حج ہر سال ہمیں ہماری پہچان یاد دلانے، ہمیں اپنی فطرت کی طرف لوٹانے، ہمارے تعلقات میں حقیقی بھائی چارہ پیدا کرنے، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہنے، اپنے پروردگار اور خالق کے شعائر کی تعظیم میں صدق پیدا کرنے اور شیطان اور اس کے گروہ سے دشمنی کا درس دینے آتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر امت ان مقاصد کو حاصل نہیں کر پاتی، تو پھر وہ حج کیوں کرتی ہے؟ جب کہ اس کے اہم ترین مقاصد میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے، اس کے احکامات پر عمل کرنے میں جلدی کرنا، اور جن چیزوں سے اس نے روکا ہے ان سے بچنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ۰ۚ (الانفال۸:۲۴) اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو، جب کہ رسُول تمھیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے۔
حج میں اللہ کے حکم کی تعمیل طواف، سعی، رمی اور قیامِ منٰی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ان شرعی ضوابط سے ایک مسلمان اللہ کے حکم کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کا درس سیکھتا ہے۔ کسی منطقی نظریے یا فلسفیانہ بحث میں پڑے بغیر وہ ان تمام مناسک سے اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت سیکھتا ہے۔
میں یہاں اُمت مسلمہ سے سوال کرتا ہوں، جو حج کا شوق رکھتی ہے اور اس کے لیے اپنی قیمتی ترین پونجی خرچ کرتی ہے: کیا وہ واقعی اللہ کے حکم پر لبیک کہتی ہے؟ کیا ہماری امت اپنے چھوٹے بڑے تمام معاملات میں اللہ کی شریعت کو حاکم مانتی ہے؟ تاکہ اللہ کے اس فرمان کی تعمیل ہو سکے:
وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ (المائد ہ۵:۴۹) اور اس کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو۔
اور اس کے اس حکم کی اطاعت ہو:
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۰ۭ (یوسف۱۲:۴۰)اور حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔
اور اللہ کے اس حکم کی نافرمانی سے بچا جا سکے:
وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ۴۴ (المائدہ۵:۴۴) اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی اصل کافر ہیں۔
حج ہمیں ہماری شناخت یاد دلانے، ہمیں ہماری فطرت کی طرف لوٹانے، اور ہمارے اندر سچا بھائی چارہ (اخوت) اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے آتا ہے۔
کیا ہماری امت اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہہ رہی ہے جس میں اسے جہاد کا حکم دیا گیا ہے، اگر اس کے دین، مال، جان، عزت یا نسل پر حملہ کیا جائے؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی ایک کا دفاع کرتے ہوئے مرنے والے کو شہادت کا رُتبہ دیا ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ نَفْسِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ (ابوداؤد: ۴۷۷۲، نسائی:۴۰۹۵، احمد:۱۶۵۲ )’’جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے‘‘۔
اُمت مسلمہ کے دشمنوں نے اس پر دھاوا بول دیا اور ان تمام ضروریات (جان، مال، عزّت) پر حملہ کیا، تو کیا امت نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں جہاد کا فریضہ سرانجام دیا؟ کیا امت اپنے مقدسات کے لیے کھڑی ہوئی؟ کیا اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سر زمینِ اسرا (مسجد ِ اقصیٰ) کا دفاع کیا؟
مَنْ حَـجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (بخاری:۱۵۲۱،مسلم ۱۳۵۰) جس نے حج کیا اور اس دوران کوئی فحش کلامی یا گناہ نہ کیا، وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسے لوٹا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو‘۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ (الحجرات۴۹:۱۰)بے شک مومن تو بھائی بھائی ہیں۔
ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ: کیا آج کی امت اس سچی اخوت کو اپنائے ہوئے ہے؟ وہی امت جس نے حج میں یہ سیکھا تھا کہ وہ اپنے لباس، زینت، خوشبو اور نعروں میں تفاخر اور برتری کے تمام اسباب کو چھوڑ دے تاکہ کامل اخوت کو حاصل کر سکے۔
امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان گرامی کے مطابق کہاں کھڑی ہے:
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّی (بخاری: ۶۰۱۱،مسلم:۲۵۸۶) مؤمنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے۔ جب جسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے قراری اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
ذٰلِكَ۰ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ۳۲(الحج۲۲:۳۲) اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے، تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔
مسلمان حج اس لیے کرتے ہیں تاکہ اپنے دین کے ساتھ بیعت کی تجدید کریں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو کر مؤمنوں سے دوستی اور دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کریں۔
میں اس امت سے پوچھتا ہوں جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتی ہے، کیا اللہ کے ان شعائر میں سے، جن کی تعظیم واجب ہے، مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت اور اسے غاصب صہیونیوں سے آزاد کرانا شامل نہیں؟ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا نقطۂ قیام نہیں ہے؟ کیا یہ مسلمانوں کا قبلہ اول نہیں ہے؟ اگر امت اپنے رب کے شعائر کی تعظیم نہیں کرتی، تو وہ حج کے مفاہیم کو کیسے پاسکتی ہے؟
یقیناً شعائر کی تعظیم صرف اس کنکری کی جسامت تک محدود نہیں جو ہم شیطان کو مارتے ہیں، اور نہ اس بال تک محدود ہے جو حاجی کے سر سے اتفاقاً گر جائے، اور نہ اس چیونٹی کے خون کی نازک ذمہ داری تک محدود ہے جو حاجی کے پاؤں تلے آ جائے! بلکہ اللہ کے شعائر کی تعظیم مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں مضمر ہے۔
وہ مسلمان جسے قتل کیا جاتا ہے، جس پر بمباری ہوتی ہے، جس کی عزت و قدر پامال کی جاتی ہے اور جسے اس کے گھر سے بے دخل کیا جاتا ہے، وہ اس کعبہ سے زیادہ عظیم ہے جس کا تم طواف کرتے ہو۔ یہی وہ بات ہے جو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا:
مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَلَحُرْمَةُ الْمُسْلِمِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْكِ (ترمذی: ۲۰۳۲، ابن ماجہ:۳۹۳۲، ابن حبان:۵۷۶۳)تُو کتنا عظیم ہے اور تیری حُرمت کتنی عظیم ہے! لیکن ایک مسلمان کی حرمت اللہ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ عظیم ہے!
میں حیران ہوں کہ کیا امت شیطان سے دشمنی اور جنگ کر رہی ہے؟! افسوس کہ اُمت کی صورتِ حال یہ کہتی ہے کہ: شیطان نے امت میں قیادت کا منصب سنبھال لیا ہے۔ وہ شیطان کے ساتھ اتحاد کرتی ہے، اس کے ساتھ تعلقات استوار کرتی ہے، اور ہر قسم کے رابطے، محبت اور تحائف کے ذریعے اس سے جڑی ہوئی ہے۔ بلکہ شاید ان میں سے کچھ اس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے قتل، مجاہدین کے محاصرے اور پُرامن لوگوں پر حملوں کی سازشیں بھی کرتے ہیں۔
اللہ کے شعائر کی تعظیم ان مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں ہے جنھیں قتل کیا جاتا ہے، جن پر بمباری کی جاتی ہے، جن کی عزّت پامال کی جاتی ہے اور جنھیں ان کے گھروں سے نکالا جاتا ہے۔
امت شیطان سے نہیں لڑ رہی، بلکہ شیطان کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے۔ اس کے منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے، اور مجاہدین و مزاحمت کاروں کے محاصرے میں اس کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے، اور ان لوگوں کو برا بھلا کہہ رہی ہے جو قدس کا دفاع کرتے ہیں اور مسجد اقصیٰ کے لیے لڑتے ہیں۔ دنیا میں شیطانی اتحاد اس بات کی دلیل ہے کہ امت نے مناسکِ حج سے کچھ نہیں سیکھا، اور اس کی اکثریت اپنے مقاصد کو حاصل کیے بغیر مناسک حج ادا کرنے میں لگی رہتی ہے۔
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۰ۭ (اٰل عمٰرن۳:۱۱۰) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
ہم ایک گواہ امت ہیں، پوری انسانیت پر تہذیبی گواہی دینے والی امت، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۰ۭ (البقرہ۲:۱۴۳ ) اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہو۔
امت کی اس عظمت اور اس کے مقام کے بارے میں، جسے ہم حج کے دوران سیکھتے اور ذہن نشین کرتے ہیں، میں بڑی تکلیف کے ساتھ اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں: کیا ہم اُمت کے حقیقی اجزا کے طور پر نظر آ رہے ہیں؟ کیا ہم امت کی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم امت کے اخلاق، اس کی اقدار، باہمی رحم دلی اور ہمدردی کی تصویر بنے ہوئے ہیں؟
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلقات منقطع ہیں، جھنڈے جُدا جُدا ہیں، ناموں کی بھرمار ہے، اور لوگ آپس میں دست و گریبان ہیں۔ امت نے اپنے ہی کچھ حصوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کا خون بہایا جا رہا ہے، ان کا مال لوٹا جا رہا ہے، اور انھیں ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے، اور یہ سب پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، جب کہ خیر اور بھائی چارے کی حامل یہ اُمت لہو و لعب، تفریح گاہوں، تقریبوں اور سیر و سیاحت میں مگن ہے۔
بلاشبہ امت حج کے حقیقی معانی سے غافل ہو چکی ہے۔ اسے ضرورت ہے کہ وہ پلٹ کر آئے اور امت مسلمہ ہونے کی اپنی پہچان حاصل کرے۔ تب ہی حج کا اثر مختلف ہوگا، اور عبادات کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ لیکن اگر ہم حج کے مقاصد اور اہداف کو نہ سمجھیں، اور اس عظیم عبادت کی روح کو نہ اپنائیں، تو ہم اب تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ہم حج کیوں کرتے ہیں، اور اللہ نے حج کیوں فرض کیا ہے؟