اسلامی تحریک کی کامیابی کے لیے جتنے بھی اصول اور ضابطے ہوسکتے ہیں، ان میں سے ایک اہم ترین اصول اطاعتِ نظم ہے۔ یہ محض ایک انتظامی امر نہیں بلکہ ایمان اور بندگی کا لازمی تقاضا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات ہوں یا صحابہ کرامؓ کی زندگیاں، اسلامی تاریخ کے ہر دور میں اطاعت اور نظم و ضبط کو اجتماعی بقا اور فکری تسلسل کی شرطِ اوّل قرار دیا گیا ہے۔
اطاعت، لغت میں فرماںبرداری اور حکم بجا لانے کو کہتے ہیں۔ لفظ ’اطاعت‘ کا اصل مادہ ط-و-ع ہے (طوع ، اطاع ، یطیع ، أطاعۃً وھو مطیع وغیرہ)۔ یہ عربی زبان کا نہایت بامعنی مادہ ہے جس میں اطاعت، رضا، نرمی، خوشی سے ماننا اور آسانی سے قبول کرنا جیسے مفاہیم پائے جاتے ہیں:
ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَہِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْہًا۰ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ۱۱ (حم السجدۃ۴۱:۱۱) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت دھواں تھا۔ اُس نے آسمان اور زمین سے کہا:’’ وجود میں آجاوٴ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو‘‘۔ دونوں نے کہا:’’ ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح‘‘۔
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِ اللہِ۰ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِہِمَا۰ۭ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا۰ۙ فَاِنَّ اللہَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ۱۵۸(البقرہ ۲:۱۵۸)یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے یہ گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں (پہاڑیوں) کے درمیان سعی کرےاور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اوروہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔
گویا اطاعت کے معنی خوش دلی، رضا اور اختیار کے ساتھ کسی حکم کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اطاعت کا مفہوم، اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع، اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ضمن میں اُولی الامر یا جماعتی نظم و قیادت کے فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرکے ان کی اطاعت کرنا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی تحریک، چاہے وہ دینی ہو یا دنیوی، اپنے مقصد کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتی، جب تک اس کے کارکنان میں نظم و ضبط اور اطاعتِ نظم نہ ہو۔ اگر ایک فوج کے سپاہی اپنی مرضی کرنے لگیں، یا ایک کارخانے کے مزدور نظم کو توڑ دیں، تو نتیجہ تباہی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ پھر بھلا اقامت ِدین کی عظیم تحریک بغیر نظم و ضبط اور اطاعتِ نظم کے کیسے آگے بڑھ سکتی ہے؟فرمانِ الٰہی ہے:
وَاذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَہُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِہٖٓ۰ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۰ۡ (المائدہ۵:۷)یاد کرو اللہ کے اس انعام کو اور اس پختہ عہد کو جس کو تم نے پختگی سے باندھتے ہوئے اقرار کیا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔
یہ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ ایک ایمانی رویہ ہے۔ ایک میثاق، یعنی پختہ عہد ہے، ایک طرزِ زندگی ہے اور یہی اطاعتِ نظم کی اساس ہے۔ قرآن مجید نے بار بار یہ حقیقت واضح کی ہے کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عملی عہد ہے۔ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا دراصل مؤمن کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔ ایمان والے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو سن کر اپنے اختیار کو اللہ کی اطاعت کے تابع کر دیتے ہیں۔ یہاں سَمِعْنَا صرف سماعت نہیں بلکہ قبولیت کا اعلان ہے، اور اَطَعْنَا صرف رسمی اطاعت نہیں بلکہ دل کی رضامندی اور عملی پیروی ہے۔ گویا یہ ایمان کے حقیقی تقاضے اور بندگی کی علامت ہیں۔
جماعت اسلامی کا رکن جب اطاعتِ نظم کا عہد کرتا ہے تو وہ اسی قرآنی روح کو دُہراتا ہے۔ وہ عہد کرتا ہے کہ ’’میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنا میری زندگی کا نصب العین ہے اور میں نے دستور جماعت اسلامی کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور میں عہد کرتا ہوں کہ اس دستور کے مطابق نظام جماعت کا پوری طرح پابند رہوں گا‘‘۔ (دستور جماعت اسلامی)
یہ الفاظ کوئی رسمی اعلان نہیں بلکہ یہ اس میثاق کا اعادہ ہے جسے قرآن نے یاد رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک فرد رکنِ جماعت بنتے ہوئے جب یہ اقرار کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے ایمان کی تجدید کرتے ہوئے اپنی آزادی و خواہشات کو جماعت کے اجتماعی نظم کے تابع کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
مولانا مودودیؒ ’سمع و طاعت اور نظمِ جماعت کی پابندی‘ کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں: ’’آپ چند مٹھی بھر آدمی ہیں جو تھوڑے سے وسائل لے کر میدان میں آئے ہیں اور کام آپ کے سامنے یہ ہے کہ فسق اور جاہلیت کی ہزاروں گنی زیادہ طاقت اور لاکھوں گنے زیادہ وسائل کے مقابلے میں نہ صرف ظاہری نظامِ زندگی کو ہی بلکہ اس کی باطنی روح تک کو بدل ڈالیں ۔ آپ خواہ تعداد کے لحاظ سے دیکھ لیں یاوسائل کے لحاظ سے، آپ کے اور ان کے درمیان کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ اب آخر ا خلاق اور نظم کی طاقت کے سوا اور کون سی طاقت آپ کے پاس ایسی ہو سکتی ہے جس سے آپ ان کے مقابلے میں اپنی جیت کی امید کر سکیں؟ آپ کی امانت و دیانت کا سکہ اپنے ماحول پر بیٹھا ہوا ہو اور آپ کا نظم اتنا مضبوط و زبردست ہو کہ آپ کے ذمہ دار لوگ جس وقت جس نکتے پر جتنی طاقت جمع کرنا چاہیں، ایک اشارے پر جمع کر سکیں ، تب ہی آپ اپنے مقصدِ عظیم میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اقامتِ دین کی سعی کرنے والی ایک جماعت میں جماعت کے اُولی الامر کی اطاعت فی المعروف دراصل اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہی ایک جز ہے۔ جو شخص اللہ کا کام سمجھ کر یہ کام کر رہاہے اور اللہ ہی کے کام کی خاطر جس نے کسی کو اپنا امیر مانا ہے ، وہ اس کے جائز احکام کی اطاعت کر کے دراصل اس [امیر] کی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے۔ جس قدر اللہ سے اور اس کے دین سے آدمی کا تعلق زیادہ ہوگا ، اتنا ہی وہ سمع و طاعت میں بڑھا ہوا ہوگا، اور جتنی اس تعلق میں کمی ہوگی، اتنی ہی سمع و طاعت میں بھی کمی ہوگی۔ (ہدایات )
یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ ’کیا اطاعتِنظم فرد کی آزادی کو سلب کر لیتی ہے؟‘
درحقیقت اطاعت، غلامی نہیں بلکہ نظم و ضبط (discipline) ہے۔ فرد کی اصل آزادی یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات کا غلام نہ بنے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو ایک اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے وقف کردے۔ جماعت کے عہدِ رکنیت میں اطاعت کا وعدہ، فرد کو انتشار اور اپنی خواہشات سے بچا کر اس کی صلاحیتوں کو ایک بڑی اجتماعی قوت کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک کارکن ' سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ' کہتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کو محدود کرتے ہوئے اپنے مقصد اور مشن کو وسیع کرتا ہے۔ ایمان والے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہہ کر اللہ کے احکام کے سامنے جھکتے ہوئے اپنے دینی قافلے کے نظم و ضبط کی پابندی کرکے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ پابندی اور ڈسپلن ہے جو صحابہؓ کی جماعت کو دنیا میں فاتح اور آخرت میں جنّت کا وارث بنا گیا اور یہی وہ اصول ہے جو آج بھی اسلامی تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
اسلام میں اطاعت کا مفہوم، دین کے عقائدی اور تشریعی اصولوں سے قوت اور طاقت حاصل کرنا ہے۔ اس لیے کہ اسلام میں اطاعت دراصل اللہ ہی کی ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ کا حکم ہے کہ معروف میں امیر اور نظم کی اطاعت کی جائے۔اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۰ۚ (النساء۴:۵۹) ’’اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں‘‘۔
اس کی تعبیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس طرح فرمائی:’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی‘‘ (صحیح مسلم:۴۷۴۷) ۔اس لیے معروف میں اطاعت ِ نظم دراصل اللہ کی اطاعت ہوتی ہے اور معروف میں اس کی نافرمانی اللہ کی نا فرمانی۔
صحابہ کرامؓ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پائی تھی اور وہ نہ صرف اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کی اطاعت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ معروف میں امیر کی بھی پوری طرح اطاعت کرتے تھے۔ چند واقعات تو انتہائی متاثر کن ہیں، مثلاً غزوۂ تبوک میں صرف سُستی کی بناپر پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کا واقعہ پوری جماعت صحابہؓ کی اطاعت ِ نظم کی حیرت انگیز مثال ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے:وَّعَلَي الثَّلٰثَۃِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللہِ اِلَّآ اِلَيْہِ۰ۭ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ لِيَتُوْبُوْا۰ۭ اِنَّ اللہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۱۱۸ (التوبہ۹:۱۱۸)’’اور اُن تینوں کو بھی اُس نے معاف کیا جن کے معاملے کو ملتوی کر دیا گیا تھا ۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجوداُن پر تنگ ہوگئی اور اُن کی اپنی جانیں بھی اُن پر بار ہو نے لگیں اور انھوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامنِ رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے اُن کی طرف پلٹا تاکہ وہ اُس کی طرف پلٹ آئیں ، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: یہ تینوں صاحب کَعب بن مالک ، ہلال بن اُمیّہ اور مُرارہ بن رُبیع رضی اللہ عنہم تھے۔ تینوں سچے مومن تھے۔ اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ آخرالذکر دو اصحاب تو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے جن کی صداقتِ ایمانی ہرشبہ سے بالاتر تھی۔ اور اول الذکر بزرگ اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بد رکے سوا ہرغزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود اس نازک موقع پر، جب کہ تمام قابلِ جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لیے نکل آنے کا حکم دیاگیا تھا ، جو سُستی ان حضرات نے دکھائی اُس پر سخت گرفت کی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک سے واپس تشریف لاکر مسلمانوں کو حکم دیا کہ کوئی ان سے سلام کلام نہ کرے ۔ ۴۰ دن کے بعدان کی بیویوں کو بھی ان سے الگ رہنے کی تاکید کردی گئی۔ فی الواقع مدینہ کی بستی میں ان کا وہی حال ہو گیا تھاجس کی تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے۔ آخرکار جب ان کے مقاطعہ کو ۵۰ دن ہو گئے تب معانی کا حکم نازل ہوا…
جماعت کو دیکھیے تو اس کے ڈسپلن اور اس کی صالح اخلاقی اسپرٹ پر انسان عش عش کر جاتا ہے۔ ڈسپلن کا یہ حال کہ اُدھر لیڈر کی زبان سے بائیکاٹ کا حکم نکلا اِدھر پوری جماعت نے معتوب سے نگاہیں پھیر لیں ۔ جلوت تو در کنار خلوت تک میں کوئی قریب سے قریب رشتہ دار اور کوئی گہرے سے گہرا دوست بھی اس سے بات نہیں کرتا۔ بیوی تک اس سے الگ ہو جاتی ہے۔ وہ اللہ کا واسطہ دے دے کر پوچھتا ہے کہ میرے خلوص میں تو تم کو شبہ نہیں ہے، مگر وہ لوگ بھی جو مدت العمر سے اس کو مخلص جانتے تھے، صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے نہیں، اللہ اوراس کے رسولؐ سے اپنے خلوص کی سند حاصل کرو ۔ دوسری طرف اخلاقی اسپرٹ اتنی بلند اور پاکیزہ کہ ایک شخص کی چڑھی ہوئی کمان اُترتے ہی مُردار خوروں کا کوئی گروہ اس کا گوشت نوچنےاور اسے پھاڑ کھانے کےلیے نہیں لپکتا، بلکہ اس پورے زمانۂ عتاب میں جماعت کا ایک ایک فرد اپنے اس معتوب بھائی کی مصیبت پر رنجیدہ اوراس کو پھرسے اٹھا کر گلے لگانے کےلیے بے تاب رہتا ہے اور معافی کاا علان ہوتے ہی لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ جلدی سے جلدی پہنچ کر اس سے ملیں اور اسے خوش خبری پہنچائیں۔ یہ نمونہ ہےاُس صالح جماعت کا جسے قرآن دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے ۔ (تفہیم القرآن، دوم، سیّد مودودی، حاشیہ ۱۱۹)
یعنی زیرِعتاب فرد نے بھی دل سے اطاعت کی اور پوری جماعت نے بھی ڈسپلن کی مکمل پابندی کی۔ مشکل ترین حالات میں بھی ایمان اور باہمی محبت قائم و دائم نظر آتے ہیں۔ ایمان و باہمی محبت اور ہمدردی کی اس فضا میں غیبت، نجویٰ اور بددلی کی بُو تک نہ پائی گئی۔
ایمان، قربانی اور اطاعتِ نظم کا حسین امتزاج پوری طرح جگمگاتا اس واقعے میں نظر آتا ہے۔ غزوہ ذات السلاسل، ۸ ہجری میں پیش آیا۔شام کی سرحدوں پر قبیلہ قضاعہ اور دیگر دشمن قبائل مسلمانوں کے خلاف لشکر تیار کر رہے تھے۔ مدینہ کے امن کو خطرہ لاحق تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جواں سال صحابی عمرو بن العاصؓ کو تین سو جانبازوں کے ساتھ ان کی سرکوبی کے لیےبھیجا۔ اس لشکر میں ابوبکر صدیق، عمربن الخطاب، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر اصحاب بھی شامل تھے۔ یہ عمرو بن العاصؓ کی پہلی بڑی سپہ سالاری تھی۔ دشمن قریب آیا تو اندازہ ہوا کہ وہ کثیر تعداد میں ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کمک کی درخواست کی۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور لشکر بھیجا جس کی قیادت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے سپرد کی۔ جب یہ لشکر عمرو بن العاصؓ کے ساتھ جاملا تو سوال کھڑا ہوا: اب امیر کون ہوگا؟ کیونکہ ابو عبیدہ بن الجراحؓ جیسے کہنہ مشق کمانڈر ِلشکر بھی موجود تھے، لیکن رسولؐ اللہ کا فرمان تھا کہ جب لشکر ملے تو عمروؓ ہی امیررہیں گے۔ ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے کوئی تردّد نہ کیا، فوراً عمرو بن العاصؓ کی اطاعت قبول کی اور نظم کی پاسداری کی اعلیٰ مثال بنے۔
میدان میں پڑاؤ ڈالا گیا۔ سخت سردی تھی۔ صحابہؓ نے کہا: ’’آگ جلائی جائے تاکہ کھانے پکیں اور گرمی حاصل ہو‘‘۔ لیکن عمرو بن العاصؓ نے کسی کو آگ جلانے کی اجازت نہیں دی ۔ کئی صحابہؓ کے دل میں یہ فیصلہ سخت ناگوار گزرا۔ مگر حکمِ امیر کے سامنے سب نے صبر کیا۔ رات اندھیرے اور سردی میں کٹ گئی( امیرلشکر عمرو بن العاص ؓ جانتے تھے کہ اگر آگ جلائی گئی تو دشمن ہماری کم تعداد دیکھ لے گا اور حملہ کر دے گا۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر مشکل تھا، لیکن دراصل یہ لشکر کو بچانے کی حکمت عملی تھی)۔
غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں خود عمرو بن العاصؓ کو احتلام ہو گیا اور وہ تیمم کر کے فجر پڑھانے کھڑے ہو گئے۔ بعض صحابہؓ اس پر بہت جزبز ہوئے لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کمانڈر میں ہوں، لہٰذا امامت میں ہی کراؤں گا۔ جنگ ہوئی، مسلمانوں کے قلیل لشکر نے فتح پائی، دشمن کے قبائل بکھر گئے۔ کچھ صحابہؓ نے کہا کہ دشمن کا پیچھا کریں لیکن عمرو بن العاصؓ نے یہ رائے تسلیم نہ کی اور لشکر کو واپس جانے کا حکم دیا ۔ کچھ صحابہؓ نے یہ فیصلہ بھی ناپسند کیا، مگر اطاعت کی۔
جب لشکر واپس آیا تو کچھ صحابہؓ نے ان فیصلوں کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی صورت میں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاصؓ سے وضاحت طلب کی۔ انھوں نے وضاحت پیش کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمام تدابیر کو درست قرار دیا اور فرمایا کہ امیر کی اطاعت ضروری ہے۔ خاص طور پر تیمم اور نماز پڑھانے کے واقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمرو ! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا : ’’میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًـا۲۹ (النساء ۴:۲۹) ’’تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے‘‘۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور عمر بن العاصؓ کو کچھ نہیں کہا۔ (ابوداؤد :۳۳۴)
یہ واقعہ ہمیں تین روشن سبق دیتا ہے:
آج کے اس دورِ پُرفتن میں امتِ مسلمہ ایک ہمہ گیر یلغار کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف عالمی فوجی قوتوں نے ہمارے ملکوں کو کمزور کر دیا ہے۔ دوسری طرف تہذیبی اور فکری حملوں نے ہماری نئی نسل کے ایمان اور اخلاق کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر ہماری صفیں کمزور ہوں، اور ہم منتشر اور بے نظم ہوں، تو ہم دشمن کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکیں گے۔
اسلامی تحریکات میں جب بعض اوقات کارکنان کی اطاعت میں کمزوری سامنے آتی ہے، تو یہ تحریک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
بعض اوقات کارکنان میں نظم و اطاعتِ نظم کے موضوع پر باقاعدہ تربیت اور شعور نہیں ہوتا، خصوصاً نئے کارکنان کو صحیح انداز سے اس اصول کی اہمیت معلوم نہیں ہوتی۔ کارکنان کو یہ شعور اور تربیت دینا بھی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
جبلہ بن ایہم آل جفنہ کا بادشاہ تھا۔ جب وہ اسلام قبول کرکے اپنے خاندان کے پانچ سو افراد کو لے کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں آیا تو انھیں بہت خوشی ہوئی۔ آپؓ نے لوگوں کو اس کا استقبال کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ لطف و عنایت کا معاملہ کیا اور اسے اپنی نشست سے قریب کر لیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حج کا ارادہ کیا تو جبلہ بھی ان کے ساتھ حج کے لیے نکلا۔ خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت اس کی لنگی بنو فزارہ کے ایک شخص کے پیر کے نیچے آگئی اور کھل گئی۔ جبلہ نے طیش میں آکرفزاری کی ناک لوچ لی، اس پر حضرت عمرؓ نے جبلہ کو بلوایا اور اس معاملہ کے بارے میں دریافت فرمایا۔
جبلہ نے کہا: یہ واقعہ بالکل صحیح ہے امیرالمومنین ، اس نے میری لنگی گرا دی، اگر حرمت کعبہ کا پاس اور احترام نہ ہوتا تو میں اس کی گردن اڑا دیتا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: تو نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ اب یا تو اس شخص کو راضی کر لو، ورنہ میں اسے تم سے قصاص دلواؤں گا۔ جبلہ نے پوچھا: آپ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں تمھاری ناک نوچنے کا حکم دوں گا جس طرح تو نے اس کی ناک نوچی۔جبلہ نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے امیرالمومنین؟ میں ایک بادشاہ ہوں اور وہ ایک عام آدمی ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اسلام کی نگاہ میں تم دونوں برابر ہو۔ تم اس پر تقویٰ اور خدا ترسی کے ذریعے ہی فوقیت حاصل کر سکتے ہو۔ اگر تم نے اسے راضی نہ کیا تو میں اسے تم سے قصاص دلواؤں گا۔جبلہ نے جواب دیا: پھر تو میں نصرانی ہوجاؤں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر تم نصرانی ہو گئے تو تمھاری گردن مار دی جائے گی، اس لیے کہ تم اب مسلمان ہوچکے ہو۔ اسلام لانے کے بعد مرتد ہونے والے کی سزا قتل ہے۔
جب جبلہ نے امیرالمومنین ؓ کی صداقت اور جرأت کو بھانپ لیا تو اس نے کہا: میں اس پر رات میں غور کروں گا۔پھر جب لوگ سو گئے تو جبلہ اپنے ہم سفر ساتھیوں اور خاندان کے لوگوں کو لے کر چپکے سے شام کی طرف فرار ہو گیا اور وہاں سے قسطنطنیہ کی طرف جانکلا اور نصرانی ہو گیا۔
جبلہ نے کبرو غرور کی بناپر امیر المومنینؓ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اس نے اسلام کو چھوڑ کر نصرانیت اختیار کر لی اور ہدایت پر ضلالت کو ترجیح دی۔
مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’جو شخص اس [اقامت دین کی جدوجہد کے]کام میں شریک ہونے کے بعد بھی کسی حال میں چھوٹا بننے پر راضی نہ ہو اور اطاعت کو اپنے مرتبے سے گری ہوئی چیز سمجھے یا حکم کی چوٹ اپنے نفس کی گہرائیوں میں محسوس کرے اور تلخی کے ساتھ اس پر تلملائے یا اپنی خواہش اور مفاد کے خلاف احکام کو ماننے میں ہچکچائے، وہ دراصل اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ ابھی اس کے نفس نے اللہ کے آگے پوری طرح سرِ اطاعت خم نہیں کیا ہے اور ابھی اس کی انانیت اپنے دعوؤں سے دست بردار نہیں ہوئی ہے‘‘۔(ہدایات)
اطاعت سے منہ موڑنا فرد کے ساتھ تحریک کے لیے درج ذیل خطرات کا باعث بن سکتا ہے:
اللہ تعالیٰ نے اطاعت سے رُوگردانی کو منافقین کی صفت بھی قرار دیا: يَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ۰ۡ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ۰ۭ (النساء۴:۸۱) ’’وہ کہتے ہیں ہم اطاعت کریں گے لیکن جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو آپ کی باتوں کے خلاف سازشیں کرتا ہے‘‘۔
یہ بڑی اہم آیت ہے۔ اس دور میں منافقین یہ کام کرتے تھے۔ آج کے دور میں بعض ارکان جماعت کے اندر بھی یہ امراض پائے جاتے ہیں۔ قائد تحریک کے خلاف گفتگو، نجویٰ، نجی محفلوں میں تنقید اور تحقیر ، جماعت کی پالیسیوں کے خلاف تبصرے، یہ سب تحریک کو کمزور کرنے والی چیزیں ہیں۔ سورئہ مجادلہ میں واضح الفاظ میں اس سے منع فرمایا گیا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۰ۭ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ۹ (المجادلہ۵۸:۹)اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کر و تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اُس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہوجس کے حضور تمھیں حشر میں پیش ہونا ہے۔
غور طلب بات ہے کہ اطاعت بھی نہ کرنا اور پھر نجی محفلوں میں تنقید و تبصرے بھی کرنا دراصل کبروغرور کی علامت ہے اور قرآن مجید اس کو نفاق کی علامت بھی قرار دیتا ہے۔نیز جب کارکنانِ تحریک، مقاصدِ تحریک سے دُور ہوجاتے ہیں تو تعلق باللہ میں بھی کمزور ہوجاتے ہیں، پھر ان سے کمزوریوں کا صدور ہوتا ہے۔ اس پر قیادت اور کارکنان سب کو تفکر و تدبر اور تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی قیادت کو سمجھنی چاہیے کہ جب ارکان کی رائے کو مطلوبہ اہمیت نہ دی جائے تو اس سے بھی اضطراب اور نجویٰ جنم لیتے ہیں۔
نعیم صدیقی تحریکی شعور میں لکھتے ہیں: اسلامی نظامِ سمع و طاعت کے متعلق متعدد ہم معنی احادیث میں سے صرف ایک کو یہاں نقل کرتا ہوں:’’روایت جنادہ بن امیہ کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم عبادہ بن صامتؓ کے پاس گئے جو حالت مرض میں تھے، پھر ان سے ہم نے کہا کہ اللہ آپ کو شفا دے، ہم سے کوئی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تاکہ اللہ اسے ہمارے لیے باعثِ افادہ اور آپ کے لیے باعثِ صحت بنا د ہے ۔ انھوں نے (جواباً) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (بیعت کی) دعوت دی۔ اور ہم نے (رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر) بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو اقرار لیا ( اور جس پر ہم نے بیعت کی) وہ یہ بات تھی کہ ہم سمع و طاعت کے پابند رہیں ، پسندیدہ صورتوں میں بھی اور ناپسندیدہ صورتوں میں بھی ، آسانی کی حالت میں بھی اور تنگی کی حالت میں بھی۔ اور اس صورت میں بھی کہ ہم دباؤ میں ہوں اور یہ کہ ہم اختیار کے معاملے میں اہل اختیار سے نزاع نہ کریں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اضافہ فرمایا: ’’اِلاّ یہ کہ تم صریح و نمایاں کفر ( کے صدور) کو دیکھو، جس کے متعلق تمھارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہو‘‘۔ (صحیح مسلم)
فرمانِ نبویؐ سے یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ایک صحیح اسلامی اجتماعیت کا معاملہ عام سیاسی پارٹیوں کی طرح کا نہیں ہوتا، جو چیز چاہی مان لی ، جس معاملے میں چاہا اختلاف کر کے الگ بیٹھ رہے، اور دوسروں میں اپنا اختلافی نقطۂ نظر پھیلانا شروع کردیا اور اس سے بھی تسکین نہ ہو تو معاملہ کو پریس میں لاکر الْمَجَالِسُ بِالْاَمَانَۃَ کی تعلیم کو پامال کردیا۔ یہ حقیقت بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ اسلامی اجتماعیت کے نظامِ امر اور نظامِ مشاورت اور حدودِ اختلاف کی خلاف ورزی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی نافرمانی ہے جس کے سرزد ہونے کے بعد توبہ کے علاوہ کوئی راہِ نجات نہیں۔
مندرجہ بالا فرمانِ نبویؐ کی رُو سے جماعتی فیصلوں کے مخالف دلائل سامنے لانے، براءت کا اظہار کرنے یا بگڑجانے کے لیے صرف ایک ہی حتمی بنیاد ہے، اور وہ یہ کہ اصحابِ امر یا اربابِ مشاورت کی طرف سے کھلے کھلے کفر کا ارتکاب ہو ، اور کھلے کفر کا فیصلہ محض جذبات سے نہیں کیا جائے گا، بلکہ آدمی کے پاس اللہ کی طرف سے صاف صریح دلیل ہونی چاہیے۔ یہ ہے کسی اسلامی نظامِ جماعت میں طاعت کی آخری حد۔ اگر لوگ اس آخری حد کے آنے سے پہلے ہی ہراختلاف پر منہ پھیر لیں تو نتیجہ سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ ’’ایک تیز رو ندی جو چٹانوں کو ریلتی جاتی ہو، کئی دھاروں میں تقسیم ہو جائے اور چھوٹے چھوٹے دھارے اس قابل بھی نہ ہوں کہ راستے میں جمع ہوجانے والے انبارِ خس و خاشاک کو بہا لے جاسکیں ۔اختلاف جب اپنی حدود کا پابند نہ رہے تو پھر اجتماعیت کا قائم رہنا ممکن نہیں رہتا ۔ سمع وطاعت کے اسلامی اصولوں اور دیرینہ عملی روایات کو اگر توڑا جانے لگے تو اور پھر کسی فرد کی بھی سربراہی اور کسی مجلس کی مشاورت کی قوت کام نہ کر سکے گی‘‘۔ (تحریکی شعور،ص ۳۱۴-۳۱۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے‘‘۔مزید فرمایا: ’’ایک مسلمان پر اپنے امیر کی سمع و طاعت فرض ہے خواہ اس کا حکم اسے پسند ہو یا نا پسند، تا وقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے ۔ اور جب معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر کوئی سمع و طاعت نہیں‘‘۔ (بخاری ، کتاب الاحکام)
یہ مضمون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت ارشادات میں مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے۔
امیرالمومنین ابوبکرؓ اپنے ایک خطبے میں فرماتے ہیں: ’’جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے معاملات میں سے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا گیا اور پھر اس نے لوگوں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق کام نہ کیا اس پر اللہ کی لعنت‘‘۔اسی بنا پر خلیفہ مقرر ہونے کے بعد انھوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ ’’میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا رہوں اور جب میں اللہ اور اس کے رسول ؐکی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے‘‘۔ (کنز العمال)
اسلام نے اگر حق کے معاملے میں قیادت کی اطاعت کو مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے، تو غیر حق میں اس کی نافرمانی کو جائز بلکہ واجب کہا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’مسلمان پر اس کی پسند و ناپسند کے تمام معاملات میں سمع و طاعت واجب ہے، الا یہ کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔ اگر اس کو گناہ کا حکم دیا جائے تو سمع و طاعت کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
امیرالمومنین علیؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا جس کا امیر ایک انصاری کو بنایا اور لشکر کو امیر کی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔ مگران لوگوں نے امیر کو کسی معاملے میں غضب ناک کر دیا اور امیر نے حکم دیا کہ میرے سامنے لکڑیاں جمع کرو۔ چنانچہ لوگوں نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر حکم دیا کہ اس میں آگ لگاؤ، لوگوں نے حکم کی تعمیل میں اسے شعلہ دکھا دیا۔ پھر اس نے کہا:کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ میری اطاعت کرو گے؟ لوگوں نے کہا، کیوں نہیں۔ تب امیر نے کہا، تو اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا، ہم تو آگ سے بھاگ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے۔ لوگ اسی طرح ٹال مٹول کرتے رہے یہاں تک کہ امیر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی۔ بعد میں جب لوگ واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر یہ لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو کبھی نہ نکل پاتے‘‘۔ اور فرمایا: ’’اللہ کی معصیت میں اطاعت نہیں ، اطاعت تو صرف معروف میں ہے‘‘۔
یہ دراصل جماعتی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ امیر کی اپیل کارکنان پر اثر انداز نہ ہو اور وہ [مجبور ہو کر] ’حکم‘ دینے کی ضرورت محسوس کرے ۔ ’حکم‘ تو تنخواہ دارفوج کے سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ رضاکار سپاہی جو اپنے دل کے جذبے سے اپنے خدا کی خاطر اکٹھے ہوئے ہوں، خدا کے کام میں خود اپنے بنائے ہوئے امیر کی اطاعت کے لیے حکم کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ ان کو تو صرف یہ اشارہ مل جانا کافی ہے کہ فلاں جگہ تم کو اپنے رب کی فلاں خدمت بجالانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ کیفیت جس روز اصحابِ امر اور ان کے رفقا میں پیدا ہو جائے گی ، آپ دیکھیں گے کہ آپس کی و ہ بہت سی بدمزگیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی، جو وقتاً فوقتاً [امیروں اور ماموروں کے درمیان] پیدا ہوتی رہتی ہیں‘‘۔ (ہدایات)