یوول (Yuval) اپنے ناخن چباتے ہوئے بیٹھا ہے، اس کی ٹانگیں بے چینی سے ہل رہی ہیں۔ تل ابیب میں دوپہر کا وقت ہے اور سڑک لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی کبھی وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھتا ہے، اور پاس سے گزرنے والے لوگوں پر نظر ڈالتا ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’معذرت، میرا سب سے بڑا خوف’انتقام‘ ہے‘‘۔
یوول کسی جرائم پیشہ خاندان میں پیدا نہیں ہوا تھا، اور نہ وہ کوئی مجرم ہے۔ وہ ۳۴سال کا نوجوان ہے۔ تل ابیب کے مضافاتی علاقے رمت ہشارون میں پلا بڑھا اور کمپیوٹر پروگرامر بنا۔ حال ہی میں وہ دنیا کی ایک بڑی ہائی ٹیک کمپنی میں سے ایک میں کام کر رہا تھا، لیکن وہ مہینوں سے وہاں نہیں گیا۔ وہ کہتا ہے:’’میں جہنم میں تھا، لیکن مجھے اس کا احساس نہیں تھا‘‘۔ وہ جس جہنم کی بات کر رہا ہے وہ دسمبر ۲۰۲۳ء میں جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں پیش آیا، جب وہ ایک فوجی کی حیثیت سے تعینات تھا۔’’وہاں ہر وقت فضائی حملے ہو رہے تھے۔ ایک ٹن وزنی بم آپ سے تھوڑی ہی دُور گرتا ہے اور آپ کا دل اچھل کر حلق میں آ جاتا ہے‘‘۔
اس کا یونٹ شہر کے مرکز کی طرف مغرب کی جانب بڑھ رہا تھا۔’’وہاں شدید لڑائی ہو رہی تھی… اور میں ایک آٹو پائلٹ (مشین) کی طرح کام کر رہا تھا، سوال نہیں پوچھ سکتا تھا، بس حکم کی تعمیل‘‘۔
مگر سوالات اسے مہینوں بعد ستانے لگے:’’میرے پاس اس کے جوابات نہیں ہیں، میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ میں نے جو کیا ہے اس کی کوئی معافی نہیں۔ کوئی کفارہ نہیں‘‘۔
یہ واقعہ غزہ کی مرکزی شاہراہ صلاح الدین روڈ کے قریب پیش آیا۔ ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے، ایک پلاٹون نے کچھ مشکوک افراد کو دیکھا۔ میرے یونٹ نے حملہ کر دیا۔میں ایک پاگل آدمی کی طرح گولیاں چلا رہا تھا، جیسا کہ ہمیں بنیادی تربیت میں پلاٹون کی مشقوں کے دوران میں سکھایا گیا تھا‘‘۔وہ کہتا ہے: ’’جب ہم اپنی منزل پر پہنچے، تو مجھے احساس ہوا کہ لوگ جن کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کوئی دہشت گرد نہیں تھے۔ یہ ایک بوڑھا آدمی اور تین نوعمر لڑکے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مسلح نہیں تھا۔ لیکن ہم نے ان کے جسم گولیوں سے چھلنی کر دیے تھے، ان کے اعضا کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے کبھی اتنے قریب سے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی تھی‘‘۔
’’مجھے یاد ہے اس کارروائی کے بعد وہاں مکمل سناٹا تھا، کسی نے ایک لفظ نہیں بولا تھا۔ پھر بٹالین کمانڈر اپنے لوگوں کے ساتھ آیا۔ اس کے ساتھ آنے والوں میں سے ایک نے لاشوں پر تھوکا اور چلّایا،ایسا سلوک ہراُس فرد کے ساتھ ہوتا ہے جو اسرائیل سے الجھتا ہے، تم کمینوں کی کمینی اولاد۔ میں صدمے میں تھا، لیکن میں خاموش رہا کیونکہ میں ایک بزدل ہوں، صرف ایک بے ہمت بزدل‘‘۔
اس ذہنی دبائو کی کیفیت کے سبب یوول کو تقریباً تین ماہ بعد فارغ کر دیا گیا۔ اس نے دو ہفتے کی چھٹی لی اور واپس اپنے کام پر چلا گیا۔ وہ کہتا ہے:’’جب میں فارغ ہوا تو انھوں نے میرے لیے ایک پارٹی رکھی، میرے لیے تالیاں بجائیں اور مجھے ہیرو کہا۔ لیکن مجھے لگا جیسے میں ایک درندہ ہوں۔ میں ان باتوں کو برداشت نہیں کر سکا، جو انھوں نے مجھ سے کہیں۔ مجھے لگا کہ انھیں احساس ہی نہیں ہے کہ میں کوئی اچھا انسان نہیں ہوں‘‘۔
کچھ مہینوں تک اس نے اپنی ملازمت برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاکہ اپنے دل پر بوجھ کم کرسکے، لیکن آخر کار ہمت ہار دی۔ وہ کہتا ہے: ’’میرے اندر کی شرمندگی اب بدتر ہو چکی ہے‘‘۔
وہ کہتا ہے:’’میں گھر سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتا، اور اگر نکلتا ہوں تو ہڈ (Hood) پہن لیتا ہوں تاکہ لوگ مجھے پہچان نہ سکیں۔ میں اب بھی آئینے میں خود کو نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے اپنے آپ سے نفرت ہے۔ مجھے ایک گہرا خوف ہے کہ کوئی مجھ سے اس بات کا بدلہ لے گا جو میں نے وہاں کیا ہے۔ اگرچہ مجھے یہ بات معلوم ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، غزہ کے بچ رہنے والوں میں سے کون مجھے ڈھونڈ سکتا ہے؟ ‘‘
’’اس عافیت کے واہمے کے باوجود، میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ میں کسی طرح مرنا چاہتا ہوں، تاکہ اس سب سے چھٹکارا پا سکوں۔ میں خودکشی نہیں کروں گا کیونکہ میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا ہے، لیکن میں یہ بات نہیں جانتا کہ میں کب تک یہ بوجھ اٹھا سکوں گا‘‘۔
مایا، تل ابیب میں رہتی ہے اور فلسفے کی تعلیم حاصل کرتی ہے۔ غزہ جنگ کے دوران اس نے ریزرو فوجی کی ڈیوٹی کے طور پر ایک آرمرڈ کور بٹالین میں ایچ آر (HR) افسر کے طور پر کام کیا۔ وہ کہتی ہے: ’’میری روزمرہ کی زندگی اور میری ریزرو ڈیوٹی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ دو الگ الگ دنیائیں ہیں، جن میں بسنے والے مختلف لوگ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے بھی مختلف طریقے سے برتاؤ کیا تھا۔
مایا کو ایک واقعہ بہت پریشان کرتا ہے، جو جنوبی غزہ میں ایک چوکی پر پیش آیا۔ مایا کہتی ہے:’’ہم وہاں کمانڈ روم میں بیٹھے تھے۔ اچانک فوجیوں نے پانچ فلسطینیوں کو دیکھا، جو اس لائن کو عبور کر رہے تھے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں تھی۔وہاں ایک کتا بھی تھا۔ بٹالین کمانڈر نے انھیں قتل کرکے ایک گڑھے میں ڈالنے کا حکم دیا، حالانکہ وہ بالکل مسلح نہیں تھے۔ بہرحال ایک ٹینک پہ لگی مشین گن سے ان پر فائرنگ شروع کر دی، سینکڑوں گولیاں۔ پانچ میں سے چار فلسطینی مارے گئے۔کچھ گھنٹوں بعد، ایک ڈی-۹ (بلڈوزر) نے انھیں وہیں مٹی میں دبا دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ ہم یہ کیوں کر رہے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں تاکہ کتے انھیں کھا نہ سکیں اور ان کی لاشوں کی بدبُو سے بیماری نہ پھیلے‘‘۔
’’تب مجھے اپنے آپ سے گھن آنے لگی۔میں نے محسوس کیا کہ میں ایک منافق اور گھٹیا عورت ہوں۔ اس احساس کو کم کرنے کے لیے میں دن میں تین بار نہاتی مگر میری بے بسی کی تصویر مجھے نہیں چھوڑتی تھی۔ میرے ذہن میں خیالات مسلسل گھومتے رہتے ،میں وہاں کھڑی کیسے رہ سکتی تھی؟ میں، جو اخلاقیات اور انسانی حقوق کی بات کرتی ہوں، وہاں احتجاج کرنے یا کچھ کرنے کے بجائے وہاں کیسے کھڑی رہی؟ میں نے ان سے کچھ بھی کیوں نہیں کہا؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے‘‘۔
کچھ سپاہیوں نے بتایا کہ غزہ میں تفتیش کے دوران کیے جانے والے انسانیت سوز سلوک نے ان پر گہرے ذہنی اثرات چھوڑے۔ ایک سپاہی کہتا ہے:’’جب آپ اسنائپر کے دُوربین (Scope) سے دیکھتے ہیں، تو سب کچھ بہت قریب نظر آتا ہے۔ آپ جن لوگوں کو مارتے ہیں، ان کے چہروں کے خدوخال، پریشانی، خوف، بے بسی اور مرنے سے پہلے چہرے پر نظر آنے والے آثار آپ کو نہیں بھولتے۔ وہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں زندگی بھر‘‘۔
ایک اور سابق فوجی نے بتایا:’’میں نے اپنے لوگوں کو بجلی کے آلات، مقتولین کے سونے کے زیورات اور نقدی لوٹتے ہوئے دیکھا اور اپنوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: تمام عرب نازی ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔ میں بیزار تھا، لیکن میں نے کچھ نہیں کہا۔ خاص طور پر جب لوگ فلسطینیوں کے مارے جانے یا ان پر تشدد کی تصاویر دکھاتے، تو مجھے بہت تکلیف ہوتی‘‘۔
سرکاری طور پر، وزارت دفاع ’ذہنی صدمہ‘ کو ایک طبی تشخیص کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی صدمہ اور خوف ہے۔ذہنی صدمہ کا تعلق ضمیر، شرمندگی اور گناہ کے احساس سے ہوتا ہے۔
ایک افسر نے کہا:’’یہ احساس صرف جونیئر کمانڈرز کی سطح پر نہیں ہے، بلکہ چیف آف اسٹاف تک ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ کہتے ہیں: یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا آپ غدار ہیں‘‘۔
یوول کہتا ہے:’’میں اب ایک سبزی خور بن گیا ہوں۔ مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب اس بوڑھے کی لاش سے اُٹھنے والی بو مجھے الشفاء ہسپتال کی بُو کی یاد دلا گئی جہاں فلسطینیوں کی بہت سی دبی ہوئی لاشوں کی بُو پھیلی ہوئی تھی۔ اس چیز نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم کیا بن گئے ہیں؟ میں کیا بن گیا ہوں؟ مجھے اس بات کا جواب دینے سے ڈر لگتا ہے: انسان نہیں درندہ!‘‘
[اسرائیلی اخبار Haaretz، ۱۹؍اپریل ۲۰۲۶ء ، ترجمہ: ادارہ]
_______________