اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ایران پر اسرائیلی و امریکی یلغار اور مسلم دُنیا

| اپریل ۲۰۲۶ | اشارات

Responsive image Responsive image

ایران پر جاری بلاجواز اسرائیلی اور امریکی حملے اُس وقت شروع کیے گئے جب کہ ایران، امریکا ہی کی دعوت پر اس کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھا۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ء سے ان حملوں میں ایران کی شہری آبادی، فوجی تنصیبات اور تاریخی مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آغاز ہی میں ان دہشت گردانہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ان کے اہل خانہ سمیت شہید کر دیا گیا۔ ایران کی فوجی قیادت اور دیگر ذمہ دارانِ ریاست کو نشانہ بناتے ہوئے بچیوں کے ایک اسکول پر حملہ کرکے ۱۸۰ معصوم بچیوں کو بھی شہید کردیا گیا۔ 

جوابی کارروائی میں ایران نے مقبوضہ فلسطین میں واقع اسرائیل کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ اُن امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جو مختلف عرب ریاستوں میں قائم ہیں۔ اس دوران پٹرول کی ریفائنریوں، جاسوسی کے مراکز اور بحری جہازوں کو زبردست نقصان پہنچا اور عملاً مسلم دُنیا کی سیاسی قیادت تقسیم ہوکر رہ گئی۔ اس عظیم فساد کی بنیاد اسرائیل کاوہ شیطانی منصوبہ ہے، جس کا ہدف مسلم دُنیا کے اتحاد میں دراڑ ڈال کر انھیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا، مسلم دُنیا کے وسائل کو ایک ایک کرکے بربادکرنا، اور شہری سطح پر نفرت کو فروغ دے کر ان کی دفاعی قوت کو تباہ کرتے ہوئے وسیع تر اسرائیل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ افسوس کہ مسلم ممالک کی ریاستی اور سیاسی قیادتیں اس پھندے میں سادگی، مجبوری یا حماقت میں پھنستی چلی جاتی نظر آرہی ہیں۔ اگرچہ دُور اندیش حلقے اپنے حکمرانوں کو برابر خبردار کررہے ہیں، مگر افسوس کہ ان آوازوں پر کان کم ہی دھرا جارہا ہے۔ 

ایران کم از کم گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے براہِ راست امریکی اور اسرائیلی یلغار کا نشانہ بناہوا ہے، اور اس کا واحد قصور ان دو بدمعاش (Rogue) ریاستوں کی نظر میں صرف یہ ہے کہ اس نے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا، اور شیعہ سُنّی کی تفریق سے بالاتر رہ کر اہل غزہ کی حمایت کا برملا اظہار کیا۔ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی سمجھ دار حکمران کا سا رویہ اپنانے کے بجائے ایک کھلنڈرے، بددماغ، دروغ گو اور ’اپسٹین فائلز‘ کے مطابق اوباش حکمران کی مانند دُنیا کے امن کو مسلسل خطرے میں ڈالنے کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ آج پوری دُنیا امن، توانائی اور انصاف کے بحران میں مبتلا ہے۔ جنگ کے پھیل کر بدترین تیسری عالم گیر جنگ میں تبدیل ہوجانے کا خطرہ مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتاہے تو اس کی براہِ راست ذمہ داری امریکا، اسرائیل اور ان بلاواسطہ یا بالواسطہ حلیف یا خاموش طرف دار ریاستی قیادتوں پر آئے گی۔ 

یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ مسلم دُنیا میں تباہی کے اس سفر کی ایک تاریخ ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ ایران پر امریکی، اسرائیلی حملے کے فوراً بعد کم از کم پاکستان میں سیکولر اور لبرل طبقے نے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی و اسرائیلی ریاستی درندگی کا استقبال کیا، اس چیز نے مسلم دُنیا میں متحرک ففتھ کالم کو بے نقاب کرنے میں مدد کی (حالانکہ دوسری طرف ایران میں حزبِ اختلاف کے لوگ، حکومت کے ساتھ مل کر دفاع کی راہ پر چل رہے ہیں)۔ 

تاریخ سے بے خبر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اہل مغرب یا مغرب سے متاثر ’جدید انسان‘ مسلمانوں کو تہذیب اور دُنیا کے ساتھ چلنے، بسنے کا سلیقہ سکھانا چاہتا ہے۔ پھر اسی کج فہمی اور مغربی این جی اوز کے زیراثر کچھ نام نہاد ’عالم‘ کہلائے جانے والوں کا ایک ایسا گروہ مسلم دُنیا میں موجود ہے، جو کبھی قرآن کا مفہوم بدلنے کی جسارت کرتا ہے اور کبھی احادیث کے ذخیرے کی بے قدری کرکے مسلمانوں کو اس اثاثے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ گروہ اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم میں، فلسطین پر صہیونیت کے قبضے کو جائز قراردینے کی حماقت کا ارتکاب بھی کرتا رہتا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ’مغربی اقدار‘ یا مغربی جبر کے زیراثر مسلم آبادیوں میں تابع مہمل حکمران طبقے، اس کے سوا کوئی پہچان نہیں رکھتے کہ ذاتی شہرت و اقتدار اور اس کے تحفظ کے لیے یہود و نصاریٰ کی بستہ برداری کریں۔ اس مقصد کے لیے، ایسے عناصر کی باتوں، گھاتوں اور وارداتوں کا ایندھن اپنے بے اختیار اور مجبور مسلم عوام ہی بنتے ہیں۔  

مغرب جو صلیبی جنگوں کے زمانے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گہری نفرت کی آگ بھڑکاتا چلا آرہا ہے، اس کی سیاسی و مذہبی مقتدرہ کے لیے ہر وہ مسلمان گالی اور تباہی کا مستحق ہے، جو یہود و نصاریٰ کی اس نفرت کا رمز شناس ہے اور اسے سمجھتا ہے۔ مسلم آبادیوں اور مسلم اقوام میں مجموعی طور پر ، اہل مغرب کے اس طرزِعمل کے بارے میں گہرا ذہنی تحفظ پایا جاتا ہے۔ ان کا ضمیر اپنے ہاں پائے جانے والے ایسے لوگوں کی حکمرانی، قیادت اور نام نہاد راہ نمائی کو قبول کرنے کے لیے کبھی دل سے تیار نہیں ہوتا۔ 

جو مذموم طبقہ، مغرب کی زبان بولتا ہے، اور مغرب ہی کی عینک سے دیکھتے ہوئے اپنے لوگوں پر دھونس جماتا ہے، سازشیں کرتا ہے اور دشمن کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اپنوں ہی کو مارتا، تباہ کرتا اور دشنام کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسے مقتدر مگر دشمن کے بالواسطہ یا بلاواسطہ مددگاروں کے نزدیک ہر وہ باشعورمقامی فرد، جو ایسی ڈاکازانی کو جانتا ہے، اس کے لیے مغربی پالیسی سازوں اور ان کے مقامی طرف داروں نے چند گالیاں تجویز کر رکھی ہیں، جن میں شامل ہیں: انتہاپسند، قدامت پرست، رجعت پسند، بنیادپرست، دقیانوس، اسلامسٹ وغیرہ وغیرہ۔ یہ لیبل چسپاں کرنے کے لیے وہ خود مسلمانوں کے معاشروں سے ایسے افراد تلاش کرتے یا تیار کرلیتے ہیں جو اُن کی ایسی اصطلاحوں کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں۔ انھی میں سے بعض گروہ اسلام کے صحیح تصور کے بجائے گروہی، فرقہ وارانہ، اور انتہاپسندانہ حد تک ظاہر پرستانہ طرزِعمل اختیار کرکے تشدد کا راستہ بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے منصوبہ سازوں کو کئی گماشتے میسر آجاتے ہیں۔ 

مغربی جاہلیت اور حاکمیت کی غلامی نہ ماننے والے مسلمانوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنے دین و تہذیب کے تحفظ اور اپنے حقِ اختیار کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، اور اپنے قومی و قدرتی وسائل کو دشمن کا نوالۂ تر بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر وہ دشمن کے طرف داروں بلکہ غدارچہروں کو بھی اچھی طرح جانتے، پہچانتے اور اس پہچان کو اپنی آیندہ نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ 

آج ہمارے گردوپیش عالمی سامراجیوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کی بھڑکائی ہوئی آگ سے بلند ہوتے شعلوں میں یہ افسوس ناک منظر صاف دکھائی دیتا ہے۔ اسی منظرکا :lایک شاخسانہ مسلم دُنیا کے ممالک پر آمریتوں اور نام نہاد جمہوریتوں کا دور دورہ ہے، جس میں یہاں کے عوام کی کوئی حصہ داری اور مرضی شامل نہیں۔ lدوسری جانب بین الاقوامی سامراجی اور مالیاتی لیڈروں کی نمائندگی و سہولت کاری کے لیے ہروقت اور ہرقیمت پر حاضر نااہل قیادت و سیاست کی حاکمیت ہے۔ lتیسری جانب مسلم دنیا کے مختلف حصوںپر استعماریوں کی قبضہ گیری کی خونیں رات ہے۔ lچوتھی جانب مراکز دانش و تحقیق میں بے عملی اور ابلاغ وراہ نمائی کی فرسودگی ہے۔ lپانچویں طرف علما کے طبقے میں ایک گروہ کی فرقہ پرستانہ سوچ اور فساد گردی ہے___ یہ صورتِ حال آگے بڑھتی ہے تو غزہ میں قتل عام، بلقانی مسلم ریاستوں میں خونِ مسلم کی اَرزانی، افریقہ میں مسلم بستیوں کی پامالی اور کشمیر کی طرح کئی مسلم خطوں پر ہونے والے عشروں کا ظلم، خون کی ندیاں بہاتا نظر آتا ہے۔ یہ طغیان بڑھتے بڑھتے ۲۸فروری ۲۰۲۶ء کو ایران پر امریکا و اسرائیل کی وحشیانہ یلغار میں بدل گیا ہے۔ 

ایران پر صہیونی و مسیحی سیاسی قیادتوں اور فوجی قوتوں کا حملہ بدترین سفاکیت، عالمی مروجہ اصولوں کی پامالی اور انسانیت کی تذلیل کا ایک الم ناک باب ہے۔ یاد رہنا چاہیے کہ ایران ۴۶سالہ عالمی پابندیوں کے باوجود ایک دفاعی قوت اور قومی یکجہتی کی علامت بن کر اُبھرا ہے۔ تاحال جنگ جاری ہے، اور حتمی نتائج تک پہنچنے میں وقت لگے گا، مگر فی الوقت صاف ظاہر ہے کہ ایران نے ایسی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر دُنیا بھر کو حیران و ششدر کردیا ہے کہ جس میں کوئی بھی مسلم ملک ایران کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی نہیں دیتا (چند مسلم ممالک محض فاصلے پر رہ کر اظہارِ ہمدردی تک محدود ہیں)۔ لیکن اس کے برعکس مسلم ممالک کے عوام رنگ و نسل اور شیعہ سُنّی کی تفریق سے بالاتر ہوکر ایران کے ساتھ ہم آواز ہیں۔ مسلم دُنیا ہی نہیں، مغرب اور مشرق کے عوام بھی ایران کے حقِ دفاع کے طرف دار اور اس ظلم کی مذمت میں اس کے ہم قدم ہیں۔ 

اسرائیل نے درحقیقت پہلے مصر، سوڈان، امارات، اُردن اور خلیجی ریاستوں کو رام کرکے مسلم یک جہتی کو توڑا، پھر عراق، لیبیا، شام وغیرہ کی فوجی و سیاسی قوت کو ملیامیٹ کیا۔ عالمی صہیونیت کے کاسہ لیس بعض مسلم حکمرانوں نے ’اسلامی تعاون تنظیم‘(OIC) کو ایک مُردہ گھوڑا بنا کر  رکھ دیا ہے۔ عرب ممالک کے معدنی وسائل کی دولت کو اُونچی عمارتوں کی تعمیر، تجارتی کشاکش، عیاشانہ زندگی کے چلن اور نسل پرست انڈیا کے ہاتھوں معیشت و نظم ریاست کو جکڑنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ حاکم تصور کرتے آئے کہ، ہم توامریکا و یورپ کے محبوبِ نظر بن رہے ہیں، حالانکہ وہ سب اس راہ پر چلتے ہوئے اپنے مستقبل کو قبر میں اُتارنے کا عمل ہی کرتے رہے ہیں۔ اسی دوران انھوں نے اخوان المسلمون اور حماس کو کچلنے کا سامان فراہم کیا، حالانکہ یہی وہ قوت ہے، جس میں مسلمان ملّت کے قدرتی وسائل کو مغربی جاہلیت کے خون آشام منصوبوں سے بچانے کا شعور ہے۔ ان کے برعکس اُن لبرل، سیکولر، قوم پرست طبقوں پر اعتبار کیا جارہا ہے، جو پہلے ہی دین و ایمان مغرب کو بیچ چکے ہیں۔ایسے ہی منافقین نے ایران کی فکری، سیاسی، اور علمی قیادت کو قتل کرنے کے لیے اسرائیل و امریکا کی مدد کی۔ایسے لوگ نقابوں کے پیچھے چھپے ہوئے آستین کے سانپ ہیں۔ 

مسلم دُنیا کے لیے عبرت کا سبق 

ہمارے نزدیک یہ جنگ سامانِ عبرت ہے، جس نے واضح کر دیا ہے کہ: 

۱- امریکا، صلیبیت اور صہیونیت کا طرف دار ہے، جس کے شانہ بشانہ برہمنیت کھڑی ہے۔ 

۲- اہلِ مغرب کی قیادتیں خود غرضی، سنگ دلی، بداخلاقی اور بدعہدی کی شرمناک سطح پر کھڑی ہیں۔ 

۳- ’صہیونیت‘ (نہ کہ تمام یہودی) مغربی اور مسلم دُنیا کی پالیسی سازی میں دخیل ہے۔ 

۴- صہیونیت اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے دولت، دھوکے، میڈیا، جنسی بے راہ روی اور پروپیگنڈا کو بطورِ ہتھیار برتتی چلی آرہی ہے۔ 

۵- مسلم دُنیا کی معدنی دولت کو تعلیمی ترقی، سائنسی جستجو اور دفاعی آلات و حکمت عملی کو اسلامی تعلیمات کے تناظر میں پروان چڑھانے پر صرف کرنے کے بجائے آسائشوں کے پھیلائو اور بے جان عمارتی ڈھانچوں کی تعمیر اور اسلامی شعائر کی بے حُرمتی پر صرف کرنے کو کامیابی بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ 

۶- اپنے عوام کو پالیسی سازی میں شرکت دینے کے برعکس، خوف کی حکمرانی قائم کر کے اپنے  خانگی اقتدار کے استحکام ہی کو زندگی کا حاصل سمجھا گیا ہے۔ 

۷- اسلامی قوتوں کو کچلنے اور ان کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششوں کو فروغ دیا گیا ہے۔ 

۸- اسرائیل سے قربت اور امریکا کے سامنے خود سپردگی کا راستہ اپنایا گیا ہے۔ 

یہ اور اسی نوعیت کے مزید درجن بھر اُمور فساد، خرابی و کج فہمی کا نصاب ہیں۔ اس فساد بھرے منظرنامے میں دانش کی یہی بات ہے کہ: 

۱- ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (OIC)کو حق اور عدل کی بنیاد پر واقعی اُمت کی ترجمان تنظیم بنانے اور اُمت کے معاملات کا اَزسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ 

۲- اسرائیل اور امریکا کی دھونس (dictation)کو تسلیم کرنے سے اجتناب لازم ہے۔ 

۳- براہِ راست جنگ کے خطرے سے دوچار ملکوں کو اَناپرستی کی قید سے نکل کر آگے بڑھتے ہوئے امن کا پرچم اُٹھانا، اور اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دیانت دار مسلم اہل دانش کا کمیشن مقرر کرنا چاہیے۔ 

۴- فلسطین کے مسئلے پر جامع، دو ٹوک اور منصفانہ موقف اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ 

۵- اس افسوس ناک جنگ کا روشن پہلو یہ ہے کہ جون ۱۹۶۷ء سے قائم اسرائیل کے اس دعوے اور ہوّےکا دامن تار تار ہوگیا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے (اس کارنامےکے لیے اہلِ ایران کی جرأت اور قربانی واقعی سنہرے حروف سے لکھی جائے گی)۔ 

۶- اقوام متحدہ کے غیرمؤثر ہونے کی وجہ سے لازم ہے کہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ ایک ’اُمۃ عدالت انصاف‘ قائم کرے، جس کے ارکان مسلم دُنیا کے قابل جج ہوں اور وہی مسلم دُنیا کے مابین تنازعات اور شکایات کو دُور کریں۔ 

۷- ’مسلم مالیاتی فنڈ‘ (مسلم مانیٹری فنڈ)تشکیل دیا جائے، جو مغرب اور یورپ میں بکھرے مسلم مالی ذخائر کو ایک جگہ منتقل کرکے، مسلم دُنیا کی تحقیقی، تعلیمی، تجارتی، صنعتی، سائنسی، سماجی، دفاعی، طبّی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے باہمی تعاون کا مستحکم نظام بنائے۔ 

۸- ’پاکستان ایران پائپ لائن معاہدے‘ پر عمل درآمد شروع کیا جائے اور امریکا کی جانب سے بے جا طور پر مسلط کردہ معاشی و تجارتی غلامی سے نکلا جائے۔ 

یہ جان لینا چاہیے کہ بیسویں صدی کے ابتدا میں یہودیوں، برطانویوں اور فرانسیسیوں کے اشتعال دلانے سے جس ’عرب قوم پرستی‘ کے بُت کو تراشا اور اس کو پوجا گیا تھا، اُس نے کمزور عثمانی خلافت کے پرخچے تو اُڑائے ہی تھے، مگر عرب دُنیا کو سوائے چند مجبور مملکتوں کے، کوئی قابلِ فخر اثاثہ نہ دیا۔ کیا ایک سو سال کے اس تلخ تجربے سے سبق سیکھنے کا ابھی وقت نہیں آیا؟  

اسرائیل اور امریکا کی پوری کوشش یہی ہے کہ وہ کسی طرح خود اس جنگ کی آگ سے باہر نکل جائیں اور اس کے بجائے ایران اور بعض مسلم ممالک کے درمیان ایک خوںریز تصادم شروع کرا دیں۔ایسی صورتِ حال امتِ مسلمہ کے لیے تباہ کن، اسرائیل کے لیے بہت بڑی راحت اور امریکی اسلحہ ساز صنعت کے لیے سنہری موقع ثابت ہو گی۔اب مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کی اس عیارانہ سازش کو سمجھیں، تصادم کے پھندے میں نہ پھنسیں اور امت کو اس خطرناک جال سے بچا کر کامیاب بنائیں۔ 

پاکستان کے لیـے نازک دوراہـا 

اس ماحول میں پاکستان کے لیے بہت گہرے چیلنج اُبھر کر سامنے آئے ہیں، جن میں حکومت ِ پاکستان بظاہر پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے ہوئے ’تزویراتی توازن‘ (Strategic Balance) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے: 

۱- اصولی مذمت اور خود مختاری کا دفاع:پاکستان نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔  

۲- ایران سے تعلقات: پاکستان کی ہرلحاظ سے یہ ضرورت ہے کہ ایران سے سرحدی کشیدگی پیدا نہ ہو، اور عرب دُنیا سے تعاون صرف عرب سرزمین کی جغرافیائی حدود تک محدود رہے، نہ کہ اقدامی اور جارحانہ شکل اختیار کرے۔پاکستان کو ایران کے خلاف ’امریکی، اسرائیلی مہم جوئی‘ میں اپنی زمین یا فضائی حدود فراہم کرنے سے ہر حالت میں سختی سے انکار کرنا چاہیے۔ یہی غیرجانب داری اور اصولی موقف پاکستان کے بقا کی ضمانت ہے۔ 

 ۳- سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ :ایک طرف ایران پڑوسی ملک ہے، تو دوسری طرف پاکستان نے ۲۰۲۵ء میں سعودی عرب کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدہ کررکھا ہے۔ سعودی پاک دفاعی معاہدے کے بارے میں محترم حافظ نعیم الرحمٰن (امیر جماعت اسلامی پاکستان) نے جماعت اسلامی کی پالیسی، مؤقف اور اتحادویکجہتی کے فروغ کے لیے دُور اندیشی پر مبنی راہ نمائی دیتے ہوئے کہاہے کہ ’’اس معاہدے میں توسیع لاتے ہوئے سب سے پہلے ایران اور ترکیہ کو اس میں شامل کیا جائے، اور پھر مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ جس روز اس وسعت کے ساتھ یہ معاہدہ معرضِ وجود میں آگیا، اسی روز سے اسرائیلی اور سامراجی مداخلت اور بلیک میلنگ کا باب بند ہونے کا آغاز ہوجائے گا۔ 

۴-سفارتی پُل کا کردار: پاکستان خود کو ایکBridge Builder کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور تہران، ریاض اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انصاف، عدل اور غیرجانب داری کی بنیاد پر یہ کوششیں آگے بڑھتی ہیں، تو پاکستان کے لیے اعزاز کا درجہ رکھیں گی۔ مناسب ہوگا کہ پاکستان، ترکیہ،انڈونیشیا اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایسا ’سفارتی بلاک‘ بنائے جو تہران اور ریاض کے درمیان غلط فہمیوں کو دُور کرے۔ 

۵- تــزویراتی خود مـختاری :پاکستان کو کسی بھی صورت میں مشرقِ وسطیٰ کی ’گروہی سیاست‘ (Bloc Politics) کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ 

 پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی ’محدود ہم آہنگی، اور ’عسکری مداخلت سے گریز‘ پر مبنی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سفارتی طور پر ایران کے ساتھ ہے، اور دفاعی طور پر سعودی عرب کے ساتھ، مگر عسکری طور پر غیرجانب دار رہنا چاہتا ہے۔تاہم ’سلامتی کونسل‘ میں ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری کے دوران پاکستان کا کردار سفارتی حلقوں کے خیال میں ناقابلِ فہم رہا، اور یہی معاملہ ’اسلامی تعاون تنظیم‘ میں ایران کے خلاف یک طرفہ موقف کے دوران دیکھنے میں آیا۔ 

پاکستان پر حددرجہ نازک ذمہ داری ہے، جس میں وہ دُنیا اور عالم اسلام کو ناقابلِ تصور صدمے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اصولی، اخلاقی اور قانونی موقف پر جم کر بات کرنے کے بجائے اگر دولت اور طاقت کی دھونس میں آکر کمزور ناقابلِ فہم لب و لہجہ اختیار کیا گیا تو یہ چیز ملک و ملّت اور دُنیا کے لیے خسارے کا سودا ہوگا۔ 

کیا اس بات میں کوئی شک رہ گیا ہے کہ امریکا نے ایران کو مذاکرات میں اُلجھا کر، اس پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی جاری رکھی، اور حملہ کرکے سیاسی قیادت کو ختم کرنے کا راستہ اپنایا۔ وہ ایران کہ جس کے ۹کروڑ انسانوں پر ۳۶برس سے معاشی، تجارتی، سماجی پابندیاں عائد کیے رکھیں۔ ساتھ ہی مسلم ممالک کے درمیان جنگوں کو بھڑکایا، اور جب ۲۸فروری کو مجرمانہ حملہ کیا تو بوکھلاہٹ میں مسلسل جھوٹ بولے اور پینترے بدل بدل کر جہالت اور دھوکا دہی کا ارتکاب کیا۔ کیا یہ کسی معقول یا مہذب ریاست کا رویہ ہوسکتاہے؟ کیا یہی ملک ہے مغربی تہذیب کا نمائندہ اور چہرہ؟ (س م خ)