پچھلے کچھ عرصے سے ہماری اعلیٰ عدلیہ نے نکاح، طلاق اور وراثت سے متعلق امور میں کچھ ایسے فیصلوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن کے ذریعے خاندان اور معاشرے کی ساخت میں دُوررس تبدیلیاں واقع ہونے کا امکان ہے۔
مثال کے طور پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سیّدمنصور علی شاہ نے نفقہ اور بچے کی حضانت جیسے مسئلوں پر بعض ایسے فیصلے کیے جن کی بنیاد اسلامی قانون کےاصولوں پر نہیں تھی، بلکہ انھوں نے بعض بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے مسلمانوں کے شخصی قانون میں سمونے کی کوشش کی[مثلاً دیکھیے: محمد نواز بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ (PLD ۲۰۲۳ء سپریم کورٹ ۴۶۱)، ڈاکٹر محمد آصف بنام ڈاکٹر ثنا ستار (CRP ۴۵۸ بابت ۲۰۲۴ء)]۔ اسی طرح سپریم کورٹ میں یہ رجحان جسٹس عائشہ ملک اور سابق جج جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلوں میں بھی نظر آتا ہے۔ [مسماۃ فاخرہ جبین بنام واصف علی (CPLA ۷۶۸ بابت ۲۰۲۲ء)، راجا محمد اویس بنام مسماۃ نازیہ جبین (SCMR ۲۱۲۳، بابت۲۰۲۲ء)]۔
ان فیصلوں میں پاکستان کے قانونی نظام کے یہ مسلّمہ اصول نظرانداز کیے گئے ہیں کہ: ’بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو پاکستان کی عدالتیں اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتیں، جب تک ان دفعات کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے قانون کا حصہ نہ بنایا جائے‘ اور یہ کہ ’جب ایسی قانون سازی ہو جائے تو اس کے بعد بھی اس قانون کی ایسی تعبیر لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو‘۔
یہ رجحان صرف سپریم کورٹ میں ہی نہیں بلکہ عدالت ہائے عالیہ کے کئی جج اسی نہج پر فیصلے دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۲۰۲۲ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ایک مقدمے میں کم عمری کے نکاح کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر جنسی تشدد (rape) کے قانون کا بھی اطلاق کردیا اور ایسا کرتے ہوئے فاضل جج نے اسلامی جمہوریہ میں ایک مسلم جوڑے کے نکاح پر انگریزی قانونِ عقد کے اصولوں کا اطلاق کیا[ مسماۃ ممتاز بی بی بنام قاسم (PLD ۲۰۲۲ اسلام آباد ۲۲۸) ]۔
اس فیصلے کے بعد وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک کمیٹی بنائی جس میں مجھے بھی شامل کیا گیا۔ میں نے اپنے تفصیلی تجزیے میں یہ رائے پیش کی کہ آئین و قانون کے بنیادی اصول نظر انداز کرنے کی بنا پر اس فیصلے کو ’لازمی نظیر‘ کی حیثیت حاصل نہیں ہے، نیز اس موضوع پر عدالت ہائے عالیہ کی جانب سے باہم متعارض فیصلوں کی بنا پر کسی ایک فیصلے پر عمل درآمد ممکن بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے اس موضوع پر تفصیلی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ میری ان دونوں تجاویز کو کمیٹی نے اپنی سفارشات میں شامل تو ضرور کیا، مگر یہ معاملہ یہاں پر نہیں رُکا۔
مسلم عائلی قوانین میں دوررس تبدیلیوں کےلیے ایک ہمہ جہتی اور منظّم کوشش جاری ہے۔ چنانچہ لاہور ہائی کورٹ میں عائلی امور کے متعلق بعض مقدمات میں ایک جانب یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ ’نکاح نامے میں ’مہر‘ اور ’نفقہ‘ کے متعلق بعض اضافے کیے جائیں تو اس کے نتیجے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف یہ درخواست بھی کی گئی کہ میاں بیوی کے درمیان ’شادی کے اثاثوں‘ کی ’منصفانہ تقسیم‘ کےلیے حکومت کو قانون سازی کا کہا جائے۔
ایسے ہی ایک مقدمے میں جسٹس جواد حسن نے کئی ’عدالتی معاونین‘ کو سننے کے بعد ۲۰۲۵ء میں ایک کمیٹی بنائی اور وفاقی وزارتِ قانون کو حکم دیا کہ وہ اس کمیٹی کے اجلاس منعقد کروانے کے بعد اس کی سفارشات عدالت میں پیش کرے [مسماۃ صائمہ شفیع بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج (رٹ درخواست نمبر ۵۲۶ بابت ۲۰۲۱ء) ]۔ انھوں نے وفاقی وزارتِ قانون کے سیکرٹری کو کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور صوبہ پنجاب کی وزارتِ قانون کے سیکرٹری، اسلامی نظریاتی کونسل، خواتین کی حیثیت پر قومی کمیشن، پاکستان بار کونسل اور ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب کے ادارے کے نمائندوں کے علاوہ مجھے بھی ارکان میں شامل کیا، نیز حکم دیا کہ ایک رکن ’سول سوسائٹی‘ سے لیا جائے۔ کمیٹی کے سربراہ نے اس مقصد کےلیے ’مساوی‘ نام کی غیر سرکاری تنظیم سے نمائندہ چنا [مساوی کی ویب سائٹ (www.musawi.org) کے مطابق: ’’یہ ایک خودمختار تنظیم ہے، جو شواہد پر مبنی قانونی اور پالیسی اصلاحات کو فروغ دیتی ہے تاکہ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکے]۔
اس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں معلوم ہوا کہ ’شادی کے اثاثوں‘ کے مسئلے پر جناب سینیٹر علی ظفر نے پہلے ہی سینیٹ میں ایک مسودۂ قانون پیش کیا ہوا تھا جسے سٹینڈنگ کمیٹی نے منظور نہیں کیا تھا۔ اب اسی مسودے کو ہائی کورٹ کی بنائی ہوئی اس کمیٹی کے ذریعے منظور کرانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سے زیادہ گفتگو وہ وکلا کررہے تھے، جو ہائی کورٹ کے سامنے مقدمات میں اپنے موکلوں کی نمائندگی کررہے تھے۔ اس پر میں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کمیٹی کے سربراہ سے کہا کہ وہ یقینی بنائیں کہ گفتگو کمیٹی کے ارکان ہی کریں، اور جہاں دیگر افرادگفتگو کرنا چاہیں، تو وہ اجازت لے کر بات کریں۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی، لیکن دوسرے اجلاس میں بھی معاملہ اسی طرح چلتا رہا۔ اس پر میں نے اپنے تحفظات تحریری صورت میں پیش کیے اور اس کے بعد کمیٹی کا اجلاس تا حال نہیں ہوسکا۔
اس دوران میں ’شادی کے اثاثوں‘ کے متعلق ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ دیا اور حکومت کو ’سفارش‘ کی کہ وہ باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے شادی کے بعد بیوی کو شوہر کی جائیداد اور اثاثوں میں شریک قرار دے کر ’منصفانہ حصہ‘ دلوائے[ مسماۃ عمارہ وقاص بنام وقاص رشید (رٹ درخواست ۳۶۵ بابت ۲۰۲۳ء)]۔ اس نتیجے تک پہنچنے کےلیے فاضل جج نے عدالت کی معاونت کی ذمہ داری پھر مذکورہ بالااین جی او ’مساوی‘ نامی تنظیم ہی کو دی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس منصور نے جس فیصلے میں نفقہ کے متعلق اسلامی قانون کے اصول نظرانداز کیے، اس میں بھی انھوں نے عدالتی معاون کی ذمہ داری اسی تنظیم کو سونپی تھی۔ یہ رویے دیکھ کر، اس احساس اور خیال کو تقویت پہنچتی ہے کہ ایسے فیصلوں کے پیچھے منظّم جدوجہد اور لابنگ کارفرما ہوتی ہے، جب کہ ہمارا مذہبی طبقہ عموماً سانپ کے گزر جانے کے بعد ردعمل میں محض لکیر پیٹتا ہی رہ جاتا ہے۔
پاکستان میں عائلی نظام کی ’عدالتی انجینئرنگ‘ اتنی آسانی سے کیوں ممکن ہوجاتی ہے؟ اس سوال کے جواب کےلیے ذرا پیچھے جا کر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دورِ غلامی میں انگریزوں نے یہ نظام کن بنیادوں پر قائم کیا تھا اور اُن کے چلے جانے کے تقریباً ۸۰ برس بعد اب یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
انگریزوں نے جب برصغیر میں اپنا قانونی نظام رائج کیا، تو آغاز انھوں نے محصولات کے قانون میں تبدیلیوں سے کیا، پھر دیوانی قانون اور فوجداری قانون کی طرف توجہ کی۔ تاہم مسلمانوں کے عائلی قانون میں انھوں نے عمومی طور پر عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کی۔ چنانچہ ابتدا میں عائلی تنازعات کے فیصلے دورِ سلاطین اور مغل عہد سے فرائض انجام دیتے چلے آنے والے مسلمان قاضی ہی کرتے رہے۔ بعد میں ان قاضیوں کی جگہ جج مقرر کیے گئے، لیکن چونکہ ان ججوں کو اسلامی قانون کا علم نہیں تھا، اس لیے ان کی معاونت کےلیے ’مفتی‘ مقرر کیے گئے۔ پھر کچھ عرصے بعد مسلمانوں کی اہم فقہی کتابوں کے انگریزی تراجم کیے گئے تو مفتیوں پر انحصار بھی ختم ہوگیا۔ اسی طرح انگریزوں کے دور میں ججوں نے بطورِ اصول یہ طے کیا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کےلیے وہ اپنا ’فہمِ شریعت‘ نافذ کرنے کے بجائے مقدمے کے فریقوں کے ’فقہی مذہب‘ کی پابندی کریں گے۔ چنانچہ سُنّی مسلمانوں کے فیصلوں کےلیے ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیریہ اور اہلِ تشیع کے فیصلوں کےلیے شرائع الاسلام میں حکم دیکھا جاتا۔ اگر فریقین کا تعلق الگ فقہی مذاہب سے ہوتا، تو یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ ایسے معاملے میں مدعا علیہ کے فقہی مذہب پر فیصلہ کیا جاتا۔ [مسماۃ عزیزہ بانو بنام علی محمد ابراہیم (AIR ۱۹۲۵، الٰہ آباد ۷۲۰)]
فقہی کتابوں کے تراجم میں بھی مسائل تھے اور بعض اوقات ان کتابوں میں مذکور قانونی اصولوں کے فہم میں ججوں سے بھی غلطیاں ہوئیں، لیکن عمومی طور پر وہ متعلقہ فقہی مذہب کی پابندی کی کوشش کرتے رہے، اور اس وجہ سے عموماً کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا، سوائے ان صورتوں کے جن میں ججوں نے اسلامی قانون کے کسی حکم کو اپنے ’تصورِ انصاف‘ کے خلاف سمجھ کر اسے موڑنے کی کوشش کی۔ ’وقف علی الاولاد‘ کے متعلق پریوی کونسل کا فیصلہ اس کی ایک مثال ہے،[ ابو الفتح محمداسحاق بنام رسمایہ دھر چودھری ، (۱۸۹۴) IA، جلد۲۲، ص۷۶]۔ جس کے بعد قائد اعظم کی کوششوں سے ۱۹۱۳ء میں ’وقف ایکٹ‘ نے مسلمانوں کے اوقاف کو تحفظ دیا۔
انگریزوں کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ تھا کہ آزادی سے قبل نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ امور پر ’قانون سازی‘ بہت کم کی گئی۔ عام طریقہ یہی رہا کہ عدالتیں ’شریعت‘ پر فیصلے کرتی تھیں اور ’شریعت‘ سے مراد مقدمے کے فریقوں کا ’فقہی مذہب‘ ہوتا تھا۔
تاہم، قیامِ پاکستان کے بعد عائلی قوانین کے نظام میں ’اصلاحات‘ کےلیے جو کمیشن قائم کیا گیا، اس میں صرف ایک عالم دین تھے مولانا احتشام الحق تھانوی [م:۱۹۸۰ء] اور اس کمیشن کے دیگر ارکان کو اسلامی قانون کے مبادیات کا بھی علم نہیں تھا۔ چنانچہ جب اس کمیشن کی رپورٹ آئی، تو اس پر علمی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید ہوئی اور اسے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ تاہم، کچھ عرصے بعد جنرل ایوب خان نے مارشل لا کے دوران ۱۹۶۱ء میں ایک آرڈی نینس کے ذریعے عائلی قوانین کے بعض امور میں ایسی تبدیلیاں کیں، جن کی کوئی بنیاد اسلامی قانون میں موجود نہیں تھی۔ پھر ۱۹۶۷ء میں سپریم کورٹ کا مشہور فیصلہ ’خورشید بی بی بنام بابو محمد امین‘ آیا جس میں قرار دیا گیا کہ عدالت کےلیے فقہی مذاہب کی پابندی ضروری نہیں اور وہ براہِ راست قرآن و سنت کی تعبیر کےلیے ’اجتہاد‘ کرسکتی ہے۔[دیکھیے مسماۃ خورشید بی بی بنام بابو محمد امین، PLD ۱۹۶۷ سپریم کورٹ ۹۷ ]۔ اس کے بعد عدالتی فیصلوں میں ’اجتہاد‘ کے نام پر اسلامی قانون کے اصولوں کو نظرانداز کرکے براہِ راست قرآن و سنت کی آزادانہ اور بے مہار تعبیر کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ’نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں‘ والی صورت بن گئی۔
پس، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عائلی قوانین پر ہمارے ہاں تفصیلی قانون سازی کی عدم موجودگی میں ججوں کےلیے ’اجتہاد‘ کے نام پر میدان خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر متعلقہ اُمور پر ہمارے ہاں تفصیلی قوانین موجود ہوتے، تو مرضی کے فیصلوں کی گنجائش کم ہوتی۔ تاہم، یہ سوال اس کے بعد بھی رہتا کہ یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ قانون سازی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو؟
ہم نے قانون سازی کے معاملے میں بھی دیکھا ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے باقاعدہ منظّم جدوجہد کی جاتی ہے،جب کہ مذہبی طبقہ اس منظرنامے سے عموماً لاتعلق رہتا ہے اور اس وقت ہوش میں آتا ہے جب قانون سازی ہوچکی ہوتی ہے، اور اس کے بعد اس کی توجہ صرف ان دفعات کے منسوخ کرانے کی مہم اور احتجاج پر ہوتی ہے جو اسلامی اصولوں سے ’متصادم‘ ہوں۔ اس کےلیے بھی طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ’ماوراے صنف اشخاص‘ کے متعلق قانون ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ ۲۰۱۸ء اس کی ایک بڑی واضح مثال ہے۔ تینوں بڑی سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں (پیپلز پارٹی، نون لیگ،تحریک انصاف) کے ارکانِ پارلیمنٹ کو باقاعدہ لابنگ کے ذریعے اس قانون سازی کےلیے تیار کیا گیا، جب کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی خاص منظم، مربوط اور مسلسل مزاحمت نہیں ہوسکی (تفصیل دیکھیے: محمد مشتاق احمد، ’ٹرانس جینڈر اشخاص کے تحفظ کا قانون: ایک تجزیاتی مطالعہ‘، مجلۂ تعلیم و تحقیق، ۴ (۲۰۲۲ء)، ص۲۱-۴۷ )۔
قانون بن چکنے کے بعد جماعتِ اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس میں ترامیم، اور پھر اس کی مکمل منسوخی، کےلیے بھرپور جدوجہد کی، لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ عدالتی محاذ پر ۲۰۲۳ء میں کامیابی یوں ملی کہ وفاقی شرعی عدالت نے اس قانون کی بعض دفعات کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دیا، لیکن اس فیصلے کے خلاف اپیلیں چونکہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں معلق ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مؤثر نہیں ہے اور یہ قانون بدستور ملک میں نافذ ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے میں فاضل جج نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اسلامی قانون کی رُو سے شوہر اور بیوی الگ الگ قانونی شخصیت رکھتے ہیں اور شوہر کو بیوی کے مال پر، یا بیوی کو شوہر کے مال پر مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ انھوں نے شوہر پر بیوی کے حقِ مہر اور نفقہ کی ذمہ داری کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی لکھا کہ ’’کسی باقاعدہ معاہدے کی عدم موجودگی میں دونوں کے درمیان شراکت بھی فرض نہیں کی جاسکتی‘‘۔ اس کے باوجود یہ قرار دے کر کہ ’’ہر وہ چیز جائز ہے جس سے روکا نہیں گیا‘‘، انھوں نے حکومت کو یہ سفارش دے دی! جس اصول کا انھوں نے حوالہ دیا اس کا اطلاق ’چیزوں‘ سے ’فائدہ اٹھانے‘ پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی شخص کےلیے ’حق‘ یا ’استحقاق‘ قائم کرنے پر، اور ’چیزوں‘ پر بھی اس اصول کے اطلاق سے بہت ساری استثنائی صورتیں ہیں۔
حیرت کا مقام ہے کہ ملکیت اور شراکت کے متعلق اسلامی قانون کے واضح اصولوں کی موجودگی میں فاضل جج کیسے یہ کہہ سکتے تھے کہ ’’اسلامی قانون بیوی کو شوہر کے مال میں شریک قرار دینے سے نہیں روکتا‘‘۔ کیا اسی طرح شوہر کو بیوی کے مال کا شریک مالک قرار دیا جاسکتا ہے؟ بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل جج نے یہ بات بھی نظر انداز کی کہ بین الاقوامی معاہدات کو پاکستان کی عدالتیں اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتیں، جب تک انھیں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے قانون کا حصہ نہ بنایا جائے۔ انھوں نے اس پہلو سے بھی تجزیہ نہیں کیا کہ جن دیگر ممالک نے ایسی قانون سازی کی ہے، کیا ان کا قانونی نظام انھی اصولوں پر قائم ہے، جو پاکستان کے قانونی نظام کی بنیاد ہیں؟
اُوپر ہم نے اس موضوع پر سینیٹر علی ظفر کے مسودے کا ذکر کیا ہے۔ اس مسودے کو ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ نے دو پہلوؤں سے اسلامی احکام کے خلاف قرار دیا تھا: ایک یہ کہ اس سے شوہر کے حقِ ملکیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اور دوسرا یہ کہ یہ وراثت کے قانون کے خلاف ہے۔ یہ اصول مسلّم ہے کہ کسی شخص کی مرضی کے بغیر کسی دوسرے شخص کو اس کے مال میں شریک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بالکل اسی طرح شوہر کی وراثت میں بیوی کے لیے، اور بیوی کی وراثت میں شوہر کے لیے شریعت نے مخصوص حصہ مقرر کیا ہے، جس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے۔
تاہم، اس مسئلے کے کئی دیگر پہلوؤں پر بھی بحث ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ ’شادی کے اثاثوں‘ میں میاں بیوی کو ’شریک‘ قرار دینا اس مفروضے پر مبنی ہے کہ یہ اثاثے دونوں نے مل کر بنائے ہیں۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی ’شراکت‘ کسی ’عقد‘ کے بغیر وجود میں آسکتی ہے؟ ملک میں انگریزوں کے وقت سے رائج ’قانونِ شراکت ۱۹۳۲ء‘ میں ہی دیکھ لیجیے کہ شراکت کسی عقد کے بغیر، محض ’حیثیت‘ (status) سے وجود میں نہیں آتی، یہاں تک ’ہندو مشترکہ خاندان کا کاروبار‘ بھی شراکت نہیں ہے۔ پھر اگر ایسی شراکت فرض بھی کی جائے، تو ایسی شراکت صرف میاں بیوی تک ہی کیوں محدود رہے؟ اس شراکت میں شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائی کیوں شامل نہیں؟ والد کے متعلق تو حدیث مبارک میں تصریح بھی ہے کہ ’’تم اور تمھارا مال ،تمھارے والد کا ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات)
جہاں تک میاں بیوی کے رشتے کا تعلق ہے، تو اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ شوہر ’قوّام‘ (Protector, Maintainer, Sustainer)ہے۔ اس وجہ سے اس پر بیوی کا ’نفقہ‘ بھی واجب ہوتا ہے (سورۃ النساء۴:۳۴) اور ’مہر‘ بھی (سورۃ النساء ۴: ۲۴)، یہاں تک کہ جب صرف نکاح ہوا ہو اور ازدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل ہی ’طلاق‘ ہوجائے تب بھی اس پر ’نصف مہر‘ کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے (سورۃ البقرۃ ۲: ۲۳۱)، بلکہ اگر ’مہر‘ مقرر نہ کیا گیا ہو اور نکاح کے بعد اَزدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل طلاق ہوجائے، تب بھی اس پر واجب ہوتا ہے کہ اپنی مالی وسعت کے مطابق اس خاتون کو کچھ تحفے تحائف (متاع) دے کر رخصت کرے(سورۃ البقرۃ ۲:۲۳۰)۔ اس تعلق کو شوہر کی ’قوّامیت‘ کے بجائے میاں بیوی کے درمیان کاروباری شراکت کے اصولوں پر قائم کرنے سے خاندانی نظام کا پورا تصور ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔
اس پیوندکاری کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات ہماری عدالتیں بیوی کی جائیداد پر شوہر کے لیے مالکانہ تصرف مان لیتی ہیں۔ مثلاً ایک مقدمے میں مسئلہ یہ تھا کہ خاتون کے لیے ’حق مہر‘ کے طور پر جائیداد اس کے سسر کی جانب سے لکھی گئی تھی، حالانکہ وہ اس کی ساس کی ملکیت میں تھی، اور اس کے باوجود پشاور ہائی کورٹ نے اسے نافذ قرار دیا تھا۔ اپیل میں جب معاملہ سپریم کورٹ میں آیا، تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ ’’یہ تو انگریزی قانون کا اصول ہے کہ میاں بیوی ایک ہی قانونی وجود رکھتے ہیں اور یہ کہ شادی کے بعد بیوی کی شخصیت شوہر کی شخصیت میں گم (coverture) ہوجاتی ہے،جب کہ اسلامی قانون کی رو سے بیوی اور شوہر الگ الگ قانونی حیثیت اور شخصیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے اپنے اپنے مال پر الگ الگ ملکیت رکھتے ہیں، جیساکہ سورۃ النساء، آیت ۳۲ میں تصریح بھی ہے‘‘۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’’ہمارے بعض جج لاشعوری طور پر انگریزی قانون کے اصولوں سے متاثر ہوتے ہیں‘‘۔[ فواد اسحاق بنام مسماۃ مہرین منصور ( PLD ۲۰۲۰ سپریم کورٹ ۲۶۹) ]
کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ فیصلے سے بھی یہی مذکورہ بالا تاثر نہیں ملتا؟
ہمارے فاضل ججوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ شادی کے بندھن پر کاروبار، نوکری اور پنشن کے اصول لاگو کرنے کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ اور اس سے ہمارا پورا خاندانی نظام کیسے درہم برہم ہوسکتا ہے؟ بلاشبہہ خواتین کو درپیش مسائل حقیقی ہیں اور ان کا حل بھی ضروری ہے، لیکن اس کے لیے شریعت کے دوسرے احکام کی خلاف ورزی کیسے جائز قرار دی جاسکتی ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل کا حل اسلامی اصولوں کی روشنی میں ہی متعین کیا جائے۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شریعت نے عورت کے لیے وراثت میں حصے مقرر کرکے اسے ملکیت کا جو حق دیا ہے وہ بہت سے دین دار گھرانوں میں بھی خواتین کو میسر نہیں ہوتا، اور اگر کبھی انھیں ان کے شرعی حصے دیے بھی جائیں، تو ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات ختم کردیے جاتے ہیں۔ غیر شادی شدہ خاتون اگر کاروبار کرے، تو عموماً اس کے کاروبار پر اس کے بھائیوں کا قبضہ ہوتا ہے اور اگر شادی شدہ ہو، تو کاروبار شوہر کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ نوکری کی صورت میں بھی اس کی تنخواہ دوسروں کے تصرف میں ہوتی ہے۔ اگر وہ گھریلو خاتون ہو جو نوکری یا کاروبار کے بجائے ساری توجہ اور توانائی گھر پر صرف کرے، تو اس صورت میں تو وہ ویسے ہی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ طلاق کو ہمارے معاشرے میں کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا ہے اور مطلّقہ خاتون کے لیے اس کے اپنے سگے بہن بھائی بھی اجنبی ہوجاتے ہیں۔ بیوہ کا حال اس سے بھی برا ہوتا ہے، دوبارہ شادی آسانی سے نہیں ہوتی اور اسے والدین یا بھائیوں کے گھروں میں ’دوسرے درجے کے شہری‘ کی طرح زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کو ان باتوں میں مبالغہ لگتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ بہت سے خاندانوں میں صورتِ حال ایسی نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسائل اسلامی احکام پر عمل کرنے سے پیدا ہوئے ہیں یا ان کی خلاف ورزی سے پیدا ہوئے ہیں؟ ان مسائل کا حل اسلامی قانون کی ایک اور خلاف ورزی میں تلاش کرنا چاہیے، یا حل اسلامی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں ہے؟
دیگر ممالک سے ہی تصورات ادھار لینے ہیں، تو اردن میں موجود ان دو اداروں کی طرف کیوں نہ دیکھا جائے، جو اسلامی قانون کے اصولوں پر مبنی ہیں اور عثمانی خلافت کے دور سے رائج ہیں؟ ’قاضی حقوق القاصرین‘ کا کام اپنے زیر اختیار علاقے میں ان لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، جو خود اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے، جیسے یتیم، بیوہ، مطلقہ وغیرہ۔ جب کہ ’الاصلاح الاسری‘ کا تعلق خاندانی تنازعات کے غیر عدالتی حل سے ہے۔ حیرت ہے کہ ہر معاملے میں ’تنازعات کے متبادل حل‘ پر زور دینے والے ہمارے بہت سے فاضل جج حضرات گرامی کی توجہ اس امر کی طرف کیوں نہیں جاتی کہ عائلی تنازعات میں ہمارے رائج الوقت قانون نے ’اصلاح‘ اور ’متبادل حل‘ کا دائرہ بہت ہی محدود کیا ہوا ہے اور اس وجہ سے ہر چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ عدالت میں جا پہنچتا ہے جہاں اس کے فیصلے میں، نہ کہ حل میں، کئی کئی سال لگ جاتے ہیں!
لوگ بجا طور پر سوال اٹھاتے ہیں کہ بہت ساری خواتین کو مہر یا نفقہ ادا نہیں کیا جاتا، لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا قانونی نظام خواتین کو یہ حقوق دینے میں کیوں ناکام ہے؟
شریعت نے بیوی کا نفقہ شوہر پر لازم کیا ہے، اس لیے فقہائے کرام نے یہ تفصیل بھی دی ہے کہ شوہر کو اس کی ادائیگی پر قانوناً کیسے مجبور کیا جائے گا؟ عام حالات میں نفقہ کی کوئی مقررہ مقدار نہیں ہے، اور شوہر کو اپنی مالی وسعت اور بیوی کی ضروریات کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن اگر میاں بیوی نے سمجھوتے کے ذریعے، یا قاضی نے اپنے فیصلے میں، کوئی مقدار مقرر کرلی ہے، تو وہ مقدار شوہر کے ذمے واجب ہوجاتی ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں وہ اس کے خلاف جمع ہوتی جاتی ہے، جسے بعد میں اکٹھا بھی وصول کیا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ قاضی اپنے فیصلے میں بیوی کو یہ اجازت بھی دے سکتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں شوہر کے کھاتے میں خرید سکتی ہے اور شوہر کی وفات کی صورت میں ایسے قرض کی ادائیگی اس کے ترکے سے کی جائے گی۔
یاد رہے، نکاح اور اس سے متعلق امور، جن میں نفقہ بھی شامل ہے، کے بارے میں ہمارے ہاں مسلم شخصی قانون (شریعت) کے اطلاق کے قانون۱۹۶۲ء، کی دفعہ ۲ نے یہ اصول طے کیا ہے کہ ان کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرنا لازم ہے۔ حیرت ہے کہ پھر کیوں عدالتیں ’ماضی کا نفقہ‘ (past maintenance) لازم کروانے کے لیے اسلامی اصول نافذ کرنے کے بجائے ہمارے نظام میں اجنبی تصورات کی پیوندکاری کرنا چاہتی ہیں؟
ڈیڑھ سو سال سے پہلے جب عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ’شادی ایک سول معاہدہ ہے‘، تو اس کے نتائج آج تک ہمارا معاشرہ بھگت رہا ہے۔ اب جب کہ عدالتیں اس معاہدے کو ’شراکتی کاروبار‘ قرار دے رہی ہیں، تو سوچ لینا چاہیے کہ اس کی قیمت کیا ہوگی؟
راجا عامر خان بنام وفاقِ پاکستان(PLD ۲۰۲۳ سپریم کورٹ ۳۹۹) میں سپریم کورٹ کے ’فل کورٹ بنچ‘ نے سماعت کی، اور اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھتے ہوئے اس اصول کا ذکر کیا کہ آئینی دفعات کی تعبیر میں بھی وہ تعبیر اختیار کرنا لازم ہے، جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ آٹھ دیگر ججوں نے ان کے ساتھ اتفاق کیا۔ چھ ججوں نے فیصلے کے بعض دیگر پہلوؤں سے تو اختلاف کیا، لیکن اس اصول سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ یوں نو ججوں کی تصریح اور چھ ججوں کی خاموشی نے اس اصول کو ایسی قطعی حیثیت دے دی ہے کہ اس سے انحراف اب ناممکن حد تک مشکل ہوگیا ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے جج اور وکلا اس فیصلے کے بعد اس اجماعی اصول کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں؟ اور بالخصوص نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر ’شخصی اُمور‘ میں ’شریعت‘ ہی کو ’فیصلے کے قانون‘ کی حیثیت حاصل ہے (مسلم شخصی قانون ۱۹۶۲ء، دفعہ ۲)، نیز شخصی امور میں مختلف فرقوں کے فہمِ شریعت کو آئینی تحفظ حاصل ہے (آئین کی دفعہ ۲۲۷ کی توضیح) اور وفاقی شرعی عدالت سمیت کوئی عدالت ان امور میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ [ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل بنام وفاقِ پاکستان (PLD ۱۹۹۴ سپریم کورٹ ۶۰۷) ]
ان اصولوں کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارے فاضل جج حضرات اور وکلا کو اسلامی احکام کی تفصیلی تعلیم دی جائے اور ججوں اور وکلا کی ٹریننگ میں اسلامی قانون اور اس کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ ہمارے جج اگر براہِ راست قرآن و سنت کی تعبیر کرنا چاہتے بھی ہیں، تو اس کےلیے اسلامی قانون کے اصولوں میں مہارت ضروری ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون کی تدریس کا نصاب وہی ہے جو انگریزوں کے دور سے چلا آرہا ہے ۔
اس کے علاوہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ امور پر صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمان کے ذریعے تفصیلی قانون سازی کےلیے بھرپور اور منظّم جدوجہد کی جائے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے محترم مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے ملاقات میں درخواست کی تھی کہ وہ شریعت اور قانون کے ماہرین سے ایسے قانون کا مسودہ بنوانے اور پھر مذہبی سیاسی جماعتوں کے ذریعے اسے باقاعدہ قانون کی صورت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے خوش خبری دی کہ وہ پہلے ہی سے اس سمت میں کام کررہے ہیں اور قانون کا مسودہ تقریباً تیار ہوچکا ہے۔
دینی رہنمائی فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام پہلے ہی بگڑ چکا ہے اور خاندان کا بنیادی ادارہ بڑی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کا حل اگر دین کی رہنمائی میں نہیں دیا جائے گا، تو اس خلا کو اجنبی تصورات کے ذریعے پُر کرنے کی جو منظّم کوشش پہلے ہی سے جاری ہے وہ مزید برگ و بار لائے گی ؎
دریچوں تک چلے آئے تمھارے دور کے خطرے
ہم اپنی کھڑکیوں سے جھانکنے کا حق بھی کھو بیٹھے!