ابھی میں چھوٹا بچہ ہی تھا کہ میں قرآن پڑھنے لگا۔ اس کے مضامین کے گوشوں تک میری پوری طرح رسائی نہ تھی اور نہ اس کے بلند اغراض ہی کو میرا فہم احاطہ کرسکتا تھا۔ تاہم، میں اس کے کچھ اثرات اپنے دل میں محسوس کرتا تھا۔ میرا سیدھا سادہ ذہن تلاوتِ قرآن کے دوران بعض خیالی صورتیں اخذ کرتا جو بظاہر بڑی معمولی سی ہوتیں۔ لیکن میرے نفس میں اشتیاق اور حواس میں لذت پیدا کرتی تھیں۔ میں دیر دیر تک فرحت و نشاط کے ساتھ ان سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔ ان سادہ تصویروں میں سے جو اس وقت میرے ذہن میں مرتسم ہوا کرتی تھیں، ایک وہ تصویر ہے جو اس آیت کو پڑھتے وقت میرے ذہن میں منقش ہوا کرتی تھی:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللہَ عَلٰي حَرْفٍ۰ۚ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِہٖ۰ۚ وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْہِہٖ۰ۣۚ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃَ ۰ۭ (الحج۲۲:۱۱) اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر سے کرتاہے، پس اگر اسے بھلائی پہنچے تو وہ اس (عبادت) پر مطمئن رہتاہے، لیکن اگر اسے کوئی آزمائش پیش آجائے تو وہ (عبادت سے) اپنا منہ موڑ لیتا ہے۔ ایسا آدمی دُنیا و آخرت دونوں طرف سے خسارے میں رہا۔
اس خیالی تصور کو اگر میں کسی کے سامنے پیش کروں تو شاید وہ اس کی ہنسی اُڑائے۔ یہ تصویر یوں بنی کہ میں ایک گائوں میں رہتا تھا اور گائوں کے قریب ہی وادی کا ایک خاص ٹیلہ میری نگاہ میں تھا۔ اسے دیکھ کر میرے تصور میں یہ بات آتی تھی کہ گویا ایک شخص ہے جو ایک جھکے ہوئے بلند مکان کے کنارے پر یا تنگ سے ٹیلے کی چوٹی پر کھڑا نماز پڑھ رہا ہے، لیکن وہ اپنی حالت ِ قیام پر قابو نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنی ہرحرکت کے دوران میں یوں کانپ رہا ہے ، گویا کہ گرا ہی چاہتا ہے۔ میں اس کے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا ہوں، اس کی حرکات پر غور کرتا ہوں اور عجیب کیف و نشاط محسوس کرتا ہوں۔
ایسی ہی سادہ اشکال میں سے ایک تصوراتی منظر وہ ہے جو اس آیت کو پڑھتے وقت میرے ذہن میں جاگزیں ہوا تھا:
وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰہُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ۱۷۵ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰكِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ۰ۚ فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ۰ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْہِ يَلْہَثْ اَوْ تَتْرُكْہُ يَلْہَثْ۰ۭ (اعراف ۷: ۱۷۵- ۱۷۶) اور (اے نبیؐ) ان کو پڑھ کر سنایئے اُس شخص کا حال کہ جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں اور وہ ان کی پابندی سے بھاگ نکلا، پھر اسے اپنے پیچھے لگا لیا شیطان نے اور وہ گمراہوں میںشامل ہوگیا۔ اگر ہم چاہتے تو ہم اسے ان آیات کے ذریعے بلندی عطا کرتے لیکن وہ تو خود ہی زمین سے چپک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشوں کے پیچھے پڑگیا۔ سو (اب) اس کی مثال ایک کتّے کی سی ہے ۔ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔
میں اس آیت کے مضامین اور اغراض کو تو نہ سمجھتا تھا لیکن یہ نقشہ میرے خیال میں ضرور آتا تھاکہ ایک شخص ہے جس کا منہ کھلا ہوا ہے، زبان لٹک رہی ہے اور وہ کتّے کی طرح مسلسل ہانپ رہا ہے۔ میری نظریں اس سے نہ ہٹتی تھیں۔ لیکن میں یہ نہ سمجھ سکا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ میں اس کے قریب جانے کی جرأت بھی نہ کرسکتا تھا۔ اس طرح کی مختلف صورتیں میرے کوتاہ ذہن میں منقش ہوتی تھیں اور میں ان میں غوروفکر کرتے ہوئے لطف اندوز ہوتا۔ اس وجہ سے میرا دل قرآن کریم کی تلاوت کا مشتاق رہتا تھا۔قرآنِ مجید پڑھتے وقت اس کی وادیوں میں ایسی تصاویر کو تلاش کرتا رہتا تھا۔ یہ دن وہ تھے جو انھی عمدہ یادوں اور سادہ تخیلات کے ساتھ بیت گئے۔
اس کے بعد وہ زمانہ آیا جب میں نے علمی اداروں میں تحصیل علم کا آغاز کیا اور تفاسیر کی کتابوں سے قرآن کریم سمجھنے کی کوشش کی۔ اساتذہ سے قرآن کی تفسیر سنی لیکن اس پڑھنے اور سننے میں مجھے وہ بے مثال لذت حاصل نہ ہوتی جو مجھے بچپن میں حاصل ہوتی تھی۔ افسوس! قرآن میں حُسن کے وہ سب نشانات مٹ گئے اور لذت و اشتیاق سے قرآن خالی ہوگیا۔ کیا یہ دو قرآن ہیں؟ ایک بچپن کا قرآن جو شیریں، سہل اور شوق افزا تھا اور دوسرا جوانی کا قرآن، جو مشکل، پیچیدہ اور بظاہر غیرمربوط! شایدیہ تاثرات مقلدانہ اندازِ تفسیر کا کرشمہ تھے۔
میں نے اب قرآن کو تفسیروں کی مدد سے پڑھنے کے بجائے خود قرآن کی مدد سے پڑھنا شروع کیا تو پھر مجھے وہی محبوب اور دل خوش کن قرآن میسر آگیا۔ قرآن سے شوق و محبت پیدا کرنے والی وہی سرورآفریں تصاویر مجھے پھر مل گئیں۔ لیکن اب یہ پہلے کی طرح سادہ نہ تھیں، کیونکہ میرے فہم میں تغیر آگیا تھا۔ اب میں ان کے اغراض و مقاصد کو سمجھ رہا تھا اور جانتا تھاکہ وہ زندگی میں پیش آنے والے بعض واقعات کی مثالیں ہیں جو نمایاں کی جارہی ہیں، لیکن ان کی اثرآفرینی اور جاذبیت لازوال اور دائمی ہے۔
الحمدللہ! میں نے قرآن کو پالیا!
اب میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں اس پہلو سے کچھ بحثیں بطورِ نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کروں۔ چنانچہ مجلہ المقتطف میں ۱۹۳۹ء کو التصویر الفنی فی القرآن کے عنوان سے میں نے ایک مضمون شائع کیا۔ اس میں مَیں نے قرآن کی چند تصاویر حقائق لے کر منعکس کیں اور ان کے فنی حُسن و جمال کو واضح کیا اور خدائے قادر کی عظیم قدرت کی نشان دہی کی، جو الفاظ کی وساطت سے ایسی مصوری کرتی ہے کہ جس سے رنگین مُوقلم اور کیمرے عاجز ہیں۔ میں نے سمجھا کہ یہ مضمون ایک مستقل کتاب کے لیے موضوع بحث بن سکتا ہے۔ کئی سال گزر گئے اور قرآن کی یہ تصاویر میرے خیالات میں بنتی جارہی تھیں اور اُن میں فنی اعجاز نمایاں نظر آتے تھے اور جب میں ان کو بغور دیکھتا تو میرا یہ خیال پختہ ہوجاتا کہ میں اس کام کو اپنے ذمّے لوں، اسے پایۂ تکمیل تک پہنچائوں اور جہاں تک ممکن ہو اسے وسعت دوں۔ وقتاً فوقتاً میں قرآنی مطالعہ میں منہمک رہا اور اس سے براہِ راست تصاویر اخذ کرتارہا اور اس موضوع کو زیربحث لانے کا شوق میرے ذہن میں اور زیادہ پختہ ہوتا گیا۔ لیکن اس معاملے میں کچھ ایسے موانع بار بار پیش آجاتے کہ یہ چیزبس ایک دلی حسرت اور ذہنی اشتیاق بن کر رہ جاتی۔
آخرکار پورے پانچ سال بعد مجلہ المقتطف میں اس سلسلہ کی پہلی کڑی شائع کرنے کا موقع ملا۔ میں نے بحث کا آغاز کیا تو میرا پہلا کام یہ تھا کہ میں قرآن میں سے فنی تصویروں کو جمع کروں، انھیں پیش کروں اور پھر اس ادبی مصوری کی خوبیوں کو اُجاگر کروں اور خصوصاً فنی پہلوئوں کو واضح کروں کیونکہ اس مبحث میں میرا مقصد دیگر قرآنی مباحث و مطالب پیش کرنا نہ تھا بلکہ خالص فنی پہلو زیرتوجہ تھا۔
مگر اب کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نئی حقیقت ہے میرے سامنے اُبھر کر آگئی ہے۔ وہ یہ کہ قرآنی تمثیلات قرآن کے دیگر اجزا و عناصر سے کوئی مختلف حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ قرآن کریم کا اسلوبِ بیان ہی ادبی تصویر نگاری ہے۔ یہ ایسا اسلوبِ بیان ہے، جسے سوائے تشریعی احکام بیان کرنے کے،باقی تمام اُمور کی وضاحت کے لیے اختیار کیا گیاہے۔ اب میرے سامنے چند ادبی تصویروں کے جمع کردینے اور ان کو مرتب کردینے کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ سرے سے اصول تعبیرہی کی ایک نئی راہ اُجاگر کرنا میرا موضوع بن گیا۔ توفیق الٰہی سے، ایک غیرمترقبہ نعمت تھی جو میرے مقدر ہوگئی۔
سو، اسی بنیاد پر اس کتاب کے مباحث کا آغاز ہوا۔ اس کتاب میں جو کچھ ہے وہ اسی متذکرہ نظریہ کو واضح کرنے کے لیے ہے اور طریق تعبیر قرآنی کی ایک اہم خصوصیت کو کھول کر بیان کرنا مقصود ہے۔
جب یہ مطالعہ میں نے مکمل کرلیا تو محسوس کیا کہ جیسے قرآن میرے دل میں نئے رُوپ کے ساتھ اُترا ہے اور قرآن کو اس طرح پایا جس طرح پہلے کبھی نہ پایا تھا۔ قرآن میرے دل میں ایک حسین و جمیل شکل میں تھا۔ بالیقین وہ پہلے بھی ایسے ہی حسین و جمیل تھا، لیکن منتشرو متفرق حالت میںاور آج وہ ایک خاص مضبوط بنیاد پر قائم ہے___ ایک ایسی بنیاد جس میں کیف آور ربط ہے، جس کی مجھے پہلے سمجھ بوجھ نہ تھی اور جس کا میں نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا!
اگر مجھے اِن قرآنی تصاویر کو منتقل کرنے اور پیش کرنے میں اپنے ذہنی تصورات اور ضمیر کے احساس کی پوری ترجمانی کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے، تو پھر یہی چیز بلاشبہ اس کتاب کی مکمل کامیابی کی ضامن ہوگی۔