حج کے معنی عربی زبان میں زیارت کا قصد کرنے کے ہیں۔ حج میں چونکہ ہر طرف سے لوگ کعبے کی زیارت کا قصد کرتے ہیں، اس لیے اس کا نام حج رکھا گیا۔سب سے پہلے اس کی ابتدا جس طرح ہوئی اس کا قصہ بڑا سبق آموز ہے۔ اس قصے کو غور سے سنیے، تاکہ حج کی حقیقت اچھی طرح آپ کے ذہن نشین ہو جائے، پھر اس کے فائدوں کا سمجھنا آپ کے لیے آسان ہو گا۔
عام لوگ ان کے پھندے میں ایسے پھنسے ہوئے تھے کہ انھی کو اپنی اچھی اور بری قسمت کا مالک سمجھتے تھے۔ انھی کے اشاروں پر چلتے تھے اور بے چون وچرا ان کی خواہشات کی بندگی کرتے تھے، کیوں کہ ان کا گمان تھا کہ دیوتائوں کے ہاں ان پجاریوں کی پہنچ ہے۔ یہ چاہیں تو ہم پر دیوتائوں کی عنایت ہو گی، ورنہ ہم تباہ ہو جائیں گے۔ پجاریوں کے اس گروہ کے ساتھ بادشاہوں کی ملی بھگت تھی۔ عام لوگوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے میں بادشاہ پجاریوں کے مددگار تھے اور پجاری بادشاہوں کے۔ ایک طرف حکومت ان پجاریوں کی پشت پناہی کرتی تھی اور دوسری طرف یہ پجاری لوگوں کے عقیدے میں یہ بات بٹھاتے تھے کہ بادشاہِ وقت بھی خدائوں میں سے ایک خدا ہے، ملک اور رعیت کا مالک ہے، اس کی زبان قانون ہے اور اس کو رعایا کی جان ومال پر ہر قسم کے اختیارات حاصل ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بادشاہوں کے آگے پورے بندگی کے مراسم بجا لائے جاتے تھے، تاکہ رعایا کے دل ودماغ پر ان کی خدائی کا خیال مسلّط ہو جائے۔
پھر جب ان سب کا یہ حال ہے تو ان میں سے کوئی رب کیسے ہو سکتا ہے؟ جب ان میں سے کسی نے مجھ کو پیدا نہیں کیا، نہ کسی کے ہاتھ میں میری موت اور زیست کا، اور نفع اور نقصان کا اختیار ہے، نہ کسی کے ہاتھ میں رزق اور حاجت روائی کی کنجیاں ہیں، تو میں ان کو رب کیوں مانوں اور کیوں ان کے آگے بندگی واطاعت میں سر جھکائوں؟ میرا رب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں اور جس کے اختیار میں سب کی موت وزیست اور سب کا نفع ونقصان ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑنے قطعی فیصلہ کر لیا کہ جن معبودوں کو میری قوم پوجتی ہے ان کو میں ہرگز نہ پوجوں گا اور اس فیصلے پر پہنچنے کے بعد انھوں نے علی الاعلان لوگوں سے کہہ دیا کہ:
اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّـمَّاتُشْرِكُوْنَ۷۸ (الانعام ۶:۷۸) جن کو تم خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو، میں اُن سب سے بیزار ہوں۔
اِنِّىْ وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۷۹ۚ (الانعام ۶:۷۹) میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
پھر جب اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو آگ میں جلنے سے بچا لیا تو وہ اپنے گھر بار، عزیزواقارب، قوم اور وطن سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف اپنی بیوی اور ایک بھتیجے کو لے کر غریب الوطنی میں ملک ملک کی خاک چھاننے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ جس شخص کے لیے اپنے گھر میں مہنت کی گدّی موجود تھی، جو اس پر بیٹھ کر اپنی قوم کا پیر بن سکتا تھا۔ دولت وعزت دونوں جس کے قدم چومنے کے لیے تیار تھیں، اور جو اپنی اولاد کو بھی اس مہنتی کی گدّی پر مزے لوٹنے کے لیے چھوڑ سکتا تھا، اس نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے جلاوطنی اور بے سروسامانی کی زندگی پسند کی، کیوں کہ دنیا کے جھوٹے خدائوں کے جال میں پھانس کر خود مزے کرنا اُسے گوارا نہ تھا اور اس کے مقابلے میں یہ گوارا تھا کہ ایک سچے خدا کی بندگی کی طرف لوگوں کو بلائے اور اس جرم کی پاداش میں کہیں چَین سے نہ بیٹھ سکے۔
ان لوگوں کے درمیان وہ شخص کہاں چَین سے بیٹھ سکتا تھا جو نہ صرف خود ہی خدا کے سوا کسی کی خدائی ماننے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ دوسروں سے بھی علانیہ کہتا پھرتا تھا کہ ایک اللہ کے سوا تمھارا کوئی مالک اور آقا نہیں ہے۔ سب کی آقائی وخداوندی کا تختہ الٹ دو، اور صرف اس ایک کے بندے بن کر رہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو کسی جگہ قرار نصیب نہ ہوا۔ سالہا سال بے خانماں پھرتے رہے، کبھی کنعان کی بستیوں میں ہیں تو کبھی مصر میں اور کبھی عرب کے ریگستان میں۔ اسی طرح ساری جوانی بیت گئی اور کالے بال سفید ہو گئے۔
اس قول وقرار کو اس سچے آدمی نے تمام عمر پوری پابندی کے ساتھ نباہ کر دکھا دیا۔ اس نے ربّ العالمین کی خاطر صدیوں کے آبائی مذہب اور اس کی رسموں اور عقیدوں کو چھوڑا، اور دنیا کے ان سارے فائدوں کو چھوڑا، اپنی جان کو آگ کے خطرے میں ڈالا، جلا وطنی کی مصیبتیں سہیں، ملک ملک کی خاک چھانی، اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ ربّ العالمین کی اطاعت اور اس کے دین کی تبلیغ میں صَرف کر دیا، اور بڑھاپے میں جب اولاد نصیب ہوئی تو اس کے لیے بھی یہی دین اور یہی کام پسند کیا۔
سب سے بڑی آزمائش! مگر ان آزمائشوں کے بعد ایک اور آخری آزمائش باقی رہ گئی تھی جس کے بغیر یہ فیصلہ نہ ہوسکتا تھا کہ یہ شخص دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ربّ العالمین سے محبت رکھتا ہے، اور وہ آزمائش یہ تھی کہ اس بڑھاپے میں، جب کہ پوری مایوسی کے بعد اسے اولاد نصیب ہوئی ہے، اپنے اکلوتے بیٹے کو ربّ العالمین کی خاطر قربان کر سکتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ یہ آزمائش بھی کر ڈالی گئی، اور جب اشارہ پاتے ہی وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے پر آمادہ ہو گیا، تب فیصلہ فرما دیا گیا کہ ہاں، اب تم نے اپنے مسلم ہونے کے دعوے کو بالکل سچا کر دکھایا۔ اب تم اس کے اہل ہو کہ تمھیں ساری دنیا کا امام بنایا جائے۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ:
وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّہُنَّ۰ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۰ۭ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ۰ۭ قَالَ لَا يَنَالُ عَہْدِي الظّٰلِــمِيْنَ۱۲۴ (البقرہ۲:۱۲۴) اور جب ابراہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اُتر گیا، تو فرمایا کہ میں تجھے انسانوں کا امام (پیشوا) بنانے والا ہوں۔اس نے عرض کیا اور میری اولاد کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب دیا: ان میں سے جو ظالم ہوں گے انھیں میرا عہد نہیں پہنچتا۔
اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّۃَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ۹۶ۚ فِيْہِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰہِيْمَ۰ۥۚ وَمَنْ دَخَلَہٗ كَانَ اٰمِنًا۰ۭ (اٰل عمرٰن۳:۹۶-۹۷) یقیناً پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا، برکت والا گھر، اور سارے جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت۔ اس میں اللہ کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ؑہے اور جو اس میں داخل ہو جاتا ہے اس کو امن مل جاتا ہے۔
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِہِمْ۰ۭ (العنکبوت ۲۹:۶۷)کیا لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کیسا پُرامن حرم بنا یا ہے، حالانکہ اس کے گرد وپیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں۔
یعنی، جب کہ عرب میں ہر طرف لوٹ مار، قتل وغارت گری اور جنگ وجدل کا بازار گرم تھا، اس حرم میں ہمیشہ امن ہی رہا۔ حتیٰ کہ وحشی بدّو تک اس کے حدود میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ پاتے تو اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرتے۔
وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا۰ۭ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّى۰ۭ وَعَہِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَہِّرَا بَيْـتِىَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۱۲۵ وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۰ۭ ..... وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ۰ۭ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۱۲۷ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّكَ۰۠ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا۰ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۱۲۸ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۱۲۹ۧ (البقرہ ۲:۱۲۵-۱۲۹) اور، جب کہ ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرکز ومرجع اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ ابراہیم ؑ کے مقامِ عبادت کو جائے نماز بنا لو، اور ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ کو ہدایت کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والے اورٹھیرنے والے اور رکوع وسجدہ کرنے والے لوگوں کے لیے پاک صاف رکھو۔ اور، جب کہ ابراہیم ؑنے دُعا کی کہ پروردگار، اس شہر کو پُرامن شہر بنا دے اور یہاں کے باشندوں کو پھلوں کا رزق بہم پہنچا، جو ان میں سے اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لانے والا ہو… اور جب ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے کہ پروردگار! ہماری اس کوشش کو قبول فرما، تو سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ پروردگار! اور تُو ہم دونوں کو اپنا مسلم (اطاعت گزار) بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو، اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہم پر عنایت کی نظر رکھ کہ تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ پروردگار! اور تُو ان لوگوں میں انھی کی قوم سے ایک ایسا رسول اُٹھائیوجو انھیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔ یقیناً تو بڑی قوت والا ہے اور بڑا حکیم ہے۔
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ۳۵ۭ رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ۰ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّہٗ مِنِّىْ۰ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۳۶ رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ۰ۙ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِيْٓ اِلَيْہِمْ وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ يَشْكُرُوْنَ۳۷(ابراہیم ۱۴: ۳۵-۳۷) اور، جب کہ ابراہیم ؑنے دعا کی کہ پروردگار! اس شہر کو پُرامن شہر بنا اور مجھ کو اور میرے بچوں کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار! ان بتوں نے بہتیرے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سوجو کوئی میرے طریقے کی پیروی کرے تو میرا ہے اور جو میرے طریقے سے پھر جائے تو یقینا تُو غفور اور رحیم ہے۔ پروردگار! میں نے اپنی نسل کے ایک حصے کو تیرے اس عزّت والے گھر کے پاس اس بے آب و گیاہ وادی میں لا بسایا ہے تاکہ یہ نماز کا نظام قائم کریں۔ پس اے رب! تو لوگوں کے دلوں میں ایسا شوق ڈال کہ وہ ان کی طرف کھنچ کر آئیں اور ان کو پھلوں سے رزق پہنچا۔ امید ہے کہ یہ تیرے شکر گزار بنیں گے۔
وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۲۶ وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّعَلٰي كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۲۷ۙ لِّيَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللہِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَہُمْ مِّنْۢ بَہِيْمَۃِ الْاَنْعَامِ۰ۚ فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗىِٕسَ الْفَقِيْرَ۲۸ۡ (الحج ۲۲: ۲۶-۲۸ ) یاد کرو وہ وقت، جب کہ ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی، (اس ہدایت کے ساتھ کہ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمھارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں، تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں، اور چند مقرر دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں۔ خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔
یہ ہے اس حج کی ابتدا کا قصہ جسے اسلام کا پانچواں رکن قرار دیا گیا ہے۔ اس سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دنیامیں سب سے پہلے جس نبی کو اسلام کی عالم گیر دعوت پھیلانے پر مامور کیا گیا تھا، مکہ اس کے مشن کا صدر مقام تھا۔ کعبہ وہ مرکز تھا جہاں سے یہ تبلیغ دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچائی جاتی تھی، اور حج کا طریقہ اس لیے مقرر کیا گیا تھا کہ جو لوگ خدائے واحد کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کی اطاعت میں داخل ہوں، خواہ وہ کسی قوم اور کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے سب اس ایک مرکز سے وابستہ ہو جائیں اور ہر سال یہاں جمع ہو کر اس مرکز کے گرد طواف کریں۔ گویا ظاہر میں اپنی اس باطنی کیفیت کا نقشہ جما لیں کہ ان کی زندگی اس پہیے کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنے دُھرے (Axis: محور)کے گرد ہی گھومتا ہے۔
_______________
برادرانِ اسلام! پچھلے خطبے میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ حج کی ابتدا کس طرح اور کس غرض کے لیے ہوئی تھی۔ یہ بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکے کو اس اسلامی تحریک کا مرکز بنایا تھا اور یہاں اپنے سب سے بڑے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو بٹھایا تھا تاکہ آپ کے بعد وہ اس تحریک کو جاری رکھیں۔
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت اسمٰعیل ؑکے بعد اُن کی اولاد کب تک اس دین پر قائم رہی جس پر ان کے باپ ان کو چھوڑ گئے تھے۔ بہرحال چند صدیوں میں یہ لوگ اپنے بزرگوں کی تعلیم اور ان کے طریقے سب بھول بھال گئے اور رفتہ رفتہ ان میں وہ سب گمراہیاں پیدا ہو گئیں جو دوسری جاہل قوموں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اسی کعبے میں جسے ایک خدا کی پرستش کے لیے دعوت وتبلیغ کا مرکز بنایا گیا تھاسیکڑوں بت رکھ دیے گئے تھے اور غضب یہ ہے کہ خود حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسمٰعیل ؑکا بھی بت بنا ڈالا گیا جن کی ساری زندگی بتوں ہی کی پرستش کو مٹانے میں صَرف ہوئی تھی۔ ابراہیم ؑحنیف کی اولاد نے لات، منات، ہبل، نسر، یغوث، عزیٰ، اساف، نائلہ اور خدا جانے کس کس نام کے بت بنائے اور ان کو پوجا۔ چاند، عطارد، زہرہ، زحل، اور معلوم نہیں کس کس ستارے کو پوجا۔ جن، بھوت، پریت، فرشتوں اور اپنے مردہ بزرگوں کی روحوں کو پوجا۔ جہالت کا زور یہاں تک بڑھا کہ جب گھر سے نکلتے اور اپنا خاندانی بت انھیں پوجنے کو نہ ملتا تو راستہ چلتے میں جو اچھا سا چکنا پتھر مل جاتا اسی کو پوج ڈالتے، اور پتھر بھی نہ ملتا تو مٹی کو پانی سے گوندھ کر ایک پنڈا(جسم کی شکل) سا بنا لیتے اور بکری کا دودھ چھڑکتے ہی وہ بے جان پنڈا اُن کا خدا بن جاتا۔ جس مہنت گری اور پنڈتائی کے خلاف ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام نے عراق میں لڑائی کی تھی وہ خود انھی کے گھر میں گھس آئی۔ کعبے کو انھوں نے ہر دواریا بنارس بنا لیا، خود وہاں کے مہنت بن کر بیٹھ گئے۔ حج کو تیرتھ جاترا بنا کر اس گھر سے جو توحید کی تبلیغ کے لیے بنا تھا بت پرستی کی تبلیغ کرنے لگے، اور پجاریوں کے سارے ہتھکنڈے اختیار کرکے انھوں نے عرب کے دورونزدیک سے آنے والے جاتریوں سے نذر چڑھاوے وصول کرنے شروع کر دیے۔ اس طرح وہ سارا کام برباد ہو گیا جو ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام کر گئے تھے، اور جس مقصد کے لیے انھوں نے حج کا طریقہ جاری کیا تھا۔ اس کی جگہ کچھ اور ہی کام ہونے لگے۔
اس جاہلیت کے زمانے میں حج کی جوگت بنی اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ یہ ایک میلہ تھا جو سال کے سال لگتا تھا۔ بڑے بڑے قبیلے اپنے اپنے جتھوں کے ساتھ یہاں آتے اور اپنے اپنے پڑائو الگ ڈالتے۔ ہر قبیلے کا شاعر یا بھاٹ اپنی اور اپنے قبیلے والوں کی بہادری، نام وَری، عزت، طاقت اور سخاوت کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتا اور ہر ایک ڈینگیں مارنے میں دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتا۔ یہاں تک کہ دوسرے کی ہجو تک نوبت پہنچ جاتی۔
پھر فیاضی کا مقابلہ ہوتا۔ ہر قبیلے کے سردار اپنی بڑائی جتانے کے لیے دیگیں چڑھاتے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اونٹ پر اونٹ کاٹتے چلے جاتے۔ اس فضول خرچی سے ان لوگوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اس میلے کے موقع پر ان کا نام سارے عرب میں اونچا ہو جائے اور یہ چرچے ہو ں کہ فلاں صاحب نے اتنے اونٹ ذبح کیے اور فلاں صاحب نے اتنوں کو کھانا کھلایا۔ ان مجلسوں میں راگ رنگ، شراب خوری، زنا اور ہر قسم کی فحش کاری خوب دھڑلے سے ہوتی تھی اور خدا کا خیال مشکل ہی سے کسی کو آتا تھا۔
کعبے کے گرد طواف ہوتا تھا، مگر کس طرح؟ عورت مرد سب ننگے ہو کر گھومتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت میں خدا کے سامنے جائیں گے جس میں ہماری مائوں نے ہمیں جنا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی مسجد میں عبادت ہوتی تھی، مگر کیسی؟ تالیاں پیٹی جاتیں، سیٹیاں بجائی جاتیں اور نرسنگھے پھونکے جاتے۔ خدا کا نام پکارا جاتا، مگر کس شان سے؟ کہتے تھے:
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَا مَلَکَ۔،یعنی میں حاضر ہوں میرے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، مگر وہ جو تیرا ہونے کی وجہ سے تیرا شریک ہے۔ تُو اس کا بھی مالک ہے اور اس کی ملکیت کا بھی مالک ہے۔
خدا کے نام پر قربانیاں کرتے تھے، مگر کس بدتمیزی کے ساتھ؟ قربانی کا خون کعبے کی دیواروں سے لتھیڑا جاتا اور گوشت دروازے پر ڈالا جاتا، اس خیال سے کہ نعوذ باللہ یہ خون اور گوشت خدا کو مطلوب ہے۔
حرام مہینوں کی بے حرمتی
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حج کے چار مہینوں کو حرام ٹھیرایا تھا اور ہدایت کی تھی کہ ان مہینوں میں کسی قسم کی جنگ وجدل نہ ہو۔ یہ لوگ اس حرمت کا کسی حد تک خیال رکھتے تھے، مگر جب لڑنے کو جی چاہتا توڈھٹائی کے ساتھ ایک سال حرام مہینے کو حلال کر لیتے اور دوسرے سال اس کا بدلہ کردیتے تھے۔
پھر جو لوگ اپنے مذہب میں نیک نیت تھے، انھوں نے بھی جہالت کی وجہ سے عجیب عجیب طریقے ایجاد کر لیے تھے۔ کچھ لوگ بغیر زادِ راہ لیے حج کو نکل کھڑے ہوتے اورمانگتے کھاتے چلے جاتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ نیکی کا کام تھا۔ کہتے تھے:’’ہم متوکل ہیں، خدا کے گھر کی طرف جا رہے ہیں، پھر دنیا کا سامان کیوں لیں؟‘‘
عموماً حج کے سفر میں تجارت کرنے یا کمائی کے لیے محنت مشقت کرنے کو ناجائز سمجھا جاتا تھا۔ بہت سے لوگ حج میں کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے اور اسے بھی داخلِ عبادت سمجھتے تھے۔ بعض لوگ حج کو نکلتے تو بات چیت کرنا ترک کر دیتے۔ اس کا نام ’حج مُصمِت ‘، یعنی ’گونگا حج‘ تھا۔ اسی قسم کی اور غلط رسمیں بے شمار تھیں جن کا حال بیان کرکے میں آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔
یہ حالت کم وبیش دو ہزار برس تک رہی۔ اس طویل مدت میں کوئی نبی عرب میں پیدا نہیں ہوا، نہ کسی نبی کی خالص تعلیم عرب کے لوگوں تک پہنچی۔ آخر کار حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کے پورا ہونے کا وقت آیا جو انھوں نے کعبے کی دیواریں اٹھاتے وقت اللہ سے مانگی تھی:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُo(البقرہ۲:۱۲۹) یعنی، پروردگار! ان کے درمیان ایک پیغمبر خود انھی کی قوم میں سے بھیجیو، جو انھیں تیری آیات سنائے اور کتاب اور دانائی کی تعلیم دے اور ان کے اخلاق درست کرے۔
چنانچہ حضرت ابراہیم ؑکی اولاد سے پھر ایک انسانِ کامل اٹھا جس کا نامِ پاک محمد بن عبداللہ تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم !
جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے پنڈتوں اور مہنتوں کے خاندان میں آنکھ کھولی تھی، اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُس خاندان میں آنکھ کھولی جو صدیوں سے کعبہ کے تیرتھ کا مہنت بنا ہوا تھا۔ جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے اپنے ہاتھ سے خود اپنے خاندان کی مہنتی پر ضرب لگائی، اسی طرح آنحضرتؐ نے بھی اس پر ضرب لگائی اور محض ضرب ہی نہیں لگائی بلکہ ہمیشہ کے لیے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پھر جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے تمام باطل عقیدوں اور جھوٹے خدائوں کی خدائی مٹانے کے لیے جدوجہد کی تھی اور ایک خدا کی بندگی پھیلانے کی کوشش کی تھی، بالکل وہی کام آنحضرتؐ نے بھی کیا اور پھر اُسی اصلی اور بے لوث دین کو تازہ کر دیاجسے حضرت ابراہیم ؑلے کر آئے تھے۔ ۲۱ سال کی مدت میں جب یہ سارا کام آپؐ مکمل کر چکے تو اللہ کے حکم سے آپؐ نے پھر اُسی طرح کعبے کو تمام دنیا کے خداپرستوں کا مرکز بنانے کا اعلان کیا اور پھر وہی منادی کی کہ سب طرف سے حج کے لیے اس مرکز کی طرف آئو:
وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَo (اٰل عمرٰن ۳:۹۷) اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو کوئی اس گھر تک آنے کی قدرت رکھتا ہو، وہ حج کے لیے آئے، پھر جو کوئی کفر کرے (یعنی قدرت کے باوجود نہ آئے) تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔
اس طرح حج کا ازسرِ نو آغاز کرنے کے ساتھ ہی جاہلیت کی وہ ساری رسمیں بھی یک قلم مٹادی گئیں جو پچھلے دو ہزار برس میں رواج پا گئی تھیں:
کعبے کے سارے بت توڑے گئے، خدا کے سوا دوسروں کی جو پرستش وہاں ہو رہی تھی وہ قطعاً روک دی گئی، سب رسمیں مٹا دی گئیں، میلے ٹھیلے اور تماشے بند کر دیے گئے اور حکم دیا گیا کہ اب جو طریقہ عبادت کا بتایا جا رہا ہے اسی طریقے سے یہاں اللہ کی عبادت کرو:
وَاذْكُرُوْہُ كَـمَا ھَدٰىكُمْ۰ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَo(البقرہ ۲:۱۹۸) اللہ کو یاد کرو اس طرح جیسی تمھیں اللہ نے ہدایت کی ہے ورنہ اس سے پہلے تو تم گمراہ لوگ تھے۔
تمام بے ہودہ افعال کی سخت ممانعت کر دی گئی:
فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ۰ۙ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ۰ۭ ( البقرہ۲:۱۹۷ )حج میں نہ شہوانی افعال کیے جائیں، نہ فسق وفجور ہو، نہ لڑائی جھگڑے ہوں۔
شاعری کے دنگل، باپ دادا کے کارناموں پر فخر، بھٹئی(تعریف کرنا) اور ہجو گوئی کے مقابلے سب بند کر دیے گئے:
فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللہَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا۰ۭ (البقرہ۲:۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجدادکا ذکر کرتے تھے، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔
فیاضی کے مقابلے، جو محض دکھاوے اور نام وَری کے لیے ہوتے تھے ان سب کا خاتمہ کردیا گیا اور اس کی جگہ وہی حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے کا طریقہ پھرزندہ کیا گیا کہ محض اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں تاکہ خوش حال لوگوں کی قربانی سے غریب حاجیوں کو بھی کھانے کا موقع مل جائے:
وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ o(الاعراف ۷:۳۱) اور کھائو پیو مگر اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
فَاذْكُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَيْہَا صَوَاۗفَّ۰ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُہَا فَكُلُوْا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ۰ۭ(الحج۲۲:۳۶)ان جانوروں کو خالص اللہ کے لیے اسی کے نام پر قربان کرو، پھر جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹھہر جائیں (یعنی جب جان پوری طرح نکل چکے اور حرکت باقی نہ رہے) تو خود بھی ان میں سے کھائو اوران کو بھی کھلائو جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں۔
قربانی کا خون کعبہ کی دیواروں سے لتھیڑنا اور گوشت لا کر ڈالنا موقوف کیا گیا اور ارشاد ہوا:
لَنْ يَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَاۗؤُہَا وَلٰكِنْ يَّنَالُہُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ۰(الحج ۲۲: ۳۷) اللہ کو ان جانوروں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ تمھاری پرہیز گاری وخدا ترسی پہنچتی ہے۔
برہنہ ہو کر طواف کرنے کی قطعی ممانعت کر دی گئی اور فرمایا گیا:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ (الاعراف۷:۳۲ )اے نبی! ان سے کہو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی تھی (یعنی لباس)۔
قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ (الاعراف۷:۲۸) اے نبیؐ! کہو کہ اللہ تو ہرگز بے حیائی کا حکم نہیں دیتا۔
یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف۷:۳۱)اے آدم زادو! ہرعبادت کے وقت اپنی زینت (یعنی لباس) پہنے رہا کرو۔
حج کے مہینوں کا الٹ پھیر کرنے اور حرام مہینوں کو لڑائی کے لیے حلال کر لینے سے سختی کے ساتھ روک دیا گیا:
اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّیُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ط (التوبہ۹:۳۷)نسی تو کفر میں اور زیادتی ہے (یعنی کفر کے ساتھ ڈھٹائی کا اضافہ ہے)۔ کافر لوگ اس طریقے سے اور زیادہ گمراہی میں پڑتے ہیں۔ کسی ایک سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال اس کے بدلے میں کوئی دوسرا مہینہ حرام کر دیتے ہیں تاکہ جتنے مہینے اللہ نے حرام ٹھیرائے ہیں ان کی تعداد پوری کر دیں، مگر اس بہانے سے دراصل اس چیز کو حلال کر لیا جائے جسے اللہ نے حرام کیا تھا۔
زادِ راہ لیے بغیر حج کے لیے نکلنے کو ممنوع ٹھیرایا گیا اور ارشاد ہوا:
وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى۰ۡ (البقرہ۲:۱۹۷ )زادِ راہ ضرور لے لو، (دنیا میں زادِ راہ نہ لینا زادِ آخرت نہیں ہے)بہترین زادِ راہ تو تقویٰ ہے۔
سفر حج میں کمائی نہ کرنے کو جو نیکی کا کام سمجھا جاتا تھا، اور روزی کمانے کو ناجائز خیال کیا جاتا تھا، اس کی تردید کی گئی:
لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ط (البقرہ ۲:۱۹۸) کوئی مضائقہ نہیں اگر تم کاروبار کے ذریعے سے اپنے رب کا فضل تلاش کرتے جائو۔
’گونگے حج‘ اور بھوکے پیاسے حج سے بھی روکا گیا، اور اس طرح جاہلیت کی دوسری تمام رسموں کو مٹا کر حج کو تقویٰ، خدا ترسی، پاکیزگی اور سادگی ودرویشی کا مکمل نمونہ بنا دیا گیا۔حاجیوں کو حکم دیا گیا کہ جب اپنے گھروں سے چلو تو اپنے آپ کو تمام دنیوی آلائشوں سے پاک کر لو، شہوات کو چھوڑ دو، بیویوں کے ساتھ بھی اس زمانے میں تعلق زن وشو نہ رکھو۔ گالی گلوچ اور تمام بیہودہ اعمال سے پرہیز کرو۔
کعبہ کی طرف آنے والے جتنے راستے ہیں، ان سب پر بیسیوں میل دور سے ایک ایک حد مقرر کر دی گئی کہ اس حد سے آگے بڑھنے سے پہلے سب لوگ اپنے اپنے لباس بدل کر احرام کا فقیرانہ لباس پہن لیں، تاکہ سب امیر وغریب یکساں ہوجائیں، الگ الگ قوموں کے امتیازات مٹ جائیں، اور سب کے سب اللہ کے دربار میں ایک ہو کر، فقیر بن کر عاجزانہ شان کے ساتھ حاضر ہوں۔
احرام باندھنے کے بعد انسان کا خون بہانا تو درکنار، جانور تک کا شکار کرنا حرام کر دیا گیا، تاکہ امن پسندی پیدا ہو، بہیمیت دور ہو جائے اور طبیعتوں پرروحانیت کا غلبہ ہو۔ حج کے چار مہینے اس لیے حرام کیے گئے کہ اس مدت میں کوئی لڑائی نہ ہو، کعبہ کو جانے والے تمام راستوں میں امن رہے اور زائرینِ حرم کو کوئی نہ چھیڑے۔ اس شان کے ساتھ جب حاجی حرم میں پہنچیں تو ان کے لیے کوئی میلہ ٹھیلہ، کھیل تماشا، ناچ رنگ وغیرہ نہیں ہے۔ قدم قدم پر خدا کا ذکر ہے، نمازیں ہیں، عبادتیں ہیں، قربانیاں ہیں، کعبہ کا طواف ہے، اور کوئی پکار ہے تو بس یہ ہے کہ:
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَاشَرِیْکَ لَکَ، حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیر ا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، یقیناً تعریف سب تیرے ہی لیے ہے، نعمت سب تیری ہے۔ ساری بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔
ایسے ہی پاک صاف، بے لوث اور مخلصانہ حج کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمٍ وَّلَدَتْہُ اُمُّہٗ (متفق علیہ)جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں شہوات اور فسق وفجور سے پرہیز کیا وہ اس طرح پلٹا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔
اب قبل اس کے کہ آپ کے سامنے حج کے فائدے بیان کیے جائیں، یہ بھی بتا دینا ضروری ہے کہ یہ فرض کیسا ہے؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَo (اٰل عمرٰن۳:۹۷)اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہو، وہ اس کا حج کرے اور جس نے کفر کیا تو اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔
اس آیت میں قدرت رکھنے کے باوجود قصدًاحج نہ کرنے کو ’’کفر‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے،اور اس کی شرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو حدیثوں سے ہوتی ہے:
مَنْ مَّلَکَ زَادًا وَّرَاحِلَۃً تُبَلِّغُہٗ اِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ وَلَمْ یَحُجَّ فَلاَ عَلَیْہِ اَنْ یَّمُوْتَ یَھُوْدِیًّا اَوْنَصْرَانِیًّا (مشکوٰۃ حدیث : ۲۴۰۷) جو شخص زادِ راہ اور سواری رکھتا ہو جس سے بیت اللہ تک پہنچ سکتا ہو، اور پھر حج نہ کرے تو اس کا اس حالت پر مرنا اور یہودی یا نصرانی ہو کر مرنا یکساں ہے۔
مَنْ لَّمْ یَمْنَعْہُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَۃٌ ظَاھِرَۃٌ اَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ اَوْمَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ اِنْ شَآءَ یَھُوْدِیًّا وَّاِنْ شَآئَ نَصْرَانِیًّا (دارمی) جس کو نہ کسی صریح حاجت نے حج سے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے، نہ کسی روکنے والے مرض نے، اور پھر اس نے حج نہ کیا ہو، اور اسی حالت میں اسے موت آ جائے تو اسے اختیار ہے خواہ یہودی بن کر مرے یا نصرانی بن کر۔
اسی کی تفسیر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی جب کہا:جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتے، میرا جی چاہتا ہے کہ ان پر جزیہ لگا دوں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں، وہ مسلمان نہیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم وخلیفۂ رسولؐ کی اس تشریح سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ فرض ایسا فرض نہیں ہے کہ جی چاہے تو ادا کیجیے اور نہ چاہے تو ٹال دیجیے، بلکہ یہ ایسا فرض ہے کہ ہر اس مسلمان کو جو کعبے تک جانے آنے کا خرچ رکھتا ہو، اور ہاتھ پائوں سے معذور نہ ہو، عمر میں ایک مرتبہ اسے لازماً ادا کرنا چاہیے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، اور خواہ اس کے اوپر بال بچوں کی اور اپنے کاروبار یا ملازمت وغیرہ کی کیسی ہی ذمہ داریاں ہوں۔ جو لوگ قدرت رکھنے کے باوجود حج کو ٹالتے رہتے ہیں اور ہزاروں مصروفیتوں کے بہانے کرکرکے سال پر سال یونہی گزارتے چلے جاتے ہیں ان کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ رہے وہ لوگ جن کو عمر بھر کبھی یہ خیال ہی نہیں آتا کہ حج بھی کوئی فرض ان کے ذمے ہے۔ دنیا بھر کے سفر کرتے پھرتے ہیں، کعبۂ یورپ کو آتے جاتے حجاز کے ساحل سے بھی گزر جاتے ہیں جہاں سے مکہ صرف چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، اور پھر بھی حج کا ارادہ تک ان کے دلوں میں نہیں گزرتا، وہ قطعاً مسلمان نہیں ہیں۔ جھوٹ کہتے ہیں اگر اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اور قرآن سے جاہل ہے جو انھیں مسلمان سمجھتا ہے۔ ان کے دل میں اگر مسلمانوں کا درد اٹھتا ہے تو اٹھا کرے۔ اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم پر ایمان کا جذبہ تو بہرحال ان کے دل میں نہیں ہے۔