مئی 2026

فہرست مضامین

خواتین کا مسجد سے تعلق

رحمت النساء | مئی 2026 | اسلامی معاشرت

Responsive image Responsive image

مساجد میں خواتین کی آمد کا مسئلہ اسلام کی ان لطیف تعلیمات میں سے ہے جو عورت کو اسلامی معاشرہ میں ایک خاص درجہ عطا کرتی ہیں۔ اسلام میں عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسجد جاکر نماز ادا کرسکتی ہے، خطبۂ جمعہ سن سکتی ہے، اس سے نہ کوئی اُسے روک سکتا ہے، نہ اس پر کوئی اسے مجبور کرسکتا ہے۔ خواتین کے بارے میں رخصت و نرمی یہی وہ وسعت و کشادگی ہے جو اسلام کی روح ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج کل رخصت کو حرمت کا جامہ پہنا دیا گیا ہے اور جو نرمی عطا کی گئی تھی وہ سختی میں بدل دی گئی ہے۔

ایسے دور میں جب خواتین معاشرے میں متحرک کردار ادا کر رہی ہیں، ان کو مسجدوں سے دُور رکھنا نفع سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ جب فقہی رعایت کو پابندی کا جامہ پہنادیا جائے تو راستے بند ہونے لگتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ اس مسئلے کا اسلامی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔

قرآنِ حکیم کی رہنمائی

قرآنِ مجید میں کسی مقام پر بھی عورتوں کو نماز کے لیے مسجد میں آنے سے منع نہیں کیا گیا۔ اقامتِ صلوٰۃ (نماز قائم کرنے) کے فریضہ کی دونوں اصناف یکساں طور پر مکلف ہیں۔ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ (اور تم سب نماز کو قائم کرو) کا قرآنی حکم مرد و زن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا بلکہ دونوں اصناف کو یکساں طور پر مخاطب کرتا ہے۔اذان کے الفاظ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ،حَیَّ عَلَی الفَلَاح، یعنی ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ فلاح کی طرف‘‘ کی صدا بھی ہر مومن، خواہ مرد ہو یا عورت کو مخاطب کرتی ہے کہ وہ اس ندا پر لبیک کہے۔

فقہاء و مفسرین کے مطابق جو چیز واضح طور پر حرام نہ ہو، وہ شرعاً مباح شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ جب قرآن کریم عورتوں کے مسجد جانے کو ممنوع قرار نہیں دیتا تو یہ ایک ’مباح (جائز) امر ہے۔

علاوہ ازیں، قرآنِ کریم مریم علیہا السلام کا ذکر بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ کرتا ہے اور انھیں مومنین کے لیے ایک بہترین نمونہ قرار دیتا ہے (التحریم ۶۶:۱۲)۔ اللہ ربّ العزت نے مریم علیہا السلام کی ولادت سے قبل ان کی والدہ کا اپنے رحم میں موجود بچّے کو اللہ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی منت ماننے اور ولادت پر والدہ کی طرف سے مریم نام رکھنے اور مریم اور اس کی ذُریت کو شیطان رجیم سے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی پناہ میں دینے کا ذکر فرماتے ہوئے  فرمایا: فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَـنًا۝۰ۙ وَّكَفَّلَہَا  زَكَرِيَّا۝۰ۭۚ (اٰلِ عمٰرن ۳:۳۷) ’’پس اس کے رب نے اسے حسنِ قبولیت کے ساتھ قبول فرمایا اور اس کی نشو و نما بھی بڑی خوبی سے کی۔اس کی کفالت (سرپرستی) زکریاؑ کے سپرد ہوئی‘‘۔

مریم علیہا السلام کا زیادہ وقت محراب (مسجد سے ملحق تخلیہ میں اللہ کی یاد کے لیے جگہ) میں گزرتا۔ قرآن کریم اس حقیقت کا بھی ذکر فرماتا ہے کہ مریم علیہا السلام کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے ہدایت دی گئی: يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ۝۴۳ (اٰل عمرٰن ۳:۴۳) ’’اے مریمؑ یکسوئی اور عاجزی سے اپنے ربّ کی اطاعت کرتی رہو، اور سجدہ و رکوع کرنے والوں کے ساتھ سجدہ و رکوع کرتی رہو‘‘ (یعنی باجماعت نماز کا اہتمام رکھو)۔

احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:’’اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو، البتہ ان کے لیے ان کا گھر بہتر ہے‘‘۔ (ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ، حدیث: ۴۸۵)

یہ ایک حکیمانہ ارشاد ہے۔ افسوس کہ آج اس حدیثِ مبارکہ کے صرف آدھے حصے کو بنیاد بنا کر رائے قائم کی جاتی ہے۔ جو حضرات عورتوں کو مسجد جانے کا حق دینا چاہتے ہیں، وہ صرف ’مت روکو‘ کا پہلو اُجاگر کرتے ہیں، اور جو اس کے خلاف ہیں، وہ ’گھر بہتر ہے‘ کو اپنے لیے حجت بناتے ہیں۔حالانکہ ’گھر بہتر ہے‘ کا مطلب یہ نہیں کہ مسجد عورت کے لیے نا موزوں یا مضر جگہ ہے۔ بہت سی عبادات کے بارے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’یہ تمھارے لیے افضل ہے‘ فرمایا، مگر اس سے دوسرے اعمال کی نفی مقصود نہیں تھی۔ 

صحابۂ کرامؓ کا طرزِ عمل

عبداللہ بن عمرؓ کی ایک روایت میں واقعہ آتا ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورتوں کو رات کے وقت مسجد جانے کی اجازت دو‘‘۔ان کے بیٹے (بلال) نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! ہم انھیں اجازت نہیں دیں گے، ورنہ وہ فساد پھیلائیں گی‘‘۔ [بیٹے کے اس جواب پر] ابنِ عمرؓ سخت برہم ہوئے اور فرمایا: ’’میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنا رہا ہوں اور تم اس کے برخلاف فتویٰ دے رہے ہو!‘‘(روایت: صحیح الاسناد، علامہ البانی)

 صحابہ کرامؓ کا طرزِ فکر یہ تھا کہ جب معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے واضح ہو گیا ہو تو کسی رائے یا قیاس کی گنجائش باقی نہ رہی۔

صف بندی اور دیگر آداب و احکام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے صف بندی کے آداب اس انداز میں سکھائے کہ خواتین کے لیے سہولت، احترام اور مساوی مواقع یقینی بن جائیں۔ آپ فرض نماز کے بعد کم از کم اتنی دیر اپنی جگہ پر تشریف فرما رہتے کہ جتنی دیر میں خواتین پہلے مسجد سے نکل جائیں، اور مردوں کے ساتھ اختلاط کا احتمال باقی نہ رہے۔

اُم المومنین اُمِ سلمہؓ فرماتی ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو خواتین فوراً اُٹھ کھڑی ہوتیں، اور آپ کچھ دیر ٹھیرے رہتے تاکہ عورتیں آسانی سے نکل جائیں‘‘۔ (بخاری)

اُم المومنین  عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مسجد میں بنی ٹھنی اِتراتی ہوئی داخل ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’لوگو! اپنی عورتوں سے کہو کہ زینت کے ساتھ اور فخر و غرور کے انداز میں مسجدوں میں نہ آیا کریں، کیونکہ بنی اسرائیل پر لعنت اسی وقت شروع ہوئی جب وہ زینت و آرائش کے ساتھ عبادت گاہوں میں فخر سے چلنے لگے‘‘۔ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، حدیث: ۳۹۹۹)

انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ قرأت طویل کروں، لیکن جب کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بچے کا رونا اس کی ماں کے لیے باعثِ تکلیف ہوگا‘‘۔ (بخاری، کتاب الاذان، حدیث: ۸۴۴)

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو عورتوں کو بچوں سمیت مسجد نہ آنے کا مشورہ دے سکتے تھے تاکہ دیگر نمازیوں کی عبادت میں خلل واقع نہ ہو، لیکن آپؐ نے ایسا نہیں فرمایا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؐ نے مسجد میں عورتوں کی موجودگی کو قبول کیا بلکہ ان کی رعایت فرمائی۔

ایک اور روایت میں انسؓ بیان کرتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے۔ آپ نے پوچھا:’’یہ رسی کیسی ہے؟‘‘عرض کیا گیا: ’’یہ زینب کی رسی ہے، جب وہ تھک جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں‘‘۔

آپؐ نے فرمایا: ’’اسے کھول دو، تم میں سے ہر شخص اپنی تندرستی و چستی کی حالت میں نماز ادا کرے اور جب تھک جائے تو آرام کرے‘‘۔ (مسلم، کتاب صلوٰۃ المسافرین، حدیث: ۱۳۴۶)

امام ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کا مسجد میں نفل نماز ادا کرنا بھی جائز ہے، اور اگر یہ ناجائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی وضاحت فرماتے۔

صحابیات کا مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا

یہ بھی متعدد صحیح روایتوں سے ثابت ہے کہ صحابیات مسجد نبوی میں جنازے کی نماز ادا کرتی تھیں۔ ایک مشہور واقعہ یہ ہے کہ جب سعدؓ بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ نے فرمایا کہ ان کا جنازہ مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی نمازِ جنازہ ادا کرسکیں۔ چنانچہ ان کا جنازہ اَزواجِ مطہراتؓ کے حجروں کے سامنے رکھا گیا اور آپؐ کی اَزواج نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی۔(مسلم، کتاب الجنائز، حدیث:۱۶۶۹)

سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز میں عورتوں کی شرکت

فاطمہؓ بنت منذر روایت کرتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکرؓ نے فرمایا:میں سورج گرہن کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ عائشہؓ کے پاس گئی۔ لوگ اس وقت نماز میں مشغول تھے اور وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا: ’لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟‘ انھوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ’سبحان اللہ‘۔ میں نے کہا: ’کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟‘ انھوں نے اثبات میں اشارہ کیا۔اسماءؓ کہتی ہیں:میں بھی نماز میں کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ بے ہوش ہوگئی، پھر میں نے اپنے سر پر پانی ڈالا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: میں نے اس جگہ وہ کچھ دیکھا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، جنت اور دوزخ بھی دیکھی (بخاری، کتاب الوضوء، حدیث: ۱۸۱)

اُم المومنین عائشہؓ کا یہ قول کہ:’’اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے بعد کے حالات دیکھ لیتے تو یقیناً انھیں مسجدوں میں جانے سے روک دیتے‘‘ (بخاری)،دراصل خواتین کو اپنے معاملات اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کے لیے تنبیہ ہے، نہ کہ عورتوں کے مسجد آنے پر پابندی کی دلیل۔ اُم المومنین عائشہؓ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ عورتوں کو مسجد آنے سے روکیں بلکہ ان کا مدعا یہ تھا کہ وہ عورتوں کو مسجد میں جانے کے آداب یاد دلائیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی تنبیہ کی ایک مثال قبیلہ مزینہ کی ایک عورت کے بن ٹھن کر اِتراتے ہوئے مسجد نبویؐ میں داخل ہونے پر آپؐ کے ارشادگرامی کی صورت میں اُوپر بیان ہوچکی ہے۔ حضرت عائشہؓ خود بھی مسجد جاتی تھیں اور ان سے کبھی کسی خاتون کو مسجد جانے سے روکنے کی کوئی روایت منقول نہیں ہے۔

’فتنے‘ کا اندیشہ خواتین کو مسجد جانے سے روکنے کا ایک سبب بتایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فتنوں کے امکانات کہیں زیادہ تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مسجد آنے سے نہیں روکا۔

آج صورتِ معاملہ یہ ہے کہ عورتیں بازار، شاپنگ مال، سڑکوں اور تفریح گاہوں میں تو کھلے عام جا سکتی ہیں، لیکن مسجد میں نہیں۔ خاص طور پر مغرب کی نماز کے وقت بازاروں میں دیکھا گیا ہے کہ مرد تو قریب کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں،اور عورتیں بازار کی گلیوں میں گھومتی رہتی ہیں، یہ ہے کہ مغرب کا وقت مختصر ہوتا ہے، اور نماز کے فوت ہوجانے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔

اگر مساجد میں عورتوں کے لیے نماز ادا کرنے کی باپردہ جگہ کی سہولت ہو تو ایسے موقع پر وہ نہ صرف نماز ادا کرسکتی ہیں بلکہ ان کے دل میں اللہ اور رسولؐ کے احکام پر عمل کی اہمیت کا احساس تازہ ہو سکتا ہے اور خریداری میں بھی اعتدال اور تقویٰ آ سکتا ہے۔اگرچہ بعض بازاروں میں عورتوں کے لیے مسجد میں الگ جگہ فراہم کی گئی ہے مگر ایسی سہولتیں بہت کم ہیں۔

بعض صحابہ کرامؓ کو عورتوں کے مسجد میں جانے سے اختلاف تھا، ان میں امیرالمومنین عمرؓ بن الخطاب بھی شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی اہلیہ عاتکہؓ بنت زید مسجد جایا کرتی تھیں۔  کسی نے ان [عاتکہ]سے پوچھا:’’جب آپ کے شوہر پسند نہیں کرتے تو آپ مسجد کیوں جاتی ہیں؟‘‘ انھوں نے بڑے خوب صورت انداز میں جواب دیا:’’تو پھر وہ مجھے روکتے کیوں نہیں؟‘‘ سائل نے کہا:’’کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے‘‘۔

عاتکہ بنت زیدؓ فجر کی نماز کے وقت مسجد میں موجود تھیں، جب امیرالمومنین عمرؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا (بخاری)۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عورتیں صرف جمعہ یا عید کی نماز کے لیے نہیں بلکہ پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے بھی مسجد آیا کرتی تھیں۔

مسجد روحانی تربیت کا ذریعہ 

قرآن و سنت کے مطابق اسلامی تعلیمات کا علم حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی اخلاقی اور روحانی تربیت کرنا مردوں اور عورتوں دونوں پر فرض ہے۔ مسجد ہمیشہ سے اخلاقی اور روحانی تعلیم و تربیت کا مرکز رہی ہے۔ مساجد میں عورتوں کی شرکت نہ صرف خواتین کی روحانی ترقی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ پورے خاندان اور پھر پورے معاشرے کی روحانی نشوونما کا سبب بن سکتی ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مساجد کو عورتوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت اورسماجی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے۔ 

نماز میں شرکت، قرآن کی تعلیمات کا مطالعہ، جمعہ کا خطبہ سننا، امام کی تلاوت سننا، اور دیگر روحانی سرگرمیوں میں شامل ہو کر عورتیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے اپنا تعلق مزید گہرا کرسکتی ہیں۔ فی زمانہ اسلامی تعلیم ہر گھر میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے فراہم نہیں کی جاتی۔ اس لیے اگر مسجد میں ہونے والی سرگرمیاں سب کے لیے بآسانی قابل رسائی بنادی جائیں تو سیکھنے کا عمل خود بخود جاری رہے گا۔ جمعہ کے خطبے میں تقویٰ یعنی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ہمہ وقت حاضر و ناظر ہونے کے شعور و احساس کو ہمیشہ قلب و فکر پر طاری رکھنے پر زور دیا جاتا ہے جو تزکیۂ نفس کے لیے لازمی بنیاد ہے۔ مسجد کی فضا بابرکت ہوتی ہے، لہٰذا مسجد کا ماحول یکسوئی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ صدیوں تک عورتیں نہ صرف نماز کے لیے بلکہ اسلامی تعلیم و تربیت کے لیے بھی مساجد جاتی رہی ہیں۔ خصوصاً مسجدِ حرام، مسجدِ نبویؐ، مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ اُموی وغیرہ میں خواتین کی اسلامی تعلیم و تربیت کے حلقے فعال ہوتے تھے۔

’صحبت صالح تُرا صالح کُند‘ کے مصداق مسجد میں موجود نیک خواتین کو دیکھ کر روحانی تحریک ملتی ہے۔ انسانی رویوں اور کردار پر صحبت کے گہرے اور دُور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس حقیقت کی ناطق بالوحی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت واضح الفاظ میں تعلیم و تلقین فرمائی: اَلْمَرءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ أَحْدُکُمْ مَن یُخَالُ(سنن ابوداؤد) ’’آدمی اپنے دوست کے طریق زندگی (دین) پر ہی [پروان چڑھتا] ہے۔ پس اچھی طرح دیکھ لو کہ تم سے کوئی کس کے ساتھ میل جول رکھتا ہے‘‘۔مسجد میں عمر رسیدہ اور متقی خواتین کی موجودگی دیگر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو نیکی کی جانب مائل کرتی ہے۔ ایسی خواتین محض اپنی موجودگی سے ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو یاد دہانی کے ذریعے بھی اسلامی کلچر اور ورثے کو فروغ دیتی ہیں۔

فہمِ دین اور سماجی و سیاسی شعور کی ترقی

مسجد مسلمانوں کے اجتماعی و انفرادی معاملات و مسائل پر غوروخوض کرکے ان کا حل تلاش کرنے کے لیے مشاورت کا اسلامی عوامی مقام ہے۔ اگر عورتیں تربیت یافتہ ہوں گی تو پورے معاشرے میں تربیت کے لیے ماحول سازگار ہوجائے گا جو اگلی نسل کی تربیت اور ان کی معاشرتی شمولیت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جس سے اسلام کے جامع فہم کی روشنی میں سماجی ہم آہنگی بھی فروغ پاتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی و تربیتی مجالس میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں۔ اُم المومنین عائشہؓ نے انصار کی خواتین کے بارے میں فرمایا: ’’انصار کی عورتیں کتنی بہترین ہیں! ان کی شرم و حیا اسلامی طرزِ زندگی [کے احکام] سیکھنے میں ان کے آڑے نہیں آتی‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث:۱۲۹)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے علیحدہ وقت بھی مقرر فرمایا کرتے، تاکہ وہ دین اسلام کی تعلیم اور شعور حاصل کر سکیں۔ ایک موقع پر عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں: مرد آپ سے سارا وقت لے لیتے ہیں، ہمارے لیے آپ کوئی دن مقرر فرما دیجیے۔ آپؐ نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمایا۔ اس دن   ان سے ملاقات کی، انھیں وعظ کیا اور نصیحتیں فرمائیں‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث:۱۰۱)

عید کے موقع پر ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ خواتین خطبہ صحیح طرح سے نہیں سن پائیں، تو آپؐ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انھیں وعظ فرمایا، متعدد اسلامی تعلیمات کی یاد دہانی کرائی جن میں صدقے کی تلقین بھی شامل تھی‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث: ۹۸)

دستیاب وسائل سے کام لیا جائے

خواتین کی جامع اسلامی تعلیم و تربیت کے لیے الگ سہولیات مہیا کرنا آج کے تیزرفتار دور میں ایک مشکل معاشی معاملہ ہے۔ مگر وسائل کی کمی یا غربت کو موردِ الزام ٹھیرا کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا بھی درست طرزِ عمل نہیں۔ مسلم سماجی رہنماؤں اور علمائے کرام کو چاہیے کہ جو وسائل بھی میسر ہیں، اسی کے بہترین استعمال کے طریقے تلاش کریں۔

مسجد جیسے عظیم الشان منصوبے پر بھاری سرمایہ خرچ کرنے کے بعد اگر وہ پورے دن میں صرف پانچ وقت کی نمازِباجماعت، اور وہ بھی صرف مردوں کے لیے ہی ، استعمال ہو تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

ایسی صورتِ حال میں دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ مساجد کو مسلم کمیونٹی کی خواتین و حضرات اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے ذریعے ان کے فکرونظر، قلب و ذہن و شخصیات اور انفرادی و اجتماعی معاملات کی تطہیرو تزکیہ کا مرکز بنایا جائے۔ یاد رکھیں کہ یہی مدینہ ماڈل ہے۔ آغاز میں مہاجرین و انصار معاشی طور پر کم زور، سماجی طور پر پس ماندہ اور اندرونی و بیرونی خطرات میں گھرے ہوئے تھے مگر وہاں کی مساجد مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے تعلیم و تربیت اور تزکیہ کا مرکز تھیں، جس کے نتیجے میں وہ شخصی، خاندانی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط اور باوقار قوم میں ڈھل گئے۔ آج بھی مساجد میں تعلیم و تربیت و تزکیہ کے باقاعدہ منظم اہتمام کے ذریعے خواتین و حضرات اور نئی نسل کے اعتماد، دینی شعور اور حوصلے میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے جو کمیونٹی کی مجموعی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

چند عملی تجاویز

  • مساجد میں کشادہ  جگہ کی فراہمی: مساجد میں خواتین اور نسل نو کی روحانی نشوونما، علمی تسکین اور تربیت و تزکیہ کے لیے باوقار اور کشادہ جگہ کی فراہمی کا اہتمام ضروری ہے۔ یہ جگہیں تنگ، بند، بے ہوا اور غیر آرام دہ نہیں ہونی چاہئیں۔ صفائی اور حُسنِ ترتیب کا مناسب اہتمام ہو۔ ان مقامات کی ترتیب ایسی ہو کہ خواتین خود بھی ان مقامات پر درسِ قرآن اور مختلف تربیتی پروگرام منعقد کرسکیں۔
  •  موزوں ساؤنڈ سسٹم کی فراہمی: ساؤنڈ سسٹم میں نقص نہیں ہونا چاہیے تاکہ  امام کی آواز خطبے یا نماز میں خواتین کو بھی صاف سنائی دے سکے۔
  • محفوظ ،  الگ اور آرام دہ دروازے: یہ بہت ضروری ہے کیونکہ خواتین بچوں کے ساتھ آتی ہیں اور بڑی عمر کی خواتین کے لیے بھی عام راستے مشکل ہوتے ہیں۔ الگ اور آسان راستہ مردوں سے اختلاط سے بچاؤ کی بنیادی اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔
  • مسجد کی صفائی و نگہداشت میں شمولیت: مساجد کے انتظام و انصرام میں اکثر خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مساجد اور خصوصاً خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص جگہوں کی اچھی طرح صفائی نہیں ہوپاتی، گرد و غبار جمع ہوتا رہتا ہے اور صفائی ناقص ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین مسجد آنا چھوڑ دیتی ہیں۔ اس کا آسان حل یہ ہے کہ خواتین اور بچوں میں اس حوالے سے شعور بیدار کیا جائے اور انھیں صفائی و نگہداشت میں شریک کیا جائے۔ ان مساجد میں جہاں ایسا کیا گیا وہاں مثبت نتائج دیکھے گئے ہیں۔
  • شادی اور خاندانی مسائل پر مشاورت کا مرکز: مسجد کو شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے مسائل پر مشاورت کا مرکز بنایا جائے ۔صرف لڑکیوں کے لیےہی نہیں بلکہ لڑکوں اور ان کے خاندانوں کے لیے بھی۔ نکاح سے پہلے مسجد اس امر کو یقینی بنائے کہ دولھا اور دلھن دونوں قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی خاندان کو چلانے کی تعلیم سے آشنا ہوں۔آج کل نوجوان اپنے حقوق سے تو کسی حد تک آگاہی حاصل کرہی لیتے ہیں، جو اگرچہ عموماً ناقص ہی ہوتی ہے، مگر فرائض سے اکثر غافل ہی رہتے ہیں۔ اس حوالے سے لڑکیوں اور لڑکوں میں تعلیم و تربیت و تزکیہ کے ذریعے متوازن شعور پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس بنیادی اسلامی سماجی ذمہ داری کی ادائیگی میں، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم و تربیت و تزکیہ میں خواتین کو مختلف حیثیتوں سے شامل کرنا اَزحد ضروری اور مفید ہے۔ خانگی تنازعات کے حل میں خواتین کی شمولیت عورت کے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور عورتوں کے  دُکھ کا مداوا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ عورت کی عورت سے بات زیادہ آسان ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسلامی علوم سے بہرہ مند خواتین کو خصوصی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ فیصلے جامع اور مؤثر ہوسکیں۔
  • خواندگی کے پروگرام:اعداد و شمار کے مطابق آج کے دور میں بھی مسلم خواتین کی ایک بڑی تعداد ناخواندہ ہے۔ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے، —خصوصاً اس امت کے لیے جس کی کتابِ ہدایت کی پہلی وحی کا آغاز ہی اقْرَأْ، یعنی پڑھنے کے حکم سے ہوا۔لہٰذا، مساجد کے منتظمین کو عزم کرنا چاہیے کہ محلے کی کوئی بھی خاتون اور مرد ناخواندہ نہ رہے۔ اگر کمیونٹی اس فیصلے پر عمل پیرا ہو تو سو فی صد خواندگی کا ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سماجی بہبود مردوں اور خواتین کی یکساں ذمہ داری

اسلامی تعلیمات کے مطابق سماجی بہبود کا کام مردوں اور عورتوں کی یکساں ذمہ داری ہے۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا: وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَيُطِيْعُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُہُمُ اللہُ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۷۱ (التوبہ۹:۷۱)’’مومن مرد اور مومن عورتیں، ایک دوسرے کے مددگار ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم فرمائے گا۔ بے شک اللہ زبردست اور حکمت والا ہے‘‘۔

خلاصہ یہ ہے کہ اگر اسلامی احکام اور حدود و قیود کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، خواتین کے لیے مسجد میں مناسب جگہ اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں میں شرکت کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں، تو اس سے مسلم معاشروں میں بڑی مثبت تبدیلیاں ممکن ہو سکتی ہیں۔اس کے لیے مثبت ذہنیت اور ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ جامع حکمت عملی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔