مئی 2026

فہرست مضامین

کیا اُمت کا وقت ختم ہو چکا ہے؟

راشد شاز | مئی 2026 | اُمت مسلمہ

Responsive image Responsive image

پچھلی چند دہائیوں میں ایک خیال بار بار سامنے آیا ہے کہ تاریخ اپنے انجام تک پہنچ چکی ہے۔ مغربی تہذیب کو فیصلہ کن تہذیب قرار دیا جا رہا ہے، اور باقی سب کو ماضی کا نوحہ سمجھا جا رہا ہے۔ کچھ مفکرین نے اس خیال کو باقاعدہ نظریات کی شکل دی۔ فرانسس فوکویاما نے کہا کہ ’تاریخ ختم ہو چکی ہے‘۔ سیموئل ہن ٹنگٹن نے کہا کہ ’دنیا تہذیبوں کے تصادم کی طرف جا رہی ہے‘۔اور برنارڈ لیوس نے مسلم دنیا سے ایک سوال پوچھا: ’What Went Wrong ‘(یہ ان کی تصنیف بھی ہے )۔

بظاہر یہ ایک سادہ سوال ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا فکری سانچا ( فریم ورک) چھپا ہوا ہے۔یہ سوال صرف باہر سے نہیں آیا ہے بلکہ اب ہم میں سے بھی کچھ لوگ انھی فکری سانچوں میں سوچنے لگے ہیں۔ جنھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے:’’ مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا، اب قیادت کسی اور کے ہاتھ میں ہے، اور ہمیں فاتحین کے ساتھ جینا سیکھنا چاہیے‘‘۔ یعنی کیا واقعی اسلام اب ایک ماضی بن چکا ہے؟ اور کیا ہم ایک Post-Ummah World (ما بعد امت دنیا) میں جی رہے ہیں؟

’مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا؟‘ اپنی جگہ یہ کوئی سرسری سا جملہ نہیں ہے۔ یہ دراصل تین سطحوں پر ایک مکمل دعویٰ ہے: ایک تاریخی دعویٰ، ایک فلسفیانہ دعویٰ، اور ایک اعتقادی دعویٰ کہ اسلام اپنا کام کر چکا ہے اور اب اس کی افادیت جاتی رہی ہے۔

اگر یہ دعویٰ مان لیا جائے، تو قرآن صرف ایک کتاب رہ جائے گا، امت ایک یاد بن جائے گی، اور اسلام ایک زندہ قوت کے بجائے محض ایک تاریخی حوالہ بن کر رہ جائے گا۔ لہٰذا، سوال یہ نہیں کہ یہ بات ہمیں اچھی لگتی ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے: یہ بات آئی کہاں سے؟

برنارڈ لیوس کا سوال What Went Wrong  بظاہرایک تشخیص ہے، مگر اس کے اندر ایک مفروضہ پہلے سے موجود ہے کہ ’’آپ کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب آپ صرف اپنی غلطیوں کو سمجھ سکتے ہیں‘‘۔ مگر سوال یہ ہے: ’’کیا واقعی مسئلہ یہ تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی؟ یا مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے زوال کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنی تقدیرمان لیا؟‘‘

جب فوکویاما نے کہا کہ ’تاریخ ختم ہو چکی ہے‘، تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ ایک نظام جیت گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ باقی سب اب کوئی حقیقی متبادل نہیں رہے۔

اور جب ہن ٹنگٹن نے کہا کہ ’تہذیبیں ٹکرائیں گی‘، تو بالواسطہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ ’کچھ تہذیبیں باقی نہیں رہیں گی‘۔

اسی فکری سانچے میں اسلام کو بھی خاموشی سے ایک ’زندہ قوت‘ سے ’ایک تاریخی مثال‘ میں بدل دیا گیا۔اور خطرناک بات یہ ہے کہ ہم نے بھی یہی مان لیا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے خود کہنا شروع کر دیا: ’’ہم زوال کا شکار ہیں‘‘،’’ہم ختم ہو گئے‘‘، ’’اب ہماری باری نہیں رہی‘‘۔

مسئلہ یہ نہیں کہ لیوس نے سوال پوچھا، یا فوکویاما نے نظریہ دیا، یا ہن ٹنگٹن نے فریم بنایا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے فکری سانچے کے اندر کھڑے ہو کر خود کو دیکھنا شروع کر دیا۔

سب سے پہلے تاریخ کو ایک پیٹرن [مفروضہ اصول] میں ڈالا گیا: عروج، کمال، اور پھر زوال۔ یعنی رومی تہذیب آئی اور پھر زوال کا شکار ہوگئی ، فارس آیا اور چلا گیا، عثمانی آئے اور چلے گئے۔ اور پھر ایک جملہ خاموشی سے شامل کر دیا گیا: ’’اسلام بھی ایک مرحلہ تھا‘‘۔

یہی وجہ موڑ ہے جہاں پہلی فکری خیانت (intellectual betrayal) ہوئی۔ اسلام کو تہذیب بنا دیا گیا، حالانکہ اسلام تہذیب نہیں ہے، —اسلام ایک مشن ہے۔

تہذیبیں آتی ہیں اور جاتی ہیں، جب کہ مشن یا تو پورا ہوتا ہے یا نامکمل رہ جاتا ہے۔ تہذیب بدل جاتی ہے، جب کہ مشن ترک ہو جاتا ہے۔ تہذیب زمانے کی پیداوار ہوتی ہے، جب کہ مشن زمانے کو بدلنے کے لیے آتا ہے۔

اور ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اسلام کو تہذیب کے خانے میں ڈال دیا، اور پھر خود ہی اعلان کرنا شروع کر دیا:’ہم ختم ہو گئے‘۔ پھر جدید دنیا آئی، اور اس نے کہا کہ ’آزاد خیال نظام (لبرلزم) آخری حد ہے، جدید ریاست آخری منزل ہے، اور باقی سب تاریخ ہیں۔ اسی فکری سانچے میں اسلام کو بھی ایک زندہ قوت سے ایک نوادراتی شے اور ماضی کے ورثے میں بدل دیا گیا۔

اور سب سے خطرناک لمحہ وہ تھا، جب ہم نے خود کہنا شروع کر دیا:’’یہ سنت ِ الٰہی ہے… قومیں آتی ہیں، جاتی ہیں… ہماری باری ختم ہو گئی…‘‘

مگر یہ قرآن نے نہیں کہا، یہ رسولؐ نے نہیں کہا۔ یہ ایک کہانی ہے جو ہمیں سنائی گئی، اور ہم نے اسے مان لیا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں غلط بتایا گیا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خود اپنے بارے میں غلط سوچنا شروع کر دیا۔ ہم نے اسلام کو غلط خانے میں رکھ دیا، اور امت کو ایک تہذیب سمجھ لیا، حالانکہ اُمت ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے، اور اللہ کی طرف سے ایک سپرد کردہ مشن ہے۔اسی لیے مسلمانوں کا زوال ان کے مشن کے خاتمے کی دلیل نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنی جگہ خالی کر دی۔ اور جب وہ اپنے مقام سے ہٹے تو خلا پیدا ہوا، اور جب خلا پیدا ہوا تو اسے اُن طاقتوں نے بھرا جنھوں نے دنیا کو منڈی بنایا، انسان کو وسیلہ بنا دیا، اور زمین کو لوٹ مار کا میدان بنا دیا۔

یہیں سے سوال بدل جاتا ہے: ’کیا مسلمان ختم ہو گئے؟ یا دنیا غلط ہاتھوں میں چلی گئی؟‘ سچ یہ ہے کہ امت ختم نہیں ہوئی، امت صرف سو گئی ہے۔ مشن ختم نہیں ہوا، بلکہ ذمہ داری چھوڑ دی گئی ہے۔ اور جب امت جاگے گی تو دنیا کو کوئی نئی تہذیب نہیں ملے گی، بلکہ وہی پرانا سچ دوبارہ یاد آئے گا۔

اب یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے۔ پچھلے دو سو سال سے ہم ایک ہی سوال دُہرا رہے ہیں: ’ہم کہاں غلط ہوئے؟‘ بظاہر یہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ سوال ہے، لیکن شاید اسی سوال نے کچھ لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیا کہ ہم بھی ایک تہذیب تھے، جو اَب ختم ہو چکی ہے۔ یعنی سوال شروع ہونے سے پہلے ہی نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ ہم ختم ہو چکے ہیں۔ حالانکہ ہم تشخیص کر رہے تھے، مگر اسے یوں سمجھا گیا جیسے ہم اپنی موت کا اعتراف کر رہے ہوں۔

شاید اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ آج بھی ہم ایک ذہنی کیفیت میں زندہ ہیں، ایک ایسی کیفیت جس میں ہم دوسروں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ جہاں ترقی کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ پہلے مغرب کی نقل کی جائے، اور پھر ایک دن اسے پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اس دوڑ میں ہم نے ایک بنیادی چیز کھو دی: ’سمت‘۔ ہم نے رفتار حاصل کر لی، مگر سمت کھو دی۔

پھر ایک اور بڑا حادثہ پیش آیا: اسلام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ’متوارث اسلام‘، جو کتابوں میں محفوظ ہے، اور ایک ’پیمبرانہ یا منزل اسلام‘، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ یہ دونوں ایک ہی عمارت کی دو منزلیں بن گئیں، مگر ان کے درمیان کوئی سیڑھی باقی نہ رہی۔ ہم نیچے کھڑے ہیں، اوپر دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اوپر روشنی ہے، مگر ہم وہاں تک پہنچ نہیں پارہے۔ اسی مخمصے کا تذکرہ میں نے اپنی کتاب Where We Went Wrong?میں کیا ہے ، ملاحظہ کیجیے گا۔

اصل مسئلہ زوال نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے منبعے سے تعلق کھو دیا۔ قرآن ہمارے پاس ہے، مگر ہم قرآن کے ساتھ نہیں ہیں۔ ہم روایت میں پھنس گئے یا مغرب میں کھوگئے، اور اسلام درمیان میں رہ گیا۔ ہم نے اسلام کو تہذیب سمجھ لیا، حالانکہ اسلام ایک زندہ حقیقت ہے، ایک جاری دعوت ہے، اور ایک ایسا مشن ہے جو ہر دور میں خود کو نئے سرے سے ظاہر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اگر یہ بات درست ہے کہ فضیلت مشن سے جڑی ہوتی ہے، تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ قرآن تو ہمیں بنی اسرائیل کی داستان بار بار سناتا ہے، مگر صرف تاریخ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک شفاف آئینے کے طور پر۔

قرآن کہتا ہے: وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝۴۷ (البقرہ ۲:۴۷)، مگر یہ فضیلت نہ نسلی تھی، نہ دائمی، یہ کتاب، ہدایت، اور مشن کی بنیاد پر تھی۔ پھر قرآن کہتا ہے: فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّيْثَاقَہُمْ لَعَنّٰہُمْ (المائدہ ۵:۱۳)، انھوں نے عہد توڑا، احکام چھوڑے، اور کتاب کو بدل دیا۔ مگر مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کتاب ختم ہو گئی، مسئلہ یہ تھا کہ کتاب کے ساتھ تعلق ختم ہو گیا۔ پھر قرآن ایک مثال دیتا ہے: كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا۝۰ۭ (الجمعۃ ۶۲:۵) کتاب موجود مگر قیادت ختم، علم موجود مگر عمل مفقود ، متن موجود مگر مشن غائب!

پھر سورئہ بنی اسرائیل میں ایک مثال بیان کی جاتی ہے: فساد، پھر سزا، اور پھر واپسی کا موقع۔ قرآن بنی اسرائیل کی تاریخ کے ذریعے یہ دکھاتا ہے کہ جب وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو ان پر عذاب آتا ہے، ان کی قوت چھن جاتی ہے، اور انھیں مغلوب کر دیا جاتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی ان کے لیے واپسی کا دروازہ بند نہیں کیا جاتا، بلکہ انھیں دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

لہٰذا، اصول واضح ہے: فضیلت قوم کی نہیں، مشن کی ہوتی ہے۔

اب سوال یہ ہے: اگر ہم بھی اپنا مشن چھوڑ دیں، تو کیا ہم باقی رہیں گے؟ یا ہم بھی ایک تاریخی حوالہ بن جائیں گے؟فرق یہ ہے کہ ہمارے پاس قرآن محفوظ ہے، مکمل ہے، اور غیر متبدل ہے۔ یعنی ہمارا تجدیدی منبع زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ختم نہیں ہو سکتے، ہم صرف بھٹک سکتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے لوگ دوبارہ  واپس آ سکتے ہیں۔لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا، وہ قرآن کی غلط تعبیر کر رہے ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ تم ختم ہو جاؤ گے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ تم بھٹک سکتے ہو، اور واپس بھی آ سکتے ہو۔

اب آخری سوال: اگر امت ختم نہیں ہو سکتی، تو اس کا کردار کیا ہے؟

قرآن کہتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ  (الاحزاب ۳۳:۴۰)محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آخری نبی ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اب کوئی نئی وحی نہیں آئے گی کوئی نیا رسول نہیں آئے گا تو پھر ہدایت کا سلسلہ کیسے چلے گا؟ یہی امت اس مشن کو آگے لے جائے گی۔ قرآن امت کو کیسے بیان (define )کرتا ہے؟ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (اٰل عمران ۳:۱۱۰)’’تم برپا کی گئی ہو لوگوں کے لیے‘‘ اور پھر: لِّتَكُونُوا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ (البقرہ ۲:۱۴۳)’’تم گواہ ہو انسانیت پر‘‘۔ یہ کوئی historical role (تاریخی فریضہ)نہیں ہے۔ یہ ایک مسلسل (ongoing ) ذمہ داری ہے۔ جب تک انسان ہیں یہ ذمہ داری باقی ہے۔ اب ان سب کو جوڑیں اگر: نبی آخری ہے، کتاب آخری ہے، پیغامِ آفاقی (universal ) ہے، ذمہ داری جاری ہے تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ اُمت کا مشن بھی آخری اور جاری ہے۔ لہٰذا: ’امت کا وقت ختم ہوگیا‘ یہ صرف غلط نہیں، یہ ایک فکری تضاد (theological contradiction) ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ امت ختم ہو گئی، اصل مسئلہ یہ ہے کہ امت نے خود کو ایک تہذیب سمجھ لیا،جب کہ وہ ایک ذمہ داری تھی۔ اُمت ختم نہیں ہوئی، وہ صرف سو گئی ہے۔ اور جب امت سوجائے، تو لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو۔لہٰذا، سوال یہ نہیں کہ ہمارا وقت ختم ہو گیا، سوال یہ ہے: کیا ہم جاگنے کے لیے تیار ہیں؟ سچ یہ ہے: امت ختم نہیں ہوئی، ہم نے خود کو ختم شد سمجھ لیا۔ اور جب انسان خود کو ختم شد سمجھ لے، تو وہ زندہ ہو کر بھی… زندہ نہیں رہتا۔[ویڈیو ٹرانسکرپٹ پر مبنی]