جب اقوام متحدہ کی ’کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں‘ (CED) نے ۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جنیوا میں اپنا تیسواں اجلاس شروع کیا تو اس نے ایک طاقتور اور فوری نعرے کا جائزہ لینے کے لیے کارروائی شروع کی: ’پہلے متاثرین، فوری کارروائی‘۔ یہ موضوع بہت سا وقت گزرنے کے بعد زیربحث لایا جارہا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں، جبری گمشدگیاں اب بھی خاندانوں کو تباہ اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کر رہی ہیں۔ تاہم، کشمیر کے ہزاروں خاندانوں کے لیے، یہ الفاظ خاص طور پر گہرا مفہوم رکھتے ہیں — کیونکہ ان کے لیے سچائی کی تلاش برسوں نہیں بلکہ عشروں سے جاری ہے۔
’کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں‘ آزاد ماہرین کا وہ ادارہ ہے، جو تمام افراد کو جبری گمشدگی سے تحفظ فراہم کرنے کے بین الاقوامی کنونشن کے نفاذ کی نگرانی کا ذمہ دار ہے، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بیس سال قبل منظور کیا تھا۔ دس آزاد ماہرین پر مشتمل یہ کمیٹی، جو اپنی ذاتی حیثیت میں خدمات انجام دیتی ہے، بین الاقوامی برادری کے اس اعتراف کی نمائندگی کرتی ہے کہ جبری گمشدگی، انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک گھناؤنا جرم ہے۔
موجودہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے، کمیٹی کے چیئرپرسن پروفیسر جوآن پابلو البان الینکاسٹرو اور ایکواڈور کے ماہر قانون نے دنیا کو یاد دلایا کہ کنونشن پہلے کیوں اور کن حالات میں منظور کیا گیا تھا۔ بیس سال قبل، بین الاقوامی برادری نے غیر مبہم طور پر اس بات کی توثیق کی تھی کہ کسی بھی شخص کو قانون کے تحفظ سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ جبری گمشدگی انسانی حقوق کی سب سے سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کنونشن، متاثرین کے وقار کے انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ و احترام کے لیے اور ایسے جرائم کے دوبارہ وقوع کو روکنے کے لیے ایک ضمانت کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
تاہم، چیئرپرسن نے یہ بھی خبردار کیا کہ عالمی منظرنامہ جس میں کنونشن اب کام کر رہا ہے، تیزی سے پریشان کن صورتِ حال پیش کر رہا ہے۔ تنازعات میں اضافہ ہوا ہے، دنیا کے کئی حصوں میں آمرانہ رجحانات مضبوط ہوئے ہیں، اور انسانی حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے حکومتی جابرانہ اقدامات اور موقف زور پکڑ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں، کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں جیسے بین الاقوامی میکانزم ان چند آلات میں سے ہیں جو متاثرین کے لیے انصاف اور احتساب کے حصول کے لیے دستیاب ہیں۔
ہیومن رائٹس ٹریٹیز برانچ، آفس آف دی ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس کے سربراہ پروفیسر اینٹی کورکیاکیوی نے اپنے افتتاحی کلمات میں بتایا کہ کنونشن واحد عالمگیر معاہدہ ہے جو خاص طور پر جبری گمشدگیوں کو روکنے اور اس ظالمانہ عمل کوختم کرنے کے لیے وقف ہے۔ انھوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ انسانی حقوق کا نظام خود بہت سی ادارہ جاتی اور مالی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے، جب کہ خلاف ورزیاں دنیا بھر میں جاری ہیں۔
کمیٹی کا فوری کارروائی کا طریقۂ کار متاثرین کے لیے دستیاب ہے۔ اس ’نظامِ کار‘ (Mechanism)کے ذریعے، خاندان اس وقت براہ راست اقوام متحدہ میں مقدمات لا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص لاپتہ ہو جائے، جس سے کمیٹی حکومتوں سے فوری وضاحت کی درخواست کرتی ہے اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیتی ہے۔ ایسے ’نظامِ کار‘ کا وجود یہ ظاہر کرتا ہے کہ جبری گمشدگیاں ماضی کی باقیات نہیں ہیں —، بلکہ وہ دنیا کے کئی خطوں میں روزمرہ کی حقیقت بنی ہوئی ہیں۔
بدقسمتی سے، کشمیر ان خطوں میں شامل ہے جہاں گمشدگی کا درد ہزاروں خاندانوں کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق،۱۹۸۹ء اور ۲۰۱۲ء کے درمیان کشمیر میں کم از کم۸ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ ریاستہائے متحدہ کے محکمہ خارجہ کی’کنٹری رپورٹس آن ہیومن رائٹس پریکٹسز‘ نے بھی اسے نوٹ کیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ۱۹۸۹ء اور ۲۰۰۶ء کے درمیان جموں و کشمیر میں۸ ہزار سے ۱۰ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ پیچھے رہ جانے والے خاندانوں، — ماؤں، باپوں، شریکِ حیات اور بچوں — کے لیے غیر یقینی صورتِ حال زندگی بھر کا عذاب بن گئی ہے۔
جبری گمشدگی کے سب سے تکلیف دہ پہلوؤں میں سے ایک یہی غیر یقینی صورتِ حال ہے۔ اقوام متحدہ کے ’ورکنگ گروپ آن انفورسڈ یا انوولنٹری ڈس اپیئرنسز‘ نے بارہا زور دیا ہے کہ گمشدگی اس وقت تک انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہے جب تک کہ لاپتہ شخص کی قسمت یا ٹھکانہ نامعلوم رہے۔ دوسرے لفظوں میں، مصیبت خود گمشدگی کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، یہ روز بروز اور سال بہ سال جاری رہتی ہے۔
کشمیر میں، لاپتہ افراد کے خاندانوں کو اکثر جوابات کی تلاش میں زبردست قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ’ (AFSPA) جیسے قوانین سکیورٹی فورسز کو وسیع استثنیٰ فراہم کرتے ہیں، جس سے نئی دہلی حکومت کی پیشگی اجازت کے بغیر سویلین عدالتوں میں مقدمہ چلانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے طویل عرصے سے دلیل دی ہے کہ ایسی دفعات استثنیٰ کی فضا پیدا کرتی ہیں جو بامعنی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔
سول سوسائٹی گروپس اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹوں نے بارہا خطے میں من مانی حراست، تشدد، اور گمشدگیوں کے بارے میں خدشات اٹھائے ہیں۔ ’جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی‘ (JKCCS) اور ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (APDP) کی ایک مشترکہ رپورٹ نے کئی عشروں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد اور بدسلوکی کو بیان کرنے والی سیکڑوں شہادتوں کو دستاویزی شکل دی۔ دیگر تحقیقات نے غیر نشان زدہ اور اجتماعی قبروں کا انکشاف کیا ہے، جن میں سے کچھ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں لاپتہ ہونے والوں کی باقیات موجود ہیں۔
’آفس آف دی یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس‘ (او ایچ سی ایچ آر) نے بھی جبری گمشدگیوں کے حوالے سے قابل اعتماد معلومات اور کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کی فوری ضرورت کو نوٹ کیا ہے اور بتایا ہے کہ احتساب کا فقدان انصاف کی راہ میں سب سے سنگین رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔
کشمیر میں مقامی انسانی حقوق کے محافظوں کا کام ان زیادتیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مرکزی رہا ہے۔ سب سے نمایاں شخصیات میں خرّم پرویز شامل ہیں، جو کشمیری انسانی حقوق کے ایک کارکن، جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر اور فلپائن میں قائم ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوولنٹری ڈس اپیئرنسز‘ کے چیئرمین ہیں۔ پرویز اور ان کے ساتھیوں نے The Structure of Voilence کے عنوان سے ۷۹۹صفحات کی ایک تاریخی رپورٹ تیار کرنے میں مدد کی، جس میں خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوتوں کو دستاویزی شکل دی گئی۔ رپورٹ کی ہارڈ کاپیاں متعدد بین الاقوامی اداروں کو فراہم کیں، بشمول آفس آف دی یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس اور آفس آف دی یو این سیکرٹری جنرل۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ خرم پرویز خود بعد میں بین الاقوامی تشویش کا موضوع بن گئے۔ نومبر ۲۰۲۱ء میں، انھیں انڈیا کے غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جو افراد کو بغیر رسمی الزامات کے طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان کی گرفتاری کو انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی قانون سازی کے غلط استعمال کی ایک اور مثال قرار دیا۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کے محافظین، پروفیسر میری لولر نے کہا، خرم پرویز کسی بھی حوالے سے دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے رضاکار اور محافظ ہیں۔ خرم کو ۲۰۲۲ء میں امریکا میں قائم ٹائم میگزین کی جانب سے دنیا کے۱۰۰ بااثر ترین افراد میں سے ایک قرار دیا گیا۔
پروینہ آہنگر، کشمیر میں قائم ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز‘ (اے پی ڈی پی) کی بانی، جنھیں کشمیر میں ’آئرن لیڈی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو کشمیر میں لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کے کام، بشمول ان کے بیٹے کو بین الاقوامی شناخت کے لیے ناروے کا رافٹو پرائز دیا گیا۔
جیسا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے، ضرورت سے زیادہ حفاظتی اقدامات جو انسانی وقار کی خلاف ورزی کرتے ہیں، بالآخر نفرت اور تقسیم کو گہرا کرتے ہیں بجائے اس کے کہ انھیں حل کریں۔
یہی وجہ ہے کہ اس سال کمیٹی برائے جبری گمشدگیاں کی طرف سے اختیار کردہ موضوع — ’پہلے متاثرین ،فوری کارروائی‘ — بہت اہم ہے۔
کشمیر میں لاپتہ افراد کی ماؤں کے لیے جو عشروں سے اپنے لاپتہ بیٹوں کی تصاویر تھامے خاموشی سے مارچ کر رہی ہیں، ان کا مطالبہ دردناک حد تک سادہ ہے: ’سچائی‘۔ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ کیا ہوا؟ وہ مستقل شک کے ساتھ جینے کے بجائے یقین کے ساتھ سوگ منانے کا حق چاہتی ہیں۔
بین الاقوامی برادری جبری گمشدگی کے خلاف کنونشن کا احترام کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتی،جب کہ ان حل طلب مقدمات کو نظر انداز کر رہی ہے جو کشمیر کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ آزادانہ تحقیقات، شفافیت، اور احتساب کسی بھی ریاست کے خلاف دشمنی کے اقدامات نہیں ہیں، وہ انصاف اور مفاہمت کی طرف ضروری اقدامات ہیں۔
کشمیر میں اب بھی انتظار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے، پیغام واضح ہونا چاہیے: ان کی آوازیں اہمیت رکھتی ہیں، ان کے دُکھ کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے، اور سچائی کی تلاش کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ (ترجمہ: س م خ)
_______________