ڈاکٹر رخسانہ جبین


اسلامی تحریک کی کامیابی کے لیے جتنے بھی اصول اور ضابطے ہوسکتے ہیں، ان میں سے ایک اہم ترین اصول اطاعتِ نظم ہے۔ یہ محض ایک انتظامی امر نہیں بلکہ ایمان اور بندگی کا لازمی تقاضا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات ہوں یا صحابہ کرامؓ کی زندگیاں، اسلامی تاریخ کے ہر دور میں اطاعت اور نظم و ضبط کو اجتماعی بقا اور فکری تسلسل کی شرطِ اوّل قرار دیا گیا ہے۔ 

اطاعت کا مفہوم 

اطاعت، لغت میں فرماںبرداری اور حکم بجا لانے کو کہتے ہیں۔ لفظ ’اطاعت‘ کا اصل مادہ ط-و-ع ہے (طوع ، اطاع ، یطیع ، أطاعۃً وھو  مطیع وغیرہ)۔ یہ عربی زبان کا نہایت بامعنی مادہ ہے جس میں اطاعت، رضا، نرمی، خوشی سے ماننا اور آسانی سے قبول کرنا جیسے مفاہیم پائے جاتے ہیں: 

ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ وَہِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْہًا۝۰ۭ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ۝۱۱ (حم السجدۃ۴۱:۱۱) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت دھواں تھا۔ اُس نے آسمان اور زمین سے کہا:’’ وجود میں آجاوٴ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو‘‘۔ دونوں نے کہا:’’ ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح‘‘۔ 

 اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِ اللہِ۝۰ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِہِمَا۝۰ۭ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا۝۰ۙ فَاِنَّ اللہَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ۝۱۵۸(البقرہ ۲:۱۵۸)یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے یہ گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں (پہاڑیوں) کے درمیان سعی کرےاور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اوروہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔  

گویا اطاعت کے معنی خوش دلی، رضا اور اختیار کے ساتھ کسی حکم کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اطاعت کا مفہوم، اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع، اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ضمن میں اُولی الامر یا جماعتی نظم و قیادت کے فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرکے ان کی اطاعت کرنا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی تحریک، چاہے وہ دینی ہو یا دنیوی، اپنے مقصد کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتی، جب تک اس کے کارکنان میں نظم و ضبط اور اطاعتِ نظم نہ ہو۔ اگر ایک فوج کے سپاہی اپنی مرضی کرنے لگیں، یا ایک کارخانے کے مزدور نظم کو توڑ دیں، تو نتیجہ تباہی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ پھر بھلا اقامت ِدین کی عظیم تحریک بغیر نظم و ضبط اور اطاعتِ نظم کے کیسے آگے بڑھ سکتی ہے؟فرمانِ الٰہی ہے: 

وَاذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَہُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِہٖٓ۝۰ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۡ (المائدہ۵:۷)یاد کرو اللہ کے اس انعام کو اور اس پختہ عہد کو جس کو تم نے پختگی سے باندھتے ہوئے اقرار کیا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ 

یہ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا محض زبانی الفاظ نہیں بلکہ ایک ایمانی رویہ ہے۔ ایک میثاق، یعنی پختہ عہد ہے، ایک طرزِ زندگی ہے اور یہی اطاعتِ نظم کی اساس ہے۔ قرآن مجید نے بار بار یہ حقیقت واضح کی ہے کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عملی عہد ہے۔ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا دراصل مؤمن کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔ ایمان والے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو سن کر اپنے اختیار کو اللہ کی اطاعت کے تابع کر دیتے ہیں۔ یہاں سَمِعْنَا  صرف سماعت نہیں بلکہ قبولیت کا اعلان ہے، اور اَطَعْنَا صرف رسمی اطاعت نہیں بلکہ دل کی رضامندی اور عملی پیروی ہے۔ گویا یہ ایمان کے حقیقی تقاضے اور بندگی کی علامت ہیں۔  

جماعت کا عہدِ رکنیت اور سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا 

جماعت اسلامی کا رکن جب اطاعتِ نظم کا عہد کرتا ہے تو وہ اسی قرآنی روح کو دُہراتا ہے۔ وہ عہد کرتا ہے کہ ’’میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنا میری زندگی کا نصب العین ہے اور میں نے دستور جماعت اسلامی کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور میں عہد کرتا ہوں کہ اس دستور کے مطابق نظام جماعت کا پوری طرح پابند رہوں گا‘‘۔ (دستور جماعت اسلامی) 

یہ الفاظ کوئی رسمی اعلان نہیں بلکہ یہ اس میثاق کا اعادہ ہے جسے قرآن نے یاد رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک فرد رکنِ جماعت بنتے ہوئے جب یہ اقرار کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے ایمان کی تجدید کرتے ہوئے اپنی آزادی و خواہشات کو جماعت کے اجتماعی نظم کے تابع کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ 

مولانا مودودیؒ ’سمع و طاعت اور نظمِ جماعت کی پابندی‘ کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں: ’’آپ چند مٹھی بھر آدمی ہیں جو تھوڑے سے وسائل لے کر میدان میں آئے ہیں اور کام آپ کے سامنے یہ ہے کہ فسق اور جاہلیت کی ہزاروں گنی زیادہ طاقت اور لاکھوں گنے زیادہ وسائل کے مقابلے میں نہ صرف ظاہری نظامِ زندگی کو ہی بلکہ اس کی باطنی روح تک کو بدل ڈالیں ۔ آپ خواہ تعداد کے لحاظ سے دیکھ لیں یاوسائل کے لحاظ سے، آپ کے اور ان کے درمیان کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ اب آخر ا خلاق اور نظم کی طاقت کے سوا اور کون سی طاقت آپ کے پاس ایسی ہو سکتی ہے جس سے آپ ان کے مقابلے میں اپنی جیت کی امید کر سکیں؟ آپ کی امانت و دیانت کا سکہ اپنے ماحول پر بیٹھا ہوا ہو اور آپ کا نظم اتنا مضبوط و زبردست ہو کہ آپ کے ذمہ دار لوگ جس وقت جس نکتے پر جتنی طاقت جمع کرنا چاہیں، ایک اشارے پر جمع کر سکیں ، تب ہی آپ اپنے مقصدِ عظیم میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔  

اسلامی نقطۂ نظر سے اقامتِ دین کی سعی کرنے والی ایک جماعت میں جماعت کے اُولی الامر کی اطاعت فی المعروف دراصل اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہی ایک جز ہے۔ جو شخص اللہ کا کام سمجھ کر یہ کام کر رہاہے اور اللہ ہی کے کام کی خاطر جس نے کسی کو اپنا امیر مانا ہے ، وہ اس کے جائز احکام کی اطاعت کر کے دراصل اس [امیر] کی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے۔ جس قدر اللہ سے اور اس کے دین سے آدمی کا تعلق زیادہ ہوگا ، اتنا ہی وہ سمع و طاعت میں بڑھا ہوا ہوگا، اور جتنی اس تعلق میں کمی ہوگی، اتنی ہی سمع و طاعت میں بھی کمی ہوگی۔ (ہدایات ) 

اطاعتِ نظم اور حقیقی آزادی 

یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ ’کیا اطاعتِنظم  فرد کی آزادی کو سلب کر لیتی ہے؟‘ 

درحقیقت اطاعت، غلامی نہیں بلکہ نظم و ضبط (discipline) ہے۔ فرد کی اصل آزادی یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات کا غلام نہ بنے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو ایک اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے وقف کردے۔ جماعت کے عہدِ رکنیت میں اطاعت کا وعدہ، فرد کو انتشار اور اپنی خواہشات سے بچا کر اس کی صلاحیتوں کو ایک بڑی اجتماعی قوت کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک کارکن ' سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا  ' کہتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کو محدود کرتے ہوئے اپنے مقصد اور مشن کو وسیع کرتا ہے۔ ایمان والے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہہ کر اللہ کے احکام کے سامنے جھکتے ہوئے اپنے دینی قافلے کے نظم و ضبط کی پابندی کرکے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ پابندی اور ڈسپلن ہے جو صحابہؓ کی جماعت کو دنیا میں فاتح اور آخرت میں جنّت کا وارث بنا گیا اور یہی وہ اصول ہے جو آج بھی اسلامی تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ 

قرآن و سنّت میں اطاعت نظم کی اہمیت 

اسلام میں اطاعت کا مفہوم، دین کے عقائدی اور تشریعی اصولوں سے قوت اور طاقت حاصل کرنا ہے۔ اس لیے کہ اسلام میں اطاعت دراصل اللہ ہی کی ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ کا حکم ہے کہ معروف میں امیر اور نظم کی اطاعت کی جائے۔اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ (النساء۴:۵۹) ’’اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں‘‘۔  

اس کی تعبیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس طرح فرمائی:’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی‘‘ (صحیح مسلم:۴۷۴۷) ۔اس لیے معروف میں اطاعت ِ نظم  دراصل اللہ کی اطاعت ہوتی ہے اور معروف میں اس کی نافرمانی اللہ کی نا فرمانی۔ 

اطاعت امیر اور صحابہ کرام ؓ 

صحابہ کرامؓ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پائی تھی اور وہ نہ صرف اللہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کی اطاعت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ معروف میں امیر کی بھی پوری طرح اطاعت کرتے تھے۔ چند واقعات تو انتہائی متاثر کن ہیں، مثلاً غزوۂ تبوک میں صرف سُستی کی بناپر پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کا واقعہ پوری جماعت صحابہؓ کی اطاعت ِ نظم کی حیرت انگیز مثال ہے۔ 

 فرمانِ الٰہی ہے:وَّعَلَي الثَّلٰثَۃِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللہِ اِلَّآ اِلَيْہِ۝۰ۭ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ لِيَتُوْبُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۝۱۱۸ (التوبہ۹:۱۱۸)’’اور اُن تینوں کو بھی اُس نے معاف کیا جن کے معاملے کو ملتوی کر دیا گیا تھا ۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجوداُن پر تنگ ہوگئی اور اُن کی اپنی جانیں بھی اُن پر بار ہو نے لگیں اور انھوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامنِ رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے اُن کی طرف پلٹا تاکہ وہ اُس کی طرف پلٹ آئیں ، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔  

اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: یہ تینوں صاحب کَعب بن مالک ، ہلال بن اُمیّہ اور مُرارہ بن رُبیع رضی اللہ عنہم تھے۔ تینوں سچے مومن تھے۔ اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ آخرالذکر دو اصحاب تو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے جن کی صداقتِ ایمانی ہرشبہ سے بالاتر تھی۔ اور اول الذکر بزرگ اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بد رکے سوا ہرغزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود اس نازک موقع پر، جب کہ تمام قابلِ جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لیے نکل آنے کا حکم دیاگیا تھا ، جو سُستی ان حضرات نے دکھائی اُس پر سخت گرفت کی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک سے واپس تشریف لاکر مسلمانوں کو حکم دیا کہ کوئی ان سے سلام کلام نہ کرے ۔ ۴۰ دن کے بعدان کی بیویوں کو بھی ان سے الگ رہنے کی تاکید کردی گئی۔ فی الواقع مدینہ کی بستی میں ان کا وہی حال ہو گیا تھاجس کی تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے۔ آخرکار جب ان کے مقاطعہ کو ۵۰ دن ہو گئے تب معانی کا حکم نازل ہوا… 

جماعت کو دیکھیے تو اس کے ڈسپلن اور اس کی صالح اخلاقی اسپرٹ پر انسان عش عش کر جاتا ہے۔ ڈسپلن کا یہ حال کہ اُدھر لیڈر کی زبان سے بائیکاٹ کا حکم نکلا اِدھر پوری جماعت نے معتوب سے نگاہیں پھیر لیں ۔ جلوت تو در کنار خلوت تک میں کوئی قریب سے قریب رشتہ دار اور کوئی گہرے سے گہرا دوست بھی اس سے بات نہیں کرتا۔ بیوی تک اس سے الگ ہو جاتی ہے۔ وہ اللہ کا واسطہ دے دے کر پوچھتا ہے کہ میرے خلوص میں تو تم کو شبہ نہیں ہے، مگر وہ لوگ بھی جو مدت العمر سے اس کو مخلص جانتے تھے، صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم سے نہیں، اللہ اوراس کے رسولؐ سے اپنے خلوص کی سند حاصل کرو ۔ دوسری طرف اخلاقی اسپرٹ اتنی بلند اور پاکیزہ کہ ایک شخص کی چڑھی ہوئی کمان اُترتے ہی مُردار خوروں کا کوئی گروہ اس کا گوشت نوچنےاور اسے پھاڑ کھانے کےلیے نہیں لپکتا، بلکہ اس پورے زمانۂ عتاب میں جماعت کا ایک ایک فرد اپنے اس معتوب بھائی کی مصیبت پر رنجیدہ اوراس کو پھرسے اٹھا کر گلے لگانے کےلیے بے تاب رہتا ہے اور معافی کاا علان ہوتے ہی لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ جلدی سے جلدی پہنچ کر اس سے ملیں اور اسے خوش خبری پہنچائیں۔ یہ نمونہ ہےاُس صالح جماعت کا جسے قرآن دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے ۔ (تفہیم القرآن، دوم، سیّد مودودی، حاشیہ ۱۱۹)  

یعنی زیرِعتاب فرد نے بھی دل سے اطاعت کی اور پوری جماعت نے بھی ڈسپلن کی مکمل پابندی کی۔ مشکل ترین حالات میں بھی ایمان اور باہمی محبت قائم و دائم نظر آتے ہیں۔ ایمان و باہمی محبت اور ہمدردی کی اس فضا میں غیبت، نجویٰ اور بددلی کی بُو تک نہ پائی گئی۔ 

غزوۂ ذات السلاسل – اطاعتِ نظم کا سبق 

ایمان، قربانی اور اطاعتِ نظم کا حسین امتزاج پوری طرح جگمگاتا اس واقعے میں  نظر آتا ہے۔ غزوہ ذات السلاسل، ۸ ہجری میں پیش آیا۔شام کی سرحدوں پر قبیلہ قضاعہ اور دیگر دشمن قبائل مسلمانوں کے خلاف لشکر تیار کر رہے تھے۔ مدینہ کے امن کو خطرہ لاحق تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جواں سال صحابی عمرو بن العاصؓ کو تین سو جانبازوں کے ساتھ ان کی سرکوبی کے لیےبھیجا۔ اس لشکر میں ابوبکر صدیق، عمربن الخطاب، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر اصحاب بھی شامل تھے۔ یہ عمرو بن العاصؓ کی پہلی بڑی سپہ سالاری تھی۔ دشمن قریب آیا تو اندازہ ہوا کہ وہ کثیر تعداد میں ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کمک کی درخواست کی۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور لشکر بھیجا جس کی قیادت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے سپرد کی۔ جب یہ لشکر عمرو بن العاصؓ کے ساتھ جاملا تو سوال کھڑا ہوا: اب امیر کون ہوگا؟ کیونکہ ابو عبیدہ بن الجراحؓ جیسے کہنہ مشق کمانڈر ِلشکر بھی موجود تھے، لیکن رسولؐ اللہ کا فرمان تھا کہ جب لشکر ملے تو عمروؓ ہی امیررہیں گے۔ ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے کوئی تردّد نہ کیا، فوراً عمرو بن العاصؓ کی اطاعت قبول کی اور نظم کی پاسداری کی اعلیٰ مثال بنے۔ 

میدان میں پڑاؤ ڈالا گیا۔ سخت سردی تھی۔ صحابہؓ نے کہا: ’’آگ جلائی جائے تاکہ کھانے پکیں اور گرمی حاصل ہو‘‘۔ لیکن عمرو بن العاصؓ نے کسی کو آگ جلانے کی اجازت نہیں دی ۔ کئی صحابہؓ کے دل میں یہ فیصلہ سخت ناگوار گزرا۔ مگر حکمِ امیر کے سامنے سب نے صبر کیا۔ رات اندھیرے اور سردی میں کٹ گئی( امیرلشکر عمرو بن العاص ؓ جانتے تھے کہ اگر آگ جلائی گئی تو دشمن ہماری کم تعداد دیکھ لے گا اور حملہ کر دے گا۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر مشکل تھا، لیکن دراصل یہ لشکر کو بچانے کی حکمت عملی تھی)۔ 

غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں خود عمرو بن العاصؓ کو احتلام ہو گیا اور وہ تیمم کر کے فجر پڑھانے کھڑے ہو گئے۔ بعض صحابہؓ اس پر بہت جزبز ہوئے لیکن ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کمانڈر میں ہوں، لہٰذا امامت میں ہی کراؤں گا۔ جنگ ہوئی، مسلمانوں کے قلیل لشکر نے فتح پائی، دشمن کے قبائل بکھر گئے۔ کچھ صحابہؓ نے کہا کہ دشمن کا پیچھا کریں لیکن عمرو بن العاصؓ نے یہ رائے تسلیم نہ کی اور لشکر کو واپس جانے کا حکم دیا ۔ کچھ صحابہؓ نے یہ فیصلہ بھی ناپسند کیا، مگر اطاعت کی۔ 

جب لشکر واپس آیا تو کچھ صحابہؓ نے ان فیصلوں کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی صورت میں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاصؓ سے وضاحت طلب کی۔ انھوں نے وضاحت پیش کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمام تدابیر کو درست قرار دیا اور فرمایا کہ امیر کی اطاعت ضروری ہے۔ خاص طور پر تیمم اور نماز پڑھانے کے واقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمرو ! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟  انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا : ’’میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًـا۝۲۹   (النساء ۴:۲۹) ’’تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے‘‘۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور عمر بن العاصؓ کو کچھ نہیں کہا۔ (ابوداؤد :۳۳۴) 

یہ واقعہ ہمیں تین روشن سبق دیتا ہے: 

  • امیر کی اطاعت: اگر عمر اور مرتبے میں بڑے اصحاب کی موجودگی میں ایک کم عمر کو امیر بنا دیا جائے تو تب بھی اطاعت واجب ہے۔ بلکہ نبی کریم ؐ کا فرمان تو یہاں تک ہے کہ ’’سنو اور اطاعت کرو چاہے تمھارے اوپر کوئی حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے اور اس کا سر منقیٰ کی مانند ہو‘‘۔ (صحیح البخاری) 
  • فیصلوں کی حکمت: بعض اوقات قیادت کے فیصلے افراد کی سمجھ میں نہیں آتے، لیکن وہی جماعت کی مضبوطی اور حفاظت کا سبب بنتے ہیں۔ اگر کبھی فیصلوں کی حکمت اس لیے سمجھ میں نہ آئے تب بھی اطاعت ضروری ہے۔ 
  • نظم کا تحفظ: اطاعتِ نظم کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ قوت ہے جو ایک چھوٹے لشکر کو بڑے دشمن پر غالب کر دیتی ہے۔ یہی وہ اطاعت ہے جو جماعت کو کامیاب کرتی ہے، یہی وہ نظم ہے جو کمزور کو طاقت ور بناتا ہے، اور یہی وہ راز ہے جو امت کو عروج بخشتا ہے۔ 

آج کے اس دورِ پُرفتن میں امتِ مسلمہ ایک ہمہ گیر یلغار کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف عالمی فوجی قوتوں نے ہمارے ملکوں کو کمزور کر دیا ہے۔ دوسری طرف تہذیبی اور فکری حملوں نے ہماری نئی نسل کے ایمان اور اخلاق کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر ہماری صفیں کمزور ہوں، اور ہم منتشر اور بے نظم ہوں، تو ہم دشمن کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکیں گے۔ 

اسلامی تحریکات میں جب بعض اوقات کارکنان کی اطاعت میں کمزوری سامنے آتی ہے، تو یہ تحریک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔  

کارکنان کے اطاعت نہ کرنے کی ممکنہ وجوہ 

  • فکری کمزوریاں: اطاعتِ نظم نہ کرنے کی ایک بنیادی وجہ نصب العین اور تحریک کے مقاصد کی گہری سمجھ نہ ہونا ہے۔ ایمان اور اخلاص میں کمزوری کے باعث ذاتی خواہشات پر قابو نہ پا سکنا بھی ایک بنیادی وجہ ہے۔ اسی طرح اطاعتِ نظم کو ایک دینی فریضہ سمجھنے کے بجائے ’غلامی‘یا ’کنٹرول‘سمجھ لینا اور اسے تنظیم کا ’تحکم کاخبط‘ سمجھنا، اور اپنی رائے کو ترجیح دینا، یہ سب فکری کمزوریاں اطاعتِ نظم میں مانع ہوتی ہیں۔ 
  • قیادت پر اعتماد میں کمی: قیادت کے طرزِ عمل میں شفافیت یا اخلاص پر شک پیدا ہو جانا بھی اطاعتِ نظم میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اگر کارکن کو لگے کہ قیادت اس کی بات نہیں سنتی یا انصاف نہیں کرتی تو دل میں بداعتمادی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قیادت بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پالیسیاں مشاورت سے بنیں۔ منصوبہ جات اور بیانیہ کی اچھی تفہیم ہو، تاکہ ارکان و کارکنان مطمئن ہوں اور اعتماد سے آگے بڑھیں۔ اگر تحریکی مناصب یا ذمہ داریوں میں بڑی تبدیلی مطلوب ہو تو اس پر بھی متعلقہ ذمّہ داران کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ اعتماد کی فضا قائم رہے۔ 

بعض اوقات کارکنان میں نظم و اطاعتِ نظم کے موضوع پر باقاعدہ تربیت اور شعور نہیں ہوتا، خصوصاً نئے کارکنان کو صحیح انداز سے اس اصول کی اہمیت معلوم نہیں ہوتی۔ کارکنان کو یہ شعور اور تربیت دینا بھی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ 

  • حالات و ماحول کا دباؤ : مشکل حالات، تنقید یا مخالفت میں کارکن بعض اوقات خود اعتمادی کھو کر اطاعت سے باہر نکلنے لگتا ہے، مثلاً بار بار ناکامی سے ارکان اعتماد کھو دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں بھی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ کارکنان کو مایوسی کا شکار ہونے سے بچائے اور حکمت عملی کی تجدید پر غور کرے۔دُنیاوی مفادات، انفرادی مسائل یا خاندانی دباؤ بھی اطاعت کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ لہٰذا نظم کے لیے ارکان کے انفرادی حالات و مشکلات کو بھی مدِنظر رکھنا لازم ہے۔ 
  • کبر و غرور: یہ وہ مرض ہے جو شہرت و ناموری کی چاٹ لگا دیتا ہے۔ یہ وہ دروازہ ہے جس سے شیطان کو داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور اطاعت و انکساری کبروغرور کے مریضوں کے گلے سے نیچے نہیں اُتر سکتی، نہ وہ اس کے عادی ہو سکتے ہیں۔ خلافت راشدہؓ کے زمانے میں مسلمان ہونے والے جبلہ بن ایہم خسانی کی مثال کبروغرور کی ہلاکت خیزی کو پوری طرح عیاں کردیتی ہے۔  

جبلہ بن ایہم آل جفنہ کا بادشاہ تھا۔ جب وہ اسلام قبول کرکے اپنے خاندان کے پانچ سو افراد کو لے کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں آیا تو انھیں بہت خوشی ہوئی۔ آپؓ نے لوگوں کو اس کا استقبال کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ لطف و عنایت کا معاملہ کیا اور اسے اپنی نشست سے قریب کر لیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے حج کا ارادہ کیا تو جبلہ بھی ان کے ساتھ حج کے لیے نکلا۔ خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت اس کی لنگی بنو فزارہ کے ایک شخص کے پیر کے نیچے آگئی اور کھل گئی۔ جبلہ نے طیش میں آکرفزاری کی ناک لوچ لی، اس پر حضرت عمرؓ نے جبلہ کو بلوایا اور اس معاملہ کے بارے میں دریافت فرمایا۔ 

جبلہ نے کہا: یہ واقعہ بالکل صحیح ہے امیرالمومنین ، اس نے میری لنگی گرا دی، اگر حرمت کعبہ کا پاس اور احترام نہ ہوتا تو میں اس کی گردن اڑا دیتا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: تو نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ اب یا تو اس شخص کو راضی کر لو، ورنہ میں اسے تم سے قصاص دلواؤں گا۔ جبلہ نے پوچھا: آپ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں تمھاری ناک نوچنے کا حکم دوں گا جس طرح تو نے اس کی ناک نوچی۔جبلہ نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے امیرالمومنین؟  میں ایک بادشاہ ہوں اور وہ ایک عام آدمی ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اسلام کی نگاہ میں تم دونوں برابر ہو۔ تم اس پر تقویٰ اور خدا ترسی کے ذریعے ہی فوقیت حاصل کر سکتے ہو۔ اگر تم نے اسے راضی نہ کیا تو میں اسے تم سے قصاص دلواؤں گا۔جبلہ نے جواب دیا: پھر تو میں نصرانی ہوجاؤں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر تم نصرانی ہو گئے تو تمھاری گردن مار دی جائے گی، اس لیے کہ تم اب مسلمان ہوچکے ہو۔ اسلام لانے کے بعد مرتد ہونے والے کی سزا قتل ہے۔ 

جب جبلہ نے امیرالمومنین ؓ کی صداقت اور جرأت کو بھانپ لیا تو اس نے کہا: میں اس پر رات میں غور کروں گا۔پھر جب لوگ سو گئے تو جبلہ اپنے ہم سفر ساتھیوں اور خاندان کے لوگوں کو لے کر چپکے سے شام کی طرف فرار ہو گیا اور وہاں سے قسطنطنیہ کی طرف جانکلا اور نصرانی ہو گیا۔ 

جبلہ نے کبرو غرور کی بناپر امیر المومنینؓ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور اس نے اسلام کو چھوڑ کر نصرانیت اختیار کر لی اور ہدایت پر ضلالت کو ترجیح دی۔ 

  • اپنی رائے بہتر ہونے کا غّرہ :دل میں یہ سوچ رکھنا کہ ’میری رائے بہتر ہے‘ یا ’قیادت کا فیصلہ غلط ہے‘، یا تحریک ٹھیک کام نہیں کر رہی ، جو کام میں کر رہا ہوں وہ زیادہ بہتر ہے، یا میرا طریقۂ کار زیادہ ٹھیک ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ اپنی رائے اور منصوبے کو قیادت کے فیصلے پر ترجیح دینے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس سے ایک جانب فرد کمزور ہوتا ہے اور اگر ایسے کئی افراد جماعت میں ہوں تو دوسرا نتیجہ جماعت کی کمزوری کی صورت میں نکلتا ہے۔ 

مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’جو شخص اس [اقامت دین کی جدوجہد کے]کام میں شریک ہونے کے بعد بھی کسی حال میں چھوٹا بننے پر راضی نہ ہو اور اطاعت کو اپنے مرتبے سے گری ہوئی چیز سمجھے یا حکم کی چوٹ اپنے نفس کی گہرائیوں میں محسوس کرے اور تلخی کے ساتھ اس پر تلملائے یا اپنی خواہش اور مفاد کے خلاف احکام کو ماننے میں ہچکچائے، وہ دراصل اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ ابھی اس کے نفس نے اللہ کے آگے پوری طرح سرِ اطاعت خم نہیں کیا ہے اور ابھی اس کی انانیت اپنے دعوؤں سے دست بردار نہیں ہوئی ہے‘‘۔(ہدایات) 

اطاعت سے منہ موڑنے کے نقصانات 

اطاعت سے منہ موڑنا فرد کے ساتھ تحریک کے لیے درج ذیل خطرات کا باعث بن سکتا ہے: 

  • مقاصد میں ناکامی اور کمزوری: اطاعتِ نظم کے فقدان سے جماعت میں انتشار اور گروہ بندی پیدا ہوتی ہے۔ کوئی بھی تحریک بغیر نظم و ضبط کے اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکتی۔قیادت ایک طرف دیکھ رہی ہو اور کارکن دوسری طرف، تو منزل کبھی نہیں ملتی۔ فوج اگر اپنے کمانڈر کے منصوبے کے مطابق نہ چلے اور ہردستہ اپنے اپنے اہداف طے کر لے تو اس کا نتیجہ سوائے ناکامی کے کچھ نہیں نکلتا۔ ادارے اپنے طے شدہ اصولوں پر نہ چلیں اور منیجر کی بات نہ مانی جائے تو ایسے ادارے تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔فرمانِ الٰہی ہے: وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ (الانفال۸:۴۶) ’’آپس میں تنازعہ نہ کرو ورنہ تم ناکام ہو جاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘۔ جب جماعت کے اندر اختلاف اور نافرمانی ہو تو دشمن آسانی سے وار کر لیتا ہے۔ تاریخ میں کئی تحریکیں اس وجہ سے بکھر گئیں کہ کارکن نظم کے پابند نہ رہے۔ 
  • فرد کی اپنی روحانی تباہی اور اعتماد کا خاتمہ: ایک کارکن جب نظم کی طے شدہ ہدایات کو باربار نظرانداز کرتا رہتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کا ایمان کمزور ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ بالآخر تحریک سے کٹ جاتا ہے۔ بعض حالات میں اس کی آخرت تباہ بھی ہو سکتی ہے جیسے کہ ہم اوپر جبلہ بن الایہم غسانی کا واقعہ پڑھ چکے ہیں۔ لہٰذا اگر کارکن اطاعت نہ کریں تو باہمی اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ قیادت کارکن پر بھروسا نہیں کر پاتی اور کارکن قیادت سے دُور ہو جاتے ہیں۔ قرآن و سنت میں وارد معروف میں امیر کی نافرمانی (اطاعت سے انحراف) پر وعیدیں اس سلسلے میں خبردار کرتی ہیں: فرمانِ ربانی ہے: وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا۝۳۶ (الاحزاب ۳۳:۳۶) ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا‘‘۔ معروف میں امیر کی اطاعت بھی دراصل اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔  

اللہ تعالیٰ نے اطاعت سے رُوگردانی کو منافقین کی صفت بھی قرار دیا: يَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ۝۰ۡ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ۝۰ۭ (النساء۴:۸۱) ’’وہ کہتے ہیں ہم اطاعت کریں گے لیکن جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو آپ کی باتوں کے خلاف سازشیں کرتا ہے‘‘۔ 

یہ بڑی اہم آیت ہے۔ اس دور میں منافقین یہ کام کرتے تھے۔ آج کے دور میں بعض ارکان جماعت کے اندر بھی یہ امراض پائے جاتے ہیں۔ قائد تحریک کے خلاف گفتگو، نجویٰ، نجی محفلوں میں تنقید اور تحقیر ، جماعت کی پالیسیوں کے خلاف تبصرے، یہ سب تحریک کو کمزور کرنے والی چیزیں ہیں۔ سورئہ مجادلہ میں واضح الفاظ میں اس سے منع فرمایا گیا ہے:  

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰ۭ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ۝۹ (المجادلہ۵۸:۹)اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کر و تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اُس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہوجس کے حضور تمھیں حشر میں پیش ہونا ہے۔ 

غور طلب بات ہے کہ اطاعت بھی نہ کرنا اور پھر نجی محفلوں میں تنقید و تبصرے بھی کرنا دراصل کبروغرور کی علامت ہے اور قرآن مجید اس کو نفاق کی علامت بھی قرار دیتا ہے۔نیز جب کارکنانِ تحریک، مقاصدِ تحریک سے دُور ہوجاتے ہیں تو تعلق باللہ میں بھی کمزور ہوجاتے ہیں، پھر  ان سے کمزوریوں کا صدور ہوتا ہے۔ اس پر قیادت اور کارکنان سب کو تفکر و تدبر اور تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی قیادت کو سمجھنی چاہیے کہ جب ارکان کی رائے کو مطلوبہ اہمیت نہ دی جائے تو اس سے بھی اضطراب اور نجویٰ جنم لیتے ہیں۔ 

سمع و طاعت کہاں تک ؟ 

نعیم صدیقی تحریکی شعور  میں لکھتے ہیں: اسلامی نظامِ سمع و طاعت کے متعلق متعدد ہم معنی احادیث میں سے صرف ایک کو یہاں نقل کرتا ہوں:’’روایت جنادہ بن امیہ کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم عبادہ بن صامتؓ کے پاس گئے جو حالت مرض میں تھے، پھر ان سے ہم نے کہا کہ اللہ آپ کو شفا دے، ہم سے کوئی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تاکہ اللہ اسے ہمارے لیے باعثِ افادہ اور آپ کے لیے باعثِ صحت بنا د ہے ۔ انھوں نے (جواباً) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (بیعت کی) دعوت دی۔ اور ہم نے (رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر) بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جو اقرار لیا ( اور جس پر ہم نے بیعت کی) وہ یہ بات تھی کہ ہم سمع و طاعت کے پابند رہیں ، پسندیدہ صورتوں میں بھی اور ناپسندیدہ صورتوں میں بھی ، آسانی کی حالت میں بھی اور تنگی کی حالت میں بھی۔ اور اس صورت میں بھی کہ ہم دباؤ میں ہوں اور یہ کہ ہم اختیار کے معاملے میں اہل اختیار سے نزاع نہ کریں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اضافہ فرمایا: ’’اِلاّ یہ کہ تم صریح و نمایاں کفر ( کے صدور) کو دیکھو، جس کے متعلق تمھارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہو‘‘۔ (صحیح  مسلم) 

فرمانِ نبویؐ سے یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ایک صحیح اسلامی اجتماعیت کا معاملہ عام سیاسی پارٹیوں کی طرح کا نہیں ہوتا، جو چیز چاہی مان لی ، جس معاملے میں چاہا اختلاف کر کے الگ بیٹھ رہے، اور دوسروں میں اپنا اختلافی نقطۂ نظر پھیلانا شروع کردیا اور اس سے بھی تسکین نہ ہو تو معاملہ کو پریس میں لاکر الْمَجَالِسُ بِالْاَمَانَۃَ  کی تعلیم کو پامال کردیا۔ یہ حقیقت بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ اسلامی اجتماعیت کے نظامِ امر اور نظامِ مشاورت اور حدودِ اختلاف کی خلاف ورزی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی نافرمانی ہے جس کے سرزد ہونے کے بعد توبہ کے علاوہ کوئی راہِ نجات نہیں۔ 

مندرجہ بالا فرمانِ نبویؐ کی رُو سے جماعتی فیصلوں کے مخالف دلائل سامنے لانے، براءت کا اظہار کرنے یا بگڑجانے کے لیے صرف ایک ہی حتمی بنیاد ہے، اور وہ یہ کہ اصحابِ امر یا اربابِ مشاورت کی طرف سے کھلے کھلے کفر کا ارتکاب ہو ، اور کھلے کفر کا فیصلہ محض جذبات سے نہیں کیا جائے گا، بلکہ آدمی کے پاس اللہ کی طرف سے صاف صریح دلیل ہونی چاہیے۔ یہ ہے کسی اسلامی نظامِ جماعت میں طاعت کی آخری حد۔ اگر لوگ اس آخری حد کے آنے سے پہلے ہی ہراختلاف پر منہ پھیر لیں تو نتیجہ سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ ’’ایک تیز رو ندی جو چٹانوں کو ریلتی جاتی ہو، کئی دھاروں میں تقسیم ہو جائے اور چھوٹے چھوٹے دھارے اس قابل بھی نہ ہوں کہ راستے میں جمع ہوجانے والے انبارِ خس و خاشاک کو بہا لے جاسکیں ۔اختلاف جب اپنی حدود کا پابند نہ رہے تو پھر اجتماعیت کا قائم رہنا ممکن نہیں رہتا ۔ سمع وطاعت کے اسلامی اصولوں اور دیرینہ عملی روایات کو اگر توڑا جانے لگے تو اور پھر کسی فرد کی بھی سربراہی اور کسی مجلس کی مشاورت کی قوت کام نہ کر سکے گی‘‘۔ (تحریکی شعور،ص ۳۱۴-۳۱۷) 

  • اطاعت صرف معروف میں ہـے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کو بھی اطاعت فی المعروف کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے: وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ  (الممتحنہ ۶۰:۱۲) ’’اور یہ کہ وہ کسی امر معروف میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی ‘‘۔ حالانکہ آپؐ کی طرف سے کسی معصیت کا حکم صادر ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف معروف میں ہے‘‘۔مزید فرمایا: ’’ایک مسلمان پر اپنے امیر کی سمع و طاعت فرض ہے خواہ اس کا حکم اسے پسند ہو یا نا پسند، تا وقتیکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے ۔ اور جب معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر کوئی سمع و طاعت نہیں‘‘۔ (بخاری ، کتاب الاحکام) 

یہ مضمون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت ارشادات میں مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے۔ 

امیرالمومنین ابوبکرؓ اپنے ایک خطبے میں فرماتے ہیں: ’’جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے معاملات میں سے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا گیا اور پھر اس نے لوگوں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق کام نہ کیا اس پر اللہ کی لعنت‘‘۔اسی بنا پر خلیفہ مقرر ہونے کے بعد انھوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ ’’میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا رہوں اور جب میں اللہ اور اس کے رسول ؐکی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے‘‘۔ (کنز العمال) 

نا فرمانی کب جائز یا واجب ہـے؟ 

اسلام نے اگر حق کے معاملے میں قیادت کی اطاعت کو مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے، تو غیر حق میں اس کی نافرمانی کو جائز بلکہ واجب کہا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’مسلمان پر اس کی پسند و ناپسند کے تمام معاملات میں سمع و طاعت واجب ہے، الا یہ کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔ اگر اس کو گناہ کا حکم دیا جائے تو سمع و طاعت کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘۔ (متفق علیہ) 

امیرالمومنین علیؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا جس کا امیر ایک انصاری کو بنایا اور لشکر کو امیر کی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔ مگران لوگوں نے امیر کو کسی معاملے میں غضب ناک کر دیا اور امیر نے حکم دیا کہ میرے سامنے لکڑیاں جمع کرو۔ چنانچہ لوگوں نے لکڑیاں جمع کیں ، پھر حکم دیا کہ اس میں آگ لگاؤ، لوگوں نے حکم کی تعمیل میں اسے شعلہ دکھا دیا۔ پھر اس نے کہا:کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ میری اطاعت کرو گے؟ لوگوں نے کہا، کیوں نہیں۔ تب امیر نے کہا، تو اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا، ہم تو آگ سے بھاگ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے۔ لوگ اسی طرح ٹال مٹول کرتے رہے یہاں تک کہ امیر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھا دی گئی۔ بعد میں جب لوگ واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر یہ لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو کبھی نہ نکل پاتے‘‘۔ اور فرمایا: ’’اللہ کی معصیت میں اطاعت نہیں ، اطاعت تو صرف معروف میں ہے‘‘۔ 

  • امرائے جماعت کو  مولانا مودودیؒ کی نصیحت:مولانا مودودیؒ نے امرائے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’جس شخص کو بھی نظم جماعت کے اندر کسی ذمہ داری کا منصب سونپا جائے اور کچھ لوگ اس کے تحتِ امر دیے جائیں۔ اس کے لیے یہ ہرگز حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھنے لگے اور اپنے تابع رفقا پر بے جا تحکم جتانے لگے ۔ اسے حکم چلانے میں کبریائی کی لذت نہ لینی چاہیے۔ اسے اپنے رفقا سے نرمی اور ملاطفت کے ساتھ کام لینا چاہیے۔ اسے اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کسی کا رکن میں عدم اطاعت اور خودسری کا جذبہ اُبھار دینے کی ذمہ داری خود اس کے اپنے کسی غلط طریق کار پر عائد نہ ہو جائے۔ اسے جوان اور بوڑھے ، کمزور اور طاقت ور ، خوش حال اور خستہ حال، سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکنا چاہیے، بلکہ جماعت کے مختلف افراد کی مخصوص انفرادی حالتوں پر نگاہ رکھنی چاہیے اور جو جس لحاظ سے بھی بجاطور پر رعایت کا مستحق ہو، اس کو ویسی ہی رعایت دینی چاہیے۔ اسے جماعت کو ایسے طریقے پر تربیت دینی چاہیے کہ امیر جو کچھ مشورے اور اپیل کے انداز میں کہے ، رفقا اس کو حکم کے انداز میں لیں اور اس کی تعمیل کریں۔ 

یہ دراصل جماعتی شعور کی کمی کا نتیجہ ہے کہ امیر کی اپیل کارکنان پر اثر انداز نہ ہو اور وہ [مجبور ہو کر] ’حکم‘ دینے کی ضرورت محسوس کرے ۔ ’حکم‘ تو تنخواہ دارفوج کے سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ رضاکار سپاہی جو اپنے دل کے جذبے سے اپنے خدا کی خاطر اکٹھے ہوئے ہوں، خدا کے کام میں خود اپنے بنائے ہوئے امیر کی اطاعت کے لیے حکم کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ ان کو تو صرف یہ اشارہ مل جانا کافی ہے کہ فلاں جگہ تم کو اپنے رب کی فلاں خدمت بجالانے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ کیفیت جس روز اصحابِ امر اور ان کے رفقا میں پیدا ہو جائے گی ، آپ دیکھیں گے کہ آپس کی و ہ بہت سی بدمزگیاں آپ سے آپ ختم ہو جائیں گی، جو وقتاً فوقتاً [امیروں اور ماموروں کے درمیان] پیدا ہوتی رہتی ہیں‘‘۔ (ہدایات) 

تقریباً ایک صدی قبل شروع ہونے والی حقوقِ نسواں کی تحریکیں آج بہت بلند آہنگ ہوچکی ہیں۔ حکومتیں بھی بڑی حد تک ان سے وابستہ این جی اوز کی پابند ہو چکی ہیں۔ پارلیمنٹ سے لے کر تعلیمی اداروں اور کاروباری شعبہ جات تک میں ان کی سفارشات، قانون بن کر نافذ ہو رہی ہیں۔ ’خواتین کی خوداختیاری‘ سے منسوب ادارہ ’سیڈا‘ (CEDAW) اقوامِ متحدہ کے تحت کام کر رہا ہے، اور اس کے اعلامیوں یا کنونشنز کے تحت حکومتیں کئی ایک اقدامات کرنے کی پابند ہو چکی ہیں۔ بے شک ان میں کئی مثبت قوانین بھی بنے ہیں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کے مسلم معاشروں پر اثرات کس نوعیت کے ہیں؟ گھر اور خاندان کیسے متاثر ہوتے ہیں؟ ملکوں کی مجموعی معیشت پر یہ کس طرح اثرانداز ہوئے ہیں؟ تہذیب اسلامی کو انھوں نے کس طرح متاثر کیا ہے؟ مسلم ممالک کے باشعور طبقے اور سوچ بچار کرنے والے اداروں کو اعداد و شمار کے ساتھ یہ جائزے مرتب کرنے چاہییں۔ یہ ضروری نہیں کہ تمام اثرات کو منفی انداز میں دیکھا جائے، لیکن ایک حقیقت پسندانہ جائزہ ضروری ہے۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے کئی کئی روزہ کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ طویل بحث، مباحثے ہوتے ہیں۔ الفاظ کا محتاط اور شاطرانہ چناؤ کیا جاتا ہے۔اہداف (Goals) مقرر کیے اور ان پر عمل درآمد کے لیے نقشہ گری کی جاتی ہے، پھر این جی اوز کے ذریعے مقتدر طبقے میں بھر پور لابنگ کی جاتی ہے اور ان اہداف کے حصول کے لیے قانون سازی کی خاطر فضا بنائی جاتی ہے۔ اس سارے عمل پر اربوں کا خرچ ہوتا ہے۔ شرکا کو مہنگے ہوٹلوں میں کئی کئی دن ٹھیرایا جاتا ہے اور کھلے دل سے کرایے خرچ کیے جاتے ہیں۔ مرضی کی قانون سازی کے لیے راستہ ہموار کیا جاتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں (حکومتیں جن کی مقروض ہوتی ہیں) کے ذریعے قرضوں کو بعض طریقوں سے ان قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ مشروط کیا جاتا ہے۔میڈیا کا بھرپور انداز میں استعمال کیاجاتا ہے اور اپنے مقاصد کو پُرکشش (گلیمرائز) انداز میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے، تاکہ وہ عام لوگوں کی زبان بھی بن جائیں اور مطالبہ بھی۔ کاروباری اداروں کے ذریعے ان کی عملی شکلیں پیش کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں آج عورت نہ صرف ہر شاپنگ مال پر سیلز گرل بن کے کھڑی ہے بلکہ فاسٹ فوڈ کو گھر پہنچانے کے لیے موٹر سائیکل رائیڈر بھی بن گئی ہے، اور اسے فخریہ انداز میں یہ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے کہ:’’ ہم نے عورت کی معاشی برتری و خود اختیاری کے سلسلے میں عملی قدم اٹھایا ہے‘‘۔
اقوامِ متحدہ نے اس کے لیے ایک کمیشن Commission on the Status of Women کے نام سے ۱۹۴۶ء میں قائم کر دیا تھا، جو مختلف ممالک کے حکومتی نمایندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا مقصد معاشرے میں خواتین کو برابری اور مؤثر حیثیت دلوانا ہے۔ اس کمیشن کا ہرسال اجلاس ہوتا ہے، جس میں حکومتی نمایندوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل میں رجسٹرڈ این جی اوز کے نمایندے بھی شریک ہوتے ہیں، اپنی کارکردگی رپورٹیں پیش کرتے ہیں، اور آیندہ سال کے لیے نیا منصوبہ لے کر جاتے ہیں۔ ۲۰۱۹ء میں اس کمیشن کے تریسٹھویں اجلاس کا مرکزی عنوان: ’’صنفی برابری کےلیے محفوظ معاشرتی نظام، پاےدار بنیادی ڈھانچے کا قیام،اور عورتوں کی پبلک اور لیبرسروسز تک رسائی‘‘ تھا۔
اجلاس CSW63  [Commission on the Status of Women] میں شرکت کے لیے پاکستان سے ہم نے چھے خواتین کا وفد تیار کیا، لیکن صرف دو ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں، جن میں ایک راقمہ اور دوسری بہن عائشہ سید تھیں۔ ۹ مارچ کو ہم کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہوئے۔ یہ سفر بذات خود تہذیبی جنگ کا ایک عنوان نظر آرہا تھا۔  عورت کی پردے، لباس، اللہ و رسولؐ کے احکام سے رُوگردانی اور آزادی کی گواہیاں اسلام آباد ایئرپورٹ سے شروع ہوگئیں۔ہوائی جہاز میں ایئر ہوسٹسوں کی برہنہ ٹانگیں اور ابو ظہبی ایئر پورٹ پر مسلمان عورت کی حد کو چھوتی ہوئی بے باکی اس رویے پر مہر تصدیق ثبت کر رہی تھی۔
نیویارک کے جس حصّے میں اقوام متحدہ کا مرکزی دفتر ہے وہ بہت گنجان آباد علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی بلڈنگ میں داخل ہونے اور گراؤنڈ پاس حاصل کرنے کے لیے طویل قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔ تقریباً ڈیڑھ دوگھنٹے میں یہ کام مکمل ہوا۔ تہہ در تہہ سکیورٹی اور چھانٹی کے بعد کانفرنس ہال کے اندر داخل ہوئے۔ دنیا بھر سے تقریباً ۴ سے ۵ہزار این جی اوز کے نمایندے شریک تھے۔ مختلف قسم کے معلوماتی اور تعارفی ڈیسک لگے ہوئے تھے۔ 
یہاں نجی سطح پر بہنوں نے ہمارے لیے رہایش کا انتظام کر رکھا تھا۔ ہم اس رہایش گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ عائشہ بہن کے بھتیجے کے ہمراہ وہاں پہنچے تو بہنیں منتظر تھیں جوبہت ہی پرتپاک طریقے سے ملیں۔ جنھوں نے ایک بہت آرام دہ اپارٹمنٹ میں بہترین میزبانی کا حق ادا کیا۔   اگلی صبح پیدل چلتے ہوئے یو این او کے آفس پہنچے اور پھر مرکزی ہال میں پہنچے۔
آج کے سیشن میں دنیا بھر سے آئی ہوئی با اثر خواتین، یعنی مختلف ممالک کی صدور اور وزراے اعظم کے ساتھ نشست تھی۔ دوسری نشست دوسرے وزرا اور مختلف عہدے دار خواتین کے ساتھ تھی۔ ان نشستوں کے تقریباً تین سیشن ہوئے۔ پہلا سیشن حکمران خواتین کے ساتھ، دوسرا سیشن وزرا کے ساتھ، اور تیسرا سیشن معاشرے کی دیگر نمایاں اور مختلف عہدوں پر فائز خواتین کے ساتھ تھا۔ اس میں خوشی کی یہ بات تھی کہ حکمران خواتین میں سے اکثر کے انداز ِگفتگو میں توازن تھا۔ بھارت کی ایک خاتون نے ایک اسکالر کا یہ قول دُہرایا کہ خواتین کو Push back against the push backs کرنا چاہیے ’’یعنی کوئی آپ کو روکتا ہے تو آپ اُسے روک دیں‘‘۔ مراد یہ ہے کہ جتنی بھی رکاوٹیں ہیں ان کودور کریں اور آگے بڑھیں اور اپنے لیے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کریں۔ ایک خاتون نے بڑے مناصب پر فائز عورتوں کے حوالے سے کہا : ’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت تبدیلی آ چکی ہے اور دس ممالک ایسے ہیں کہ جہاں پر مکمل طور پر صنفی برابری (Gender Equality) حاصل کرلی گئی ہے‘‘۔ اگرچہ ان دس ممالک کے نام نہیں بتائے۔ اسی طرح یورپی یونین کی خاتون نے یہ جملہ ادا کیا:I don’t say better than he, but as he can do you can do it  یعنی ، ’’ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مردوں سے بہتر ہیں، لیکن جو کچھ مرد کرسکتا ہے وہ ہم بھی کر سکتے ہیں‘‘۔پھر ایک خاتون نے کہا: If I win doesn’t mean you lose  کہ ’’اگر عورت آگے آتی ہے، تو اس کایہ مطلب نہیں کہ مرد پیچھے رہ رہا ہے‘‘۔اس طرح کے جملوں کا مطلب یہ ہے کہ ان میں تمام خواتین انتہا پسند نہیں ہیں بلکہ توازن رکھنے والی خواتین بھی موجود ہیں۔ 
اس بات پر بہت زور دیا گیا کہ:’’ خواتین کے لیے ہر میدان میں کوٹہ مخصوص کیا جائے‘‘۔  جس کا مطلب یہ ہوا کہ بہت سی صلاحیتیں مرد میں زیادہ ہوتی ہیں، اسی لیے مادر پدر آزاد ماحول کے باوجود صنف کی بنیاد پر کوٹہ چاہیے، صلاحیت کی بنیاد پر نہیں۔ گوئٹے مالا کی وزیر نے کہا کہ: ’’ہماری ۷۰فی صد آبادی ۲۹سال سے کم عمر ہے اور ہم گوئٹے مالا میں Gender Equality (صنفی برابری) کی نہیں بلکہ Gender Equity (صنفی توازن)کی بات بھی کرتے ہیں‘‘۔ تیونس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ: ’’اب تک ہم خواتین کے ۳۰پراجیکٹس کر چکے ہیں۔ ہم ہر گاؤں میں خواتین کو معاشی حقوق دیتے ہیں جہاں ہم نے ٹکنالوجی بھی پہنچائی ہے۔ زچگی کی چھٹی ہم ماں اور باپ دونوں کو دیتے ہیں‘‘۔ مالدیپ نے رپورٹ میں بتایا کہ: ۱۹۶۸ء میں مالدیپ میں ماؤں کی شرح اموات ۱۸۶ء۴ فی ہزار تھی اور ۲۰۱۷ء میں ۶ء۸فی ہزار ہوچکی ہے‘‘۔ واقعی یہ بہت ہی شان دار کامیابی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ: ’’مالدیپ میں ٪۲۵ فی صد وزارتیں خواتین کے پاس ہیں اور معاشی افرادی قوت میں ۳۷ فی صد خواتین ہیں‘‘۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ لیبر فورس میں اتنی زیادہ خواتین ڈال کر قوم نے کیا حاصل کیا ہوگا؟ 
یہاں ایک کہاوت یاد آتی ہے کہ: ’’کسی شخص نے گائے کو ، ہل میں جوت رکھا تھا اور بیل درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا۔ ایک فرد پاس سے گزرا تو اُس نے کہا کہ ’’بھائی یہ کیا کر رہے ہو،  تم نے گائے کو جوتا ہوا ہے؟‘‘ تو اُس نے جواب دیا کہ: ’’یہ بہت شور مچاتی تھی کہ میرے حقوق بیل کے برابر کرو۔ میں نے اس کو جوتا ہے تو بہت خوش ہے‘‘۔ اُس نے پوچھا : ’’بیل کیا کرتا ہے؟‘‘ کہا کہ: ’’بیل تو درخت کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتا ہے، گائےکے حقوق کے لیے پُرزور آواز اٹھاتا اور خوش ہوتا ہے‘‘___ چنانچہ یہاں بھی فخر سے بتا یا جا رہا ہے کہ لیبر فورس میں ٪۳۷ فی صد خواتین ہیں، یعنی وہ اینٹیں بھی اٹھاتی ہوںگی، سڑکیں بھی بناتی ہوںگی اور نا معلوم کیا کیا لیبر فورس کے کام کرتی ہوںگی اور کن حالات میں ہوںگی؟ ساتھ گھر میں کھانا، کپڑے، صفائی اور بچوں کی نگہداشت بھی۔ ایک بات انھوں نے اچھی کہی کہ کام کرنے والی ماؤں کو ہم چھے ماہ کی زچگی کی چھٹی، مع تنخواہ دیتے ہیں‘‘۔  مراکش کی خاتون نے درود شریف سے آغاز کیا۔ فلسطین کی خاتون نے بتایا کہ: فلسطین کی ۷۰ فی صد آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے تو ہم اپنے اہداف کیسے پورے کریں؟‘‘ 
دوپہر تک مختلف ممالک کے رپورٹ سیشن میں شرکت کی۔ اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا۔ پہلے روز دونوں نمازیں جمع کر کے اپارٹمنٹ میں پڑھی تھیں۔ آج ہم نے سوچا کہ ہمیں تلاش کرنا چاہیے یہاں کہیں نماز کے لیے جگہ ہوگی۔ ہم نے استقبالیہ سے عبادت کی جگہ (Prayer Room) کا پوچھا، تو وہ خاتون ہمیں نیلے شیشوں والے ایک کمرے تک چھوڑ آئی۔ اندر چند افریقی بھائی اور بہنیں  نماز کی تیاری کر رہے تھے۔ انھوں نے جماعت کا اہتمام کیا، آگے مرد اور پیچھے خواتین کھڑی ہوگئیں۔ پھر آیندہ دنوں میں بھی ہم وہاں نمازیں پڑھتے رہے۔ ایک دن وہاں پر ایک عیسائی خاتون کو بہت دیر تک عبادت میں بڑے خشوع و خضوع کی حالت میں دیکھا۔
اقوام متحدہ کے پروگراموں کے علاوہ این جی اوز بھی اپنے اپنے پروگرام کرتی ہیں اور کچھ پروگرام یو این او کے مختلف اداروں کے تحت ہوتے ہیں۔ انھیں ’متبادل سرگرمی‘کہا جاتا ہے۔ زیادہ پروگرام ’عورت کے معاشرتی تحفظ اور معاشی خود مختاری‘ اور ’صنفی برابری‘ پر ہی تھے۔ ساتھ ہی تیسرا عنوان ’جنسی تشدد اور اس کی روک تھام‘ بھی تھا۔ ایک جگہ معذور خواتین کی بحالی یا معاشی زندگی پر پروگرام ہو رہا تھا۔ایک پروگرام ’نقد رقوم کی منتقلی سے خواتین کی زندگیاں بدلنا‘ تھا۔ یہ عنوان دیکھ کر اس بڑے کمرے میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہاں فلم انڈسٹری کی خواتین زیادہ تھیں اور میڈیا کے ذریعے زندگیاں بدلنے پر بات ہورہی تھی۔ جب ہم داخل ہوئے تو پورا کمرہ بھر چکا تھا۔ تھوڑی دیر پیچھے کھڑے رہے ، تو پروگرام انتظامیہ کی ایک خاتون آئی اور ہمیں اشارہ کیا کہ میرے ساتھ آئیں۔ وہ ہمیں اگلی سیٹوں پر لے گئی اور وہاں اُس نے اپنی کچھ خواتین کو اٹھایا اور ہمیں جگہ دی۔ ہم نے دیکھا کہ جن کو اٹھایا تھا وہ نیچے بیٹھ گئیں، حالانکہ ہم نے بہت کہا کہ انھیں مت اُٹھائیں۔ 
اس کے بعد اگلے دن کانفرنس میں آئے تو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹو نیو گوٹرس کے ساتھ سوال جواب کا سیشن تھا۔ بہت زیادہ سوال کیے جا رہے تھے۔ اس سیشن کی دل چسپ بات یہ تھی کہ ’طاقت وَر خواتین‘ کے خلاف لوگ شکایات کا انبار لگا رہے تھے۔ بنگلہ دیش کے بارے میں   یہ بات رکھی گئی کہ وزیراعظم حسینہ واجد، سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے ساتھ بُرا سلوک کر رہی ہے اور انھیں اتنے عرصے سے قید میں رکھا ہوا ہے۔ گویا یہ ثابت ہو رہا تھا کہ عورت اگر طاقت وَر (Empowered) ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک بھی کرے گی یا اُن کے حقوق دلوائے گی۔ 
مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے سوا تمام مسلم ممالک اور شمالی افریقہ میں بھی بیش تر ملکوں میں اقوام متحدہ، امریکا اور مغربی ممالک کے نزدیک مسلمان عورت کو معاشی استحکام حاصل نہیں ہے۔ ان کے خیال میں ’عورت جب تک خود نہ کمائے وہ مفلس ہے‘۔ انھیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان خواتین کو گھر کی ملکہ بنایا ہے اور اکثریتی مسلمان گھرانوں کی عورتیں کوئی نوکری کیے بغیر بھی والدین اور شوہرو ں کے گھروں میں تمام میسر سہولیات کے ساتھ رہتی ہیں۔ البتہ مسئلہ وہاں پر پیدا ہوتا ہے کہ جہاں اسلام کی تعلیمات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ 
انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار وومن ججز (AWJ) کے تحت پروگرام تھا کہ: ’’عورت کے بارے میں شعبۂ قانون کی خواتین اہداف کیسے حاصل کریں؟‘‘ عملاً ہر پروگرام میں قانون سازی پر زور تھا کیو ںکہ قانون سازی کے بعد ساری قوم کو پابندی کرنی پڑتی ہے چاہے، کوئی متفق ہو یا نہ ہو۔
سعودی عرب میں ’قومی پالیسیوں کی تشکیل میں خواتین کے تحقیقاتی ادارے کا کردار‘   میں بتایا گیا کہ: ’’سعودیہ میں خواتین کی ترقی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے‘‘۔ گویا کہ اقوام متحدہ، مسلم ممالک کو اپنی مرضی کے ایجنڈے بنانے اور نفاذ کی سطح تک لے آئی ہے۔
افغانی خواتین کےلیے چیلنجز اور ترقی کے مواقع پر بھی ایک پروگرام تھا، جس کا اہتمام افغانستان اور ناروے نے کیا تھا۔اسی طرح شام اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں متاثرہ خواتین کی بہبود اور سماجی تحفظ پر بھی پروگرام رکھے گئے۔
اقوام متحدہ کے نوجوانوں سے متعلق اداروں اور لڑکیوں کے بارے میں کئی ورکنگ گروپس کے تحت، حکومتوں اور اقوام متحدہ کے سینئر افسران کے ساتھ مکالمے کا اہتمام کیا گیا تھا، جس کاعنوان تھا: Take a Hot seat۔ یہ یو این ویب ٹی وی پر براہ راست بھی نشر ہو رہا تھا۔ یہاں سب کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ صرف دعوت نامے کے ذریعے سے جا سکتے تھے۔ 
اسی طرح ایک نیا عنوان سننے کو ملا، جس کے تحت ایک میلہ منعقد کیا گیا تھا: Gender inclusive Language Fair (غیر صنفی زبان و کلام)۔ تفصیل یہ ہے کہ: ’’عام استعمال ہونے والی روز مرہ کی زبان سے وہ تمام الفاظ ختم کیے جائیں یا بدل دیے جائیں، جو کسی بھی طرح مرد کی برتری ثابت کرتے یا کسی جنس کو ظاہر کرتے ہیں، مثلاً  Mankind, Chairman, Man power 
,  Manmade, congress men, Ladies and gentlemen, girls and guys وغیرہ۔ ان کی جگہ غیر جانب دار (neutral) الفاظ لائے جائیں، مثلاًYou Guys (اے جوانو!)کے بجاے  You all  (آپ تمام)، Chairman کی جگہ Chair اور جہاں یہ الفاظ میسر نہ ہوں Self-inclusive language ، یعنی صیغہ متکلم استعمال کیا جائے ’ہم‘ ،’سب‘، ’ہمارا‘ وغیرہ۔ اس ضمن میں Gender inclusive Charts متعارف کروائے گئے جو انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں۔ ان چارٹوں میں جو رنگ استعمال کیے گئے وہ ’ہم جنس زدگان‘ (LGBTs) کی کلر اسکیم ہے۔
گویا اس کے ڈانڈے وہاں جا کر ملتے ہیں کہ: ’’خاندان جب عورت اورعورت، مرد اور مرد پر بھی مشتمل ہوگا تو پھر جنسی تفریق کیوں؟ بس سب ایک ہیں ، جب اور جیسے چاہیں اپنا خاندان بنا سکتے ہیں۔ عورت اور عورت جا کر بنک سے مرد کے تولیدی جرثومے (sperms) حاصل کرلے اور بچہ پیدا کرلے۔ مرد+مرد کسی بھی عورت کا رحم (uterus) کرائے پر حاصل کریں (جو ان ممالک میں آسانی سے مل جاتے ہیں) اور اپنے لیے بچے پیدا کر لیں‘‘۔ اسی طرح بچوں کو گود لینا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ خاص طور پر اب تو بہت سے مہاجر، یتیم اور لاوارث بچے شام، عراق، برما اور دیگر مسلم ممالک سے انسانی ہمدردی کے تحت این جی اوز مغربی ممالک میں منتقل کر رہی ہیں، جو ان خاندانوں میں پل رہے ہیں، اور بہت سے بچے وہاں رہنے والے مسلمان گھرانوں کے ہیں جنھیں والدین کی طرف سے ذرا بھی ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہے تو چھین کر ایسے لوگوں کو دے دیے جاتے ہیں۔ 
’عورت کی صحت‘ اقوام متحدہ کے تحت این جی اوز کے لیے اہم عنوان ہے۔ اس ضمن میں عورت کی تولیدی صحت اور زچگی کے وقت شرح اموات کو کم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔
ایک پروگرام ’خصوصی خواتین‘ کے بارے میں تھا۔ چین کی ایک خاتون جو خود بھی قوت گویائی سے محروم تھیں اس پروگرام کی روح رواں تھیں۔ وہ اشاروں سے تقریر کر رہی تھیں اور ان کی ترجمان لفظوں میں کمال کی ترجمانی کر رہی تھی۔
ایک پروگرام تھا: ’ماہانہ نسوانی آزمایش اور صحت کا معاملہ‘۔ اس عنوان کو دیکھ کر سمجھ میں آیا کہ پاکستان کی بیکن ہائوس نیشنل یونی ورسٹی میں لڑکیوں نے ایک سال پہلے جو گندا مظاہرہ کیا تھا،  وہ انجانے اور ناسمجھی میں نہیں ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ آخر عورت کی صحت کا ہر عنوان چوراہے پر ہی کیوں زیربحث آئے؟
اسی طرح ’خاندانی منصوبہ بندی‘ کی مختلف ایسوسی ایشنوں کے تحت پروگرام ہو رہے تھے۔ خاص طور پر ’اسقاط حمل‘ اور ’عورت کا حق‘ کے بارے میں۔ مثلاً: ایک عنوان تھا: ’اسقاط حمل کے حق میں، یک جا اور ہم آواز‘۔ پیغام یہ تھا کہ: ’’عورت کو ہر وہ حق دیں، جس کے تحت وہ خانگی، زچگی، مرد اور عائلی ذمہ داریوں سے آزاد ہو کر اپنی مرضی کی زندگی گزارے۔ اس کے لیے قانون سازی بھی کی جائے۔ رکاوٹ بننے والی ہر مذہبی اور سماجی آواز کو دبایا جائے‘‘۔
ایک اور عنوان عورت کی صحت کے حوالے سے ایڈز میں مبتلا ہم جنس زدگان، سیکس ورکرز  (بدن فروشوں) اور اسی طرح کی دوسری خواتین کے بارے میں تھا کہ جن کو معاشرہ الگ تھلگ کردیتا ہے۔ ان کے تمام حقوق کی نگہداشت اور معاشرتی حقوق کی حفاظت کے لیے کیا اقدام کیا جائے؟ حکومتوں کی ذمہ داری ہو کہ وہ ان کےلیے قانون سازی کریں۔
ایک پروگرام کا عنوان تھا: Let’s talk about sex work (آئیے، قحبہ گری کی بات کریں)۔ مطلب یہ کہ عورت کو اس گھنائونے کاروبار کی آزادی دی جائے، ایسی عورتوں کی مدد کی جائے کہ وہ گھر سے باہر کتنے مردوں کے کام آ سکتی ہے؟ اس کام کو کیسے بہتر بنا سکتی ہے؟ جنسی کاروبار سے کیسے، کتنا زیادہ کما سکتی ہے؟ اس کے لیے قانون سازی کی جائے۔
دوسری جانب پروگرام ’کم عمری کی شادی کو کیسے روکا جائے؟‘کے بارے میں تھا۔ بلاشبہہ  کوئی بھی مذہب یا معاشرہ بہت چھوٹی عمر کی شادی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، لیکن یہاں تو ایجنڈا ہی کچھ اور ہے جو تمام عنوانات سے ظاہر ہے۔
’جاے ملازمت پر عورت کو ہراساں کیا جانا‘ ایک مستقل عنوان ہے۔معاشرے کے ہرطبقے کے خلاف، ہر طرح کا تشدد قابل مذمّت ہے، خصوصاً عورت اور بچوں پر تشدد کی کسی صورت   حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی، لیکن وہاں کنونشن کے عنوان بہت دل چسپ تھے مثلاً: ’پارلیمنٹ میں منتخب خواتین کو ہراساں کیا جانا‘۔پارلیمنٹ میں پہنچنے والی خواتین سے زیادہ با اثر اور طاقت ور اور کون ہوگا؟ لیکن اگر ان کو بھی جنسی سراسیمگی کا خوف ہے تو گویا عورت کا اقتدار بھی اس کو تشدد اور سراسیمگی سے بچانے والا نہیں ۔ پھر وہ کیا عوامل ہوںگے جو عورت کو تحفظ اور عزت فراہم کریں گے؟  حیرت ہے اس انسان پر، جو پھر بھی اپنے مالک کی طرف نہیں پلٹتا اور اس بات پر غور نہیں کرتا کہ عورت اور معاشرے کے ہر فرد کے لیے اس نے کون سے حفاظتی قلعے بنائے ہیں؟ کن عورتوں کو محصنات قرار دیا ہے؟ معاشرتی استحکام کے لیے، معاشرتی قدروں کے لیے اس نے کون سے اصول وضوابط بنائے ہیں کہ ایک عورت کو لمبا سفر تن تنہاکرنے کے باوجود کسی سراسیمگی اور عدم تحفظ کے خوف سے نجات کی بشارت دی گئی ہے۔ 
سات نارڈک ممالک (ناروے، سویڈن، فن لینڈ، آئس لینڈ، ڈنمارک وغیرہ) کے وزرا پر مشتمل گروپ کے زیربحث عنوان تھا:The Gender effect on leave and care policies, stronger with dads involved ، یعنی: ’چھٹیوں کے دوران دیکھ بھال کی پالیسیوں پر صنفی اثرات، باپ کی شمولیت سے زیادہ مضبوط‘۔ بظاہر عنوان سے لگتا تھا زچگی کی چھٹیاں ماں کے ساتھ باپ کو بھی دی جائیں تاکہ دونوں مل کر بچے کی اور ایک دوسرے کی دیکھ بھال کریں۔ لیکن تفصیلات کے مطابق یہ تھا کہ وزرا کا گروپ یہ وضاحت کرے گا کہ: ’’مرد، بچوں کی دیکھ بھال میں زیادہ ہاتھ بٹاسکیں اور عورت لیبر مارکیٹ میں زیادہ مشغول ہوسکے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر اقتصادی خوش حالی اور معاشرتی فلاح میں بہتری ہوسکے‘‘ یعنی معاشرے کا پہیہ  اُلٹا گھمانے کی تیاریاں۔ سُن ، پڑھ اور زیربحث دیکھ کر دماغ چکّرا گیا۔ان ممالک کے وزرا نے اپنے اپنے ملک میں اس پالیسی پر عمل درآمد کی رپورٹیں پیش کیں۔ غور کریں ان معاشروں کا مستقبل کیا ہوگا، جہاں عورتیں مزدوری کریں گی، مرد بچے سنبھالیں گے؟ 
گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے معاشی و سماجی تحفظ پر بتایا گیا کہ دنیا بھر میں  ان کی اُجرتیں کم ہیں اس پر غور کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’گھریلو کام کی اُجرت‘ پر زور دیا گیا کہ گھریلو خواتین، یعنی بیویوں (House wife’s) کو گھر کے کام کی بھی اُجرت دی جائے، یعنی گھر کو بھی کاروباری ادارہ بنا دیں اور احسان، محبت، ایثار ختم کر دیں۔ عورت، شوہر اور بچوں کے جو کام کرے اس کی تنخواہ دی جائے، یعنی ممتا کا گلا گھونٹ دیں، زوجیت کا بھی بل لیا جائے۔کاش!  یہ عورتیں اور مرد جان سکیں کہ اللہ نے تو حکم دیا ہے کہ عورت کی ہر ضرورت کا کفیل مرد ہوگا۔ اپنی آمدن کے مطابق اس کو گھر اور ذاتی استعمال کے لیے بن مانگے خرچ دےگا، تاکہ میاں بیوی میں اس سے محبت اور اعتماد پروان چڑھے اور وہ اعتماد سے نئی نسل کی پرورش کریں۔
انسانی سمگلنگ (Human Trafficking)کی روک تھام پر بھی پروگرام کیے گئے۔ 
ایک عنوان میں:’ماؤں کے لیےمعاشرتی تحفظ میں بہتری‘ لانے کا سوال اُٹھایا گیاتھا۔  یہ اچھا عنوان تھا، لیکن فکر مندی والی بات یہ تھی کہ آج ماں کو بھی اس کی ضرورت پیش آ گئی کہ اس کو بھی سوشل پروٹیکشن دی جائے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ اسلام میں ماں کے جتنے سماجی، معاشرتی اور اخلاقی حقوق دیے گئے ہیں وہ ہم دنیا تک پہنچا سکیں اور انھیں اسلام کا یہ روشن چہرہ دکھا سکیں۔   دنیا کو بتا سکیں کہ اسلام کا سافٹ امیج وہ نہیں ہے، جو آج کے دین سے بیزار لوگ ناچ گانے کی شکل میں دکھا رہے ہیں۔ دراصل سافٹ امیج یہ بہترین قوانین ہیں، جن میں عورت کو مختلف معاشرتی حیثیتوں میں جو تحفظ اللہ نے دیا ہے وہ مرد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اجلاس میں شرکت کے بعد (اور اس سے پہلے ان ایجنڈوں کو سمجھتے ہوئے) جو چیزیں ذہن میں آ رہی ہیں اور اللہ کے دین کے داعی کی حیثیت سے جو ہماری ذمہ داریاں بنتی ہیں، ان کو ترتیب دیں۔ ایک جانب ہم ان مختلف ایجنڈوں کو سمجھ سکیں اور دوسری جانب ہم اقدامی طور پر وہ ایجنڈا جو اللہ تعالیٰ نے انسانیت اور عورت کی فلاح کے لیے دیا ہے، اس کو آگے بڑھا سکیں۔ اس معرکۂ حق و باطل میں ہم آنکھیں بند کرکے نہیں رہ سکتے۔نقطہ وار چند باتیں عرض ہیں:

  1. ان عالمی طاقتوں کے پروگرام اور ایجنڈے سے آگاہی کے لیے ان کو پڑھیں، سمجھیں اور ان کےاصل مقاصد کو جانیں اور پہچانیں۔
  2. ان ایجنڈوں کو پرکھیں کہ ان میں سے کیا چیزیں درست ہیں اور کون سی درست نہیں؟ ہر چیز کی نفی مقصود نہیں ہے۔ ان کےایجنڈے اور پروگرام چاہے وہ سیڈا کنونشن ہے ، یا بیجنگ پلس۵ ، اور یہ CSW۔ ان سب میں جو کچھ درست ہے، ان کا اعتراف ہونا چاہیے۔ اگر ہمارے معاشرے کے اندر ایسی کوئی رسومات موجود ہیں، جو عورت اور خاندان کے واقعی استحصال پر مبنی ہیں، ہم بھی ان کی نفی کریں اور ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔
  3. اسلامی تحریکیں اپنی درست پہچان کرائیں کہ بحیثیت مسلمان ہم ، عورت، خاندان اور معاشرے کی فلاح کے لیے کیا پروگرام رکھتے ہیں؟ ہم صرف کسی کے پیش کیے گئے اقدامات یا ایجنڈے پر رد عمل کے طور پر کام کرنے والے نہیں ہیں بلکہ اپنے مقام اور کام کو خود سمجھتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے بحیثیت خالق اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور اللہ کے نبی اور پیغمبر ہمیں دیا ہے۔
  4. ضرورت یہ ہے کہ معاشرے کے اندر ہمیں اور ہمارے ہر بچے کو معلوم ہو کہ اسلام، عورت کا اصل مقام کیا متعین کرتا ہے؟ خاندان کے اندر عورت کی کیا اہمیت ہے؟ مرد اور بچوں کی کیا اہمیت ہے؟ خاندان کے بزرگوں کا مقام کیا ہے اور معاشرے کی فلاح کس چیز میں ہے؟ یہ وہ بنیادیں ہیں جو ہمارے ہر داعی اور ہر اس کارکن کو ازبر ہونی چاہییں جو معاشرے کے اندر کام کر رہا ہے۔ جب اس کو خود ان بنیادوں کا علم ہو گا تو وہ کسی دوسرے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوگا۔
  5. اپنی حکومتوں کو راہ راست پر رکھنے کے لیے علمی فکری گروپس بنائے جائیں، کیوںکہ ہم نے وہاں پر دیکھا کہ غیر مسلم حکومتیں تو جو کر رہی ہیں سو کر رہی ہیں، لیکن مسلمان حکومتیں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار نظر آ رہی تھیں۔ وہ اپنی رپورٹوں میں آگے بڑھ بڑھ کر غلط اور مبالغہ آمیز اعداد و شمار کے ساتھ پیش کررہی تھیں کہ: ’’ہم نے یو این او کے ایجنڈا کے اہداف کتنے فی صد حاصل کر لیے ہیں اور کتنے فی صد ۲۰۳۰ء تک حاصل کر لیں گے اور اس کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں؟‘‘ ہماری حکومتوں نے ظاہر ہے بہت سی منفی چیزوں کو بھی قبول کرلیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کے لیے پریشر گروپ ہوں، جو مسلم ممالک کی حکومتوں کو اس بات پر کھڑا رکھیں کہ وہ کسی غلط چیز پر دستخط نہیں کریں گی اور کوئی غلط ایجنڈا نہیں اپنائیں گی۔ ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان کی حکومت ا ور پاکستان کے لوگوں نے ہمیشہ خاندان کے حق میں آواز اٹھائی ہے، ’فیملی واچ‘ کے ساتھ مل کر کئی چیزوں، مثال کے طور پر ہم جنسیت اور اس طرح کے کئی عنوانات کے خلاف ابھی تک اپنا موقف رکھا ہے۔ اللہ کرے کہ ہماری حکومتیں اس پر قائم رہیں۔ اس ضمن میں ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ ایسے معاملات میں جو اچھے کام کررہے ہیں، ان کی مزید حوصلہ افزائی کریں اور جو غلط چیزیں ہیں ان کی نشان دہی کریں اور انھیں اس بات پر مجبور کریں کہ وہ کسی غلط چیز پر قانون سازی نہیں کریں گے۔
  6. ’فیملی واچ‘ اور اس طرح کے دوسرے ادارے جو فلاحِ خاندان کے لیے کام کر رہے ہیں اور معاشرے کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی اور ان کی مدد کرنا ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے۔
  7. ہمیں اپنے اپنے ملک میں نظام تعلیم اور نصاب پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کم از کم تحریکی یا تحریکی افراد کے اداروں کے اندر ہم ایسا نظام تعلیم بنائیں اور ایسا نصاب دیں کہ وہاں سے پڑھ کر نکلنے والے بچّے، شیطان کی چالوں کو سمجھ سکیں اور کسی بھی منفی چیز سے متاثر نہ ہوں۔ جیساکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں مختلف اسکولوں اور اداروں سے پڑھی بچیاں بہت سی منفی سرگرمیوں کے اندر اس لیے ملوث ہوجاتی ہیں کہ ان کے پاس صحیح بنیادی تعلیم نہیں ہوتی۔ اگر ہم ایسا نصاب تعلیم بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ اسی طرح صنفی بنیادوں پر مبنی جو تعلیمات دی جا رہی ہیں ، ان کا مثبت اور منفی پہلو سمجھا سکیں ۔
  8. ہماری مدرسات دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ شیطانی ایجنڈوں کو بھی سمجھتی ہوں ۔ توازن اور وضاحت کے ساتھ ان چیزوں کو مسلمانوں، غیر مسلموں اور مختلف معاشرتی طبقات کے سامنے پیش کر سکیں کہ خاندان ، عورت اور مرد ، یہ سب الگ الگ اکائیاں نہیں ہیں بلکہ اللہ نے معاشرے کی فلاح کا منصوبہ ایک ہی دیا ہے اور جب معاشرہ فلاح پاتا ہے تو عورت بھی فلاح پاتی ہے، مرد اور بچے بھی فلاح پاتے ہیں۔
  9. ہم اپنے کام کو اعداد و شمار کے ساتھ پیش کریں۔ ہم نے دیکھا کہ جب ہم نے اقوام متحدہ کے ان پلیٹ فارموں پر اپنا کام پیش کیا تو زبانی کلامی باتوں سے لوگ متاثر نہیں ہوئے۔ 

اہم بات یہ ہے کہ تہذیبی جنگ صرف 'عورت کا عنوان نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام ایجنڈوں کے اصل اور مرکزی کردار مرد ہی ہیں جو منصوبہ ساز ہیں۔ مسلم دنیا میں جب تک مرد اس معرکے میں اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح سمجھ کر ادا نہیں کرتے، تنہا عورتیں اس کامقابلہ نہیں کرسکتیں۔ اسلامی تحریکوں کے سربراہوں کو اس تہذیبی جنگ کا فہم حاصل کرنا اور پھراس کے مطابق منصوبہ سازی کرنا ہو گی۔ یہ انسانیت کی فلاح اور اسلامی اقدار کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
 

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

یہ وہ چراغ ہے‘ جس کی حفاظت و نصرت کا وعدہ خود رب کریم نے کیا ہے۔ جب بھی طاغوت کی پھونکیں اس کو گل کرنے کے لیے حرکت میں آتی ہیں‘ رب کریم اس کی لو بڑھانے کا کام خود کرتا ہے۔ کبھی امام غزالی ؒ، ابن تیمیہؒ، مجدد الف ثانی ؒ اور شاہ ولی ؒ اللہ کے روپ میں علم کے ہتھیاروں سے لیس اور کبھی محمد بن عبدالوہاب‘ سید احمد شہیدؒ اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی صورت میں علم‘ تحریک اور جہاد کے ہمہ پہلو مظہر کی صورت میں ان کا پیغام‘ عمل کے سانچے میں ڈھلے لاکھوں افراد کی صورت میں متحرک‘ شرار بولہبی سے برسرپیکار و مصروف جہاد نظر آ رہا ہے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، صدی کے نہیں بلکہ صدیوں کے انسان اور صدیوں تک انسانوں کے محسن ہیں۔ ان شاء اللہ! اس چراغ سے جتنے چراغ جلے‘ جتنی ضو پھیلی اور اس میں جتنے بھٹکے ہوئوں کو  راہِ ہدایت نظر آئی‘ ہم سب ان کے احسان مند ہیں اور انھی میں وہ طبقۂ نسواں بھی ہے‘ جو ایک طرف جدید تعلیم یافتہ‘ دین دار اور باحجاب خواتین پر مشتمل ہے جو زندگی کے مختلف میدانوںمیں اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں۔ دوسری جانب وہ لاکھوں گھریلو خواتین ہیں‘ جو اسی چراغ کی روشنی میں اپنے مردوں کی قوامیت پر ’آمنا و صدقنا‘ کہتے ہوئے ایک حیات طیبہ بسر کر رہی ہیں اوراپنے نونہالوں کی تربیت کا فریضہ اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ادا کر رہی ہیں۔

عورت‘ نوع انسانی کی تعمیر کا پہلا مکتب ہے۔یہی وجہ ہے کہ عورت زمانے کے اکثر ادوار میں سازشوں کا شکار رہی اور اکثر مذاہب میں مظلوم بھی رہی۔ حقوق انسانی سے تہی دامن‘ شرف انسانی سے فارغ بلکہ حق زندگی سے محروم جس کی گواہی خود قرآن نے دی:  وَ اِذَا الْمَؤْدَۃُ سُئِلَت o بِاَیِّ زَنْبٍ م قُتِلَتْo (التکویر۸۱:۸-۹) ’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے نجات دہندہ بن کر بھی آئے‘ اور ان کو سربلندی بھی عطافرمائی۔ بیٹی کو زندہ گاڑنے کے بجائے اسے اپنے جسم کا حصہ اور جگر کا ٹکڑا قرار دیا۔ ماں کے قدموں میں جنت قرار دی اور نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا۔ باپ‘ شوہر‘ بھائی‘ بیٹا ہر رشتے میں مرد کو اس کا محرم اور محافظ قرار دیا۔ خطبہ حجۃالوداع کے منشور انسانیت میں عورت کے حقوق کا خیال رکھنے کی خاص طور پر تاکید فرمائی۔ لیکن صد افسوس‘ آج کفار و مغرب کو تو چھوڑیے خود مسلمان عورت ایک مرتبہ پھر ایک دوراہے پر کھڑی کر دی گئی ہے۔ بات محض حقوق کی نہیں کہ وہ تو اہلِ مغرب نے بھی ادا نہ کیے‘ بلکہ اس کے مقام اور دائرہ عمل کو متنازع بنانے کی ہے۔

ایک جانب مغرب زدہ میڈیا ہے الحاد پرست میڈیا‘ جس نے عورت کی عزت و حرمت اور حیا و پاک دامنی کو داغ داغ کر دیا ہے۔ دوسری جانب مخصوص ایجنڈے پر عامل این جی اوز ہیں‘ جو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے تحت ڈالروں کے عوض‘ تہذیب و ثقافت کا رخ دین سے لادینی اور حیا سے بے حیائی کی طرف موڑ دینے کے لیے دن رات ایک کر رہی ہیں۔ تیسری جانب ایک طبقہ علما سوء کا بھی ہے جو ہر دور میں باطل کی سرپرستی کے لیے آموجود ہوتا اور خود کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے قرآنی آیات پر عقل کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور آیات قرآنی کو نئے نئے معنی پہنا کر طاغوت اور خدا سے باغی لوگوں کی خدمت بجا لاتا ہے۔ وہ ہر ایسی چیز کے لیے اسلام کا دامن وسیع کر دینا چاہتے ہیں‘ جسے مغرب نواز طبقہ پسند کرتا ہے۔ مسلمان خواتین ان حالات میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہیں کہ بحیثیت عورت ہمارا اصل مقام کیا ہے؟معاشرے میں ہماری حیثیت کیا ہے؟ کیا واقعی ہم ثانوی ہیں؟ کیا گھرداری اور بچوں کی پرورش واقعی دوسرے درجے کا ایک بے کار کام ہے؟ کیا تعلیم اور ووٹ ہمارا حق نہیں؟ کیا رزق حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہمارا شامل ہونا گناہ ہے؟ ہمارا دائرہ عمل کون سا ہے؟ اور کون سے میدان کار ہمارے لیے درست ہیں؟ اور کہاں ممانعت کی حدبندی ہے؟

بہرحال آج کی باشعور مسلمان عورت ‘ سید مودودی ؒکے جلائے ہوئے چراغوں کی روشنی میں نہ صرف ان سوالوں کے جوابات پا چکی ہے‘ بلکہ پورے اطمینان قلب کے ساتھ دین دار عورت ان چیلنجوں سے نبرد آزما بھی ہو رہی ہے۔ اگرچہ یہ چیلنج مختلف النوع اور کثیر تعداد میں ہیں‘ لیکن ان کے بارے میں مولانا مودودیؒ کے شان دار لٹریچر میں ہمہ پہلو اور وسیع معلومات کے خزانے اور رہنمائی کا مکمل سامان موجود ہے۔

خواتین کی حیثیت اور مقام سے لے کر دقیق فقہی مسائل تک‘ سبھی کچھ مولانا کے لٹریچر میں مل جاتا ہے اور پیش کیا جا سکتا ہے‘تاہم میں اپنی گفتگو کا دائرہ تحریک مساوات مرد و زن کے تناظر میں ’’عورت کا صحیح دائرہ کار‘‘ تک محدود رکھوں گی۔ میری کوشش ہو گی کہ گفتگو مولانا کی زبان میںہو اور اس ضمن میں نہ صرف ان کا نقطۂ نظر سامنے رکھا جائے‘ بلکہ یہ واضح کیا جائے کہ اس میدان میں انھوں نے ’مدنیت صالحہ‘ کی کتنی بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔

  • عورت کا دائرہ عمل: اس باب میں انسان کبھی افراط کا شکار ہوا‘ کبھی تفریط کا۔ جب کسی الہامی رہنمائی کے بغیر اس نے اس مسئلے کے حل کی کوشش کی تو اس کے ہواے نفس اور اس کی عقل نے اکثر اس کو دھوکا دیا اور بقول مولانا مودودیؒ: ’’انسان کی یہ فطری کمزوری ہے کہ اس کی نظر کسی ایک معاملے کے تمام پہلوئوں پر من حیث الکل حاوی نہیں ہو سکتی۔ ہمیشہ کوئی ایک پہلو اسے زیادہ اپیل کرتا ہے اور اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ پھر جب وہ ایک طرف مائل ہو جاتا ہے تو دوسری اطراف یا تو اس کی نظر سے بالکل اوجھل ہو جاتی ہیں‘ یا وہ قصداً ان کو نظرانداز کر دیتا ہے‘‘۔ (پردہ‘ ص ۱۹۹)

چنانچہ عورت کے دائرہ کار پر بحث کرنے سے پہلے جو چیز مولانا مودودیؒ دلائل سے ثابت کرتے ہیں وہ ’مدنیت صالحہ‘ کے لوازم ہیں۔

اس تمدن میں وہ بنیادی اہمیت ’تاسیس خاندان‘ کو دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں: ’’انسان کے دل میں اولاد کی محبت تمام حیوانات سے زیادہ رکھی گئی ہے --- اس شدید جذبۂ محبت کی تخلیق سے فطرت کا مقصد صرف یہی ہو سکتا ہے کہ عورت اور مرد کے صنفی تعلق کو ایک دائمی رابطے میں تبدیل کر دے۔ پھر اس دائمی رابطے کو ایک خاندان کی ترکیب کا ذریعہ بنائے۔ پھر خونی رشتوں کی محبت کا سلسلہ بہت سے خاندانوں کو مصاہرت کے تعلق سے مربوط کرتا چلا جائے‘ پھر محبتوں اور مجبوبوں کا اشتراک ان کے درمیان تعاون اور معاملت کا تعلق پیدا کر دے‘ اور اس طرح ایک معاشرہ اور ایک نظام تمدن وجود میں آ جائے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۱۴۱)

یہ صالح معاشرہ انسان کو محض اس کی عقل یا حیوانی جبلت پر نہیں چھوڑ دیتا بلکہ اس معاملے میں انسان کی رہنمائی کرتے ہوئے ایسا نظام وضع کرتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو انسانیت کے لیے ایثار پر آمادہ کیا جائے۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: ’’تمدن کے وسیع کارخانے کو چلانے کے لیے جن پرزوں کی ضرورت ہے وہ خاندان کی اس چھوٹی سی کارگاہ میں تیار کیے جاتے ہیں --- زمین پر اپنی زندگی کا پہلا لمحہ شروع کرتے ہی بچے کو خاندان کے دائرے میں محبت‘ خبرگیری‘ حفاظت اور تربیت کا وہ ماحول ملتا ہے‘ جو اس کے نشوونما کے لیے آبِ حیات کا حکم رکھتا ہے۔ خاندان ہی میں بچے کو وہ لوگ مل سکتے ہیں جو اس سے نہ صرف محبت کرنے والے ہوں‘ بلکہ جو اپنے دل کی امنگ سے یہ چاہتے ہوں کہ بچہ جس مرتبے پر پیدا ہوا ہے اس سے اونچے مرتبے پر پہنچے۔ دنیامیں صرف ماں اور باپ ہی کے اندر یہ جذبہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو ہر لحاظ سے اپنے سے بہتر حالت میں اور خود اپنے سے بڑھا ہوا دیکھیں ---- ایسے مخلص کارکن (labourers) اور ایسے بے غرض خادم (workers) تم کو خاندان کی اس کار گاہ کے باہر کہاں ملیں گے‘ جو نوع انسانی کی بہتری کے لیے نہ صرف بلا معاوضہ محنت صرف کریں‘ بلکہ اپنا وقت‘ اپنی آسایش‘ اپنی قوت و قابلیت اور اپنی محنت کا سب کچھ اس خدمت میں صرف کر دیں۔ جو اس چیز پر اپنی ہر قیمتی چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہوں‘ جس کا پھل دوسرے کھانے والے ہوں؟ کیا اس سے زیادہ پاکیزہ اور بلند ترین ادارہ انسانیت میں کوئی دوسرا بھی ہے‘‘ (ایضاً‘ص ۱۵۳ - ۱۵۴)۔ ’’صنفی میلان کو خاندان کی تخلیق اور اس کے استحکام کا ذریعہ بنانے کے بعد اسلام خاندان کی تنظیم کرتا ہے‘ اور یہاں بھی وہ پورے توازن کے ساتھ قانون فطرت کے ان تمام پہلوئوں کی رعایت ملحوظ رکھتا ہے‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۲۳۲)

اس تنظیم میں عورت کو گھر کی ملکہ بنایا گیا ہے۔ کسب مال کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہے اور اس کے مال سے گھر کا انتظام کرنا اس کا کام ہے۔ المراء ۃ راعیۃعلیٰ بیت زوجھا و ھُوَ مَسْئولَۃ‘ عورت اپنے شوہر کے گھر کی حکمران ہے۔ اور وہ اپنی حکومت کے دائرے میں اپنے عمل کے لیے جواب دہ ہے۔ مولانا کے نزدیک مرد اور عورت کے دائرہ عمل کا تعین کوئی سرسری بات نہیں ہے یا یہ محض ایک ایشو نہیں ہے‘ بلکہ یہ تمدن کی ایک بڑی اہم اور اساسی نوعیت کی بنیاد ہے۔ معاشرے کی تعمیر کو درست خطوط پر استوار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فطرت نے جس کے ذمے جو فرض لگا دیا ہے‘ وہ اسی کو ادا کرے۔ جہاں کوئی صنف اپنے حصے کا کام چھوڑ کر دوسری صنف کے کرنے کا کام سنبھالے گی‘ وہ خود بھی نقصان اٹھائے گی‘ اور معاشرہ بھی بری طرح اس کے نتائج کو بھگتے گا۔

مولانا مودودیؒ اس ضمن میں اسلام کی روح کو واضح کرتے ہوئے نہ کسی جدید تحریک سے مرعوب نظر آتے ہیں اور نہ قدیم تہذیب کے کسی ایسے اصول کو مانتے ہیں جو اسلام کی اصل روح سے ٹکراتا ہو۔ نہ جامد تقلید کے قائل ہیں‘ نہ ہر چلتے ہوئے سکّے کو اسلامی ثابت کرنے والوں کی مذمت سے گریز کرتے ہیں۔ چنانچہ ترقی کے نام پر عورت کو گھر سے باہر نکال کر کارخانوں میں لگا دینے اور تمدن کی ترقی کے اہم ترین کارخانے کو نظر انداز کر دینے کے بارے میں مولانا فرماتے ہیں: ’’یہ کہنا کہ ’پردے میں رہ کر عورت ملک کی ترقی میں معاون بننے کے بجاے رکاوٹ بنتی ہے‘ اس کے جواب میں‘ میں پوچھتا ہوں کہ ترقی میں آخر نئی نسلوں کو پرورش کرنا اور ان کو اچھی تربیت دینا بھی شامل ہے یا نہیں؟ وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے جس میں بچوں کو اول روز سے ماں اور باپ کی محبت نصیب نہ ہو اور پیدا ہوتے ہی بچوں کو وہ ادارے سنبھال رہے ہوں جن کے کار پرداز بہرحال ماں باپ کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ان بچوں کو ابتدا ہی سے محبت کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ اور جن بچوں کو بچپن میں ماں باپ کی محبت نصیب نہیں ہوتی وہ حقیقت میں انسان بن کر نہیں اٹھتے۔ آج دنیا میں جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اور  کم سنی کے جرائم نے معاشرے کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ پیدا کر دیا ہے‘ اس کا سبب یہی ہے کہ اب دنیا کی باگیں ان نسلوں کے ہاتھ میں آ رہی ہیں‘ جنھوں نے ماں باپ کی محبت نہیں دیکھی ہے۔ اور جہاں خون کے رشتوں تک میں محبت نہ ہو‘ وہاں انسانی محبت کا کیا سوال؟ ایسے انسان تو پھر خود غرضی کے پتلے اور آدمیت کے احساسات سے خالی ہی ہوں گے‘‘۔ (دین اور خواتین‘ ص۲۸)

’’یہ معلوم ہوتا ہے کہ ]مغرب میں[ خاندانی تعلق کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ باپ کا بیٹی سے اور بیٹی کا ماں سے اور بھائی کا بھائی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب کچھ اسی چیز کا نتیجہ ہے کہ ملک کی ’ترقی‘ کا مفہوم صرف معاشی پیداوار کی ’ترقی‘ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کے لیے عورتوں اور مردوں‘ سب کو لا کر معاشی میدان میں کھڑا کر دیا گیا اور خاندانی نظام کے برباد ہونے کی کوئی پروا نہیں کی گئی۔ حالانکہ ترقی صرف معاشی پیداوار بڑھانے کا نام نہیں ہے۔ اگر عورتیں گھروں میں نئی نسل کو تربیت دیں‘ انسانیت سکھائیں‘ ان کے اندر اعلیٰ اخلاق اور خدا ترسی پیدا کرنے کی کوشش کریں تو یہ بھی ترقی ہی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ملک کی ترقی کا صرف یہی ایک ذریعہ نہیں ہے کہ مرد بھی کارخانوں میں جا کر کام کریں اور عورتیں بھی …] بلکہ[ ترقی کا یہ بھی ایک بڑا ذریعہ ہے کہ گھروں میں بچوں کو انسانیت کی تربیت دے کر تیار کیا جائے تاکہ وہ دنیا میں انسانیت کے رہنما بننے کے قابل بنیں‘ چرندے اور درندے بن کر نہ اٹھیں‘‘۔ (ایضاً‘ص ۲۹ - ۳۰)

ایک موقعے پر مغرب کے ایسے ہم نوا دانش وروں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: ’’یہ تعبیرات دراصل ایسے لوگوں نے کی ہیں جو قرآن سے نہیں بلکہ آپ لوگوں سے رہنمائی لیتے ہیں اور پھر قرآن کو مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ضرور اسی بات کو حق کہے‘ جسے آپ لوگ حق کہیں۔ ]یہ[ چیز میرے نزدیک منافقت اور بے ایمانی ہے۔ اگر میں ایمان داری کے ساتھ یہ سمجھتا کہ اس معاملے میں یا کسی معاملے میں بھی قرآن کا نقطۂ نظر غلط اور اہل مغرب کا صحیح ہے تو صاف صاف قرآن کا انکار کر کے آپ حضرات کے نظریے پر ایمان لانے کا اعلان کر دیتا اور یہ کہنے میں ہرگز تامل نہ کرتا کہ میں مسلمان نہیں ہوں۔ یہی رویہ ہر مخلص اور راست باز آدمی کا ہونا چاہیے۔ (رسائل و مسائل‘ سوم‘ ص ۳۱ - ۳۲)

گویا مولانا مودودیؒ دو ٹوک انداز میں یہ بات واضح کرتے ہیں کہ عورت کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے… اور اگرچہ خواتین اسلام نے بوقت ضرورت گھر سے نکل کر دیگر خدمات بھی انجام دی ہیں اور مولانا نے اس کی وضاحت مختلف مواقع پر کی ہے۔ حجاب پر گفتگو کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں: ’’حکم قرآنی کا منشا یہ نہیں کہ عورتیں گھر کے حدود سے قدم کبھی باہر نہ نکالیں۔ ضروریات کے لیے ان کو گھر سے نکلنے کی پوری آزادی ہے۔ مگر یہ اجازت غیر مشروط ہے نہ غیر محدود --- ضروریات سے مراد ایسی واقعی ضروریات ہیں جن میں نکلنا اور کام کرنا عورتوں کے لیے واقعی ناگزیر ہو‘‘۔ (اسلام اور مسلم خواتین‘ ص ۷۲)

دوسری جانب جنگ کے موقع پر حجاب کا یہ حکم کچھ رعایت اختیار کر جاتا ہے۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: ’’مسلمان جنگ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام مصیبت کا وقت ہے۔ حالات مطالبہ کرتے ہیں کہ قوم کی پوری اجتماعی قوت دفاع میں صرف کر دی جائے‘ ایسی حالت میں اسلام خواتین کو عام اجازت دیتا ہے کہ وہ جنگی خدمات میں حصہ لیں۔ مگر یہ حقیقت اس کے پیش نظر ہے کہ عورت جو ماں بننے کے لیے بنائی گئی ہے وہ سر کاٹنے اور خون بہانے کے لیے نہیں بنائی گی۔ اس لیے وہ عورتوں کو اپنی جان اور آبرو کی خاطر ہتھیار اٹھانے کی اجازت تو دیتا ہے مگر بالعموم انھیں فوجوں میں بھرتی کرنا اس کی پالیسی سے خارج ہے --- [تاہم] اسلامی پردے کی نوعیت کسی جاہلی رسم کی طرح نہیں ہے جس میں کمی بیشی نہ ہو سکتی ہو۔ جہاں حقیقی ضرورت پیش آ جائے وہاں اس کے حدود کم ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب ضرورت رفع ہو جائے تو حجاب کو پھر اپنی حدود پر قائم ہو جانا چاہیے‘ جو عام حالات کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ۔ جس طرح یہ پردہ جاہلی نہیں ہے اس طرح اس کی تخفیف اور اس میں نرمی بھی جاہلی نہیں‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۷۳ - ۷۴)

ان چند سطروں سے مطلوبہ حدود اور دائرہ کار کی اہمیت بھی واضح ہو جاتی ہے‘جب کہ حجاب اور گھر بیٹھنے کا مفہوم‘ اور اس روایتی پردے کی نفی بھی ہو جاتی ہے جو بقول مولانا مودودیؒ: ’’ایک گروہ نے انھیں گھر کی چار دیواری میں اس طرح قید کر دیا کہ صوبہ بہار میں مسلمانوں کے قتل عام ]۱۹۴۶ئ[ کے وقت بھی ان کی عورتیں گھروں سے ڈولی کے بغیر نہ نکل سکیں۔ دوسرے گروہ نے اس قدر آزادی اختیار کر لی کہ اپنی عورتوں کو نیم برہنگی تک لے گئے۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔ اس وقت تو ملک میں حالات ایسے پیدا ہو رہے ہیں کہ عورتوں کو اس کے لیے تیار ہونا چاہیے کہ بوقت ضرورت اپنی حفاظت خود کر سکیں‘ ایک جگہ سے دوسری جگہ خود منتقل ہو سکیں اور مصیبت کے وقت مردوں کے لیے بار اور رکاوٹ بننے کے بجاے ان کی قوت میں اضافہ کرنے کا موجب ہوں۔ میں یہ بھی مشورہ دوں گا کہ بھائی اپنی بہنوں کو اگر ممکن ہو سکے تو گھروں کے اندر سائیکل سواری بھی سکھا دیں تاکہ ضرورت کے وقت اس سے کام لیا جا سکے‘‘ (ایضاً‘ ص ۳۸ - ۳۹)۔ اور حقیقتاً یہی دائرہ کار اور پردے کا متوازن تصور ہے جو اسلام دیتا ہے۔ یہ دین فطرت کی روح ہے جسے مولانا مودودیؒ واضح کرتے ہیں۔

  • مساوات کا دل فریب نعرہ: آج جس فورم پر جائیے‘ کسی این جی او کا پروگرام ہو‘ ٹی وی کا ڈراما ہو‘ یا خواتین سے متعلق اخبارات کا کالم -- مرکزی نکتہ ایک ہی ہے ’’مساوات       مرد و زن‘‘ -- خواتین کے متعلق اقوام متحدہ کا چارٹر اٹھا کر دیکھیے‘ ’بیجنگ‘ اور ’بیجنگ + ۵‘ کانفرنسوں کا مرکزی مطالبہ اور اس پر عمل درآمد کے لیے وجود میں آنے والے CEDAW کنونشن‘ سبھی کا مرکزی مطالبہ مساوات مرد و زن ہے۔بظاہر یہ اتنا دل فریب نعرہ ہے‘ کہ دانستہ یا نادانستہ خواتین اور خود حکومت بے سوچے سمجھے اس کے پیچھے بھاگی جا رہی ہے۔ بلدیاتی اداروں میں تو شاید خواتین کو منتخب ہی اس مقصد کے لیے کیا گیا ہے کہ ان کو باقاعدہ ایجنڈے کے تحت یہ سبق ’’باتصویر‘‘ اور عملی طور پر  ذہن نشین کرادیا جائے (بلدیہ کے تحت مخلوط کانفرنسوں میں یہ لازم کیا جاتا ہے کہ مرد اور عورت الگ الگ نہیں‘ بلکہ برابر کی نشستوں پر بیٹھیں گے)۔ اس کے علاوہ بلدیاتی اداروں میں ماسٹر ٹرینر تیار کی جارہی ہیں‘ جن کی تیاری کا بنیادی مقصد خواتین کی Gender Sex کے موضوع پر ذہنی تطہیر اور  ’سیڈا‘ کے طے کردہ اصول و ضوابط کے تحت معاشرتی اصولوں کی استواری کی تربیت ہے۔ یہ ایک بڑا دھوکا ہے جو ’عوامی خدمت‘ کے نام پر بلدیاتی اداروں کی صورت میں دیا جا رہا ہے (کاش! کوئی کونسلر بہن گذشتہ دو برس کے مشاہدات و تجربات تفصیل سے لکھے)۔

ایسے مسلمان دانشوروں کی کمی بھی نہیں‘ جوہر چلتے ہوئے سکے کو کھرا ہو یا کھوٹا‘ اسلامی سکہ ثابت کرنے پر قوت لگا دیتے ہیں۔ آئیے ہم دیکھیں کہ مولانا مودودیؒ مساوات مرد و زن پر کیسے روشنی ڈالتے ہیں: ’’اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان ہونے میں مرد اور عورت دونوں مساوی ہیں‘ دونوں نوع انسانی کے دو مساوی حصے ہیں۔ تمدن کی تعمیر اور تہذیب کی تشکیل اور انسانیت کی خدمت میں دونوں برابر کے شریک ہیں --- تمدن کی صلاح و فلاح کے لیے دونوں کی دماغی تربیت اور عقلی و فکری نشوونما یکساں ضروری ہے‘ تاکہ تمدن کی خدمت میں ہر ایک اپنا پورا پورا حصہ ادا کر سکے۔ اس اعتبار سے مساوات کا دعویٰ بالکل صحیح ہے اور ہر صالح تمدن کا فرض یہی ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی اپنی فطری استعداد اور صلاحیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ترقی کرنے کا موقع دے۔ ان کو علم اور اعلیٰ تربیت سے مزّین کرے‘ انھیں بھی مردوں کی طرح تمدنی و معاشی حقوق عطا کرے‘ اور انھیں معاشرت میں عزت کا مقام بخشے‘ تاکہ ان میں عزت نفس کا احساس پیدا ہو‘ اور ان کے اندر وہ بہترین بشری صفات پیدا ہو سکیں‘ جو صرف عزتِ نفس کے احساس ہی سے پیدا ہوسکتی ہیں‘‘۔ (پردہ‘ ص ۱۸۲)

’’لیکن مساوات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورت اور مرد کا دائرہ عمل بھی ایک ہی ہو‘ دونوں ایک ہی سے کام کریں۔ دونوں پر زندگی کے تمام شعبوں کی ذمہ داریاں یکساں عائد کر دی جائیں۔ اس معاملے میں: ’’فطرت نے دونوں پر مساوی بار نہیں ڈالا ہے۔ ’بقائے نوع‘ کی خدمت میں    تخم ریزی کے سوا اور کوئی کام مرد کے سپرد نہیں کیا گیا ہے‘ اس کے بعد وہ بالکل آزاد ہے۔ زندگی کے جس شعبے میں چاہے کام کرے۔ بخلاف اس کے اس خدمت کا پورا بار عورت پر ڈال دیا گیا ہے --- اس کے لیے حمل اور مابعد حمل کا پورا ایک سال سختیاں جھیلتے گزرتا ہے‘ جس میں وہ درحقیقت نیم جان ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے رضاعت کے پورے دو سال اس طرح گزرتے ہیں کہ وہ اپنے خون سے انسانیت کی کھیتی کو سینچتی ہے --- اس پر بچے کی ابتدائی پرورش کے کئی سال اس محنت و مشقت کے گزرتے ہیں کہ اس پر رات کی نیند اور دن کی آسایش حرام ہوتی ہے۔ وہ اپنی راحت‘ اپنے لطف‘ اپنی خوشی‘ اپنی خواہشات‘ غرض ہر چیز کو آنے والی نسل پر قربان کر دیتی ہے۔ جب حال یہ ہے تو غور کیجیے کہ عدل کا تقاضا کیا ہے۔ کیا عدل یہی ہے کہ عورت سے ان فطری ذمہ داریوں کی بجا آوری کا مطالبہ بھی کیا جائے جن میں مرد اس کا شریک نہیں ہے‘ اور پھر ان تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اس پر مرد کے برابر ڈال دیا جائے‘ جن کو سنبھالنے کے لیے مرد فطرت کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد رکھا گیا ہے؟ اس سے کہا جائے کہ تو وہ ساری مصیبتیں بھی برداشت کر‘ جو فطرت نے تیرے اوپر ڈالی ہیں اور پھر ہمارے ساتھ آ کر روزی کمانے کی مشقتیں بھی اٹھا۔ سیاست‘ عدالت اور صنعت و حرفت اور تجارت و زراعت اور قیام امن اور مدافعت وطن کی خدمتوں میں بھی برابر کا حصہ لے۔ ہماری سوسائٹی میں آ کر ہمارا دل بھی بہلائے اور ہمارے لیے عیش و مسرت اور لطف و لذت کے سامان بھی فراہم کرے۔ یہ عدل نہیں ظلم ہے‘ مساوات نہیں صریح نامساوات ہے‘ عدل کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے کہ جس پر فطرت نے بہت زیادہ بار ڈالا ہے اس کو تمدن کے ہلکے اور سبک کام سپرد کیے جائیں اور جس پر فطرت نے کوئی بار نہیں ڈالا --- اسی کے سپرد یہ خدمت بھی کی جائے کہ وہ خاندان کی پرورش اور اس کی حفاظت کرے… اس میں عورت کے لیے ارتقا نہیں‘ انحطاط ہے --- اس میں عورت کے لیے کامیابی نہیں بلکہ ناکامی ہے۔ زندگی کے ایک پہلو میں عورتیں کمزور ہیں اور مرد بڑھے ہوئے ہیں۔ دوسرے پہلو میں مرد کمزور ہیں اور عورتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ تم غریب عورتوں کو اس پہلو میں مرد کے مقابلے پر لاتے ہو‘ جس میں وہ کمزور ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہو گا کہ عورتیں ہمیشہ مردوں سے کم تر رہیں گی‘ تم خواہ کتنی ہی تدبیریں کر لو۔ ممکن نہیں ہے کہ عورتوں کی صنف سے ارسطو‘ ابن سینا‘ کانٹ‘ ہیگل‘ خیام‘ شکسپیر‘ سکندر‘ نپولین‘ صلاح الدین‘ نظام الملک طوسی اور بسمارک کی ٹکر کا ایک فرد بھی پیدا ہوسکے۔ البتہ تمام دنیا کے مرد چاہے کتنا ہی سر مار لیں‘ وہ اپنی پوری صنف میں سے ایک معمولی درجے کی ماں بھی پیدا نہیں کرسکتے‘‘۔ (ایضاً‘ص ۱۹۱-۱۹۵)

وہ کہتے ہیں:پردہ تقسیم عمل ہے‘ جو خود فطرت نے انسان کی دونوں صنفوں کے درمیان رکھ دی ہے اور اس میں تمدن کا ارتقا ہے۔ ایک صالح تمدن وہی ہو سکتا ہے جو اولاً اس فیصلے کو جو ںکا توں قبول کرے۔ پھر عورت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر اسے معاشرت میں عزت و مرتبہ دے۔

  • مغرب اور مساوات: مولانا مودودیؒ مساوات مرد و زن کی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں: ’’اہل مغرب نے عورت کو ’برابری‘ کا جو مقام دیا ہے اسے عورت رکھ کر نہیں دیا‘ بلکہ اس کو ’نیم مرد‘ بنا کر دیا ہے‘‘ (دین اور خواتین‘ ص ۲۱) ۔عورت درحقیقت اس کی نگاہ میں اب بھی ویسی ہی ذلیل ہے جیسے دور جاہلیت میں تھی… عزت اگر ہے تو اس ’’مرد مونث‘‘ یا ’’زن مذکر‘‘ کے لیے جو جسمانی حیثیت سے تو عورت ہو‘ مگر دماغی اور ذہنی حیثیت سے مرد ہو اور تمدن و معاشرت میں مرد ہی کے سے کام کرے۔ ظاہر ہے یہ’انوثت‘ کی عزت نہیں ’رجولیت‘ کی عزت ہے… مردانہ کام کرنے میں عورتیں عزت محسوس کرتی ہیں‘ حالانکہ خانہ داری اور پرورش اطفال جیسے خالص زنانہ کاموں میں کوئی مرد عزت محسوس نہیں کرتا۔ پس بلاخوف و تردید کہا جا سکتا ہے کہ مغرب نے عورت کو بحیثیت عورت ہونے کے کوئی عزت نہیں دی ہے‘‘۔(پردہ‘ ص ۲۵۵-۲۵۶)

’’عورتوں نے دھوکا کھا کر جب مردوں کے ساتھ برابری کا دعویٰ کیا‘ تو اس کے بعد اب مغرب میں ’لیڈیزفرسٹ‘ (پہلے خواتین) کا قصّہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ میں نے خود انگلستان میں (سفر کے دوران) دیکھا ہے کہ عورتیں کھڑی ہوتی ہیں اور مرد پروا تک نہیں کرتے۔ حالانکہ ہمارے ہاں ابھی تک مردوں میں یہ بات ہے کہ اگر ٹرین یا بس میں کوئی عورت کھڑی ہو تو مرد اٹھ جائے گا‘ اور اس سے کہے گا کہ ’آپ تشریف رکھیے‘۔ لیکن وہاں اب وہ کہتے ہیں کہ: تم برابر کی ہو۔ تمھیں پہلے بیٹھنے کا موقع مل گیا تو تم بیٹھ جاؤ‘ ہمیں موقع مل گیا تو ہم بیٹھ گئے۔ اب عورتیں دھکے کھاتی پھرتی ہیں اور کوئی ان کو پوچھتا تک نہیں۔ الا یہ کہ پوچھنے کی کوئی ’خاص‘ وجہ ہو‘‘۔ (دین اور خواتین‘ ص ۲۱ - ۲۲)

’’اسلام نے جو کچھ کیا ہے وہ یہ ہے کہ عورت پر وہی ذمہ داریاں ڈالی ہیں‘ جو فطرت نے اس پر ڈالی ہیں۔ اس کے بعد اس کو مردوں کے ساتھ بالکل مساویانہ حیثیت دی ہے۔ ان کے حقوق میں کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔ ان کے لیے عزت کا وہی مقام رکھا ہے جو مرد کے لیے ہے۔ مسلمان عورتوں کو اﷲ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ اس معاشرے میں پیدا ہوئی ہیں جس سے بڑھ کر عورتوں کی عزت دنیا کے کسی معاشرے میں نہیں ہے۔ جائیے جا کر امریکہ اور انگلستان میں دیکھیے‘ عورت کا حال کیا ہے؟ کیسی مصیبت کی زندگی بسر کر رہی ہے؟ باپ کے اوپر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے‘ بیٹے پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ادھر وہ جوان ہوئی ادھر اس کا باپ اسے رخصت کر دیتا ہے: ’’جاؤ اور خود کما کر کھاؤ‘‘۔ اب اس کے بعد اسے اس سے کچھ بحث نہیں ہے کہ وہ کس طرح سے کما کر کھائے اور کس طرح زندگی بسر کرے۔ مغرب میں عورت اس بے بسی کی زندگی بسر کر رہی ہے‘ کہ اس پر ترس کھانے والا بھی کوئی نہیں ہے …یہاں باپ اپنی بیٹی کی ذمہ داری سے اس وقت تک سبک دوش نہیں ہوتا جب تک وہ اس کی شادی نہیں کر دیتا۔ شادی کر دینے کے بعد بھی وہ اس کی اور اس کی اولاد تک کی فکر رکھتا ہے۔ بھائی اپنی بہنوں کے پشت پناہ ہوتے ہیں۔ بیٹے ماؤں کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ (کچھ مثالوں کو چھوڑ کر عموماً) شوہر اپنی بیویوں کو گھر کی ملکہ بنا کر رکھتے ہیں۔ یہاں آپ کو آنکھوں پر بیٹھایا جاتا ہے اور آپ کی عزت کی جاتی ہے۔ وہاں بغیر اس کے کہ ]بے چاری عورت[ نیم برہنہ ہو کر مردوں کے سامنے ناچے ]اس[ کے لیے عزت کا کوئی مقام نہیں ہے۔ اب اگر ہمارے ملک کی عورتیں ان حقوق پر قناعت نہیں کرنا چاہتیں جو اسلام ان کو دیتا ہے‘ اور وہی نتائج دیکھنا چاہتی ہیں جو مغرب میں عورت دیکھ رہی ہے‘ تو انھیں اس کا اختیار ہے۔ مگر یہ سمجھ لیجیے کہ اس کے بعد پھر پلٹنے کا موقع نہیں ملے گا۔… ]کیونکہ[ ایک معاشرہ جب بگاڑ کے راستے پر چل پڑتا ہے تو اس کی انتہا پر پہنچے بغیر نہیں رہتا اور انتہا پر پہنچنے کے بعد پلٹنا محال ہو جاتا ہے‘‘۔ (ایضاً‘ص ۲۳ -۲۴)

تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے رب کے دیے ہوئے اعزازات کی قدر نہ کی‘ وہ کس قدر رسوا ہوئے۔ وہ کس کس پاتال میں گرے۔ نہ عورتیں عورتیں رہیں‘ نہ مرد مرد رہے‘ نہ بچوں کو باپ ملے‘ نہ معاشرے کا تحفظ ملا --- نہ رشتے نہ احترام‘ نہ شفقت و محبت‘ بوڑھے بھی ترس رہے ہیں‘ بچے بھی بلک رہے ہیں۔ عورت اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے۔ مرد اپنے حال پر پریشان ہے۔

کیا یہی وہ تصویر نہیں تھی جو مولانا مودودیؒ نے آج سے کئی برس قبل کھینچی تھی اور پکار پکار کر قوم کو ان کے نقش قدم پر چلنے سے روکنے کی سعی کی تھی۔ کتاب پردہ اٹھا کر دیکھیے ۔اس کا ایک ایک صفحہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ انھو ںنے کس کس طرح مثالوں سے قوم کو سمجھانے کی کوشش کی۔

قدیم معاشروں اور گزرے ہوئے مختلف ادوار میں عورت کی حیثیت کے بارے میں افراط و تفریط پر مبنی تصورات اور تباہ کاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے‘ مولانا محترم کے ذوق سلیم پر کیا گزری ہو گی‘ مگر انھوں نے لکھا ‘کیونکہ ان کے دل میں اُمت کا درد اور معاشرے کو صحیح بنیادوں پر استوار کرنے کی فکر تھی۔ ان کی نگاہیں آنے والی تباہ کاریوں کو بھانپ رہی تھیں اور وہ ان خطرات سے قوم کو آگاہ کررہے تھے۔ کاش ’ایسی آزادی‘ کی متوالی تمام خواتین کم از کم ایک بار لازماً اس کتاب کا مطالعہ کریں تو انھیں مغرب کے شاخ نازک پر بنے آشیانے کی سمجھ بھی آ جائے اور اسلام کے مضبوط معاشرتی نظام کا علم بھی ہو جائے اور تمدن کی شان اعتدال بھی واضح ہو جائے۔ بقول مولانا مودودیؒ: ’’بے اعتدالی اور افراط و تفریط کی اس دنیا میں صرف ایک نظام تمدن ایسا ہے‘ جس میں غایت درجے کا اعتدال و توازن پایا جاتا ہے۔ جس میں انسان کی جسمانی ساخت اور اس کی حیوانی جبلت ‘ اس کی انسانی سرشت اور اس کے فطری داعیات …ان میں سے ایک ایک چیز کی تخلیق سے فطرت کا جو مقصد ہے‘ اس کو اس طریقے سے پورا کیا گیا ہے‘ کہ دوسرے چھوٹے سے چھوٹے مقصد کو بھی نقصان نہیں پہنچتا‘ اور بالآخر یہ سب مقاصد مل کر اس بڑے مقصد کی تکمیل میں مددگار ہوتے ہیں جو خود انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔ یہ اعتدال‘ یہ توازن‘ یہ تناسب اتنا مکمل ہے کہ کوئی انسان خود اپنی عقل اور کوشش سے اس کو پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ انسان کا وضع کیا ہوا قانون ہو اور اس میں کسی جگہ بھی یک رخی ظاہر نہ ہو‘ ناممکن ‘قطعی ناممکن! خود وضع کرنا تو درکنار‘ حقیقت یہ ہے کہ معمولی انسان تو اس معتدل و متوازن اور انتہائی حکیمانہ قانون کی حکمتوں کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتا۔(پردہ‘ ص ۲۱۰ - ۲۱۱)

  • خواتین اور ترقی: بی بی سی کے نمایندے نے جدید تہذیبی قدروں کی روشنی میں عورت کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر میں مخصوص ’ترقی پسندانہ‘ تبدیلی کے بارے میں سوال کیا۔

مولانا مودودیؒ نے گھر اور گھر سے باہر عورت کی حیثیت اور ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’دیکھیے‘ آپ کے خیال میں جو جدید تہذیب اور ماڈرن کلچر ہے‘ آپ سمجھتے ہیں کہ تہذیب اور ثقافت کا یہی ایک معیار ہے۔ اس معیار پر آپ دوسری ہر تہذیب و ثقافت کو پرکھتے ہیں۔ لیکن ہم اس کو نہیں مانتے۔ آپ اپنی جس تہذیب اور کلچر کو ’ماڈرن‘ کہہ کر اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں‘ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک پس ماندہ اور فرسودہ چیز ہے اور یہ تباہ کر رہی ہے آپ کی پوری سوسائٹی    کو اور آپ کے پورے نظام تمدن کو۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس ’ماڈرن کلچر‘ کو اپنی سوسائٹی میں لائیں    اور اسے بھی تباہ کر لیں --- ہمارے نزدیک ترقی اور چیز ہے اور نام نہاد ماڈرن سوسائٹی کی بری عادات و اطوار اور چیز۔ ہم ترقی کے قائل ہیں اور وہ ہم ضرور کریں گے‘ لیکن اس شکل میں نہیں کہ جس طرح آپ کر رہے ہیں --- اس کے بجاے ہم اپنے اصولوں پر تعمیر و ترقی کریں گے اور وہی صحیح معنوں میں تعمیر و ترقی ہو گی --- اسلامی اصولِ معاشر ت کی رو سے عورت کا مقام اس کا گھر ہے اور اس میں مرد کی حیثیت نگران اور قواّم کی ہے۔ عورتوں کے تعلیم پانے کو ہم نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ ہماری خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بھی بنیں گی‘ لیکن وہ عورتوں کا علاج کریں گی‘ مردوں کا نہیں۔ ]غرضیکہ[ مسلمان عورت سے ہم جو کام بھی لیں گے وہ اس کے گھر کے اندر اور عورتوں کی سوسائٹی کے اندر لیں گے۔ (اسلام‘ دور جدید کا مذہب‘ ص ۱۵ - ۱۷)

  • ملکی سیاست میں عورتوں کا حصہ: مجالس قانون ساز میں عورتوں کی شرکت کے مسئلے پر مولانا سے پوچھا گیا کہ آخر وہ کون سے احکام ہیں جو عورتوں کی رکنیت ِقانون ساز مجالس میں مانع ہیں؟ اور قرآن و حدیث کے وہ کون سے ارشادات ہیں جو ان اداروں کو صرف مردوں کے لیے مخصوص قرار دیتے ہیں؟

مولانا نے فرمایا:اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ان مجالس کی صحیح نوعیت اچھی طرح واضح کریں‘ جن کی رکنیت کے لیے عورتوں کے استحقاق پر گفتگو کی جا رہی ہے۔ ان مجالس کا نام ’’مجالس قانون ساز‘‘ رکھنے سے یہ غلط فہمی واقع ہوتی ہے کہ ان کا کام صرف قانون بنانا ہے اور پھر یہ غلط فہمی ذہن میں رکھ کر جب آدمی دیکھتا ہے کہ عہد صحابہ میں خواتین بھی قانونی مسائل پر بحث‘ گفتگو‘ اظہار رائے کرتی تھیں اور بسا اوقات خود خلفا ان سے رائے لیتے اور اس کا لحاظ کرتے تھے‘ توآج اسلامی اصولوں کا نام لے کر اس قسم کی مجالس میں عورتوں کی شرکت کو غلط کیسے کہا جا سکتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو مجالس اس نام سے موسوم کی جاتی ہیں ان کا کام محض قانون سازی کرنا نہیں ہے‘ بلکہ عملاً وہی پوری ملکی سیاست کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہی نظم و نسق کی پالیسی طے کرتی ہیں۔ وہی مالیات کے مسائل طے کرتی ہیں اور انھی کے ہاتھ میں صلح و جنگ کی زمام کار ہوتی ہے۔ اس حیثیت سے ان مجالس کا مقام محض ایک فقیہہ اور مفتی کا مقام نہیں ہے‘ بلکہ پوری مملکت کے ’’قواّم‘‘ کا مقام ہے۔

’’قرآن اجتماعی زندگی میں یہ مقام کس کو دیتا ہے۔ ارشاد باری دیکھیے:’’مرد عورتوں پر قواّم ہیں‘ اس بنا پر کہ اﷲ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلتدی ہے اور اس بنا پر مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔ (النسا۴: ۳۴)

’’]کوئی کہہ سکتا ہے[ کہ یہ حکم تو خانگی معاشرت کے لیے ہے‘ نہ کہ ملکی سیاست کے لیے۔ مگر یہاں اول تو مطلقاً  الرجال قوامون علی النساء کہا گیا ہے فی البیوت کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔ جن کو بڑھائے بغیر اس حکم کو خانگی معاشرت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اگر یہ بات مان بھی لی جائے‘ تو ہم پوچھتے ہیں کہ جسے گھر میں اﷲ نے قواّم نہ بنایا‘ بلکہ قنوت (اطاعت شعاری) کے مقام پر رکھا‘ آپ اسے تمام گھروں کے مجموعے ‘یعنی پوری مملکت میں قنوت کے مقام سے اٹھا کر قوامیت کے مقام پر لانا چاہتے ہیں؟ گھر کی قوامیت سے مملکت کی قوامیت تو زیادہ بڑی اور اونچے درجے کی ذمہ داری ہے اور دیکھیے قرآن صاف الفاظ میں عورت کا دائرہ عمل یہ کہہ کر متعین کر دیتا ہے : اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ ٹھیری رہو اور پچھلی جاہلیت کے سے تبرج کا ارتکاب نہ کرو‘‘۔ (الاحزاب۳۳:۳۳)

’’آپ یہ فرمائیں گے کہ یہ حکم تو نبی کریم ؐ کے گھر کی خواتین کو دیا گیا تھا۔ مگر ہم یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کے خیال مبارک میں کیا نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم کے گھر کی خواتین کے اندر کوئی خاص نقص تھا‘ جس کی وجہ سے وہ بیرون خانہ کی ذمہ داریوں کے لیے نااہل تھیں؟ اور کیا دوسری خواتین کو اس لحاظ سے ان پر فوقیت حاصل ہے؟ پھر اگر اس سلسلے کی ساری آیات‘ اہل بیت نبوت کے لیے مخصوص ہیں‘ تو کیا دوسری مسلمان عورتوں کو تبرج جاہلیت کی اجازت ہے؟ --- اور کیا اﷲ اپنے نبیؐ کے گھر کے سوا ہر مسلمان کے گھر کو ’’رجس‘‘ میں آلودہ دیکھنا چاہتا ہے؟‘‘ (اسلامی ریاست‘ ص ۵۰۶ - ۵۰۸)

اب یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس نقطۂ نظر کے باوجود اس وقت جماعت اسلامی کی خواتین پارلیمنٹ میں کیوں موجود ہیں؟ یہاں پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ خواتین ہرگز خوشی سے ان اداروں میں نہیں گئی ہیں۔ حالات نے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ اور یہ تمام خواتین شرعی حدود و قیود کے ساتھ وہاں پر گئی ہیں اور تہذیب اسلامی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا ابطال کرنے کا فرض ادا کررہی ہیں اور اسلامی معاشرے میں عورت کے اصل مقام کو واضح کرنے میں بھی پیش پیش ہیں۔

  • اسلامی نظام کی جد وجہد میں خواتین کی ذمہ داریاں: نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مولانا مودودیؒ خواتین کے کام کو مردوں کے برابر اہم سمجھتے ہیں۔ عام دنوں میں خواتین کے اندر کام کرنے کی اہمیت اور تنظیم سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں: ’’ہمیں پاکستان میں اسلام کی حکومت قائم کرنا ہے‘ اور یہ کام بہت بڑی جدوجہد کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہاں کے باشندوں کو یہ طے کرنا ہے‘ کہ وہ اپنے لیے کس طریق زندگی کو‘ کس اصول اخلاق کو اور کس نظام حکومت کو پسند کرتے ہیں۔ اس ملک میں ایک کش مکش برپا ہے۔ ایک طرف وہ نام نہاد مدعیان اسلام ہیں جن کو صرف اسلام کا نام باپ دادا سے ورثے میں ملا ہے‘ لیکن اس کو طریق زندگی کی حیثیت سے انھوں نے نہ قبول کیا ہے اور نہ قبول کرنے پر تیار ہیں۔ اسلام کے نام پر جو حقوق حاصل ہو سکتے ہیں انھیں تو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ لیکن جن پابندیوں کا اسلام مطالبہ کرتا ہے‘ ان سے وہ خود بھی آزاد رہنا چاہتے ہیں اور ملک کو بھی آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے اوپر کافرانہ حکومت قائم رکھنے اور کافرانہ قوانین جاری رکھنے کے ارادے رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ان کے مقابلے میں وہ سب لوگ ہیں‘ جو اسلام کو اپنے طریق زندگی کی حیثیت سے پسند کرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اس ملک میں اسلام کی حکومت قائم ہو اور اسلام کا قانون جاری ہو۔

’’ان دونوں طاقتوں کے درمیان برپا کش مکش کے دوران جس طرح مردوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اسلام نما کفر کا ساتھ دیں گے یا حقیقی اسلام کی حمایت کریں گے‘ اسی طرح مسلمان خواتین کو بھی یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالیں گی۔ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کش مکش میں کیا کیا صورتیں پیش آئیں۔ بہرحال بہنوں اور ماؤں سے میں درخواست کروں گا کہ--- انھیں اس کش مکش میں اپنا پورا وزن حقیقی اسلام کے پلڑے میں ڈالنا ہو گا‘‘۔ (دین اور خواتین‘ ص ۱۶)

عام انتخابات کے موقع پر خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فر مایا: ’’اس وقت ہر مرد اور عورت پر فرض ہے کہ اٹھے اور ان لوگوں کے حق میں رائے ہموار کرے جو اس ملک میں صحیح اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں… جو تعلیم یافتہ خواتین اس ملک کو ایک اسلامی ملک دیکھنا چاہتی ہیں‘ انھیں اٹھنا چاہیے اور ان عورتوں کو سمجھانا چاہیے جو صورت حال کی نزاکت کا پورا احساس نہیں رکھتیں۔ اس معاملے میں آپ جتنی بھی کوشش کریں گی اﷲ تعالیٰ اجر عطا فرمائے گا۔ میں یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ لوگ عورتوں کے اجتماعات منعقد کریں۔عورتوں کے اندر جا کر کام کریں۔ انفرادی طور پر بھی جا کر عورتوں سے ملیں اور انھیں صورت حال سمجھائیں اور کوشش کریں کہ انتخابات میں عورتیں بھی اسلامی نظام اور پاکستان کی وحدت کے لیے اپنی رائے استعمال کریں۔

میں یہ بات اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو حقیر نہ سمجھیں۔ وہ مردوں کے ساتھ جدوجہد میں ہر محاذ پر قابل قدر خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ اس وقت اس جدوجہد کا ایک محاذ انتخابی معرکے کی صورت میں درپیش ہے۔ جس طرح مرد‘ مردانہ حلقوں میں کام کر رہے ہیں‘ عورتوں کو بھی چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے اپنے حلقے میں کام کریں‘ اور اپنا پورا وزن اسلامی طاقتوں کے پلڑے میں ڈالنے کی کوشش کریں‘‘۔ (اسلام اور مسلم خواتین‘ ص ۱۵ - ۱۷)

تعلیم یافتہ خواتین کے فرائض کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’تعلیم یافتہ خواتین پر ایک اور  فرض عائد ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ مغرب زدہ طبقے کی خواتین پاکستان کی عورتوں کو جس گمراہی‘ بے حیائی اور ذہنی و اخلاقی آوارگی کی طرف دھکیل رہی ہیں اور جس طرح حکومت کے ذرائع و وسائل (سرکاری تقریبوں‘ اداروں اور ٹیلی ویژن) سے کام لے کر عورتوں کو غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں‘ ان کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے۔ اس فتنے کا سدباب کرنے میں عورتوں کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔ خدا کے فضل سے ہمارے ملک میں ایسی خدا پرست خواتین کی کمی نہیں ہے‘ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ اور وہ ان بیگمات سے علم و ذہانت اور زبان و قلم سے طاقت میں کسی طرح کم نہیں ہیں۔ اب یہ ان کا کام ہے کہ آگے بڑھ کر ڈنکے کی چوٹ کہیں کہ مسلمان عورت اس ’’ترقی‘‘ پر لعنت بھیجتی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے خدا اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کی مقرر کی ہوئی حدیں توڑنی پڑیں‘‘۔ (ایضاً‘ص ۱۹)

’’عورتوں میں جو ذہنی‘ اخلاقی اور نفسیاتی بیماریاں پھیل رہی ہیں ان کا مقابلہ کرنا عورتوں کا کام ہے۔ وہ خواتین جو اسلام سے منحرف ہونا نہیں چاہتیں اگر اٹھ کھڑی ہوں تو اس فتنے کا مداوا اچھی طرح سے کیا جا سکتا ہے۔ جو لڑکیاں اعلیٰ درسگاہوں میں تعلیم پا رہی ہیں خدا کا شکر ہے کہ ان کی بڑی تعداد دین سے منحرف نہیں ہے۔ وہ خدا اور اس کے رسولؐ کو مانتی ہیں اور اسلامی احکام کی اطاعت اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ اگر وہ متحرک ہوں اور جو لڑکیاں غلط تہذیب سے متاثر ہو رہی ہیں اگر انھیں وہ سنبھالنے اور بچانے کی فکر کریں تو بہت جلد لڑکیوں کے اندر ایک اصلاحی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ جو خواتین دین کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں وہ آگے بڑھیں اور اس بگاڑ کا رخ موڑ دیں۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے خود دین سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اسلامی لٹریچر کا پوری توجہ سے مطالعہ کریں‘ پھر میدان میں نکلیں۔ اور عورتوں کے لیے حلقہ ہاے درس قائم کرکے انفرادی ملاقاتوں اور آسان لٹریچر کے ذریعے اپنا کام کریں۔ اس طرح کالجوں اور مدرسوں میں تعلیم پانے والی لڑکیاں بھی اپنے فرض کو پہچانیں اور اپنی ہم جماعت لڑکیوں میں اس کام کا آغاز کریں‘‘۔ (ایضاً‘ص ۹ - ۱۰)

یہ چند سطریں پڑھ کر ہم بخوبی جان سکتے ہیں کہ ایک باشعور مسلمان عورت آج کے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کس طرح کرے۔ اس کا بنیادی دائرہ عمل ’گھر‘ اس کی بنیادی سرگرمیوں کا اصل محور ہے۔ اس کے لیے ایک متعین مقام و مرتبہ بھی ہے۔ وہ اﷲ کے مقرر کردہ دائرے کے اندر ہر طرح کی سرگرمیاں ادا کر سکتی ہے۔ اپنی طرف سے کسی ’’معاشرتی امام‘‘ یا رسم و رواج کو اس پر ناروا پابندیاں لگانے کا حق نہیں ہے۔ اس کی تعلیم‘ نسلوں کی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ مگر تعلیم کی نوعیت اور  تعلیم گاہ کا ماحول درست ہونا اور درست کرنا ضروری ہے۔ اپنے فطری دائروں کے اندر ترقی کے مواقع حاصل کرنا اس کا حق ہے اور اﷲ کے مقرر کردہ دائرے سے اس کا باہر نکلنا‘ پوری قوم اور معاشرے میں بگاڑ کا موجب۔

اس وقت قوم کے تمام باشعور خواتین و حضرات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندانی نظام کو بچانے‘ معاشرتی بنیادوں اور مدنیت صالحہ کے تحفظ کے لیے اپنے اپنے حصے کا فرض ادا کریں۔ مغرب پرست این جی اوز ‘الحاد پرست میڈیا اور مفاد پرست حکمرانوں کی مسلط کردہ بے حیائی کی یلغار کا مقابلہ عملی‘ قولی اور علمی ہر طرح کے جہاد سے اﷲ کے حضور سرخروئی حاصل کریں۔ علما پر ایک بڑی ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ان ’علما سوئ‘ کا مقابلہ کریں‘ جو پردے کو محض امہات المومنینؓ کے لیے خاص قرار دیتے ہیں‘ ریاست کو اسلامی نظام کے نفاذ سے بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ وہ جو زکوٰۃ‘ سود‘ جہاد اور اسوۂ حسنہ تک کے معنی بدل رہے ہیں۔

دعا ہے کہ اﷲ اس قوم میں محترم مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے سے جذبے والا مرد حق اور ’عالم حق‘ پھر پیدا کرے جو ان سارے محاذوں پر پھر سے مردہ سنتوں کو زندہ کر سکے۔ اور ہم خواتین کو بھی اس راہ میں ویسی ہی محنت کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم بھی مولانا مودودیؒ کی طرح کہہ سکیں: ’’آج میری ہڈیاں بھی مجھ سے حساب مانگتی ہیں‘‘ --- اﷲ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کے سارے حساب آسان کر دے۔ آمین ‘ثم آمین!