اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

فتح و نصرت کا قرآنی تصور

ڈاکٹر جمال عبدالستار | اپریل ۲۰۲۶ | نظامِ حیات

Responsive image Responsive image

قرآن نے فتح و نصرت کے مفہوم کو اُس تصور سے مختلف انداز میں پیش کیا ہے جو بیش تر لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ فتح و نصرت کے قرآنی مفاہیم کو سمجھنا دلوں کو مایوسی اور نااُمیدی سے بچانے کا مضبوط حصار ہے ۔ یہی تصور مسلمانوں کو ان کی مختلف صلاحیتوں اور مختلف مقامات کے مطابق متحرک کرسکتا ہے۔ قرآن حکیم کے اسی تصور نے ایک فعال، متحرک اور آزاد امت تشکیل دی۔ 

نصرت دشمن کو پسپا کر کے یا ہلاک کر کے اس کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ اس کی کئی صورتوں میں سے صرف ایک صورت ہے، بلکہ یہ نصرت کی کئی صورتیں حاصل ہوجانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔لہٰذا، یہ سوال اٹھانے کی گنجائش نہیں رہتی کہ کیا فلاں جنگ میں مسلمان غالب آئے یا شکست کھا گئے؟ کیونکہ نصرت کا معیار تو واضح طور پر مقصد ہے کہ وہ کہاں تک ، اور کس کس شکل میں پورا ہوا ہے ۔  

چند بنیادی حقائق 

بنیادی طور پر فتح یہ ہے کہ آپ تمام رکاوٹوں پر قابو پالیں تاکہ آپ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے مطابق اللہ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔  

  • اخلاص اور جدوجہد:فتح کا اصل مقصد دو چیزوں میں کامیابی حاصل کرنا ہے: اپنا ارادہ خالص کرنا اور اپنی پوری کوشش کرنا۔ اگر آپ اس انتہائی ذاتی امتحان میں کامیاب ہو گئے، تو آپ نے فتح کے اعلیٰ ترین درجات پا لیے، چاہے ظاہری دنیا میں کوئی فوری تبدیلی نہ آئے۔ اگر آپ ارادے کو خالص کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو فوجی فتوحات، شہرت، اور عوام کی حمایت آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی، چاہے سرکش ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ 

اگر آپ ان مختلف شعبوں میں اپنی ممکن کوششیں صرف نہیں کرتے جن میں اللہ نے آپ کو بااختیار بنایا ہے، تو مادی یا معنوی فتح حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، چاہے اس کی وسعت اور شکل کچھ بھی ہو، کیونکہ آپ کو ذاتی فتح حاصل نہیں ہوسکی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے احتساب کا ایک معیار مقرر کیا ہے جو قرآن کے بیان کردہ قوانین میں سے ایک قانون میں ظاہر ہوتا ہے: وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى۝۳۹  (النجم ۵۳:۳۹) ’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے‘‘۔ لہٰذا جو کچھ آپ نے خرچ نہیں کیا وہ آپ کو واپس نہیں ملے گا، اور جو کچھ آپ نے نہیں کیا اس کے نتیجے سے آپ ربّ کے ہاں فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كُلُّ نَفْسٍؚ   بِمَا كَسَبَتْ رَہِيْنَۃٌ۝۳۸  (المدثر ۷۴:۳۸) ’’ہرشخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے‘‘۔ 

قرآن حکیم کے مطابق فتح دراصل ایک الٰہی قانون ہے جو کبھی نہیں بدلتا، لیکن جب امت اس کے تقاضوں سے منہ موڑ لیتی ہے تو اس کا وعدہ بھی مؤخر ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۝۰ۭ(الرعد۱۳:۱۱) ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ 

اسی طرح شکست بس ہتھیاروں سے مغلوب ہوجانا نہیں ہوتی ، بلکہ شعور، ارادے اور ایمان کی شکست اصل شکست ہوتی ہے۔سیّد قطب رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ہم اپنی تلواروں کے ٹوٹ جانے سے شکست نہیں کھاتے، بلکہ اس وقت شکست کھاتے ہیں جب ہمارے دل صبر و ثبات اور اللہ کے وعدے پر یقین کی دولت سے محروم ہوکر ٹوٹ جائیں‘‘۔ 

  • دعوت اور فکر: دوسری بات یہ کہ فتح در اصل دعوت، فکر اور پیغام کا باقی رہنا ہے، جیساکہ اصحاب الاخدود کے واقعے میں ہوا ، اور جیسا کہ سیّد قطب تو مرتبۂ شہادت پاگئے، مگر ان کی فکر شہادت کے بعد بھی باقی ہے اور پھیل رہی ہے ،جب کہ ان کو قید کرنے والوں اور شہید کرنے والوں کا نام و نشان مٹ گیا۔ اسی طرح لیبیا پر قبضہ کرنے والوں کے نام اور افکار غائب ہو گئے، اور عمرمختار قافلۂ حق کے لیے ایک مینار کے طور پر باقی ہیں۔ جب قابض اسرائیلی فلسطینی مزاحمت کا نام مٹانا اور اس کے وجود کو ختم کرنا چاہتے تھے، اور اُن صہیونیوں کے ساتھ پوری دنیا تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس مزاحمت کو دنیا کی تمام خبروں میں پہلی خبر بنا دیا، اور ان کے مقصد، ان کے طریقوں، ان کے اخلاق اور ان کی عزیمت کو زمین پر سب سے نمایاں کر دیا۔ زندگی کی قسم! اگر ان کے مقصد اور ان کے منہج اور ان کے جھنڈے کا زمین میں یہ استحکام فتح نہیں تو فتح اور کیا ہوگی؟ 

حقیقی فتح اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ لوگوں کےدلوں کو کھول دیتا ہے، تاکہ وہ حق کے پیغام کو جذب کریں، ہدایت کو اپنائیں اور حق کا علم اٹھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی تعریف فرمائی تو ان کی کامیابی کی نمایاں علامت کا ذکر کیا: 

وَجَعَلَہَا كَلِمَۃًۢ بَاقِيَۃً فِيْ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۲۸(الزخرف ۴۳:۲۸) اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ 

  • صبر و استقامت:تیسری بات یہ کہ فتح، اس دن حاصل ہوتی ہے جب اہلِ حق ایمان کے محاذ پر ثابت قدم رہیں، ان کا عقیدہ متزلزل نہ ہو، وہ اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہوں، ان کے افکار میں کجی نہ آئے، اور ان کی اقدار دشمن کی یلغار میں بہہ نہ جائیں۔ وہ حق پر جئیں چاہے کتنے ہی طوفان اٹھیں، یا پھر اس راہ میں شہادت سے سرفراز ہوجائیں جس کا اللہ تعالیٰ نے انھیں مکلف بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور آپ کے بعد آنے والے حق کے تمام راہیوں سے فرماتا ہے: 

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۝۴۰ (الرعد۱۳:۴۰) اور اے نبیؐ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اُن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمھارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمھیں اُٹھا لیں، بہرحال تمھارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ 

چنانچہ شہیدوں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا، مخلص علما نے اسلام کا کلمہ پہنچا دیا، اور انبیائے کرام جنھیں بنی اسرائیل نے قتل کیا، انھوں نے اللہ کا کلمہ پہنچا دیا۔ لہٰذا ان کی موت، شہادت، ان کا قتل،انتخاب (چُن لیا جانا)، اور ان کا انجام، سب کچھ فتح و نصرت قرار پایا۔ 

اللہ کی راہ میں شہادت’فتح‘ کی سب سے زیادہ شاندار صورت ہے، جہاں انسان اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے، اپنا جھنڈا اٹھائے ہوئے، اپنے محاذ پر صبر سے کام لیتے ہوئے جان دیتا ہے۔ شہادت کوئی ایسی مصیبت نہیں کہ اس پر آہ و بکا کی جائے، اور نہ کوئی آفت ہے کہ اس پر افسوس کیا جائے، بلکہ یہ خالص الٰہی انتخاب اور چناؤ (اجتباء و اصطفاء) ہے۔ یہ دنیاوی تصادم کے میدان سے ربّ العالمین کے ہاں اعزاز کے میدانوں کی طرف نہایت باعزّت منتقلی ہے۔ 

  • افکار کی بالادستی: چوتھی بات یہ کہ فتح، عقلوں سے پردہ ہٹانے کا کام کرتی ہے، کیونکہ افکار کی درستی اور مجرموں کے دعووں کا لوگوں کے دل و دماغ سے مٹ جانا اُس فتح سے کہیں زیادہ اہم اور دیرپا ہے جو فتح صرف تلوار کے زخم تک محدود ہو۔ اللہ کی تائید اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کفر کی برائی بے نقاب ہوجائے، اس کی فکری عمارت منہدم ہو جائے، اور اس کے باطل دعوے آنکھوں اور نگاہوں کے سامنے غلط ثابت ہو جائیں۔ یہی وہ فتح ہے جو افکار کا زور اور اثرات کے تسلسل کے ٹوٹنے کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہ ایسی فتح ہے جو اُن دعووں اور بیانیوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی ضمانت دیتی ہے، اور دشمن کی عسکری پسپائی سے بہت اونچے درجے کی کامیابی ہے۔ 

 آپ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو دیکھ لیجیے کہ سر زمین مزاحمت سے متعلق ان کے جھوٹے دعوے کہاں دفن ہوگئے؟ حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے نعرے اور جھوٹ کس وادی میں گم ہو گئے؟  بچوں کے حقوق کے اداروں کو دیکھیے کہ اللہ نے ان کے چہروں کی بدصورتی کیسے عیاں کی؟ جمہوریت کے علَم برداروں کا مت پوچھیں کہ اس بت کا کیا حشر ہوا جسے وہ ایک عرصے سے تراش رہے تھے اور لوگوں کو اس کے عظیم فائدے کی خوشخبری دے رہے تھے،کہ بہادر مزاحمت نے انھیں اچانک آ لیا اور ان کے اس بت کو پاش پاش کر دیا۔اس مزاحمت نے تمام جھوٹ، فریب اور کھوکھلے نعروں کو بے نقاب کر دیا، اور معبد کے پجاریوں، مفاد پرستوں، دھوکے بازوں اور مجرم سرکشوں کو رُسوا کر کے رکھ دیا۔ 

  • فتح و کامیابی:پانچویں بات یہ کہ فتح، ظالم سرکشوں کو ہلاک کرنے اور ان کی سلطنت کو زوال آشنا کرنے کی صورت میں امت پر اللہ کا ایک انعام ہے۔ اور سرکشی کا انجام بہت بُرا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِہٖ۝۰ۚ (العنکبوت ۲۹:۴۰) ’’آخرکار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑ لیا‘‘۔تاریخ کا تذکرہ جبروت کے مذموم انجام کی گواہی دیتا ہے، یعنی عاد سے لے کر ہر سرکش اور متکبر بادشاہ تک، جسے قدرت کے ہاتھ نے سمندر میں غرق کیا، یا تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا، تاکہ ان کا زوال مومنوں کے لیے ایک نشانی اور مجاہدین کے لیے باعث نصرت ہو ۔ 
  • حقیقی کامیابی:چھٹی بات یہ کہ فتح یہ ہے کہ اس راہ کا مسافر روزِ حساب مالکِ روز جزا کے سامنے پیشی کے وقت اس کی خوشنودی پانے میں کامیاب ہو جائے، کیونکہ دُنیاوی فتح و نصرت ایک عارضی منظر ہے، جس میں اَدل بدل کا قانون جاری رہتا ہے : وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ۝۰ۚ (اٰل عمرٰن۳:۱۴۰) ’’یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘، لہٰذا نہ خوشی مستقل رہتی ہے، نہ طاقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ یہ قانون کسی ظالم کو نہیں چھوڑتا مگر اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے، اور کسی خوش حال کو نہیں چھوڑتا مگر اس کو مفلوک الحال بنا دیتا ہے۔ 

سب سے بڑی اور مطلق فتح و نصرت ، تو وہ ہے جس کے نتائج اللہ سے ملاقات کے دن ظاہر ہوں گے۔ اس دن سب کچھ جاننے والے بادشاہ نے حق کا ترازو نصب کر رکھا ہوگا : 

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۝۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۱۸۵) کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کر دیا جائے۔ 

اسی طرح حقیقی خسارہ وہ نہیں جو دنیا کی دولت سے ہو، بلکہ وہ ہے جو اس عظیم دن انسان اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کے نتیجۂ اعمال میں دیکھے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  

وَقَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ۝۴۵ (الشوریٰ۴۲:۴۵) اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنھوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا۔ خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے۔ 

 سبقت لے جانے کی آخری انتہا، اور کامیابی کی بلند ترین چوٹی رضائے الٰہی کا حصول ہے، اور اسی سے نصرت الٰہی کا عمل مکمل ہوتا ہے، جو دنیا میں مدد سے لے کر ہمیشہ کی جنتوں میں داخلے کی صورت میں تکمیل کو پہنچتا ہے : 

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ۝۵۱ (المؤمن ۴۰:۵۱) یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ 

سر چشمۂ  نصرت کی حقیقت 

صرف آلات ، ذرائع ، اسباب اور اتحادوں کے دائروں میں فتح و نصرت کی تلاش انسان کو اس وقت مایوس کر دیتی ہے جب اسباب کم ہوں یا صلاحیتیں ناکافی ہوں۔ بلکہ بعض اوقات انسان اس کے حصول کی کوشش ہی ترک کر کے مایوسی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ 

لیکن جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ نصرت کا سرچشمہ ایک ہی ہے، اور اس کے حاصل ہونے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی راہ کے، تو وہ یقین کے میدانوں میں کھڑے ہو کر پڑھتا ہے: وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ 

اس وقت وہ اسباب پر انحصار کرنے سے زیادہ اللہ کے دروازے پر مناجات کرنے والا اور عاجزی دکھانے والا بن کر کھڑا ہوتا ہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ اسباب استعمال کے لیے ہیں نہ کہ ’دینے‘ اور’روکنے‘ کے لیے۔ تب اس کا رب اسے نصرت حاصل کرنے کے دروازے الہام کرتا ہے، اور اس کے لیے ربانی ہدایت کے چراغ روشن کر دیتا ہے۔ سوچ، منصوبہ بندی، اللہ پر بھروسا، اس کے حکم کے سامنے سرجھکا دینا، اور جو تکلیف اسے پہنچتی ہے یا وہ جو کوشش بھی کرتا ہے اس پر اللہ سے اجر کی اُمید رکھتا ہے، چنانچہ نصرت کی یہ طلب عبادت اور قربانی میں بدل جاتی ہے۔ 

نصرتِ الٰہی کا قانون__  ـــ ایک بنیادی عقیدہ 

نصرت الٰہی کا قانون، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے شروع ہوتا ہے: وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے‘‘۔ یہ محض ایک وقتی مقولہ نہیں ہے جسے صرف سختیوں میں دُہرایا جائے، بلکہ یہ ایک مضبوط بنیادی عقیدہ ہے، جو صاحب ِایمان کو سبب پیدا کرنے والے اللہ کے ہاتھ میں ایک سبب بنا دیتا ہے۔ 

فتح و نصرت کوئی غنیمت نہیں جس کو محض انسانی چالاکی سے حاصل کیا جا سکتا ہو ، بلکہ یہ ایک آسمانی تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ زمین میں اپنے دین اور اپنے عظیم مقاصد کو قائم کرنے کے لیے عطا کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ خواہشات کو اعزاز بخشا جائے یا ذاتی و شخصی تنگ نظری کے حسابات برابر کرنے میں صرف کیا جائے ۔ میدانِ جنگ میں اللہ تعالیٰ اہل حق کو جو ثبات و استقامت عطا کرتا اور دشمنوں کی چالوں کو بے نقاب کرتا ہے، وہ اللہ کی مدد اور تائید ہے: 

فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ قَتَلَہُمْ۝۰۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ رَمٰى۝۰ۚ  (الانفال۸: ۱۷) پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔  

اس پختہ عقیدے کا مطلب بندے کی جدوجہد اور کوشش کو کالعدم کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمام اسباب، چاہے وہ کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اسباب سے زیادہ اللہ کی ذات پر بھروسا کیا جائے۔ 

یقین اور اسباب کے درمیان توازن 

جب بندے کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ فتح ایک الٰہی تحفہ ہے نہ کہ انسانی تدابیر کا نتیجہ، تو دل مخلوقات کی غلامی اور خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ایمان کا حق یہ ہے کہ شرعی اور عقلی تقاضوں کے مطابق مکمل تیاری کی جائے، اور نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ اسباب کو ترک کرنا توکّل نہیں، لیکن انھی پر مکمل بھروسا کرلینا شرکِ خفی کی پھسلن ہے۔ 

بـے عملی اور جلدبازی سے گریز 

یہ بھی حکمت عملی کی کامیابی نہیں ہے کہ کچھ لوگ یہ گمان کرلیں کہ ان کی فتح کا انحصار ظالموں سے طاقت حاصل کرنے، یا قابضین کے ساتھ معمول کے تعلقات بناکر اختیار حاصل کرنے، یا مشرق یا مغرب سے مدد مانگنے پر ہے۔ اسی طرح کامیابی حاصل کرنے میں جلد بازی یا اس کی تاخیر سے مایوس ہونا ایک نفسیاتی کمزوری ہے۔ بعض اوقات تاخیر اور امتحان نفوس کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاکہ وہ ایمان اور استقامت کے بلندمقام پر ہوتے ہوئے اقتدار کو حاصل کریں۔ 

سیرتِ نبویؐ میں فتح و نصرت کے شواہد 

یقیناً سیرتِ نبویؐ اس بات پر شاہد ہے کہ فتح و نصرت کی عملی راہیں اس وقت کھلتی ہیں جب ظاہری اسباب ختم ہو جائیں اور دل صرف آسمان کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ 

حضرت نوح علیہ السلام پر زمین کی تمام تدبیریں بند کر دی گئیں، تو ان کے پاس عاجزانہ مناجات کے سوا کچھ نہ تھا۔اور جب موجیں خوف سے ٹکرائیں، تو موسیٰ علیہ السلام نے ہر دُنیاوی منطق کو ترک کر دیا اور یقینِ مطلق کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا۔ 

سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں، ’بدر‘ اور’حدیبیہ‘ کے واقعات اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ فتح و نصرت کے طریقے کئی ہوتے ہیں: کبھی وہ آسمانی مدد ہوتی ہے جو لشکروں کو مٹا دیتی ہے، اور کبھی وہ ایسی صلح کے پردے میں فتح ہوتی ہے جو بظاہر شکست نظر آتی ہے۔ 

مسافرانِ حق کو معلوم ہونا چاہیے کہ نصرت کا وعدہ جامع حکمت کے ساتھ مربوط ہے، صرف موجودہ لمحے کو دیکھنے کی تنگ نظری تک محدود نہیں ہے۔ 

میثاقِ یقین 

اس میثاق الٰہی میں پہلا قدم دل کی اصلاح ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس فتح یاب جھنڈے کی کیا قیمت جسے ایک کمزور دل نے اُٹھا رکھا ہو؟ اللہ کی نصرت کو وہ سب سے بڑا معیار بنائیے جس سے ہرسیاست شروع ہو اور جس پر منصوبوں کی عمارتیں کھڑی کی جائیں۔ پھر تیاری کے امانت دارانہ قانون کے مطابق مادی طاقت کی بِنا اٹھایئے، اور ناقابلِ بحث حکمت کے تابع معنوی طاقت پیدا کیجیے ،تاکہ اداروں اور ریاستوں کو معلوم ہو کہ زمینی حکمت عملیاں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتیں جب تک کہ ان میں ربانی مقاصد کا اُفق شامل نہ ہو۔ 

وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے‘‘ کا اعلان محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک دائمی مدار(orbit)ہے جو دل کو توحید کے محور سے باندھ کر رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی عادلانہ میزان ہے جو اسباب کے بوجھ اور نتائج کی سبکی کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ ایک مستقل اور دائم مدرسہ ہے جو اُمت کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی حقیقی عزّت ربّ کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں پوشیدہ ہے، نہ کہ زمینی طاقتوں کے سحر میں مبتلا ہونے میں! لہٰذا جس نے عہد کو سچ کردکھایا اور میثاق پورا کیا اس کے لیے ابدی وعدے کا جھنڈا گاڑ دیا گیا: 

كَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ۝۰ۭ (المجادلہ ۵۸:۲۱) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسولؑ غالب ہو کر رہیں گے !