مضامین کی فہرست


مئی ۲۰۲۶

حج کے معنی عربی زبان میں زیارت کا قصد کرنے کے ہیں۔ حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کعبے کی زیارت کا قصد کرتے ہیں، اس لیے اس کا نام حج رکھا گیا۔سب سے پہلے اس کی ابتدا جس طرح ہوئی اس کا قصہ بڑا سبق آموز ہے۔ اس قصے کو غور سے سنیے، تاکہ حج کی حقیقت اچھی طرح آپ کے ذہن نشین ہو جائے، پھر اس کے فائدوں کا سمجھنا آپ کے لیے آسان ہو گا۔

  • حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں حالات : کون مسلمان، عیسائی یا یہودی ایسا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے واقف نہ ہو؟ دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی اُن کو پیشوا مانتی ہے۔ حضرت موسٰی، حضرت عیسیٰ ؑاور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، تینوں انھی کی اولاد سے ہیں۔ انھی کی روشن کی ہوئی شمع سے دنیا بھر میں ہدایت کا نور پھیلا ہے۔ چار ہزار برس سے زیادہ مدت گزری جب وہ عراق کی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے۔اُس وقت ساری دنیا خدا کو بھولی ہوئی تھی۔ روئے زمین پرکوئی ایسا انسان نہ تھا جو اپنے اصلی مالک کو پہچانتا ہو، اور صرف اُسی کے آگے اطاعت وبندگی میں سرجھکاتا ہو۔ جس قوم میں انھوں نے آنکھیں کھولی تھیں وہ اگرچہ اس زمانے میں دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی، لیکن گمراہی میں بھی وہی سب سے آگے تھی۔ علوم وفنون اور صنعت وحرفت میں ترقی کر لینے کے باوجود ان لوگوں کو اتنی ذرا سی بات نہ سوجھتی تھی کہ مخلوق کبھی معبود ہونے کی اہل نہیں ہوسکتی۔ ان کے ہاں ستاروںاور بتوں کی پرستش ہوتی تھی۔ نجوم، فال گیری، غیب گوئی، جادو ٹونے اور تعویذ گنڈے کا خوب چرچا تھا۔ جیسے آج کل ہندوئوں میں پنڈت اور برہمن ہیں اسی طرح اس زمانے میں بھی پجاریوں کا ایک طبقہ تھا جو مندروں کی محافظت بھی کرتا، لوگوں کو پوجا بھی کراتا، شادی اور غمی وغیرہ کی رسمیں بھی ادا کرتا، اور غیب کی خبریں بھی لوگوں کو بتانے کا ڈھونگ رچاتا تھا۔

عام لوگ ان کے پھندے میں ایسے پھنسے ہوئے تھے کہ انھی کو اپنی اچھی اور بری قسمت کا مالک سمجھتے تھے۔ انھی کے اشاروں پر چلتے تھے اور بے چون وچرا ان کی خواہشات کی بندگی کرتے تھے، کیوں کہ ان کا گمان تھا کہ دیوتائوں کے ہاں ان پجاریوں کی پہنچ ہے۔ یہ چاہیں تو ہم پر دیوتائوں کی عنایت ہو گی، ورنہ ہم تباہ ہو جائیں گے۔ پجاریوں کے اس گروہ کے ساتھ بادشاہوں کی ملی بھگت تھی۔ عام لوگوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے میں بادشاہ پجاریوں کے مددگار تھے اور پجاری بادشاہوں کے۔ ایک طرف حکومت ان پجاریوں کی پشت پناہی کرتی تھی اور دوسری طرف یہ پجاری لوگوں کے عقیدے میں یہ بات بٹھاتے تھے کہ بادشاہِ وقت بھی خدائوں میں سے ایک خدا ہے، ملک اور رعیت کا مالک ہے، اس کی زبان قانون ہے اور اس کو رعایا کی جان ومال پر ہر قسم کے اختیارات حاصل ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بادشاہوں کے آگے پورے بندگی کے مراسم بجا لائے جاتے تھے، تاکہ رعایا کے دل ودماغ پر ان کی خدائی کا خیال مسلّط ہو جائے۔

  • حضرت ابراہیم ؑ کا گھرانا: ایسے زمانے اور ایسی قوم میں حضرت ابراہیم ؑ پیدا ہوئے اور لطف یہ ہے کہ جس گھرانے میں پیدا ہوئے وہ خود پجاریوں کا گھرانا تھا۔ ان کے باپ دادا اپنی قوم کے پنڈت اور برہمن تھے۔ اس گھر میں وہی تعلیم اور وہی تربیت ان کو مل سکتی تھی جو ایک پنڈت زادے کو ملا کرتی ہے۔ اسی قسم کی باتیں بچپن سے کانوں میں پڑتی تھیں۔ وہی پیروں اور پیرزادوں کے رنگ ڈھنگ اپنے بھائی بندوں اور برادری کے لوگوں میں دیکھتے تھے۔ وہی مندر کی گدی ان کے لیے تیار تھی جس پر بیٹھ کر وہ اپنی قوم کے پیشوا بن سکتے تھے۔ وہی نذر ونیاز اور چڑھاوے جن سے ان کا خاندان مالامال ہورہا تھا، ان کے لیے بھی حاضر تھے۔ اُسی طرح لوگ ان کے سامنے بھی ہاتھ جوڑنے اور عقیدت سے سرجھکانے کے لیے موجود تھے۔ اسی طرح دیوتائوں سے رشتہ ملا کر اور غیب گوئی کا ڈھونگ رچا کر وہ ادنیٰ کسان سے لے کر بادشاہ تک، ہر ایک کو اپنی پیروی کے پھندے میں پھانس سکتے تھے۔ اس اندھیرے میں جہاں کوئی ایک آدمی بھی حق کو جاننے اور ماننے والا موجود نہ تھا، نہ تو ان کو حق کی روشنی ہی کہیں سے مل سکتی تھی اور نہ کسی معمولی انسان کے بس کا یہ کام تھا کہ اس قدر زبردست ذاتی اور خاندانی فائدوں کو لات مار کر محض سچائی کے پیچھے دنیا بھر کی مصیبتیں مول لینے پر آمادہ ہو جاتا۔
  • حضرت ابراہیم ؑ کا اعلانِ براءت:مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔ کسی اور ہی مٹی سے ان کا خمیر بنا تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی انھوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ یہ سورج، چاند اور ستارے جو خود غلاموں کی طرح گردش کر رہے ہیں، اور یہ پتھر کے بت جن کو آدمی خود اپنے ہاتھ سے بناتا ہے اور یہ بادشاہ جو ہم ہی جیسے انسان ہیں، آخر یہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں؟ جو بے چارے خود اپنے اختیار سے جنبش نہیں کر سکتے، جن میں آپ اپنی مدد کرنے کی قدرت نہیں، جو اپنی موت اور زیست کے بھی مختار نہیں، ان کے پاس کیا دھرا ہے کہ انسان ان کے آگے عبادت میں سر جھکائے، ان سے اپنی حاجتیں مانگے، ان کی طاقت سے خوف کھائے اور ان کی خدمت گاری وفرماںبرداری کرے۔ زمین اور آسمان کی جتنی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں، یا جن سے کسی طور پر ہم واقف ہیں، ان میں سے تو کوئی بھی ایسی نہیں جو خود محتاج نہ ہو، جو خود کسی طاقت سے دبی ہوئی نہ ہو، اور جس پر کبھی نہ کبھی زوال نہ آتا ہو۔ 

پھر جب ان سب کا یہ حال ہے تو ان میں سے کوئی رب کیسے ہو سکتا ہے؟ جب ان میں سے کسی نے مجھ کو پیدا نہیں کیا، نہ کسی کے ہاتھ میں میری موت اور زیست کا، اور نفع اور نقصان کا اختیار ہے، نہ کسی کے ہاتھ میں رزق اور حاجت روائی کی کنجیاں ہیں، تو میں ان کو رب کیوں مانوں اور کیوں ان کے آگے بندگی واطاعت میں سر جھکائوں؟ میرا رب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں اور جس کے اختیار میں سب کی موت وزیست اور سب کا نفع ونقصان ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑنے قطعی فیصلہ کر لیا کہ جن معبودوں کو میری قوم پوجتی ہے ان کو میں ہرگز نہ پوجوں گا اور اس فیصلے پر پہنچنے کے بعد انھوں نے علی الاعلان لوگوں سے کہہ دیا کہ:

 اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّـمَّاتُشْرِكُوْنَ۝۷۸ (الانعام ۶:۷۸) جن کو تم خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو، میں اُن سب سے بیزار ہوں۔

اِنِّىْ وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝۷۹ۚ (الانعام ۶:۷۹) میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

  • مصائب کے پہاڑ :اس اعلان کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ باپ نے کہا کہ میں عاق کر دوں گا اور گھر سے نکال باہر کروں گا۔ قوم نے کہا کہ ہم میں سے کوئی تمھیں پناہ نہ دے گا۔ حکومت بھی ان کے پیچھے پڑ گئی اور بادشاہ کے سامنے مقدّمہ پیش ہوا،مگر وہ یکہ وتنہا انسان سب کے مقابلے میں سچائی کی خاطر ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ باپ کو ادب سے جواب دیا کہ جو علم میرے پاس ہے وہ تمھیں نہیں ملا، اس لیے بجائے اس کے کہ میں تمھاری پیروی کروں تمھیں میری پَیروی کرنی چاہیے۔ قوم کی دھمکیوں کے جواب میں اس کے بتوں کو اپنے ہاتھ سے توڑ کر ثابت کر دیا کہ جنھیں تم پوجتے ہو، وہ خود کس قدر بے بس ہیں۔ بادشاہ کے بھرے دربار میں جا کر صاف کہہ دیا کہ تُو میرا ربّ نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کے ہاتھ میں میری اور تیری زندگی وموت ہے، اور جس کے قانون کی بندش میں سورج تک جکڑا ہوا ہے۔ آخر شاہی دربار میں فیصلہ ہوا کہ اس شخص کو زندہ جلا ڈالا جائے، مگر وہ پہاڑ سے زیادہ مضبوط دل رکھنے والا انسان، جو خدائے واحد پر ایمان لا چکا تھا، اس ہولناک سزا کو بھگتنے کے لیے بھی تیار ہوگیا۔ 

پھر جب اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو آگ میں جلنے سے بچا لیا تو وہ اپنے گھر بار، عزیزواقارب، قوم اور وطن سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی بیوی اور ایک بھتیجے کو لے کر غریب الوطنی میں ملک ملک کی خاک چھاننے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ جس شخص کے لیے اپنے گھر میں مہنت کی گدّی موجود تھی، جو اس پر بیٹھ کر اپنی قوم کا پیر بن سکتا تھا۔ دولت وعزت دونوں جس کے قدم چومنے کے لیے تیار تھیں، اور جو اپنی اولاد کو بھی اس مہنتی کی گدّی پر مزے لوٹنے کے لیے چھوڑ سکتا تھا، اس نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے جلاوطنی اور بے سروسامانی کی زندگی پسند کی، کیوں کہ دنیا کے جھوٹے خدائوں کے جال میں پھانس کر خود مزے کرنا اُسے گوارا نہ تھا اور اس کے مقابلے میں یہ گوارا تھا کہ ایک سچے خدا کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلائے اور اس جرم کی پاداش میں کہیں چَین سے نہ بیٹھ سکے۔

  • ہجرت :وطن سے نکل کر حضرت ابراہیم علیہ السلام شام، فلسطین، مصر اور عرب کے ملکوں میں پھرتے رہے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ اس مسافرت کی زندگی میں ان پر کیا گزری ہو گی۔ مال وزر کچھ ساتھ لے کر نہ نکلے تھے اور باہر نکل کر اپنی روٹی کمانے کی فکر میں نہیں پھر رہے تھے بلکہ رات دن فکر تھی تو یہ تھی کہ لوگوں کو ہر ایک کی بندگی سے نکال کر صرف ایک خدا کا بندہ بنائیں۔ اس خیال کے آدمی کو جب اس کے اپنے باپ نے اور اس کی اپنی قوم نے برداشت نہ کیا تو اور کون برداشت کر سکتا تھا؟ کہاںاس کی آئو بھگت ہو سکتی تھی؟ ہر جگہ وہی مندروں کے مہنت اور وہی خدائی کے مدّعی بادشاہ موجود تھے اور ہر جگہ وہی جاہل عوام بستے تھے جو ان جھوٹے خدائوں کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے۔ 

ان لوگوں کے درمیان وہ شخص کہاں چَین سے بیٹھ سکتا تھا جو نہ صرف خود ہی خدا کے سوا کسی کی خدائی ماننے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ دوسروں سے بھی علانیہ کہتا پھرتا تھا کہ ایک اللہ کے سوا تمھارا کوئی مالک اور آقا نہیں ہے۔ سب کی آقائی وخداوندی کا تختہ الٹ دو، اور صرف اس ایک کے بندے بن کر رہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو کسی جگہ قرار نصیب نہ ہوا۔ سالہا سال بے خانماں پھرتے رہے، کبھی کنعان کی بستیوں میں ہیں تو کبھی مصر میں اور کبھی عرب کے ریگستان میں۔ اسی طرح ساری جوانی بیت گئی اور کالے بال سفید ہو گئے۔

  •  اولاد اور اس کی تربیت :اخیر عمر میں جب ۹۰ برس پورے ہونے میں صرف چار سال باقی تھے اور اولاد سے مایوسی ہو چکی تھی، اللہ نے اولاد دی۔ لیکن اس اللہ کے بندے کواَب بھی یہ فکر نہ ہوئی کہ خود خانماں برباد ہوا ہوں تو کم از کم اپنے بچوں ہی کو دنیا کمانے کے قابل بنائوں اور انھیں کسی ایسے کام پر لگاجائوں کہ روٹی کا سہارا مل جائے۔ نہیں، اس بوڑھے مسلمان کو فکر تھی تو یہ تھی کہ جس مشن کو پھیلانے میں خود اس نے اپنی عمر کھپا دی تھی، کاش! کوئی ایسا ہو جو اس کے مرنے کے بعد بھی اسی مشن کو پھیلاتا رہے۔ اسی غرض کے لیے وہ اللہ سے اولاد کا آرزو مند تھا، اور جب اللہ نے اولاد دی تو اس نے یہی چاہا کہ اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے انھیں تیار کرے۔ اس انسانِ کامل کی زندگی ایک سچے اور اصلی مسلمان کی زندگی تھی۔ ابتدائے جوانی میں ہوش سنبھالنے کے بعد ہی جب اس نے اپنے خدا کو پہچانا اور پالیا تو خدا نے اس سے کہا تھا کہ اَسْلِمْ  (اسلام لے آ، اپنے آپ کو میرے سپرد کر دے، میرا ہو کر رہ) اور اس نے جواب میں قول دے دیا تھا کہ: اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۳۱  (البقرہ ۲:۱۳۱)’’میں نے اسلام قبول کیا، میں ربّ العالمین کا ہو گیا، میں نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا‘‘۔

 اس قول وقرار کو اس سچے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نباہ کر دکھا دیا۔ اس نے ربّ العالمین کی خاطر صدیوں کے آبائی مذہب اور اس کی رسموں اور عقیدوں کو چھوڑا، اور دنیا کے ان سارے فائدوں کو چھوڑا، اپنی جان کو آگ کے خطرے میں ڈالا، جلا وطنی کی مصیبتیں سہیں، ملک ملک کی خاک چھانی، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ ربّ العالمین کی اطاعت اور اس کے دین کی تبلیغ میں صَرف کر دیا، اور بڑھاپے میں جب اولاد نصیب ہوئی تو اس کے لیے بھی یہی دین اور یہی کام پسند کیا۔

سب سے بڑی آزمائش! مگر ان آزمائشوں کے بعد ایک اور آخری آزمائش باقی رہ گئی تھی جس کے بغیر یہ فیصلہ نہ ہوسکتا تھا کہ یہ شخص دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ربّ العالمین سے محبت رکھتا ہے، اور وہ آزمائش یہ تھی کہ اس بڑھاپے میں، جب کہ پوری مایوسی کے بعد اسے اولاد نصیب ہوئی ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو ربّ العالمین کی خاطر قربان کر سکتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ یہ آزمائش بھی کر ڈالی گئی، اور جب اشارہ پاتے ہی وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا، تب فیصلہ فرما دیا گیا کہ ہاں، اب تم نے اپنے مسلم ہونے کے دعوے کو بالکل سچا کر دکھایا۔ اب تم اس کے اہل ہو کہ تمھیں ساری دنیا کا امام بنایا جائے۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ:

وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّہُنَّ۝۰ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۝۰ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ۝۰ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَہْدِي الظّٰلِــمِيْنَ۝۱۲۴ (البقرہ۲:۱۲۴) اور جب ابراہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اُتر گیا، تو فرمایا کہ میں تجھے انسانوں کا امام (پیشوا) بنانے والا ہوں۔اس نے عرض کیا اور میری اولاد کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب دیا: ان میں سے جو ظالم ہوں گے انھیں میرا عہد نہیں پہنچتا۔

  • امامتِ عالم پر سرفرازی :اس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو پیشوائی سونپی گئی اور وہ اسلام کی عالمگیر تحریک کے لیڈر بنائے گئے۔ اب ان کو اس تحریک کی اشاعت کے لیے ایسے آدمیوں کی ضرورت پیش آئی جو مختلف علاقوں کو سنبھال کر بیٹھ جائیں اور ان کے خلیفہ یا نائب کی حیثیت سے کام کریں۔ اس کام میں تین آدمی ان کے لیے قوتِ بازو ثابت ہوئے۔ ایک اُن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام، دوسرے اُن کے بڑے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام جنھوں نے یہ سن کر کہ ربّ العالمین ان کی جان کی قربانی چاہتا ہے، خود اپنی گردن خوشی خوشی چھری کے نیچے رکھ دی۔ تیسرے اُن کے چھوٹے صاحبزادے حضرت اسحاق علیہ السلام۔ 
  • حضرت لوطؑ کو شرقِ اُردن بھیجنا :بھتیجے(حضرت لوط علیہ السلام) کو آپ نے سدوم کے علاقے میں بٹھایا، جس کو آج کل شرقِ اُردن (ٹرانس جورڈینیا) کہتے ہیں۔ یہاں اس وقت کی سب سے زیادہ پاجی [بدمعاش و جرائم پیشہ] قوم رہتی تھی، اس لیے اس کی اصلاح مد نظر تھی اور ساتھ ہی دُور دراز کے علاقوں پر بھی اثر ڈالنا مقصود تھا۔ کیوں کہ ایران، عراق اور مصر کے درمیان آنے جانے والے سب تجارتی قافلے اسی علاقے سے گزرتے تھے اور یہاں بیٹھ کر دونوں طرف تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا جا سکتا تھا۔
  • حضرت اسحاق ؑ کو فلسطین بھیجنا :چھوٹے صاحبزادے حضرت اسحاق علیہ السلام کو کنعان کے علاقے میں آباد کیا جس کو آج کل فلسطین کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ شام اور مصر کے درمیان واقع ہے، اور سمندر کے کنارے ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں پر بھی یہاں سے اثر ڈالا جا سکتا ہے۔ یہیں سے حضرت اسحق ؑکے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام(جن کا نام اسرائیل بھی تھا) اور پوتے حضرت یوسفؑ کی بدولت اسلام کی تحریک مصر تک پہنچی۔ 
  • حضرت اسماعیلؑ کو حجاز میں رکھا :بڑے صاحبزادے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو حجاز میں مکے کے مقام پر رکھا اورایک مدت تک خود ان کے ساتھ رہ کر عرب کے تمام گوشوں میں اسلام کی تعلیم پھیلائی۔
  • تعمیرِ کعبہ :پھر یہیں دونوں باپ بیٹے نے اسلامی تحریک کا وہ مرکز تعمیر کیا جو کعبہ کے نام سے آج ساری دنیا میں مشہور ہے۔ اس مرکز کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا تھا اور خود ہی اس تعمیر کی جگہ تجویز کی تھی۔ یہ عمارت محض ایک عبادت گاہ ہی نہ تھی، جیسے مسجدیں ہوا کرتی ہیں، بلکہ اوّل روز ہی سے اس کو دینِ اسلام کی عالمگیر تحریک کا مرکزِ تبلیغ واشاعت قرار دیا گیا تھا، اور اس کی غرض یہ تھی کہ ایک خدا کو ماننے والے ہر جگہ سے کھنچ کھنچ کر یہاں جمع ہوا کریں۔ مل کر خدا کی عبادت کریں، اور اسلام کا پیغام لے کر پھر اپنے اپنے ملکوں کو واپس جائیں۔ یہی اجتماع تھا جس کا نام حج رکھا گیا۔ اس کی پوری تفصیل کہ یہ مرکز کس طرح تعمیر ہوا، کن جذبات اور کن دعائوں کے ساتھ دونوں باپ بیٹے نے اس عمارت کی دیواریں اٹھائیں اور کیسے حج کی ابتدا ہوئی؟ قرآن مجید میں یوں بیان کی گئی ہے:

اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّۃَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ۝۹۶ۚ فِيْہِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِيْمَ۝۰ۥۚ وَمَنْ دَخَلَہٗ كَانَ اٰمِنًا۝۰ۭ (اٰل عمرٰن۳:۹۶-۹۷) یقیناً پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا، برکت والا گھر، اور سارے جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت۔ اس میں اللہ کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ؑہے اور جو اس میں داخل ہو جاتا ہے اس کو امن مل جاتا ہے۔

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ۝۰ۭ (العنکبوت ۲۹:۶۷)کیا لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کیسا پُرامن حرم بنا یا ہے، حالانکہ اس کے گرد وپیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں۔

یعنی، جب کہ عرب میں ہر طرف لوٹ مار، قتل وغارت گری اور جنگ وجدل کا بازار گرم تھا، اس حرم میں ہمیشہ امن ہی رہا۔ حتیٰ کہ وحشی بدّو تک اس کے حدود میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ پاتے تو اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرتے۔

حضرت ابراہیم ؑ کی دعائیں

وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا۝۰ۭ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّى۝۰ۭ وَعَہِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَہِّرَا بَيْـتِىَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۝۱۲۵ وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ..... وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۝۰ۭ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝۱۲۷ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّكَ۝۰۠ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا۝۰ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۝۱۲۸ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۱۲۹ۧ (البقرہ ۲:۱۲۵-۱۲۹) اور، جب کہ ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرکز ومرجع اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے مقامِ عبادت کو جائے نماز بنا لو، اور ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ کو ہدایت کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والے اورٹھیرنے والے اور رکوع وسجدہ کرنے والے لوگوں کے لیے پاک صاف رکھو۔ اور، جب کہ ابراہیم ؑنے دُعا کی کہ پروردگار، اس شہر کو پُرامن شہر بنا دے اور یہاں کے باشندوں کو پھلوں کا رزق بہم پہنچا، جو ان میں سے اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لانے والا ہو… اور جب ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے کہ پروردگار! ہماری اس کوشش کو قبول فرما، تو سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ پروردگار! اور تُو ہم دونوں کو اپنا مسلم (اطاعت گزار) بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو، اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہم پر عنایت کی نظر رکھ کہ تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ پروردگار! اور تُو ان لوگوں میں انھی کی قوم سے ایک ایسا رسول اُٹھائیوجو انھیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔ یقیناً تو بڑی قوت والا ہے اور بڑا حکیم ہے۔

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ۝۳۵ۭ رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ۝۰ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّہٗ مِنِّىْ۝۰ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۶ رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ۝۰ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِيْٓ اِلَيْہِمْ وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ يَشْكُرُوْنَ۝۳۷(ابراہیم ۱۴: ۳۵-۳۷) اور، جب کہ ابراہیم ؑنے دعا کی کہ پروردگار! اس شہر کو پُرامن شہر بنا اور مجھ کو اور میرے بچوں کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار! ان بتوں نے بہتیرے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سوجو کوئی میرے طریقے کی پیروی کرے تو میرا ہے اور جو میرے طریقے سے پھر جائے تو یقینا تُو غفور اور رحیم ہے۔ پروردگار! میں نے اپنی نسل کے ایک حصے کو تیرے اس عزّت والے گھر کے پاس اس بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا ہے تاکہ یہ نماز کا نظام قائم کریں۔ پس اے رب! تو لوگوں کے دلوں میں ایسا شوق ڈال کہ وہ ان کی طرف کھنچ کر آئیں اور ان کو پھلوں سے رزق پہنچا۔ امید ہے کہ یہ تیرے شکر گزار بنیں گے۔

حج کا اعلانِ عام

وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۝۲۶ وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۝۲۷ۙ لِّيَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ۝۰ۚ فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَ۝۲۸ۡ  (الحج ۲۲: ۲۶-۲۸ ) یاد کرو وہ وقت، جب کہ ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی، (اس ہدایت کے ساتھ کہ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمھارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں، تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں۔ خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔

یہ ہے اس حج کی ابتدا کا قصہ جسے اسلام کا پانچواں رکن قرار دیا گیا ہے۔ اس سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دنیامیں سب سے پہلے جس نبی کو اسلام کی عالم گیر دعوت پھیلانے پر مامور کیا گیا تھا، مکہ اس کے مشن کا صدر مقام تھا۔ کعبہ وہ مرکز تھا جہاں سے یہ تبلیغ دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچائی جاتی تھی، اور حج کا طریقہ اس لیے مقرر کیا گیا تھا کہ جو لوگ خدائے واحد کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کی اطاعت میں داخل ہوں، خواہ وہ کسی قوم اور کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے سب اس ایک مرکز سے وابستہ ہو جائیں اور ہر سال یہاں جمع ہو کر اس مرکز کے گرد طواف کریں۔ گویا ظاہر میں اپنی اس باطنی کیفیت کا نقشہ جما لیں کہ ان کی زندگی اس پہیے کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنے دُھرے (Axis: محور)کے گرد ہی گھومتا ہے۔

_______________

حج کی تاریخ

برادرانِ اسلام! پچھلے خطبے میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ حج کی ابتدا کس طرح اور کس غرض کے لیے ہوئی تھی۔ یہ بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکے کو اس اسلامی تحریک کا مرکز بنایا تھا اور یہاں اپنے سب سے بڑے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو بٹھایا تھا تاکہ آپ کے بعد وہ اس تحریک کو جاری رکھیں۔

اولادِ ابراہیم ؑ میں بت پرستی کا رواج

خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت اسمٰعیل ؑکے بعد اُن کی اولاد کب تک اس دین پر قائم رہی جس پر ان کے باپ ان کو چھوڑ گئے تھے۔ بہرحال چند صدیوں میں یہ لوگ اپنے بزرگوں کی تعلیم اور ان کے طریقے سب بھول بھال گئے اور رفتہ رفتہ ان میں وہ سب گمراہیاں پیدا ہو گئیں جو دوسری جاہل قوموں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اسی کعبے میں جسے ایک خدا کی پرستش کے لیے دعوت وتبلیغ کا مرکز بنایا گیا تھاسیکڑوں بت رکھ دیے گئے تھے اور غضب یہ ہے کہ خود حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسمٰعیل ؑکا بھی بت بنا ڈالا گیا جن کی ساری زندگی بتوں ہی کی پرستش کو مٹانے میں صَرف ہوئی تھی۔ ابراہیم ؑحنیف کی اولاد نے لات، منات، ہبل، نسر، یغوث، عزیٰ، اساف، نائلہ اور خدا جانے کس کس نام کے بت بنائے اور ان کو پوجا۔ چاند، عطارد، زہرہ، زحل، اور معلوم نہیں کس کس ستارے کو پوجا۔ جن، بھوت، پریت، فرشتوں اور اپنے مردہ بزرگوں کی روحوں کو پوجا۔ جہالت کا زور یہاں تک بڑھا کہ جب گھر سے نکلتے اور اپنا خاندانی بت انھیں پوجنے کو نہ ملتا تو راستہ چلتے میں جو اچھا سا چکنا پتھر مل جاتا اسی کو پوج ڈالتے، اور پتھر بھی نہ ملتا تو مٹی کو پانی سے گوندھ کر ایک پنڈا(جسم کی شکل) سا بنا لیتے اور بکری کا دودھ چھڑکتے ہی وہ بے جان پنڈا اُن کا خدا بن جاتا۔ جس مہنت گری اور پنڈتائی کے خلاف ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام نے عراق میں لڑائی کی تھی وہ خود انھی کے گھر میں گھس آئی۔ کعبے کو انھوں نے ہر دواریا بنارس بنا لیا، خود وہاں کے مہنت بن کر بیٹھ گئے۔ حج کو تیرتھ جاترا بنا کر اس گھر سے جو توحید کی تبلیغ کے لیے بنا تھا بت پرستی کی تبلیغ کرنے لگے، اور پجاریوں کے سارے ہتھکنڈے اختیار کرکے انھوں نے عرب کے دورونزدیک سے آنے والے جاتریوں سے نذر چڑھاوے وصول کرنے شروع کر دیے۔ اس طرح وہ سارا کام برباد ہو گیا جو ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام کر گئے تھے، اور جس مقصد کے لیے انھوں نے حج کا طریقہ جاری کیا تھا۔ اس کی جگہ کچھ اور ہی کام ہونے لگے۔

حج میں بگاڑ کی شکلیں

شعرا کے مقابلے

اس جاہلیت کے زمانے میں حج کی جوگت بنی اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ یہ ایک میلہ تھا جو سال کے سال لگتا تھا۔ بڑے بڑے قبیلے اپنے اپنے جتھوں کے ساتھ یہاں آتے اور اپنے اپنے پڑائو الگ ڈالتے۔ ہر قبیلے کا شاعر یا بھاٹ اپنی اور اپنے قبیلے والوں کی بہادری، نام وَری، عزت، طاقت اور سخاوت کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتا اور ہر ایک ڈینگیں مارنے میں دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتا۔ یہاں تک کہ دوسرے کی ہجو تک نوبت پہنچ جاتی۔

جھوٹی سخاوت کے مظاہرے

پھر فیاضی کا مقابلہ ہوتا۔ ہر قبیلے کے سردار اپنی بڑائی جتانے کے لیے دیگیں چڑھاتے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اونٹ پر اونٹ کاٹتے چلے جاتے۔ اس فضول خرچی سے ان لوگوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اس میلے کے موقع پر ان کا نام سارے عرب میں اونچا ہو جائے اور یہ چرچے ہو ں کہ فلاں صاحب نے اتنے اونٹ ذبح کیے اور فلاں صاحب نے اتنوں کو کھانا کھلایا۔ ان مجلسوں میں راگ رنگ، شراب خوری، زنا اور ہر قسم کی فحش کاری خوب دھڑلے سے ہوتی تھی اور خدا کا خیال مشکل ہی سے کسی کو آتا تھا۔

برہنہ طواف

کعبے کے گرد طواف ہوتا تھا، مگر کس طرح؟ عورت مرد سب ننگے ہو کر گھومتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت میں خدا کے سامنے جائیں گے جس میں ہماری مائوں نے ہمیں جنا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی مسجد میں عبادت ہوتی تھی، مگر کیسی؟ تالیاں پیٹی جاتیں، سیٹیاں بجائی جاتیں اور نرسنگھے پھونکے جاتے۔ خدا کا نام پکارا جاتا، مگر کس شان سے؟ کہتے تھے:

لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَا مَلَکَ۔،یعنی میں حاضر ہوں میرے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، مگر وہ جو تیرا ہونے کی وجہ سے تیرا شریک ہے۔ تُو اس کا بھی مالک ہے اور اس کی ملکیت کا بھی مالک ہے۔

قربانی کا تصور

خدا کے نام پر قربانیاں کرتے تھے، مگر کس بدتمیزی کے ساتھ؟ قربانی کا خون کعبے کی دیواروں سے لتھیڑا جاتا اور گوشت دروازے پر ڈالا جاتا، اس خیال سے کہ نعوذ باللہ یہ خون اور گوشت خدا کو مطلوب ہے۔ 

حرام مہینوں کی بے حرمتی

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حج کے چار مہینوں کو حرام ٹھیرایا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ان مہینوں میں کسی قسم کی جنگ وجدل نہ ہو۔ یہ لوگ اس حرمت کا کسی حد تک خیال رکھتے تھے، مگر جب لڑنے کو جی چاہتا توڈھٹائی کے ساتھ ایک سال حرام مہینے کو حلال کر لیتے اور دوسرے سال اس کا بدلہ کردیتے تھے۔

چند خود ساختہ پابندیاں

پھر جو لوگ اپنے مذہب میں نیک نیت تھے، انھوں نے بھی جہالت کی وجہ سے عجیب عجیب طریقے ایجاد کر لیے تھے۔ کچھ لوگ بغیر زادِ راہ لیے حج کو نکل کھڑے ہوتے اورمانگتے کھاتے چلے جاتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ نیکی کا کام تھا۔ کہتے تھے:’’ہم متوکل ہیں، خدا کے گھر کی طرف جا رہے ہیں، پھر دنیا کا سامان کیوں لیں؟‘‘

عموماً حج کے سفر میں تجارت کرنے یا کمائی کے لیے محنت مشقت کرنے کو ناجائز سمجھا جاتا تھا۔ بہت سے لوگ حج میں کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے اور اسے بھی داخلِ عبادت سمجھتے تھے۔ بعض لوگ حج کو نکلتے تو بات چیت کرنا ترک کر دیتے۔ اس کا نام ’حج مُصمِت ‘، یعنی ’گونگا حج‘ تھا۔ اسی قسم کی اور غلط رسمیں بے شمار تھیں جن کا حال بیان کرکے میں آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔

دعائے خلیل ؑکی قبولیت

یہ حالت کم وبیش دو ہزار برس تک رہی۔ اس طویل مدت میں کوئی نبی عرب میں پیدا نہیں ہوا، نہ کسی نبی کی خالص تعلیم عرب کے لوگوں تک پہنچی۔ آخر کار حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کے پورا ہونے کا وقت آیا جو انھوں نے کعبے کی دیواریں اٹھاتے وقت اللہ سے مانگی تھی:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُo(البقرہ۲:۱۲۹) یعنی، پروردگار! ان کے درمیان ایک پیغمبر خود انھی کی قوم میں سے بھیجیو، جو انھیں تیری آیات سنائے اور کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔

 چنانچہ حضرت ابراہیم ؑکی اولاد سے پھر ایک انسانِ کامل اٹھا جس کا نامِ پاک محمد بن عبداللہ تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم !

جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے پنڈتوں اور مہنتوں کے خاندان میں آنکھ کھولی تھی، اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُس خاندان میں آنکھ کھولی جو صدیوں سے کعبہ کے تیرتھ کا مہنت بنا ہوا تھا۔ جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے اپنے ہاتھ سے خود اپنے خاندان کی مہنتی پر ضرب لگائی، اسی طرح آنحضرتؐ نے بھی اس پر ضرب لگائی اور محض ضرب ہی نہیں لگائی بلکہ ہمیشہ کے لیے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پھر جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے تمام باطل عقیدوں اور جھوٹے خدائوں کی خدائی مٹانے کے لیے جدوجہد کی تھی اور ایک خدا کی بندگی پھیلانے کی کوشش کی تھی، بالکل وہی کام آنحضرتؐ نے بھی کیا اور پھر اُسی اصلی اور بے لوث دین کو تازہ کر دیاجسے حضرت ابراہیم ؑلے کر آئے تھے۔ ۲۱ سال کی مدت میں جب یہ سارا کام آپؐ مکمل کر چکے تو اللہ کے حکم سے آپؐ نے پھر اُسی طرح کعبے کو تمام دنیا کے خداپرستوں کا مرکز بنانے کا اعلان کیا اور پھر وہی منادی کی کہ سب طرف سے حج کے لیے اس مرکز کی طرف آئو:

وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۝۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَo (اٰل عمرٰن ۳:۹۷) اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو کوئی اس گھر تک آنے کی قدرت رکھتا ہو، وہ حج کے لیے آئے، پھر جو کوئی کفر کرے (یعنی قدرت کے باوجود نہ آئے) تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔

سُنّتِ ابراہیمی ؑ کا احیا

اس طرح حج کا ازسرِ نو آغاز کرنے کے ساتھ ہی جاہلیت کی وہ ساری رسمیں بھی یک قلم مٹادی گئیں جو پچھلے دو ہزار برس میں رواج پا گئی تھیں:

بت پرستی کا خاتمہ

کعبے کے سارے بت توڑے گئے، خدا کے سوا دوسروں کی جو پرستش وہاں ہو رہی تھی وہ قطعاً روک دی گئی، سب رسمیں مٹا دی گئیں، میلے ٹھیلے اور تماشے بند کر دیے گئے اور حکم دیا گیا کہ اب جو طریقہ عبادت کا بتایا جا رہا ہے اسی طریقے سے یہاں اللہ کی عبادت کرو:

وَاذْكُرُوْہُ كَـمَا ھَدٰىكُمْ۝۰ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَo(البقرہ ۲:۱۹۸) اللہ کو یاد کرو اس طرح جیسی تمھیں اللہ نے ہدایت کی ہے ورنہ اس سے پہلے تو تم گمراہ لوگ تھے۔

بـے ہودہ افعال کی ممانعت

تمام بے ہودہ افعال کی سخت ممانعت کر دی گئی:

 فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ۝۰ۙ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ۝۰ۭ ( البقرہ۲:۱۹۷ )حج میں نہ شہوانی افعال کیے جائیں، نہ فسق وفجور ہو، نہ لڑائی جھگڑے ہوں۔

شاعری کے دنگل بند

شاعری کے دنگل، باپ دادا کے کارناموں پر فخر، بھٹئی(تعریف کرنا) اور ہجو گوئی کے مقابلے سب بند کر دیے گئے:

فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللہَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا۝۰ۭ (البقرہ۲:۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجدادکا ذکر کرتے تھے، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ 

نمائشی فیاضی کا خاتمہ

فیاضی کے مقابلے، جو محض دکھاوے اور نام وَری کے لیے ہوتے تھے ان سب کا خاتمہ کردیا گیا اور اس کی جگہ وہی حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے کا طریقہ پھرزندہ کیا گیا کہ محض اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں تاکہ خوش حال لوگوں کی قربانی سے غریب حاجیوں کو بھی کھانے کا موقع مل جائے:

وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۚ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ o(الاعراف ۷:۳۱) اور کھائو پیو مگر اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

فَاذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَيْہَا صَوَاۗفَّ۝۰ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُہَا فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ۝۰ۭ(الحج۲۲:۳۶)ان جانوروں کو خالص اللہ کے لیے اسی کے نام پر قربان کرو، پھر جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹھہر جائیں (یعنی جب جان پوری طرح نکل چکے اور حرکت باقی نہ رہے) تو خود بھی ان میں سے کھائو اوران کو بھی کھلائو جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں۔

قربانی کا خون اور گوشت لتھیڑنا موقوف

قربانی کا خون کعبہ کی دیواروں سے لتھیڑنا اور گوشت لا کر ڈالنا موقوف کیا گیا اور ارشاد ہوا:

لَنْ يَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاۗؤُہَا وَلٰكِنْ يَّنَالُہُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ۝۰(الحج ۲۲: ۳۷) اللہ کو ان جانوروں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ تمھاری پرہیز گاری وخدا ترسی پہنچتی ہے۔

برہنہ طواف کی ممانعت

برہنہ ہو کر طواف کرنے کی قطعی ممانعت کر دی گئی اور فرمایا گیا:

 قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ   لِعِبَادِہٖ  (الاعراف۷:۳۲ )اے نبی! ان سے کہو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی تھی (یعنی لباس)۔

  قُلْ   اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ (الاعراف۷:۲۸) اے نبیؐ! کہو کہ اللہ تو ہرگز بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔

 یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف۷:۳۱)اے آدم زادو! ہرعبادت کے وقت اپنی زینت (یعنی لباس) پہنے رہا کرو۔

حج کے مہینوں میں الٹ پھیر کی ممانعت

حج کے مہینوں کا الٹ پھیر کرنے اور حرام مہینوں کو لڑائی کے لیے حلال کر لینے سے سختی کے ساتھ روک دیا گیا:

 اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ  ط   (التوبہ۹:۳۷)نسی تو کفر میں اور زیادتی ہے (یعنی کفر کے ساتھ ڈھٹائی کا اضافہ ہے)۔ کافر لوگ اس طریقے سے اور زیادہ گمراہی میں پڑتے ہیں۔ کسی ایک سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال اس کے بدلے میں کوئی دوسرا مہینہ حرام کر دیتے ہیں تاکہ جتنے مہینے اللہ نے حرام ٹھیرائے ہیں ان کی تعداد پوری کر دیں، مگر اس بہانے سے دراصل اس چیز کو حلال کر لیا جائے جسے اللہ نے حرام کیا تھا۔

زادِ راہ لینے کا حکم

زادِ راہ لیے بغیر حج کے لیے نکلنے کو ممنوع ٹھیرایا گیا اور ارشاد ہوا:

وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى۝۰ۡ   (البقرہ۲:۱۹۷ )زادِ راہ ضرور لے لو، (دنیا میں زادِ راہ نہ لینا زادِ آخرت نہیں ہے)بہترین زادِ راہ تو تقویٰ ہے۔

حج میں روزی کمانے کی اجازت

سفر حج میں کمائی نہ کرنے کو جو نیکی کا کام سمجھا جاتا تھا، اور روزی کمانے کو ناجائز خیال کیا جاتا تھا، اس کی تردید کی گئی:

لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ط  (البقرہ ۲:۱۹۸) کوئی مضائقہ نہیں اگر تم کاروبار کے ذریعے سے اپنے رب کا فضل تلاش کرتے جائو۔

جاہلی رسموں کا خاتمہ

’گونگے حج‘ اور بھوکے پیاسے حج سے بھی روکا گیا، اور اس طرح جاہلیت کی دوسری تمام رسموں کو مٹا کر حج کو تقویٰ، خدا ترسی، پاکیزگی اور سادگی ودرویشی کا مکمل نمونہ بنا دیا گیا۔حاجیوں کو حکم دیا گیا کہ جب اپنے گھروں سے چلو تو اپنے آپ کو تمام دنیوی آلائشوں سے پاک کر لو، شہوات کو چھوڑ دو، بیویوں کے ساتھ بھی اس زمانے میں تعلق زن وشو نہ رکھو۔ گالی گلوچ اور تمام بیہودہ اعمال سے پرہیز کرو۔

میقات کا تعیّن

کعبہ کی طرف آنے والے جتنے راستے ہیں، ان سب پر بیسیوں میل دور سے ایک ایک حد مقرر کر دی گئی کہ اس حد سے آگے بڑھنے سے پہلے سب لوگ اپنے اپنے لباس بدل کر احرام کا فقیرانہ لباس پہن لیں، تاکہ سب امیر وغریب یکساں ہوجائیں، الگ الگ قوموں کے امتیازات مٹ جائیں، اور سب کے سب اللہ کے دربار میں ایک ہو کر، فقیر بن کر عاجزانہ شان کے ساتھ حاضر ہوں۔

پُر امن ماحول کی ہدایت

احرام باندھنے کے بعد انسان کا خون بہانا تو درکنار، جانور تک کا شکار کرنا حرام کر دیا گیا، تاکہ امن پسندی پیدا ہو، بہیمیت دور ہو جائے اور طبیعتوں پرروحانیت کا غلبہ ہو۔ حج کے چار مہینے اس لیے حرام کیے گئے کہ اس مدت میں کوئی لڑائی نہ ہو، کعبہ کو جانے والے تمام راستوں میں امن رہے اور زائرینِ حرم کو کوئی نہ چھیڑے۔ اس شان کے ساتھ جب حاجی حرم میں پہنچیں تو ان کے لیے کوئی میلہ ٹھیلہ، کھیل تماشا، ناچ رنگ وغیرہ نہیں ہے۔ قدم قدم پر خدا کا ذکر ہے، نمازیں ہیں، عبادتیں ہیں، قربانیاں ہیں، کعبہ کا طواف ہے، اور کوئی پکار ہے تو بس یہ ہے کہ:

ایک ہی نعرہ __ تلبیہ

لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَاشَرِیْکَ لَکَ، حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیر ا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، یقیناً تعریف سب تیرے ہی لیے ہے، نعمت سب تیری ہے۔ ساری بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔

ایسے ہی پاک صاف، بے لوث اور مخلصانہ حج کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَّلَدَتْہُ اُمُّہٗ    (متفق علیہ)جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں شہوات اور فسق وفجور سے پرہیز کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔

فریضہ ٔ حج کی اہمیت

اب قبل اس کے کہ آپ کے سامنے حج کے فائدے بیان کیے جائیں، یہ بھی بتا دینا ضروری ہے کہ یہ فرض کیسا ہے؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۝۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَo (اٰل عمرٰن۳:۹۷)اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے اور جس نے کفر کیا تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔

اس آیت میں قدرت رکھنے کے باوجود قصدًاحج نہ کرنے کو ’’کفر‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے،اور اس کی شرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو حدیثوں سے ہوتی ہے:

مَنْ مَّلَکَ زَادًا وَّرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہٗ اِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلاَ عَلَیْہِ اَنْ یَّمُوْتَ یَھُوْدِیًّا اَوْنَصْرَانِیًّا (مشکوٰۃ حدیث : ۲۴۰۷) جو شخص زادِ راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو، اور پھر حج نہ کرے تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا یکساں ہے۔

مَنْ لَّمْ یَمْنَعْہُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَۃٌ ظَاھِرَۃٌ اَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ اَوْمَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ اِنْ شَآءَ یَھُوْدِیًّا وَّاِنْ شَآئَ نَصْرَانِیًّا (دارمی) جس کو نہ کسی صریح حاجت نے حج سے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے، نہ کسی روکنے والے مرض نے، اور پھر اس نے حج نہ کیا ہو، اور اسی حالت میں اسے موت آ جائے تو اسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر۔

اسی کی تفسیر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی جب کہا:جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے، میرا جی چاہتا ہے کہ ان پر جزیہ لگا دوں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں، وہ مسلمان نہیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم وخلیفۂ رسولؐ کی اس تشریح سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ فرض ایسا فرض نہیں ہے کہ جی چاہے تو ادا کیجیے اور نہ چاہے تو ٹال دیجیے، بلکہ یہ ایسا فرض ہے کہ ہر اس مسلمان کو جو کعبے تک جانے آنے کا خرچ رکھتا ہو، اور ہاتھ پائوں سے معذور نہ ہو، عمر میں ایک مرتبہ اسے لازماً ادا کرنا چاہیے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، اور خواہ اس کے اوپر بال بچوں کی اور اپنے کاروبار یا ملازمت وغیرہ کی کیسی ہی ذمہ داریاں ہوں۔ جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کرکرکے سال پر سال یونہی گزارتے چلے جاتے ہیں ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ حج بھی کوئی فرض ان کے ذمے ہے۔ دنیا بھر کے سفر کرتے پھرتے ہیں، کعبۂ یورپ کو آتے جاتے حجاز کے ساحل سے بھی گزر جاتے ہیں جہاں سے مکہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، اور پھر بھی حج کا ارادہ تک ان کے دلوں میں نہیں گزرتا، وہ قطعاً مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اور قرآن سے جاہل ہے جو انھیں مسلمان سمجھتا ہے۔ ان کے دل میں اگر مسلمانوں کا درد اٹھتا ہے تو اٹھا کرے۔ اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ تو بہرحال ان کے دل میں نہیں ہے۔

حج ہر سال ہمیں ہماری پہچان یاد دلانے، ہمیں اپنی فطرت کی طرف لوٹانے، ہمارے تعلقات میں حقیقی بھائی چارہ پیدا کرنے، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہنے، اپنے پروردگار اور خالق کے شعائر کی تعظیم میں صدق پیدا کرنے اور شیطان اور اس کے گروہ سے دشمنی کا درس دینے آتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر امت ان مقاصد کو حاصل نہیں کر پاتی، تو پھر وہ حج کیوں کرتی ہے؟ جب کہ اس کے اہم ترین مقاصد میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے، اس کے احکامات پر عمل کرنے میں جلدی کرنا، اور جن چیزوں سے اس نے روکا ہے ان سے بچنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ۝۰ۚ (الانفال۸:۲۴) اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو، جب کہ رسُول تمھیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے۔

حج میں اللہ کے حکم کی تعمیل طواف، سعی، رمی اور قیامِ منٰی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ان شرعی ضوابط سے ایک مسلمان اللہ کے حکم کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کا درس سیکھتا ہے۔ کسی منطقی نظریے یا فلسفیانہ بحث میں پڑے بغیر وہ ان تمام مناسک سے اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت سیکھتا ہے۔

میں یہاں اُمت مسلمہ سے سوال کرتا ہوں، جو حج کا شوق رکھتی ہے اور اس کے لیے اپنی قیمتی ترین پونجی خرچ کرتی ہے: کیا وہ واقعی اللہ کے حکم پر لبیک کہتی ہے؟ کیا ہماری امت اپنے چھوٹے بڑے تمام معاملات میں اللہ کی شریعت کو حاکم مانتی ہے؟ تاکہ اللہ کے اس فرمان کی تعمیل ہو سکے:

وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ  (المائد ہ۵:۴۹) اور اس کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو۔

اور اس کے اس حکم کی اطاعت ہو:

اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝۰ۭ (یوسف۱۲:۴۰)اور حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔

اور اللہ کے اس حکم کی نافرمانی سے بچا جا سکے:

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ۝۴۴ (المائدہ۵:۴۴) اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی اصل کافر ہیں۔

حج ہمیں ہماری شناخت یاد دلانے، ہمیں ہماری فطرت کی طرف لوٹانے، اور ہمارے اندر سچا بھائی چارہ (اخوت) اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے آتا ہے۔

کیا ہماری امت اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہہ رہی ہے جس میں اسے جہاد کا حکم دیا گیا ہے، اگر اس کے دین، مال، جان، عزت یا نسل پر حملہ کیا جائے؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی ایک کا دفاع کرتے ہوئے مرنے والے کو شہادت کا رُتبہ دیا ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا: مَنْ  قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ نَفْسِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ (ابوداؤد: ۴۷۷۲، نسائی:۴۰۹۵، احمد:۱۶۵۲ )’’جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے‘‘۔

اُمت مسلمہ کے دشمنوں نے اس پر دھاوا بول دیا اور ان تمام ضروریات (جان، مال، عزّت) پر حملہ کیا، تو کیا امت نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں جہاد کا فریضہ سرانجام دیا؟ کیا امت اپنے مقدسات کے لیے کھڑی ہوئی؟ کیا اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سر زمینِ اسرا (مسجد ِ اقصیٰ) کا دفاع کیا؟

  • امت حج کیوں کرتی ہـے؟: امت حج اس لیے کرتی ہے تاکہ وہ سچی اخوت سیکھے، یہ سیکھے کہ بھائی چارہ عبادت کی عظیم ترین محرابوں میں سے ایک ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا سب سے وسیع دروازہ ہے۔ کیا امت کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حج کے عظیم ترین ثواب کو اخوت کی تکمیل پر منحصر رکھا ہے؟ جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا:

مَنْ حَـجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (بخاری:۱۵۲۱،مسلم ۱۳۵۰) جس نے حج کیا اور اس دوران کوئی فحش کلامی یا گناہ نہ کیا، وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسے لوٹا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو‘۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ  (الحجرات۴۹:۱۰)بے شک مومن تو بھائی بھائی ہیں۔

ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ: کیا آج کی امت اس سچی اخوت کو اپنائے ہوئے ہے؟ وہی امت جس نے حج میں یہ سیکھا تھا کہ وہ اپنے لباس، زینت، خوشبو اور نعروں میں تفاخر اور برتری کے تمام اسباب کو چھوڑ دے تاکہ کامل اخوت کو حاصل کر سکے۔

  • کیا  اُمت میں حقیقی بھائی چارہ نظر آتا ہـے؟: ہم حج کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ کیا وہ بھائی چارہ غزہ میں اپنے ان بھائیوں کے ساتھ نظر آتا ہے جو دن رات امت کو پکارتے رہے؟ وہ بھوک کا شکار ہوئے، انھیں تباہ کیا گیا، ہجرت پر مجبور کیا گیا اور پوری امت کی آنکھوں کے سامنے جلایا گیا، ــــــــــــ تو وہ بھائی چارہ کہاں ہے؟

امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان گرامی کے مطابق کہاں کھڑی ہے:

مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ ،                 إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّی (بخاری: ۶۰۱۱،مسلم:۲۵۸۶) مؤمنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے۔ جب جسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے قراری اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

  • کیا  اُمت اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتی ہے؟:پھر، یہ امت اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کے لیے حج کرتی ہے۔ وہ کعبہ (بیت اللہ) کی تعظیم کرتی ہے، سعی، طواف، قربانی اور دیگر مناسک کی تعظیم کرتی ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تعمیل ہو سکے:

ذٰلِكَ۝۰ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ۝۳۲(الحج۲۲:۳۲) اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے، تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔

مسلمان حج اس لیے کرتے ہیں تاکہ اپنے دین کے ساتھ بیعت کی تجدید کریں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو کر مؤمنوں سے دوستی اور دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کریں۔

میں اس امت سے پوچھتا ہوں جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتی ہے، کیا اللہ کے ان شعائر میں سے، جن کی تعظیم واجب ہے، مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت اور اسے غاصب صہیونیوں سے آزاد کرانا شامل نہیں؟ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا نقطۂ قیام نہیں ہے؟ کیا یہ مسلمانوں کا قبلہ اول نہیں ہے؟ اگر امت اپنے رب کے شعائر کی تعظیم نہیں کرتی، تو وہ حج کے مفاہیم کو کیسے پاسکتی ہے؟

یقیناً شعائر کی تعظیم صرف اس کنکری کی جسامت تک محدود نہیں جو ہم شیطان کو مارتے ہیں، اور نہ اس بال تک محدود ہے جو حاجی کے سر سے اتفاقاً گر جائے، اور نہ اس چیونٹی کے خون کی نازک ذمہ داری تک محدود ہے جو حاجی کے پاؤں تلے آ جائے! بلکہ اللہ کے شعائر کی تعظیم مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں مضمر ہے۔

وہ مسلمان جسے قتل کیا جاتا ہے، جس پر بمباری ہوتی ہے، جس کی عزت و قدر پامال کی جاتی ہے اور جسے اس کے گھر سے بے دخل کیا جاتا ہے، وہ اس کعبہ سے زیادہ عظیم ہے جس کا تم طواف کرتے ہو۔ یہی وہ بات ہے جو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا:

مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَلَحُرْمَةُ الْمُسْلِمِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْكِ (ترمذی: ۲۰۳۲، ابن ماجہ:۳۹۳۲، ابن حبان:۵۷۶۳)تُو کتنا عظیم ہے اور تیری حُرمت کتنی عظیم ہے! لیکن ایک مسلمان کی حرمت اللہ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ عظیم ہے!

  • اہل ایمان سے سچّی وابستگی کا اظہار؟:مسلمان اپنے دین، اللہ کی کتاب، اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ساتھ بیعت کی تجدید کے لیے حج کرتے ہیں، اور مومنین سے وفاداری اور انسانوں و جنوں میں سے شیطان کے چیلوں (کفار) سے دشمنی کے ذریعے مسلمانوں کے گروہ سے اپنی سچی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ شیطان سے لڑنا سیکھنے کے لیے حج کرتے ہیں، جہاں وہ اسے کنکریاں مارنا، اور اس سے اور اس کے گروہ سے دشمنی اور علیحدگی کا اعلان کرنا سیکھتے ہیں۔

میں حیران ہوں کہ کیا امت شیطان سے دشمنی اور جنگ کر رہی ہے؟! افسوس کہ اُمت کی صورتِ حال یہ کہتی ہے کہ: شیطان نے امت میں قیادت کا منصب سنبھال لیا ہے۔ وہ شیطان کے ساتھ اتحاد کرتی ہے، اس کے ساتھ تعلقات استوار کرتی ہے، اور ہر قسم کے رابطے، محبت اور تحائف کے ذریعے اس سے جڑی ہوئی ہے۔ بلکہ شاید ان میں سے کچھ اس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے قتل، مجاہدین کے محاصرے اور پُرامن لوگوں پر حملوں کی سازشیں بھی کرتے ہیں۔

اللہ کے شعائر کی تعظیم ان مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں ہے جنھیں قتل کیا جاتا ہے، جن پر بمباری کی جاتی ہے، جن کی عزّت پامال کی جاتی ہے اور جنھیں ان کے گھروں سے نکالا جاتا ہے۔

امت شیطان سے نہیں لڑ رہی، بلکہ شیطان کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے۔ اس کے منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے، اور مجاہدین و مزاحمت کاروں کے محاصرے میں اس کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے، اور ان لوگوں کو برا بھلا کہہ رہی ہے جو قدس کا دفاع کرتے ہیں اور مسجد اقصیٰ کے لیے لڑتے ہیں۔ دنیا میں شیطانی اتحاد اس بات کی دلیل ہے کہ امت نے مناسکِ حج سے کچھ نہیں سیکھا، اور اس کی اکثریت اپنے مقاصد کو حاصل کیے بغیر مناسک حج ادا کرنے میں لگی رہتی ہے۔

  • کیا اُمت اپنا فرض ادا کر رہی ہے؟:حج ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں، محض خطے، جھنڈے، قبیلے، رنگ اور نسلیں نہیں ہیں۔ بلکہ ہم ایک امت ہیں، اور کوئی عام امت نہیں، بہترین امت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ (اٰل عمٰرن۳:۱۱۰) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

ہم ایک گواہ امت ہیں، پوری انسانیت پر تہذیبی گواہی دینے والی امت، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝۰ۭ (البقرہ۲:۱۴۳ ) اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہو۔

امت کی اس عظمت اور اس کے مقام کے بارے میں، جسے ہم حج کے دوران سیکھتے اور ذہن نشین کرتے ہیں، میں بڑی تکلیف کے ساتھ اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں: کیا ہم اُمت کے حقیقی اجزا کے طور پر نظر آ رہے ہیں؟ کیا ہم امت کی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم امت کے اخلاق، اس کی اقدار، باہمی رحم دلی اور ہمدردی کی تصویر بنے ہوئے ہیں؟

نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلقات منقطع ہیں، جھنڈے جُدا جُدا ہیں، ناموں کی بھرمار ہے، اور لوگ آپس میں دست و گریبان ہیں۔ امت نے اپنے ہی کچھ حصوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کا خون بہایا جا رہا ہے، ان کا مال لوٹا جا رہا ہے، اور انھیں ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے، اور یہ سب پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، جب کہ خیر اور بھائی چارے کی حامل یہ اُمت لہو و لعب، تفریح گاہوں، تقریبوں اور سیر و سیاحت میں مگن ہے۔

بلاشبہ امت حج کے حقیقی معانی سے غافل ہو چکی ہے۔ اسے ضرورت ہے کہ وہ پلٹ کر آئے اور امت مسلمہ ہونے کی اپنی پہچان حاصل کرے۔ تب ہی حج کا اثر مختلف ہوگا، اور عبادات کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ لیکن اگر ہم حج کے مقاصد اور اہداف کو نہ سمجھیں، اور اس عظیم عبادت کی روح کو نہ اپنائیں، تو ہم اب تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ہم حج کیوں کرتے ہیں، اور اللہ نے حج کیوں فرض کیا ہے؟

 دنیا کے مختلف خطوں میں اسلام کو بحیثیت نظامِ زندگی اور نظامِ حیات پیش کرنے والی تحریکات اسلامی میں ایک عالمی فکری یگانگت اور یک جہتی پائی جاتی ہے ۔ مثلاً تحریکات اسلامی اپنی جدوجہد کو کسی خاص خطہ ٔ ارض میں اعلائے کلمۃ الحق تک محدود نہیں سمجھتیں، بلکہ دُنیا میں جہاں بھی دعوتِ دین اور اقامت دین کی جدوجہد ہورہی ہو، وہ اسے اپنی جدوجہد کا حصہ شمار کرتی ہیں۔  

ظاہر ہے کلمۂ حق کا اولین قیام کسی ایک خطۂ ارض پر ہی ہوگا اور وہاں سے دعوت کی شعاعیں دیگر مقامات کو روشن کریں گی ۔گویا کسی ایک ملک میں اقامت دین کی بھرپور جدوجہد کے ساتھ ساتھ تحریکاتِ اسلامی دیگر مقامات پر امت اور تحریک کو درپیش مسائل و مشکلات سے لاتعلق یا غیرمتعلق نہیں رہ سکتیں۔ قرآن کریم کا واضح حکم ہے: وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا۝۰ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا۝۰ۚۙ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا۝۷۵          (النساء۴:۷۵)’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں، اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا، ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی ومددگار پیدا کردے‘‘۔ اس صریح حکم ربانی کی روشنی میں اپنے علاقوں اور بستیوں میں ضعیف اور مظلوم بنادیے جانے والے لوگوں کی امداد اور نجات کے لیے سر گرم ہونا بھی تحریکات اسلامی کا فرضِ منصبی ہے۔ 

اس تناظر میں دیکھا جائے تو غزہ و فلسطین اور ایران پر صہیونی اور امریکی جارحیت، دہشت گردی اور دھونس کو عالمی سطح پر نہ صرف مسلم بلکہ غیرمسلم عوام الناس نے بھی مکمل طور پر رَدّ کردیا ہے۔ گو امریکا پر اعتماد اور بھروسا کرنے والے ممالک کا موقف ان کے عوام سے مختلف ہے۔ تحریکات اسلامی اپنے اصولی موقف کی بنا پر ظلم و استحصال کو رد کرتی ہیں لیکن تحریکی موقف کو واضح اور اصولی بنیادوں پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ رائے عامہ کو ہموار کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر حق کی اصولی حمایت کے موقف کو حکمت اور تدبر کے ساتھ ملک و ملّت کے اجتماعی موقف اور پالیسی میں ڈھالنے کی جدوجہد کی جائے۔ ایسے ممالک جہاں تحریکات اسلامی کو سانس لینے کی آزادی ہے وہاں کی تحریکات کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ امت کے اجتماعی مسائل اور مفادات کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں۔

تحریک اسلامی کے اس کردار کے تناظر میں چند ممکنہ گوشوں کی یہاں نشان دہی کی جارہی ہے:

تحریکات اسلامی : کرنے کے کام 

۱-تنقیدی جائزہ اور تجدیـدِ استقامت :انبیا علیہم السلام کی سیرت کے مطالعے سے پتاچلتا ہے کہ ابتلا اور آزمائش کا ہر دور، دعوتِ توحید کے علَم برداروں کے لیے اپنے ربّ اور مالک پر اعتماد و ایمان میں اضافے کا ذریعہ رہا ہے۔ جس نے ایک مرتبہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کو اپنا رب مان لیا اور پھر اس پر استقامت اختیار کر لی وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوگیا، چاہے اسے اس دنیا میں خاردار راستوں سے ہی گزرنا پڑا ہو اور اس پر پھولوں کی جگہ سنگ ریزوں کی بارش کی گئی ہو۔ تحریکات اسلامی دراصل تجدیدِ ایمان و استقامت کی تحریکات ہیں۔یہ ہر دور میں وہ شمعیں روشن کرتی ہیں، جن کی لَو کفر و ظلم اور استحصال کے اندھیروں میں نُورِ حق کی نوید بن کر ہر وادیٔ عشق میں حکایات سرفروشاں بن جاتی ہیں۔

آج تحریکات اسلامی کو جو مرحلہ درپیش ہے،وہ نیا نہیں ہے۔ اس مرحلے میں جہاں حق کے کلمے کو بلاتردّد اور بلامعذرت بلند کرنا اور حق کے اظہار کے لیے ہر موجود ذریعۂ ابلاغ کا استعمال کرنا ایک فریضہ ہے، وہاں ایک روشن مستقبل کے قیام کے لیے نوجوانوں میں عزمِ نو کے ساتھ حق و صداقت کے غلبہ پر یقین کو مستحکم کیا جانا بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ استقامت و عزیمت کے جو مراحل ماضی میں پیش آتے رہے ہیں، ان کے تذکرے اور یاد دہانی کے ذریعے ہر تعلیم گاہ میں حق و باطل کی کش مکش پر شعور و آگاہی کے لیے سرگرمیاں منعقد کی جائیں۔ یہ سرگرمیاں محض ردِعمل اور غم و غصہ کے اظہار پر مبنی نہ ہوں بلکہ تنقیدی جائزہ لے کر مستقبل کا نقشۂ کار زیر غور لایا جائے اور اس کے لیے موجودہ وسائل کے بہترین تزویراتی استعمال کی منصوبہ سازی پر غوروفکر کیا جائے۔ فکر و عمل میں یکجائی ہی حصولِ منزل کا ذریعہ ہوتی ہے۔

 ۲-طویل مدت حکمت عملی :آج کا یہ معرکہ محض آلاتِ حرب کا معرکہ نہیں ہے بلکہ علم اور فنی ترقی میں نقطۂ کمال کا مقابلہ ہے ۔ مصنوعی ذہانت ہو یا تیر بہدف ڈرون کا استعمال، جو ایجادات میں ماہرانہ فوقیت حاصل کرے گا، وہ ظلم و استحصال کو بہتر طور پر روک سکے گا ۔ اس لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جدید علوم میں مہارت اور علم کے تطبیقی پہلوؤں پر عبور حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کو آمادہ کرنا اور ان کو اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرنا ایک تحریکی ضرورت ہے۔

آج سے پانچ یا دس سال بعد اور ایسے ہی پچاس سال بعد ہم تحریک کی دعوت، اس کی اثرانگیزی اور اس کے مقاصد کے حصول کو کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ قابلِ عمل فکری، علمی اور عملی منصوبے کی تیاری اور اس کی بنیادوں کو ہموار کرنا بنیادی ضرورت ہے۔ تحریک کی کامیابی کا انحصار کلمۂ حق پر مبنی راست فکر سے متصف افرادِ کار کی تیاری اور اسلام کی جامع تعلیمات کی روشنی میں سیرت و کردار سازی کے ذریعے افرادی قوت کی فراہمی پر ہوتا ہے ۔ عوام الناس خصوصاً نوجوانوں کی سیرت و کردار کی تربیت میں جوش سے زیادہ ہوش کے عنصر کی شمولیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔ 

اس سارے عمل میں قرآن و سنت کے درست، گہرے اور جامع فہم کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔قرآن و سنت سے زندہ تعلق سے تقویٰ اور تفقہ کی وہ کیفیات نشوونما پاتی ہیں جن کے نتیجے میں اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے ۔اس بات کو پورے شرح صدر سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک یہ طرز فکروعمل موجود نہ ہو اللہ کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا ۔ قرآن و سنت میں موجود جامع تحریکی فکر سے سے متعلق نصوص سے مسلسل تعلق اور اس کی تذکیر کامیابی کی شرائط میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے ۔

۳-تحریک کی اصل بنیاد :تحریکات اسلامی کی حقیقی بنیاد ان کا وہ انسانی سرمایہ ہے جو فکری، علمی، عملی اور جذباتی لحاظ سے دعوت دین کو یکسوئی کے ساتھ اختیار کر چکا ہو ۔ یہ کام صرف سیاسی قوت کے اظہار کے طور طریقے اختیار کرنے سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے محنت اور سنجیدگی کے ساتھ قرآن و سنت میں مسلسل غوروفکر اور تدبر و تفقہ کے لیے  تحریکی لٹریچر کا مسلسل مطالعہ اور زندگی کے مختلف دائروں میں مرتب ہونے والے یا نہ ہونے والے اس کے اثرات کا مسلسل جائزہ ضروری ہے۔ کیونکہ تحریکی فکر کا عکس کارکن کے معاملات میں ہونا لازمی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو فکر ابھی تک دل و دماغ میں جاگزیں نہیں ہوئی اور اس پر فوری توجہ اور احتساب کرنا ایک اہم اسلامی فریضہ ہے۔ کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اجتماعی احوال و معاملات کی اصلاح کے لیے نظم کو مسلسل آگاہ کرتے رہیں اور نظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکنان کی توجہات پر سنجیدہ اور فوری توجہ دے ۔

۴- ابلیسی حربوں سے آگاہی : اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے استعانت (مدد مانگنا) اور استعاذہ (پناہ مانگنا) کے ساتھ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ شیطان کن کن راستوں سے اہل حق کی منزل کو کھوٹا کرسکتا ہے۔ وہ نہ صرف عریانی اور فحاشی بلکہ اکثر اوقات گوناگوں بدعات کو دبے پائوں تحریکاتِ اسلامی میں داخل کرا دیتا ہے۔ اور اگر تحریکات ایسے انحرافا ت کو معمولی بھول چوک یا وقتی تقاضا سمجھ کر گوارا کر لیں تو پھر خرابی کے دَر آنے کا راستہ آسان ہو جاتا ہے ۔ اس لیے ہر بدعت سے شعوری طور پر بچنا اور عصری اثرات سے متاثر ہونے کے بجائے عصر حاضر پر اپنا اثر ڈالنا تحریک کی اصل حکمت عملی ہے۔

۵-تحریکی فکر اور اجتماعی شعور:دعوتی نقطۂ نگاہ سے ہر چیلنج تحریک کے لیے نئے امکانات فراہم کرتا ہے۔ اس وقت تحریکات اسلامی کی ضرورت ہے کہ وہ امت کے نوجوانوں میں اپنے اہداف اور کاموں اور سرگرمیوں کو صرف سامراج کا نشانہ بننے والے مسلم علاقوں پر مسلط جنگ کے بادلوں میں ہی روپوش نہ ہوجانے دیں بلکہ تمام علاقائی، نسلی و گروہی تفریقات اور تعصبات کے خاتمے کے لیے اُمت مسلمہ اور پوری انسانیت خصوصاً نوجوانوں کو قرآن و سنت کی آفاقی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے مؤثر فکری و عملی منصوبہ بندی کریں اور اس پر عمل پیرا ہوکر اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ 

ایک منظم منصوبے کے تحت قومیت اور فرقہ پرستی کے خاتمے اور اسلام کی آفاقی دعوت کو عام کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI)کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ رنگ، نسل ، قومیت اور فرقہ پرستی کی مصنوعی تفریق اورجاہلی تصورات کو دین اسلام کی مثبت اور تعمیری فکر کے ذریعے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل میں تعصب اور لسانی قومیت کی بنیاد پر برپاکی جانے والی ابلیسی چال کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔ اُمت مسلمہ کو جسدِ واحد کی طرح تمام سامراجی طاقتوں کے خلاف منظم و متحد کرنے کا کام صرف تحریکات اسلامی ہی کر سکتی ہیں۔ انھیں اس اصلاحی کام پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں پائے جانے والے تعصبات کو دین اسلام کی جامع تعلیمات کی بنیاد پر ختم کیا جاسکے ۔ 

۶- حق کی بلاجھجک حمایت: قرآن کریم سورۂ حجرات میں واضح حکم دیتا ہے کہ جب اہل ایمان کے درمیان کوئی تنازع ہو تو معروضی طور پر یہ دیکھو کہ ظالم کون ہے اور پھر حدیث نبویؐ کی روشنی میں ’’مظلوم کا ساتھ دو اور ظالم کو ظلم سے روک دو‘‘۔آج اُمت مسلمہ جن حالات سے دوچار ہے، اس میں دلوں کو جوڑنے اور تعصبات سے مکمل طور پر نکل کر حق کی حمایت اور یہود و نصاریٰ کے لشکروں کا ردّ تحریک کی ضرورت ہے ۔یہ کام وہی کر سکتا ہے، جو مسلکی تعصبات سے بلند ہوکر قرآن و سنت کے اصولی موقف پر عامل ہو ۔امت مسلمہ کا اتحاد اور حدیث مبارک کی روشنی میں الدِّیْن نَصِیْحَۃٌ کا فریضہ تحریکات اسلامی ہی ادا کر رہی ہیں۔ انھیں اس بھلائی اور اصلاح (فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ) کے کام میں تساہل نہیں برتنا چاہیے۔ اسلام وسعتِ قلبی اور فراخ دلی، نرمی، رواداری، فیاضی اور عالی ظرفی کا نام ہے اور اس کی عملی مثال اگر کوئی اس دور میں قائم کرسکتا ہے، تو وہ بلامبالغہ صرف تحریکات اسلامی ہیں اور جن سے اس میدان میں مزید پیش رفت کی توقع کی جاتی ہے۔ 

۷- حقیقی بیرونی دشمن : صہیونی اور امریکی استعماریت اور سفاکیت کے مظاہرے نے یہ حقیقت کھول کر رکھ دی ہے کہ اسلام دشمنی اور مسلم ممالک کے قدرتی ذخائر پر قوت اور جبر کے ذریعے قابض ہونا ان کے خیال میں نہ انسانی حقوق کی پامالی ہے ،نہ حقِ خود اختیاری کی خلاف ورزی ہے اور نہ’تبدیلی حکومت‘(Regime Change) متاثرہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور متاثرہ ملک کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ہے، بلکہ عسکری اور معلوماتی برتری رکھنے والے’عالمی کوتوال‘ کا حق ہے! بیرونی دشمن کا چہرہ غزہ اور فلسطین میں قتل عام اور ایران پر ظالمانہ جارحانہ چڑھائی سے بے نقاب ہوچکا ہے، لیکن اگر کوئی تعصب کا شکار ہوکر عقل کے دروازے خود بند کر لے، تو خطرناک نتائج کی ذمہ داری کسی بیرونی دشمن پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ اگر کوئی خود ہی اپنا دشمن بن کر حقائق سے نظریںچُرانے کا رویہ اختیار کرے ، تواسے کون اپنی تباہی سے بچاسکتا ہے!

۸-قومیت پرستی کا بت: مسلم ممالک کو یک جہتی سے دُور کرنے اور اُمت میں لسانی اور قبائلی قومیتوں کو ابھارنے میں اوّلاً یورپ نے اپنا کردار ادا کیا اور فرانس اور برطانوی سامراج نے عربوں کو اپنی حمایت کا یقین د لا کر سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا۔یورپی اقوام کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں جغرافیائی بنیاد پر سعودی ،عراقی، شامی، لبنانی، سوڈانی، کویتی ودیگر قومیتوں کا ظہور ہوا۔ خلیجی ریاستوں میں معمولی لہجوں کے فرق کے ساتھ بنیادی طور پر عربی مشترک زبان ہے۔ اس کو بنیاد بناکراس خطے میں عرب قومیت کو ایمان کی حد تک راسخ کر دیا گیا ۔چنانچہ عربی کا عام قول ہے: حُبُّ الوطن من الإيمان، اس مقولہ کو عموماً حدیث بنا کر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ حب الوطنی ایمان کی علامت ہے۔ یہ ایک بے بنیاد خلاف ِ اسلام محاورہ ہے ۔اسلام نے علاقائی، لسانی اور نسلی وطنیت کے بتوں کو توڑ کر صرف اور صرف تقویٰ اور ایمان کی بنیاد پر عرب و عجم کو یکجا کر دیا تھا۔ اس قومیت پرستی اور فرقہ پرستی کے زہر میں اضافہ، ایران عراق جنگ اور بعد ازاں عراق اور کویت کے تنازع سے ہوا۔ اب اس تاریخ کو دہراتے ہوئے صہیونیت اور امریکی سامراجیت، خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مسلکی اختلاف کو ہوا دے کر نفرت اور دشمنی کی فضا پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہیں۔ 

اسلام کا یہ امتیاز ہے کہ وہ فقہی معاملات میں تعبیر اور اختلاف کی گنجائش رکھتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے آراء کے اختلاف کے باوجود جسے حدیث نبویؐ میں امت کے لیے رحمت کہا گیا ، ایک دوسرےکے اکرام کی جو مثال قائم کی ، وہ ہمیں اعلیٰ رہنمائی فراہم کرتی ہے۔جب حضرت عثمانؓ  کے گھر کا محاصرہ کوفہ سے آئے باغیوں نے کیا تو حضرت علیؓ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو آپ کے گھر پر پہرہ دینے کے لیے مامور فرمایا۔شیطان کے آزمودہ حربوں میں سے ایک نہایت مہلک حربہ عصبیت ہے۔ شیطان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں بھی انصار اور مہاجرین کے درمیان ایک معمولی سی بات پر اس فتنہ کو اس حد تک ابھارا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف تقریباً صف آرا ہو گئے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریف لا کر اس فتنہ کو ختم کرانا پڑا۔ 

آج تحریک اسلامی کا اہم فریضہ ہے کہ وہ اسلامی اخوت اور ایمانی یگانگت کے سفیرکی حیثیت سے مسلم امت کو مسلکی اختلافات کی تنگ نظری سے نکلنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے اور مشترکہ دشمن صہیونیت اور امریکی سامراج کی سازشوں اور چال بازیوں کو کامیاب نہ ہونے دے۔

۹-  صحیح شعور و آگاہی سے روشناسی : صدیوں کے تعصبات ، افواہوں اور گمان پر مبنی تصورات امت مسلمہ کی ایک بڑی نیم خواندہ آبادی میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ شیطانی حکمت عملی یہی ہے کہ مسلکی اختلافات کو ہلکا نہ پڑنے دیا جائے اور ان میں مسلسل اضافہ ہو، حتیٰ کہ ٹکراؤ اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو جائے ۔ تحریکات اسلامی ہی وہ قوت ہیں جو رنگ ، نسل ، فرقے اور وطنیت کے متعصبانہ فتنوں کو فرو کرنے اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اُمت مسلمہ کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تحریک کی وسعت اور مختلف ذیلی تربیتی حلقوں کے تربیتی نظام میں کمزوری کے باعث خود تحریکی حلقوں میں بھی بعض ایسے کارکنان موجود ہوتے ہیں جو تحریک کے مزاج کے برعکس سوشل میڈیا پرفرقہ ورانہ موشگافیوں پر مبنی مواد اور فکر کی تشہیر میں مصروف رہتے ہیں۔ تحریک کی ہر سطح کی قیادت کو ایسے کارکنان کی تربیت کی فکر کرنی چاہیے۔ پاکستان کے تناظر میں تحریک اسلامی نے ملّی یک جہتی کونسل اسی غرض سے قائم کی تھی کہ انتشار و افتراق کی ابلیسی حکمت عملی کو ناکام بناکر پاکستان میں اُمت مسلمہ کی وحدت اور باہمی اتحاد و محبت میں اضافہ کا ذریعہ بنایا جائے۔ مسلکی اور فرقہ ورانہ تعصبات میں کمی لانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ عوامی سطح پر تحریک اسلامی اپنے ممبران کو متحرک کر کے ملک گیر پیمانے پر باہمی رواداری اور یک جہتی کی فضا قائم کرسکتی ہے ۔یہ وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔

بیماریاں اور مصیبتیں زندگی کے ساتھ ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ انسان دُنیا میں آئے اور ساری زندگی عیش و آرام میں گزارے، اور اسے کسی بیماری اور کسی مصیبت سے واسطہ اور سابقہ نہ پڑے۔ یہ سمجھنا کہ ہربیماری کسی نہ کسی گناہ کی سزا ہوتی ہے، کسی طرح بھی درست نہیں۔ اس کے برعکس ان ہی لوگوں کو اللہ ربّ العزت کسی نہ کسی بیماری اور مصیبت میں مبتلا کرتے ہیں جو اپنے دل میں اپنے خالق و مالک کی سچی محبت رکھتے ہیں اور جو نمازوں اور اطاعت ِ خداوندی کے پابند ہوتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ اللہ ربّ العزت ان بندوں کا امتحان لیتے ہیں اور انھیں ہی آزمائش میں ڈالتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی محبت و اطاعت کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر ایسے لوگوں کو نصیحت کی گئی ہے، کہ اگر تم اللہ کی محبت میں سچے ہو تو جب مصیبت پڑے صبر کرو اور نماز سے مدد لو۔ پریشانیاں آئیں تو حوصلے سے انھیں برداشت کرو۔ یہ مصیبتیں اور پریشانیاں ہمیشہ نہیں رہتیں۔ ایک وقت آتا ہے جب اللہ ربّ العزت اپنے پسندیدہ بندوں کو ایسے امتحانوں اور آزمائشوں سے بَری کر دیتے ہیں، اور نہ بھی کریں تو ان کا مقام اللہ کی نظر میں بہت بلند ہوجاتا ہے اور آخرت میں ان کا اجر وانعام انسانی تصور سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

ہم سب نے سن یا پڑھ رکھا ہے کہ دُنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں انسانوں کو اللہ کریم نے اس لیے بھیجا ہے کہ وہ اپنے بندوں کا امتحان لے اور ان کی آزمائش کے ذریعے یہ دیکھے کہ کتنے بندے ہیں، جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت اور اطاعت میں سچّے ہیں۔ بلاشبہ کم ہی لوگ ایسے ہیں کہ جب ان پر مصیبت پڑے تو وہ صبر اور نماز سے مدد لے کر ایسے امتحان میں خود کو سرخرو کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شعوری طور پر اس امتحان و آزمائش کو نہیں سمجھ پائے۔ وہ اسے اپنی کم بختی اور حرماں نصیبی گردانتے ہیں، اور جب خدا سے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے ہیں تو شکوے شکایت کا دفتر کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مشکل سے ایک فی صد لوگ ہی ایسے ہوں گے، جو دُعا میں یہ کہتے ہوں کہ ’’اے پاک پروردگار! میں جس مصیبت میں گرفتار کیا گیا ہوں، اس امتحان و آزمائش میں تُو مجھے صبر کی نعمت عطا کر اور مجھے اس امتحان میں سرخرو کر۔ بے شک میں کمزور و ناتواں ہوں اور اتنی ہمت نہیں رکھتا کہ اگر تُو مجھے توفیق نہ دے تو میں خود سے اس امتحان میں پامردی کا مظاہرہ کرسکوں۔ تُو میری مجبوری کو جانتا ہے۔ اگر تُو نے مجھے ایک آزمائش میں ڈالا ہے، تو اس آزمائش میں مجھے صبر اور ہمت دے اور مجھے وہ نماز عطا کر جس سے طاقت و توانائی کشید کر کے اس امتحان و آزمائش میں، مَیں خود کو سرخرو کرسکوں‘‘۔ ایسی دُعا وہی بندہ مانگ سکتا ہے، جو دُنیا کی حقیقت کو سمجھتا ہے اور اس دُنیا میں آنے والے مصائب کی حقیقت کو بھی جانتا ہو۔ قرآن پاک میں اور احادیثِ مبارکہ میں اس حقیقت کو کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نہ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنے کے عادی ہیں اور نہ احادیث ِ مبارکہ سے حقیقی معنوں میں مستفید ہونے کی توفیق رکھتے ہیں۔

کسی بھی مصیبت، بیماری یا پریشانی سے نمٹنے کا ایک سادہ سا طریقہ تو یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت ہم پر پڑے تو ہم گردوپیش پہ نظر دوڑا کر یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ کیا یہ مصیبت ایسی ہے جس سے صرف میرا ہی واسطہ پڑا ہے یا میرے علاوہ دوسرے بھی ایسے ہی مصائب میں گرفتار ہیں؟ جب ہم دوسروں کے حالات و واقعات پر نظر دوڑائیں گے، تو پتہ چلے گا کہ مصیبت تنہا مجھ ہی پر نہیں ٹوٹی، ہر دوسرا فرد ایسی ہی کسی نہ کسی پریشانی میں گرفتار ہے۔ اور بعض تو ایسے ہیں جن کی مصیبت کے سامنے میری اپنی مصیبت ہیچ ہے، اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اس موازنے سے ہماری نفسیاتی تسلّی ہوجائے گی اور یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور نمازو تلاوت ہی وہ طریقے ہیں، جن کے اختیار کرنے سے ہمیں صبروسکون کی نعمت مل سکتی ہے۔

اپنی مصیبتوں اور پریشانیوں کو جھیلتے ہوئے ہمیں ضرور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ دُنیا کی ہرمصیبت و پریشانی وقتی اور عارضی ہے۔ اور یہ مصیبت و پریشانی اس لیے لاحق ہوئی ہے کہ خداوندتعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ جس بندے کو اس نے امتحان میں ڈالا ہے، اس کا ردّعمل کیسا ہے؟ کیا وہ ہرحال میں خدا کا شکرگزار ہے یا شکرگزاری کے بجائے شکوہ شکایات اور داد و فریاد ہی میں مگن اور گلہ مند ہے۔ قرآن پاک کی سورئہ ملک پڑھتے ہیں تو اس میں بہت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ خداوند تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بندہ دُنیا میں کیسے اعمال کر کے واپس اپنے ربّ کے پاس آتا ہے؟ انسان دُنیا میں بہت مختصر وقت کے لیے آیا ہے۔ پچاس ساٹھ برس تو پلک جھپکتے گزر جاتے ہیں۔ انسان زیادہ سے زیادہ ۷۰، ۷۵ یا ۸۰ برس تک زندہ رہتا ہے۔ اتنے مختصر سے وقت کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ہمیشگی کے لیے ہے۔ یہ ہمیشگی کی زندگی جس میں ایمان اور نیک اعمال کی جزا جنّت ہے، جہاں انسان کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہے اور یہ زندگی عیش و طرب کی زندگی ہوگی، تو اگر اس ہمیشگی کی زندگی کی خاطر دُنیا میں کچھ مصیبتیں انسان صبروشکر کے ساتھ سہ لے، برداشت کرلے تو آخرت میں اس کا اجروانعام وہ ہمیشہ کی جنّت ہے، جس میں پہنچ کر دُنیا میں اُٹھائی گئی ہرمصیبت و پریشانی کی تلافی ہوجائے گی، بلکہ انسان یہ سوچنے میں حق بجانب ہوگا کہ جنّت کے عیش و طرب کے مقابلے میں دُنیا کی مصیبتیں تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔

ہم دُنیا کے مصائب کو اپنے لیے کیوں ایک پہاڑ سمجھتے ہیں اور کیوں ہمیں صبر نہیں آتا؟ اس کی وجہ یہ ہے: آخرت کی نعمتوں پر ہمارا یقین و اعتبار محکم نہیں ہے۔ جو تکلیف ہمیں دُنیا میں لاحق ہوتی ہے وہ حقیقی ہوتی ہے اور آخرت کی جنّت محض ایک خوش خبری ہے، ایک اُمیدافزا اطلاع ہے جو ہمارے وجود میں کوئی تحریک پیدا نہیں کرتی۔ موت یقینی حقیقت ہونے کے باوجود انسان موت کی حقیقت کو صدقِ دل کے ساتھ محسوس نہیں کرتا، تاوقتیکہ کوئی مہلک بیماری ہمیں دبوچ نہ لے یا کسی قریبی عزیز یا دوست کی موت ہمیں جھنجھوڑ کر نہ رکھ دے۔ ایسا ہونا فطری ہے۔ خدا نے اگر موت کے خوف کو ہمارے اندر راسخ کر دیا ہوتا، تو دُنیا کی رونقیں ماند پڑجاتیں۔ زندگی کی گہماگہمی پر اوس پڑجاتی اور انسان موت کے خوف میں ہمہ وقت مبتلا ہوکر زندگی کی لذتوں، مسرتوں اور تگ و دو سے کنارہ کش ہوجاتا۔ اس لیے خبردار کرکے، یہ قدرت ہی کا انتظام ہے کہ آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑا رہتا ہے۔ یہ پردہ اچانک اس وقت آنکھوں سے چند لمحوں کے لیے ہٹ جاتا ہے، جب ہمیں ناگہانی طور پر موت کے مشاہدے سے دوچار ہونا پڑجائے۔ یہ کیفیت بھی عارضی اور لمحاتی ہوتی ہے۔ انسان بہت جلد اس کیفیت سے نکل کر ’نارمل‘ ہوجاتا ہے، تاکہ وہ زندگی کی جدوجہد اور بھاگ دوڑ میں شریک ہوسکے۔ احادیث میں یہ جو اہل ایمان کو قبرستان میں جاتے رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ زندگی کی رنگینیوں اور ہمہ ہمی میں گم ہوکر موت کو فراموش نہ کربیٹھیں۔گناہوں کی کثرت کا سبب اس کے سوا اور کیا ہے کہ انسان اپنے آخری انجام یعنی موت کو بھلا بیٹھتا ہے اور اس زندگی کو آخری اور حتمی سمجھ بیٹھتا ہے۔ بزرگوں کی صحبت اور علم سے رجوع کرنے کی اہمیت اسی لیے ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو فراموش نہ کردے، دُنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ نہ سمجھ بیٹھے۔ جب تک انسان کے باطن میں خوفِ خدا اور جواب دہی کا احساس نہ ہوگا اسے گناہ سے روکنے کا محرک کوئی اور چیز نہیں ہوگی۔ 

معاشرے میں اگر حلال و حرام کی تمیز اُٹھ جانے، بدعنوانیوں کی کثرت، ایک دوسرے کا حق مارنے، حسد، نفرت اور جھوٹ، جیسی بُرائیوں کا خفیف سا احساس بھی زندہ نہیں رہتا۔یہ غفلت اور بے حسی اکثر اوقات مصائب کا سبب بن جاتی ہے اور اگر اس دُنیا میں پکڑ نہ ہو تو آخرت میں ضرور اس کی سزا مل کر رہے گی۔ یہ سمجھ کر گناہوں پر دلیر ہو جانا کہ روزِمحشر شفاعت ہوجائے گی اور ہم محض کلمہ گو ہونے کی وجہ سے داخلِ جنّت کر دیے جائیں گے اور سارے گناہ بخش دیے جائیں گے، ایسی خوش گمانی خداوند تعالیٰ کو اور غضب دلانے والی ہوگی، کیوں کہ شفاعت بھی گنہگاروں کے گناہ کرنے کا کھلا لائسنس ہرگز نہیں ہوگا۔ شفاعت اسی کی ہوگی، جس کی اجازت اللہ ربّ العزت دے گا۔ دُنیا میں ایک آدمی اللہ کے خوف سے بے پروا ہوکر بدمعاملگی کرے اور یہ اُمید رکھے کہ اس کے گناہ آسانی سے بخش دیئے جائیں گے، اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوگی؟

اس لیے ایک مسلمان کو دُنیا کی زندگی میں احتیاط برتتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم اُٹھانا چاہیے، اور خدا کے عدل و انصاف سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ گناہوں میں بے شک سب سے بڑا گناہ غفلت ہے بلکہ اکثر گناہوں کا منبع ہی غفلت ہے، جس سے ہرحال میں بچنا اور چوکنّا رہنا چاہیے۔ اور استغفار کا ورد کرتے رہنا چاہیے اور نمازوں میں خداوند تعالیٰ سے نیکیوں کی توفیق اور گناہوں سے پرہیز کی دُعا مانگتے رہنا چاہیے۔ دل میں خدا کا اگر سچا خوف ہو، تو خود خدا بندے کی حفاظت کرتا ہے اور اسے ارتکابِ گناہ سے روک دیتا ہے۔ پس، اللہ کی یاد، اس کا خوف اور اس کی محبت ہی وہ نعمتیں ہیں، جو ہرمصیبت میں سہارا بنتی ہیں اور پریشانیوں میں ثابت قدم رکھتی ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے ہماری اعلیٰ عدلیہ نے نکاح، طلاق اور وراثت سے متعلق امور میں کچھ ایسے فیصلوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن کے ذریعے خاندان اور معاشرے کی ساخت میں دُوررس تبدیلیاں واقع ہونے کا امکان ہے۔ 

مثال کے طور پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سیّدمنصور علی شاہ نے نفقہ اور بچے کی حضانت جیسے مسئلوں پر بعض ایسے فیصلے کیے جن کی بنیاد اسلامی قانون کےاصولوں پر نہیں تھی، بلکہ انھوں نے بعض بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے مسلمانوں کے شخصی قانون میں سمونے کی کوشش کی[مثلاً دیکھیے: محمد نواز بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ (PLD  ۲۰۲۳ء سپریم کورٹ ۴۶۱)، ڈاکٹر محمد آصف بنام ڈاکٹر ثنا ستار (CRP  ۴۵۸ بابت ۲۰۲۴ء)]۔ اسی طرح سپریم کورٹ میں یہ رجحان جسٹس عائشہ ملک اور سابق جج جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلوں میں بھی نظر آتا ہے۔ [مسماۃ فاخرہ جبین بنام واصف علی (CPLA  ۷۶۸ بابت ۲۰۲۲ء)، راجا محمد اویس بنام مسماۃ نازیہ جبین (SCMR   ۲۱۲۳، بابت۲۰۲۲ء)]۔ 

ان فیصلوں میں پاکستان کے قانونی نظام کے یہ مسلّمہ اصول نظرانداز کیے گئے ہیں کہ: ’بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو پاکستان کی عدالتیں اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتیں، جب تک ان دفعات کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے قانون کا حصہ نہ بنایا جائے‘ اور یہ کہ ’جب ایسی قانون سازی ہو جائے تو اس کے بعد بھی اس قانون کی ایسی تعبیر لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو‘۔ 

یہ رجحان صرف سپریم کورٹ میں ہی نہیں بلکہ عدالت ہائے عالیہ کے کئی جج اسی نہج پر فیصلے دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۲۰۲۲ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ایک مقدمے میں کم عمری کے نکاح کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر جنسی تشدد (rape) کے قانون کا بھی اطلاق کردیا اور ایسا کرتے ہوئے فاضل جج نے اسلامی جمہوریہ میں ایک مسلم جوڑے کے نکاح پر انگریزی قانونِ عقد کے اصولوں کا اطلاق کیا[ مسماۃ ممتاز بی بی بنام قاسم (PLD   ۲۰۲۲ اسلام آباد ۲۲۸)

 اس فیصلے کے بعد وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک کمیٹی بنائی جس میں مجھے بھی شامل کیا گیا۔ میں نے اپنے تفصیلی تجزیے میں یہ رائے پیش کی کہ آئین و قانون کے بنیادی اصول نظر انداز کرنے کی بنا پر اس فیصلے کو ’لازمی نظیر‘ کی حیثیت حاصل نہیں ہے، نیز اس موضوع پر عدالت ہائے عالیہ کی جانب سے باہم متعارض فیصلوں کی بنا پر کسی ایک فیصلے پر عمل درآمد ممکن بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے اس موضوع پر تفصیلی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ میری ان دونوں تجاویز کو کمیٹی نے اپنی سفارشات میں شامل تو ضرور کیا، مگر یہ معاملہ یہاں پر نہیں رُکا۔ 

خاندانی نظام کی تبدیلی کےلیے منظّم کوشش 

مسلم عائلی قوانین میں دوررس تبدیلیوں کےلیے ایک ہمہ جہتی اور منظّم کوشش جاری ہے۔ چنانچہ لاہور ہائی کورٹ میں عائلی امور کے متعلق بعض مقدمات میں ایک جانب یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ ’نکاح نامے میں ’مہر‘ اور ’نفقہ‘ کے متعلق بعض اضافے کیے جائیں تو اس کے نتیجے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف یہ درخواست بھی کی گئی کہ میاں بیوی کے درمیان ’شادی کے اثاثوں‘ کی ’منصفانہ تقسیم‘ کےلیے حکومت کو قانون سازی کا کہا جائے۔ 

ایسے ہی ایک مقدمے میں جسٹس جواد حسن نے کئی ’عدالتی معاونین‘ کو سننے کے بعد ۲۰۲۵ء میں ایک کمیٹی بنائی اور وفاقی وزارتِ قانون کو حکم دیا کہ وہ اس کمیٹی کے اجلاس منعقد کروانے کے بعد اس کی سفارشات عدالت میں پیش کرے [مسماۃ صائمہ شفیع بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج (رٹ درخواست نمبر ۵۲۶ بابت ۲۰۲۱ء) ]۔ انھوں نے وفاقی وزارتِ قانون کے سیکرٹری کو کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور صوبہ پنجاب کی وزارتِ قانون کے سیکرٹری، اسلامی نظریاتی کونسل، خواتین کی حیثیت پر قومی کمیشن، پاکستان بار کونسل اور ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب کے ادارے کے نمائندوں کے علاوہ مجھے بھی ارکان میں شامل کیا، نیز حکم دیا کہ ایک رکن ’سول سوسائٹی‘ سے لیا جائے۔ کمیٹی کے سربراہ نے اس مقصد کےلیے ’مساوی‘ نام کی غیر سرکاری تنظیم سے نمائندہ چنا [مساوی کی ویب سائٹ (www.musawi.org) کے مطابق: ’’یہ ایک خودمختار تنظیم ہے، جو شواہد پر مبنی قانونی اور پالیسی اصلاحات کو فروغ دیتی ہے تاکہ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکے]۔ 

اس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں معلوم ہوا کہ ’شادی کے اثاثوں‘ کے مسئلے پر جناب سینیٹر علی ظفر نے پہلے ہی سینیٹ میں ایک مسودۂ قانون پیش کیا ہوا تھا جسے سٹینڈنگ کمیٹی نے منظور نہیں کیا تھا۔ اب اسی مسودے کو ہائی کورٹ کی بنائی ہوئی اس کمیٹی کے ذریعے منظور کرانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سے زیادہ گفتگو وہ وکلا کررہے تھے، جو ہائی کورٹ کے سامنے مقدمات میں اپنے موکلوں کی نمائندگی کررہے تھے۔ اس پر میں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کمیٹی کے سربراہ سے کہا کہ وہ یقینی بنائیں کہ گفتگو کمیٹی کے ارکان ہی کریں، اور جہاں دیگر افرادگفتگو کرنا چاہیں، تو وہ اجازت لے کر بات کریں۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی، لیکن دوسرے اجلاس میں بھی معاملہ اسی طرح چلتا رہا۔ اس پر میں نے اپنے تحفظات تحریری صورت میں پیش کیے اور اس کے بعد کمیٹی کا اجلاس تا حال نہیں ہوسکا۔  

اس دوران میں ’شادی کے اثاثوں‘ کے متعلق ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ دیا اور حکومت کو ’سفارش‘ کی کہ وہ باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے شادی کے بعد بیوی کو شوہر کی جائیداد اور اثاثوں میں شریک قرار دے کر ’منصفانہ حصہ‘ دلوائے[ مسماۃ عمارہ وقاص بنام وقاص رشید (رٹ درخواست ۳۶۵ بابت ۲۰۲۳ء)]۔ اس نتیجے تک پہنچنے کےلیے فاضل جج نے عدالت کی معاونت کی ذمہ داری پھر مذکورہ بالااین جی او ’مساوی‘ نامی تنظیم ہی کو دی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس منصور نے جس فیصلے میں نفقہ کے متعلق اسلامی قانون کے اصول نظرانداز کیے، اس میں بھی انھوں نے عدالتی معاون کی ذمہ داری اسی تنظیم کو سونپی تھی۔ یہ رویے دیکھ کر، اس احساس اور خیال کو تقویت پہنچتی ہے کہ ایسے فیصلوں کے پیچھے منظّم جدوجہد اور لابنگ کارفرما ہوتی ہے، جب کہ ہمارا مذہبی طبقہ عموماً سانپ کے گزر جانے کے بعد ردعمل میں محض لکیر پیٹتا ہی رہ جاتا ہے۔

عائلی قوانین کے نظام کا بنیادی مسئلہ

پاکستان میں عائلی نظام کی ’عدالتی انجینئرنگ‘ اتنی آسانی سے کیوں ممکن ہوجاتی ہے؟ اس سوال کے جواب کےلیے ذرا پیچھے جا کر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دورِ غلامی میں انگریزوں نے یہ نظام کن بنیادوں پر قائم کیا تھا اور اُن کے چلے جانے کے تقریباً ۸۰ برس بعد اب یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟ 

انگریزوں نے جب برصغیر میں اپنا قانونی نظام رائج کیا، تو آغاز انھوں نے محصولات کے قانون میں تبدیلیوں سے کیا، پھر دیوانی قانون اور فوجداری قانون کی طرف توجہ کی۔ تاہم مسلمانوں کے عائلی قانون میں انھوں نے عمومی طور پر عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کی۔ چنانچہ ابتدا میں عائلی تنازعات کے فیصلے دورِ سلاطین اور مغل عہد سے فرائض انجام دیتے چلے آنے والے مسلمان قاضی ہی کرتے رہے۔ بعد میں ان قاضیوں کی جگہ جج مقرر کیے گئے، لیکن چونکہ ان ججوں کو اسلامی قانون کا علم نہیں تھا، اس لیے ان کی معاونت کےلیے ’مفتی‘ مقرر کیے گئے۔ پھر کچھ عرصے بعد مسلمانوں کی اہم فقہی کتابوں کے انگریزی تراجم کیے گئے تو مفتیوں پر انحصار بھی ختم ہوگیا۔ اسی طرح انگریزوں کے دور میں ججوں نے بطورِ اصول یہ طے کیا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کےلیے وہ اپنا ’فہمِ شریعت‘ نافذ کرنے کے بجائے مقدمے کے فریقوں کے ’فقہی مذہب‘ کی پابندی کریں گے۔ چنانچہ سُنّی مسلمانوں کے فیصلوں کےلیے ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیریہ اور اہلِ تشیع کے فیصلوں کےلیے شرائع الاسلام میں حکم دیکھا جاتا۔ اگر فریقین کا تعلق الگ فقہی مذاہب سے ہوتا، تو یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ ایسے معاملے میں مدعا علیہ کے فقہی مذہب پر فیصلہ کیا جاتا۔ [مسماۃ عزیزہ بانو بنام علی محمد ابراہیم (AIR  ۱۹۲۵، الٰہ آباد ۷۲۰)]

فقہی کتابوں کے تراجم میں بھی مسائل تھے اور بعض اوقات ان کتابوں میں مذکور قانونی اصولوں کے فہم میں ججوں سے بھی غلطیاں ہوئیں، لیکن عمومی طور پر وہ متعلقہ فقہی مذہب کی پابندی کی کوشش کرتے رہے، اور اس وجہ سے عموماً کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا، سوائے ان صورتوں کے جن میں ججوں نے اسلامی قانون کے کسی حکم کو اپنے ’تصورِ انصاف‘ کے خلاف سمجھ کر اسے موڑنے کی کوشش کی۔ ’وقف علی الاولاد‘ کے متعلق پریوی کونسل کا فیصلہ اس کی ایک مثال ہے،[ ابو الفتح محمداسحاق بنام رسمایہ دھر چودھری ، (۱۸۹۴) IA، جلد۲۲، ص۷۶]۔ جس کے بعد قائد اعظم کی کوششوں سے ۱۹۱۳ء میں ’وقف ایکٹ‘ نے مسلمانوں کے اوقاف کو تحفظ دیا۔ 

انگریزوں کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ تھا کہ آزادی سے قبل نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ امور پر ’قانون سازی‘ بہت کم کی گئی۔ عام طریقہ یہی رہا کہ عدالتیں ’شریعت‘ پر فیصلے کرتی تھیں اور  ’شریعت‘ سے مراد مقدمے کے فریقوں کا ’فقہی مذہب‘ ہوتا تھا۔ 

تاہم، قیامِ پاکستان کے بعد عائلی قوانین کے نظام میں ’اصلاحات‘ کےلیے جو کمیشن قائم کیا گیا، اس میں صرف ایک عالم دین تھے مولانا احتشام الحق تھانوی [م:۱۹۸۰ء] اور اس کمیشن کے دیگر ارکان کو اسلامی قانون کے مبادیات کا بھی علم نہیں تھا۔ چنانچہ جب اس کمیشن کی رپورٹ آئی، تو اس پر علمی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید ہوئی اور اسے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ تاہم، کچھ عرصے بعد جنرل ایوب خان نے مارشل لا کے دوران ۱۹۶۱ء میں ایک آرڈی نینس کے ذریعے عائلی قوانین کے بعض امور میں ایسی تبدیلیاں کیں، جن کی کوئی بنیاد اسلامی قانون میں موجود نہیں تھی۔ پھر ۱۹۶۷ء میں سپریم کورٹ کا مشہور فیصلہ ’خورشید بی بی بنام بابو محمد امین‘ آیا جس میں قرار دیا گیا کہ عدالت کےلیے فقہی مذاہب کی پابندی ضروری نہیں اور وہ براہِ راست قرآن و سنت کی تعبیر کےلیے ’اجتہاد‘ کرسکتی ہے۔[دیکھیے مسماۃ خورشید بی بی بنام بابو محمد امین، PLD ۱۹۶۷ سپریم کورٹ ۹۷ ]۔ اس کے بعد عدالتی فیصلوں میں ’اجتہاد‘ کے نام پر اسلامی قانون کے اصولوں کو نظرانداز کرکے براہِ راست قرآن و سنت کی آزادانہ اور بے مہار تعبیر کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ’نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں‘ والی صورت بن گئی۔ 

پس، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عائلی قوانین پر ہمارے ہاں تفصیلی قانون سازی کی عدم موجودگی میں ججوں کےلیے ’اجتہاد‘ کے نام پر میدان خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر متعلقہ اُمور پر ہمارے ہاں تفصیلی قوانین موجود ہوتے، تو مرضی کے فیصلوں کی گنجائش کم ہوتی۔ تاہم، یہ سوال اس کے بعد بھی رہتا کہ یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ قانون سازی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو؟ 

ہم نے قانون سازی کے معاملے میں بھی دیکھا ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے باقاعدہ منظّم جدوجہد کی جاتی ہے،جب کہ مذہبی طبقہ اس منظرنامے سے عموماً لاتعلق رہتا ہے اور اس وقت ہوش میں آتا ہے جب قانون سازی ہوچکی ہوتی ہے، اور اس کے بعد اس کی توجہ صرف ان دفعات کے منسوخ کرانے کی مہم اور احتجاج پر ہوتی ہے جو اسلامی اصولوں سے ’متصادم‘ ہوں۔ اس کےلیے بھی طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ’ماوراے صنف اشخاص‘ کے متعلق قانون ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ ۲۰۱۸ء اس کی ایک بڑی واضح مثال ہے۔ تینوں بڑی سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں (پیپلز پارٹی، نون لیگ،تحریک انصاف) کے ارکانِ پارلیمنٹ کو باقاعدہ لابنگ کے ذریعے اس قانون سازی کےلیے تیار کیا گیا، جب کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی خاص منظم، مربوط اور مسلسل مزاحمت نہیں ہوسکی (تفصیل دیکھیے: محمد مشتاق احمد، ’ٹرانس جینڈر اشخاص کے تحفظ کا قانون: ایک تجزیاتی مطالعہ‘، مجلۂ تعلیم و تحقیق، ۴  (۲۰۲۲ء)، ص۲۱-۴۷ )۔ 

قانون بن چکنے کے بعد جماعتِ اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس میں ترامیم، اور پھر اس کی مکمل منسوخی، کےلیے بھرپور جدوجہد کی، لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ عدالتی محاذ پر ۲۰۲۳ء میں کامیابی یوں ملی کہ وفاقی شرعی عدالت نے اس قانون کی بعض دفعات کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دیا، لیکن اس فیصلے کے خلاف اپیلیں چونکہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں معلق ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مؤثر نہیں ہے اور یہ قانون بدستور ملک میں نافذ ہے۔ 

’شادی کے اثاثوں‘ میں حصہ داری 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے میں فاضل جج نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اسلامی قانون کی رُو سے شوہر اور بیوی الگ الگ قانونی شخصیت رکھتے ہیں اور شوہر کو بیوی کے مال پر، یا بیوی کو شوہر کے مال پر مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ انھوں نے شوہر پر بیوی کے حقِ مہر اور نفقہ کی ذمہ داری کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی لکھا کہ ’’کسی باقاعدہ معاہدے کی عدم موجودگی میں دونوں کے درمیان شراکت بھی فرض نہیں کی جاسکتی‘‘۔ اس کے باوجود یہ قرار دے کر کہ ’’ہر وہ چیز جائز ہے جس سے روکا نہیں گیا‘‘، انھوں نے حکومت کو یہ سفارش دے دی! جس اصول کا انھوں نے حوالہ دیا اس کا اطلاق ’چیزوں‘ سے ’فائدہ اٹھانے‘ پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی شخص کےلیے ’حق‘ یا ’استحقاق‘  قائم کرنے پر، اور ’چیزوں‘ پر بھی اس اصول کے اطلاق سے بہت ساری استثنائی صورتیں ہیں۔ 

حیرت کا مقام ہے کہ ملکیت اور شراکت کے متعلق اسلامی قانون کے واضح اصولوں کی موجودگی میں فاضل جج کیسے یہ کہہ سکتے تھے کہ ’’اسلامی قانون بیوی کو شوہر کے مال میں شریک قرار دینے سے نہیں روکتا‘‘۔ کیا اسی طرح شوہر کو بیوی کے مال کا شریک مالک قرار دیا جاسکتا ہے؟ بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل جج  نے یہ بات بھی نظر انداز کی کہ بین الاقوامی معاہدات کو پاکستان کی عدالتیں اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتیں، جب تک انھیں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے قانون کا حصہ نہ بنایا جائے۔ انھوں نے اس پہلو سے بھی تجزیہ نہیں کیا کہ جن دیگر ممالک نے ایسی قانون سازی کی ہے، کیا ان کا قانونی نظام انھی اصولوں پر قائم ہے، جو پاکستان کے قانونی نظام کی بنیاد ہیں؟ 

اُوپر ہم نے اس موضوع پر سینیٹر علی ظفر کے مسودے کا ذکر کیا ہے۔ اس مسودے کو ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ نے دو پہلوؤں سے اسلامی احکام کے خلاف قرار دیا تھا: ایک یہ کہ اس سے شوہر کے حقِ ملکیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اور دوسرا یہ کہ یہ وراثت کے قانون کے خلاف ہے۔ یہ اصول مسلّم ہے کہ کسی شخص کی مرضی کے بغیر کسی دوسرے شخص کو اس کے مال میں شریک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بالکل اسی طرح شوہر کی وراثت میں بیوی کے لیے، اور بیوی کی وراثت میں شوہر کے لیے شریعت نے مخصوص حصہ مقرر کیا ہے، جس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے۔ 

تاہم، اس مسئلے کے کئی دیگر پہلوؤں پر بھی بحث ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ ’شادی کے اثاثوں‘ میں میاں بیوی کو ’شریک‘ قرار دینا اس مفروضے پر مبنی ہے کہ یہ اثاثے دونوں نے مل کر بنائے ہیں۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی ’شراکت‘ کسی ’عقد‘ کے بغیر وجود میں آسکتی ہے؟ ملک میں انگریزوں کے وقت سے رائج ’قانونِ شراکت ۱۹۳۲ء‘ میں ہی دیکھ لیجیے کہ شراکت کسی عقد کے بغیر، محض ’حیثیت‘ (status) سے وجود میں نہیں آتی، یہاں تک ’ہندو مشترکہ خاندان کا کاروبار‘ بھی شراکت نہیں ہے۔ پھر اگر ایسی شراکت فرض بھی کی جائے، تو ایسی شراکت صرف میاں بیوی تک ہی کیوں محدود رہے؟ اس شراکت میں شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائی کیوں شامل نہیں؟  والد کے متعلق تو حدیث مبارک میں تصریح بھی ہے کہ ’’تم اور تمھارا مال ،تمھارے والد کا ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات)

جہاں تک میاں بیوی کے رشتے کا تعلق ہے، تو اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ شوہر ’قوّام‘ (Protector, Maintainer, Sustainer)ہے۔ اس وجہ سے اس پر بیوی کا ’نفقہ‘ بھی واجب ہوتا ہے (سورۃ النساء۴:۳۴) اور ’مہر‘ بھی (سورۃ النساء ۴: ۲۴)، یہاں تک کہ جب صرف نکاح ہوا ہو اور ازدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل ہی ’طلاق‘ ہوجائے تب بھی اس پر ’نصف مہر‘ کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے (سورۃ البقرۃ ۲: ۲۳۱)، بلکہ اگر ’مہر‘ مقرر نہ کیا گیا ہو اور نکاح کے بعد اَزدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل طلاق ہوجائے، تب بھی اس پر واجب ہوتا ہے کہ اپنی مالی وسعت کے مطابق اس خاتون کو کچھ تحفے تحائف (متاع) دے کر رخصت کرے(سورۃ البقرۃ ۲:۲۳۰)۔ اس تعلق کو شوہر کی ’قوّامیت‘ کے بجائے میاں بیوی کے درمیان کاروباری شراکت کے اصولوں پر قائم کرنے سے خاندانی نظام کا پورا تصور ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔ 

اس پیوندکاری کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات ہماری عدالتیں بیوی کی جائیداد پر شوہر کے لیے مالکانہ تصرف مان لیتی ہیں۔ مثلاً ایک مقدمے میں مسئلہ یہ تھا کہ خاتون کے لیے  ’حق مہر‘ کے طور پر جائیداد اس کے سسر کی جانب سے لکھی گئی تھی، حالانکہ وہ اس کی ساس کی ملکیت میں تھی، اور اس کے باوجود پشاور ہائی کورٹ نے اسے نافذ قرار دیا تھا۔ اپیل میں جب معاملہ سپریم کورٹ میں آیا، تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ ’’یہ تو انگریزی قانون کا اصول ہے کہ میاں بیوی ایک ہی قانونی وجود رکھتے ہیں اور یہ کہ شادی کے بعد بیوی کی شخصیت شوہر کی شخصیت میں گم (coverture) ہوجاتی ہے،جب کہ اسلامی قانون کی رو سے بیوی اور شوہر الگ الگ قانونی حیثیت اور شخصیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے اپنے اپنے مال پر الگ الگ ملکیت رکھتے ہیں، جیساکہ سورۃ النساء، آیت ۳۲ میں تصریح بھی ہے‘‘۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’’ہمارے بعض جج لاشعوری طور پر انگریزی قانون کے اصولوں سے متاثر ہوتے ہیں‘‘۔[ فواد اسحاق بنام مسماۃ مہرین منصور ( PLD  ۲۰۲۰ سپریم کورٹ ۲۶۹) ]

کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ فیصلے سے بھی یہی مذکورہ بالا تاثر نہیں ملتا؟

ہمارے فاضل ججوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ شادی کے بندھن پر کاروبار، نوکری اور پنشن کے اصول لاگو کرنے کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ اور اس سے ہمارا پورا خاندانی نظام کیسے درہم برہم ہوسکتا ہے؟ بلاشبہہ خواتین کو درپیش مسائل حقیقی ہیں اور ان کا حل بھی ضروری ہے، لیکن اس کے لیے شریعت کے دوسرے احکام کی خلاف ورزی کیسے جائز قرار دی جاسکتی ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل کا حل اسلامی اصولوں کی روشنی میں ہی متعین کیا جائے۔ 

مسئلے کا حل یا پیوندکاری؟ 

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شریعت نے عورت کے لیے وراثت میں حصے مقرر کرکے اسے ملکیت کا جو حق دیا ہے وہ بہت سے دین دار گھرانوں میں بھی خواتین کو میسر نہیں ہوتا، اور اگر کبھی انھیں ان کے شرعی حصے دیے بھی جائیں، تو ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات ختم کردیے جاتے ہیں۔ غیر شادی شدہ خاتون اگر کاروبار کرے، تو عموماً اس کے کاروبار پر اس کے بھائیوں کا قبضہ ہوتا ہے اور اگر شادی شدہ ہو، تو کاروبار شوہر کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ نوکری کی صورت میں بھی اس کی تنخواہ دوسروں کے تصرف میں ہوتی ہے۔ اگر وہ گھریلو خاتون ہو جو نوکری یا کاروبار کے بجائے ساری توجہ اور توانائی گھر پر صرف کرے، تو اس صورت میں تو وہ ویسے ہی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ طلاق کو ہمارے معاشرے میں کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا ہے اور مطلّقہ خاتون کے لیے اس کے اپنے سگے بہن بھائی بھی اجنبی ہوجاتے ہیں۔ بیوہ کا حال اس سے بھی برا ہوتا ہے، دوبارہ شادی آسانی سے نہیں ہوتی اور اسے والدین یا بھائیوں کے گھروں میں ’دوسرے درجے کے شہری‘ کی طرح زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔ 

بعض لوگوں کو ان باتوں میں مبالغہ لگتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ بہت سے خاندانوں میں صورتِ حال ایسی نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسائل اسلامی احکام پر عمل کرنے سے پیدا ہوئے ہیں یا ان کی خلاف ورزی سے پیدا ہوئے ہیں؟ ان مسائل کا حل اسلامی قانون کی ایک اور خلاف ورزی میں تلاش کرنا چاہیے، یا حل اسلامی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں ہے؟  

دیگر ممالک سے ہی تصورات ادھار لینے ہیں، تو اردن میں موجود ان دو اداروں کی طرف کیوں نہ دیکھا جائے، جو اسلامی قانون کے اصولوں پر مبنی ہیں اور عثمانی خلافت کے دور سے رائج ہیں؟ ’قاضی حقوق القاصرین‘ کا کام اپنے زیر اختیار علاقے میں ان لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، جو خود اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے، جیسے یتیم، بیوہ، مطلقہ وغیرہ۔ جب کہ ’الاصلاح الاسری‘ کا تعلق خاندانی تنازعات کے غیر عدالتی حل سے ہے۔ حیرت ہے کہ ہر معاملے میں ’تنازعات کے متبادل حل‘ پر زور دینے والے ہمارے بہت سے فاضل جج حضرات گرامی کی توجہ اس امر کی طرف کیوں نہیں جاتی کہ عائلی تنازعات میں ہمارے رائج الوقت قانون نے ’اصلاح‘ اور ’متبادل حل‘ کا دائرہ بہت ہی محدود کیا ہوا ہے اور اس وجہ سے ہر چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ عدالت میں جا پہنچتا ہے جہاں اس کے فیصلے میں، نہ کہ حل میں، کئی کئی سال لگ جاتے ہیں!

لوگ بجا طور پر سوال اٹھاتے ہیں کہ بہت ساری خواتین کو مہر یا نفقہ ادا نہیں کیا جاتا، لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا قانونی نظام خواتین کو یہ حقوق دینے میں کیوں ناکام ہے؟ 

شریعت نے بیوی کا نفقہ شوہر پر لازم کیا ہے، اس لیے فقہائے کرام نے یہ تفصیل بھی دی ہے کہ شوہر کو اس کی ادائیگی پر قانوناً کیسے مجبور کیا جائے گا؟ عام حالات میں نفقہ کی کوئی مقررہ مقدار نہیں ہے، اور شوہر کو اپنی مالی وسعت اور بیوی کی ضروریات کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن اگر میاں بیوی نے سمجھوتے کے ذریعے، یا قاضی نے اپنے فیصلے میں، کوئی مقدار مقرر کرلی ہے، تو وہ مقدار شوہر کے ذمے واجب ہوجاتی ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں وہ اس کے خلاف جمع ہوتی جاتی ہے، جسے بعد میں اکٹھا بھی وصول کیا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ قاضی اپنے فیصلے میں بیوی کو یہ اجازت بھی دے سکتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں شوہر کے کھاتے میں خرید سکتی ہے اور شوہر کی وفات کی صورت میں ایسے قرض کی ادائیگی اس کے ترکے سے کی جائے گی۔ 

یاد رہے، نکاح اور اس سے متعلق امور، جن میں نفقہ بھی شامل ہے، کے بارے میں ہمارے ہاں مسلم شخصی قانون (شریعت) کے اطلاق کے قانون۱۹۶۲ء، کی دفعہ ۲ نے یہ اصول طے کیا ہے کہ ان کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرنا لازم ہے۔ حیرت ہے کہ پھر کیوں عدالتیں ’ماضی کا نفقہ‘ (past maintenance) لازم کروانے کے لیے اسلامی اصول نافذ کرنے کے بجائے ہمارے نظام میں اجنبی تصورات کی پیوندکاری کرنا چاہتی ہیں؟ 

ڈیڑھ سو سال سے پہلے جب عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ’شادی ایک سول معاہدہ ہے‘، تو اس کے نتائج آج تک ہمارا معاشرہ بھگت رہا ہے۔ اب جب کہ عدالتیں اس معاہدے کو ’شراکتی کاروبار‘ قرار دے رہی ہیں، تو سوچ لینا چاہیے کہ اس کی قیمت کیا ہوگی؟ 

کیا کرنا چاہیے؟

  • پاکستان اپنے آئین کی ’دفعہ۱‘کی  رُو سے ’اسلامی جمہوریہ‘ ہے اور
  • ’دفعہ۲‘ کے تحت اس کا ’ریاستی مذہب‘ اسلام ہے۔
  •  یہاں کے نظام کا اصل الاصول (بمطابق دیباچہ اور دفعہ ۲-الف) یہ ہے کہ کائنات پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور پاکستان کے عوام کو عطا کردہ اختیارات ایک مقدس امانت ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنا ہے۔ 
  • یہاں رائج تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرنا اور ان قوانین سے تمام ایسے امور ختم کرنا لازم ہے جو اسلامی احکام سے متصادم ہوں (دفعہ ۲۲۷)۔ lیہاں آئین اور تمام قوانین کی ایسی تعبیر لازم ہے جو آئین اور قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرے (قانونِ نفاذِ شریعت ۱۹۹۱ء، دفعہ ۴)۔

 راجا عامر خان بنام وفاقِ پاکستان(PLD  ۲۰۲۳ سپریم کورٹ ۳۹۹) میں سپریم کورٹ کے ’فل کورٹ بنچ‘ نے سماعت کی، اور اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھتے ہوئے اس اصول کا ذکر کیا کہ آئینی دفعات کی تعبیر میں بھی وہ تعبیر اختیار کرنا لازم ہے، جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ آٹھ دیگر ججوں نے ان کے ساتھ اتفاق کیا۔ چھ ججوں نے فیصلے کے بعض دیگر پہلوؤں سے تو اختلاف کیا، لیکن اس اصول سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ یوں نو ججوں کی تصریح اور چھ ججوں کی خاموشی نے اس اصول کو ایسی قطعی حیثیت دے دی ہے کہ اس سے انحراف اب ناممکن حد تک مشکل ہوگیا ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے جج اور وکلا اس فیصلے کے بعد اس اجماعی اصول کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں؟ اور بالخصوص نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر ’شخصی اُمور‘ میں ’شریعت‘ ہی کو ’فیصلے کے قانون‘ کی حیثیت حاصل ہے (مسلم شخصی قانون ۱۹۶۲ء، دفعہ ۲)، نیز شخصی امور میں مختلف فرقوں کے فہمِ شریعت کو آئینی تحفظ حاصل ہے (آئین کی دفعہ ۲۲۷ کی توضیح) اور وفاقی شرعی عدالت سمیت کوئی عدالت ان امور میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ [ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل بنام وفاقِ پاکستان (PLD  ۱۹۹۴ سپریم کورٹ ۶۰۷) ]

ان اصولوں کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارے فاضل جج حضرات اور وکلا کو اسلامی احکام کی تفصیلی تعلیم دی جائے اور ججوں اور وکلا کی ٹریننگ میں اسلامی قانون اور اس کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ ہمارے جج اگر براہِ راست قرآن و سنت کی تعبیر کرنا چاہتے بھی ہیں، تو اس کےلیے اسلامی قانون کے اصولوں میں مہارت ضروری ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون کی تدریس کا نصاب وہی ہے جو انگریزوں کے دور سے چلا آرہا ہے ۔ 

اس کے علاوہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ امور پر صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمان کے ذریعے تفصیلی قانون سازی کےلیے بھرپور اور منظّم جدوجہد کی جائے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے محترم مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے ملاقات میں درخواست کی تھی کہ وہ شریعت اور قانون کے ماہرین سے ایسے قانون کا مسودہ بنوانے اور پھر مذہبی سیاسی جماعتوں کے ذریعے اسے باقاعدہ قانون کی صورت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے خوش خبری دی کہ وہ پہلے ہی سے اس سمت میں کام کررہے ہیں اور قانون کا مسودہ تقریباً تیار ہوچکا ہے۔ 

دینی رہنمائی فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام پہلے ہی بگڑ چکا ہے اور خاندان کا بنیادی ادارہ بڑی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کا حل اگر دین کی رہنمائی میں نہیں دیا جائے گا، تو اس خلا کو اجنبی تصورات کے ذریعے پُر کرنے کی جو منظّم کوشش پہلے ہی سے جاری ہے وہ مزید برگ و بار لائے گی  ؎  

دریچوں تک چلے آئے تمھارے دور کے خطرے

ہم اپنی کھڑکیوں سے جھانکنے کا حق بھی کھو بیٹھے!

پچھلے دنوں بھارت کے ایک معروف فلمی شاعر جاوید اختر اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فارغ التحصیل نوجوان اسکالر مفتی شمائل ندوی کے درمیان جو مباحثہ ہوا وہ دلچسپی سے دیکھا گیا۔

 اس مباحثے میں ایک دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ وجودِ الٰہی کے بارے میں جب بھی اور جہاں بھی بات ہوگی مسلمان اسے دلچسپی سے سنیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ انڈیا میں نریندر مودی کی ہندو نسل پرست حکومت نے خاص منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے۔ وہ سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر دلّتوں سے بھی زیادہ نیچے دھکیلے جارہے ہیں۔ مسلمان تیزی سے اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کھو رہے ہیں اور ان کی نئی نسل زندہ رہنے کے لیے اپنے اسلامی نام چھپانے یا تبدیل کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ ان دگرگوں حالات میں کچھ معروف لوگوں نے تو اپنی معاشرتی بقا کے لیے اپنی اسلامی شناخت کو پس پشت ڈالنے کے مختلف حربے بھی استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، جیسے کہ ان میں سے کچھ نے ہندو عورتوں سے شادیاں کرلی ہیں اور کچھ جاویداختر جیسے اسلام سے لاتعلقی کا اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ ان صاحب نے تو اپنے آپ کو انڈین سرکار اور نسل پرستوں کے دربار میں قابلِ قبول بنانے کے لیے اللہ کے وجود کے انکار اور اکثر اسلام اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کو اپنا وتیرہ بنارکھا ہے۔ یہاں تک کہ مئی ۲۰۲۵ء کی پاک انڈیا جنگ کے دوران اُس نے میڈیا پر کہا: اگر مجھے پاکستان اور دوزخ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو تو میں دوزخ کا انتخاب کروں گا۔

پہلی نظر میں تو مذکورہ مباحثہ غیر متوازن (Uneven) نظر آتا تھا کیونکہ ایک جانب بے باک اور اخلاق و تہذیبی روایات کا باغی شاعر اور مکالمہ نگار تھا، جو لفظوں کا استعمال خوب جانتا ہے۔ دوسری طرف ایک دینی مدرسے کا پڑھا ہوا مؤدّب اور لفظوں کے انتخاب میں محتاط اور ذمّہ دار نوجوان تھا۔ اس جیسے نوجوانوں کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ جدید علوم اور فلسفے سے ناآشنا ہوتے ہیں اور انگریزی زبان کی تو بالکل ہی شدھ بدھ نہیں رکھتے۔ مگر اس مباحثے میں لاکھوں لوگوں نے دیکھا کہ یہ نوجوان اسکالر انگریزی اصطلاحات کا استعمال بھی جانتا ہے اور موضوع سے متعلق فلسفیانہ نکات سے بھی بھرپور شناسائی رکھتا ہے۔ 

جاوید اختر نے لفاظی کا سہارا لیا اور وہی گھسے پٹے سوال اُٹھائے جن کی تکرار ملحدین صدیوں سے کرتے آرہے ہیں کہ ’’اگر خدا موجود ہے تو دنیا میں برائی کیوں ہے اور لوگ مظالم کا شکار کیوں ہیں؟‘‘ کوئی ان عقل کے اندھوں سے یہ پوچھے کہ نوع انسان کی دوسری تمام مخلوقات پر فضیلت کی اساس ہی انسان کی فطرت میں ودیعت کردہ اچھائی اور بُرائی کی پہچان کی بناپر اس کا اپنی آزاد مرضی اور اختیار سے اچھائی کو اپنانا ہے (الشمس ۹۱:۷-۱۰)۔اگر بُرائی نہ ہوتی تو انسان اپنی آزاد مرضی سے اچھائی اختیار کرنے کا اختیار کیسے استعمال کرتا؟اندھیرا ہی روشنی کو شناخت بخشتا ہے، ’شر‘ دیکھ کر ہی ’خیر‘ کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر ظلم اور گناہ نہ ہوتا تو پھر یہی دنیا جنّت بن جاتی۔ ان تمام سوالات کا تو دُنیا اور انسانوں کے خالق و مالک نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل سے جواب دیا ہے۔ 

مباحثے کے دوران جاوید اختر کو شمائل ندوی صاحب سے کئی الفاظ کا مطلب اور مفہوم پوچھنا پڑا، جس سے اس کے سطحی علم اور دانش کی قلعی کھل گئی۔ شمائل ندوی ابھی نوجوان ہیں، عمر کے ساتھ جب ان کے مطالعے اور تجربے میں اضافہ ہوگا تو ان کے دلائل میں مزید پختگی، گہرائی اور گیرائی پیدا ہوگی۔ تاہم، اس مباحثے میں شمائل ندوی نے جاوید اختر جیسے گھاگ کو چاروںشانے چِت کردیا۔ 

 حقیقت یہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کا وجود مناظروں اور مباحثوں کا ہرگز محتاج نہیں۔ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہو، جو لوگ نفرت کی حدوں کو چھوتے ہوئے شدید قسم کے تعصّب کا شکار ہوں، وہ تو شاید اپنے پیش روؤں کی طرح، ’میں نہ مانوں‘ کی ضد پر ہی قائم رہیں، ورنہ وہ لوگ جو تعصب کے بغیر عقل اور شعور کو استعمال کرتے ہوں، انھیں اپنے اردگرد ایسی بیسیوں ناقابلِ تردید شہادتیں مل جاتی ہیں، جو پکار پکار کر ایک قادرِ مطلق کے وجود کی گواہی دے رہی ہیں۔ 

وجودِ باری تعالیٰ کے منکر، ’فطرت‘ (Nature) کو ہر چیز کا خالق قرار دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز ’مادّے‘ (Matter)سے وجود میں آئی ہے اور اسی سے پوری کائنات بن گئی ہے۔ مگر ’مادے‘ میں زندگی کیسے پیدا ہوئی یا اسے زندگی کس نے بخشی؟ اس کا ملحدین کے یا اس پہلو پر کلام کرنے والے سائنس دانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ سائنس دان خود تسلیم کرتے ہیں کہ ’فطرت‘ (نیچر) شعور نہیں رکھتی، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود شعور سے محروم ’فطرت‘ کسی مخلوق کو شعور سے بہرہ مند کرسکتی ہے؟ اس کا جواب بھی ناں میں ہی ملتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’انسان کو شعور کس نے عطا کیا؟‘ اس کا جواب بھی سائنس دانوں کے پاس نہیں ہے۔ اِن سوالوں کے جواب خالقِ کائنات نے اپنے مبعوث کردہ انبیا و رُسل پر وحی کے ذریعے انسانوں تک پہنچادیے ہیں۔

انسان کی اپنی ساخت پر غور کریں تو ایک جہانِ حیرت کھل جاتا ہے۔ جوملحد  ڈاکٹر دل، دماغ، جگر، گردے، آنکھ، کان یا زبان کی تمام کارکردگی (functions) سے آگاہ ہیں، ان سے پوچھیں تو وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ اعضا خود بخود وجود میں آگئے اور اپنے آپ سے انھوں نے اس قدر مشکل اور پیچیدہ فرائض انجام دینے شروع کردئیے‘‘۔ ایسا کہنا یا سوچنا بھی حد درجے کی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ 

انسان کا دماغ (Brain) اپنی جگہ ایک تخلیقی کرشمہ ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اس میں ۸۶؍ ارب نیورون ہوتے ہیں۔ یہ ایک عام ۲۰واٹ کے بلب کی انرجی کے ساتھ ایسے حیرت انگیزفرائض سرانجام دیتا ہے جو شاید سُپر کمپیوٹرز بھی صحیح طور پر انجام نہ دے سکیں۔ انسان کے ’جگر ‘کو ڈاکٹر انسانی جسم کا ایک ششدر کردینے والا معجزہ قرار دیتے ہیں۔ انسانی جسم کا یہ عضو پانچ سو مختلف انتہائی اہم اور پیچیدہ قسم کے کام (functions)کرتا ہے۔ یہ ایک قسم کا کیمیکل پلانٹ ہے، جس میں اربوں سیل ہیں اور جسم کے لیے ضروری انرجی، شوگر، گلوکوز اور کولیسٹرول یہی پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک منٹ میں ڈیڑھ لٹر خون فلٹر کرتا ہے۔ اس کی حرکت (function) میں جس قدر پیچیدگی، اور جس قدر توازن ہے، اس کا مشاہدہ کرتےہوئے ماہرین دنگ رہ جاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب کچھ ایک عظیم خالق اور منتظم کے حسنِ تخلیق کا کرشمہ ہے، جسے اس نے بجا طور پر لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ   فِيْٓ   اَحْسَنِ  تَقْوِيْمٍ۝۴ۡ(التین۹۵:۴) سے تعبیر کیا ہے۔ 

تاریخ کی گواہی

صدیوں کی انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ خالق کی موجودگی کے منکروں نے جب بھی کوئی علاقہ یا خطہ فتح کیا، تو وہاں وحشیانہ شیطانی کھیل کھیلے۔ انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے، عورتوں کی آبروریزی کی اور عمارتیں جلا کر راکھ کر ڈالیں اور کتب خانوں کو نذرِآتش کردیا۔ مگر اس کے برعکس جب خدا کو ماننے والے فتح یاب ہوئے اور جب مکّہ ان کے قدموں میں تھا، تو اُٹھی ہوئی تلواروں کو روک دیا گیا اور پھر مکہ کی وادیوں میں اسلامی لشکر کے سالارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز گونجی: لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۝۰ۭ يَغْفِرُ اللہُ لَكُمْ۝۰ۡ ، بے پناہ ظلم کرنے والے اپنے جانی دشمنوں سے کہا گیا:’’جائو آج تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمھیں معاف کرے‘‘۔(سیرۃ ابن ہشام)

 فلسطین فتح ہوا تو کسی ایک خاتون کی بھی بے حرمتی نہ کی گئی اور کسی ایک مفتوح کو بھی قتل نہ کیا گیا۔ وہاں بھی فاتح فوج کے سپریم کمانڈر فاروقِ اعظم عمر بن الخطابؓ نے پہلا اعلان یہی کیا کہ ’’آج سے غیر مسلموں کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کے معاہدے میں تحریر کیا: ’’یہ وہ امان ہے جو اللہ کے غلام امیرالمومنین عمر نے ایلیا کے لوگوں کو دی ہے۔ یہ امان اُن کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے۔ اس طرح کہ ان کے گرجائوں میں نہ سکونت کی جائے، نہ ڈھائے جائیں، نہ ان کی صلیبوں اور ان کےمال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہیں کیا جائے گا… جو کچھ اس تحریر میں ہے، اس پر خدا کا، اس کے رسولؐ، خدا کے خلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے، ۱۵ ہجری‘‘۔

قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوا تو سلطان محمدفاتح سفید گھوڑے پر شہر میں داخل ہوا، مگر اس کی گردن اپنے خالق ومالک کے آگے عجز و انکسار سے جھکی ہوئی تھی، نہ استنبول کی گلیاں خون سے سرخ ہوئیں اور نہ کسی مفتوح پر تلوار اٹھائی گئی۔ بھلا یہ کن تعلیمات کا کرشمہ تھا، یہ اُسی خالق کائنات کے احکامات (Divine guidence) کا نتیجہ تھا، جس نے انسانوں کو رحم اور انسانی جان کی حُرمت کا حکم دیا ہے، جنگ اور فتح کے آداب سکھائے ہیں اور مخالفین پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔

خالق کائنات کی طرف سے انسانوں کے لیے اُترنے والا سب سے قیمتی تحفہ جس نے انسانی معاشروں کو رہنے کے قابل بنایا، وہ عدل اور انصاف کا تصوّرہے۔ تم جس ہستی کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہو کہ دنیا میں اتنا ظلم ہورہا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے۔ جانتے ہو اُس ہستی نے انسانوں کو کس معیار کا انصاف کرنے کے احکامات دیئے ہیں؟ نہیں جانتے تو سنو، وہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ ’’انصاف پر قائم رہنے والے بنو (یعنی ہر حال میں انصاف کرو) چاہے اس کی زدتمھارے عزیز واقارب پر یا تمھارے والدین پر یا تمھاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو؟‘‘ یعنی اپنے والدین کے خلاف بھی فیصلہ کرنے سے گریز نہ کرو اور انصاف کا تقاضا ہو تو اپنے خلاف بھی فیصلہ کردو مگر کسی صورت انصاف کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دو۔ پھر یہاں تک حکم دیا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمھیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘۔ (المائدہ ۵:۸)

اس معیار کا انصاف کرنے کا تصور کیا کوئی انسان دے سکتا ہے؟ کیا انسانی تاریخ میں کسی انسان نے ایسا تصوّر دیا ہے؟ کیا کوئی ملحد، تاریخ انسانی کے کسی بھی دور میں گزرے ہوئے کسی بھی فلسفی یا دانش ور مثلاً ارسطو، افلاطون، مارکس یا روسو کی کسی تحریر سے انصاف، رحم یا انسانی مساوات کے بارے میں ایسی تلقین کی کوئی معمولی سی جھلک بھی دکھا سکتا ہے، جو قادرِمطلق کی آخری کتاب میں اور آخری نبیؐ کی تعلیمات میں جگہ جگہ ملتی ہے؟ جی نہیں، آپ لوگ انصاف کے ایسے معیار کی کوئی بھی مثال پیش نہیں کر سکتے، جس کا تصوّر زمین وآسمان کے مالک نے دیا اور جس کی عملی تعبیر رسالت مآبؐ کی اپنی شخصیّت تھی، جنھوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میری بیٹی فاطمہ بھی ایسا کرتی تو اسے بھی ایک عام آدمی کی طرح وہی سزا ملتی‘‘، قانون کی نظر میں سب کے لیے برابری (Equality before law)  کا اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا۔

خالق کائنات کا وجود

ملحدین کے ان سطحی دلائل کو میں بے وزن اور کھوکھلا سمجھ کر کیوں مسترد کر رہا ہوں اور کیوں اللہ کے وجود کو اور اس کی صفات کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتا ہوں؟ اس کی وجہ بتائے دیتا ہوں۔  دُنیا کے مسلّمہ معیارات کے مطابق بہرحال میں ایک پڑھا لکھا شخص ہوں۔ میرے گھر کے صحن میں علی الصبح سورج کی روشنی پڑتی ہے، جب کہ رات کو وہی سورج کہیں اوجھل ہوجاتا ہے اور آسمان پر چاند اور ستارے نمودار ہوجاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میرے ذہن میں تجسّس پیدا ہوتا ہے کہ یہ سورج، چاند، ستارے کیسے وجود میں آئے؟ 

کالج اور یونی ورسٹی میں مجھے ایک دو ایسے اساتذہ ملے، جو اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ دوتین بار وقت لے کر میں ان کے دفتر گیا اور ان سے پوچھا:’’استادِ محترم، مذہبی لوگوں میں ہزار خامیاں ہوں گی، مگر یہ سورج، چاند اور یہ زمین کیسے وجود میں آئے، ذرا اس کی وضاحت فرما دیجیے؟‘‘ ایک نے ڈارون کی تھیوری کا ذکر کیا۔ میں نے ایک دو سوال کیے، تو انھوں نے فرمایا: ’’میں نے ابھی مکمل تھیوری نہیں پڑھی۔ مکمل پڑھ کر جواب دوں گا‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’سائنس دان خود کہتے ہیں کہ ابھی تک کوئی ایک بھی شہادت ایسی نہیں ملی، جو انسان کی تخلیق کے بارے میں ڈارون کے نظریے کو ثابت کرے یا اس کی تصدیق کرے۔ یہ تو صرف ایک قیاس ہے‘‘۔ اس پر وہ خاموش رہے اور انھوں نے مولویوں کے خلاف کچھ لطیفے سنا کر بات ختم کردی۔ 

دوسرے پروفیسر صاحب کے پاس جاکر پوچھا: ’’سر! یہ سورج، چاند، زمین، اور یہ انسان، اُس کے حیرت انگیز اعضا اور اس کا شعور کس نے تخلیق کیا ہے؟‘‘ وہ فرمانے لگے: ’’دیکھیں ہر چیز ذرّے سے پیدا ہوتی ہے اور خلیے نے ہی پھیل کر یہ شکلیں اختیار کرلی ہیں‘‘۔ میں نے پوچھا:  ’’ذرّے یا خلیے میں جان یا زندگی کیسے پیدا ہوئی ہے؟‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’فی الحال سائنس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’آپ کائنات کا خالق کس کو سمجھتے ہیں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہم سمجھتے ہیں ہر چیز خودبخود نیچر (فطرت) کے زور پر پیدا ہوئی ہے‘‘۔ پھر میں نے پوچھا: ’’دنیا کے کسی کونے میں کوئی ایک پل یا کسی عمارت کا ایک کمرہ خودبخود وجود میں آیا ہے تو بتادیجئے‘‘۔ وہ خاموش رہے تو میں نے پوچھا: ’’سر! کیا نیچر یا فطرت شعور رکھتی ہے؟‘‘ اس کا انھوں نے دیانت دارانہ جواب دیا :’’نہیں، فطرت شعور کی حامل نہیں ہے‘‘۔ 

اس پر میں نے کہا:’’جو نیچر خود شعور سے محروم ہے، وہ انسان کو بھلا شعور کیسے بخش سکتی ہے؟‘‘ اس پر وہ فرمانے لگے: ’’ہاں ٹھیک کہتے ہو، کائنات اور انسان کی تخلیق کی کچھ گتھیاں ابھی سلجھنے والی ہیں اور سائنس دان جنھوں نے ایٹم بم، جہاز اور کمپیوٹر بنالیے ہیں، وہ یہ بھی سلجھالیں گے‘‘۔ میں نے کہا: ’’ابھی تک سائنس دان انسانی خون کا ایک قطرہ تخلیق نہیں کرسکے۔ سائنس کے جتنے بھی کارنامے ہیں وہ اہلِ تحقیق اور اہلِ سائنس نے فطرت میں سے discover کیے ہیں۔ یعنی انھوں نے ریسرچ کے ذریعے فطرت کے کچھ اصول اور کچھ صلاحیتیں دریافت کی ہیں اور ان کی بنیاد پر بہت سی (مفید اور مضر) چیزیں بنالی ہیں۔ بلاشبہ یہ سب ایجادات بڑی زبردست ہیں، مگر کیا آپ یہ فرماسکتے ہیں کہ فطرت کے وہ اصول یا قوانین مثلاً: کششِ ثقل کا اصول کس سائنس دان نے بنایا ہے؟‘‘ کہنے لگے: ’’کسی سائنس دان نے نہیں بنایا، مگر سائنس دان نے تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے‘‘۔ میں نے پوچھ لیا:’’پھر یہ بتادیں کہ کششِ ثقل سمیت فطرت اور کائنات کے قوانین کو تخلیق کس نے کیا ہے؟‘‘ کہنے لگے:’’ہاں ،کچھ سائنس دان اب یہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ کوئی Metaphysical Force (مافوق الفطرت قوت) موجود ہو‘‘۔

اُن کے بعد بھی میں بہت سے ملحد پروفیسر صاحبان سے ملتا رہا اور کچھ سائنس دانوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے ہاں یا تو قیاس اور گمان کی بنیاد پر کھڑی کی گئی تھیوریاں ہیں، جن کی صداقت کا کوئی ثبوت موجود نہیں، یا پھر بے یقینی کی صورتِ حال ہے۔ مگر اب وہ کسی مابعدالطبیعاتی قوت یا ہستی (Metaphysical Force)کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں،لیکن کچھ ابھی تک وسوسوں اور گمانوں کے اندھیروں میں ہی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ اُن کی یہ بات کہ یہ دنیا اور پوری کائنات خودبخود پیدا ہوگئی یا اسے فطرت نے تخلیق کیاہے، عقل اور شعور کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتی ، اور کوئی بھی عقل اور شعور رکھنے والا شخص خود بخود پیدا ہونے والی بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 

مجھے سورج، چاند، زمین، کائنات کے اصولوں اور انسانی جسم کے اندر چلنے والی حیرت انگیز فیکٹریوں کی تخلیق کے بارے میں ملحد دانش وروں کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں مل سکا، یعنی ملحدانہ نظریۂ حیات ایسی تھیوریاں پیش کرتا ہے جو نہ ثابت ہوسکیں، اور نہ انسانی عقل انھیں ماننے کے لیے تیار ہے۔ 

عقلی ثبوت

میں اسی جستجو اور حقیقت کی تلاش میں تھا کہ آوازسنائی دی: ’’اِدھر آؤ، ہم بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے!‘‘

دیکھا تو وہ ایک ایسی پاکیزہ کردار شخصیّت کی آواز تھی، جس نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں کبھی معمولی سا جھوٹ بھی نہیں بولا تھا۔ اس نے اپنی بات کا آغاز کرنے سے پہلے بستی والوں کو بلا کر پوچھا:’’اگرمیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن پہنچ چکے ہیں تو کیا تم مان لوگے؟‘‘ سب نے بیک زبان کہا :’’آپ ایک سچّے انسان ہیں، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ آپ سچ ہی بولیں گے، اور ہم آپ کی ہر بات تسلیم کریں گے‘‘۔

پھر اس سو فی صد سچے انسان نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران و پریشان ہوگئے۔ اُس پاکیزہ کردار انسان نے کسی استاد سے تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ سوائے ملک شام کے ایک تجارتی سفر کے اور کوئی ملک بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اب اس نے انسانی ذہن کے سب سے بڑے سوال کا جواب بتانا شروع کردیا۔ اب اس نے صرف قریش یا اہلِ مکہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کو مخاطب کرنا شروع کردیا، اور زندگی گزارنے کے طریقے اور ضابطے بتانے شروع کردیئے۔ اور جب اس نے یہ کہا:’’اس کائنات اور انسانوں کا خالق اور پالنہار صرف ایک اللہ ہے، وہی ہر چیز کا خالق بھی ہے اور مالک بھی، اس لیے اپنی پوری زندگی کے افکار و افعال صرف اسی کی ہدایات و احکام کے مطابق ڈھالو، صرف اس کے آگے سجدہ کرو اور صرف اسی سے مانگو۔ وہ تمھارے ہر عمل اور فعل کا حساب رکھتا ہے۔ اس زندگی کے بعد سب کو اس کے حضور پیش ہونا ہوگا اور وہ دنیا میں تمھارے تمام اعمال کا حساب کرکے مکمل عدل کے ساتھ سزا اور جزا دے گا‘‘۔ یہ پیغام سننے کے بعد اس بستی کے بڑوں کو اپنی سرداریاں خطرے میں نظر آئیں۔ لہٰذا، وہ سب اس کی جان کے دشمن بن گئے۔ 

سرداروں نے پوچھا :’’آپ ایسی باتیں کیوں کرنے لگے ہو، تو جواب آیا: ’’کائنات کے خالق نے انسانوں تک اپنا پیغام اور ہدایات پہنچانے کے لیے مجھے اپنا نمائندہ (رسول) مقرر کیا ہے، جس طرح کہ مجھ سے پہلے بھی اللہ نے اپنے نمائندے (نبی اور رسول) مقرر کیے تھے۔ اللہ کا فرشتہ مجھے جوپیغام پہنچاتا ہے وہ میں آپ کو بتارہا ہوں‘‘۔ وہ کلام سنایا گیا تو سننے والے حیران و ششدر رہ گئے۔ یہ تو کوئی انوکھا اور حیرت انگیز کلام تھا۔ عرب کے بڑے بڑے ماہرین زبان و ادب جنھیں اپنی فصاحت وبلاغت پر ناز تھا، اس کلام کا طرزِ تخاطب اور حسنِ کلام دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے۔ 

ایسا کلام کسی نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ اختلاف کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بن جانے والے سردار وں کواب بھی اس کی صداقت وامانت پر پورا یقین تھا، پھر بھی پورا کھوج لگایا گیا کہ یہ کلام کہاں سے لکھوایا جاتا ہے؟ مگر کچھ بھی نہ ملا۔ پیغام بر (رسولؐ) چالیس سال تک اس بستی میں انھی لوگوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی زبان سے وہ اچھی طرح واقف تھے، اسی لیے ان سب کو معلوم ہوگیا کہ اس کی اپنی زبان و انداز اور ہے اور جسے یہ اللہ کا کلام کہتا ہے اس کا اسلوب و انداز، زبان اور طرزِ کلام بالکل مختلف ہے۔ اس نئے کلام میں ایک جلال ہے۔ یہ ایک commanding voice ہے۔ اس کا انداز authoritartive ہے۔ اس کا ایک ایک فقرہ بتاتا ہے کہ اس کلام کی وساطت سے کلام کرنے والا مخاطبین سے ایسے بات کررہا ہے، جیسے کوئی حاکم اپنی رعایا سے اور مالک اپنے غلاموں سے بات کرتا ہے۔ اس کلام کا جلال اور کمانڈنگ طرزِ تخاطب پہلے فقرے سے لے کر آخری فقرے تک ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ 

۲۳برس تک آسمانوں اور پردئہ غیب سے پیغام آتا رہا۔ اس دوران پیغام بر (رسولؐ) کو شدید مظالم سہنے پڑے اور ذاتی صدموں سے بھی گزرنا پڑا، مگر اس پیغام کا شکوہ اور جلال اسی طرح برقرار رہا اور اس میں انسانی صدمات یا جذبات کی معمولی سی بھی جھلک نظر نہیں آتی۔ اس کے ایک ایک لفظ سے یہ واضح نظر آتا ہے کہ پیغام بھیجنے والے کی سطح اپنے مخاطبین سے بہت بلند ہے۔ سننے والوں میں دو باتوں پر مکمل اتفاق تھا کہ اپنے آپ کو اللہ کا نمائندہ (رسول) قرار دینے والا شخص بڑے سے بڑے فائدے کے لیے بھی جھوٹ نہیں بولتا، اور دوسرا یہ کہ جسے وہ آسمانوں سے اُترنے والا کلام کہتا ہے وہ اس کا نہیں ہے۔ اس کا اسلوب اور معیار بہت ہی مختلف اور بہت ہی بلند ہے۔ وہ دل سے مانتے تھے کہ یہ کلام نہ صرف پیغام بر کا نہیں بلکہ یہ کسی بھی انسان کا کلام نہیں لگتا ۔

انتہائی پاکیزہ کردار کا حامل انتہائی سچا اور حق گو انسان چالیس سال تک اپنی چھوٹی سی بستی مکّہ میں عام لوگوں جیسی زندگی گزارتا رہا اور عام لوگوں جیسی باتیں کرتا رہا۔ مگر اچانک ایک روز اس نے بستی کے لوگوں کو یہ بتا کر حیران کردیا کہ ’’زمین وآسمان کو ایک عظیم الشان ہستی نے تخلیق کیا ہے، وہ پوری کائنات کا خالق بھی ہے اور منتظم و مدبر بھی۔ خالق انسانوں کو تخلیق کرکے ان سے بے نیاز ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ وہ ہر انسان کے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔ اس دنیا کو اس نے انسانوں کا امتحان لینے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کے خاتمے کے بعد وہ اپنی عدالت لگائے گا اور وہ یومِ حساب ہوگا، جب ہر انسان کے اعمال کے مطابق اس کی جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا‘‘۔ 

ظاہر ہے کہ مجھ جیسا عقل اور شعور رکھنے والا انسان، ایسی باتیں کرنے والے کی جانب ضرور متوجہ ہوگا اور اس کی بات ماننے یا نہ ماننے سے پہلے دیکھے گا کہ چالیس سال تک اس شخص نے کبھی معمولی سا بھی جھوٹ نہیں بولا۔ اب اگر اس کی بات غلط ہے تو اسے اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے؟ اس کا اصل مقصداور محرک (motive) کیا ہے؟ وہ ایک انتہائی مخالفانہ ماحول میں نہ صرف خود اپنے موقف پر قائم رہا، بلکہ دوسروں کو بھی اپنے نظریے کا قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایسا کرنا خونخوار بھیڑیوں کے منہ میں ہاتھ دینے کے مترادف تھا، مگر وہ ایسا کرگزرا۔ اس پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے گئے، مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ اسے کہاگیا کہ وہ ایسی باتیں کہنا چھوڑدے۔ اگر وہ اپنے نظریے کا پرچار نہ کرے تو سب سے خوب صورت عورت سے اس کا نکاح کردیا جائے گا اور پورے عرب کی سرداری اسے سونپ دی جائے گی۔ 

یہ اس زمانے اور حالات کے مطابق سب سے دل کش پیش کشیں تھیں، مگر اس نے ہرپیش کش کو ٹھکرادیا اور اس کے پائے استقامت میں معمولی سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔ وہ تکالیف سہتا رہا مگر اپنے موقف پر قائم رہا۔ اب ایک باشعور شخص یہ دیکھے گا کہ مکّہ کے تمام اکابرین کو ناراض کرنے میں اس کا مفاد کیا ہے؟ میں قانون کا طالب علم ہوں جس میں کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے طرزِعمل (conduct ) اور محرک (motive ) بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر اس کا کوئی دنیاوی مفاد ہوتا تو وہ اتنی دلکش آفرز قبول کرلیتا، مگر اس نے تمام پیش کشیں مسترد کرکے نہ صرف مصیبتوں کو گلے لگالیا بلکہ اپنی اور اپنے جانثاروں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ آخر کیوں؟ 

اب یہ دیکھا جائے گا کہ وہ اس پیغام کے ذریعے اپنے لیے کون سی مراعات یا کون سا سٹیٹس طلب کررہا تھا؟ ممکن ہے کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ وہ شاید اپنے لیے کسی مافوق الفطرت مرتبے کا طلب گار ہو؟ مگر وہ جو کلام اور پیغام سناتا ہے، اس میں تو اس کے لیے صرف ’پیغام بر‘ کی ذمّہ داری کا ذکر ہے۔ اس نے کائنات کی حقیقتوں یا روزِ قیامت کے بارے میں بھی کسی قسم کا علم یا اختیار رکھنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ وہ تو ہر سوال کا یہی جواب دیتا ہے کہ ’’ہر چیز کی خبر اور علم رکھنے والا صرف اللہ ہے۔ میں تو صرف اس کا پیغام بر ہوں اور اس کا پیغام اور ہدایات آپ تک پہنچاتا ہوں‘‘۔ 

اب میں یہ سوچوں گا کہ ایک انتہائی حق گو انسان کسی دنیاوی مفاد کے بغیر اتنی تکلیفیں برداشت کررہا ہے مگر پیغام میں معمولی سی بھی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں، آخر کیوں؟ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب اسے اپنے پیغام کی صداقت پر ہزار فی صد یقین ہو۔ اتنا حق گو اور بے لوث شخص جو پیغام سنارہا تھا، وہ بھی حیرت انگیزاور غیرمعمولی ہے۔ اور پھر یہ دیکھ کر تواس کے مخالفین بھی حیران وششدر رہ گئے، کہ پیغام بر نے نہ صرف خدائی حکومت میں کوئی اختیار رکھنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا بلکہ دو تین موقعوں پر معمولی انسانی لغزش پر پیغام بھیجنے والی ہستی نے پیغام بر کوجو تنبیہ کی تھی، وہ بھی اس نے چھپائی نہیں بلکہ سب کو صاف صاف بتادی۔ اس پر بستی کے کچھ سمجھ دار لوگ کہنے لگے کہ ’’اگر یہ کلام اس کا اپنا ہوتا تو سرزنش والا حصہ اس میں کبھی شامل نہ ہوتا‘‘۔ صاحبانِ دانش اب آپس میں کہنے لگے کہ یہ اب جس نوعیّت کی باتیں کررہا ہے، یہ صرف اس کی نہیں، یہ تو مکہ کے ہر شخض کی علمی اور عقلی سطح سے بہت بلند ہیں۔ یہ انسانی پیدائش کے مختلف مدارج بتارہا ہے۔ یہ انصاف کی اور انسانوں کے درمیان برابری کی بات کرتا ہے، عورتوں اور یتیموں کے حقوق بتا رہا ہے اور یہ جو اس نے وراثت کا پورا قانون بناکر دے دیا ہے، اس طرح کا پیچیدہ اور منصفانہ قانون تو عرب کے قابل ترین افراد اکٹھے مل کر بھی نہیں بناسکتے۔ 

اب اندر سے وہ اس کے دعوے کے قائل ہورہے ہیں اور ان کا نظریۂ الحاد پر اعتقاد ڈگمگانے لگا ہے، ہر نئی وحی آنے کے ساتھ گروہِ منکرین پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور نظریۂ الحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اس لیے فیصلہ ہوتا ہے کہ سرزمینِ عرب کے زبان و بیان کے تمام ماہرین اور شعراء کو کہا جائے کہ اس کلام کا توڑ پیش کریں۔ اِدھر یہ منصوبے بن رہے ہیں اور اُدھر اس پر آسمانوں سے وحی اترتی ہے کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لائو، سب اکٹھے ہوکر اس جیسی ایک آیت ہی بنا کر لے آئو۔ بڑے بڑے ماہرین زبان و ادب یہ چیلنج سن کر گنگ ہوجاتے ہیں، کوئی ایک بھی یہ چیلنج قبول کرنے کی ہمّت نہیں کرتا۔ 

اس کے ساتھ ہی کچھ عمر رسیدہ اسکالرز کی زبانی پتہ چلتا ہے کہ یہ پیغام پہلی بار انسانوں کو نہیں سنایا جارہا، بلکہ ہزاروں سال پہلے وقت کے ایک جلیل القدر انسان ابراہیم علیہ السلام نے، جو اسی کی طرح سچّا اور حق گوانسان تھا، اپنی بستی کے لوگوں کو ہو بہو ایسا ہی پیغام سنایا تھا کہ زمین و آسمان کو کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ نے تخلیق کیا ہے۔ تمام انسانوں کو اس کے سامنے پیش ہونا پڑ ے گا، جہاں ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ اس کے صدیوں بعد ایک اور غیر معمولی شخصیّت نے بالکل ویسا ہی پیغام اس وقت کے انسانوں تک پہنچایا۔ اُس کا نام موسیٰ علیہ السلام تھا اور پھر سیکڑوں برسوں بعد ایک اور جلیل القدر ہستی عیسیٰؑ اِبن مریم نے انسانوں تک یہی پیغام پہنچایا، اس کے بنیادی نکات بھی یہی تھے۔ لہٰذا، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ صرف پیغام بر بدلتے رہے ہیں، مگر ذریعہ (Source) ایک ہی ہے یعنی پیغام بھیجنے والی ہستی اور اس کا پیغام ایک ہی ہے۔ 

مکّہ میں انتہائی سچے پیغام برؐ نے جو پیغام سنایا، اس میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ پیغام نیا نہیں، یہی پیغام ہم پہلے پیغام بروں (انبیاؑ اور رسولوںؑ)کے ذریعے بھیج چکے ہیں۔ یہ سارے حقائق ، شواہد اور واقعاتی شہادتیں (Circumstantial Evidences) پیغام بر کا کیس مضبوط بنارہی ہیں۔ پوری کوشش کے باوجود مخالفین نہ پیغام بر میں کوئی کمزوری ڈھونڈ سکے اور نہ پیغام میں کوئی جھول تلاش کرسکے ہیں۔ اگر اب تک کی شہادتوں کا جائزہ لیں، یعنی سب سے پہلے پیغام بر کے طرزِ عمل کا جائزہ لیں تو پورے عرب میں اس کے پائے کا سچّا اور پاکیزہ کردار انسان کوئی نہیں۔ پھر محرک کا جائزہ لیں تو پوری کوشش کے باوجود مخالفین اس کا کوئی دنیاوی مفاد تلاش نہیں کرسکے ۔ پورے عرب کا حکمران بننے کے بعد بھی اس کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ رہا اور اکثر اس کے ہاں ون ڈش یعنی ایک سالن بھی نہیں پکتا تھا۔اور پھر جو پیغام وہ سنارہا تھا، وہ بھی نیا نہیں، یہ وہی پیغام تھا جو صدیوں سے کچھ اور جلیل القدر اور سچّے افراد، انسانوں تک پہنچاتے رہے، یہ اُسی کا تسلسل ہے۔ اب عقل ماننے لگی ہے کہ اس کا کیس بہت مضبوط ہے۔

دوسری طرف گروہِ ملحدین کی جانب مکمل خاموشی ہے یا مکمّل اندھیرا۔ ان سے صرف یہی پوچھ لیا جائے کہ آپ انسانی جسم کے ایک عضو’ جگر‘ کے بارے میں حتمی طور پر بتادیں کہ کیا جگر خودبخود بن گیا ہے اور اس کے سارے وظائف و افعال (functions) اپنے آپ ہی شروع ہوگئے ہیں؟ تو کوئی ایک سائنس دان یا ماہرِ اجسام وثوق سے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ یہ خود بخود ہی سب کچھ کررہا ہے۔ وہ اب مانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کسی کی منصوبہ بندی کار فرما ہے۔ مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے، کس کی ہے؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ۔مگر دوسری جانب واضح جواب موجود ہے کہ صرف انسانوں کو نہیں پوری کائنات کو ایک عظیم الشان ہستی نے پیدا کیا ہے۔ اس ہستی کا مکمل تعارف بھی کرایا جاتا ہے اور انسانوں کو پیدا کرنے کا مقصد بھی بتایا جاتا ہے۔ 

اب گروہِ ملحدین کے پاس نہ ماننے کی صرف ایک دلیل رہ جاتی ہے کہ مانا کہ پیغام بر کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کا کوئی دُنیاوی محرک اور مفاد بھی نہیں، اس ذمّہ داری کے باعث اس نے ایک پُرامن اور خوش حال زندگی چھوڑ کر اپنے لیے بے پناہ مصیبتیں مول لے لیں اور جان خطرے میں ڈال لی۔ اس کا پیغام بھی انسانی نہیں بلکہ واقعی آسمانی لگتاہے۔ جس کی صداقت کی گواہیاں صدیوں سے دی جارہی ہیں، مگر ہم خالق یا اللہ کو اُس وقت ہی مانیں گے جب اسے آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اس پر کچھ اہلِ دانش نے ان ملحدین سے کہا کہ ’’کچھ حقیقتیںعینی شہادت نہیں واقعاتی شہادت کی بنا پر تسلیم کی جاتی ہیں، جس طرح آپ اپنے باپ کے خانے میں جو نام لکھتے ہیں، وہ تو آپ آنکھوں سے مشاہدہ کیے بغیر یا ڈی این اے دیکھے یا چیک کرائے بغیر صرف ماں اور باپ کی بات مان کر یقین کرلیتے ہیں، تو ہم دنیا بھر کے والدین سے زیادہ سچّے اور اُجلے کردار کی حامل ہستی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر کیوں یقین نہ کریں، جب کہ ان کی پیش کردہ اور بیان شدہ Corroborative Evidence (تائیدی شہادت) تو اور بھی بہت مضبوط ہے ‘‘۔

 وجودِ باری تعالٰی کے واضح شواہد 

ایک صاحبِ شعور انسان کی حیثیت سے ’نظریۂ الحاد‘ ، یعنی انسان اور کائنات کے خودبخود ’تخلیق‘ ہونے کا جب بھی جائزہ لیا، سچی بات ہے کہ عقل کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتا۔ جسم کا ہر عضو انتہائی حسّاس اور پیچیدہ قسم کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ جگر، دل ، دماغ یا آنکھ کے کام اور وظائف کا جائزہ لیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے اور ہر صاحبِ عقل پکار اُٹھتا ہے کہ ان اعضا کی تخلیق کسی عظیم ترین خالق کے حسنِ تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کسی خالق کی حکیمانہ سوچ کے بغیرایسی حیرت انگیز فیکٹریوں کی تخلیق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری جانب تمام شواہد، وقت کے سب سے سچّے اور امین انسان حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نظریۂ تخلیق کی صداقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ 

فرض کریں کہ کسی انسان نے اللہ خالق کائنات کا تصوّر تخلیق کرنا ہو تو وہ اسے کسی شہنشاہ کے طور پر پیش کرے گا۔ وہ اس قسم کی بات کرے گا کہ آسمانوں پر رہنے والے ہزاروں فرشتے اللہ کے بیٹے ہیں۔ ہندو مذہبیات (Mythology)میں دیوی دیوتائوں کا تصوّر ایسے ہی انسانی تصوّر وخیال کا نتیجہ ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی ذہن اگر خالق کا تصوّر خود تراشتا تو اسے بے اولاد کبھی نہ دکھاتا اور ہزاروں سال پہلے مرے ہوئے انسانوں کا زندہ ہونا اور دربارِ الٰہی میں پیش ہوکر اپنے ہر عمل کا حساب دینے کا تصوّر آج سے ہزاروں سال قبل انسان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ مگر اصل خالق کے بارے میں آسمانوں سے اُترنے والے تعارقی فقروں میں بتایا گیا کہ وہ واحد خالق و مالک ہے یعنی زمین وآسمان اور کائناتوں کی سلطنت چلانے میں اس کا کوئی پارٹنر یا شریک ِکار نہیں۔ اس کا کوئی باپ نہیں اور نہ اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے، جو ہرانسان کو اس کے ہر اچھے اور بُرے کام کا اجر اور سزا دے گا۔ ہماری عقل نے فوراً کہا کہ وہ عظیم الشان ہستی ایسی ہی ہونی چاہیے، جو انسانی جذبات، ضروریات اور جبلّتوں سے پاک اور بلند ہو اور وہ اتنا طاقت ور ہو کہ ہرشخص کو اس کے کیے کی سزا یا جزا دینے کی قدرت رکھتا ہو۔ 

جب اس جیسا کلام تخلیق کرنے کا چیلنج دیا گیا تو عرب کے سب فصیح وبلیغ گنگ رہ گئے۔ اب کہا گیا کہ یہ پیغام اور یہ ہدایات چونکہ اَزل تک تمام انسانوں کے لیے ہیں، اس لیے میں اس میں ایک لفظ کی بھی تحریف نہیں ہونے دوں گا اور اس کی حفاظت خود کروںگا۔ پندرہ سو سال بیت گئے مگر تحریف کی سب کوششیں اور سازشیں ناکام ہوئیں اور پیغامِ حق اپنی اصل صورت میں کاغذ پر بھی اور کروڑوں حفّاظ کے سینوں میں بھی بالکل محفوظ ہے۔ جو خود اپنی جگہ ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔ 

جب پیغام بھیجنا شروع کیا تویہ نہیں کہا کہ بس تم نے سن لیا تو اسی وقت آنکھیں بند کرکے اسے قبول کرو ورنہ سزا کے لیے تیار ہوجائو، بلکہ بار بار کہا گیا کہ تمھارے آس پاس زمین اور آسمان میں سورج، چاند اور ستاروں میں واضح نشانیاں ہیں۔ ان پر غور کرو، تفکّر اور تدبّر کرو۔ تم ہر چیز میں حیرت انگیز توازن، ربط اور درجۂ کمال کی کاملیّت (Perfection) کا مشاہدہ کروگے، تو تمھارا دل اور دماغ پکار اُٹھے گا کہ یہ خودبخود تخلیق نہیں ہوسکتا، یہ واقعی کسی عظیم الشان ہستی کی تخلیق ہے۔

پھر خالق نے اپنے تخلیقی شاہکار کے بارے میں چیلنج دے دیا، فرمایا:’’ تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پائو گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو ، کہیں تمھیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ بار بار نگاہ دوڑائو۔ تمھاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی‘‘ (الملک ۶۷:۳-۴)۔ دنیا بھر کے سائنس دان طاقت ور ترین دوربینوں سے مشاہدہ کرچکے، مگر وہ اس عظیم الشّان تخلیق میں کوئی خامی اور کوئی معمولی سا بھی نقص (Infirmity) نہیں ڈھونڈ سکے۔ اللہ کی تخلیق کردہ اس کائنات میں ایسا توازن اور تناسب ہے کہ آج تک کوئی کہیں معمولی سا بھی جھول، بدنظمی، بے ترتیبی یا بے ربطی تلاش نہیں کرسکا۔ کیا کوئی انسانی تخلیق ایسی ہوسکتی ہے، جس میں ہزاروں برس بعد بھی تخریب نہ ہو؟ کائنات کی تخلیق اور خالق کے بارے میں صاحبانِ عقل ودانش کے لیے کیا یہی ثبوت کافی نہیں ہے!

پھر اگر کسی انسان نے طریقۂ ٔ تخلیق تراشنا ہوتا تو ممکن ہے وہ اس قسم کی کہانی گھڑتا کہ ’’اللہ نے ہزاروں فرشتوں اور جنوں کو اس کام پر لگایا اور پھر یہ دنیا، سورج اور چاند وغیرہ تخلیق ہوئے‘‘۔ مگر آسمانوں سے جواب آتا ہے:’’اس کی شان یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فرمادیتا ہے کہ ہوجاؤ، تو وہ ہوجاتی ہے‘‘ (مریم ۱۹:۳۵)۔ بے شک ربّ ِ کائنات کی یہی شان ہونی چاہیے۔ 

اتنی طاقت ور ہستی نے ایک کامل (perfect) کائنات اور دنیا بنائی، تو ساتھ ہی اس کی فطرت میں (کششِ ثقل کی طرح کے) ایسے قوانین ڈال دیئے ہیں اور اس کے مختلف اجزا (گیسوں وغیرہ) میں اس طرح کا توازن پیدا کردیا ہے، جو انسانی بقاء اورنشوونما کے لیے ضروری ہے۔ یہ سب خالق کی نعمتیں ہیں۔ اب مجھے دیکھنا ہے کہ کیا یہ طاقت ور ترین ہستی انسانوں کو پیدا کرکے ان سے بے نیاز ہوکر بیٹھ گئی ہے کہ وہ جیسے چاہیں زندگی گزاریں؟ نہیں، ایسا ہوتا تو طاقت ور، کمزور کو بھیڑیوں کی طرح چیر پھاڑ دیتا اور کمزور کی عورتوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرلیتا۔ اس عظیم الشّان خالق نے ایک خوش گوار اور متوازن معاشرہ تشکیل دینے کے لیے اصول بتائے ہیںاور بڑے واضح اور سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ 

اس نے سب سے پہلے انسانی جان کی حرمت قائم کی ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہے : اگر ایک بے گناہ انسان کو ہلاک کروگے تو ہم تمھیں پوری انسانیت کا قاتل سمجھیں گے اور ایک قتل کی نہیں پوری انسانیت کے قتل کی سزا دیں گے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ  فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۝۰ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۝۰ۭ (المائدہ ۵:۳۲)۔ اس سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کی جانیں محفوظ ہوگئیں۔ کیا دنیا کا کوئی مفکر یا ماہرِ سماجیات انسانی جان کے تحفظ کے لیے اس سے بہتر الفاظ یا قانون تخلیق کرسکتا تھا یا کرسکا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ 

انسانی معاشرے اور معاشرے کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ عدل اور انصاف ہے، اور انسانیت کو یہ گراں قدر تحفہ بھی انسانوں سے نہیں آسمانوں سے ملا ہے۔ کیونکہ پتّوں سے تن ڈھانپنے والے انسانوں سے لے کر آج کے سب سے ترقی یافتہ ملک کے صدر تک سب کی فطرت اور سوچ یکساں ہے۔ ان کی سرشت میں عدل نہیں غلبہ ہے، انصاف نہیںکمزور انسان یا ملک کے وسائل پر قبضہ اور مخالف کا خاتمہ ہے۔ 

آج کے نام نہاد ’مہذّب ترین‘ انسان اپنے جیسے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو بے شرمی اور دیدہ دلیری سے ہلاک کررہے ہیں اور ان کے وسائل پر زبردستی قبضہ کررہے ہیں۔ نہ ان کا تمدّن ان کا گریبان پکڑتا ہے، نہ ان کی تہذیب اور قوانین ان کے ہاتھ روکتے ہیں۔ یہ نام نہاد مہذّب انسان نہیں ،انسانوں کا خالق ہی ہے جو انسانوں کو ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ ہر چیز پر اختیار رکھنے والے خالق اور مالک کا حکم ہے کہ ہرقیمت پر اور ہر حال میں انصاف کرو، چاہے تمھیں اپنے والدین یا اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ فیصلہ کرنا پڑے۔ قرآن کریم ہی میں یہ فرمایا گیا: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡ(المائدہ ۵:۸) ’’اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم عدل و انصاف چھوڑ دو۔ عدل کیا کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘۔

انصاف کا یہ معیار اللہ نے مقرر کیا ہے، جس کی عملی تفسیر اللہ کے آخری نمائندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمتھے۔ ایسا معیار تو دُور کی بات ہے اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کے درمیان کیا کبھی کسی امریکی یا یورپی حکمران نے اللہ کے قائم کردہ معیار سے سو گنا کم درجے کا بھی انصاف روا رکھا ہے؟ بالکل نہیں۔ ظاہر ہے کہ میرا شعور پکار اُٹھے گا کہ کمزور کو ہلاک کرنے والوں کا نظریہ جھوٹ اور باطل ہے اور عدل و انصاف کا حکم دینے والا ہی اصل خدا ہے۔ 

اب ذرا اس سوال کا جواب سوچیے:

دنیا میں ایک شخص سو آدمیوں کی جان بچاتا ہے یا مالی امداد کے ذریعے سینکڑوں گھرانوں کی کفالت کرتا ہے۔ دوسری جانب ایک ظالم اور قاتل فرد، ہزاروں انسانوں کو ہلاک کردیتا ہے۔ کیا دنیا میں ان دونوں کو انصاف کے مطابق جزا اور سزا دی جاسکتی ہے؟ نہیں، کبھی نہیں۔ قادرِ مطلق کی شانِ ربوبیّت کا تقاضا ہے کہ تمام فریقوں کے ساتھ کامل انصاف ہو۔ ایسے کامل انصاف کا تقاضا صرف عادلِ مطلق ہی پورا کرسکتا ہے اور وہ یومِ حساب کو پورا کرکے دکھا دے گا۔ ایسا کامل انصاف کرنا نہ دُنیا میں ممکن ہے اور نہ کسی انسان کے اختیار میں ہے۔ 

خالق نے اپنی جو صفات بتائی ہیں، انسانی ذہن توان کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا تھا۔ اب جن صفات کا علم ہوا ہے تو دل پکار اُٹھتا ہے کہ واقعی خالقِ کائنات ایسی ہی صفات کا حامل ہونا چاہیے۔

ہر وہ انسانی عمل جو انسانی تمدّن میں زہر گھولتا ہے، اس سے منع کردیا گیا۔ جھوٹ، بدعہدی، قتل، زنا، غیبت، تجارت میں بددیانتی، بہتان، حتیٰ کہ دوسروں کو برے القاب سے پکارنے اور تکبّر سے اکٹر کر چلنے تک سے منع کردیا گیا اور انسانوں پر رحم کرنے، والدین سے، عورتوں سے نرم رویّہ رکھنے اور غریبوں، مسکینوں اور حق داروں پر دل کھول کر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اُس زمانے میں عورتوں کو وراثت کا حق دار قرار دے دیا جب عورت کو زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ کیا خالق کے سوا کوئی اور صدیوں پہلے والدین اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں ایسا سوچ سکتا تھا اور انسانوں کو ایسے اعلیٰ اخلاق سکھا سکتا تھا؟ کیا انسانی عقل انصاف اور مساوات کے اتنے اعلیٰ معیار قائم کرسکتی تھی؟ ہرگز نہیں۔ 

پھر کیا کوئی انسان پورے اعتماد کے ساتھ ایسا کہہ سکتا ہے کہ کوئی پتّا بھی میرے علم کے بغیر نہیں ہلتا۔ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر مرجائے۔ اس نے موت کا وقت مقرر کررکھا ہے۔ میں جسے چاہتا ہوں رزق دیتا ہوں اور جسے چاہتا ہوں نہیں دیتا۔ اگر ایسی طاقت ور ہستی جو خود انسان کی محدود عقل کے ادراک سے باہر ہے، یہ کہتی ہے: میں نے یہ دنیا آزمائش کے لیے پیدا کی ہے۔ میں نے انسان کو سب کچھ کرنے کا ارادہ اور اختیار دیا ہے۔ مگر اس کے عمل کے مطابق اسے جزا اور سزا دوں گا___ تو ہر صاحبِ عقل کا دل گواہی دیتا ہے کہ اُس عظیم الشان شہنشاہ کو ایسا کرنے کا اختیار ہے۔ 

حیرت ہے کہ ہم جو مقامی حاکم سے اس کے غیر قانونی احکامات کے بارے میں پوچھنے تک کی ہمّت نہیں رکھتے، مگر خالقِ کائنات سے انسانوں کی آزمائش کی حکمت پوچھنے پر اصرار کرتے رہتے ہیں؟ ہر انسان کا فرض ہے کہ اس عظیم الشان ہستی کا مقامِ ربّانی تسلیم کرے اور اپنے آپ کو اس کی غلامی میں دے دے۔ مگر اس کی شانِ کریمی ملاخطہ کریں کہ وہ بار بار کہتا ہے کہ لاتعداد گناہ کرنے والا شخص بھی اگر سچّے دل سے توبہ کرکے اس سے معافی مانگ لے تو وہ اسے معاف کردے گا۔ یہ کسی انسان کی نہیں صرف رحمان کی صفت ہی ہوسکتی ہے۔ 

اس موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، یہ تحریر سمندر کا ایک قطرہ بھی نہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی شخص بلاتعصّب، خالی ذہن کے ساتھ کلامِ الٰہی کا مطالعہ کرے تو وہ ملحد رہ ہی نہیں سکتا۔ 

پچھلی چند دہائیوں میں ایک خیال بار بار سامنے آیا ہے کہ تاریخ اپنے انجام تک پہنچ چکی ہے۔ مغربی تہذیب کو فیصلہ کن تہذیب قرار دیا جا رہا ہے، اور باقی سب کو ماضی کا نوحہ سمجھا جا رہا ہے۔ کچھ مفکرین نے اس خیال کو باقاعدہ نظریات کی شکل دی۔ فرانسس فوکویاما نے کہا کہ ’تاریخ ختم ہو چکی ہے‘۔ سیموئل ہن ٹنگٹن نے کہا کہ ’دنیا تہذیبوں کے تصادم کی طرف جا رہی ہے‘۔اور برنارڈ لیوس نے مسلم دنیا سے ایک سوال پوچھا: ’What Went Wrong ‘(یہ ان کی تصنیف بھی ہے )۔

بظاہر یہ ایک سادہ سوال ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا فکری سانچا ( فریم ورک) چھپا ہوا ہے۔یہ سوال صرف باہر سے نہیں آیا ہے بلکہ اب ہم میں سے بھی کچھ لوگ انھی فکری سانچوں میں سوچنے لگے ہیں۔ جنھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے:’’ مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا، اب قیادت کسی اور کے ہاتھ میں ہے، اور ہمیں فاتحین کے ساتھ جینا سیکھنا چاہیے‘‘۔ یعنی کیا واقعی اسلام اب ایک ماضی بن چکا ہے؟ اور کیا ہم ایک Post-Ummah World (ما بعد امت دنیا) میں جی رہے ہیں؟

’مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا؟‘ اپنی جگہ یہ کوئی سرسری سا جملہ نہیں ہے۔ یہ دراصل تین سطحوں پر ایک مکمل دعویٰ ہے: ایک تاریخی دعویٰ، ایک فلسفیانہ دعویٰ، اور ایک اعتقادی دعویٰ کہ اسلام اپنا کام کر چکا ہے اور اب اس کی افادیت جاتی رہی ہے۔

اگر یہ دعویٰ مان لیا جائے، تو قرآن صرف ایک کتاب رہ جائے گا، امت ایک یاد بن جائے گی، اور اسلام ایک زندہ قوت کے بجائے محض ایک تاریخی حوالہ بن کر رہ جائے گا۔ لہٰذا، سوال یہ نہیں کہ یہ بات ہمیں اچھی لگتی ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے: یہ بات آئی کہاں سے؟

برنارڈ لیوس کا سوال What Went Wrong  بظاہرایک تشخیص ہے، مگر اس کے اندر ایک مفروضہ پہلے سے موجود ہے کہ ’’آپ کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب آپ صرف اپنی غلطیوں کو سمجھ سکتے ہیں‘‘۔ مگر سوال یہ ہے: ’’کیا واقعی مسئلہ یہ تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی؟ یا مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے زوال کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنی تقدیرمان لیا؟‘‘

جب فوکویاما نے کہا کہ ’تاریخ ختم ہو چکی ہے‘، تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ ایک نظام جیت گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ باقی سب اب کوئی حقیقی متبادل نہیں رہے۔

اور جب ہن ٹنگٹن نے کہا کہ ’تہذیبیں ٹکرائیں گی‘، تو بالواسطہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ ’کچھ تہذیبیں باقی نہیں رہیں گی‘۔

اسی فکری سانچے میں اسلام کو بھی خاموشی سے ایک ’زندہ قوت‘ سے ’ایک تاریخی مثال‘ میں بدل دیا گیا۔اور خطرناک بات یہ ہے کہ ہم نے بھی یہی مان لیا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے خود کہنا شروع کر دیا: ’’ہم زوال کا شکار ہیں‘‘،’’ہم ختم ہو گئے‘‘، ’’اب ہماری باری نہیں رہی‘‘۔

مسئلہ یہ نہیں کہ لیوس نے سوال پوچھا، یا فوکویاما نے نظریہ دیا، یا ہن ٹنگٹن نے فریم بنایا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے فکری سانچے کے اندر کھڑے ہو کر خود کو دیکھنا شروع کر دیا۔

سب سے پہلے تاریخ کو ایک پیٹرن [مفروضہ اصول] میں ڈالا گیا: عروج، کمال، اور پھر زوال۔ یعنی رومی تہذیب آئی اور پھر زوال کا شکار ہوگئی ، فارس آیا اور چلا گیا، عثمانی آئے اور چلے گئے۔ اور پھر ایک جملہ خاموشی سے شامل کر دیا گیا: ’’اسلام بھی ایک مرحلہ تھا‘‘۔

یہی وجہ موڑ ہے جہاں پہلی فکری خیانت (intellectual betrayal) ہوئی۔ اسلام کو تہذیب بنا دیا گیا، حالانکہ اسلام تہذیب نہیں ہے، —اسلام ایک مشن ہے۔

تہذیبیں آتی ہیں اور جاتی ہیں، جب کہ مشن یا تو پورا ہوتا ہے یا نامکمل رہ جاتا ہے۔ تہذیب بدل جاتی ہے، جب کہ مشن ترک ہو جاتا ہے۔ تہذیب زمانے کی پیداوار ہوتی ہے، جب کہ مشن زمانے کو بدلنے کے لیے آتا ہے۔

اور ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اسلام کو تہذیب کے خانے میں ڈال دیا، اور پھر خود ہی اعلان کرنا شروع کر دیا:’ہم ختم ہو گئے‘۔ پھر جدید دنیا آئی، اور اس نے کہا کہ ’آزاد خیال نظام (لبرلزم) آخری حد ہے، جدید ریاست آخری منزل ہے، اور باقی سب تاریخ ہیں۔ اسی فکری سانچے میں اسلام کو بھی ایک زندہ قوت سے ایک نوادراتی شے اور ماضی کے ورثے میں بدل دیا گیا۔

اور سب سے خطرناک لمحہ وہ تھا، جب ہم نے خود کہنا شروع کر دیا:’’یہ سنت ِ الٰہی ہے… قومیں آتی ہیں، جاتی ہیں… ہماری باری ختم ہو گئی…‘‘

مگر یہ قرآن نے نہیں کہا، یہ رسولؐ نے نہیں کہا۔ یہ ایک کہانی ہے جو ہمیں سنائی گئی، اور ہم نے اسے مان لیا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں غلط بتایا گیا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خود اپنے بارے میں غلط سوچنا شروع کر دیا۔ ہم نے اسلام کو غلط خانے میں رکھ دیا، اور امت کو ایک تہذیب سمجھ لیا، حالانکہ اُمت ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے، اور اللہ کی طرف سے ایک سپرد کردہ مشن ہے۔اسی لیے مسلمانوں کا زوال ان کے مشن کے خاتمے کی دلیل نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنی جگہ خالی کر دی۔ اور جب وہ اپنے مقام سے ہٹے تو خلا پیدا ہوا، اور جب خلا پیدا ہوا تو اسے اُن طاقتوں نے بھرا جنھوں نے دنیا کو منڈی بنایا، انسان کو وسیلہ بنا دیا، اور زمین کو لوٹ مار کا میدان بنا دیا۔

یہیں سے سوال بدل جاتا ہے: ’کیا مسلمان ختم ہو گئے؟ یا دنیا غلط ہاتھوں میں چلی گئی؟‘ سچ یہ ہے کہ امت ختم نہیں ہوئی، امت صرف سو گئی ہے۔ مشن ختم نہیں ہوا، بلکہ ذمہ داری چھوڑ دی گئی ہے۔ اور جب امت جاگے گی تو دنیا کو کوئی نئی تہذیب نہیں ملے گی، بلکہ وہی پرانا سچ دوبارہ یاد آئے گا۔

اب یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے۔ پچھلے دو سو سال سے ہم ایک ہی سوال دُہرا رہے ہیں: ’ہم کہاں غلط ہوئے؟‘ بظاہر یہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ سوال ہے، لیکن شاید اسی سوال نے کچھ لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیا کہ ہم بھی ایک تہذیب تھے، جو اَب ختم ہو چکی ہے۔ یعنی سوال شروع ہونے سے پہلے ہی نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ ہم ختم ہو چکے ہیں۔ حالانکہ ہم تشخیص کر رہے تھے، مگر اسے یوں سمجھا گیا جیسے ہم اپنی موت کا اعتراف کر رہے ہوں۔

شاید اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ آج بھی ہم ایک ذہنی کیفیت میں زندہ ہیں، ایک ایسی کیفیت جس میں ہم دوسروں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ جہاں ترقی کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ پہلے مغرب کی نقل کی جائے، اور پھر ایک دن اسے پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اس دوڑ میں ہم نے ایک بنیادی چیز کھو دی: ’سمت‘۔ ہم نے رفتار حاصل کر لی، مگر سمت کھو دی۔

پھر ایک اور بڑا حادثہ پیش آیا: اسلام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ’متوارث اسلام‘، جو کتابوں میں محفوظ ہے، اور ایک ’پیمبرانہ یا منزل اسلام‘، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ یہ دونوں ایک ہی عمارت کی دو منزلیں بن گئیں، مگر ان کے درمیان کوئی سیڑھی باقی نہ رہی۔ ہم نیچے کھڑے ہیں، اوپر دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اوپر روشنی ہے، مگر ہم وہاں تک پہنچ نہیں پارہے۔ اسی مخمصے کا تذکرہ میں نے اپنی کتاب Where We Went Wrong?میں کیا ہے ، ملاحظہ کیجیے گا۔

اصل مسئلہ زوال نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے منبعے سے تعلق کھو دیا۔ قرآن ہمارے پاس ہے، مگر ہم قرآن کے ساتھ نہیں ہیں۔ ہم روایت میں پھنس گئے یا مغرب میں کھوگئے، اور اسلام درمیان میں رہ گیا۔ ہم نے اسلام کو تہذیب سمجھ لیا، حالانکہ اسلام ایک زندہ حقیقت ہے، ایک جاری دعوت ہے، اور ایک ایسا مشن ہے جو ہر دور میں خود کو نئے سرے سے ظاہر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اگر یہ بات درست ہے کہ فضیلت مشن سے جڑی ہوتی ہے، تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ قرآن تو ہمیں بنی اسرائیل کی داستان بار بار سناتا ہے، مگر صرف تاریخ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک شفاف آئینے کے طور پر۔

قرآن کہتا ہے: وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝۴۷ (البقرہ ۲:۴۷)، مگر یہ فضیلت نہ نسلی تھی، نہ دائمی، یہ کتاب، ہدایت، اور مشن کی بنیاد پر تھی۔ پھر قرآن کہتا ہے: فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّيْثَاقَہُمْ لَعَنّٰہُمْ (المائدہ ۵:۱۳)، انھوں نے عہد توڑا، احکام چھوڑے، اور کتاب کو بدل دیا۔ مگر مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کتاب ختم ہو گئی، مسئلہ یہ تھا کہ کتاب کے ساتھ تعلق ختم ہو گیا۔ پھر قرآن ایک مثال دیتا ہے: كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا۝۰ۭ (الجمعۃ ۶۲:۵) کتاب موجود مگر قیادت ختم، علم موجود مگر عمل مفقود ، متن موجود مگر مشن غائب!

پھر سورئہ بنی اسرائیل میں ایک مثال بیان کی جاتی ہے: فساد، پھر سزا، اور پھر واپسی کا موقع۔ قرآن بنی اسرائیل کی تاریخ کے ذریعے یہ دکھاتا ہے کہ جب وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو ان پر عذاب آتا ہے، ان کی قوت چھن جاتی ہے، اور انھیں مغلوب کر دیا جاتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی ان کے لیے واپسی کا دروازہ بند نہیں کیا جاتا، بلکہ انھیں دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

لہٰذا، اصول واضح ہے: فضیلت قوم کی نہیں، مشن کی ہوتی ہے۔

اب سوال یہ ہے: اگر ہم بھی اپنا مشن چھوڑ دیں، تو کیا ہم باقی رہیں گے؟ یا ہم بھی ایک تاریخی حوالہ بن جائیں گے؟فرق یہ ہے کہ ہمارے پاس قرآن محفوظ ہے، مکمل ہے، اور غیر متبدل ہے۔ یعنی ہمارا تجدیدی منبع زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ختم نہیں ہو سکتے، ہم صرف بھٹک سکتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے لوگ دوبارہ  واپس آ سکتے ہیں۔لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا، وہ قرآن کی غلط تعبیر کر رہے ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ تم ختم ہو جاؤ گے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ تم بھٹک سکتے ہو، اور واپس بھی آ سکتے ہو۔

اب آخری سوال: اگر امت ختم نہیں ہو سکتی، تو اس کا کردار کیا ہے؟

قرآن کہتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ  (الاحزاب ۳۳:۴۰)محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آخری نبی ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اب کوئی نئی وحی نہیں آئے گی کوئی نیا رسول نہیں آئے گا تو پھر ہدایت کا سلسلہ کیسے چلے گا؟ یہی امت اس مشن کو آگے لے جائے گی۔ قرآن امت کو کیسے بیان (define )کرتا ہے؟ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (اٰل عمران ۳:۱۱۰)’’تم برپا کی گئی ہو لوگوں کے لیے‘‘ اور پھر: لِّتَكُونُوا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ (البقرہ ۲:۱۴۳)’’تم گواہ ہو انسانیت پر‘‘۔ یہ کوئی historical role (تاریخی فریضہ)نہیں ہے۔ یہ ایک مسلسل (ongoing ) ذمہ داری ہے۔ جب تک انسان ہیں یہ ذمہ داری باقی ہے۔ اب ان سب کو جوڑیں اگر: نبی آخری ہے، کتاب آخری ہے، پیغامِ آفاقی (universal ) ہے، ذمہ داری جاری ہے تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ اُمت کا مشن بھی آخری اور جاری ہے۔ لہٰذا: ’امت کا وقت ختم ہوگیا‘ یہ صرف غلط نہیں، یہ ایک فکری تضاد (theological contradiction) ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ امت ختم ہو گئی، اصل مسئلہ یہ ہے کہ امت نے خود کو ایک تہذیب سمجھ لیا،جب کہ وہ ایک ذمہ داری تھی۔ اُمت ختم نہیں ہوئی، وہ صرف سو گئی ہے۔ اور جب امت سوجائے، تو لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو۔لہٰذا، سوال یہ نہیں کہ ہمارا وقت ختم ہو گیا، سوال یہ ہے: کیا ہم جاگنے کے لیے تیار ہیں؟ سچ یہ ہے: امت ختم نہیں ہوئی، ہم نے خود کو ختم شد سمجھ لیا۔ اور جب انسان خود کو ختم شد سمجھ لے، تو وہ زندہ ہو کر بھی… زندہ نہیں رہتا۔[ویڈیو ٹرانسکرپٹ پر مبنی]

مساجد میں خواتین کی آمد کا مسئلہ اسلام کی ان لطیف تعلیمات میں سے ہے جو عورت کو اسلامی معاشرہ میں ایک خاص درجہ عطا کرتی ہیں۔ اسلام میں عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسجد جاکر نماز ادا کرسکتی ہے، خطبۂ جمعہ سن سکتی ہے، اس سے نہ کوئی اُسے روک سکتا ہے، نہ اس پر کوئی اسے مجبور کرسکتا ہے۔ خواتین کے بارے میں رخصت و نرمی یہی وہ وسعت و کشادگی ہے جو اسلام کی روح ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج کل رخصت کو حرمت کا جامہ پہنا دیا گیا ہے اور جو نرمی عطا کی گئی تھی وہ سختی میں بدل دی گئی ہے۔

ایسے دور میں جب خواتین معاشرے میں متحرک کردار ادا کر رہی ہیں، ان کو مسجدوں سے دُور رکھنا نفع سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ جب فقہی رعایت کو پابندی کا جامہ پہنادیا جائے تو راستے بند ہونے لگتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ اس مسئلے کا اسلامی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔

قرآنِ حکیم کی رہنمائی

قرآنِ مجید میں کسی مقام پر بھی عورتوں کو نماز کے لیے مسجد میں آنے سے منع نہیں کیا گیا۔ اقامتِ صلوٰۃ (نماز قائم کرنے) کے فریضہ کی دونوں اصناف یکساں طور پر مکلف ہیں۔ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ (اور تم سب نماز کو قائم کرو) کا قرآنی حکم مرد و زن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا بلکہ دونوں اصناف کو یکساں طور پر مخاطب کرتا ہے۔اذان کے الفاظ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ،حَیَّ عَلَی الفَلَاح، یعنی ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ فلاح کی طرف‘‘ کی صدا بھی ہر مومن، خواہ مرد ہو یا عورت کو مخاطب کرتی ہے کہ وہ اس ندا پر لبیک کہے۔

فقہاء و مفسرین کے مطابق جو چیز واضح طور پر حرام نہ ہو، وہ شرعاً مباح شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ جب قرآن کریم عورتوں کے مسجد جانے کو ممنوع قرار نہیں دیتا تو یہ ایک ’مباح (جائز) امر ہے۔

علاوہ ازیں، قرآنِ کریم مریم علیہا السلام کا ذکر بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ کرتا ہے اور انھیں مومنین کے لیے ایک بہترین نمونہ قرار دیتا ہے (التحریم ۶۶:۱۲)۔ اللہ ربّ العزت نے مریم علیہا السلام کی ولادت سے قبل ان کی والدہ کا اپنے رحم میں موجود بچّے کو اللہ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی منت ماننے اور ولادت پر والدہ کی طرف سے مریم نام رکھنے اور مریم اور اس کی ذُریت کو شیطان رجیم سے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی پناہ میں دینے کا ذکر فرماتے ہوئے  فرمایا: فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَـنًا۝۰ۙ وَّكَفَّلَہَا  زَكَرِيَّا۝۰ۭۚ (اٰلِ عمٰرن ۳:۳۷) ’’پس اس کے رب نے اسے حسنِ قبولیت کے ساتھ قبول فرمایا اور اس کی نشو و نما بھی بڑی خوبی سے کی۔اس کی کفالت (سرپرستی) زکریاؑ کے سپرد ہوئی‘‘۔

مریم علیہا السلام کا زیادہ وقت محراب (مسجد سے ملحق تخلیہ میں اللہ کی یاد کے لیے جگہ) میں گزرتا۔ قرآن کریم اس حقیقت کا بھی ذکر فرماتا ہے کہ مریم علیہا السلام کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے ہدایت دی گئی: يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ۝۴۳ (اٰل عمرٰن ۳:۴۳) ’’اے مریمؑ یکسوئی اور عاجزی سے اپنے ربّ کی اطاعت کرتی رہو، اور سجدہ و رکوع کرنے والوں کے ساتھ سجدہ و رکوع کرتی رہو‘‘ (یعنی باجماعت نماز کا اہتمام رکھو)۔

احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:’’اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو، البتہ ان کے لیے ان کا گھر بہتر ہے‘‘۔ (ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ، حدیث: ۴۸۵)

یہ ایک حکیمانہ ارشاد ہے۔ افسوس کہ آج اس حدیثِ مبارکہ کے صرف آدھے حصے کو بنیاد بنا کر رائے قائم کی جاتی ہے۔ جو حضرات عورتوں کو مسجد جانے کا حق دینا چاہتے ہیں، وہ صرف ’مت روکو‘ کا پہلو اُجاگر کرتے ہیں، اور جو اس کے خلاف ہیں، وہ ’گھر بہتر ہے‘ کو اپنے لیے حجت بناتے ہیں۔حالانکہ ’گھر بہتر ہے‘ کا مطلب یہ نہیں کہ مسجد عورت کے لیے نا موزوں یا مضر جگہ ہے۔ بہت سی عبادات کے بارے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’یہ تمھارے لیے افضل ہے‘ فرمایا، مگر اس سے دوسرے اعمال کی نفی مقصود نہیں تھی۔ 

صحابۂ کرامؓ کا طرزِ عمل

عبداللہ بن عمرؓ کی ایک روایت میں واقعہ آتا ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورتوں کو رات کے وقت مسجد جانے کی اجازت دو‘‘۔ان کے بیٹے (بلال) نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! ہم انھیں اجازت نہیں دیں گے، ورنہ وہ فساد پھیلائیں گی‘‘۔ [بیٹے کے اس جواب پر] ابنِ عمرؓ سخت برہم ہوئے اور فرمایا: ’’میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنا رہا ہوں اور تم اس کے برخلاف فتویٰ دے رہے ہو!‘‘(روایت: صحیح الاسناد، علامہ البانی)

 صحابہ کرامؓ کا طرزِ فکر یہ تھا کہ جب معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے واضح ہو گیا ہو تو کسی رائے یا قیاس کی گنجائش باقی نہ رہی۔

صف بندی اور دیگر آداب و احکام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے صف بندی کے آداب اس انداز میں سکھائے کہ خواتین کے لیے سہولت، احترام اور مساوی مواقع یقینی بن جائیں۔ آپ فرض نماز کے بعد کم از کم اتنی دیر اپنی جگہ پر تشریف فرما رہتے کہ جتنی دیر میں خواتین پہلے مسجد سے نکل جائیں، اور مردوں کے ساتھ اختلاط کا احتمال باقی نہ رہے۔

اُم المومنین اُمِ سلمہؓ فرماتی ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو خواتین فوراً اُٹھ کھڑی ہوتیں، اور آپ کچھ دیر ٹھیرے رہتے تاکہ عورتیں آسانی سے نکل جائیں‘‘۔ (بخاری)

اُم المومنین  عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مسجد میں بنی ٹھنی اِتراتی ہوئی داخل ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’لوگو! اپنی عورتوں سے کہو کہ زینت کے ساتھ اور فخر و غرور کے انداز میں مسجدوں میں نہ آیا کریں، کیونکہ بنی اسرائیل پر لعنت اسی وقت شروع ہوئی جب وہ زینت و آرائش کے ساتھ عبادت گاہوں میں فخر سے چلنے لگے‘‘۔ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، حدیث: ۳۹۹۹)

انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ قرأت طویل کروں، لیکن جب کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بچے کا رونا اس کی ماں کے لیے باعثِ تکلیف ہوگا‘‘۔ (بخاری، کتاب الاذان، حدیث: ۸۴۴)

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو عورتوں کو بچوں سمیت مسجد نہ آنے کا مشورہ دے سکتے تھے تاکہ دیگر نمازیوں کی عبادت میں خلل واقع نہ ہو، لیکن آپؐ نے ایسا نہیں فرمایا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؐ نے مسجد میں عورتوں کی موجودگی کو قبول کیا بلکہ ان کی رعایت فرمائی۔

ایک اور روایت میں انسؓ بیان کرتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے۔ آپ نے پوچھا:’’یہ رسی کیسی ہے؟‘‘عرض کیا گیا: ’’یہ زینب کی رسی ہے، جب وہ تھک جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں‘‘۔

آپؐ نے فرمایا: ’’اسے کھول دو، تم میں سے ہر شخص اپنی تندرستی و چستی کی حالت میں نماز ادا کرے اور جب تھک جائے تو آرام کرے‘‘۔ (مسلم، کتاب صلوٰۃ المسافرین، حدیث: ۱۳۴۶)

امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کا مسجد میں نفل نماز ادا کرنا بھی جائز ہے، اور اگر یہ ناجائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی وضاحت فرماتے۔

صحابیات کا مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا

یہ بھی متعدد صحیح روایتوں سے ثابت ہے کہ صحابیات مسجد نبوی میں جنازے کی نماز ادا کرتی تھیں۔ ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ جب سعدؓ بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ نے فرمایا کہ ان کا جنازہ مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی نمازِ جنازہ ادا کرسکیں۔ چنانچہ ان کا جنازہ اَزواجِ مطہراتؓ کے حجروں کے سامنے رکھا گیا اور آپؐ کی اَزواج نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی۔(مسلم، کتاب الجنائز، حدیث:۱۶۶۹)

سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز میں عورتوں کی شرکت

فاطمہؓ بنت منذر روایت کرتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکرؓ نے فرمایا:میں سورج گرہن کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ عائشہؓ کے پاس گئی۔ لوگ اس وقت نماز میں مشغول تھے اور وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا: ’لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟‘ انھوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ’سبحان اللہ‘۔ میں نے کہا: ’کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟‘ انھوں نے اثبات میں اشارہ کیا۔اسماءؓ کہتی ہیں:میں بھی نماز میں کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ بے ہوش ہوگئی، پھر میں نے اپنے سر پر پانی ڈالا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: میں نے اس جگہ وہ کچھ دیکھا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، جنت اور دوزخ بھی دیکھی (بخاری، کتاب الوضوء، حدیث: ۱۸۱)

اُم المومنین عائشہؓ کا یہ قول کہ:’’اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے بعد کے حالات دیکھ لیتے تو یقیناً انھیں مسجدوں میں جانے سے روک دیتے‘‘ (بخاری)،دراصل خواتین کو اپنے معاملات اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کے لیے تنبیہ ہے، نہ کہ عورتوں کے مسجد آنے پر پابندی کی دلیل۔ اُم المومنین عائشہؓ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ عورتوں کو مسجد آنے سے روکیں بلکہ ان کا مدعا یہ تھا کہ وہ عورتوں کو مسجد میں جانے کے آداب یاد دلائیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی تنبیہ کی ایک مثال قبیلہ مزینہ کی ایک عورت کے بن ٹھن کر اِتراتے ہوئے مسجد نبویؐ میں داخل ہونے پر آپؐ کے ارشادگرامی کی صورت میں اُوپر بیان ہوچکی ہے۔ حضرت عائشہؓ خود بھی مسجد جاتی تھیں اور ان سے کبھی کسی خاتون کو مسجد جانے سے روکنے کی کوئی روایت منقول نہیں ہے۔

’فتنے‘ کا اندیشہ خواتین کو مسجد جانے سے روکنے کا ایک سبب بتایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فتنوں کے امکانات کہیں زیادہ تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مسجد آنے سے نہیں روکا۔

آج صورتِ معاملہ یہ ہے کہ عورتیں بازار، شاپنگ مال، سڑکوں اور تفریح گاہوں میں تو کھلے عام جا سکتی ہیں، لیکن مسجد میں نہیں۔ خاص طور پر مغرب کی نماز کے وقت بازاروں میں دیکھا گیا ہے کہ مرد تو قریب کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں،اور عورتیں بازار کی گلیوں میں گھومتی رہتی ہیں، یہ ہے کہ مغرب کا وقت مختصر ہوتا ہے، اور نماز کے فوت ہوجانے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔

اگر مساجد میں عورتوں کے لیے نماز ادا کرنے کی باپردہ جگہ کی سہولت ہو تو ایسے موقع پر وہ نہ صرف نماز ادا کرسکتی ہیں بلکہ ان کے دل میں اللہ اور رسولؐ کے احکام پر عمل کی اہمیت کا احساس تازہ ہو سکتا ہے اور خریداری میں بھی اعتدال اور تقویٰ آ سکتا ہے۔اگرچہ بعض بازاروں میں عورتوں کے لیے مسجد میں الگ جگہ فراہم کی گئی ہے مگر ایسی سہولتیں بہت کم ہیں۔

بعض صحابہ کرامؓ کو عورتوں کے مسجد میں جانے سے اختلاف تھا، ان میں امیرالمومنین عمرؓ بن الخطاب بھی شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی اہلیہ عاتکہؓ بنت زید مسجد جایا کرتی تھیں۔  کسی نے ان [عاتکہ]سے پوچھا:’’جب آپ کے شوہر پسند نہیں کرتے تو آپ مسجد کیوں جاتی ہیں؟‘‘ انھوں نے بڑے خوب صورت انداز میں جواب دیا:’’تو پھر وہ مجھے روکتے کیوں نہیں؟‘‘ سائل نے کہا:’’کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے‘‘۔

عاتکہ بنت زیدؓ فجر کی نماز کے وقت مسجد میں موجود تھیں، جب امیرالمومنین عمرؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا (بخاری)۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عورتیں صرف جمعہ یا عید کی نماز کے لیے نہیں بلکہ پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے بھی مسجد آیا کرتی تھیں۔

مسجد روحانی تربیت کا ذریعہ 

قرآن و سنت کے مطابق اسلامی تعلیمات کا علم حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی اخلاقی اور روحانی تربیت کرنا مردوں اور عورتوں دونوں پر فرض ہے۔ مسجد ہمیشہ سے اخلاقی اور روحانی تعلیم و تربیت کا مرکز رہی ہے۔ مساجد میں عورتوں کی شرکت نہ صرف خواتین کی روحانی ترقی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ پورے خاندان اور پھر پورے معاشرے کی روحانی نشوونما کا سبب بن سکتی ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مساجد کو عورتوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت اورسماجی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے۔ 

نماز میں شرکت، قرآن کی تعلیمات کا مطالعہ، جمعہ کا خطبہ سننا، امام کی تلاوت سننا، اور دیگر روحانی سرگرمیوں میں شامل ہو کر عورتیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے اپنا تعلق مزید گہرا کرسکتی ہیں۔ فی زمانہ اسلامی تعلیم ہر گھر میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے فراہم نہیں کی جاتی۔ اس لیے اگر مسجد میں ہونے والی سرگرمیاں سب کے لیے بآسانی قابل رسائی بنادی جائیں تو سیکھنے کا عمل خود بخود جاری رہے گا۔ جمعہ کے خطبے میں تقویٰ یعنی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ہمہ وقت حاضر و ناظر ہونے کے شعور و احساس کو ہمیشہ قلب و فکر پر طاری رکھنے پر زور دیا جاتا ہے جو تزکیۂ نفس کے لیے لازمی بنیاد ہے۔ مسجد کی فضا بابرکت ہوتی ہے، لہٰذا مسجد کا ماحول یکسوئی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ صدیوں تک عورتیں نہ صرف نماز کے لیے بلکہ اسلامی تعلیم و تربیت کے لیے بھی مساجد جاتی رہی ہیں۔ خصوصاً مسجدِ حرام، مسجدِ نبویؐ، مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ اُموی وغیرہ میں خواتین کی اسلامی تعلیم و تربیت کے حلقے فعال ہوتے تھے۔

’صحبت صالح تُرا صالح کُند‘ کے مصداق مسجد میں موجود نیک خواتین کو دیکھ کر روحانی تحریک ملتی ہے۔ انسانی رویوں اور کردار پر صحبت کے گہرے اور دُور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس حقیقت کی ناطق بالوحی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح الفاظ میں تعلیم و تلقین فرمائی: اَلْمَرءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ أَحْدُکُمْ مَن یُخَالُ(سنن ابوداؤد) ’’آدمی اپنے دوست کے طریق زندگی (دین) پر ہی [پروان چڑھتا] ہے۔ پس اچھی طرح دیکھ لو کہ تم سے کوئی کس کے ساتھ میل جول رکھتا ہے‘‘۔مسجد میں عمر رسیدہ اور متقی خواتین کی موجودگی دیگر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو نیکی کی جانب مائل کرتی ہے۔ ایسی خواتین محض اپنی موجودگی سے ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو یاد دہانی کے ذریعے بھی اسلامی کلچر اور ورثے کو فروغ دیتی ہیں۔

فہمِ دین اور سماجی و سیاسی شعور کی ترقی

مسجد مسلمانوں کے اجتماعی و انفرادی معاملات و مسائل پر غوروخوض کرکے ان کا حل تلاش کرنے کے لیے مشاورت کا اسلامی عوامی مقام ہے۔ اگر عورتیں تربیت یافتہ ہوں گی تو پورے معاشرے میں تربیت کے لیے ماحول سازگار ہوجائے گا جو اگلی نسل کی تربیت اور ان کی معاشرتی شمولیت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جس سے اسلام کے جامع فہم کی روشنی میں سماجی ہم آہنگی بھی فروغ پاتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی و تربیتی مجالس میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں۔ اُم المومنین عائشہؓ نے انصار کی خواتین کے بارے میں فرمایا: ’’انصار کی عورتیں کتنی بہترین ہیں! ان کی شرم و حیا اسلامی طرزِ زندگی [کے احکام] سیکھنے میں ان کے آڑے نہیں آتی‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث:۱۲۹)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے علیحدہ وقت بھی مقرر فرمایا کرتے، تاکہ وہ دین اسلام کی تعلیم اور شعور حاصل کر سکیں۔ ایک موقع پر عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں: مرد آپ سے سارا وقت لے لیتے ہیں، ہمارے لیے آپ کوئی دن مقرر فرما دیجیے۔ آپؐ نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمایا۔ اس دن   ان سے ملاقات کی، انھیں وعظ کیا اور نصیحتیں فرمائیں‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث:۱۰۱)

عید کے موقع پر ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ خواتین خطبہ صحیح طرح سے نہیں سن پائیں، تو آپؐ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انھیں وعظ فرمایا، متعدد اسلامی تعلیمات کی یاد دہانی کرائی جن میں صدقے کی تلقین بھی شامل تھی‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث: ۹۸)

دستیاب وسائل سے کام لیا جائے

خواتین کی جامع اسلامی تعلیم و تربیت کے لیے الگ سہولیات مہیا کرنا آج کے تیزرفتار دور میں ایک مشکل معاشی معاملہ ہے۔ مگر وسائل کی کمی یا غربت کو موردِ الزام ٹھیرا کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا بھی درست طرزِ عمل نہیں۔ مسلم سماجی رہنماؤں اور علمائے کرام کو چاہیے کہ جو وسائل بھی میسر ہیں، اسی کے بہترین استعمال کے طریقے تلاش کریں۔

مسجد جیسے عظیم الشان منصوبے پر بھاری سرمایہ خرچ کرنے کے بعد اگر وہ پورے دن میں صرف پانچ وقت کی نمازِباجماعت، اور وہ بھی صرف مردوں کے لیے ہی ، استعمال ہو تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

ایسی صورتِ حال میں دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ مساجد کو مسلم کمیونٹی کی خواتین و حضرات اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے ذریعے ان کے فکرونظر، قلب و ذہن و شخصیات اور انفرادی و اجتماعی معاملات کی تطہیرو تزکیہ کا مرکز بنایا جائے۔ یاد رکھیں کہ یہی مدینہ ماڈل ہے۔ آغاز میں مہاجرین و انصار معاشی طور پر کم زور، سماجی طور پر پس ماندہ اور اندرونی و بیرونی خطرات میں گھرے ہوئے تھے مگر وہاں کی مساجد مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے تعلیم و تربیت اور تزکیہ کا مرکز تھیں، جس کے نتیجے میں وہ شخصی، خاندانی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط اور باوقار قوم میں ڈھل گئے۔ آج بھی مساجد میں تعلیم و تربیت و تزکیہ کے باقاعدہ منظم اہتمام کے ذریعے خواتین و حضرات اور نئی نسل کے اعتماد، دینی شعور اور حوصلے میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے جو کمیونٹی کی مجموعی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

چند عملی تجاویز

  • مساجد میں کشادہ  جگہ کی فراہمی: مساجد میں خواتین اور نسل نو کی روحانی نشوونما، علمی تسکین اور تربیت و تزکیہ کے لیے باوقار اور کشادہ جگہ کی فراہمی کا اہتمام ضروری ہے۔ یہ جگہیں تنگ، بند، بے ہوا اور غیر آرام دہ نہیں ہونی چاہئیں۔ صفائی اور حُسنِ ترتیب کا مناسب اہتمام ہو۔ ان مقامات کی ترتیب ایسی ہو کہ خواتین خود بھی ان مقامات پر درسِ قرآن اور مختلف تربیتی پروگرام منعقد کرسکیں۔
  •  موزوں ساؤنڈ سسٹم کی فراہمی: ساؤنڈ سسٹم میں نقص نہیں ہونا چاہیے تاکہ  امام کی آواز خطبے یا نماز میں خواتین کو بھی صاف سنائی دے سکے۔
  • محفوظ ،  الگ اور آرام دہ دروازے: یہ بہت ضروری ہے کیونکہ خواتین بچوں کے ساتھ آتی ہیں اور بڑی عمر کی خواتین کے لیے بھی عام راستے مشکل ہوتے ہیں۔ الگ اور آسان راستہ مردوں سے اختلاط سے بچاؤ کی بنیادی اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔
  • مسجد کی صفائی و نگہداشت میں شمولیت: مساجد کے انتظام و انصرام میں اکثر خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مساجد اور خصوصاً خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص جگہوں کی اچھی طرح صفائی نہیں ہوپاتی، گرد و غبار جمع ہوتا رہتا ہے اور صفائی ناقص ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین مسجد آنا چھوڑ دیتی ہیں۔ اس کا آسان حل یہ ہے کہ خواتین اور بچوں میں اس حوالے سے شعور بیدار کیا جائے اور انھیں صفائی و نگہداشت میں شریک کیا جائے۔ ان مساجد میں جہاں ایسا کیا گیا وہاں مثبت نتائج دیکھے گئے ہیں۔
  • شادی اور خاندانی مسائل پر مشاورت کا مرکز: مسجد کو شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے مسائل پر مشاورت کا مرکز بنایا جائے ۔صرف لڑکیوں کے لیےہی نہیں بلکہ لڑکوں اور ان کے خاندانوں کے لیے بھی۔ نکاح سے پہلے مسجد اس امر کو یقینی بنائے کہ دولھا اور دلھن دونوں قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی خاندان کو چلانے کی تعلیم سے آشنا ہوں۔آج کل نوجوان اپنے حقوق سے تو کسی حد تک آگاہی حاصل کرہی لیتے ہیں، جو اگرچہ عموماً ناقص ہی ہوتی ہے، مگر فرائض سے اکثر غافل ہی رہتے ہیں۔ اس حوالے سے لڑکیوں اور لڑکوں میں تعلیم و تربیت و تزکیہ کے ذریعے متوازن شعور پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس بنیادی اسلامی سماجی ذمہ داری کی ادائیگی میں، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم و تربیت و تزکیہ میں خواتین کو مختلف حیثیتوں سے شامل کرنا اَزحد ضروری اور مفید ہے۔ خانگی تنازعات کے حل میں خواتین کی شمولیت عورت کے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور عورتوں کے  دُکھ کا مداوا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ عورت کی عورت سے بات زیادہ آسان ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسلامی علوم سے بہرہ مند خواتین کو خصوصی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ فیصلے جامع اور مؤثر ہوسکیں۔
  • خواندگی کے پروگرام:اعداد و شمار کے مطابق آج کے دور میں بھی مسلم خواتین کی ایک بڑی تعداد ناخواندہ ہے۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے، —خصوصاً اس امت کے لیے جس کی کتابِ ہدایت کی پہلی وحی کا آغاز ہی اقْرَأْ، یعنی پڑھنے کے حکم سے ہوا۔لہٰذا، مساجد کے منتظمین کو عزم کرنا چاہیے کہ محلے کی کوئی بھی خاتون اور مرد ناخواندہ نہ رہے۔ اگر کمیونٹی اس فیصلے پر عمل پیرا ہو تو سو فی صد خواندگی کا ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سماجی بہبود مردوں اور خواتین کی یکساں ذمہ داری

اسلامی تعلیمات کے مطابق سماجی بہبود کا کام مردوں اور عورتوں کی یکساں ذمہ داری ہے۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا: وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَيُطِيْعُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُہُمُ اللہُ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۷۱ (التوبہ۹:۷۱)’’مومن مرد اور مومن عورتیں، ایک دوسرے کے مددگار ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا۔ بے شک اللہ زبردست اور حکمت والا ہے‘‘۔

خلاصہ یہ ہے کہ اگر اسلامی احکام اور حدود و قیود کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، خواتین کے لیے مسجد میں مناسب جگہ اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں میں شرکت کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں، تو اس سے مسلم معاشروں میں بڑی مثبت تبدیلیاں ممکن ہو سکتی ہیں۔اس کے لیے مثبت ذہنیت اور ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ جامع حکمت عملی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

غزہ کی گلیوں اور تباہ شدہ گھروں کے کھنڈرات سے اُٹھتی دھول ابھی بیٹھی بھی نہیں کہ اسرائیل نے لبنان میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے نام پر ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا۔ ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوے تو دوسری جانب خون، خوف اور بے یقینی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کیا واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے، یا یہ سب محض ایک ایسے کھیل کا حصہ ہے، جس میں اصول اور نشستیں بدلتی رہتی ہیں مگر مظلوم کا مقدر نہیں بدلتا؟

نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کے حالیہ اجلاس میں ’مزاحمت کاروں‘ سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ ایک حکم کے انداز میں دُہرایا گیا، جسے انھوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے قبل مسلح جدوجہد ترک نہیں کی جائے گی‘۔ اس تناظر میں بورڈ کے سربراہ نکولائی ملادنوف کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور نشان دہی کی گئی ہے کہ امن کے تقاضے یک طرفہ رکھے جا رہے ہیں۔

ایک طرف مزاحمت کاروں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، اور دوسری جانب اسرائیلی فوجی انخلا کے معاملے میں مکمل خاموشی۔اطلاعات ہیں کہ اگر مزاحمت کاروں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انھیں بزور طاقت غیر مسلح کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔

سارے غزہ میں بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ المواصی، خان یونس اور رفح کے علاقوں میں نہتے افراد نشانہ بنے، جن میں شہادتیں اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور کئی محلوں سے بچوں کے اغوا کی خبریں آرہی ہیں۔ غزہ شہر میں فلسطینی پولیس ایسی ہی ایک شکایت پر جب ان اوباشوں کو گرفتارکرنے پہنچی تو وہاں پر موجود اسرائیلی فوج نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا، جس سے چار فلسطینی شہید ہوگئے۔

لبنان: جنگ بندی کے باوجود شعلے

لبنان میں عارضی جنگ بندی کے باجود اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ہفتے جنوبی لبنان میں کم ازکم چار گاؤں خالی کراکر اسرائیلی فوج نے مکانوں اور فصلوں کو آگ لگادی۔

اسرائیلی جریدے Haaretz کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک ۱۷۲ بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ ۲۴۵۴ شہری شہید ہوئے ہیں اور ۷۶۵۸ زخمی۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے حامی عسکری گروہوں کے خلاف ہیں۔ پارکوں اور میدانوں میں کھیلتے یہ گیارہ بارہ سال کے معصوم بچے آخر کس ’دہشت گردی‘ میں ملوث تھے؟ سچ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی اٹھاتے ہیں۔

دوسری طرف غرب اردن میں فلسطینیوں پر حملے، فصلیں اجاڑنے اورگھروں پر قبضے کاسلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ کے قصبے ترمسعیا پر قبضہ گردوں نے مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، جاتے ہوئے یہ لوگ دیواروں پر 'انتقام ' کے نعرے لکھ گئے۔ معلوم نہیں مظلوموں سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے؟۲۱؍ اپریل کو رام اللہ کے المغیر اسکول پر قبضہ گردوں نے حملہ کیا، جس میں ایک ۱۴ سالہ طالب علم حمدی نسان اور استاد ابو نعیم گولی لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے۔ سات سال قبل حمدی کا باپ بھی اسرائیلی فوج کی درندگی کی نذر ہوچکا ہے۔ جاتے جاتے غارت گرد دیواروں پر 'عرب مُردہ باد کے نعرے لکھ گئے۔

صہیونی قبضہ گردوں نے فلسطینی بچوں کے خلاف اب تشدد کا ایک نیا انداز اختیار کرلیا ہے۔ کھیل کے میدانوں اور اسکولوں میں پانی کی گن سے بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ کے محلول کی پچکاری ماری جاتی ہے۔ بیت الحم کے گاؤں تقوع اور وادی اردن کے شہر عین الحلوہ میں بچوں کو گھیر کر مرچ کے پانی کے علاوہ کچھ کی آنکھوں میں سرخ مرچیں جھونک دی گئیں۔ جس سے درجنوں بچوں کی آنکھوں میں زخم آگئے۔ کچھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

القدس شریف میں دراندازی :مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلتے ہی دراندازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ءمیں القدس پر قبضے کے فوراً بعد اقوام عالم کو یقین دلایا تھا کہ مسجد اقصیٰ و القدس شریف کی اسلامی حیثیت برقرار رکھی جائے گی اور دیوار گریہ کے سوا کسی بھی جگہ غیرمسلموں کا داخلہ اوقاف کی تحریری اجازت سے مشروط ہوگا، مگر یہ سب خواب ہے!

ایمسٹرڈیم کی خاموش گواہی:نازی مظالم کا نشانہ بننے والے یہودیوں کی یاد میں ۱۴؍اپریل کو ’یومِ ہولوکاسٹ‘ منایا جاتاہے جسے عبرانی میں’یومِ ہاشوہ‘ کہتے ہیں ۔اس مناسبت سے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی ’ڈیم اسکوائر‘ پر درندگی کا شکار ہونے والے نونہالانِ غزہ کی یاد میں ننھے جوتوں کی ایک علامتی قطار سجائی گئی۔یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ تاریخ کے زخم صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کے دکھوں میں بھی جھلکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انھی یہودیوں  کے مظالم کا شکار عرب بچوں کا کوئی دُکھ اور کوئی یاد نہیں؟ یقینا دُنیا بھر کے لوگ انھیں یاد کرتے ہیں اور یاد رکھیں گے۔

آزادیٔ  اظہار کا مغربی انداز

گذشتہ ہفتے برطانیہ میں فلسطینی حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے والے ۵۰۰ افراد گرفتارکرلیے گئے۔کیا انسانی حقوق کا معیار سب کے لیے یکساں ہے، یا حالات کے مطابق بدل جاتا ہے؟

ترک نژاد طالبہ رمیسہ اوزترک، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بالآخر خود ہی امریکا چھوڑ کی اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ رمیسہ، ٹفٹ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں۔ یونی ورسٹی کے میگزین میں اسرائیل پر تنقیدی مضمون لکھنے کے بعد انھیں امریکی امیگریشن ادارے ICE نے حراست میں لے لیا اور لوزیانا کی ایک دُور افتادہ جیل میں ۴۵ دن رکھا گیا، جہاں انھیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ عدالت کے حکم پر رہائی ممکن ہوئی۔ رہائی کے بعد بھی گلبرائیٹ اسکالر، رمیسہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خود اس معاملے کی نگرانی کرتے رہے۔ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اس وفاقی جج کو برطرف کر دیا جس نے رمیسہ کی ملک بدری کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔اس حوصلہ مند لڑکی نے امریکا میں آزادیِ اظہارِ رائے کے ساتھ، عدالتی نظام کی بھی قلعی کھول دی۔

 

یوول (Yuval) اپنے ناخن چباتے ہوئے بیٹھا ہے، اس کی ٹانگیں بے چینی سے ہل رہی ہیں۔ تل ابیب میں دوپہر کا وقت ہے اور سڑک لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی کبھی وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھتا ہے، اور پاس سے گزرنے والے لوگوں پر نظر ڈالتا ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’معذرت، میرا سب سے بڑا خوف’انتقام‘ ہے‘‘۔

یوول کسی جرائم پیشہ خاندان میں پیدا نہیں ہوا تھا، اور نہ وہ کوئی مجرم ہے۔ وہ ۳۴سال کا نوجوان ہے۔ تل ابیب کے مضافاتی علاقے رمت ہشارون میں پلا بڑھا اور کمپیوٹر پروگرامر بنا۔ حال ہی میں وہ دنیا کی ایک بڑی ہائی ٹیک کمپنی میں سے ایک میں کام کر رہا تھا، لیکن وہ مہینوں سے وہاں نہیں گیا۔ وہ کہتا ہے:’’میں جہنم میں تھا، لیکن مجھے اس کا احساس نہیں تھا‘‘۔ وہ جس جہنم کی بات کر رہا ہے وہ دسمبر ۲۰۲۳ء میں جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں پیش آیا، جب وہ ایک فوجی کی حیثیت سے تعینات تھا۔’’وہاں ہر وقت فضائی حملے ہو رہے تھے۔ ایک ٹن وزنی بم آپ سے تھوڑی ہی دُور گرتا ہے اور آپ کا دل اچھل کر حلق میں آ جاتا ہے‘‘۔

اس کا یونٹ شہر کے مرکز کی طرف مغرب کی جانب بڑھ رہا تھا۔’’وہاں شدید لڑائی ہو رہی تھی… اور میں ایک آٹو پائلٹ (مشین) کی طرح کام کر رہا تھا، سوال نہیں پوچھ سکتا تھا، بس حکم کی  تعمیل‘‘۔ 

مگر سوالات اسے مہینوں بعد ستانے لگے:’’میرے پاس اس کے جوابات نہیں ہیں، میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ میں نے جو کیا ہے اس کی کوئی معافی نہیں۔ کوئی کفارہ نہیں‘‘۔

یہ واقعہ غزہ کی مرکزی شاہراہ صلاح الدین روڈ کے قریب پیش آیا۔ ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے، ایک پلاٹون نے کچھ مشکوک افراد کو دیکھا۔ میرے یونٹ نے حملہ کر دیا۔میں ایک پاگل آدمی کی طرح گولیاں چلا رہا تھا، جیسا کہ ہمیں بنیادی تربیت میں پلاٹون کی مشقوں کے دوران میں سکھایا گیا تھا‘‘۔وہ کہتا ہے: ’’جب ہم اپنی منزل پر پہنچے، تو مجھے احساس ہوا کہ لوگ جن کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کوئی دہشت گرد نہیں تھے۔ یہ ایک بوڑھا آدمی اور تین نوعمر لڑکے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مسلح نہیں تھا۔ لیکن ہم نے ان کے جسم گولیوں سے چھلنی کر دیے تھے، ان کے اعضا کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے کبھی اتنے قریب سے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی تھی‘‘۔

’’مجھے یاد ہے اس کارروائی کے بعد وہاں مکمل سناٹا تھا، کسی نے ایک لفظ نہیں بولا تھا۔ پھر بٹالین کمانڈر اپنے لوگوں کے ساتھ آیا۔ اس کے ساتھ آنے والوں میں سے ایک نے لاشوں پر تھوکا اور چلّایا،ایسا سلوک ہراُس فرد کے ساتھ ہوتا ہے جو اسرائیل سے الجھتا ہے، تم کمینوں کی کمینی اولاد۔ میں صدمے میں تھا، لیکن میں خاموش رہا کیونکہ میں ایک بزدل ہوں، صرف ایک بے ہمت بزدل‘‘۔

اس ذہنی دبائو کی کیفیت کے سبب یوول کو تقریباً تین ماہ بعد فارغ کر دیا گیا۔ اس نے دو ہفتے کی چھٹی لی اور واپس اپنے کام پر چلا گیا۔ وہ کہتا ہے:’’جب میں فارغ ہوا تو انھوں نے میرے لیے ایک پارٹی رکھی، میرے لیے تالیاں بجائیں اور مجھے ہیرو کہا۔ لیکن مجھے لگا جیسے میں ایک درندہ ہوں۔ میں ان باتوں کو برداشت نہیں کر سکا، جو انھوں نے مجھ سے کہیں۔ مجھے لگا کہ انھیں احساس ہی نہیں ہے کہ میں کوئی اچھا انسان نہیں ہوں‘‘۔

کچھ مہینوں تک اس نے اپنی ملازمت برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاکہ اپنے دل پر بوجھ کم کرسکے، لیکن آخر کار ہمت ہار دی۔ وہ کہتا ہے: ’’میرے اندر کی شرمندگی اب بدتر ہو چکی ہے‘‘۔

وہ کہتا ہے:’’میں گھر سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتا، اور اگر نکلتا ہوں تو ہڈ (Hood) پہن لیتا ہوں تاکہ لوگ مجھے پہچان نہ سکیں۔ میں اب بھی آئینے میں خود کو نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے اپنے آپ سے نفرت ہے۔ مجھے ایک گہرا خوف ہے کہ کوئی مجھ سے اس بات کا بدلہ لے گا جو میں نے وہاں کیا ہے۔ اگرچہ مجھے یہ بات معلوم ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، غزہ کے بچ رہنے والوں میں سے کون مجھے ڈھونڈ سکتا ہے؟ ‘‘

’’اس عافیت کے واہمے کے باوجود، میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ میں کسی طرح مرنا چاہتا ہوں، تاکہ اس سب سے چھٹکارا پا سکوں۔ میں خودکشی نہیں کروں گا کیونکہ میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا ہے، لیکن میں یہ بات نہیں جانتا کہ میں کب تک یہ بوجھ اٹھا سکوں گا‘‘۔

پراڈو  میں دہشت

مایا، تل ابیب میں رہتی ہے اور فلسفے کی تعلیم حاصل کرتی ہے۔ غزہ جنگ کے دوران اس نے ریزرو فوجی کی ڈیوٹی کے طور پر ایک آرمرڈ کور بٹالین میں ایچ آر (HR) افسر کے طور پر کام کیا۔ وہ کہتی ہے: ’’میری روزمرہ کی زندگی اور میری ریزرو ڈیوٹی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ دو الگ الگ دنیائیں ہیں، جن میں بسنے والے مختلف لوگ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے بھی مختلف طریقے سے برتاؤ کیا تھا۔

مایا کو ایک واقعہ بہت پریشان کرتا ہے، جو جنوبی غزہ میں ایک چوکی پر پیش آیا۔ مایا کہتی ہے:’’ہم وہاں کمانڈ روم میں بیٹھے تھے۔ اچانک فوجیوں نے پانچ فلسطینیوں کو دیکھا، جو اس لائن کو عبور کر رہے تھے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں تھی۔وہاں ایک کتا بھی تھا۔ بٹالین کمانڈر نے انھیں قتل کرکے ایک گڑھے میں ڈالنے کا حکم دیا، حالانکہ وہ بالکل مسلح نہیں تھے۔ بہرحال ایک ٹینک پہ لگی مشین گن سے ان پر فائرنگ شروع کر دی، سینکڑوں گولیاں۔ پانچ میں سے چار فلسطینی مارے گئے۔کچھ گھنٹوں بعد، ایک ڈی-۹ (بلڈوزر) نے انھیں وہیں مٹی میں دبا دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ ہم یہ کیوں کر رہے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں تاکہ کتے انھیں کھا نہ سکیں اور ان کی لاشوں کی بدبُو سے بیماری نہ پھیلے‘‘۔

’’تب مجھے اپنے آپ سے گھن آنے لگی۔میں نے محسوس کیا کہ میں ایک منافق اور گھٹیا عورت ہوں۔ اس احساس کو کم کرنے کے لیے میں دن میں تین بار نہاتی مگر میری بے بسی کی تصویر مجھے نہیں چھوڑتی تھی۔ میرے ذہن میں خیالات مسلسل گھومتے رہتے ،میں وہاں کھڑی کیسے رہ سکتی تھی؟ میں، جو اخلاقیات اور انسانی حقوق کی بات کرتی ہوں، وہاں احتجاج کرنے یا کچھ کرنے کے بجائے وہاں کیسے کھڑی رہی؟ میں نے ان سے کچھ بھی کیوں نہیں کہا؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے‘‘۔

تفتیشی کمرے کی یادیں

کچھ سپاہیوں نے بتایا کہ غزہ میں تفتیش کے دوران کیے جانے والے انسانیت سوز سلوک نے ان پر گہرے ذہنی اثرات چھوڑے۔ ایک سپاہی کہتا ہے:’’جب آپ اسنائپر کے دُوربین (Scope) سے دیکھتے ہیں، تو سب کچھ بہت قریب نظر آتا ہے۔ آپ جن لوگوں کو مارتے ہیں، ان کے چہروں کے خدوخال، پریشانی، خوف، بے بسی اور مرنے سے پہلے چہرے پر نظر آنے والے آثار آپ کو نہیں بھولتے۔ وہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں زندگی بھر‘‘۔

ایک اور سابق فوجی نے بتایا:’’میں نے اپنے لوگوں کو بجلی کے آلات، مقتولین کے سونے کے زیورات اور نقدی لوٹتے ہوئے دیکھا اور اپنوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: تمام عرب نازی ہیں اور  ایسا ہی ہونا چاہیے۔ میں بیزار تھا، لیکن میں نے کچھ نہیں کہا۔ خاص طور پر جب لوگ فلسطینیوں کے مارے جانے یا ان پر تشدد کی تصاویر دکھاتے، تو مجھے بہت تکلیف ہوتی‘‘۔

اخلاقیات یا شناخت؟

سرکاری طور پر، وزارت دفاع ’ذہنی صدمہ‘ کو ایک طبی تشخیص کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی صدمہ اور خوف ہے۔ذہنی صدمہ کا تعلق ضمیر، شرمندگی اور گناہ کے احساس سے ہوتا ہے۔

ایک افسر نے کہا:’’یہ احساس صرف جونیئر کمانڈرز کی سطح پر نہیں ہے، بلکہ چیف آف اسٹاف تک ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ کہتے ہیں: یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا آپ غدار ہیں‘‘۔

یوول کہتا ہے:’’میں اب ایک سبزی خور بن گیا ہوں۔ مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب اس بوڑھے کی لاش سے اُٹھنے والی بو مجھے الشفاء ہسپتال کی بُو کی یاد دلا گئی جہاں فلسطینیوں کی بہت سی دبی ہوئی لاشوں کی بُو پھیلی ہوئی تھی۔ اس چیز نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم کیا بن گئے ہیں؟ میں کیا بن گیا ہوں؟ مجھے اس بات کا جواب دینے سے ڈر لگتا ہے: انسان نہیں درندہ!‘‘

[اسرائیلی اخبار Haaretz، ۱۹؍اپریل ۲۰۲۶ء ، ترجمہ: ادارہ]

 _______________

جب اقوام متحدہ کی ’کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں‘ (CED) نے ۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جنیوا میں اپنا تیسواں اجلاس شروع کیا تو اس نے ایک طاقتور اور فوری نعرے کا جائزہ لینے کے لیے کارروائی شروع کی: ’پہلے متاثرین، فوری کارروائی‘۔ یہ موضوع بہت سا وقت گزرنے کے بعد زیربحث لایا جارہا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں، جبری گمشدگیاں اب بھی خاندانوں کو تباہ اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کر رہی ہیں۔ تاہم، کشمیر کے ہزاروں خاندانوں کے لیے، یہ الفاظ خاص طور پر گہرا مفہوم رکھتے ہیں — کیونکہ ان کے لیے سچائی کی تلاش برسوں نہیں بلکہ عشروں سے جاری ہے۔

’کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں‘ آزاد ماہرین کا وہ ادارہ ہے، جو تمام افراد کو جبری گمشدگی سے تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی کنونشن کے نفاذ کی نگرانی کا ذمہ دار ہے، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بیس سال قبل منظور کیا تھا۔ دس آزاد ماہرین پر مشتمل یہ کمیٹی، جو اپنی ذاتی حیثیت میں خدمات انجام دیتی ہے، بین الاقوامی برادری کے اس اعتراف کی نمائندگی کرتی ہے کہ جبری گمشدگی، انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک گھناؤنا جرم ہے۔

موجودہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے، کمیٹی کے چیئرپرسن پروفیسر جوآن پابلو البان الینکاسٹرو اور ایکواڈور کے ماہر قانون نے دنیا کو یاد دلایا کہ کنونشن پہلے کیوں اور کن حالات میں منظور کیا گیا تھا۔ بیس سال قبل، بین الاقوامی برادری نے غیر مبہم طور پر اس بات کی توثیق کی تھی کہ کسی بھی شخص کو قانون کے تحفظ سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ جبری گمشدگی انسانی حقوق کی سب سے سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کنونشن، متاثرین کے وقار کے انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ و احترام کے لیے اور ایسے جرائم کے دوبارہ وقوع کو روکنے کے لیے ایک ضمانت کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔

تاہم، چیئرپرسن نے یہ بھی خبردار کیا کہ عالمی منظرنامہ جس میں کنونشن اب کام کر رہا ہے، تیزی سے پریشان کن صورتِ حال پیش کر رہا ہے۔ تنازعات میں اضافہ ہوا ہے، دنیا کے کئی حصوں میں آمرانہ رجحانات مضبوط ہوئے ہیں، اور انسانی حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے حکومتی جابرانہ اقدامات اور موقف زور پکڑ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں، کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں جیسے بین الاقوامی میکانزم ان چند آلات میں سے ہیں جو متاثرین کے لیے انصاف اور احتساب کے حصول کے لیے دستیاب ہیں۔

ہیومن رائٹس ٹریٹیز برانچ، آفس آف دی ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس کے سربراہ پروفیسر اینٹی کورکیاکیوی نے اپنے افتتاحی کلمات میں بتایا کہ کنونشن واحد عالمگیر معاہدہ ہے جو خاص طور پر جبری گمشدگیوں کو روکنے اور اس ظالمانہ عمل کوختم کرنے کے لیے وقف ہے۔ انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ انسانی حقوق کا نظام خود بہت سی ادارہ جاتی اور مالی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے، جب کہ خلاف ورزیاں دنیا بھر میں جاری ہیں۔

کمیٹی کا فوری کارروائی کا طریقۂ کار متاثرین کے لیے دستیاب ہے۔ اس ’نظامِ کار‘ (Mechanism)کے ذریعے، خاندان اس وقت براہ راست اقوام متحدہ میں مقدمات لا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص لاپتہ ہو جائے، جس سے کمیٹی حکومتوں سے فوری وضاحت کی درخواست کرتی ہے اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیتی ہے۔ ایسے ’نظامِ کار‘ کا وجود یہ ظاہر کرتا ہے کہ جبری گمشدگیاں ماضی کی باقیات نہیں ہیں —، بلکہ وہ دنیا کے کئی خطوں میں روزمرہ کی حقیقت بنی ہوئی ہیں۔

بدقسمتی سے، کشمیر ان خطوں میں شامل ہے جہاں گمشدگی کا درد ہزاروں خاندانوں کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق،۱۹۸۹ء اور ۲۰۱۲ء کے درمیان کشمیر میں کم از کم۸ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ ریاستہائے متحدہ کے محکمہ خارجہ کی’کنٹری رپورٹس آن ہیومن رائٹس پریکٹسز‘ نے بھی اسے نوٹ کیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ۱۹۸۹ء اور ۲۰۰۶ء کے درمیان جموں و کشمیر میں۸ ہزار سے ۱۰ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ پیچھے رہ جانے والے خاندانوں، — ماؤں، باپوں، شریکِ حیات اور بچوں — کے لیے غیر یقینی صورتِ حال زندگی بھر کا عذاب بن گئی ہے۔

جبری گمشدگی کے سب سے تکلیف دہ پہلوؤں میں سے ایک یہی غیر یقینی صورتِ حال ہے۔ اقوام متحدہ کے ’ورکنگ گروپ آن انفورسڈ یا انوولنٹری ڈس اپیئرنسز‘ نے بارہا زور دیا ہے کہ گمشدگی اس وقت تک انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہے جب تک کہ لاپتہ شخص کی قسمت یا ٹھکانہ نامعلوم رہے۔ دوسرے لفظوں میں، مصیبت خود گمشدگی کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، یہ روز بروز اور سال بہ سال جاری رہتی ہے۔

کشمیر میں، لاپتہ افراد کے خاندانوں کو اکثر جوابات کی تلاش میں زبردست قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ’ (AFSPA) جیسے قوانین سکیورٹی فورسز کو وسیع استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، جس سے نئی دہلی حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر سویلین عدالتوں میں مقدمہ چلانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے طویل عرصے سے دلیل دی ہے کہ ایسی دفعات استثنیٰ کی فضا پیدا کرتی ہیں جو بامعنی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔

سول سوسائٹی گروپس اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹوں نے بارہا خطے میں من مانی حراست، تشدد، اور گمشدگیوں کے بارے میں خدشات اٹھائے ہیں۔ ’جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی‘ (JKCCS) اور ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (APDP) کی ایک مشترکہ رپورٹ نے کئی عشروں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد اور بدسلوکی کو بیان کرنے والی سیکڑوں شہادتوں کو دستاویزی شکل دی۔ دیگر تحقیقات نے غیر نشان زدہ اور اجتماعی قبروں کا انکشاف کیا ہے، جن میں سے کچھ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں لاپتہ ہونے والوں کی باقیات موجود ہیں۔

’آفس آف دی یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس‘ (او ایچ سی ایچ آر) نے بھی جبری گمشدگیوں کے حوالے سے قابل اعتماد معلومات اور کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کی فوری ضرورت کو نوٹ کیا ہے اور بتایا ہے کہ احتساب کا فقدان انصاف کی راہ میں سب سے سنگین رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔

کشمیر میں مقامی انسانی حقوق کے محافظوں کا کام ان زیادتیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مرکزی رہا ہے۔ سب سے نمایاں شخصیات میں خرّم پرویز شامل ہیں، جو کشمیری انسانی حقوق کے ایک کارکن، جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر اور فلپائن میں قائم ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوولنٹری ڈس اپیئرنسز‘ کے چیئرمین ہیں۔ پرویز اور ان کے ساتھیوں نے The Structure of Voilence کے عنوان سے ۷۹۹صفحات کی ایک تاریخی رپورٹ تیار کرنے میں مدد کی، جس میں خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوتوں کو دستاویزی شکل دی گئی۔ رپورٹ کی ہارڈ کاپیاں متعدد بین الاقوامی اداروں کو فراہم کیں، بشمول آفس آف دی یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس اور آفس آف دی یو این سیکرٹری جنرل۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ خرم پرویز خود بعد میں بین الاقوامی تشویش کا موضوع بن گئے۔ نومبر ۲۰۲۱ء میں، انھیں انڈیا کے غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جو افراد کو بغیر رسمی الزامات کے طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان کی گرفتاری کو انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی قانون سازی کے غلط استعمال کی ایک اور مثال قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کے محافظین، پروفیسر میری لولر نے کہا، خرم پرویز کسی بھی حوالے سے دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے رضاکار اور محافظ ہیں۔ خرم کو ۲۰۲۲ء میں امریکا میں قائم ٹائم میگزین کی جانب سے دنیا کے۱۰۰ بااثر ترین افراد میں سے ایک قرار دیا گیا۔

پروینہ آہنگر، کشمیر میں قائم ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (اے پی ڈی پی) کی بانی، جنھیں کشمیر میں ’آئرن لیڈی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو کشمیر میں لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کے کام، بشمول ان کے بیٹے کو بین الاقوامی شناخت کے لیے ناروے کا رافٹو پرائز دیا گیا۔

جیسا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے، ضرورت سے زیادہ حفاظتی اقدامات جو انسانی وقار کی خلاف ورزی کرتے ہیں، بالآخر نفرت اور تقسیم کو گہرا کرتے ہیں بجائے اس کے کہ انھیں حل کریں۔

یہی وجہ ہے کہ اس سال کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں کی طرف سے اختیار کردہ موضوع — ’پہلے متاثرین ،فوری کارروائی‘ — بہت اہم ہے۔

کشمیر میں لاپتہ افراد کی ماؤں کے لیے جو عشروں سے اپنے لاپتہ بیٹوں کی تصاویر تھامے خاموشی سے مارچ کر رہی ہیں، ان کا مطالبہ دردناک حد تک سادہ ہے: ’سچائی‘۔ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ کیا ہوا؟ وہ مستقل شک کے ساتھ جینے کے بجائے یقین کے ساتھ سوگ منانے کا حق چاہتی ہیں۔

بین الاقوامی برادری جبری گمشدگی کے خلاف کنونشن کا احترام کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتی،جب کہ ان حل طلب مقدمات کو نظر انداز کر رہی ہے جو کشمیر کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ آزادانہ تحقیقات، شفافیت، اور احتساب کسی بھی ریاست کے خلاف دشمنی کے اقدامات نہیں ہیں، وہ انصاف اور مفاہمت کی طرف ضروری اقدامات ہیں۔

کشمیر میں اب بھی انتظار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے، پیغام واضح ہونا چاہیے: ان کی آوازیں اہمیت رکھتی ہیں، ان کے دُکھ کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے، اور سچائی کی تلاش کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ (ترجمہ: س م خ)

 _______________

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم، شیخ حسینہ واجد، کے پندرہ سالہ دَورِ حکومت میںبنگلہ دیشی عوام اور بنگلہ دیشی معاشرے کی جو درگت بنی، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کسی نے اُس دَور کی حکومتی سرگرمی ملاحظہ کرنی ہو تو آج کی بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے معروف رکن، بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، کی شائع ہونے والی تازہ کتاب اندھیری جیل کا قیدی کا مطالعہ کرلے، سب چانن ہو جائے گا۔

حسینہ واجد کے متنوع مظالم، استحصالی قوانین اور انڈیا کی جانب بے تحاشہ جھکاؤ سے بغاوت کرتے ہُوئے بنگلہ دیشی طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے نے ’عوامی لیگ‘ اور حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ یہ غیر معمولی واقعہ ۵؍اگست۲۰۲۴ء کو وقوع پذیر ہُوا۔ تختہ اُلٹنے کی تحریک میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ۱۴۰۰ سے زیادہ بنگلہ دیشی نوجوان قتل کر دیے گئے۔ اِن سانحات کی تمام ذمہ داری شیخ حسینہ واجد اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کی گئی۔

حکومت کے خاتمے پر حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر اپنے محسن ملک، انڈیا، میں پناہ گزیں ہو گئیں اور اب تک وہیں ہیں۔ متنوع اور سنگین الزامات کے تحت بنگلہ دیشی عدالت حسینہ واجد کو سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔بنگلہ دیش میں پروفیسر محمد یونس کی سابقہ عبوری حکومت نے متعدد بار انڈیا سے مطالبہ کیا تھا کہ حسینہ واجد کو ہمارے حوالے کیا جائے، مگر مودی حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا۔

حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد نوبیل انعام یافتہ معروف بنگلہ دیشی راہ نما پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت قائم کی گئی۔ اُن کی۱۸ماہ پر پھیلی حکومت کے دوران میں انڈیا و بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات انتہائی نچلے درجے پر دیکھے گئے۔ دوسری طرف اِسی عرصے میں پاکستان و بنگلہ دیش کے تعلقات نئی بلندیوں پر پائے گئے۔ اِسی دوران کئی بنگلہ دیشی عسکری شخصیات نے بھی پاکستان کے دَورے کیے۔ پاک، بنگلہ دیش سفارتی، تجارتی، تعلیمی، صحافتی اور ثقافتی تعلقات میں خاصا اضافہ ہُوا۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ مناظر خاصے تکلیف دِہ تھے، مگر اُس نے خاموش رہ کر بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات کو بالکل ہی منقطع نہ ہونے دیا۔

کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے انڈین وزیر خارجہ، جے شنکر، ڈھاکہ میں اُس وقت پُر جوش انداز میں دیکھے گئے، جب سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیاء کا ۳۱دسمبر ۲۰۲۵ء کو جنازہ اُٹھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ جے شنکر کی مذکورہ شرکت اِس امر کا اظہار تھا کہ انڈیا کسی بھی طور بنگلہ دیش کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیںدینا چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہے کہ وہ پکے ہُوئے پھل کی طرح پاکستان کی جھولی میں جا گرے، جب کہ پاکستان کے عوامی حلقوں کا خیال تھا کہ پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران پاک، بنگلہ دیش تعلقات میں جو شان دار اُبھار آیا ہے، یہ برقرار رہے گا۔ ایسا مگر ہو نہیں سکا ہے۔

فروری۲۰۲۶ء کو بنگلہ دیش میں منعقد عام انتخابات کے بعد جیسے ہی ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ (BNP) کی حکومت برسرِاقتدار آئی اور جناب طارق رحمٰن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم منتخب ہُوئے، تو انڈیا اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں پہلے کی طرح، بلکہ تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔

یاد رہے یہ انڈین وزیر اعظم، نریندر مودی، ہی تھے جنھوں نے طارق رحمٰن کی پارٹی کی کامیابی پر پاکستان سے پہلے انھیں فتح کی مبارکباد دی تھی، اور طارق رحمٰن نے فوری طور پر شکریے کا خط لکھا تھا۔ طارق رحمٰن کی حکومت بنتے ہی بنگلہ دیش کے نئے وزیر خارجہ، خلیل الرحمٰن نے سب سے پہلے انڈیا کادو روزہ دَورہ کیا ہے۔ یہ دَورہ ۸؍اپریل ۲۰۲۶ء کو عمل میں آیا۔ انھوں نے اِس دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور مودی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر، اُجیت ڈووَل (جو پاکستان دشمنی میں خاصا معروف و مشہور نام ہے)، سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔

انڈین میڈیا بڑی خوشی اور مسرت سے اعتراف کررہا ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران بنگلہ دیشی و انڈین حکومت میں عدم اعتماد کے جو بحران دَر آئے تھے، اب طارق حکومت کے آتے ہی اِن بحرانوں کا خاتمہ ہورہا ہے اور تعلقات میں مضبوطی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیشی وزیر خارجہ، خلیل الرحمٰن، نے اسی دورے میں انڈین وزیر پٹرولیم سے جو تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں، اُن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مارچ میں انڈیا نے طارق حکومت کو، دو اقساط میں، ۱۵ہزار ٹن پٹرول و ڈیزل فراہم کیا، اور اپریل۲۰۲۶ء میں انڈیا نے مزید ۴۰ہزار ٹن ڈیزل بنگلہ دیش کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کے دوران پیدا ہونے والے شدید توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیش نے انڈین اعانت کا سہارا لیا۔ 

ڈھاکہ سے شائع ہونے والے معروف انگریزی اخبار دی ڈیلی اسٹار نے (۹؍اپریل ۲۰۲۶ء) خبر دی ہے کہ ’’بنگلہ دیش ریلویز ۲۰۰ کی تعداد میں انڈیا سے بنے بنائے ریل ڈبے خرید رہی ہے‘‘۔ بنگلہ دیش کے وزیر ریلوے، شیخ ربیع العالم نے بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میںاِس کا باقاعدہ اعلان کیا۔ انڈیا یہ آرڈر دسمبر۲۰۲۷ء تک مکمل کرے گا۔اِس بھاری سودے کے اخراجات ’یورپین انویسٹمنٹ بینک‘ برداشت کرے گا، اور مذکورہ بینک نے یہ رقم بنگلہ دیش کو قرض میں دی ہے۔

یوں بھاری مالی فائدہ انڈیا کو پہنچے گا۔ اِسی طرح کرکٹ کے میدان میں انڈیا و بنگلہ دیش سے تعلقات میں جو دراڑ پڑ گئی تھی، اُسے بھی درست کیا جارہا ہے۔ اِس کے لیے بھی طارق حکومت نے ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ تعلقات کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے انڈین کرکٹ بورڈ کو خط لکھ دیا ہے۔ اِس خط میںبی سی بی کے ڈائریکٹر آپریشنز، نظم العابدین فہیم، نے اِس خواہش کا اظہار کیا ہے: ’’ستمبر۲۰۲۶ء میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم شیڈول کے مطابق انڈیا میں کھیلنے کے لیے آنا چاہتی ہے‘‘۔ یوں قربتوں کا ایک اور موقع پیدا ہوا ہے۔

مراد یہ کہ بنگلہ دیش چاہتے ہُوئے بھی انڈیا سے کامل نجات حاصل نہیں کر سکتا کہ متعدد شعبوں میں بنگلہ دیش ہر پہلو سے انڈیا پر انحصار کرتا ہے۔ دریائے ’ٹیسٹا‘ کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر بنگلہ دیش کی انڈیا سے ناراضی نمایاں ہے۔ اسی طرح انڈیا میں بنگلہ دیشی شہریوں اور بنگالی زبان بولنے والوں سے جو غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے، اِس نسبت سے بھی بنگلہ دیشی عوام نئی دہلی سے خاصے ناخوش ہیں۔

انڈین ’بارڈر سکیورٹی فورسز ‘(BSF)کے مسلح اہل کار آئے روز بنگلہ دیش اورانڈیا کی مشترکہ سرحد پر بنگلہ دیشی شہریوں کو بے جا طور پر قتل کر ڈالتے ہیں اور بنگلہ دیش محض احتجاج ہی کرتا رہ جاتا ہے۔

۱۱؍اپریل۲۰۲۶ء کو تقریباً تمام انڈین اخبارات نے یہ خوفناک خبر شائع کی: ’’انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل نے انڈیا، بنگلہ دیش سرحد پر تعینات اپنے جملہ ماتحتوں کو حکم دیا ہے کہ اِس امر کا جائزہ لیں کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی مشترکہ سرحد کے درمیان بہنے والے دریاؤں اور ندی نالوں میں اگر زہریلے سانپ اور خونخوار مگر مچھ چھوڑ دیے جائیں، تو کیا اِس اقدام سے بنگلہ دیشیوں کو انڈیا میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے؟‘‘اِس پر ایک انڈین صحافی سنجیو کرشن سُوڈ نے لکھا کہ ’’سوال یہ ہے کہ اِس مہلک زہریلی مخلوق کو انڈین شہریوں کو کاٹنے سے کیسے منع کیا جائے گا؟‘‘

تیونس کی ایک عدالت نے ۱۴؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو النہضہ تحریک تیونس کے سربراہ ۸۴سالہ راشد الغنوشی کو ’رمضان سازش‘ کے نام سے مشہور مقدمہ میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ نجی ریڈیو اسٹیشن ’موزائیک‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے کرمنل چیمبر نے نہضہ کے رہنماؤں یوسف النوری اور احمد المشرقی، جو تمام زیرحراست ہیں، کو بھی ۲۰، ۲۰سال قید کی سزا کا فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے اسی مقدمے میں آزادانہ حیثیت سے مقدمہ لڑنے والے ملزمان کو تین سال قید کی سزا بھی سنائی ہے، جن میں تحریک کے رہنما محمد القومانی، بلقاسم حسن اور دیگر ملزمان شامل ہیں۔

راشد غنوشی سمیت درجنوں افراد کو ’سازش ۲‘ مقدمے میں بھی سخت سزائیں دی گئی ہیں۔ جہاں تک ملک سے باہر موجود ملزمان کا تعلق ہے، ان میں سابق وزیر خارجہ رفیق بوشلاکہ اور اپوزیشن رکن پارلیمنٹ ماہر زید شامل ہیں۔۱۲ ملزمان پر ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور ریاست کی ہیئت کو بدلنے کی غرض سے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

’رمضان سازش کیس‘ کی کہانی فروری ۲۰۲۳ء سے جوڑی جاتی ہے، جب کئی سیاسی مخالفین، وکلا، سول سوسائٹی کے کارکنوں اور کاروباری شخصیات کو ’امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے اور ریاست کی سلامتی کو کمزور کرنے‘ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔۱۷؍اپریل ۲۰۲۳ء کو سکیورٹی فورسز نے سابق اسپیکر راشد الغنوشی کے گھر پر چھاپہ مارا اور انھیں گرفتار کر لیا اور ابتدائی عدالت نے ’افراتفری پھیلانے‘کے الزام میں انھیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ میڈیا میں اس مقدمے کو ’رمضان سازش‘ کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ راشد الغنوشی نے ۲۰۲۳ء میں رمضان کے دوران ’نیشنل سالویشن فرنٹ‘ کی جانب سے سیاسی قیدیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ ایک تقریب میں بیان دیا تھا۔

راشد الغنوشی کی دفاعی ٹیم نے واضح کیا کہ تحریکِ نہضۃ کے سربراہ نے اپنی گرفتاری کے بعد سے عدالت کی تمام کارروائیوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ انھوں نے عدالتی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ’سیاسی انتقام‘ قرار دیا، جس کا مقصد اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کے حق کو نشانہ بنانا ہے۔ دفاعی ٹیم نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان کے اس احتجاج میں جو کچھ کہا گیا وہ ’مشترکہ بقائے باہمی اور تفرقہ بازی کے خاتمے کی دعوت‘ تھی، جس میں  راشد الغنوشی نے مطالبہ کیا تھا کہ ’’تیونس تمام تیونسیوں کے لیے ہونا چاہیے‘‘۔

اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سرتاپا ’سیاسی نوعیت‘ کے ہیں اور سیاسی مخالفین کو ختم کرنے اور صدر قیس سعید کے ناقدین کی آواز دبانے کے لیے ٹھونسے گئے ہیں۔

سابقہ فیصلے اور سزائیں

راشد الغنوشی کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی کئی فیصلے سنائے جا چکے ہیں، جن میں ’جاسوسی‘ کے مقدمے میں ۲۲ سال قید، ’غیر ملکی فنڈنگ‘ کے مقدمے میں تین سال، اور ’ریاستی سلامتی کے خلاف سازش‘ (کیس ۲) میں ۱۴ سال قید شامل ہے۔ اس طرح ان کے خلاف اب تک سنائی گئی کُل سزائوں کی مدت ۷۰ سال سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس سے قبل تحریکِ نہضہ کے سربراہ راشد غنوشی کو ۱۴ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مگر تیونس کی اپیل کورٹ نے حکومت کی اپیل پر سزا ۱۴ سال سے بڑھا کر ۲۰ سال کر دی ہے۔

صدر قیس سعید کے دفتر کی سابق ڈائریکٹر نادیہ عکاشہ، راشد غنوشی کے داماد اور سابق وزیرخارجہ رفیق عبدالسلام کو غیر حاضری میں ۳۵ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر ’ریاست کی اندرونی سلامتی پر حملہ کرنے کی سازش‘ اور ’ایک تنظیم اور اتحاد بنانے‘ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یاد رہے ۲۷فروری ۲۰۲۶ء کو راشد غنوشی کو ایک اور مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح مالی بدعنوانی کی ایک خصوصی عدالت نے تین سال قید اور تحریک پر ۱۵ ہزار ڈالر جرمانے کا فیصلہ بھی سنا رکھا ہے۔

تحریکِ نہضت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خانہ زاد مقدمات منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور عدلیہ کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انھیں روکا جائے جو عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو مجروح کرتے ہیں۔

اس سے قبل، ابتدائی عدالت نے ۵فروری کو اس مقدمے میں ملوث ۴۱ سیاست دانوں، صحافیوں، بلاگرز اور کاروباری شخصیات کو ۵ سے ۵۴ سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان میں بھی راشد الغنوشی شامل ہیں۔ملزمان نے اپنے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔ 

۲۵ جولائی ۲۰۲۱ء کو قیس سعید نے غیر معمولی اقدامات کا آغاز کیا، جس میں پارلیمنٹ کی تحلیل، صدارتی احکامات کے ذریعے قانون سازی، نئے آئین کی منظوری کے لیے ریفرنڈم، اور قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا انعقاد شامل تھا۔

صدرقیس سعید کا کہنا ہے کہ میرے اقدامات ’ریاست کو لاحق خطرے سے بچائو کے لیے ہیں۔ تاہم ۲۰۱۱ء کا انقلاب درست تھا‘‘۔ جس میں صدر زین العابدین بن علی کا تختہ اُلٹا گیا تھا۔

صدر کی جانب سے تیونس میں غیر معمولی اقدامات کو تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود تیونسی حلقوں میں تقسیم برقرار ہے۔ صدر کے مخالفین کا خیال ہے کہ ملک استبداد اور آزادیوں پر پابندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں، شہری آزادیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے، جس میں جیلوں کا تمام سیاسی مکاتب فکر کے سیاسی قیدیوں سے بھر جانا بھی شامل ہے۔ دوسری طرف قیس سعید کے حامی ان کو قومی خودمختاری کی علامت اور قومی فیصلوں کی بحالی کا علَم بردار سمجھتے ہیں۔

عدالتی فیصلوں کے اثرات

راشد الغنوشی کو سنائی جانے والی سزائوں پر مبنی فیصلے ان کی زندگی میں قید و بند اور جلاوطنی کے اس طویل سلسلے کا تسلسل ہیں، جو صدر حبیب بورقیبہ کے دور سے شروع ہوا اور پھر معزول صدر زین العابدین بن علی کے دور میں بھی جاری رہا۔تیونسی عدلیہ کے یہ احکامات اب صرف النہضہ تحریک تک محدود نہیں رہے، بلکہ ۱۴؍ اپریل کو ایک جج نے انسدادِ بدعنوانی اتھارٹی کے سابق سربراہ شوقی طبیب اور وکلا کی یونین کے سابق صدر کو بھی حراستی مرکز بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح’الحوار التونسی‘ چینل کے مالک سامی الفہری کو مالیاتی مقدمات میں پانچ سال قید، اور وکیل و میڈیا پرسن سنیہ الدہمانی کو میڈیا بیانات کی وجہ سے ۱۸ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ 

تیونس کے صحافیوں کی قومی یونین نے کہا: ’’یہ فیصلہ آزادیِ اظہار کے معاملات سے نمٹنے میں ایک خطرناک عدالتی انحراف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قسم کے مقدمات اس حکم نامے کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں جو صدر قیس سعید نے ۲۰۲۲ء میں مواصلاتی نظام اور معلومات سے متعلق جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے جاری کیا تھا، جو کئی صحافیوں، کارکنوں اور وکلا کی گرفتاری کا سبب بنا ہے۔یاد رہے گذشتہ ماہ ایک اور عدالت نے صحافی غسان بن خلیفہ کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی، جو آزادیِ اظہار پر منظم ریاستی حملہ ہے‘‘۔

یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب ۲۰۲۴ء سے زیرِ حراست معروف میڈیا شخصیات مراد الزغیدی اوربرہان بسیس کے وکلا نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ 

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کو نقصان پہنچانے والے فرامین کے ’سیاسی استعمال سے گریز‘ کیا جائے، جن کے تحت سیکڑوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ سے وابستہ ماہرین نے تیونس میں عدالتی عمل کے طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ عدل کے منافی ہے۔اسی طرح ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی عالمی تنظیموں نے بھی آزادیوں میں کمی اور ناقدین کے خلاف عدلیہ کے استعمال پر بات کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک فیصلے نے تیونس کے منظرنامے کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے، جس میں راشد غنوشی کو ایک ’ملزم‘ سے بین الاقوامی سطح پر ’مظلوم‘ قرار دیا گیا ہے۔ آمرمطلق صدر قیس سعید اب سوالات کی زد میں ہیں۔

 _______________

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

میرے پیارے والد شیخ راشد الغنوشی کے نام!

جبر کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ان کی گرفتاری کی تیسری برسی کے موقعے پر اُس شخصیت کے نام جس نے مجھے سکھایا کہ آزادی صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے ایک عزم، قربانی، نظم و ضبط، فکر کی بنیاد اور سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔

والد ِمحترم، آج آپ کی گرفتاری کو تین سال گزر چکے ہیں___ جدائی، درد اور انتظار کے تین سال___!

اور ساتھ ہی استقامت، ایمان، اُمید اور اللہ کے عدل و حکمت پر پختہ یقین کے بھی تین سال۔

ہم ہر روز آپ کو یاد کرتے ہیں..... ہم آپ کی بلند آواز کو یاد کرتے ہیں۔ جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے تھے یا ہمیں نماز کی جماعت کراتے تھے۔ ہمیں نماز کے بعد آپ کی نصیحتوں اور ذکر و اذکار کی وہ محفلیں یاد آتی ہیں جن کو آپ تھکاوٹ کے باوجود بڑی توانائی سے جاری رکھتے تھے..... ہمیں ناشتے کی میز پر آپ کا بیٹھنا یاد ہے جب آپ اخبار پڑھتے تھے اور پھر اپنے طے شدہ پروگراموں اور مصروفیات کے لیے تیزی سے نکل جاتے تھے..... میری مراد تمام اہل وطن کے لیے آزادی کے پروگرام ہیں..... ہمیں آپ کے اپنے پوتوں پوتیوں کے ساتھ کھیل کود اور ان کے پیچھے بھاگنا اور بچوں کے قہقہوں کی آوازیں یاد ہیں جو پورے گھر کے ماحول کو خوشی سے بھردیتی تھیں۔ لیکن اب زندگی کی بہت سی یومیہ تفصیلات آپ کی غیر موجودگی میں تکلیف دہ یاد بن گئی ہیں۔

والد محترم، آپ نے جیل سے باہر اپنی زندگی ایک مُربی، والد، لیڈر اور ایک ایسے انسان کے طور پر گزاری جو اپنے اور اپنےاصولوں کے ساتھ مخلص رہا۔ آپ نے کبھی اپنی سوچ یا رائے ہم پر مسلط نہیں کی، بلکہ آپ نے دلیل اور منطق کے ذریعے قائل کرنے پر ہمیشہ عمل کیا، اور یہی بتایا کہ نرمی، مہربانی اور حُسنِ اخلاق ہی کسی فکر کے بہترین سفیر ہوتے ہیں، چاہے وہ اولاد کے لیے ہو یا اہل وطن کے لیے۔

آپ نے ہمیں سکھایا کہ سیاست اور اقتدار سے پہلےمرکزیت ’اخلاق‘ کو حاصل ہے، اورجمہوریت محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، اور یہ ذمہ داری تمام اہل وطن کے لیے ہے،کسی ایک گروہ کے لیے نہیں۔

آج آپ اپنی کال کوٹھڑی میں ہیں، لیکن اس جبری دُوری کے باوجود آج بھی آپ ہمیں سکھا رہے ہیں..... پہلے سے کہیں زیادہ۔ آپ ہمیشہ سب کو یہی دعوت دیتے رہے کہ اپنے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے کشادہ کریں اور کبھی کسی سے انتقام لینے کی کوشش نہ کریں۔ آپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ وطن کی کشتی سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے بشرطیکہ سب اس کی حفاظت کریں۔

تاہم، اس کے باوجود، انھوں نے آپ کو جھوٹ اور بہتان کی بنیاد پر اور حقائق کو تلپٹ کرتے ہوئے گرفتار کر لیا،اور حکومت نے یہ مضحکہ خیز الزام لگایا کہ آپ تفرقہ بازی اور بغاوت پر لوگوں کو اُکسا رہے ہیں۔ یہ ایک سنگین، بدترین اور حقائق کے منافی الزام ہے۔

فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ۝۰ۭ اِنَّمَا تَقْضِيْ ہٰذِہِ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۝۷۲ۭ (طٰـہٰ۲۰:۷۲) تُو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے، تو صرف اسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ 

یہ مبارک آیت آپ پر ظلم کرنے والے حاکم کے لیے آپ کا جواب ہے۔ ظلم کتنا ہی بڑھ جائے اور سرکشی کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو جائے، اللہ کا عدل مہلت تو دیتا ہے مگر بھولتا نہیں، اور اس کی رحمت زیادہ وسیع اور غالب ہے۔

میرے پیارے والد محترم، انھوں نے آپ کو اس لیے قید کیا کیونکہ آپ نے ظلم کو مسترد کیا، اور آپ نے ظلم اور بغاوت کے خلاف اس وقت ’نہیں‘ کہا جب بہت سے لوگ خاموشی کا  راستہ منتخب کرکے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ لیکن اب آپ تنہا نہیں ہیں۔ ہماری ریاست آج واقعی ’انصاف پسند‘ ثابت ہوئی ہے، کیونکہ آج بغاوت کے الزام میں آپ کے ساتھ تیونس کی تمام جماعتوں کے سربراہان قید ہیں۔ واہ، کیا کارنامہ ہے! اور کیسی کامیابی ہے ! مگر افسوس کہ آج اہلِ تیونس تنہا ہوکر رہ گئے ہیں، ان کے مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

والد ِ محترم، آپ عمر کے نویں عشرے میں ہیں، مگر سزائوں کی مدت آپ کی مجموعی زندگی سے زیادہ ہے۔ ان ظالمانہ فیصلوں میں عشروں کی قید کا اعلان کیا جارہا ہے۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے، آپ کی روح اب بھی زندگی اور توانائی سے بھرپور ہے، کیونکہ آپ کے پاس وہ کچھ ہے جو ان کے پاس نہیں۔ آپ کے پاس ایمان ہے، آپ کے پاس مقصد ہے، اور آپ کے پاس یقین ہے۔

وہ جیلوں کے مالک ہیں.....اور آپ اپنے الفاظ، حکمت اور اللہ اور اس کے قوانین پر اپنے پختہ یقین کے مالک ہیں۔وہ ایک لمحے کے مالک ہیں جو تاریخ میں مختصر ہو گا، اور آپ تاریخ، شعور اور ایک ایسی یاد کے مالک ہیں جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔

میرے پیارے ابّا جان!ہم جانتے ہیں اور پوری دنیا بھی جانتی ہے کہ یہ مقدمات سیاسی ہیں، اور وہ عدلیہ جسے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ عدلیہ نہیں رہی..... بلکہ وہ ظلم اور گمراہی کا ہتھیار اور درندگی کی مشین بن چکی ہے۔

آج تیونس میں جو کچھ ہو رہا ہے..... وہ صرف لوگوں پر ظلم نہیں ہے..... بلکہ یہ اس خواب کو چکنا چور کرنے کی کوشش ہے کہ ہم ایک ایسے وطن تیونس میں رہیں جس میں ہر شہری جبرو استبداد کے بغیر آزادی و عزّت کے ساتھ جی سکے۔

محترم ابّا جان، خواب مرتے نہیں ہیں، آپ اس بات کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ اور آپ یقیناً یہ بھی جانتے ہیں کہ جھوٹ کی رسی، جس کے ذریعے آزاد لوگوں پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں، بہت کمزور ہوتی ہے۔اور یہ کہ ظلم اندھیرا ہے، لیکن اس کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کے بعد سورج ہمیشہ طلوع ہوکر رہتا ہے۔

اِنَّ   مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ۝۰ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ    بِقَرِيْبٍ۝۸۱ (هود۱۱:۸۱)

بے شک ان کے (عذاب کا) وعدہ صبح کا ہے___ کیا صبح قریب نہیں ہے؟

آپ کے لیے سلامتی کی دعا اور ظالمانہ قید میں موجود تمام آزاد لوگوں کے لیے بھی !

آپ کی بیٹی تسنیم

 _______________

برسوں پر محیط ظالم ڈکٹیٹر حسینہ واجد کے آمرانہ دور میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکانے، ہزاروں نوجوانوں کی گم شدگی، ہزاروں کارکنوں کو برسوں جیل میں رکھنے اور ان پر شدید ترین مظالم ڈھانے کے باوجود آج کل جماعت اسلامی اپنی تاریخ میں مقبولیت کی بلندترین سطح پر ہے۔ اس کے لیڈروں اور کارکنوں کی ان قربانیوں اور صبر و استقامت کے نتائج اب ملک بھر میں جماعت کی ہر سطح پر پذیرائی اور مقبولیت کی صورت میں نکل رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش میں اس مقام پر لانے میں یوں تو وہاں کی مجموعی قیادت کی سوچ اور پالیسیوں کا دخل ہے، لیکن اگر کسی ایک قائد اور راہ نما کا نام لیا جائے تو وہ پروفیسر غلام اعظم ہیں، جو ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیر تھے۔ یہ انھی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس جماعت کو بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ۱۹۷۱ء کے دوران پاکستان کو انڈیا کی سازش سے بچانے اور ملک کو دو ٹکڑے ہونے سے بچانے کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی وجہ سے غداری کے الزام سے خود کو بری کریں اور اس کو قومی دھارے کی سیاست میں دوبارہ فعال کریں۔ انھوں نے چند سال جلاوطن رہ کر اور پھر واپس جا کر اپنی دور اندیشی اور تدبر سے جماعت اور جمعیت کو ایک جدید اور قابل عمل نظام دیا، جس نے نہ صرف جماعت کو مضبوط نظریاتی بنیادوں پر کھڑا کردیا بلکہ ان دونوں کو نظم کے ایک بندھن میں پرو دیا۔ اس طرح جماعت کو نوجوانوں خاص طور پر تعلیمی اداروں ( یونی ورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں اور دینی مدارس ) کے طلبہ اور طالبات کی افرادی قوت بھی میسر آ گئی۔

یہ نظام کیا ہے؟ اور اس کو کس طرح پروفیسر غلام اعظم نے رائج کیا؟ اس کا جائزہ پیش ہے:

مغربی پاکستانی اشرافیہ ( سیاسی، خاکی اور نوکر شاہی) کی اپنی سیاسی بے بصیرتی اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس کی وجہ سے ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہوگیا اور سقوطِ ڈھاکہ ہوگیا۔اس وقت پروفیسر غلام اعظم اور سابق امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان مولانا عبد الرحیم جماعت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کےلیے لاہور میں موجود تھے اور انھوں نے لاہور میں ملک کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔وہ اس سے قبل ۲۱نومبر ۱۹۷۱ء کو مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) جارہے تھے کہ ان کا طیارہ کولمبو سے واپس مغربی پاکستان بھیج دیاگیا۔ اس کے بعد وہ ۱۹۷۴ء تک پاکستان میں رہے۔ یہ دونوں رہنما کچھ دنوں بعد کراچی آگئے۔

پروفیسر غلام اعظم اور مولانا عبد الرحیم کو پاکستان سے الگ ہونے کا بڑا رنج و ملال تھا اور وہ اکثر اس سانحہ کے اسباب و علل پر بھی اظہار خیال کرتے اور پاکستان کی حکومت کی غلط پالیسیوں کو بھی زیر بحث لاتے تھے۔تھوڑے عرصے بعد یہ دونوں بزرگ کراچی سے دوبئی چلے گئے۔

اس کے بعد پروفیسر صاحب دوبئی اور لندن میں قیام پذیر رہے۔ پھر ۱۸؍اپریل ۱۹۷۳ء کو مجیب حکومت نے اُن کی شہریت منسوخ کردی۔ اس کے باوجود لاہور، کراچی ، دوبئی اور لندن میں جلا وطنی کا کچھ عرصہ گزارا۔ پھر خبر ملی کہ وہ اگست ۱۹۷۸ء کے دوسرے ہفتے واپس ڈھاکہ چلے گئے ہیں اور اپنی شہریت کی بحالی کےلیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔لیکن تحریک اسلامی کی غیر علانیہ قیادت سنبھال لی۔وہ جماعت کے رہبر تھے۔ اس طرح پہلے مولانا عباس خاں اور پھر مطیع الرحمٰن نظامی امیر جماعت بنے۔

ہماری ان سے ۱۹۸۴ء کو اس وقت ملاقات ہوئی جب روزنامہ جنگ  کی طرف سے ہمیں اور اخبار جہاں کے ایڈیٹر نثار احمد زبیری کو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ( Organization of Islamic Countries) کے وزرائے خارجہ کے تین روزہ اجلاس کی کوریج کےلیے ڈھاکہ بھیجا گیا۔اس وقت بنگلہ دیش کے قیام کو صرف ۱۲ سال ہی گزرے تھے۔کانفرنس تو تین دن میں ختم ہوگئی اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک سے آئے ہوئے صحافی واپس چلے گے لیکن ہم تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے تین صحافی ،راقم ، نثار زبیری اور لندن سے نکلنے والے انگریزی ماہ نامہ Arabia کے نمائندہ خصوصی اسلم عبداللہ ( اب لاس اینجلس، امریکا کے ایک بڑے دینی اسکالر و امام) مزید ایک ہفتے کےلیے وہیں رُک گئے۔

پروفیسر غلام اعظم صاحب سے آخری بار ملاقات ۲۰۰۳ء میں کراچی میں ہوئی، جب وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد پہلی بار پاکستان آئے اور انھوں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کے بعد کراچی کا بھی دورہ کیا، اور ایک بڑے استقبالیہ سے خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر ان سے کراچی کے قیام اور ڈھاکہ میں ملاقاتوں کا تذکرہ رہا۔

ہماری ان سے بھر پور، متاثر کن اور یاد گار ملاقات ۱۹۸۴ء کی ہے، جس میں ان کو قریب سے دیکھنے، ان کے تحریک اسلامی کے بارے میں وژن اور اس کی نئے ملک بنگلہ دیش کے حالات کے مطابق تنظیم نو کی حکمت عملی اور ان کی دور اندیشانہ سوچ کو سمجھنے کا موقع ملا۔

یہاں اختصار کے ساتھ ان اقدامات کا ذکر کریں گے، جو پروفیسر غلام اعظم صاحب نے جماعت اور جمعیت کی قیادت کے باہمی مشورے کے بعد جماعت کے نظم میں کیے تھے اور جن کی وجہ سے جماعت اسلامی ایک بدترین آمرانہ دور دیکھنے اور اپنے قائدین کی پھانسیوں اور ہزاروں لیڈروں اور کارکنوں کی قید وبند کی صعوبتوں کے باوجود اس وقت بنگلہ دیش کی ایک بڑی قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔

انقلابی حکمت عملی: اہم پہلو

پروفیسر غلام اعظم اپنے جھونپڑے نما گھر کے ایک چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں اپنے سیاسی اور تحریکی سفر کی یہ داستان سنارہے تھے۔اس رُوداد میں وہ مرحلے سامنے آئے، جن کے تحت انھوں نے اپنی دوراندیشی اور مستقبل بینی سے جماعت اسلامی اور جمعیت کے بالکل درہم برہم تنظیمی ڈھانچے کے تنکے تنکے کو جمع کیا اور نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق اس کو ایک نئی شکل میں منظم کیا۔

بنگلہ دیش واپس جاتے ہی سب سے پہلے انھوں نے غداری کے اس الزام کا دفاع کیا کہ جب علاحدگی کی تحریک چل رہی تھی، اس وقت یہ صوبہ مشرقی پاکستان ہمارا وطن تھا جو اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا۔ اس کا دفاع کرنا عین حب الوطنی اور اسلامی نظریے کے تحفظ کا تقاضا تھا۔ لیکن جب  وہ پاکستان سے الگ ہوگیا ، تو اب بنگلہ دیش ہی ہمارا وطن ہے اور اس کا دفاع، اس کی ترقی اور اس سے محبت ہم ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس طرح انھوں نے بنگلہ دیش کی سیاست میں خود کو نہ صرف شامل کیا بلکہ اپنی قدآور سیاسی شخصیت، علم و حکمت، بزرگی اور تدبر کی وجہ سے سیاست دانوں میں اپنے لیے امتیازی مقام بھی پیدا کرلیا۔ 

اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے جماعت کے نظام کو بدلنے کا ارادہ کیا۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ جماعت کے نظام اور تنظیمی ڈھانچے کو بدلے بغیر ہم ملک کے نظام کو نہیں بدل سکتے۔ چنانچہ جماعت اور جمعیت کی قیادت سے طویل مشوروں کے بعد بنیادی فیصلے کیے گئے جو بڑے مفید ثابت ہوئے۔

  • دوہری ممبرشپ: پہلا فیصلہ ’دُوہری کارکنیت‘ (Dual Workership )کا کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جماعت اور جمعیت کے کارکن بیک وقت دونوں کے لیے کام کریں گے۔اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ اگر کسی گھر کا کوئی نوجوان جمعیت کا کارکن ہے تو اسی وقت وہ جماعت کا بھی کام کرے گا اور اپنے والدین اور دوسرے افراد کو جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دے گا۔اسی طرح اگر کسی گھر کا کوئی فرد جماعت کا رکن یا کارکن ہے، اور اس کے بچے کالج یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں تو وہ جماعت کے کام کے ساتھ ساتھ ان کو جمعیت میں لانے کےلیے بھی کام کرے گا اور اس کی باقاعدہ رپورٹ اپنے نظم کو دیتا رہے گا۔اس نئے نظام کے اچھے نتائج نکلے اور سیکڑوں گھرانے تحریک اسلامی سے نہ صرف متعارف ہوئے بلکہ جماعت کی اصل طاقت بھی بنے۔
  • تربیت کے مراکز کا قیام: ایک فیصلہ یہ کیا گیا کہ جماعت اور جمعیت کے کارکنوں اور حامیوں کی دینی تربیت کے لیے ادارے بنائے جائیں اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔ متعدد خصوصی تربیتی ادارے قائم کیے گئے اور مستند علما، اسکالرز اور مربی مقرر کیے گئے۔ چھوٹے پیمانے پر اسٹڈی سرکلرز منعقد کیے گئے اور جنگی بنیادوں پر تربیت اور تزکیۂ نفس کا اہتمام کیا گیا۔ تحریکی لٹریچر کو سبق کے طور پر پڑھایا گیا اور ان کی قابلیت کو جانچنے کے لیے باقاعدہ امتحانات کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس طرح تحریکی لٹریچر سے لیس کارکنوں اور ارکان کی ایک بڑی تعداد وجود میں آئی، جو استقامت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئی اور جماعت کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی۔ان رہنماؤں اور کارکنوں نے اس استقامت کا عملی مظاہرہ ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۴ء کے عوامی انقلاب اور حسینہ واجد کی ظالمانہ حکومت کے خاتمے تک مسلسل پھانسیوں، شہادتوں، عقوبت خانوں میں تشدد اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ کر کیا۔خود پرفیسر غلام اعظم ۹۲ سال کی عمر میں ۹۰سال کی قید کی سزا کاٹتے ہوئے ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۴ء کو جیل ہی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
  • برادر تنظیموں سے قربت کے لیے اقدامات: ایک اور مشترکہ فیصلہ یہ کیا گیا کہ چونکہ جماعت اسلامی کی فکری اور تجربہ کار قیادت اسلامی جمعیت طلبہ ہی سے فراہم ہونا ہے، اس لیے دونوں میں تنظیمی دوری کو ختم کیا جائے۔اس تاثر کو پختہ کیا جائے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ جمعیت اسکولوں، کالجوں اوریونی ورسٹیوں میں دین کی سر بلندی کے لیے کام کرتی ہے اور جماعت کا کام عوامی سطح پر ہے۔ اس فیصلے کی رُو سے طے کیا گیا کہ دونوں کی مرکزی اور ضلعی مجلس شوریٰ اور ارکان اور کارکنان کے اجلاس اور اجتماعات وقفے وقفے سے ایک ساتھ بھی منعقد ہوں اور دعوتِ عام اور تربیت کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی بھی کی جائے،تا کہ جمعیت کے کارکنوں کی جماعت میں آنے کے بعد کام کرنے کی تربیت بھی ہوتی رہے۔کام کا فہم بھی حاصل ہو، اجنبیت بھی دُور ہو  اور جب وہ فارغ ہو کر جماعت میں شامل ہوں تو جماعت میں کام کرنا ان کے لیے مشکل نہ ہو۔
  • کریئر پلاننگ کے مشترکہ بورڈ کا قیام: تیسرا بڑا فیصلہ جماعت اور جمعیت کی قیادت نے مشترکہ طور پر یہ کیا کہ جمعیت کے کارکنوں کی تعلیم سے فراغت کے بعد ان کے مستقبل کے پیشے کا انتخاب (Career Planning ) مشترکہ قیادت کرے۔اس طرح جمعیت نے اپنے تمام کارکنوں اور ارکان کو اجتماعی قیادت کے حوالے کر دیا اور کہا کہ ہر فرد ان کے فیصلے کی پابندی کرے گا۔ اس کا ایک نہایت ذمہ دارانہ نظام وضع کیا گیا جس پر پوری یک سوئی کے ساتھ ہر سال عمل کیا جاتا رہا۔

اس کا طریقۂ کار کے تحت پورے بنگلہ دیش کے کالجوں اور یونیورسٹیو ں میں جمعیت سے وابستہ کارکنوں کی ان کے آخری سال یا امتحان سے چند (تین یا چھ) ماہ قبل فہرستیں بنائی جائیں اور ان کو مرکز میں رہنماؤں کے مقررہ پینل کے پاس بھیج دیا جائے۔ وہ مختلف مواقع پر باری باری انٹرویو کرکے فیصلہ کرے کہ ان طلبہ کو تعلیمی نتیجے، صلاحیت، رجحان اور تقریری اور تحریری صلاحیتوں کے اعتبار سے سرکاری یا نجی شعبوں میں سے کس شعبے میں بھیجا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں تو اس کو اس کے آبائی علاقے یا شہر کی جماعت کے حوالے کیا جائے اور اس کی اسی لحاظ سے تربیت کا عمل شروع کیا جائے۔

  • قیادت سازی کی حکمت عملی: اس کا بھی ایک طریقہ طے کیا گیا کہ اس کے علاقے یا شہر کی جماعت کے ذمہ داروں کو اس کی اطلاع کی جائے اور جب وہ متعین طالب علم فراغت کے بعد واپس جائے تو اس کا استقبال کیا جائے۔ مسجد جائے تو امامت کے لیے آگے کیا جائے، عید کی نماز کی امامت اسی سے کرائی جائے اور اگر مقامی سطح پر کوئی تنازعہ یا دو گروہوں میں جھگڑا ہو جائے تو کہا جائے کہ اس نئے تعلیم یافتہ یا گریجوایٹ سے فیصلہ کرایا جائے، الغرض ہر ایسا کام کرایا جائے، جس سے اس کی شخصیت محلے اور علاقے میں ایک دانا مرجع اور لیڈر کے طو پر اُبھرکر سامنے آئے اور پھر اس کی ممکنہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر بھی کی جائے۔ اسی طرح اگر کوئی طالب علم بہت ذہین ہے اور اچھے نمبروں سے کامیاب ہوا ہے تو اس کے رجحان کے مطابق اسے پیشہ ورانہ شعبے کے مقابلے کے امتحان کے لیے منتخب کیا جائے یا شعبۂ تدریس کے لیے بھی اس کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
  •  پروفیشنل تربیت کے اداروں کا قیام: یہ فیصلہ کیا گیا کہ مختلف شعبوں کے لیے منتخب کیے گئے افراد کے امتحانات کی تیاری کے لیے باقاعدہ ادارے قائم کیے جائیں۔ چنانچہ پروفیشنل ادارے بھی قائم کیے گئے اور ان کو الگ سے رجسٹر بھی کرایا گیا۔ ہمیں ان اداروں کو دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ ایک عجیب بات مشاہدے میں آئی کہ یہا ں جماعت سے وابستہ افراد مالی اعتبار سے خستہ حالی کا شکار تھے۔ لیکن وہ نظریاتی طور پر نہایت مطمئن اور دُوراندیشانہ سوچ کے حامل تھے اور ان کے زیر انتظام قائم جماعت کے سارے ادارے کامیابی کے ساتھ چل رہے تھے۔
  •  حکمت عملی کے نتائج: پروفیسر صاحب کے نزدیک ان فیصلوں اور ان پر کامیابی کے ساتھ عمل درآمد کا نتیجہ یہ ہے کہ جمعیت کے ۹۸ فی صد افراد اور کارکن نہ صرف تحریک اسلامی ہی میں شامل رہتے ہیں، بلکہ اپنی پسند کے شعبوں میں جا کر اور اچھے عہدوں پر فائز ہو کر بھی اپنے کام کے ساتھ ساتھ تحریک اسلامی کا کام بھی زیادہ بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں۔رضائے الٰہی کا حصول ہمیشہ ان کی نگاہ میں رہتا ہے۔ اس طریقۂ کار پر عمل کے یہ ابتدائی سال تھے اور پروفیسر صاحب نے اس طرح مقابلے کے امتحانات اور دیگر شعبوں میں کامیاب ہونے والوں کے اعداد و شمار بتا کر ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

ان نتائج اور جماعت کی خستہ مالی حالت کے باوجود سیاست سمیت ہر شعبے میں شاندار کامیابیاں دیکھ کر دل خوش ہوگیا کہ یہاں پر جماعت نے نوجوان خون کو اپنا حصہ بنانے کے لیے کیا شان دار حکمت عملی اپنائی ہے۔لیکن اس کے برعکس جب جماعت اور جمعیت کا نظریاتی طور پر ایک ہی فکر اور نظریے سے وابستگی کا دعویٰ رہا، اور علی الاعلان دونوں کہتے ہیں کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں، جو قانونی طور پر بالکل درست کہتے تھے، لیکن اس طرح کارکنوں کے ذہنوں میں قانونی چیز کا روحانی طور پر ذہنوں میں راسخ ہوجانا کہ ہم دو علاحدہ علاحدہ جماعتیں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ جب وہ طالب علم جمعیت سے فارغ ہوتے تو عام معاشرے میں کہیں گم ہوجاتے اور ان کی بہت ہی تھوڑی تعداد جمعیت سے جماعت میں آتی ہے۔

پروفیسر صاحب کی اس بات میں کتنی سچائی تھی کہ ’’ہمیں نئی حکمت عملی بنانے اور اپنانے کا راستہ ملا‘‘۔

 _______________

ظالم کی مغفرت

سوال : ایک شخص کسی پر بڑے ظلم ڈھاتا ہے، اس کی حق تلفی کرتا ہے، اسے ہر طریقے سے نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے باوجود جب یہ ظالم مرجاتا ہے تو مظلوم اس کے جنازے میں شریک ہوتا ہے، نمازِ جنازہ پڑھتا ہے اور دُعائے مغفرت کرتا ہے۔ کیا یہ صحیح طرزِعمل ہے؟ کیا اس طرح ظالم کے گناہ بخش دیئے جائیں گے؟ 

جواب :اس کے گناہ بخشے جائیں یا نہ بخشے جائیں، مظلوم کو اپنے طرزِعمل کا اجر ضرور ملے گا کہ اس نے اس حد تک درگزر سے کام لیا ہے۔

سوال : اگر میں کسی مرنے والے کو اپنا حق معاف کردوں تو کیا اسے معاف نہیں کردیا جائے گا اور بخش نہیں دیا جائے گا؟

جواب : اگر کوئی شخص آپ سے قرض لیتا ہے اور واپس کرنے کی خواہش اور کوشش کے باوجود اپنے حالات کے باعث واپس نہیں کرسکتا اور اس حالت میں وہ مرجاتا ہے اور آپ اس کے ذمے اپنا قرض معاف کر دیتے ہیں، تو خدا بھی اسے معاف کر دے گا۔ لیکن اگر صورت یہ ہو کہ وہ واپس کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اس کے باوجود جان بوجھ کر واپس نہ کرے اور قرض دبا کر خوش ہو، تو آپ چاہیں معاف کر دیں، خدا کے ہاں وہ اپنے اس طرزِعمل اور ظلم و بددیانتی کی سزا پائے گا۔

سوال :ہمارے قصبے میں ایک صاحب کہتے ہیں کہ سزا اور تعذیب کی یہ سب باتیں محض ڈرانے کے لیے ہیں، خدا سب کو معاف کردے گا، چاہے گناہ کی کوئی شکل بھی ہو؟

جواب :شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا نے صرف جنّت بنائی ہے، دوزخ کا کوئی وجود نہیں ہے؟

نیند کی گولیاں اور نشہ

سوال :کیا نیند لانے والی گولیاں ’نشے ‘کی تعریف میں نہیں آتیں؟

جواب :’نشہ‘ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے آدمی کی عقل ماؤف ہوجائے، بھلے بُرے کی تمیز ختم ہوجائے اور آدمی کو کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے۔ اِس لحاظ سے خواب آور گولیاں ’نشے‘ کی ذیل میں نہیں آتیں۔

سوال :لیکن اگر کسی کو خواب آور گولیاں کھانے کی باقاعدہ عادت ہوجائے؟

جواب : محض عادت، ’نشے‘ کا نام نہیں، اور نہ ایسی عادت بھلے بُرے کی تمیز یا بھلائی بُرائی کے احساس کو ختم کرسکتی ہے۔

تاریخ کا مطالعہ کس طرح؟

سوال : ہمیں تاریخ کا مطالعہ کس طرح کرنا چاہیے؟ کس مقام پر پہنچ کر اسلام کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے اور صرف مسلمانوں کی تاریخ رہ جاتی ہے؟

جواب : اسلام تاریخ کے ہر دور میں موجود رہا ہے اور جب تک دُنیا قائم ہے اس کی تاریخ جاری رہے گی۔ مختلف اَدوار میں فرق ہوسکتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اسلامی تاریخ ختم ہوگئی۔ عہد نبوتؐ و خلافت ِ راشدہؓکی تاریخ، اسلام کی مکمل ترین شکل کی تاریخ ہے۔ اس وقت دستور بھی اسلام کا تھا، قانون بھی اسلام کے مطابق تھا اور قیادت بھی اسلامی تھی۔ بعد میں دستور کی شکل بدل گئی، لیکن قانون بحیثیت مجموعی اسلام کا ہی جاری رہا۔ قیادت کے باب میں بھی یہ اسلام ہی کا اعجاز ہے کہ دورِ ملوکیت میں مختلف مواقع پر جتنے خداترس اور حق پرست حکمران ہماری تاریخ میں ملتے ہیں، اتنے کسی اور جگہ دکھائی نہیں دیتے۔ پھر بعد کے اَدوار میں بھی اسلام اس صورت میں جلوہ گر رہا ہے کہ اُمّت نے اپنی دینی رہنمائی کے لیے بادشاہوں کی طرف نہیں دیکھا بلکہ ائمۂ کرام کی طرف رجوع کیا ہے، جنھوں نے اِقتدار کی سختیوں اور ناراضیوں کے باوجود اُمّت کے سامنے وہی چیز پیش کی جس کو انھوں نے حق سمجھا ، اور اسی چیز کو قبولِ عام حاصل ہوا۔(۵-اے ذیلدار پارک، اوّل)

 _______________