اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

روایت اور شہادت؟

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی | اپریل ۲۰۲۶ | ۶۰ سال پہلے

Responsive image Responsive image

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اصولی ہدایت دی کہ جب کوئی اہمیت رکھنے والی خبر، جس پر کوئی بڑا نتیجہ مترتب ہوتا ہو، تمھیں ملے، تو اس کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ خبر لانےوالا کیسا آدمی ہے؟ اگر وہ کوئی فاسق شخص ہو، یعنی جس کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ اس کی بات اعتماد کے لائق نہیں ہے، تو اس کی دی ہوئی خبر پر عمل کرنے سے پہلے تحقیق کرلو کہ امرواقعہ کیا ہے؟ 

اس حکم ربانی سے ایک اہم شرعی قاعدہ نکلتا ہے جس کا دائرۂ اطلاق بہت وسیع ہے۔ اس کی رُو سے مسلمانوں کی حکومت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی کارروائی ایسے مخبروں کی دی ہوئی خبروں کی بنا پر کرڈالے جن کی سیرت بھروسے کے لائق نہ ہو۔ اسی قاعدے کی بنا پر محدثین نے علمِ حدیث میں جرح و تعدیل کا فن ایجاد کیا، تاکہ اُن لوگوں کے حالات کی تحقیق کریں، جن کے ذریعے سے بعد کی نسلوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پہنچی تھیں، اور فقہا نے قانونِ شہادت میں یہ اصول قائم کیا کہ کسی ایسے معاملے میں جس سے کوئی شرعی حکم ثابت ہوتا ہو، یا کسی انسان پر کوئی حق عائد ہوتا ہو، فاسق کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے۔ 

البتہ اس امر پر اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ [روز مرہ کے]عام معاملات میں یہ قاعدہ جاری نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ کسی کے ہاں جاتے ہیں اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں، اندر سے کوئی آکر کہتا ہے کہ آجائو، آپ اس کے کہنے پر اندر جاسکتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ صاحب ِ خانہ کی طرف سے اِذن کی اطلاع دینے والا فاسق ہو یاصالح۔ اسی طرح اہل علم کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ جن لوگوں کا فسق جھوٹ اور بدکرداری کی نوعیت کا نہ ہو، بلکہ فساد عقیدہ کی بناپر وہ فاسق قرار پاتے ہوں، [روز مرہ کے معاملات میں] ان کی شہادت بھی قبول کی جاسکتی ہے اور روایت بھی۔ (تفہیم القرآن، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۵، عدد۲،اپریل ۱۹۶۶ء،ص۲۵)