مئی 2026

فہرست مضامین

راشد الغنوشی کو ۲۰ سال قید کی نئی سزا

ڈاکٹر ارشاد الرحمان | مئی 2026 | تحریک اسلامی

Responsive image Responsive image

تیونس کی ایک عدالت نے ۱۴؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو النہضہ تحریک تیونس کے سربراہ ۸۴سالہ راشد الغنوشی کو ’رمضان سازش‘ کے نام سے مشہور مقدمہ میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ نجی ریڈیو اسٹیشن ’موزائیک‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے کرمنل چیمبر نے نہضہ کے رہنماؤں یوسف النوری اور احمد المشرقی، جو تمام زیرحراست ہیں، کو بھی ۲۰، ۲۰سال قید کی سزا کا فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے اسی مقدمے میں آزادانہ حیثیت سے مقدمہ لڑنے والے ملزمان کو تین سال قید کی سزا بھی سنائی ہے، جن میں تحریک کے رہنما محمد القومانی، بلقاسم حسن اور دیگر ملزمان شامل ہیں۔

راشد غنوشی سمیت درجنوں افراد کو ’سازش ۲‘ مقدمے میں بھی سخت سزائیں دی گئی ہیں۔ جہاں تک ملک سے باہر موجود ملزمان کا تعلق ہے، ان میں سابق وزیر خارجہ رفیق بوشلاکہ اور اپوزیشن رکن پارلیمنٹ ماہر زید شامل ہیں۔۱۲ ملزمان پر ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور ریاست کی ہیئت کو بدلنے کی غرض سے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

’رمضان سازش کیس‘ کی کہانی فروری ۲۰۲۳ء سے جوڑی جاتی ہے، جب کئی سیاسی مخالفین، وکلا، سول سوسائٹی کے کارکنوں اور کاروباری شخصیات کو ’امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے اور ریاست کی سلامتی کو کمزور کرنے‘ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔۱۷؍اپریل ۲۰۲۳ء کو سکیورٹی فورسز نے سابق اسپیکر راشد الغنوشی کے گھر پر چھاپہ مارا اور انھیں گرفتار کر لیا اور ابتدائی عدالت نے ’افراتفری پھیلانے‘کے الزام میں انھیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ میڈیا میں اس مقدمے کو ’رمضان سازش‘ کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ راشد الغنوشی نے ۲۰۲۳ء میں رمضان کے دوران ’نیشنل سالویشن فرنٹ‘ کی جانب سے سیاسی قیدیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ ایک تقریب میں بیان دیا تھا۔

راشد الغنوشی کی دفاعی ٹیم نے واضح کیا کہ تحریکِ نہضۃ کے سربراہ نے اپنی گرفتاری کے بعد سے عدالت کی تمام کارروائیوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ انھوں نے عدالتی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ’سیاسی انتقام‘ قرار دیا، جس کا مقصد اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کے حق کو نشانہ بنانا ہے۔ دفاعی ٹیم نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان کے اس احتجاج میں جو کچھ کہا گیا وہ ’مشترکہ بقائے باہمی اور تفرقہ بازی کے خاتمے کی دعوت‘ تھی، جس میں  راشد الغنوشی نے مطالبہ کیا تھا کہ ’’تیونس تمام تیونسیوں کے لیے ہونا چاہیے‘‘۔

اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سرتاپا ’سیاسی نوعیت‘ کے ہیں اور سیاسی مخالفین کو ختم کرنے اور صدر قیس سعید کے ناقدین کی آواز دبانے کے لیے ٹھونسے گئے ہیں۔

سابقہ فیصلے اور سزائیں

راشد الغنوشی کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی کئی فیصلے سنائے جا چکے ہیں، جن میں ’جاسوسی‘ کے مقدمے میں ۲۲ سال قید، ’غیر ملکی فنڈنگ‘ کے مقدمے میں تین سال، اور ’ریاستی سلامتی کے خلاف سازش‘ (کیس ۲) میں ۱۴ سال قید شامل ہے۔ اس طرح ان کے خلاف اب تک سنائی گئی کُل سزائوں کی مدت ۷۰ سال سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس سے قبل تحریکِ نہضہ کے سربراہ راشد غنوشی کو ۱۴ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مگر تیونس کی اپیل کورٹ نے حکومت کی اپیل پر سزا ۱۴ سال سے بڑھا کر ۲۰ سال کر دی ہے۔

صدر قیس سعید کے دفتر کی سابق ڈائریکٹر نادیہ عکاشہ، راشد غنوشی کے داماد اور سابق وزیرخارجہ رفیق عبدالسلام کو غیر حاضری میں ۳۵ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر ’ریاست کی اندرونی سلامتی پر حملہ کرنے کی سازش‘ اور ’ایک تنظیم اور اتحاد بنانے‘ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یاد رہے ۲۷فروری ۲۰۲۶ء کو راشد غنوشی کو ایک اور مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح مالی بدعنوانی کی ایک خصوصی عدالت نے تین سال قید اور تحریک پر ۱۵ ہزار ڈالر جرمانے کا فیصلہ بھی سنا رکھا ہے۔

تحریکِ نہضت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خانہ زاد مقدمات منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور عدلیہ کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انھیں روکا جائے جو عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو مجروح کرتے ہیں۔

اس سے قبل، ابتدائی عدالت نے ۵فروری کو اس مقدمے میں ملوث ۴۱ سیاست دانوں، صحافیوں، بلاگرز اور کاروباری شخصیات کو ۵ سے ۵۴ سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان میں بھی راشد الغنوشی شامل ہیں۔ملزمان نے اپنے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔ 

۲۵ جولائی ۲۰۲۱ء کو قیس سعید نے غیر معمولی اقدامات کا آغاز کیا، جس میں پارلیمنٹ کی تحلیل، صدارتی احکامات کے ذریعے قانون سازی، نئے آئین کی منظوری کے لیے ریفرنڈم، اور قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا انعقاد شامل تھا۔

صدرقیس سعید کا کہنا ہے کہ میرے اقدامات ’ریاست کو لاحق خطرے سے بچائو کے لیے ہیں۔ تاہم ۲۰۱۱ء کا انقلاب درست تھا‘‘۔ جس میں صدر زین العابدین بن علی کا تختہ اُلٹا گیا تھا۔

صدر کی جانب سے تیونس میں غیر معمولی اقدامات کو تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود تیونسی حلقوں میں تقسیم برقرار ہے۔ صدر کے مخالفین کا خیال ہے کہ ملک استبداد اور آزادیوں پر پابندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں، شہری آزادیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے، جس میں جیلوں کا تمام سیاسی مکاتب فکر کے سیاسی قیدیوں سے بھر جانا بھی شامل ہے۔ دوسری طرف قیس سعید کے حامی ان کو قومی خودمختاری کی علامت اور قومی فیصلوں کی بحالی کا علَم بردار سمجھتے ہیں۔

عدالتی فیصلوں کے اثرات

راشد الغنوشی کو سنائی جانے والی سزائوں پر مبنی فیصلے ان کی زندگی میں قید و بند اور جلاوطنی کے اس طویل سلسلے کا تسلسل ہیں، جو صدر حبیب بورقیبہ کے دور سے شروع ہوا اور پھر معزول صدر زین العابدین بن علی کے دور میں بھی جاری رہا۔تیونسی عدلیہ کے یہ احکامات اب صرف النہضہ تحریک تک محدود نہیں رہے، بلکہ ۱۴؍ اپریل کو ایک جج نے انسدادِ بدعنوانی اتھارٹی کے سابق سربراہ شوقی طبیب اور وکلا کی یونین کے سابق صدر کو بھی حراستی مرکز بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح’الحوار التونسی‘ چینل کے مالک سامی الفہری کو مالیاتی مقدمات میں پانچ سال قید، اور وکیل و میڈیا پرسن سنیہ الدہمانی کو میڈیا بیانات کی وجہ سے ۱۸ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ 

تیونس کے صحافیوں کی قومی یونین نے کہا: ’’یہ فیصلہ آزادیِ اظہار کے معاملات سے نمٹنے میں ایک خطرناک عدالتی انحراف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قسم کے مقدمات اس حکم نامے کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں جو صدر قیس سعید نے ۲۰۲۲ء میں مواصلاتی نظام اور معلومات سے متعلق جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے جاری کیا تھا، جو کئی صحافیوں، کارکنوں اور وکلا کی گرفتاری کا سبب بنا ہے۔یاد رہے گذشتہ ماہ ایک اور عدالت نے صحافی غسان بن خلیفہ کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی، جو آزادیِ اظہار پر منظم ریاستی حملہ ہے‘‘۔

یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب ۲۰۲۴ء سے زیرِ حراست معروف میڈیا شخصیات مراد الزغیدی اوربرہان بسیس کے وکلا نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ 

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کو نقصان پہنچانے والے فرامین کے ’سیاسی استعمال سے گریز‘ کیا جائے، جن کے تحت سیکڑوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ سے وابستہ ماہرین نے تیونس میں عدالتی عمل کے طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ عدل کے منافی ہے۔اسی طرح ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی عالمی تنظیموں نے بھی آزادیوں میں کمی اور ناقدین کے خلاف عدلیہ کے استعمال پر بات کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک فیصلے نے تیونس کے منظرنامے کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے، جس میں راشد غنوشی کو ایک ’ملزم‘ سے بین الاقوامی سطح پر ’مظلوم‘ قرار دیا گیا ہے۔ آمرمطلق صدر قیس سعید اب سوالات کی زد میں ہیں۔

 _______________