اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

کشمیر : خوف کا ٹوٹتا بُت اور صحافت

سلیم منصور خالد | اپریل ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

 

۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کی صبح ایران پر بلااشتعال اسرائیلی امریکی حملے کے نتیجے میں رہبر اسلامی جمہوریہ ایران علی خامنہ ای کے اہل خانہ اور ۱۸۰ طالبات کی شہادت پر جہاں دُنیا بھر میں احتجاج ہوا، وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی شدید احتجاج ہوا۔ کیونکہ یہ حقیقت سبھی کے سامنے بے نقاب ہے کہ انڈیا، اسرائیل کا طرف دار، حلیف اور سہولت کار ہے اور اس حملے سے دو روز قبل نریندر مودی نے اسرائیل میں صہیونی نسل پرست حکومت کے ساتھ گہرے تعاون کا اعلان اور ہرسطح پر تعاون کا وعدہ کیا تھا۔ 

اس پس منظر میں جموں و کشمیر میں احتجاج کی یہ لہر محض غم اور اشتعال کے ایک لمحے سے کہیں زیادہ گہری اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درحقیقت اس مظلوم خطے کے نفسیاتی منظر نامے میں ایک خاموش مگر واضح تبدیلی کا پیغام ہے۔ ۲۰۱۹ء کے بعد سے، مقبوضہ کشمیر کی روزمرہ زندگی پر خوف کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی تھی۔ وہ سڑکیں جو کبھی جدوجہدِ آزادی کے اظہار سے گونجتی تھیں، اب نگرانی، گرفتاریوں، قتل و غارت، تشدد کے زیرِ اثر ایک بے چین خاموشی میں ڈوب گئیں کہ اختلافِ رائے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ تاہم، اب جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ فضا ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف دبا دی گئی تھی۔ 

اس احتجاج میں جو بات سب سے نمایاں دکھائی دی وہ محض اس کی وسعت نہیں، بلکہ اس کی نوعیت ہے۔ اگرچہ فوری اشتعال کشمیر سے دور الم ناک واقعات سے جڑا ہوا ہے، لیکن بین الاقوامی معاملات سے جڑے اس زمینی ردِعمل نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو کہیں زیادہ مقامی اور پائے دار ہے۔ لوگ ایک اکائی کے طور پر باہر نکلے اور ان مسلکی تقسیموں سے بالاتر ہو گئے جو اکثر ان کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اتحاد بذاتِ خود ایک وزن رکھتا ہے۔ یہ اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو نچلی سطح پر برقرار رہا اور دوبارہ ظاہر ہونے کے لیے کسی موقعے کا منتظر تھا۔ 

اس میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر سری نگر کے لال چوک میں ہجوم کا نمودار ہونا تھا۔ گذشتہ سات برس سے انڈیا اس جگہ کو ہندو توا غنڈوں اور مقامی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنی فتح کی علامت کے طور پر استعمال کرتا آرہا تھا۔ عام لوگوں کا اس جگہ اچانک دوبارہ پوری قوت سے ظاہر ہونا دراصل یادداشت، جذبات اور عوامی آواز کی بحالی کا مظاہرہ تھا۔ جب ایسی جگہ دوبارہ زندہ ہوتی ہے، تو وہ ایک ایسا پیغام دیتی ہے جسے آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔ 

اس لمحے کو محض 'احتجاج ' قرار دینا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ یہ دراصل جمود توڑنے کا پیغام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ خوف جب ذہنوں میں جڑ پکڑ لے تو وہ راتوں رات ختم نہیں ہوتا۔ لیکن جب لوگ اس کے باوجود قدم اٹھانا شروع کر دیں، تو یہ پہلے آہستہ آہستہ اور پھر اچانک مٹ سکتا ہے۔ یہی چیز اس لمحے کو اہم بناتی ہے۔ یہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاموش کرانے کے لیے بنائے گئے انڈین جابرانہ ریاستی ڈھانچے، کشمیریوں کے بنیادی عزم کو بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ 

اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی تنظیم سازی یا کسی ایک بیانیے کی رہنمائی کے بغیر پروان چڑھا ہے۔ یہ جذبہ پہلے سے موجود تھا، جو عوام کے تجربات اور تلخ یادوں میں بسا ہوا تھا۔ جو چیز بدلی، وہ اس کا اُبھر کر سامنے آنا تھا، اور جب ایسا جذبہ نظر آنے لگے، تو یہ ان لوگوں کے لیے ناقابلِ انکار چیلنج بن جاتا جو اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ 

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سب کچھ بدل چکا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ کشمیر ایک بے رحم فوجی قبضے تلے سانس لے رہا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، اس طرح کے لمحات اپنے فوری سیاق و سباق سے کہیں آگے تک گونج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کی اجتماعی قوت اور اخلاقی و اصولی موقف کی یاد دلاتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے، وہ اس تصور کو بدل دیتے ہیں کہ کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔ 

اس لحاظ سے، یہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کنٹرول اور خاموشی کی تہوں کے نیچے، کشمیر کے بنیادی سیاسی اور جذباتی دھارے پوری طرح زندہ ہیں۔  

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیری صحافی عرفان معراج کی رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا ہے اور۲۰۲۰ء سے حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائی کا بھی مطالبہ دُہرایا ہے۔ 

’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی قیادت میں ۳۴ سول سوسائٹی تنظیموں کے ایک اتحاد بشمول ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘، ’ہیومن رائٹس واچ‘، ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘، ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ ان وولنٹری ڈس ایپیئرنسز‘ اور دیگر نے ۱۹مارچ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا: عرفان معراج کو ۲۰مارچ ۲۰۲۳ء کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انڈین پینل کوڈ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں لیا تھا۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی اور میگزین ایڈیٹر عرفان معراج نے کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل پر بڑے پیمانے پہ لکھا ہے اور انڈین ایکسپریس، الجزیرہ، ساؤتھ ایشین اور ڈوئچے ویلے سے قلمی تعاون کیا ہے۔ 

بیان میں کہا گیا ہے: جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے نزدیک دونوں کے خلاف الزامات ’سیاسی طور پر بنائے گئے‘ اور ’من گھڑت‘ ہیں۔ہماری تنظیمیں بھارتی حکام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے ظالمانہ قوانین کو ختم کریں اور جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے لیے ایک سازگار ماحول قائم کریں تاکہ وہ آزادانہ اور خودمختار طور پر کام کر سکیں‘‘۔ 

مزید یہ کہا ہے:’’بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ انڈین حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کی پاسداری کرے۔ عرفان معراج، خرم پرویز اور دیگر تمام حراست میں لیے گئے انسانی حقوق سے محروم کارکنوں کو رہا کرے‘‘۔ 

انڈیا کے معروف ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک دی وائر نے بہت پہلے رپورٹ کیا تھا کہ عرفان معراج کو ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے دوران پہلے این آئی اے آفس بلایا گیا اور پھر حراست میں لے لیا گیا، جیسا کہ ان کے خاندان نے بتایا۔ 

ان کے والد عرفان معراج الدین بھٹ نے ۲۰۲۳ء میں گرفتاری کے ایک دن بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا: ’’میرا بیٹا ایک کہانی پر رپورٹنگ کر رہا تھا جب انویسٹی گیٹرز نے ان کے موبائل پر کال کی اور کہا کہ صرف پانچ منٹ کے لیے آفس آ جائو۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے گرفتار کرکے دہلی بھیج دیا گیا ہے‘‘۔ 

گرفتاری پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولور، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پریس کلب آف انڈیا اور دیگر حقوق اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے اس لاقانونیت پر شدید تنقید کی تھی۔ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے کے استعمال پر بار بار تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ آزاد میڈیا کی رپورٹنگ میں کشمیر میں صحافیوں کو پولیس کی طرف سے طلب کرکے، پوچھ گچھ کرنے اور ہرایک سے ’اچھے رویے‘ کے پیشگی ضمانت ناموں پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرنے کے متعدد واقعات دستاویزی طور پر سامنے آئے ہیں۔ 

’اسکرول ڈاٹ‘ کے مطابق: چار صحافیوں کو سری نگر میں پولیس اسٹیشنوں پر بلاکر دھمکایا گیا۔ نیوز لانڈری نے رپورٹ کیا ہے: گذشتہ سال میں تقریباً ۲۵کشمیری صحافیوں کو بار بار پوچھ گچھ کے دوران ہراساں کیا گیا۔ 

دی وائر سے وابستہ صحافی جہانگیر علی کا فون پولیس نے ضبط کرلیا۔ اس مقصد کے لیےنہ تو کوئی ایف آئی آر کاٹی گئی، نہ وارنٹ جاری ہوئے اور نہ کسی عدالت کا حکم سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات اور الیکٹرانک آلات رکھنے کے عالمی تسلیم شدہ اصولوں کے برعکس یہ اقدام کیا گیا۔ 

۱۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فری لانسرز اور مقامی اخبارنویس جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔دوسری طرف لوگوں کے ذاتی فون اچانک اُچک کر انتظامیہ تفتیش شروع کر دیتی ہے۔ عوامی سطح پر اس چیز نے سخت اضطراب پیدا کردیا ہے۔