راشد شاز


پچھلی چند دہائیوں میں ایک خیال بار بار سامنے آیا ہے کہ تاریخ اپنے انجام تک پہنچ چکی ہے۔ مغربی تہذیب کو فیصلہ کن تہذیب قرار دیا جا رہا ہے، اور باقی سب کو ماضی کا نوحہ سمجھا جا رہا ہے۔ کچھ مفکرین نے اس خیال کو باقاعدہ نظریات کی شکل دی۔ فرانسس فوکویاما نے کہا کہ ’تاریخ ختم ہو چکی ہے‘۔ سیموئل ہن ٹنگٹن نے کہا کہ ’دنیا تہذیبوں کے تصادم کی طرف جا رہی ہے‘۔اور برنارڈ لیوس نے مسلم دنیا سے ایک سوال پوچھا: ’What Went Wrong ‘(یہ ان کی تصنیف بھی ہے )۔

بظاہر یہ ایک سادہ سوال ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا فکری سانچا ( فریم ورک) چھپا ہوا ہے۔یہ سوال صرف باہر سے نہیں آیا ہے بلکہ اب ہم میں سے بھی کچھ لوگ انھی فکری سانچوں میں سوچنے لگے ہیں۔ جنھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے:’’ مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا، اب قیادت کسی اور کے ہاتھ میں ہے، اور ہمیں فاتحین کے ساتھ جینا سیکھنا چاہیے‘‘۔ یعنی کیا واقعی اسلام اب ایک ماضی بن چکا ہے؟ اور کیا ہم ایک Post-Ummah World (ما بعد امت دنیا) میں جی رہے ہیں؟

’مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا؟‘ اپنی جگہ یہ کوئی سرسری سا جملہ نہیں ہے۔ یہ دراصل تین سطحوں پر ایک مکمل دعویٰ ہے: ایک تاریخی دعویٰ، ایک فلسفیانہ دعویٰ، اور ایک اعتقادی دعویٰ کہ اسلام اپنا کام کر چکا ہے اور اب اس کی افادیت جاتی رہی ہے۔

اگر یہ دعویٰ مان لیا جائے، تو قرآن صرف ایک کتاب رہ جائے گا، امت ایک یاد بن جائے گی، اور اسلام ایک زندہ قوت کے بجائے محض ایک تاریخی حوالہ بن کر رہ جائے گا۔ لہٰذا، سوال یہ نہیں کہ یہ بات ہمیں اچھی لگتی ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے: یہ بات آئی کہاں سے؟

برنارڈ لیوس کا سوال What Went Wrong  بظاہرایک تشخیص ہے، مگر اس کے اندر ایک مفروضہ پہلے سے موجود ہے کہ ’’آپ کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب آپ صرف اپنی غلطیوں کو سمجھ سکتے ہیں‘‘۔ مگر سوال یہ ہے: ’’کیا واقعی مسئلہ یہ تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی؟ یا مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے زوال کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنی تقدیرمان لیا؟‘‘

جب فوکویاما نے کہا کہ ’تاریخ ختم ہو چکی ہے‘، تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ ایک نظام جیت گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ باقی سب اب کوئی حقیقی متبادل نہیں رہے۔

اور جب ہن ٹنگٹن نے کہا کہ ’تہذیبیں ٹکرائیں گی‘، تو بالواسطہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ ’کچھ تہذیبیں باقی نہیں رہیں گی‘۔

اسی فکری سانچے میں اسلام کو بھی خاموشی سے ایک ’زندہ قوت‘ سے ’ایک تاریخی مثال‘ میں بدل دیا گیا۔اور خطرناک بات یہ ہے کہ ہم نے بھی یہی مان لیا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے خود کہنا شروع کر دیا: ’’ہم زوال کا شکار ہیں‘‘،’’ہم ختم ہو گئے‘‘، ’’اب ہماری باری نہیں رہی‘‘۔

مسئلہ یہ نہیں کہ لیوس نے سوال پوچھا، یا فوکویاما نے نظریہ دیا، یا ہن ٹنگٹن نے فریم بنایا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے فکری سانچے کے اندر کھڑے ہو کر خود کو دیکھنا شروع کر دیا۔

سب سے پہلے تاریخ کو ایک پیٹرن [مفروضہ اصول] میں ڈالا گیا: عروج، کمال، اور پھر زوال۔ یعنی رومی تہذیب آئی اور پھر زوال کا شکار ہوگئی ، فارس آیا اور چلا گیا، عثمانی آئے اور چلے گئے۔ اور پھر ایک جملہ خاموشی سے شامل کر دیا گیا: ’’اسلام بھی ایک مرحلہ تھا‘‘۔

یہی وجہ موڑ ہے جہاں پہلی فکری خیانت (intellectual betrayal) ہوئی۔ اسلام کو تہذیب بنا دیا گیا، حالانکہ اسلام تہذیب نہیں ہے، —اسلام ایک مشن ہے۔

تہذیبیں آتی ہیں اور جاتی ہیں، جب کہ مشن یا تو پورا ہوتا ہے یا نامکمل رہ جاتا ہے۔ تہذیب بدل جاتی ہے، جب کہ مشن ترک ہو جاتا ہے۔ تہذیب زمانے کی پیداوار ہوتی ہے، جب کہ مشن زمانے کو بدلنے کے لیے آتا ہے۔

اور ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اسلام کو تہذیب کے خانے میں ڈال دیا، اور پھر خود ہی اعلان کرنا شروع کر دیا:’ہم ختم ہو گئے‘۔ پھر جدید دنیا آئی، اور اس نے کہا کہ ’آزاد خیال نظام (لبرلزم) آخری حد ہے، جدید ریاست آخری منزل ہے، اور باقی سب تاریخ ہیں۔ اسی فکری سانچے میں اسلام کو بھی ایک زندہ قوت سے ایک نوادراتی شے اور ماضی کے ورثے میں بدل دیا گیا۔

اور سب سے خطرناک لمحہ وہ تھا، جب ہم نے خود کہنا شروع کر دیا:’’یہ سنت ِ الٰہی ہے… قومیں آتی ہیں، جاتی ہیں… ہماری باری ختم ہو گئی…‘‘

مگر یہ قرآن نے نہیں کہا، یہ رسولؐ نے نہیں کہا۔ یہ ایک کہانی ہے جو ہمیں سنائی گئی، اور ہم نے اسے مان لیا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں غلط بتایا گیا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خود اپنے بارے میں غلط سوچنا شروع کر دیا۔ ہم نے اسلام کو غلط خانے میں رکھ دیا، اور امت کو ایک تہذیب سمجھ لیا، حالانکہ اُمت ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے، اور اللہ کی طرف سے ایک سپرد کردہ مشن ہے۔اسی لیے مسلمانوں کا زوال ان کے مشن کے خاتمے کی دلیل نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنی جگہ خالی کر دی۔ اور جب وہ اپنے مقام سے ہٹے تو خلا پیدا ہوا، اور جب خلا پیدا ہوا تو اسے اُن طاقتوں نے بھرا جنھوں نے دنیا کو منڈی بنایا، انسان کو وسیلہ بنا دیا، اور زمین کو لوٹ مار کا میدان بنا دیا۔

یہیں سے سوال بدل جاتا ہے: ’کیا مسلمان ختم ہو گئے؟ یا دنیا غلط ہاتھوں میں چلی گئی؟‘ سچ یہ ہے کہ امت ختم نہیں ہوئی، امت صرف سو گئی ہے۔ مشن ختم نہیں ہوا، بلکہ ذمہ داری چھوڑ دی گئی ہے۔ اور جب امت جاگے گی تو دنیا کو کوئی نئی تہذیب نہیں ملے گی، بلکہ وہی پرانا سچ دوبارہ یاد آئے گا۔

اب یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے۔ پچھلے دو سو سال سے ہم ایک ہی سوال دُہرا رہے ہیں: ’ہم کہاں غلط ہوئے؟‘ بظاہر یہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ سوال ہے، لیکن شاید اسی سوال نے کچھ لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیا کہ ہم بھی ایک تہذیب تھے، جو اَب ختم ہو چکی ہے۔ یعنی سوال شروع ہونے سے پہلے ہی نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ ہم ختم ہو چکے ہیں۔ حالانکہ ہم تشخیص کر رہے تھے، مگر اسے یوں سمجھا گیا جیسے ہم اپنی موت کا اعتراف کر رہے ہوں۔

شاید اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ آج بھی ہم ایک ذہنی کیفیت میں زندہ ہیں، ایک ایسی کیفیت جس میں ہم دوسروں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ جہاں ترقی کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ پہلے مغرب کی نقل کی جائے، اور پھر ایک دن اسے پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اس دوڑ میں ہم نے ایک بنیادی چیز کھو دی: ’سمت‘۔ ہم نے رفتار حاصل کر لی، مگر سمت کھو دی۔

پھر ایک اور بڑا حادثہ پیش آیا: اسلام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ’متوارث اسلام‘، جو کتابوں میں محفوظ ہے، اور ایک ’پیمبرانہ یا منزل اسلام‘، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ یہ دونوں ایک ہی عمارت کی دو منزلیں بن گئیں، مگر ان کے درمیان کوئی سیڑھی باقی نہ رہی۔ ہم نیچے کھڑے ہیں، اوپر دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اوپر روشنی ہے، مگر ہم وہاں تک پہنچ نہیں پارہے۔ اسی مخمصے کا تذکرہ میں نے اپنی کتاب Where We Went Wrong?میں کیا ہے ، ملاحظہ کیجیے گا۔

اصل مسئلہ زوال نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے منبعے سے تعلق کھو دیا۔ قرآن ہمارے پاس ہے، مگر ہم قرآن کے ساتھ نہیں ہیں۔ ہم روایت میں پھنس گئے یا مغرب میں کھوگئے، اور اسلام درمیان میں رہ گیا۔ ہم نے اسلام کو تہذیب سمجھ لیا، حالانکہ اسلام ایک زندہ حقیقت ہے، ایک جاری دعوت ہے، اور ایک ایسا مشن ہے جو ہر دور میں خود کو نئے سرے سے ظاہر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اگر یہ بات درست ہے کہ فضیلت مشن سے جڑی ہوتی ہے، تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ قرآن تو ہمیں بنی اسرائیل کی داستان بار بار سناتا ہے، مگر صرف تاریخ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک شفاف آئینے کے طور پر۔

قرآن کہتا ہے: وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝۴۷ (البقرہ ۲:۴۷)، مگر یہ فضیلت نہ نسلی تھی، نہ دائمی، یہ کتاب، ہدایت، اور مشن کی بنیاد پر تھی۔ پھر قرآن کہتا ہے: فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّيْثَاقَہُمْ لَعَنّٰہُمْ (المائدہ ۵:۱۳)، انھوں نے عہد توڑا، احکام چھوڑے، اور کتاب کو بدل دیا۔ مگر مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کتاب ختم ہو گئی، مسئلہ یہ تھا کہ کتاب کے ساتھ تعلق ختم ہو گیا۔ پھر قرآن ایک مثال دیتا ہے: كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا۝۰ۭ (الجمعۃ ۶۲:۵) کتاب موجود مگر قیادت ختم، علم موجود مگر عمل مفقود ، متن موجود مگر مشن غائب!

پھر سورئہ بنی اسرائیل میں ایک مثال بیان کی جاتی ہے: فساد، پھر سزا، اور پھر واپسی کا موقع۔ قرآن بنی اسرائیل کی تاریخ کے ذریعے یہ دکھاتا ہے کہ جب وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو ان پر عذاب آتا ہے، ان کی قوت چھن جاتی ہے، اور انھیں مغلوب کر دیا جاتا ہے، لیکن اس کے بعد بھی ان کے لیے واپسی کا دروازہ بند نہیں کیا جاتا، بلکہ انھیں دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

لہٰذا، اصول واضح ہے: فضیلت قوم کی نہیں، مشن کی ہوتی ہے۔

اب سوال یہ ہے: اگر ہم بھی اپنا مشن چھوڑ دیں، تو کیا ہم باقی رہیں گے؟ یا ہم بھی ایک تاریخی حوالہ بن جائیں گے؟فرق یہ ہے کہ ہمارے پاس قرآن محفوظ ہے، مکمل ہے، اور غیر متبدل ہے۔ یعنی ہمارا تجدیدی منبع زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ختم نہیں ہو سکتے، ہم صرف بھٹک سکتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے لوگ دوبارہ  واپس آ سکتے ہیں۔لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا وقت ختم ہو گیا، وہ قرآن کی غلط تعبیر کر رہے ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ تم ختم ہو جاؤ گے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ تم بھٹک سکتے ہو، اور واپس بھی آ سکتے ہو۔

اب آخری سوال: اگر امت ختم نہیں ہو سکتی، تو اس کا کردار کیا ہے؟

قرآن کہتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ  (الاحزاب ۳۳:۴۰)محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آخری نبی ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اب کوئی نئی وحی نہیں آئے گی کوئی نیا رسول نہیں آئے گا تو پھر ہدایت کا سلسلہ کیسے چلے گا؟ یہی امت اس مشن کو آگے لے جائے گی۔ قرآن امت کو کیسے بیان (define )کرتا ہے؟ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (اٰل عمران ۳:۱۱۰)’’تم برپا کی گئی ہو لوگوں کے لیے‘‘ اور پھر: لِّتَكُونُوا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ (البقرہ ۲:۱۴۳)’’تم گواہ ہو انسانیت پر‘‘۔ یہ کوئی historical role (تاریخی فریضہ)نہیں ہے۔ یہ ایک مسلسل (ongoing ) ذمہ داری ہے۔ جب تک انسان ہیں یہ ذمہ داری باقی ہے۔ اب ان سب کو جوڑیں اگر: نبی آخری ہے، کتاب آخری ہے، پیغامِ آفاقی (universal ) ہے، ذمہ داری جاری ہے تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ اُمت کا مشن بھی آخری اور جاری ہے۔ لہٰذا: ’امت کا وقت ختم ہوگیا‘ یہ صرف غلط نہیں، یہ ایک فکری تضاد (theological contradiction) ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ امت ختم ہو گئی، اصل مسئلہ یہ ہے کہ امت نے خود کو ایک تہذیب سمجھ لیا،جب کہ وہ ایک ذمہ داری تھی۔ اُمت ختم نہیں ہوئی، وہ صرف سو گئی ہے۔ اور جب امت سوجائے، تو لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو۔لہٰذا، سوال یہ نہیں کہ ہمارا وقت ختم ہو گیا، سوال یہ ہے: کیا ہم جاگنے کے لیے تیار ہیں؟ سچ یہ ہے: امت ختم نہیں ہوئی، ہم نے خود کو ختم شد سمجھ لیا۔ اور جب انسان خود کو ختم شد سمجھ لے، تو وہ زندہ ہو کر بھی… زندہ نہیں رہتا۔[ویڈیو ٹرانسکرپٹ پر مبنی]

مغرب میں ایک بات بار بار دُہرائی جاتی ہے کہ ریاست اسرائیل کا قیام ایک خدائی منصوبہ ہے،اور اس کے ثبوت میں بائبل کی ایک آیت پیش کی جاتی ہے:’’میں نے تمھاری نسل کو یہ زمین دی دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک‘‘۔(پیدائش ۱۵: ۱۸) 

پہلی نظر میں بات سیدھی لگتی ہے۔ خدا نے زمین دی،تو پھر ریاست بھی بن سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ 

آیت کیا کہتی ہے؟ ’’تمھاری نسل کو زمین دی‘‘۔ 

اور تعبیر کیا کہتی ہے؟’صرف ایک نسل‘ یعنی صرف اسحاق کی نسل کو۔ یہاں ایک چھوٹی سی تبدیلی پوری کہانی بدل دیتی ہے۔ 

اب ایک سادہ سوال: ابراہیم ؑکے کتنے بیٹے تھے؟ 

دو: اسحاق ؑاور اسماعیلؑ۔ اب میراث یا وراثت (inheritance ) کا اصول کیا کہتا ہے؟ 

جو چیز باپ کو دی جائے وہ اس کی اولاد میں برابر کی تقسیم ہوتی ہے۔ 

تو پھر سوال یہ ہے کہ زمین صرف ایک کو کیوں؟ 

یہ وہ سوال ہے جو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ اور پھر سمجھے بغیر ایک پوری کہانی مانتے گئے۔ 

اب ذرا اسماعیل علیہ السلام کی طرف دیکھیے۔ بائبل خود کیا کہتی ہے؟’’میں اسماعیل کو برکت دوں گا اسے بارآور کروں گا اور اس کی نسل کو بڑھاؤں گا‘‘۔ (پیدائش۱۷: ۲۰) 

گویا اسماعیلؑ کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ انھیں بھی برکت دی گئی۔ 

اب یہاں ایک لمحے کو رک کر سوچیں: اگر برکت دی گئی تو زمین کیوں نہیں؟ یہاں اصل مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ 

متن کیا کہتا ہے: ’’اسماعیل کوقبولیت دی گئی، برکت دی گئی‘‘۔ 

اور تعبیر کیا کرتی ہے؟ مرکزی حیثیت صرف ایک نسل کو دے دیتی ہے۔ 

اسماعیلؑ کو نکالا نہیں گیا، مگر انھیں مرکز سے ہٹا دیا گیا۔ انھیں محروم نہیں کیا گیا، مگر خاموشی سے نظر انداز کر دیا گیا۔ اور یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کسی چیز کو کھل کر رَد کرتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے، لیکن جب آپ اسے خاموشی سے نظر انداز کرتے ہیں تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، اور یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک نظریے کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو کہتا تو ہے کہ ہم متن پر ہیںلیکن حقیقت میں وہ اپنی تعبیر پر کھڑا ہوتا ہے___ گھڑی ہوئی تعبیر پر۔ 

اب ذرا قرآن کی طرف آئیں۔ قرآن ایک جملے میں پوری بحث بدل دیتا ہے: لَا يَنَالُ عَهْدِي  الظّٰلِــمِيْنَ۝۱۲۴ (البقرہ ۲:۱۲۴)یعنی’’میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچتا‘‘۔ 

اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ تم کس نسل سے ہو؟ سوال یہ ہو جاتا ہے:تم کیا کر رہے ہو؟ 

یعنی:وعدہ نسل سے نہیں عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کوئی ظلم کرے تو وہ ابراہیم ؑکی نسل میں ہوکر بھی اس وعدے کا حق دار نہیں رہتا۔اور اگر کوئی عدل پر ہو تو وہ اس وعدے کے قریب ہوجاتا ہے۔ گویا قرآن ہمیں بتاتا ہے: زمین ’میراث‘ (inheritance )میں نہیں ملتی بلکہ ذمہ داری سے ملتی ہے۔ 

اب یہاں ایک بہت اہم بات سمجھ آتی ہے۔ اگر خدا کا وعدہ اخلاق سے مشروط ہے، تو پھر ایک اصول نکلتا ہے: کوئی بھی ظلم کسی بھی دعوے کو باطل کر دیتا ہے۔ 

یعنی: صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’یہ ہمارا حق ہے‘‘۔ 

اصل سوال یہ ہے: کیا تم اس حق کے قابل بھی ہو؟ 

اور یہی وہ اصول ہے جو پوری سیاسی تعبیر کو چیلنج کرتا ہے۔ 

یہاں ایک اور چونکانے والی بات سنیئے :کیا آپ جانتے ہیں کہ خود یہودی مذہبی روایت اس مسئلے پر کیا کہتی ہے؟ 

’تلمود‘ میں ایک تصور آتا ہے،جسے تین قسموں یا (Three Oaths) سے تعبیر کرتے ہیں۔ 

یہ کیا ہیں؟ یہ وہ اصول ہیں جو بنی اسرائیل کے لیے طے کیے گئے، جب وہ اپنی سرزمین سے نکل گئے تھے: l اوّلاً: انھیں کہا گیا:تم زبردستی واپس نہیں جاؤ گے، یعنی طاقت کے زور پر ریاست قائم نہیں کرو گے۔lثانیاً: تم اقوام کے خلاف بغاوت نہیں کرو گے، یعنی سیاسی طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل نہیں کرو گے۔lثالثاً: اور تم انتظار کرو گے ماشیاح (Mashiach: مسیحا) کا۔ 

یعنی بات بہت صاف ہے کہ ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا، بلکہ اسے ایک الٰہی وقوعے کے طور پر ہونا تھا۔ 

اب یہاں ایک فطری سوال سامنے آتا ہے۔ اگر یہ اصول خود یہودی مذہبی روایت میں موجود ہے تو پھر یہ ریاست کیسے بنی؟ کیا مسیحا  آ گئے تھے؟ یا پھر انسان نے خود وہ کام اپنے ذمہ لے لیا جسے اس کی اپنی روایت منع کر رہی تھی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب اور سیاست ٹکرا جاتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں کہانی ٹوٹ جاتی ہے۔ 

اب تاریخ کی طرف آئیے۔ انیسویں صدی میں یورپ میں یہودیوں پر ظلم ہو رہا تھا۔ ان کے خلاف بہت نفرت تھی، عدم تحفظ کا احساس تھا۔ یہ سب ایک مذہبی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ ایک سماجی اور سیاسی بحران تھا۔ اس ماحول میں ایک شخص اٹھتا ہے، سامنے آتا ہے، اس کا نام ہے تھیوڈر ہرٹزل ۔ وہ ایک سوال اٹھاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ یہودیوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ اور پھر خود ہی جواب بھی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں ایک ریاست چاہیے لیکن یہاں ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ وہ تورات کا حوالہ نہیں دیتا، وہ اسے خدا کا حکم نہیں کہتا، وہ سیدھی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے اور ہمیں اس کا سیاسی حل چاہیے۔ 

اب یہاں ایک چونکانے والی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اس وقت فلسطین کا بھی حتمی طور پر تعین نہیں کیا گیا تھا۔ مختلف جگہیں زیر غور تھیں: یوگانڈا، ارجنٹائنا، مدگاسکر، قبرص یعنی زمین کا انتخاب کوئی آسمانی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ممکنہ انتخاب تھا۔ اب ذرا سوچیں اگر یہ واقعی خدا کا وعدہ ہوتا تو اتنے سارے آپشنز نہ ہوتے۔ جگہ نہیں بدلتی۔ کیا خدا کے وعدے آپشنز میں آتے ہیں؟ نہیں۔ لیکن چونکہ یہ وعدہ نہیں تھا، یہ ایک منصوبہ تھا، انسانی منصوبہ تھا، ایک ایسا منصوبہ جو ایک مسئلے کے حل کے لیے بنایا گیا تھا اور بعد میں اسے مذہب کا لباس پہنا دیا گیا۔ 

اب کہانی ایک اور رُخ لیتی ہے۔ یورپ میں ایک بڑا المیہ ہولوکاسٹ کی صورت میں پیش آتا ہے۔ لاکھوں یہودی قتل کیے جاتے ہیں۔ صدیوں کا ظلم ایک انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ یورپ کے ضمیر پر ایک بوجھ آ جاتا ہے، ایک احساس گناہ، ایک شرمندگی، ایک ندامت۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا ازالہ کہاں ہونا تھا؟ کیا یورپ اپنی زمین دیتا یا وہ اپنے نظام کو بدلتا؟ بھئی ہونا تو یہی چاہیے تھا۔ لیکن اس نے ایک اور راستہ چنا۔ اس بوجھ کو اٹھایا اور اسے فلسطین کی سرزمین پر رکھ دیا۔ 

 یہاں ایک فیصلہ ہوا ۱۹۱۷ء میں ’بالفور ڈیکلریشن‘ کے نام سے۔ برطانیہ نے کہا کہ ہم یہاں ایک ’جیوش ہوم لینڈ‘ (یہودی ریاست) کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زمین کس کی تھی؟ ارے بھئی وہاں پہلے سے لوگ آباد تھے۔ ایک معاشرہ تھا، ایک تاریخ تھی، مگر ان سے پوچھا نہیں گیا۔ فی الحقیقت یہ ایک کولونیل ٹرانسفر تھا۔ بنیادی طور پر تو یہ ایک یورپی مسئلہ تھا، مگر یورپ کے اجتماعی گناہ کا بوجھ ایک عرب سرزمین پر منتقل کر دیا گیا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک کولونیل پروجیکٹ (سامراجی منصوبہ) شروع ہوا۔ 

 اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک سیاسی منصوبہ تھا تو اسے مذہب کا رنگ کیوں دیا گیا؟ جواب بہت سادہ ہے مگر ہم اکثر اسے نظرانداز کر دیتے ہیں، قانونی حیثیت (Legitimacy) کی خاطر۔ ’قانونی حیثیت‘ کا مسئلہ یعنی لوگوں کو یہ یقین دلانا کہ جو آپ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اگر آپ کہیں کہ یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے تو لوگ فوراً سوال کریں گے: کیوں؟ کیسے؟ اس کا اخلاقی جواز کیا ہے؟ 

 لیکن اگر آپ کہیں کہ یہ خدا کا وعدہ ہے تو کیا ہوتا ہے؟  

سوال ختم ہو جاتے ہیں، تنقید رُک جاتی ہے اور مخالفت گناہ بن جاتی ہے۔ کیونکہ اب یہ سیاست نہیں رہی، یہ ایمان کا مسئلہ بن گیا۔ 

 اب ذرا ایک اور مثال دیکھیں ۱۹۶۷ء کی بات ہے۔ عرب اسرائیل جنگ ہوتی ہے، جسے ہم ’چھے روزہ جنگ‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ صرف چھے دنوں میں ایک چھوٹی ریاست بڑی بڑی افواج پر غالب آ جاتی ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ اور یہ تھا کیا؟ بنیادی طور پر یہ ایک فوجی کامیابی تھی۔ ایک اسٹرے ٹیجک برتری تھی اسرائیل کی۔ 

اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اس کامیابی کی تشریح کی جاتی ہے۔ اس کامیابی کو کیسے پیش کیا گیا؟ کہا گیا کہ یہ خدا کی مدد تھی۔ اب ذرا غور کریں کہ ایک انسانی پلاننگ، ایک فوجی اسٹرے ٹیجی، ایک عملی تنفیذ (ایگزیکیوشن ) اور اسے بدل دیا گیا ایک الٰہی مداخلت (ڈیوائن انٹرونشن) میں۔ یہاں ایک خطرناک تبدیلی ہوتی ہے۔ طاقت تقدس بن جاتی ہے۔ جو چیز انسان نے حاصل کی تھی اسے خدا کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ اور جب ایسا ہو جائے تو سوال ختم ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب آپ حکومت سے نہیں خدا سے سوال کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اخلاق بدل جاتا ہے، ظلم ظلم نہیں رہتا، وہ حق بن جاتا ہے۔ قبضہ قبضہ نہیں رہتا، وہ وعدۂ الٰہی بن جاتا ہے۔ طاقت طاقت نہیں رہتی وہ مقدس مشن بن جاتی ہے۔ اور جب طاقت مقدس مشن بن جائے تو اس کے خلاف کھڑا ہونا صرف سیاسی مخالفت نہیں رہتا بلکہ گناہ بن جاتا ہے۔ 

 اب ایک اور کہانی بھی سن لیجیے۔ اس سے بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ اسی دوران امریکا میں بائبل کی ایک خاص تشریح عام ہونے لگتی ہے جسے ’اسکوفیلڈ ریفرنس بائبل‘ کہتے ہیں۔ یہ صرف بائبل نہیں تھی، یہ بائبل کی ایک مخصوص ریڈنگ تھی، اور اسی ریڈنگ سے ایک نظریہ پیدا ہوتا ہے جسے کہتے ہیں Dispensationalism [نظریہ اَدوارِ الٰہی]۔ یہ نظریہ کیا کہتا ہے؟ یہ تاریخ کو مختلف اَدوار میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں کچھ مخصوص واقعات لازمی ہیں۔ اور اگر یہ ہو جائیں تو مسیح کی واپسی قریب ہو جائے گی۔ یعنی ایک سیدھا فارمولا: اسرائیل بنے گا تو مسیح آئیں گے۔ اب غور کریں یہاں مذہب کیا بن گیا؟ ایک عقیدہ، ایک انتظار، ایک پروفیٹک ٹائم لائن۔ 

یہاں پر ایک اور اہم نکتہ سمجھیں۔ یہ اصل عیسائیت نہیں ہے بلکہ اس کی ایک جدید تعبیر ہے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں سامنے آئی۔ یعنی یہ کلاسیکی مسیحی الٰہیات ( کلاسیکل کرسچین تھیولوجی) نہیں ہے بلکہ ایک خاص گروہ کی ریڈنگ ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ امریکا میں لاکھوں لوگ اس نظریے پر ایمان لے آئے۔ اور پھر اسرائیل کی حمایت صرف سیاسی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک مذہبی فریضہ بن گئی۔ نتیجہ ؟ نتیجہ یہ نکلا کہ اربوں ڈالر کی فنڈنگ، اندھی سیاسی حمایت اور ایک ایسا مذہبی جوش جو سوال سے ماورا۔ کیونکہ جب کوئی چیز خدا کے منصوبے کا حصہ بن جائے تو اس پر سوال اٹھانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ 

  اب یہاں ایک بہت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ صرف باہر کے لوگ نہیں ہیں جو اس ریاست پر سوال اٹھاتے ہیں۔ خود یہودی مذہبی حلقوں کے اندر بھی اس پر شدید اختلاف موجود ہے۔ مثلاً نیتوری کارتا ایک مذہبی یہودی گروہ ہے جو کھل کر یہ کہتا ہے کہ یہ ریاست مذہبی طور پر غلط ہے۔ ہمیں اس ریاست کے قیام کا کوئی حق تھا ہی نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے نزدیک ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا بلکہ اسے ایک الٰہی وقوعے کے طور پر ہونا تھا۔ یعنی وہی بات جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ طاقت کے زور پر ریاست قائم کرنا خود ان کی مذہبی روایت کے خلاف ہے۔ اب صرف مذہبی حلقے ہی نہیں کچھ بڑے یہودی مفکرین بھی اس پورے معاملے پر سوال اٹھاتے ہیں، مثلاً مارٹن بوبر، یہ ایک بڑا نام ہے، اور دوسرے ابراہم جوشواہ حیشل۔ یہ لوگ ایک بنیادی اصول دیتے ہیں: زمین انصاف کے بغیر بے معنی ہے۔ یعنی اگر آپ کے پاس زمین ہے مگر انصاف نہیں ہے تو وہ زمین مذہبی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی، کیونکہ خدا کا تعلق زمین سے نہیں انصاف سے ہوتا ہے۔ بندہ، خدا اور انصاف سے وابستہ ہوتا ہے، زمین سے نہیں۔ 

اب اس پوری تصویر کو ایک ساتھ دیکھیں جو میں نے کئی چیزیں ایک ساتھ آپ کے سامنے رکھیں، جستہ جستہ۔ اب اس کو ایک پورے تناظر میں دیکھیں۔ ہوا کیا؟ ایک آیت جس کی من پسند تعبیر کی گئی، ایک سیاسی منصوبہ جسے استعماری طاقتوں نے نافذ کیا اور پھر اس کے اوپر مذہب کا غلاف چڑھا دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذہب ہے؟ نہیں، یہ مذہب نہیں تھا۔ مذہب کو استعمال کیا گیا تھا۔ اور جب مذہب استعمال ہوتا ہے تو وہ ہدایت نہیں رہتا ہتھیار بن جاتا ہے۔ 

 اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہودیت نہیں بدلی، اس کے نام پر ایک نئی تعبیر گھڑی گئی، ایک ایسی تعبیر جو طاقت کو تقدس میں بدل دیتی ہے، جہاں ظلم حکمِ خدا بن جاتا ہے اور قبضہ وعدۂ الٰہی کہلانے لگتا ہے۔ اب یہاں آکر سوال اسرائیل کا نہیں رہتا۔ 

 سوال یہ ہے کہ کیا ہم مذہب کو سمجھ رہے ہیں یا ہمیں مذہب کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟ اور اگر بے وقوف بنایا جا رہا ہے تو ذرا رُک کر سوچئے کہ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے اور کیوں؟ اس مقام پر ایمان اور فریب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔