مغرب میں ایک بات بار بار دُہرائی جاتی ہے کہ ریاست اسرائیل کا قیام ایک خدائی منصوبہ ہے،اور اس کے ثبوت میں بائبل کی ایک آیت پیش کی جاتی ہے:’’میں نے تمھاری نسل کو یہ زمین دی دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک‘‘۔(پیدائش ۱۵: ۱۸)
پہلی نظر میں بات سیدھی لگتی ہے۔ خدا نے زمین دی،تو پھر ریاست بھی بن سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
آیت کیا کہتی ہے؟ ’’تمھاری نسل کو زمین دی‘‘۔
اور تعبیر کیا کہتی ہے؟’صرف ایک نسل‘ یعنی صرف اسحاق کی نسل کو۔ یہاں ایک چھوٹی سی تبدیلی پوری کہانی بدل دیتی ہے۔
اب ایک سادہ سوال: ابراہیم ؑکے کتنے بیٹے تھے؟
دو: اسحاق ؑاور اسماعیلؑ۔ اب میراث یا وراثت (inheritance ) کا اصول کیا کہتا ہے؟
جو چیز باپ کو دی جائے وہ اس کی اولاد میں برابر کی تقسیم ہوتی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ زمین صرف ایک کو کیوں؟
یہ وہ سوال ہے جو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ اور پھر سمجھے بغیر ایک پوری کہانی مانتے گئے۔
اب ذرا اسماعیل علیہ السلام کی طرف دیکھیے۔ بائبل خود کیا کہتی ہے؟’’میں اسماعیل کو برکت دوں گا اسے بارآور کروں گا اور اس کی نسل کو بڑھاؤں گا‘‘۔ (پیدائش۱۷: ۲۰)
گویا اسماعیلؑ کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ انھیں بھی برکت دی گئی۔
اب یہاں ایک لمحے کو رک کر سوچیں: اگر برکت دی گئی تو زمین کیوں نہیں؟ یہاں اصل مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
متن کیا کہتا ہے: ’’اسماعیل کوقبولیت دی گئی، برکت دی گئی‘‘۔
اور تعبیر کیا کرتی ہے؟ مرکزی حیثیت صرف ایک نسل کو دے دیتی ہے۔
اسماعیلؑ کو نکالا نہیں گیا، مگر انھیں مرکز سے ہٹا دیا گیا۔ انھیں محروم نہیں کیا گیا، مگر خاموشی سے نظر انداز کر دیا گیا۔ اور یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کسی چیز کو کھل کر رَد کرتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے، لیکن جب آپ اسے خاموشی سے نظر انداز کرتے ہیں تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، اور یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک نظریے کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو کہتا تو ہے کہ ہم متن پر ہیںلیکن حقیقت میں وہ اپنی تعبیر پر کھڑا ہوتا ہے___ گھڑی ہوئی تعبیر پر۔
اب ذرا قرآن کی طرف آئیں۔ قرآن ایک جملے میں پوری بحث بدل دیتا ہے: لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِــمِيْنَ۱۲۴ (البقرہ ۲:۱۲۴)یعنی’’میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچتا‘‘۔
اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ تم کس نسل سے ہو؟ سوال یہ ہو جاتا ہے:تم کیا کر رہے ہو؟
یعنی:وعدہ نسل سے نہیں عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کوئی ظلم کرے تو وہ ابراہیم ؑکی نسل میں ہوکر بھی اس وعدے کا حق دار نہیں رہتا۔اور اگر کوئی عدل پر ہو تو وہ اس وعدے کے قریب ہوجاتا ہے۔ گویا قرآن ہمیں بتاتا ہے: زمین ’میراث‘ (inheritance )میں نہیں ملتی بلکہ ذمہ داری سے ملتی ہے۔
اب یہاں ایک بہت اہم بات سمجھ آتی ہے۔ اگر خدا کا وعدہ اخلاق سے مشروط ہے، تو پھر ایک اصول نکلتا ہے: کوئی بھی ظلم کسی بھی دعوے کو باطل کر دیتا ہے۔
یعنی: صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’یہ ہمارا حق ہے‘‘۔
اصل سوال یہ ہے: کیا تم اس حق کے قابل بھی ہو؟
اور یہی وہ اصول ہے جو پوری سیاسی تعبیر کو چیلنج کرتا ہے۔
یہاں ایک اور چونکانے والی بات سنیئے :کیا آپ جانتے ہیں کہ خود یہودی مذہبی روایت اس مسئلے پر کیا کہتی ہے؟
’تلمود‘ میں ایک تصور آتا ہے،جسے تین قسموں یا (Three Oaths) سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہ کیا ہیں؟ یہ وہ اصول ہیں جو بنی اسرائیل کے لیے طے کیے گئے، جب وہ اپنی سرزمین سے نکل گئے تھے: l اوّلاً: انھیں کہا گیا:تم زبردستی واپس نہیں جاؤ گے، یعنی طاقت کے زور پر ریاست قائم نہیں کرو گے۔lثانیاً: تم اقوام کے خلاف بغاوت نہیں کرو گے، یعنی سیاسی طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل نہیں کرو گے۔lثالثاً: اور تم انتظار کرو گے ماشیاح (Mashiach: مسیحا) کا۔
یعنی بات بہت صاف ہے کہ ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا، بلکہ اسے ایک الٰہی وقوعے کے طور پر ہونا تھا۔
اب یہاں ایک فطری سوال سامنے آتا ہے۔ اگر یہ اصول خود یہودی مذہبی روایت میں موجود ہے تو پھر یہ ریاست کیسے بنی؟ کیا مسیحا آ گئے تھے؟ یا پھر انسان نے خود وہ کام اپنے ذمہ لے لیا جسے اس کی اپنی روایت منع کر رہی تھی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب اور سیاست ٹکرا جاتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں کہانی ٹوٹ جاتی ہے۔
اب تاریخ کی طرف آئیے۔ انیسویں صدی میں یورپ میں یہودیوں پر ظلم ہو رہا تھا۔ ان کے خلاف بہت نفرت تھی، عدم تحفظ کا احساس تھا۔ یہ سب ایک مذہبی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ ایک سماجی اور سیاسی بحران تھا۔ اس ماحول میں ایک شخص اٹھتا ہے، سامنے آتا ہے، اس کا نام ہے تھیوڈر ہرٹزل ۔ وہ ایک سوال اٹھاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ یہودیوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ اور پھر خود ہی جواب بھی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں ایک ریاست چاہیے لیکن یہاں ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ وہ تورات کا حوالہ نہیں دیتا، وہ اسے خدا کا حکم نہیں کہتا، وہ سیدھی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے اور ہمیں اس کا سیاسی حل چاہیے۔
اب یہاں ایک چونکانے والی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اس وقت فلسطین کا بھی حتمی طور پر تعین نہیں کیا گیا تھا۔ مختلف جگہیں زیر غور تھیں: یوگانڈا، ارجنٹائنا، مدگاسکر، قبرص یعنی زمین کا انتخاب کوئی آسمانی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ممکنہ انتخاب تھا۔ اب ذرا سوچیں اگر یہ واقعی خدا کا وعدہ ہوتا تو اتنے سارے آپشنز نہ ہوتے۔ جگہ نہیں بدلتی۔ کیا خدا کے وعدے آپشنز میں آتے ہیں؟ نہیں۔ لیکن چونکہ یہ وعدہ نہیں تھا، یہ ایک منصوبہ تھا، انسانی منصوبہ تھا، ایک ایسا منصوبہ جو ایک مسئلے کے حل کے لیے بنایا گیا تھا اور بعد میں اسے مذہب کا لباس پہنا دیا گیا۔
اب کہانی ایک اور رُخ لیتی ہے۔ یورپ میں ایک بڑا المیہ ہولوکاسٹ کی صورت میں پیش آتا ہے۔ لاکھوں یہودی قتل کیے جاتے ہیں۔ صدیوں کا ظلم ایک انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ یورپ کے ضمیر پر ایک بوجھ آ جاتا ہے، ایک احساس گناہ، ایک شرمندگی، ایک ندامت۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا ازالہ کہاں ہونا تھا؟ کیا یورپ اپنی زمین دیتا یا وہ اپنے نظام کو بدلتا؟ بھئی ہونا تو یہی چاہیے تھا۔ لیکن اس نے ایک اور راستہ چنا۔ اس بوجھ کو اٹھایا اور اسے فلسطین کی سرزمین پر رکھ دیا۔
یہاں ایک فیصلہ ہوا ۱۹۱۷ء میں ’بالفور ڈیکلریشن‘ کے نام سے۔ برطانیہ نے کہا کہ ہم یہاں ایک ’جیوش ہوم لینڈ‘ (یہودی ریاست) کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زمین کس کی تھی؟ ارے بھئی وہاں پہلے سے لوگ آباد تھے۔ ایک معاشرہ تھا، ایک تاریخ تھی، مگر ان سے پوچھا نہیں گیا۔ فی الحقیقت یہ ایک کولونیل ٹرانسفر تھا۔ بنیادی طور پر تو یہ ایک یورپی مسئلہ تھا، مگر یورپ کے اجتماعی گناہ کا بوجھ ایک عرب سرزمین پر منتقل کر دیا گیا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک کولونیل پروجیکٹ (سامراجی منصوبہ) شروع ہوا۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک سیاسی منصوبہ تھا تو اسے مذہب کا رنگ کیوں دیا گیا؟ جواب بہت سادہ ہے مگر ہم اکثر اسے نظرانداز کر دیتے ہیں، قانونی حیثیت (Legitimacy) کی خاطر۔ ’قانونی حیثیت‘ کا مسئلہ یعنی لوگوں کو یہ یقین دلانا کہ جو آپ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اگر آپ کہیں کہ یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے تو لوگ فوراً سوال کریں گے: کیوں؟ کیسے؟ اس کا اخلاقی جواز کیا ہے؟
لیکن اگر آپ کہیں کہ یہ خدا کا وعدہ ہے تو کیا ہوتا ہے؟
سوال ختم ہو جاتے ہیں، تنقید رُک جاتی ہے اور مخالفت گناہ بن جاتی ہے۔ کیونکہ اب یہ سیاست نہیں رہی، یہ ایمان کا مسئلہ بن گیا۔
اب ذرا ایک اور مثال دیکھیں ۱۹۶۷ء کی بات ہے۔ عرب اسرائیل جنگ ہوتی ہے، جسے ہم ’چھے روزہ جنگ‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ صرف چھے دنوں میں ایک چھوٹی ریاست بڑی بڑی افواج پر غالب آ جاتی ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ اور یہ تھا کیا؟ بنیادی طور پر یہ ایک فوجی کامیابی تھی۔ ایک اسٹرے ٹیجک برتری تھی اسرائیل کی۔
اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اس کامیابی کی تشریح کی جاتی ہے۔ اس کامیابی کو کیسے پیش کیا گیا؟ کہا گیا کہ یہ خدا کی مدد تھی۔ اب ذرا غور کریں کہ ایک انسانی پلاننگ، ایک فوجی اسٹرے ٹیجی، ایک عملی تنفیذ (ایگزیکیوشن ) اور اسے بدل دیا گیا ایک الٰہی مداخلت (ڈیوائن انٹرونشن) میں۔ یہاں ایک خطرناک تبدیلی ہوتی ہے۔ طاقت تقدس بن جاتی ہے۔ جو چیز انسان نے حاصل کی تھی اسے خدا کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ اور جب ایسا ہو جائے تو سوال ختم ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب آپ حکومت سے نہیں خدا سے سوال کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اخلاق بدل جاتا ہے، ظلم ظلم نہیں رہتا، وہ حق بن جاتا ہے۔ قبضہ قبضہ نہیں رہتا، وہ وعدۂ الٰہی بن جاتا ہے۔ طاقت طاقت نہیں رہتی وہ مقدس مشن بن جاتی ہے۔ اور جب طاقت مقدس مشن بن جائے تو اس کے خلاف کھڑا ہونا صرف سیاسی مخالفت نہیں رہتا بلکہ گناہ بن جاتا ہے۔
اب ایک اور کہانی بھی سن لیجیے۔ اس سے بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ اسی دوران امریکا میں بائبل کی ایک خاص تشریح عام ہونے لگتی ہے جسے ’اسکوفیلڈ ریفرنس بائبل‘ کہتے ہیں۔ یہ صرف بائبل نہیں تھی، یہ بائبل کی ایک مخصوص ریڈنگ تھی، اور اسی ریڈنگ سے ایک نظریہ پیدا ہوتا ہے جسے کہتے ہیں Dispensationalism [نظریہ اَدوارِ الٰہی]۔ یہ نظریہ کیا کہتا ہے؟ یہ تاریخ کو مختلف اَدوار میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں کچھ مخصوص واقعات لازمی ہیں۔ اور اگر یہ ہو جائیں تو مسیح کی واپسی قریب ہو جائے گی۔ یعنی ایک سیدھا فارمولا: اسرائیل بنے گا تو مسیح آئیں گے۔ اب غور کریں یہاں مذہب کیا بن گیا؟ ایک عقیدہ، ایک انتظار، ایک پروفیٹک ٹائم لائن۔
یہاں پر ایک اور اہم نکتہ سمجھیں۔ یہ اصل عیسائیت نہیں ہے بلکہ اس کی ایک جدید تعبیر ہے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں سامنے آئی۔ یعنی یہ کلاسیکی مسیحی الٰہیات ( کلاسیکل کرسچین تھیولوجی) نہیں ہے بلکہ ایک خاص گروہ کی ریڈنگ ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ امریکا میں لاکھوں لوگ اس نظریے پر ایمان لے آئے۔ اور پھر اسرائیل کی حمایت صرف سیاسی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک مذہبی فریضہ بن گئی۔ نتیجہ ؟ نتیجہ یہ نکلا کہ اربوں ڈالر کی فنڈنگ، اندھی سیاسی حمایت اور ایک ایسا مذہبی جوش جو سوال سے ماورا۔ کیونکہ جب کوئی چیز خدا کے منصوبے کا حصہ بن جائے تو اس پر سوال اٹھانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔
اب یہاں ایک بہت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ صرف باہر کے لوگ نہیں ہیں جو اس ریاست پر سوال اٹھاتے ہیں۔ خود یہودی مذہبی حلقوں کے اندر بھی اس پر شدید اختلاف موجود ہے۔ مثلاً نیتوری کارتا ایک مذہبی یہودی گروہ ہے جو کھل کر یہ کہتا ہے کہ یہ ریاست مذہبی طور پر غلط ہے۔ ہمیں اس ریاست کے قیام کا کوئی حق تھا ہی نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے نزدیک ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا بلکہ اسے ایک الٰہی وقوعے کے طور پر ہونا تھا۔ یعنی وہی بات جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ طاقت کے زور پر ریاست قائم کرنا خود ان کی مذہبی روایت کے خلاف ہے۔ اب صرف مذہبی حلقے ہی نہیں کچھ بڑے یہودی مفکرین بھی اس پورے معاملے پر سوال اٹھاتے ہیں، مثلاً مارٹن بوبر، یہ ایک بڑا نام ہے، اور دوسرے ابراہم جوشواہ حیشل۔ یہ لوگ ایک بنیادی اصول دیتے ہیں: زمین انصاف کے بغیر بے معنی ہے۔ یعنی اگر آپ کے پاس زمین ہے مگر انصاف نہیں ہے تو وہ زمین مذہبی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی، کیونکہ خدا کا تعلق زمین سے نہیں انصاف سے ہوتا ہے۔ بندہ، خدا اور انصاف سے وابستہ ہوتا ہے، زمین سے نہیں۔
اب اس پوری تصویر کو ایک ساتھ دیکھیں جو میں نے کئی چیزیں ایک ساتھ آپ کے سامنے رکھیں، جستہ جستہ۔ اب اس کو ایک پورے تناظر میں دیکھیں۔ ہوا کیا؟ ایک آیت جس کی من پسند تعبیر کی گئی، ایک سیاسی منصوبہ جسے استعماری طاقتوں نے نافذ کیا اور پھر اس کے اوپر مذہب کا غلاف چڑھا دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذہب ہے؟ نہیں، یہ مذہب نہیں تھا۔ مذہب کو استعمال کیا گیا تھا۔ اور جب مذہب استعمال ہوتا ہے تو وہ ہدایت نہیں رہتا ہتھیار بن جاتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہودیت نہیں بدلی، اس کے نام پر ایک نئی تعبیر گھڑی گئی، ایک ایسی تعبیر جو طاقت کو تقدس میں بدل دیتی ہے، جہاں ظلم حکمِ خدا بن جاتا ہے اور قبضہ وعدۂ الٰہی کہلانے لگتا ہے۔ اب یہاں آکر سوال اسرائیل کا نہیں رہتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم مذہب کو سمجھ رہے ہیں یا ہمیں مذہب کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟ اور اگر بے وقوف بنایا جا رہا ہے تو ذرا رُک کر سوچئے کہ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے اور کیوں؟ اس مقام پر ایمان اور فریب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔