بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم، شیخ حسینہ واجد، کے پندرہ سالہ دَورِ حکومت میںبنگلہ دیشی عوام اور بنگلہ دیشی معاشرے کی جو درگت بنی، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کسی نے اُس دَور کی حکومتی سرگرمی ملاحظہ کرنی ہو تو آج کی بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے معروف رکن، بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، کی شائع ہونے والی تازہ کتاب اندھیری جیل کا قیدی کا مطالعہ کرلے، سب چانن ہو جائے گا۔
حسینہ واجد کے متنوع مظالم، استحصالی قوانین اور انڈیا کی جانب بے تحاشہ جھکاؤ سے بغاوت کرتے ہُوئے بنگلہ دیشی طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے نے ’عوامی لیگ‘ اور حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ یہ غیر معمولی واقعہ ۵؍اگست۲۰۲۴ء کو وقوع پذیر ہُوا۔ تختہ اُلٹنے کی تحریک میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ۱۴۰۰ سے زیادہ بنگلہ دیشی نوجوان قتل کر دیے گئے۔ اِن سانحات کی تمام ذمہ داری شیخ حسینہ واجد اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کی گئی۔
حکومت کے خاتمے پر حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر اپنے محسن ملک، انڈیا، میں پناہ گزیں ہو گئیں اور اب تک وہیں ہیں۔ متنوع اور سنگین الزامات کے تحت بنگلہ دیشی عدالت حسینہ واجد کو سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔بنگلہ دیش میں پروفیسر محمد یونس کی سابقہ عبوری حکومت نے متعدد بار انڈیا سے مطالبہ کیا تھا کہ حسینہ واجد کو ہمارے حوالے کیا جائے، مگر مودی حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد نوبیل انعام یافتہ معروف بنگلہ دیشی راہ نما پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت قائم کی گئی۔ اُن کی۱۸ماہ پر پھیلی حکومت کے دوران میں انڈیا و بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات انتہائی نچلے درجے پر دیکھے گئے۔ دوسری طرف اِسی عرصے میں پاکستان و بنگلہ دیش کے تعلقات نئی بلندیوں پر پائے گئے۔ اِسی دوران کئی بنگلہ دیشی عسکری شخصیات نے بھی پاکستان کے دَورے کیے۔ پاک، بنگلہ دیش سفارتی، تجارتی، تعلیمی، صحافتی اور ثقافتی تعلقات میں خاصا اضافہ ہُوا۔ انڈین اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ مناظر خاصے تکلیف دِہ تھے، مگر اُس نے خاموش رہ کر بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات کو بالکل ہی منقطع نہ ہونے دیا۔
کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے انڈین وزیر خارجہ، جے شنکر، ڈھاکہ میں اُس وقت پُر جوش انداز میں دیکھے گئے، جب سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیاء کا ۳۱دسمبر ۲۰۲۵ء کو جنازہ اُٹھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ جے شنکر کی مذکورہ شرکت اِس امر کا اظہار تھا کہ انڈیا کسی بھی طور بنگلہ دیش کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیںدینا چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہے کہ وہ پکے ہُوئے پھل کی طرح پاکستان کی جھولی میں جا گرے، جب کہ پاکستان کے عوامی حلقوں کا خیال تھا کہ پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران پاک، بنگلہ دیش تعلقات میں جو شان دار اُبھار آیا ہے، یہ برقرار رہے گا۔ ایسا مگر ہو نہیں سکا ہے۔
فروری۲۰۲۶ء کو بنگلہ دیش میں منعقد عام انتخابات کے بعد جیسے ہی ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ (BNP) کی حکومت برسرِاقتدار آئی اور جناب طارق رحمٰن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم منتخب ہُوئے، تو انڈیا اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں پہلے کی طرح، بلکہ تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔
یاد رہے یہ انڈین وزیر اعظم، نریندر مودی، ہی تھے جنھوں نے طارق رحمٰن کی پارٹی کی کامیابی پر پاکستان سے پہلے انھیں فتح کی مبارکباد دی تھی، اور طارق رحمٰن نے فوری طور پر شکریے کا خط لکھا تھا۔ طارق رحمٰن کی حکومت بنتے ہی بنگلہ دیش کے نئے وزیر خارجہ، خلیل الرحمٰن نے سب سے پہلے انڈیا کادو روزہ دَورہ کیا ہے۔ یہ دَورہ ۸؍اپریل ۲۰۲۶ء کو عمل میں آیا۔ انھوں نے اِس دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور مودی کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر، اُجیت ڈووَل (جو پاکستان دشمنی میں خاصا معروف و مشہور نام ہے)، سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
انڈین میڈیا بڑی خوشی اور مسرت سے اعتراف کررہا ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران بنگلہ دیشی و انڈین حکومت میں عدم اعتماد کے جو بحران دَر آئے تھے، اب طارق حکومت کے آتے ہی اِن بحرانوں کا خاتمہ ہورہا ہے اور تعلقات میں مضبوطی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیشی وزیر خارجہ، خلیل الرحمٰن، نے اسی دورے میں انڈین وزیر پٹرولیم سے جو تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں، اُن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مارچ میں انڈیا نے طارق حکومت کو، دو اقساط میں، ۱۵ہزار ٹن پٹرول و ڈیزل فراہم کیا، اور اپریل۲۰۲۶ء میں انڈیا نے مزید ۴۰ہزار ٹن ڈیزل بنگلہ دیش کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران، امریکا و اسرائیل جنگ کے دوران پیدا ہونے والے شدید توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیش نے انڈین اعانت کا سہارا لیا۔
ڈھاکہ سے شائع ہونے والے معروف انگریزی اخبار دی ڈیلی اسٹار نے (۹؍اپریل ۲۰۲۶ء) خبر دی ہے کہ ’’بنگلہ دیش ریلویز ۲۰۰ کی تعداد میں انڈیا سے بنے بنائے ریل ڈبے خرید رہی ہے‘‘۔ بنگلہ دیش کے وزیر ریلوے، شیخ ربیع العالم نے بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میںاِس کا باقاعدہ اعلان کیا۔ انڈیا یہ آرڈر دسمبر۲۰۲۷ء تک مکمل کرے گا۔اِس بھاری سودے کے اخراجات ’یورپین انویسٹمنٹ بینک‘ برداشت کرے گا، اور مذکورہ بینک نے یہ رقم بنگلہ دیش کو قرض میں دی ہے۔
یوں بھاری مالی فائدہ انڈیا کو پہنچے گا۔ اِسی طرح کرکٹ کے میدان میں انڈیا و بنگلہ دیش سے تعلقات میں جو دراڑ پڑ گئی تھی، اُسے بھی درست کیا جارہا ہے۔ اِس کے لیے بھی طارق حکومت نے ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ تعلقات کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے انڈین کرکٹ بورڈ کو خط لکھ دیا ہے۔ اِس خط میںبی سی بی کے ڈائریکٹر آپریشنز، نظم العابدین فہیم، نے اِس خواہش کا اظہار کیا ہے: ’’ستمبر۲۰۲۶ء میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم شیڈول کے مطابق انڈیا میں کھیلنے کے لیے آنا چاہتی ہے‘‘۔ یوں قربتوں کا ایک اور موقع پیدا ہوا ہے۔
مراد یہ کہ بنگلہ دیش چاہتے ہُوئے بھی انڈیا سے کامل نجات حاصل نہیں کر سکتا کہ متعدد شعبوں میں بنگلہ دیش ہر پہلو سے انڈیا پر انحصار کرتا ہے۔ دریائے ’ٹیسٹا‘ کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر بنگلہ دیش کی انڈیا سے ناراضی نمایاں ہے۔ اسی طرح انڈیا میں بنگلہ دیشی شہریوں اور بنگالی زبان بولنے والوں سے جو غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے، اِس نسبت سے بھی بنگلہ دیشی عوام نئی دہلی سے خاصے ناخوش ہیں۔
انڈین ’بارڈر سکیورٹی فورسز ‘(BSF)کے مسلح اہل کار آئے روز بنگلہ دیش اورانڈیا کی مشترکہ سرحد پر بنگلہ دیشی شہریوں کو بے جا طور پر قتل کر ڈالتے ہیں اور بنگلہ دیش محض احتجاج ہی کرتا رہ جاتا ہے۔
۱۱؍اپریل۲۰۲۶ء کو تقریباً تمام انڈین اخبارات نے یہ خوفناک خبر شائع کی: ’’انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل نے انڈیا، بنگلہ دیش سرحد پر تعینات اپنے جملہ ماتحتوں کو حکم دیا ہے کہ اِس امر کا جائزہ لیں کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی مشترکہ سرحد کے درمیان بہنے والے دریاؤں اور ندی نالوں میں اگر زہریلے سانپ اور خونخوار مگر مچھ چھوڑ دیے جائیں، تو کیا اِس اقدام سے بنگلہ دیشیوں کو انڈیا میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے؟‘‘اِس پر ایک انڈین صحافی سنجیو کرشن سُوڈ نے لکھا کہ ’’سوال یہ ہے کہ اِس مہلک زہریلی مخلوق کو انڈین شہریوں کو کاٹنے سے کیسے منع کیا جائے گا؟‘‘