور اس کے افراد میں اتحاد و یگانگت کا مؤثر ترین ذریعہ ہوتی ہے، جب کہ کسی اعلیٰ نصب العین کی عدم موجودگی میں وہ قوم بے مقصدیت کا شکار ہوجاتی ہے۔ بنا برایں ان کے خیال میں پاکستان کی بقا اور اس کے استحکام کا راز تحریک پاکستان کے نظریاتی نصب العین سے غیر متزلزل وابستگی اور اس کو عملاً حقیقت میں بدلنے ہی میں مضمر ہے۔{ FR 794 }  اسد کسی عارضی مصلحت یا سیاسی تدبیر کے نام پر بھی تحریک پاکستان کے نصب العین سے انحراف کو مناسب نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک:

".... an evasive postponement of our "long-term", Islamic objectives in favour of what some people regard (quite worngly) as momentarily "expedient" or "politic", must have a determental effect on our community's moral tenor and can only result in our greater estrangement from the ways of true Islam.

اصل اسلامی مقاصد سے وقتی مصلحت کے طور پر گریز پائی ایک ایسی ناعاقبت اندیشی ہے جس سے ہم مسلمانوں کے اخلاق و مزاج پر نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں، جس کا نتیجہ حقیقی اسلام کے اصولوں سے انحراف ہوگا۔

محمد اسد کی نگاہ میں پاکستان کے استحکام اور اس کے تحفظ و بقا کے لیے اسلامی قومیت کے نظریے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی نگاہ میں اسلامیانِ پاکستان ایک نظریاتی ملت ہیں، ان کی قومیت کی بنا اسلام ہے۔ اسلام سے جذباتی و شعوری وابستگی کے احساس و جذبے نے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سیاسی طور پر متحد و یکجا کیا اور یہی امر مطالبہ و قیامِ پاکستان کا محرک بنا۔ پاکستان عالم اسلام کی دیگر عرب و غیر عرب ریاستوں کے برعکس ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے، چنانچہ یہ صرف اسی نظریے سے وابستگی کی بنا پر ہی قائم رہ سکتا ہے۔ اسلام کو اگر معاشرہ اور ریاست کی تعمیروتشکیل میں فیصلہ کن حیثیت نہ دی جائے تو پاکستانی ملت کے مختلف عناصر کو باہم پیوست اور یکجا کرنے والی کوئی قوت باقی نہیں رہ جاتی۔

 اسلام سے غیر متزلزل وابستگی اور اسلامی قومیت کے تصور کے احیاء سے ہی ملت اسلامیہ پاکستان کے مختلف نسلی و لسانی گروہوں پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچی، بنگالی اور پھر مہاجرین اور مقامی آبادی کے درمیان اتحادویگانگت پیدا ہوسکتا ہے۔ جب کہ اسلام کے بعد ان گروہوں کو باہم متحد کرنے والی کوئی حقیقی بنیاد ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ چنانچہ ان کو آپس میں متحد و یکجا اور باہم پیوست کرنے والی بنا کے ڈھ جانے سے یہ گروہ مختلف نسلی و لسانی اور علاقائی عصبیتوں کے نرغے میں آجائیں گے اور پاکستان کی بقا و استحکام اور اس کی سالمیت و یکجہتی خطرے میں پڑجائے گی۔ اسلامی نظریے سے انحراف کی صورت میں یہ ملک افتراق و انتشار کا شکار ہوجائے گا۔ جب کہ اس کے برعکس اسلامی نظریۂ قومیت کو جس قدرعوام کے ذہنوں میں راسخ کیا جائے گا پاکستان اسی قدر مضبوط ومستحکم اور طاقت ور ہوگا۔ غرضیکہ محمد اسد کے نزدیک اسلام اور اسلامی قومیت کے نظریے کے علاوہ دوسری کوئی اور چیز، قومیت کا کوئی اور نظریہ اور حُب الوطنی کی کوئی دوسری تدبیر ان مختلف و متنوّع عناصر کو یکجا نہیں رکھ سکتی۔

پاکستان کے استحکام، اس کی علاقائی سالمیت و یکجہتی اور تحفظ و بقا کے بارے میں اسد کا یہ نقطۂ نظر اور تجزیہ، جس کا اظہار انھوں نے قیام پاکستان کے ساتھ کیا تھا، بڑا درست اور مبنی بر حقیقت ثابت ہوا۔ پاکستان میں کسی واضح اور متعین نصب العین کی عدم موجودگی (اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام کے مقصد سے دور ہٹ جانے کے بعد) کے سبب فکری ابہام و انتشار نے جنم لیا۔ اسی طرح اس وقت کی سیاسی قیادت کی طرف سے اسلامی قومیت کے تصور کے بجائے پاکستانی قومیت کے تصور پر زور کے نتیجے میں لسانی و نسلی عصبیّتوں کے طوفان نے سراٹھایا۔

صوبائی عصبیت کے اس فتنے کا نتیجہ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا اور باقی ماندہ پاکستان میں پہلے پختون اور بلوچ قوم پرست تحریکوں نے سراٹھایا، پھر مہاجر اور سندھی کش مکش برپا ہوئی۔ قدیم مقامی باشندوں کے مفادات میں ٹکراؤ کی اس صورتِ حال نے ملک کو تباہی سے دوچار کیا۔پاکستان کے جن دانش وروں نے اس ملک کو درپیش حقیقی مسائل و مشکلات کا جائزہ لیا ہے اور داخلی افتراق و انتشار، صوبائیت و علاقائیت اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب و محرکات پر بحث کی ہے، وہ کم و بیش انھی نتائج پر پہنچے ہیں، جن سے محمد اسد بہت سال پہلے خبردار کرچکے تھے-

اسلامی ریاست کے تصوّر پر اعتراضات اور محمد اسد کا نقطۂ نظر

قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی لامحالہ طور پر اس نوزائیدہ مسلم ریاست کے نظام سیاست و حکومت کے بارے میں بحث مباحثہ میں تیزی آگئی۔ جدید تعلیم یافتہ افراد، جن میں بعض مسلم لیگی رہنما بھی شامل تھے، ان کی طرف سے اسلامی ریاست کے تصور کی شدید مخالفت، اور سیکولر قومی ریاست کے قیام کی پُر جوش وکالت کی گئی۔ اس طبقے کی طرف سے پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست بنانے کے مطالبے پر جو اعتراضات کیے گئے، یا پھر اس تصور کے جدید دور میں قابلِ عمل ہونے کے بارے میں جو شکوک و شبہات ظاہر کیے گئے وہ اس طرح کے تھے:

       ۱-    اسلام مملکت و حکومت کے بارے میں کوئی خاص نظام اور اصول تجویز نہیں کرتا۔  قرآن و سنت میں دستور اور سیاست و حکومت کے بارے میں کوئی ضابطے اور اصول ذکر نہیں کیے گئے ہیں بلکہ یہ معاملات انسانی عقل و فہم کے حوالے کیے گئے ہیں۔ تاریخ میں کبھی اسلامی ریاست قائم نہیں ہوئی، لہٰذا یہ تصور محض ایک تصور ہے۔

       ۲-    اسلامی قانون جامد و غیر متحرک ہے۔ صدیوں پرانی فقہ و قانونی سرمایہ دور جدید کی ضروریات اور تقاضوں سے میل نہیں کھاتا، لہٰذا اسے ریاست کا قانون بنانا قطعاً کوئی دانش مندانہ فعل نہیں۔ اسلامی قانون کو جدید دور میں مملکت کا قانون بنانے کا مطلب اسے ترقی سے محروم اور پس ماندہ رکھنا ہے۔ چنانچہ مسئلہ کا بہترین حل یہی ہے کہ آئین و دستور اور نظامِ قانون کو سیکولر بنیادوں پر استوار کیا جائے۔

       ۳-    اسلامی ریاست کے نام پر مملکت میں بدترین تھیاکریسی (مُلاؤں کی حکومت) قائم ہوجائے گی۔

       ۴-    پاکستان میں غیر مسلم ہندو اقلیت کی موجودگی میں اسلامی ریاست کا قیام مناسب نہیں۔

       ۵-    جدید دور میں، جب کہ اطراف عالم میں سیکولر حکومتیں قائم ہیں پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے دنیا کی رائے عامہ کے بگڑ جانے کا اندیشہ ہے۔

محمد اسد، اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام کی بابت مختلف ذہنوں میں پیدا ہونے والے ان اعتراضات اور شکوک و شبہات سے بخوبی آگاہ تھے، بطور خاص جدید تعلیم یافتہ طبقے کی سیکولرزم پسندی کا انھیں گہرا ادراک تھا۔ چنانچہ مجلہ عرفات (بابت مارچ ۱۹۴۸ء) میں اسلامی دستور کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے لکھا:

With the attainment of Pakistan's independence, however, we of the present generation have such a possibility before us: and it is for us to covert this possibility into a certainty - if we so wish - or alternatively, to allow it to recede again into the realm of academic speculations..... There is no gainsaying that countless Muslims in this country passionately desive the first of these two alternatives; but there is also, no doubt that very strong forces are at worth to deflect the community from its Islamic goal and to make Pakistan a "secular" state in slavish deference to what almost all non-Muslim, today regard as desirable. For, the majority of people in other countries - including many Muslim countries - have grown accustomed to look upon institutional religion as something antiquated, and therefore not quite "respectable" from the intellectual point of view: as something out of tune with the so-called "progressive" endeavour to free man from all moral obligations, not devised by himself:..... and for this reason, a suggestion to build a state, on religious foundations is usually described in such circles as reactionary or, at the best - as impractical idealism". Apparently, many educated Muslims think today on these lines; and in this, as in so many other aspects of our contemporary life, the influence of Western thought is un-mistakable.

جب سے پاکستان کی آزاد اور خود مختار مملکت وجود میں آئی ہے یہ امکان بھی پیدا ہوگیا ہے کہ ریاست کی تأسیس اسلامی اصولوں پر کی جائے۔ بایں ہمہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہمارا سوادِاعظم اگرچہ اس بات کا آرزومند ہے کہ پاکستان میں ایک اسلامی ریاست قائم ہو کچھ قوتیں ایسی بھی ہیں جو چاہتی ہیں کہ مسلمان اپنی منزل مقصود سے ہٹ جائیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ ہم بھی غیر اسلامی دنیا کی اندھا دھند تقلید میں ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھیں جو اصطلاحاً غیر مذہبی و لادینی (سیکولر) سے تعبیر کی جاتی ہے۔ بات یہ ہے کہ آج کل اسلامی ممالک میں بھی اس خیال کا غلبہ ہے۔ مذہب (اسلام) کے بارے میں یہ تصور کہ وہ بجائے خود ایک نظام حیات ہے، جدید تعلیم یافتہ افراد کے نزدیک پرانا ہوچکا ہے اور ان کے ہاں از روئے علم و حکمت بھی کچھ ایسا وقیع نہیں ہے۔ لہٰذا قدرتی بات ہے کہ جب کبھی ریاست کے لیے کوئی دینی اساس تجویز کی جائے تو یہ لوگ اسے رجعت پسندی سے تعبیر کریں یا پھر محض ناقابل عمل عینیت پسندی (Impractical Idealism) ٹھیرائیں۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں میں سے اکثر تو یہی رویہ اختیار کرتے چلے جارہے ہیں۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح یہاں بھی ان کا دل و دماغ مغربی اثرات سے مغلوب ہوچکا ہے۔

اسلامی ریاست کے تصور کے بارے میں جدید الخیال مغرب زدہ افراد کے شکوک و شبہات کے ازالے کے طور پر محمد اسد نے تین امور کو صراحت و وضاحت سے بیان کیا:

       ۱-    اسلامی ریاست کا مطلب ہرگز تھیاکریسی (پاپائیت) نہیں۔ اسلام میں قرون وسطیٰ کی ’مسیحی پاپائیت‘ جیسے کسی ادارے کا قطعاً کوئی وجود نہیں پایا جاتا۔ اسلامی ریاست میں قانونی و تشریعی معاملات اور دین کی تعبیروتشریح کے معاملے میں کسی خاص مذہبی گروہ کی اجارہ داری کی کوئی گنجائش نہیں۔

              اسد لکھتے ہیں: ’’اسلام میں پادریوں کی تنظیم جیسا کوئی نظام موجود نہیں اور نہ کوئی ایسا ادارہ پایاجاتاہے،جسے مسیحی کلیسا کے مترادف سمجھا جائے۔ اسلام میں ہر بالغ مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ ہرمذہبی وظیفہ انجام دے۔ اسلام میں کوئی فرد یا گروہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اسے مذہبی وظائف کی بجاآوری میں کوئی خاص تقدس اور اجارہ داری حاصل ہے، لہٰذا،اسلامی ماحول میں تھیاکریسی (پاپائیت) کی اصطلاح سراسر بے معنی ہے۔ البتہ اسلامی ریاست میں تمام قوانین کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے‘‘۔

       ۲-    اسلامی قانون جامدوفرسودہ (out dated) ہرگز نہیں ہے، بلکہ حرکی اور ہر لمحہ ارتقا پذیر ہے۔ وہ ثبات و تغیّر کی خصوصیات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور ہر دور کے انسانی معاشرے کی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شریعت کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد کو بروئے کار لاکر ہر دور کی ضروریات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے قانون سازی کی جاسکتی ہے۔

       ۳-    اسلام ایک خودکفیل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ روحانیات و اخلاقیات ہی میں نہیں بلکہ انسانی زندگی کے جملہ مادی و دنیوی معاملات، معاشرے کی تنظیم اور ریاست کی تعمیروتشکیل کے باب میں بھی رہنمائی و ہدایات فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ اس خودکفیل نظامِ حیات کی موجودگی میں معاشرہ اور ریاست کی تنظیم و تشکیل کے سلسلہ میں مسلمانوں کو مغرب کے سیاسی و اقتصادی نظاموں کو اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ قرآن و سنت کے نصوص نے ریاست کی تعمیروتشکیل کے بارے میں جو بنیادی اور رہنما اصول متعین کیے ہیں ان کی موجودگی میں مغرب کی غیراسلامی تہذیب کے ساختہ و پرداختہ سیاسی و معاشرتی تصورات کی تقلید کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ مغرب کے لادینی سیاسی اصول و تصورات کی تقلید کا صاف صاف مطلب اسلام کے اس دعویٰ کو جھٹلانا ہے کہ وہ ایک دین کامل ہے۔

       ۴-    سیکولر ریاست کا تصور خود نظریۂ پاکستان کے بھی سراسر منافی و متصادم ہے۔ اس کی تقلید و نقالی سے پاکستان کے قیام کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ایک ایسی ریاست، جس کا قیام اسلامی نظریے کی اساس پر عمل میں آیا ہے، اس کی تعمیروتشکیل میں مغرب کے غیر اسلامی سیاسی تصورات کی تقلید و نقالی کی روش اختیار کرنا گویا اس ریاست کی بنیادوں کو مسمار کرنا ہے۔ اسد رقم طراز ہیں:

The Islamic scheme of the State precludes, of course, an imitation of political concepts evolved in non-Islamic (Western)  civilizations... The Prophet's Message visualises a polity. Those who blindly subscribe to non-Islamic political concepts, not only deny, by implication, Islam's claim to completeness in the ideological sense, but also militate against the idea of Pakistan as such: for, if Islam is not to be the guiding principle of the State, why have a  "Muslim" state at all?? But this is just what many of our intelligentsia seem unable to grasp. They do not realise that a state devised in the name and for the sake of a religious community must be, in the very nature of things, an ideological state: otherwise the innermost purpose of our creating a state is defeated.

اسلامی ریاست کا تصور بلاشبہہ غیراسلامی (مغربی) تہذیبوں کے سیاسی تصورات کی تقلید کو خارج از امکان قرار دیتا ہے…رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام (تعلیمات) میں ایک ایسی ریاست و حکومت کا تصور موجود ہے، جو اپنی ماہیت میں تخلیقی نوعیت کی ہے [اس میں حالات وزمانہ کے تقاضوں کی رعایت موجود ہے] وہ لوگ جو اندھا دھند غیراسلامی سیاسی تصورات و نظریات کے مقلد محض ہوگئے ہیں، محض اس زعم میں کہ وہ اس کو ’جدید‘ خیال کیے بیٹھے ہیں، [اس طرح] وہ نہ صرف یہ کہ اسلام کے جامع و کامل دین ہونے کا انکار کر بیٹھتے ہیں بلکہ ان کا یہ طرزِ فکروعمل پاکستان کے اس تصور و نظریہ کے بھی صریح طور پر متصادم و منافی ہے۔[سچی بات تو یہ ہے کہ] اگر اسلام کو ریاست و حکومت کا رہنما اصول نہیں مانا جاتا ہے تو پھر ایک [نام نہاد] مسلمان ’ریاست‘ کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ یہ وہ حقیقت ہے جو ہمارے دانش وروں کے فہم سے بالاترہے۔ وہ اس بات کا ادراک نہیں کرپا رہے کہ وہ ریاست جو مذہب کے نام پر اور ایک مذہبی قومیت کے لیے بنائی گئی ہے، کو لازماً فطری طور پر ایک نظریاتی ریاست ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر ایک ریاست کےقیام کا ہمارا بنیادی مقصد شکست و ریخت سے دوچار ہوجائے گا۔

       ۵-    سیکولر ریاست، انسان کو حقیقی مسرت و شادمانی سے ہمکنار نہیں کرسکتی۔ سیکولر ریاست کے مقابلے میں اسلامی ریاست کا قیام نہ صرف زیادہ آسان اور قابل عمل ہے بلکہ وہ ملت اسلامیہ کے سماجی و اقتصادی اور تہذیبی و معاشرتی مسائل کے حل کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔ اسلامی ریاست حقیقی معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بن سکتی ہے اور ان کو حقیقی مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔ اگر ملت اسلامیہ نے مغرب کے تہذیبی اور سیاسی واقتصادی نظام کی تقلید کی، تو انجامِ کار وہ ان خرابیوں سے دوچار ہوئے بغیر نہ رہ سکے گی، جن میں اس وقت مغربی دنیا مبتلا ہے۔ مغرب کے سیاسی و اقتصادی اور سماجی تصورات کی تقلید میں مسلمانوں کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔ مسلمانوں کی نجات اور فلاح کا راز اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ اسلام کے اخلاقی و روحانی اصولوں کے مطابق اپنی ریاست قائم کریں۔

 غیر مسلم اقلیت کے خدشات و اعتراضات

پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے تصور پر ملک کی ہندو اقلیت معترض ہی نہیں بلکہ اس کی شدید مخالف تھی۔ اس غیر مسلم اقلیت کو دراصل اسلامی ریاست کی تشکیل کی صورت میں اپنے سیاسی و قانونی، شہری اور مذہبی و ثقافتی حقوق کے تحفظ سے متعلق طرح طرح کے اندیشے لاحق تھے۔ چنانچہ غیر مسلم اقلیت (ہندوؤں) کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ ایک سیکولر پاکستان میں ان کے حقوق و مفادات کا زیادہ بہتر طور پر تحفظ ہوسکتا ہے۔ غیر مسلموں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے علمبردار بعض مسلم رہنما بھی ملک میں ہندو اقلیت کی موجودگی میں اسلامی ریاست کے قیام کو نامناسب خیال کرتے تھے۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اسلامی ریاست کے قیام سے غیر مسلم اقلیتوں میں تشویش پیدا ہوگی اور ملک عدم استحکام سے دو چار ہوجائے گا۔{ FR 808 }

محمد اسد کو غیر مسلموں کی اس تشویش یا بطورِ ہتھیار پیدا کردہ تشویش کا بخوبی احساس تھا۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں ہی انھوں نے اپنی اس رائے کا برملا طور پر اظہار کیا تھا کہ ’پاکستان میں ہندو اکثریتی علاقوں کی شمولیت کی صورت میں اسلامی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانا مشکل ہوجائے گا‘۔ چنانچہ انھوں نے عام مسلم سیاسی قائدین اور رائے عامہ کے برعکس بنگال اور پنجاب کی دو دو حصوں میں تقسیم، یعنی ان صوبوں کے ہندو اکثریتی علاقوں کی بھارت کے ساتھ، جب کہ مسلم اکثریتی علاقوں کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی اسکیم کا پرجوش خیر مقدم کیا تھا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ بنگال اور پنجاب کے ان علاقوں کی، جہاں ہندو آبادی اکثریت میں ہے، پاکستان میں شمولیت اس ملک میں مسلم اور ہندوآبادی کے توازن پر اثر انداز ہوگی اور اس نوزائیدہ ملک میں ایک مؤثر و طاقت ور ہندو اقلیت کی موجودگی میں اسلامی ریاست کا قیام مشکل ہوجائے گا۔ چنانچہ وہ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کی تقسیم کو پاکستان کے لیے خوش آیند خیال کرتے تھے۔

بہرحال، پاکستان میں ایک قابل لحاظ غیر مسلم ہندو اقلیت کا شامل و موجود رہ جانا ناگزیر تھا۔ دریں صورت محمد اسد نے تحریک پاکستان کے آخری مرحلے میں، جب کہ تقسیم ہند کے منصوبے کو حتمی شکل دی جارہی تھی، پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق غیر مسلموں کی تشویش اور ان کے تحفظات و خدشات کے ازالہ کی کوششوں کو ضروری قرار دیا۔ البتہ انھوں نے غیر مسلموں کی تشویش کے ازالے اور ان کی دلجوئی کی خاطر اسلامی ریاست کے تصور سے دست بردار ہونے اور اسے پسِ پُشت ڈالنے کے خیال کی شدت سے مخالفت کی۔

محمد اسد نے یہ خیال پیش کیا کہ اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق غیر مسلم اقلیتوں کی تشویش اور ان کے ذہنوں میں موجود خدشات کے ازالے کی بہترین صورت یہی ہے کہ انھیں باور کرایا جائے کہ ہم مسلمانوں کا مقصد ملک کے سب شہریوں کے لیے، بلاتفریق مذہب و ملت، عدل و انصاف کا قیام ہے۔ اسلامی ریاست میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا۔ ہم مسلمانوں کے مفاد کی خاطر غیر مسلموں کا استحصال نہیں کرنا چاہتے بلکہ انسانی اخلاق کے بنیادی اصولوں کی بالادستی قائم کرنے کے متمنی ہیں۔ ہم ہر حال میں عدل و انصاف کی بالا دستی اور بے انصافی کے انسداد کے لیے جدوجہد کے لیے تیار ہیں۔ اسد کی رائے میں یہ سمجھنا تو انتہائی حماقت ہے کہ اگر ہم اپنے اسلامی مقاصد پر زور نہیں دیں گے تو اس طرح سے غیر مسلم اقلیتوں کی تشویش دور ہوجائے گی، بلکہ ان کی تشویش دور یا کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم صاف دلی اور پوری وضاحت کے ساتھ بتادیں کہ ہمارے ملی و اخلاقی مقاصد کیا ہیں اور پھر روزمرہ کی زندگی میں انھیں یہ مشاہدہ بھی کرادیں کہ ہمارے اسلامی و اخلاقی مقاصد اور ہمارے اعمال و افعال میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

محمد اسد نے خود بھی قیام پاکستان سے پہلے اور پھر بعد میں اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق غیر مسلموں کے خدشات و اعتراضات کے ازالے کی غرض سے ان پر یہ واضح کیا کہ ایک سیکولر مسلم ریاست کے بجائے ایک حقیقی اسلامی ریاست میں ہی زیادہ بہتر طور پر ان کی مذہبی و ثقافتی آزادی اور ان کے سیاسی و قانونی حقوق کا تحفظ ہوسکتا ہے۔ اسد نے قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں اپنی نشری تقریروں میںکہا:

When we demanded a state in which the Muslim nation could freely develop its own traditions, in which the genius of Islam could freely unfold, conferring light and happiness not only on Muslims but also on all the people of other communities who could choose to share our living-space with us. The establishment of the Muslim State of Pakistan could not and did not mean oppression of non-Muslims, and that, on the contrary, every one of our citizens, whether Muslim or non-Muslim, could always count on the protection which a civilized state is bound to accord to its loyal citizens, and which, in particular, Islam has enjoined on us with unmistakable insistence.

جب ہم نے ایک آزادمملکت کا مطالبہ کیا تھا کہ جس میں مسلمان [اسلامیانِ ہند] آزادانہ طور پر اپنی روایات کو پروان چڑھا سکیں تو ہمارا اس کے سوا مطالبہ کیا تھا کہ ہم امن و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔ ایک ایسی دولت مشترکہ کی تعمیر کرسکیں، جس میں اسلام کی عبقریت آزادانہ طور پر آشکارا ہوسکے، جو نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ ان دیگر طبقات و اقوام کو بھی ، جو ہم مسلمانوں کے ساتھ قدم بقدم اس ملک کو اپنے وطن کے طور پر منتخب کرلیں، روشنی (ظلمت سے نکال کرروشنی) اور مسرت سے سرفراز کرسکے۔ [بے شمار مواقع پر ہمارے رہنما جن میں قائداعظم سرفہرست ہیں، اس امر کی صراحت کرچکے ہیں اوردُنیا کے سامنے اس بات کو صاف طورپر کہہ چکے ہیں کہ] مملکت پاکستان کے قیام کا مطلب [اس ملک میں] ہرگز طور پر غیرمسلموں کو محکوم و مجبور بنا کر رکھنا نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس، اس مملکت کے ہر شہری کو بلاامتیاز مذہب و ملّت [جان و مال کا] وہ تحفظ حاصل ہوگا، جو ایک مہذب ریاست اپنے وفادار شہریوں کو عطا کرنے کی پابند ہوتی ہے، اور جس کا بطورِ خاص اسلام نے ہمیں تاکیداً پابند ٹھیرایا ہے ۔

جناب محمد اسد واشگاف الفاظ میں کہتے ہیں:

The establishment of such a state [Islamic State] does not presuppose and cannot presuppose, an oppressive treatment of non-Muslim minorities: … In an Islamic State no non-Muslim should be afraid of being discriminated against or exploited for the benefit of the Muslim majority. Nor does Islam want us to exert any pressure on non-Muslims with a view to inducing them to embrace Islam. No, the only thing that, an Islamic state demands of every citizen, be he Muslim or non-Muslim, is a loyal co-operation towards common welfare on the basis of the social and economic laws which the Qur'an and the life example of our blessed Prophet have laid down for us.

اس طرح کی ریاست [اسلامی ریاست] کے قیام کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس کے غیرمسلم شہریوں [اقلیتوں] کے ساتھ ظالمانہ و غیرمنصفانہ برتائو کیا جائے۔ اسلامی ریاست میں کسی غیرمسلم کو اس بارے میں کوئی خوف لاحق نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ مسلمانوں کے مفاد کی خاطر امتیازی سلوک کیا جائے گا یا اس کا استحصال کیا جائے گا۔ اسلام ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نہ غیرمسلموں کے ساتھ ظلم و زیادتی روا رکھی جائے، اور نہ انھیں ڈرا دھمکا کر حلقہ بگوش اسلام بنایا جائے۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہاں، وہ واحد چیز جس کا اسلامی ریاست اپنے ہرشہری سے تقاضا کرتی ہے [خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم] کہ  وہ اجتماعی بہبود و مفاد کے لیے ریاست کے ساتھ وفادارانہ و خیرخواہانہ تعاون ہے۔ اس اجتماعی بہبود کی بنیاد ایسے سماجی و اقتصادی قوانین پر استوار ہے، جن کی صراحت ہمارے لیے قرآنِ حکیم اور اسوئہ رسالتؐ میں ملتی ہے۔

محمد اسد اسلامی ریاست کے تصور کے مخالفین کی اس رائے کو ہرگز درخور اعتناء نہیں سمجھتے کہ اسلامی ریاست کے قیام سے دنیا کی رائے عامہ کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ ان کے نزدیک عظیم اقوام کے مقدر کا انحصار اس بات پر نہیں ہوتا کہ ان کی معاصر اقوام اصولاً ان کے اغراض و مقاصد سے اتفاق یا اختلاف کرتی ہیں بلکہ ان کے مقدر کا انحصار ان کے اغراض و مقاصد کی روحانی طاقت یا کمزوری پر ہوتا ہے۔ اسد کے خیال میں ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام اور اعلیٰ اخلاقی مقاصد کے حصول کے لیے سچی کوشش، مذکورہ خدشات کے برعکس، دنیا بھر میں تجدیدو احیائے اسلام کا دروازہ کھول دے گی ’’اگر ہم حیران و سرگرداں انسانیت کو یہ ثابت کردکھائیں کہ اسلام یقینی طور پر انسانیت کے سماجی اور سیاسی امراض کا حل پیش کرتا ہے تو جلد یا بدیر تمام مسلم اقوام لازمی طور پر ہمارے پیچھے چلیں گی‘‘۔ (جاری)

نو مسلم دانشور محمد اسد (لیوپولڈ وئیس؛۱۹۰۰ء- ۱۹۹۲ء)  کے تصور و فہم اسلام میں دین اور سیاست و حکومت کی یکجائی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ محمد اسد کی نظر میں اسلامی نظریہ ٔ حیات کو کامل طور سے مسلمانوں کی زندگی میں جاری و ساری کرنے کے لیے ریاست و حکومت کا قیام ایک ناگزیر ضرورت کا درجہ رکھتا ہے۔ چنانچہ ترجمۂ تفسیر قرآن، شرح بخاری شریف کے علاوہ معاشرے کی اسلامی تشکیل اور ایک حقیقی اسلامی ریاست کے خدوخال، اور اس کے دستور کی توضیح وتشریح، ان کی تالیفات کے اہم عنوان رہے ہیں۔ محمد اسد ایک جدید جمہوری فلاحی اسلامی ریاست کے قیام کے شدید آرزو مند تھے۔ انھوں نے اپنی مختلف تحریروں میں جدید مسلم دُنیا میں مغرب کی نقالی کی دوڑ میں سیکولر قومی ریاستوں کے قیام (ترکی ، افغانستاان ، اور ایران)، کے علاوہ موروثی بادشاہت اور ملوکیت (سعودی عرب میں سعودی بادشاہت ) کو سخت تنقید کا ہدف بنایا ۔ اسلامی ریاست کے تصور سے اپنی اس گہری وابستگی کے پیش نظر محمد اسد کو تحریک پاکستان کے نصب العین، یعنی اسلامیان ہند کے لیے ایک جداگانہ اسلامی مملکت کے قیام سے گہری دل چسپی تھی۔ تحریک پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے میں (۱۹۴۶ء-۱۹۴۷ء) اور خصوصاً قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں کے دوران میں انھوں نے اپنے آپ کو دو قومی نظریے کی توضیح و تشریح اور جدید اسلامی مملکت کے دستوری اصول کی تعبیر و تشریح کے لیے وقف کر دیا ۔

 تحریک پاکستان کا حقیقی نصب العین کیا تھا؟ ،بانیا ن پاکستان، خصوصاً علامہ ڈاکٹر محمداقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کس طرح کا پاکستان قائم کرنا چاہتے تھے؟ محمد اسد نے ان موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ پاکستان کی نظریاتی اساس کے بارے میںمحمد اسد کی آرا و خیالات ، سیکولر قومی ریاست کے قیام کے علَم برداروں کی طرف سے مملکتِ پاکستان کی نظریاتی جہت کے بارے میں پیدا کردہ شکوک و شہہات کے ازالے کے ضمن میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ذیل میں محمد اسد کے تصور و نظریۂ پاکستان پر بحث کی گئی ہے:

علّامہ محمد اسد کو اسلامی قومیت کے نظریے کی اساس پر مطالبہ و تحریک پاکستان کی صورت میں ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے دیرینہ خواب و آرزو کی تعبیر کے واضح طور پر امکانات دکھائی دیے۔چنانچہ وہ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر برطانوی قید سے رہائی پانے کے ساتھ ہی بڑے جوش و جذبے کے ساتھ اس تحریک کے ایک سرگرم داعی و ترجمان بن گئے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں مطالبہ و تحریک پاکستان کی نظریاتی اساس، اس کے حقیقی مقصد و غایت اور نصب العین کی وضاحت اور تشہیر کی اور پاکستان کو ایک نظریاتی اسلامی ریاست بنانے کا مُقدّمہ پوری قوت اور طاقت سے پیش کیا۔ اسی طرح انھوں نے بطور خاص دینی و شرعی اور سیاسی و ملّی نقطۂ نگاہ سے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے کی ضرورت و اہمیت واضح کی۔

محمد اسد نے برِّعظیم میں اپنے پندرہ سولہ سالہ قیام (۱۹۳۲ء-۱۹۴۷ء) کے دوران میں ہندو مسلم سیاست کا قریبی مشاہدہ کیا۔ وہ اس ملک کی ہندواکثریت اور اس کی نمایندہ سیاسی جماعت کانگریس کے سیاسی عزائم اور بالخصوص اس کے متحدہ وطنی قومیت کے نظریے اور اس کے مضمرات سے بخوبی واقف و آگاہ تھے۔ کانگریسی دورِ وزارت (۱۹۳۷-۱۹۳۹ء) کی مذہبی اور تعلیمی و ثقافتی پالیسیوں، مزید برآں اس دور میں ہندو آبادی کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کو ہدف بنائے جانے سے بھی وہ باخبر تھے۔ ہندو اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم ان کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے تھے۔

دریں حالات وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اس خطّے میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا اور احیائے اسلام کی غرض سے ایک آزاد و خود مختار اسلامی مملکت ’پاکستان‘ کا قیام ایک انتہائی ناگزیر ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان ایسی مسلم مملکت کے قیام کی صورت ہی میں اسلام کو اسلامیانِ ہند کی زندگی کے جملہ شعبوں میں جاری و نافذ کیا جاسکتا تھا اور ان کی اخلاقی و روحانی زندگی میں انقلاب برپا کیا جاسکتا تھا۔ اسد نے مئی ۱۹۴۷ء کو مجلہ  Arafat (عرفات ) میں What Do We Mean by Pakistan?? (ہم پاکستان کیوں بنانا چاہتے ہیں؟/ ہم کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟) کے عنوان سے اپنا ایک مقالہ شائع کیا، جس میں انھوں نے اپنے تصوّر و نظریۂ پاکستان کو وضاحت سے پیش کیا۔ اس مقالہ میں انھوں نے لکھا:

"I do believe (and have believed it for about fourteen years) that there is no future for Islam in India unless Pakistan becomes a reality; and that, if it becomes a reality here, it might bring about a spiritual revolution in the whole Muslim World by proving that it is possible to establish an ideological Islamic polity in our times no less than thirteen hundred years ago".

میرا عقیدہ ہے اور گذشتہ چودہ سال [۱۹۳۲ء کے وسط میں برِّعظیم میں اپنی آمد کے دنوں] سے میں اس عقیدے پر قائم ہوں کہ ہندستان میں اسلام کا کوئی مستقبل نہیں ماسوائے اس کے کہ پاکستان ایک حقیقت بن کر قائم ہوجائے۔ اگر پاکستان و اقعتاً قائم ہوجاتا ہے تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ جس طرح تیرہ سو سال پہلے ایک نظریاتی اسلامی نظام حکومت (Ideological Islamic Polity) قائم کرنا ممکن تھا، کم و بیش اسی طرح آج بھی ممکن ہے۔

محمد اسد نے مسلمانانِ ہند کے لیے ایک جداگانہ مملکت کا مطالبہ قومیت کے مغربی نظریے کی اساس پر نہیں بلکہ اسلامی نظریہ قومیت کی بنیاد پر کیا ہے،کہ جس کے تحت ہر نسلی، لسانی اور جغرافیائی قومیت کو سیاسی اعتبار سے حق خود ارادیت حاصل ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک اسلامیانِ ہند کے لیے ایک آزاد و خودمختار مملکت کے مطالبہ کی حقیقی و تاریخی عِلّت اور وجۂ جواز صرف اور صرف یہ نہ تھی کہ وہ اس ملک کے دوسرے باشندوں (خصوصاً ہندوؤں) سے مختلف لباس پہنتے اور مختلف زبان بولتے یا پھر مختلف انداز میں علیک سلیک کرتے تھے، یا یہ کہ انھیں آزاد و جداگانہ مملکت میں زیادہ معاشی مواقع کی خواہش اور توقع تھی اور انھیں زیادہ وسیع وکشادہ جگہ کی طلب تھی۔ بلکہ اس کا جواز صرف یہ تھا کہ وہ ایک ایسے ملک میں کہ جہاں غیر مسلموں کی اکثریت تھی اور انھیں سیاسی غلبہ بھی حاصل تھا، مسلمانوں کے لیے حقیقی اسلامی زندگی بسر کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ ایک ایسی مملکت کا قیام ضروری تھا جس میں مسلمان اپنے دین و عقیدے کے مطابق آزادانہ طور پر اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کی تعمیروتشکیل کرسکتے ہوں۔ اسد کے الفاظ میں:

The Pakistan movement, …that the real, historic justification of this movement… is to be found only in the Muslims' desire to establish a truly Islamic polity: in other words, to translate the tenets of Islam into terms of practical life.

مطالبہ پاکستان کا اگر کوئی جواز ہے تو صرف یہ کہ ایک ایسی حقیقی اسلامی مملکت قائم کی جائے کہ جہاں عملی زندگی میں اسلامی احکام و شعار رائج کیے جائیں۔

اسد کے نزدیک تحریک پاکستان کی جڑیں اسلامیان بّرعظیم کے اس جبلّی احساس و شعور میں پیوست ہیں کہ وہ ایک نظریاتی قوم ہیں اور ان کا جداگانہ تشخص صرف اور صرف اسلامی نظریۂ حیات سے وابستگی کی اساس پر قرار پاتا ہے۔ چنانچہ نہ صرف یہ کہ وہ خود مختار سیاسی وجود کے حق دار ہیں بلکہ ان پر لازم آجاتا ہے کہ وہ اپنے جداگانہ تشخّص کے تحفظ و بقا کی خاطر ایسا معاشرتی و سیاسی نظام قائم کریں، جس میں اسلامی نظریۂ حیات ان کی اجتماعی زندگی کے ہر ہر پہلو اور ہر ہر مظہر میں دکھائی دے۔ ان کی نظر میں یہی تحریک پاکستان کا حقیقی و تاریخی نصب العین ہے۔ اسد کے الفاظ میں:

As far the Muslim masses are concerned, the Pakistan movement is rooted in their instinctive feeling that they are an ideological community, and have has such every right to an autonomous, political existence … They feel and know that their communal existence is not, as in other communities,based on racial affinities or on the consciousness of cultural traditions held in common, but only, exclusively, on the fact of their common adherence to the ideology of Islam: and that, therefore, they must justify their communal existence by erecting a socio-political structure in which that ideology, the shari'ah, would become the visible expression of their nationhood.... This is the real, historic purpose of Pakistan movement the movement's intrinsic objective, the establishment of an Islamic polity in which our ideology could come to practical fruition.

جہاں تک مسلمانانِ ہند کا تعلق ہے، تحریک ِ پاکستان کی جڑیں ان کے اس جبلّی احساس میں پیوست ہیں کہ وہ ’ایک نظریاتی قوم‘ ہیں اور اسی لیے وہ ایک خودمختار، جداگانہ سیاسی وجود کے حق دار ہیں۔بالفاظِ دیگر وہ محسوس کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کا جداگانہ تشخص دوسری اقوام کی طرح مشترکہ نسلی مشابہتوں [اشتراکات] اورقرابتوں یا مشترکہ  ثقافتی اقدار و روایات کے شعور کی بنیاد برقرار نہیں پاتا، بلکہ اسلامی نظریہ و اعتقاد سے مشترکہ وابستگی کی اساس برقرار پاتا ہے۔ پس، ان پر لازم آجاتا ہے کہ وہ اپنے جداگانہ تشخص کے جواز کی خاطر ایسا معاشرتی و سیاسی نظام قائم کریں، جس میں اسلامی نظریہ  اور اعتقاد (یعنی شریعت)، ان کی قومیت کے ہرپہلو اور ہرمظہر میں سب کو دکھائی دے… یہ ہے تحریکِ پاکستان کا حقیقی و تاریخی نصب العین۔ تحریک ِ پاکستان کا اصلی نصب العین کیا ہے؟ ایک اسلامی ہیئت حاکمہ کا قیام، جس میں ہمارا نظریۂ [حیات] حقیقت کا رنگ رُوپ اختیار کرسکے۔

محمد اسد نے علامہ محمد اقبال اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کی طرح قومیت کے مغربی تصور کی پر زور طریقے سے نفی و تردید کی اور اسے اسلامی نظریۂ حیات سے متصادم قرار دیا جب کہ اس کے مقابلے میں اسلامی قومیت کے تصور کو نکھار کر پیش کیا۔ ان (اسد) کے نظریۂ اسلامی قومیت کے مطابق مسلمان ایک نظریاتی ملت ہیں نہ کہ نسلی، لسانی اور جغرافیائی وحدت۔ ان کی قومیت کی بنا صرف اسلام ہے۔ وہ دنیا کی دیگر قوموں کی طرح مشترکہ نسلی و لسانی مشابہتوں اور قرابتوں یا مشترکہ ثقافتی اقداروروایات کے شعور کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلامی نظریۂ و اعتقاد سے وابستگی کی بنیاد پر ایک ملت ہیں۔ وہ محض مسلمان ہونے کی بناء پر، خواہ وہ جغرافیائی اعتبار سے کسی بھی خطے میں آباد ہوں، ایک ملت ہیں۔ اسد کی رائے میں اسلام مسلمانوں کے جداگانہ تشخّص و وجود کے چند عوامل و خصائص میں سے صرف ایک عامل نہیں بلکہ وہ تو ان کے وجود کی تاریخی علّت اور ان کی قومیت کی حقیقی و اصلی اساس ہے۔  وہ واشگاف الفاظ میں کہتے ہیں:

’’لفظ ’قوم‘ کے رواجی مفہوم سے ہمیں کوئی نسبت نہیں ہے۔ ہم ایک قوم ہیں لیکن محض اس لیے نہیں کہ ہماری عادات، ہمارے رسوم و رواج، ہمارے ثقافتی مظاہر اس ملک میں بسنے والی دوسری قوموں سے مختلف ہیں بلکہ اس مفہوم میں ایک قوم (ملت) ہیں کہ ہم اپنے ایک خاص نصب العین (عقیدے اور نظریۂ حیات) کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنا چاہتے ہیں‘‘۔

’’اسلام سے وابستہ ہونا ہی ہمارے جداگانہ تشخص کا واحد جواز ہے۔ ہم کوئی نسلی وحدت نہیں، ہم لسانی وحدت بھی نہیں، ہر چند کہ ’اُردو‘ نے مسلم ہندستان کی زبان کے طور پر کافی ترقی کرلی ہے۔ ہم انگریزوں اور چینیوں کی طرح قوم نہیں ہیں اور نہ اس مفہوم میں قوم بن سکتے ہیں۔  …ہمارا سیاسی نصب العین ترکوں، مصریوں، افغانیوں، شامیوں یا ایرانیوں کے موجودہ نصب العین سے بالکل مختلف ہے۔ تمام مسلم اقوام میں ہم اور صرف ہم مسلمانانِ ہند ہیں، جو گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف ہٹاکر اُمت ِواحدہ کے اس تصور کی تلاش و جستجو میں نکل کھڑے ہوئے ہیں، جس کی طرف رہنمائی و ہدایت انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کے لیے کردی ہے‘‘۔

محمد اسد اسلام کو تحریک پاکستان کا پہلا و آخری حوالہ گردانتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں جدید دنیائے اسلام میں یہی ایک ایسی تحریک ہے جس کی اساس اور قوت محرّکہ اسلام ہے اور جس کا واضح نصب العین محض ایک قومی وطن کا حصول نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جہاں اسلامی نظام کا نفاذ ہو۔ ان کے نزدیک مطالبہ پاکستان کی غایت اور اس کا حتمی و آخری نصب العین محض مادی خوش حالی اور سیاسی اقتدار کا حصول نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جس میں اسلام کامل طور پر برگ و بار لائے۔محض معاشی مفادات کے تحفظ یا صرف ایک قومی وطن کے حصول کی آرزو کو وہ تحریک پاکستان کا منفی اور انتہائی پست و کمزور نصب العین قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک تحریک پاکستان اپنی ماہیت میں سیکولر نہیں بلکہ سرتاسر ایک نظریاتی تحریک تھی اور اس کی کامیابی مسلم دنیا میں اسلام کے احیاء کا محرک بن سکتی تھی۔

غرض یہ کہ محمد اسد کی نگاہ میں تحریک پاکستان کا نصب العین ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جہاں مسلم عوام کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں شریعت کی فرماںروائی قائم ہو۔ اسد کے الفاظ میں ’’ہم پاکستان اس لیے بنانا چاہتے ہیں کہ اسلام کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں ایک زندہ حقیقت بنادیں۔ ہم پاکستان اس لیے بنانا چاہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص سچی اسلامی زندگی گزار سکے۔ کسی فرد کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی بسرکرنا ممکن نہیں تاوقتیکہ پورا کا پورا معاشرہ شعوری طور پر اسلام کو ملک کا قانون و دستور نہ بنائے اور کتاب و سنت کے احکام پر صدق دل سے عمل نہ کرے۔ لیکن اس قسم کا اصلی و حقیقی پاکستان کبھی حقیقت کا جامہ نہ پہن سکے گا تاوقتیکہ ہم اسلامی قانون کو اپنے مستقبل کے لیے اصل اصول نہ بنائیں اور اسلام کے احکام کو اپنے شخصی و اجتماعی طرز عمل کی اساس نہ بنائیں‘‘۔

تحریک پاکستان کے تقاضے

دنیا کی کسی بھی سیاسی تحریک کی آئیڈیالوجی، اس کا نصب العین اور معاشرہ و ریاست کی تنظیم و تشکیل سے متعلق اس کا پروگرام خواہ کتنا ہی اعلیٰ و ارفع کیوں نہ ہو اس کے کچھ نہ کچھ تقاضے اور ابتدائی لوازمات و شرائط ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو پورا کیے بغیر وہ پروگرام عملی طور پر متشکل نہیں ہوسکتا اور حقیقت نہیں بن سکتا۔ اسی طرح کوئی بھی سیاسی و اقتصادی نظام کسی معاشرے میں یکایک وجود میں نہیں آجاتا اور نہ مناسب تیاری کے بغیر اسے کسی معاشرے میں مصنوعی طور پر جمایا جاسکتا ہے۔

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کے بقول:’’اس کی پیدائش تو ایک سوسائٹی کے اندر اخلاقی،نفسیاتی، تمدنی اور تاریخی اسباب کے تعامل سے طبعی طور پر ہوتی ہے اور اس کے لیے کچھ ابتدائی لوازم (pre-requisites)، کچھ اجتماعی محرکات، کچھ فطری مقتضیات ہوتے ہیں جن کے فراہم ہونے اور زور کرنے سے وہ وجود میں آتی ہے۔ ایک [سیاسی نظام اور طرز] حکومت صرف ان حالات کے اقتضاء کا نتیجہ ہوتی ہے جو کسی سوسائٹی میں فراہم ہوگئے ہوں۔ پھر حکومت کی نوعیت کا تعین بھی بالکلیہ ان حالات کی کیفیت پر منحصر ہوتا ہے، جو اس کی پیدائش کے مقتضی ہوتے ہیں‘‘۔

چنانچہ جب معاملہ جدید دور میں ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے قیام کا ہو، کہ جسے تحریک پاکستان کے دوران میں اسلامیانِ برِّعظیم نے اپنا مطمح نظر اور نصب العین ٹھہرایا تھا، تو یہ اصول اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرلیتا ہے۔سید ابوالاعلیٰ مودودی کی رائے میں تحریک پاکستان کے اس نصب العین کا تقاضا تھاکہ مسلم عوام کو اسلامی ریاست کے قیام کا حقیقی فہم و شعور حاصل ہوتا، انھیں اپنے نظریۂ حیات اور مقصد زندگی پر غیر متزلزل یقین ہوتا نیز ان کے مطالبات سے آگاہ ہوتے۔ ان کی سیاسی قیادت اس معیار اخلاق اور سیرت و کردار کی حامل ہو جو اسلام کے مزاج سے مناسبت رکھتا ہے۔ پھر وہ (سیاسی قیادت) اپنی جدوجہد سے معاشرے میں اسلامی طرزِ فکر اور اخلاقی روح کو پھیلانے کی کوشش کرتی، عوام کے طرز فکرو عمل کو ہر ممکن حد تک اسلام کی روح و مزاج سے ہم آہنگ بناتی۔ مزید برآں وہ مستقبل کی اسلامی ریاست کے اجتماعی نظام کے خدو خال واضح کرتی۔ عوام کو ذہنی طور پر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایثار و قربانی کا درس دیا جاتا۔ یہی اسلامی ریاست کے قیام کا ایک فطری طریقہ ہوسکتا تھا۔

تاہم، واقعی صورت حال یہ تھی کہ اجتماعی حیثیت سے اس وقت مسلمان بہت سی کمزوریوں میں مبتلا تھے۔ جو ان کی ملی طاقت کو گھن کی طرح کھاگئی تھیں۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ ان کا سوادِ اعظم اسلام کی تعلیمات اور اس کی تہذیب و معاشرت سے ناواقف تھا۔ ان میں ان حدود کا شعور تک باقی نہ رہا تھا جو اسلام کو غیر اسلام سے ممیز کرتی ہیں۔ اسلامی تربیت کے صدیوں سے فقدان کے سبب ان کے اندر کوئی اخلاقی قوت باقی نہ رہی تھی۔ غرض اسلام سے ان کا تعلق محض رسمی اورپیدائشی و موروثی تھا۔ دوسری بڑی کمزوری جس میں وہ مبتلا تھے وہ قومی انتشار اور بدنظمی تھی۔ ان میں وہ اخلاقی اوصاف ناپید تھے، جو ذاتی مفاد کو ملی مفاد پر قربان کرنے پر اکساتے ہیں۔ مسلم قوم، نفس پرستی میں مبتلا تھی۔ افلاس، جہالت اور غلامی نے ان کو ملی و اسلامی حمیّت و غیرت سے بڑی حد تک محروم کردیا تھا۔ مزید برآں مسلم قوم دو عملی کا شکار تھی۔ وہ زبانی کلامی اسلام کا دم بھرتی تھی، جب کہ اس کا عمل اسلام سے بہت دور ہٹا ہوا تھا۔ رہی سہی کسر جدید مغربی تعلیم نے پوری کردی تھی۔ اس تعلیم کے سبب سے جدید نسل کا اپنے آبائی دین سے اعتماد اٹھ گیا تھا۔ جدید تعلیم سے بہرہ ور مسلمانوں کی نئی نسل اسلامی شریعت اور قانون کو فرسودہ و دور ازکار رفتہ، جب کہ مغرب کے تہذیب و تمدن اور اس کے طرز حیات کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی و تعلیمی نظام کی تقلید میں ہی مسلمانوں کی نجات خیال کرتی تھی۔

محمد اسد کی نگاہ میں مسلم عوام کی اجتماعی اسلامی و اخلاقی حالت اور اس کی سیاسی قیادت کا طرز فکروعمل تحریک پاکستان کے اسلامی مقاصد اور ان کے مطالبات اور تقاضوں سے میل نہ کھاتا تھا۔ دریں حالات وہ تحریک پاکستان کے اسلامی مقاصد ’’پاکستان کا مطلب کیا: لا الہ الا اللہ‘‘ کے تقاضوں اور مطالبات کی وضاحت اور انھیں سیاسی قیادت کے ذہن نشین کرانے کے لیے کوشاں رہے۔ انھوں نے برملا طور پر سیاسی قائدین سے دین اسلام کو دل و جان سے اختیار کرنے اور اس کے بارے میں نیم دلانہ رویہ ترک کرنے کا تقاضا کیا۔ مزیدبرآں انھوں نے سیاسی قیادت پر مسلم عوام کی اخلاقی تربیت اور ان کے طرز فکرو عمل کو دین اسلام کے اصول و تعلیمات سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت و اہمیت بھی واضح کی۔ اسد نے مجوزہ اسلامی مملکت کے سیاسی و قانونی اور تعلیمی و اقتصادی نظام کے دستور العمل کی اسلام کے اصول و احکام کی روشنی میں تدوین کی ضرورت و اہمیت بھی واضح کی۔ انھوں نے خاص طور سے اس ضمن میں برتی جانے والی کوتاہی و غفلت اور تحریک پاکستان کے اسلامی مقاصد اور نصب العین سے برگشتگی و انحراف کے مستقبل میں ظاہر ہونے والے منفی  نتائج و عواقب سے خبردار بھی کیا۔ اسد تحریک پاکستان کے تقاضوں کے بارے میں کہتے ہیں:

...."that the foremost slogan of the Pakistan movement  is La ilaha ill' Allah; that they are imbued with the desire to establish political forms in which the Muslim world-view, Muslim ethics and Muslim social concepts could find their full expression: and you will  ask me,  in a somewhat aggrieved voice, whatever I  count all this for nothing from the Islamic point of view?   As a matter of fact, I do not " count all this for nothing:"I count it for very much  indeed. I do believe (and have believed it for about fourteen years) that there is no future for Islam in India unless Pakistan becomes a  reality; and thatٍ if it becomes a reality hereٍ it might bring about a spiritual revolution in the whole Muslim world by proving that it is possible to establish an ideological, Islamic polity in our times no less thirteen hunderd years ago. But ask yourselves: Are all leaders of the Pakistan movementٍ and the intelligentsia  which forms its spearhead, quite serious in their avowals that Islamٍ and nothing but Islamٍ provides the ultimate inspiration of their struggle? Are they really aware of what it implies when they say",The object of Pakistan is La ilaha ill'Allah?" Do we all mean the same when we talk and dream of Pakistan"?

 [آپ کہیں گے] کہ تحریک پاکستان کا پہلا نعرہ ہی ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ مقرر ہو ا ہے، یہ کہ انھوں [اسلامیانِ ہند] نے ایسی سیاست حاکمہ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس میں مسلم تصورِ کائنات، مسلم اخلاقیات اور مسلم معاشرتی افکار [ تصورات ونظریات] مکمل اظہار کی راہ پاسکیں۔ اور شاید آپ کسی قدر رنجیدگی سے مجھ سے دریافت کریں گے کہ کیا میں ان سب باتوں کو اسلامی نقطۂ نظر سے بے وقعت اور غیر اہم خیال کرتا ہوں؟ بات یہ ہے کہ میں ہرگز ہرگز ان کو بے وقعت اور غیر اہم خیال نہیں کرتا۔ میری نظر میں یہ بہت وقیع اور اہم ہیں۔ میرا عقیدہ ہے(اور گذشتہ چودہ سال سے میں اس عقیدے پر قائم ہوں) کہ پاکستان ایک حقیقت بن کر قائم ہوجائے۔ اگر پاکستان واقعی قائم ہوجاتا ہے، تو پورے عالم اسلام میں ایک روحانی انقلاب آسکتا ہے، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جس طرح تیرہ سو سال پہلے ایک نظریاتی اسلامی ہیئتِ حاکمہ قائم کرنا ممکن تھا، کم و بیش اسی طرح آج بھی ممکن ہے۔ لیکن ہمیں ایک سوال کا جواب دینا ہوگا: کیا تحریک پاکستان کے تمام قائدین اور اہل دانش جو تحریک کے ہراول ہیں، کیا وہ اپنے ان دعووں میں سنجیدہ اور مخلص ہیں کہ اسلام، اور صرف اسلام ہی ان کی جدوجہد کا اولیں محرک ہے؟ جب وہ کہتے ہیں کہ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘ تو کیا وہ اس کا مطلب بھی جانتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ پاکستان کا نظریہ اور پاکستان کا خواب کیا ہم سب کے ذہنوں میں ایک ہی ہے یا مختلف و متفرق؟‘‘

 اسد کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ اگر ہمارے پیش نظر ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے تو ضروری ہے کہ ہم قوم کو اس مقصد کے حصول کے لیے اخلاقی حیثیت سے بھی تیار کریں۔ صرف سیاسی جدوجہد اس کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے علمی و فکری، اخلاقی و تہذیبی اور سیاسی، غرض ہر میدان میںکام کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر حقیقی مقصد کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا۔اسد سیاسی قیادت سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ خود اپنے اور عامّۃ النّاس کے طرز فکر و عمل کو اسلامی نظریۂ حیات سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ بنانے کا اہتمام کریں گے تاکہ وہ کل کو اسلامی مملکت کی تشکیل و تعمیر کے سلسلہ میں گراں بار ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔ اسد کو اس حقیقت کا گہرا ادراک و شعور تھا کہ گو مسلم عوام (اسلامیانِ ہند) اسلام سے جذباتی وابستگی تو ضرور رکھتے ہیں، لیکن نہ تو اسلامی ریاست کے بارے میں کوئی واضح تصوّر ان کے سامنے ہے اور نہ صحیح معنوں ہی میں وہ اس تصوّر کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ یہ اس لیے کہ صدیوں سے ان کا رشتہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے کٹا ہوا ہے اور صدیوں سے وہ ضعیف الاعتقادی اور سیاسی نکبت و ادبار کے عمیق کنوئیں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

 مسلم قوم کی اجتماعی حالت کی اصلاح کی ضرورت سے متعلق اسد کا کہنا یہ تھا کہ ہمارا موجودہ اخلاقی قدوقامت اس معیار سے بہت پست ہے جس کا تقاضا اسلام ہم مسلمانوں سے کرتا ہے۔ تہذیب کی روح کا ہم میں فقدان ہے۔ ذاتی مفاد کی خاطر جھوٹ بولنے اور وعدے وعید توڑنے سے ہمیں عار نہیں۔ بدعنوانی، خود غرضی، دھوکا بازی، فریب کاری، خود غرضی اور اقربا پروری ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ مختصر یہ کہ ہم اپنے وجود کے سرچشمے یعنی اسلامی تعلیمات سے بہت دور جاپڑے ہیں۔ اگر ہم موجودہ اخلاقی پستی سے اوپر اٹھنے کی ذرا بھی کوشش نہ کریں تو ایسے حالات میں ہم کیوں کر اسلامی مملکت پاکستان کے شایانِ شان شہری بن سکتے ہیں؟ ایسے حالات میں ہم کیوں کر حقیقی اسلامی مملکت قائم کرسکتے ہیں۔ اگر مسلمان اپنے موجودہ طور طریق اور اپنے اخلاقی معیار فوری طور پر تبدیل نہیں کریں گے اور ہر قدم پر شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کی روش ترک نہیں کریں گے تو نظریۂ پاکستان میں سے اس کی روح غائب ہوجائے گی اور یوں پاکستان کو اسلام کی جدید تاریخ میں جو منفرد حیثیت حاصل ہونے والی ہے وہ حاصل نہ ہوسکے گی۔

محمد اسد تحریک پاکستان کے دنوں میں مسلم عوام کی اخلاقی و روحانی اصلاح اور صحیح اسلامی تربیت (دینی و فکری و عملی) کی غرض سے سیاسی قیادت کے دوش بدوش روحانی و نظریاتی قیادت کی موجودگی کو بھی بے حد ضروری خیال کرتے تھے۔ ایسی قیادت جو مسلم عوام کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آگاہ کرسکے، فکری و نظری اور عملی میدان میں ان کی رہنمائی کرسکے اور ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے سلسلہ میں انھیں ایثار اور قربانی پر آمادہ و مستعد کرسکے، جو ان میں اسلام کی روح کو سمودے اور انھیں اخلاقی اصولوں کی علَم بردار ایک نظریاتی جماعت بنادے۔

اسد کو بخوبی احساس تھا کہ مسلم لیگی قیادت نے مسلم عوام کی صحیح رخ پر تربیت کے معاملہ میں کسی بصیرت اور دُور اندیشی سے کام نہیں لیا بلکہ اس ضمن میں اس نے غفلت اور اغماض و چشم پوشی کا مظاہرہ کیا۔ وہ زبانی کلامی اسلام سے وابستگی کا دم تو بھرتی رہی، لیکن اس نے نہ تو اپنے اخلاق کو اسلامی تقاضوں اور مطالبات کے مطابق ڈھالا اور نہ مسلم عوام ہی کے طرز فکر وعمل کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ اسد نے اس غفلت و کوتاہی پر مسلم لیگی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا:

How many of our leaders, and of our intelligentsia in general, have an Islamic polity in view when they appeal to the Muslims to close their ranks and to sacrifice their all, if necessary, for the achievement of Pakistan.? But what I blame some of our leaders for, is their apparent inability to rise to the spiritual greatness displayed by the Muslim masses in this decisive hour of their destiny, and deliberately to guide those masses towards the ideal which is fundamentally responsible for their present upheaval. To put it into simple words: our leaders do not seem to make a serious attempt to show that Islam is the paramount objective of their struggle. If the meaning of our struggle for Pakistan is truly to be found in the words la ilaha ill' Allah, our present behaviour must be a testimony of our coming nearer and nearer to this ideal, that is, of becomming better Muslims not only in our words but in our actions as well. It should be our leaders' duty to tell their followers that they must become better Muslims today in order to be worthy of Pakistan tomorrow.

 جب ہمارے قائدین اور ہمارے اربابِ دانش، حصول پاکستان کی خاطر مسلمانوں سے اتحاد، اخوت، ایثار اور ضرورت پڑنے پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کی اپیلیں کرتے ہیں، تو ان [میںسے کتنے ہیں، جن ]کے ذہن میں ’’ اسلامی ہیئتِ حاکمہ‘‘ کا نقشہ کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ درست نہیں ہے کہ وہ تحریک پاکستان کے منفی پہلو سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ یہ منفی پہلو نا ممکنات سے ہے، کہ غیر مسلم غلبے کے تحت مسلمانوں کا آزادانہ زندگی گزارنا۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ اکثر و پیشتر تعلیم یافتہ مسلمانوں اور ہمارے اکثر سیاسی لیڈروں کے نزدیک اسلام محض غیر مسلموں سے فرقہ وارانہ جدوجہد میں ایک جنگی تدبیر ہے، بجائے اس کے کہ اسلام مقصود بالذات ہوتا۔ گویا اسلام ہماری منزلِ مقصود نہیں ، ایک منطقی استدلال ہے، ایک امنگ نہیں، ایک نعرہ ہے۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ ہمارے اکثر رہنما نام نہاد مسلم قوم کے لیے زیادہ سیاسی قوت اور زیادہ معاشی مراعات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، بجائے اس کے کہ وہ نام نہاد مسلم قوم کو ایک سچی اسلام قوم بنانے کی کوشش کرتے؟

اسد کا کہنا یہ تھا کہ اگر قائدین تحریک پاکستان و اقعتاً اسلام چاہتے ہیں، اگر وہ واقعی اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انھیں تحریک پاکستان کے دنوں ہی میں اپنے طرز فکر و عمل کو تبدیل کرنا ہوگا، اس کو اسلامی تعلیمات کے تابع بنانا ہوگا اور اسلام کے بارے میں نیم دلانہ رویہ ترک کرنا ہوگا۔ انھیں اپنے معاشرتی رویے سے یہ ظاہر و ثابت کرنا ہوگا کہ وہ پوری سنجیدگی سے اسلام کو ایک سچا اصول و نظریہ تسلیم کرتے ہیں اور محض اسے ایک سیاسی نعرہ نہیں سمجھتے۔اسد اپنے رہنماؤں سے یہ توقع رکھتے تھے کہ ان کا طرز عمل اس نظریے کے عین مطابق ہو جس کے تحفظ کا وہ اپنی زبان سے دعویٰ کرتے ہیں۔

اسد تحریکِ پاکستان کے دنوں میں ہی مستقبل کی اسلامی مملکت کے سیاسی و معاشی ، تعلیمی و معاشرتی اور قانونی و عدالتی نظام کی اسلامی اصول و تعلیمات کی اساس پر تعمیروتشکیل کے لیے ان شعبوں سے متعلق ایک مفصل دستور العمل کی ترتیب و تدوین کو از حد ضروری خیال کرتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے سیاسی قیادت کو اس سلسلہ میں مسلمان ماہرین قانون اور علما و دانش وروں پر مشتمل ایک بااختیار مجلس کے قیام کا مشورہ دیا۔ اسد کا کہنا تھا کہ اسلامی و نظریاتی قیادت کی ضرورت آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگر مسلم لیگ کے اسلامی نصب العین اور اغراض و مقاصد کو ہماری سیاست پر عملاً اثر انداز ہوناہے تو اربابِ دانش کی ایک بااختیار مجلس مقرر کرنی چاہیے جو ان اصولوں کی توضیح و تشریح کا فریضہ انجام دے جس پر پاکستان کی بنیاد استوار کی جائے گی۔ مسلمان واضعین قانون اور اربابِ دانش کو فوراً ذہنی طور پر خود کو تیار کرلینا چاہیے کہ نئی اسلامی ریاست کا سیاسی نظام کیسا ہوگا؟ کس قسم کا معاشرہ استوار کرنا ہوگا اور قومی مقاصد کیا ہوں گے؟ کیا ہماری ریاست معاصر مسلم ریاستوں کی طرز کی ایک سیکولر قومی ریاست ہوگی یا پھر جدید تاریخ میں اس شاہراہ پر پہلا قدم ہوگا جو انسانِ کامل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری انسانیت کو دکھائی تھی؟

قیام پاکستان اور اسلامی نظریاتی ریاست کے تصوّر کی ترجمانی

محمد اسد نے قیام پاکستان کے بعد اس ملک میں اسلامی نظریاتی ریاست کی تشکیل کا مُقدّمہ بڑی قوت و طاقت سے پیش کیا۔ انھوں نے بڑی درد مندی اور اخلاص سے اس وقت کی سیاسی قیادت اور مسلم عوام کو تحریک پاکستان کے اسلامی مقاصد اور نصب العین ذہن نشین کرانے کی کوشش کی۔ انھوں نے خاص طور پر سیاسی قیادت کو تحریک پاکستان کے دوران مسلم عوام سے اس نوزائیدہ مملکت کے سیاسی و دستوری، عدالتی و قانونی، معاشرتی اور تعلیمی و اقتصادی نظام کو قرآن حکیم اور تعلیمات نبویؐ پر استوار کرنے کے سلسلے میں کیے گئے وعدوں کے ایفاء کی تذکیرویاد دہانی کرائی۔ انھوں [اسد] نے ستمبر ۱۹۴۷ء میں ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والی اپنی ایک تقریر میں کہا:

Our struggle for Pakistan and our ultimate achievement of independence drew its force from the fundamental desire on the part of Muslims to translate their own world-view and their own way of life into terms of political reality.When we demanded a state in which the Muslim nation could freely develop its own traditions, we demanded no more than our just share of God's earth; we asked for no more than to be allowed to live in peace, to build a commonwealth in which the genius of Islam could freely unfold, conferring light and happiness not only on Muslims but also on all the people of other communities who would choose to share our living space with us.

تحریک پاکستان کے لیے ہماری جدوجہد اور بالآخر ہمارا آزادی حاصل کرلینا، اس سب کی قوت محرّکہ دراصل اسلامیانِ ہند کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے مذہب و عقیدے اور تصوّرِ حیات و کائنات کے مطابق ایک ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے ایک ایسی ریاست کا مطالبہ کیا تھا کہ جس میں ملت اسلامیہ آزادانہ طور سے اپنی تہذیبی و معاشرتی اقداروروایات کو پروان چڑھاسکے۔ ہم نے ایک ایسی مملکت کا تقاضا کیا تھا جس میں اسلام کی عبقریت اور قوت و صلاحیت کامل طور پر آشکار ہوسکے۔

محمد اسد اپنی ایک دوسری تقریر میں فرماتے ہیں:

Our struggle for Pakistan was from its very beginning inspired by our faith in Islam. There is no denying the fact that the Muslims of this sub-continent had a definite ideological goal before themselves when they started on their trek towards an Islamic State. We did not desire a "national" state in the usual sense of the word...

جب ہم پاکستان کا مطالبہ کررہے تھے تو ہماری نگاہوں کے سامنے ایک بڑا واضح اور معین نصب العین تھا کہ ہم اسلامیانِ برّعظیم پاک وہند اپنے لیے ایک ایسا ملک حاصل کریں کہ جس میں ہم اپنے تصور کائنات اور اپنے اخلاقی تصورات و معیارات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ ہم نے واضح و متعین طور پر ایک اسلامی ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ اس کے سوا ہمارا کوئی اور مطمح نظر اور غایت نہ تھی۔

محمد اسد نے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے تصوّر پاکستان کے بارے میں بعض ذہنوں میں موجود ابہام اور الجھاؤ کو دور کرنے پر بھی توجہ دی۔ انھوں نے سیکولر و مغرب زدہ افراد کے اس نقطۂ نظر کی تردید و مخالفت کی ہے کہ اقبال اور قائداعظم پاکستان کو ایک سیکولر قومی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ محمد اسد کی رائے میں ان دونوں بانیانِ پاکستان نے اسلامیانِ ہند کے لیے آزاد مملکت کا مطالبہ اسلامی قومیت کی بنیاد پر کیا تھا۔ دونوں ایک ایسی مسلم ریاست کے قیام کے متمنی اور آرزومند تھے کہ جہاں قانونِ اسلامی یعنی شریعت کی فرمانروائی ہو، مسلمان اپنے دین و عقیدے اور تہذیبی و معاشرتی اقداروروایات کے مطابق اپنے اجتماعی ادارے تشکیل دے سکیں۔ وہ ایک ایسی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے جہاں اسلامی نظریۂ حیات کا بول بالا ہو، اور زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا کامل طور سے اظہار ہو۔ دونوں ہی ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے متمنی تھے۔محمد اسد لکھتے ہیں:

Whenever Iqbal spoke of God's Kingdom on earth, and whenever the Quaid-i-Azam demanded a political structure in which the Muslim nation could freely develop its own institutions and live in accordance with the genius of the shari'ah, both meant essentially the same. The goal before them was the achievement of a state in which the ideology common to all of us, the ideology of Islam, would fully come into its own: a polity in which the Message of Muhammad (peace and blessings upon him)would be the foundation of our social life and the inspiring goal of all our future endeavours. The Poet-philosopher put greater stress on the spiritual aspect of our struggle, while the Quaid-i-Azam was mainly concerned with outlining its political aspect: but both were one in their intense desire to assure to the Muslims of India a future on Islamic lines.{ FR 740 }

جب بھی اقبال نے زمین پر خدائی مملکت کی بات کی، یا جب کبھی قائداعظم نے ایک ایسے سیاسی ڈھانچے کا مطالبہ کیا، جس میں مسلم قوم آزادی سے اپنے ادارے قائم کرسکے، اور شرعی تصورات کے مطابق اپنی زندگی کو ترتیب دے سکے، تو ان دونوں کا اصل مقصد بھی یہی تھا۔ ان کے سامنے ہدف ایک ایسی ریاست کا حصول تھا، جس میں وہ نظریہ جو ہم سب کے درمیان مشترک ہے، اسلام کا نظریہ، مکمل طور پر رُوبہ عمل آسکے: ایک ایسا سیاسی نظام جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہماری معاشرتی زندگی کی بنیاد ہے اور ہم اپنے مستقبل کے اقدامات کے لیے اسی سے جذبہ حاصل کرسکیں۔ فلسفی شاعر [اقبال] نے ہماری جدوجہد کے روحانی پہلو پر بہت زیادہ زور دیا، جب کہ قائداعظم کی زیادہ تر توجہ اس کی سیاسی جہت کی خاکہ سازی کی طرف رہی۔ مگر دونوں ہندی مسلمانوں کے لیے اسلامی خطوط پر مبنی مستقبل کا حصول یقینی بنانے کے معاملے میں ایک تھے۔

محمد اسد کا یہ بیان علامہ محمد اقبال اور قائداعظم کے تصور پاکستان کے بارے میں دانستہ طور پر پیدا کیے جانے والے ابہام کو دور کردیتا ہے۔ وہ(اسد) اگر علامہ محمد اقبال کے مزاج شناس تھے، تو قائداعظم محمد علی جناح کے افکاروخیالات اور ان کے تقاریر و بیانات سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ ان کے خیال میں قائداعظم پاکستان کو بہرحال ایک اسلامی ریاست ہی بنانا چاہتے تھے:

ایک ایسی ریاست جو ہمارے نظریۂ حیات (اسلام) سے ہم آہنگ ہو، جس کا دستور اور نظام حکومت (Polity) اسلام کے اصول و تعلیمات پر استوار کیا گیا ہو، جو اجتماعی زندگی کی تعمیروتشکیل میں قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کرتی ہو۔

محمد اسد کو اس امر کا بھی بخوبی احساس ہے کہ عصر جدید میں ایک اسلامی نظریاتی ریاست کا قیام کوئی آسان کام نہیں۔ اس دور میں، جب کہ چہار سُو نسلی و لسانی اور جغرافیائی بنیادوں پر وطنیت و قومیت کا تصور سکۂ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ سیکولر قومی ریاستوں کا مشرق و مغرب میں دور دورہ ہے۔ بہت سے لوگوں خصوصاً مغرب کے افکاروخیالات، اس کی تہذیب و معاشرت اور سیاسی نظام سے حد درجہ مرعوب و متاثر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو اسلامی نظریاتی ریاست کا تصوّر بڑا عجیب و غریب سا لگتا ہے۔ وہ اسے عصر جدید کے تقاضوں اور اس کے میلانات و رجحانات کے بڑا ہی ناموافق خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ اس نظریے کی مخالفت پر کمربستہ ہیں۔

بایں ہمہ، اسد اسلامی ریاست کے قیام کے عزم پر مضبوطی سے قائم دکھائی دیتے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ موجودہ زمانے میں نظریاتی اسلامی ریاست کا نظریہ کچھ بہت مقبول نہیں، بڑے یقین سے یہ دعوت پیش کرتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کی یہ شان نہیں کہ باقی دنیا کی طرح فتنہ و فساد اور سیکولر قومی ریاست کے قیام کے راستے پر چلے۔ ان کے نزدیک ہم مسلمان ایک نظریاتی ملت ہیں، ایک ایسی ملت جو زندگی کے ایک قطعی نصب العین اور اخلاقی قدروں کے ایک قطعی پیمانے پر متفق ہو۔ لہٰذا، ہمارا کام یہ ہے کہ اسلام کی ازلی و ابدی تعلیمات پر لبّیک کہتے ہوئے ایک نظریاتی ریاست کی تأسیس کا بیڑا اٹھائیں۔

 محمد اسد نے پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کے مقدّمے کو پیش کرتے ہوئے اس کے جواز کے سلسلے میں تین امور کو اپنے استدلال کی بنیاد بنایا ہے:

            ۱-         اسلامی ریاست کا قیام سراسر ایک دینی و شرعی ضرورت ہے جس کو پورا کیے بغیر مسلمان سچی اسلامی زندگی نہیں گزار سکتے۔ بدیں وجہ اسلامیانِ پاکستان کا یہ شرعی فریضہ ہے کہ وہ اسلامی ریاست کے قیام و تشکیل کا بیڑا اٹھائیں۔ محمداسد نے مجلہ عرفات کے شمارہ بابت مارچ ۱۹۴۸ء میں لکھا تھا:

Our Struggle for the attainment of Pakistan has been fought on an ideological platform. We have maintained, and we do maintain today, that we Muslims are a not nation by virtue of our adherence to Islam. To us, religion is not merely a set of beliefs and moral rules, but a code of practical behaviour as well. Contrary to almost all other religions. Islam does not context itself with influencing the life of the spirit alone, but aims also ate shaping all the physical aspects of our life in accordance with the Islamic World-view. In the grand scheme propounded to us in the Qur'an and in the Life-example of the Holy Prophet, all the various aspects of human existence - moral and physical, spiritual and intellectual, individual and communal - have been taken into consideration as parts of the indivisible whole which we call "human life".It follows, therefore, that we cannot live a truly Islamic life by merely holding Islamic beliefs, We must do far more than that. If Islam is not to remain an empty word, we must also co-ordiante our outward behaviour, individually and socially, with the beliefs we profess to hold.{ FR 784 }

ہم نے قیام پاکستان کے لیے جو جدوجہد کی تھی وہ اسلامی مطمح نظر کے ماتحت کی۔  ہم نے کہا تھا اور آج بھی کہتے ہیں کہ مسلمان ایک ایسی ملت ہیں جس کا دین اسلام ہے۔ ہمارے نزدیک مذہب کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ محض ایک مجموعۂ عقائد اور ضابطۂ اخلاق ہے۔ وہ محض اس بات پر راضی نہیںہوجاتا کہ اپنا تعلق صرف عالم روحانیات سے رکھے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہماری زندگی کے مادی پہلو بھی اس کے نظریۂ حیات کے مطابق ڈھل جائیں۔قرآن حکیم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ میں زندگی کا جو زبردست نظام ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے وہ انسانی زندگی کے جملہ مظاہر اخلاقی اور مادی، روحانی و ذہنی اور انفرادی و اجتماعی کا جامع ہے۔ ہم (مسلمان) محض اسلامی عقائد کے اقرار سے اسلامی زندگی نہیں بسر کرسکتے بلکہ ہمیں اپنے اخلاق وکردار اور انفرادی و اجتماعی زندگی کو ہر لحاظ سے اسلام کے نظام حیات سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا۔ اسلام کا یہی وہ خاص پہلو ہے جس کی بنیاد پر ہم نے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا مطالبہ کیا، کیونکہ صرف ایک آزاد ریاست ہی میں ہم حکومت و سیاست، قانون اور اجتماعی نظم و نسق کے سارے سازوسامان کے ساتھ اس نظام کی عملاً تعمیل کرسکتے ہیں، جو اسلام نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ ہے وہ نصب العین جس کی خاطر ہم نے ایک آزاد مملکت کے حصول کی جدوجہد کی۔

            ۲-         محمداسد کی رائے یہ تھی کہ پاکستان میں اسلامی نظریاتی ریاست کا قیام احیائے اسلام کے نقطۂ نگاہ سے بھی بے حد ضروری ہے۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پرجب کہ بہت سے مسلم ممالک مغرب کی نو آبادیاتی طاقتوں کے تسلط سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے، اور کچھ آزاد بھی ہورہے تھے اور انھیں معاشرہ و ریاست کی تشکیل و تعمیر نو کا کڑا چیلنج درپیش تھا۔ محمد اسد اس خیال کے محرک و داعی بن کر سامنے آئے کہ پاکستان میں حقیقی اسلامی ریاست کا قیام ان ممالک میں اسلامی ریاستوں کے قیام کے لیے ایک زبردست جذبۂ محرکہ کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ وہ اسلامی ملکوں میں احیائے اسلام کی تحریک کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اسد کی رائے میں پاکستان کی حقیقی اسلامی ریاست مسلم ممالک کے مابین اتحاد و یک جہتی کا بھی ایک بڑا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے اور اتحاد عالم اسلامی کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔

 اسد کا خیال تھا کہ’’ اگر ہم پاکستان کے لوگ اس مقصد میں کامیاب ہوجائیں کہ ہماری ریاست سرتا سر اسلامی ہو اور اگر ہم اس مایوس اور نااُمید دنیا کو سچ مچ بتاسکیں کہ بنی نوع انسان کے تمام سیاسی و اجتماعی امراض کا مداوا، اسلام اور صرف اسلام کے پاس ہے تو ساری دنیا کے مسلمان مجبور ہوجائیں گے کہ جلد یا بہ دیر ہمارے نقش قدم پر چلیں‘‘۔

 اسد گویا ’’روشن خیال دانش وروں‘‘ کے اس نقطۂ نظر کو معقول خیال نہیں کرتے کہ ’’دین اسلام کی بنیاد پر کسی ریاست کے لیے مطالبہ، اسلام کے بین الاقوامی اور عالمگیریت کے پہلو سے بآسانی اور پوری طرح سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا‘‘۔

            ۳-         جناب اسد نے پرزور انداز میں یہ نقطۂ نظر پیش کیا کہ پاکستان میں ایک حقیقی اسلامی ریاست کا قیام خود اس ملک کے تحفظ و بقا اور اس کی سالمیت و یکجہتی کے لیے بھی از حد ضروری ہے، کیونکہ پاکستان کی مسلم آبادی مختلف نسلی و لسانی قومیتوں کا مجموعہ ہے، جنھیں صرف اسلام سے شعوری اور غیر متزلزل وابستگی ہی یکجا و متحد رکھ سکتی ہے۔ صرف اور صرف اسلام ہی ان کے مابین اتحاد ویگانگت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

            ۴-         پاکستان کو اپنے قیام کے ساتھ ہی جن گوناں گوں اقتصادی و مالی مشکلات کا سامنا تھا اور عوام کی بھاری اکثریت جس تنگدستی و افلاس سے دوچار تھی، وہ سب حالات ایسے تھے کہ اس نوزائیدہ ملک کے کمیونزم کے بڑھتے ہوئے سیلاب میں بہہ جانے کے قوی خدشات و خطرات موجود تھے۔ دریں صورت محمد اسد پاکستان میں اسلامی نظریۂ حیات کی ترویج و استحکام اور اسلام کے نظام سیاست و حکومت اور اقتصادی و سماجی عدل کے قیام کو ان مزعومہ خطرات کے سدّباب کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں کمیونزم، کہ جس نے ایک بڑے طاقت ور نظریۂ حیات (آئیڈیالوجی) کا روپ اختیار کرلیا تھا، کا مقابلہ ایک زیادہ پُر کشش و جاندار نظریۂ حیات، یعنی اسلام ہی کرسکتا تھا۔  (جاری)