جنوری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

دُعا کی نوعیت

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی | جنوری ۲۰۲۶ | ۶۰ سال پہلے

Responsive image Responsive image

دُعا کے بارے میں بھی یہ سمجھ لیجیے کہ دُعا ایک درخواست ہی ہے، جو مالک ِ کائنات سے کی جاتی ہے۔ مالک ہر دُعا کو قبول کرنے کا پابند نہیں ہے، اور نہ وہ اس شرط کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ مالک لازماً اس کو قبول ہی کرے۔ 

ہمارا کام صرف اس سے التجا کرنا ہے۔ یہ اس کے مالک ہونے اور ہمارے بندہ ہونے کا عین تقاضا ہے۔ وہ قبول کرے تو اس کا کرم ، نہ قبول کرے تو اس کو اختیارہے۔ اگر معمولی انسانی حکومتیں بھی ہرسائل کی ہر درخواست کو قبول نہیں کرتیں اور ان کے قبول نہ کرنے کی وجہ بہت سی ایسی مصلحتیں ہوتی ہیں، جنھیں سائلین نہیں جانتے، تو آخر کائنات کی حکومت کیسے ہماری ہر درخواست کو قبول کرلینے کی پابند ہوسکتی ہے، اور کائنات کا یہ نظام کیسے چل سکتا ہے اگر ہر دُعا مانگنے والے کی ہر ایک دُعا جُوںکی توں قبول کرلی جائے۔(’رسائل و مسائل‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، جنوری ۱۹۶۶ء، جلد۶۴، عدد۵، ص۶۱-۶۲)