غزہ کی گلیوں اور تباہ شدہ گھروں کے کھنڈرات سے اُٹھتی دھول ابھی بیٹھی بھی نہیں کہ اسرائیل نے لبنان میں مزاحمت کاروں کو غیر مسلح کرنے کے نام پر ایک بڑے آپریشن کا آغاز کردیا۔ ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوے تو دوسری جانب خون، خوف اور بے یقینی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کیا واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے، یا یہ سب محض ایک ایسے کھیل کا حصہ ہے، جس میں اصول اور نشستیں بدلتی رہتی ہیں مگر مظلوم کا مقدر نہیں بدلتا؟
نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کے حالیہ اجلاس میں ’مزاحمت کاروں‘ سے اسلحہ ترک کرنے کا مطالبہ ایک حکم کے انداز میں دُہرایا گیا، جسے انھوں نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا سے قبل مسلح جدوجہد ترک نہیں کی جائے گی‘۔ اس تناظر میں بورڈ کے سربراہ نکولائی ملادنوف کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور نشان دہی کی گئی ہے کہ امن کے تقاضے یک طرفہ رکھے جا رہے ہیں۔
ایک طرف مزاحمت کاروں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، اور دوسری جانب اسرائیلی فوجی انخلا کے معاملے میں مکمل خاموشی۔اطلاعات ہیں کہ اگر مزاحمت کاروں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انھیں بزور طاقت غیر مسلح کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔
سارے غزہ میں بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ المواصی، خان یونس اور رفح کے علاقوں میں نہتے افراد نشانہ بنے، جن میں شہادتیں اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل نواز ملیشیا کی سرگرمیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اور کئی محلوں سے بچوں کے اغوا کی خبریں آرہی ہیں۔ غزہ شہر میں فلسطینی پولیس ایسی ہی ایک شکایت پر جب ان اوباشوں کو گرفتارکرنے پہنچی تو وہاں پر موجود اسرائیلی فوج نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا، جس سے چار فلسطینی شہید ہوگئے۔
لبنان میں عارضی جنگ بندی کے باجود اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ہفتے جنوبی لبنان میں کم ازکم چار گاؤں خالی کراکر اسرائیلی فوج نے مکانوں اور فصلوں کو آگ لگادی۔
اسرائیلی جریدے Haaretz کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک ۱۷۲ بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ ۲۴۵۴ شہری شہید ہوئے ہیں اور ۷۶۵۸ زخمی۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے حامی عسکری گروہوں کے خلاف ہیں۔ پارکوں اور میدانوں میں کھیلتے یہ گیارہ بارہ سال کے معصوم بچے آخر کس ’دہشت گردی‘ میں ملوث تھے؟ سچ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی اٹھاتے ہیں۔
دوسری طرف غرب اردن میں فلسطینیوں پر حملے، فصلیں اجاڑنے اورگھروں پر قبضے کاسلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ کے قصبے ترمسعیا پر قبضہ گردوں نے مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، جاتے ہوئے یہ لوگ دیواروں پر 'انتقام ' کے نعرے لکھ گئے۔ معلوم نہیں مظلوموں سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے؟۲۱؍ اپریل کو رام اللہ کے المغیر اسکول پر قبضہ گردوں نے حملہ کیا، جس میں ایک ۱۴ سالہ طالب علم حمدی نسان اور استاد ابو نعیم گولی لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے۔ سات سال قبل حمدی کا باپ بھی اسرائیلی فوج کی درندگی کی نذر ہوچکا ہے۔ جاتے جاتے غارت گرد دیواروں پر 'عرب مُردہ باد کے نعرے لکھ گئے۔
صہیونی قبضہ گردوں نے فلسطینی بچوں کے خلاف اب تشدد کا ایک نیا انداز اختیار کرلیا ہے۔ کھیل کے میدانوں اور اسکولوں میں پانی کی گن سے بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ کے محلول کی پچکاری ماری جاتی ہے۔ بیت الحم کے گاؤں تقوع اور وادی اردن کے شہر عین الحلوہ میں بچوں کو گھیر کر مرچ کے پانی کے علاوہ کچھ کی آنکھوں میں سرخ مرچیں جھونک دی گئیں۔ جس سے درجنوں بچوں کی آنکھوں میں زخم آگئے۔ کچھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
القدس شریف میں دراندازی :مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلتے ہی دراندازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ءمیں القدس پر قبضے کے فوراً بعد اقوام عالم کو یقین دلایا تھا کہ مسجد اقصیٰ و القدس شریف کی اسلامی حیثیت برقرار رکھی جائے گی اور دیوار گریہ کے سوا کسی بھی جگہ غیرمسلموں کا داخلہ اوقاف کی تحریری اجازت سے مشروط ہوگا، مگر یہ سب خواب ہے!
ایمسٹرڈیم کی خاموش گواہی:نازی مظالم کا نشانہ بننے والے یہودیوں کی یاد میں ۱۴؍اپریل کو ’یومِ ہولوکاسٹ‘ منایا جاتاہے جسے عبرانی میں’یومِ ہاشوہ‘ کہتے ہیں ۔اس مناسبت سے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی ’ڈیم اسکوائر‘ پر درندگی کا شکار ہونے والے نونہالانِ غزہ کی یاد میں ننھے جوتوں کی ایک علامتی قطار سجائی گئی۔یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ تاریخ کے زخم صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کے دکھوں میں بھی جھلکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انھی یہودیوں کے مظالم کا شکار عرب بچوں کا کوئی دُکھ اور کوئی یاد نہیں؟ یقینا دُنیا بھر کے لوگ انھیں یاد کرتے ہیں اور یاد رکھیں گے۔
گذشتہ ہفتے برطانیہ میں فلسطینی حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے والے ۵۰۰ افراد گرفتارکرلیے گئے۔کیا انسانی حقوق کا معیار سب کے لیے یکساں ہے، یا حالات کے مطابق بدل جاتا ہے؟
ترک نژاد طالبہ رمیسہ اوزترک، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بالآخر خود ہی امریکا چھوڑ کی اپنے وطن واپس چلی گئیں۔ رمیسہ، ٹفٹ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں۔ یونی ورسٹی کے میگزین میں اسرائیل پر تنقیدی مضمون لکھنے کے بعد انھیں امریکی امیگریشن ادارے ICE نے حراست میں لے لیا اور لوزیانا کی ایک دُور افتادہ جیل میں ۴۵ دن رکھا گیا، جہاں انھیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ عدالت کے حکم پر رہائی ممکن ہوئی۔ رہائی کے بعد بھی گلبرائیٹ اسکالر، رمیسہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو خود اس معاملے کی نگرانی کرتے رہے۔ گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اس وفاقی جج کو برطرف کر دیا جس نے رمیسہ کی ملک بدری کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔اس حوصلہ مند لڑکی نے امریکا میں آزادیِ اظہارِ رائے کے ساتھ، عدالتی نظام کی بھی قلعی کھول دی۔