پچھلے کچھ عرصے سے ہماری اعلیٰ عدلیہ نے نکاح، طلاق اور وراثت سے متعلق امور میں کچھ ایسے فیصلوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن کے ذریعے خاندان اور معاشرے کی ساخت میں دُوررس تبدیلیاں واقع ہونے کا امکان ہے۔
مثال کے طور پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سیّدمنصور علی شاہ نے نفقہ اور بچے کی حضانت جیسے مسئلوں پر بعض ایسے فیصلے کیے جن کی بنیاد اسلامی قانون کےاصولوں پر نہیں تھی، بلکہ انھوں نے بعض بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے مسلمانوں کے شخصی قانون میں سمونے کی کوشش کی[مثلاً دیکھیے: محمد نواز بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ (PLD ۲۰۲۳ء سپریم کورٹ ۴۶۱)، ڈاکٹر محمد آصف بنام ڈاکٹر ثنا ستار (CRP ۴۵۸ بابت ۲۰۲۴ء)]۔ اسی طرح سپریم کورٹ میں یہ رجحان جسٹس عائشہ ملک اور سابق جج جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلوں میں بھی نظر آتا ہے۔ [مسماۃ فاخرہ جبین بنام واصف علی (CPLA ۷۶۸ بابت ۲۰۲۲ء)، راجا محمد اویس بنام مسماۃ نازیہ جبین (SCMR ۲۱۲۳، بابت۲۰۲۲ء)]۔
ان فیصلوں میں پاکستان کے قانونی نظام کے یہ مسلّمہ اصول نظرانداز کیے گئے ہیں کہ: ’بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کو پاکستان کی عدالتیں اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتیں، جب تک ان دفعات کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے قانون کا حصہ نہ بنایا جائے‘ اور یہ کہ ’جب ایسی قانون سازی ہو جائے تو اس کے بعد بھی اس قانون کی ایسی تعبیر لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو‘۔
یہ رجحان صرف سپریم کورٹ میں ہی نہیں بلکہ عدالت ہائے عالیہ کے کئی جج اسی نہج پر فیصلے دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۲۰۲۲ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ایک مقدمے میں کم عمری کے نکاح کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر جنسی تشدد (rape) کے قانون کا بھی اطلاق کردیا اور ایسا کرتے ہوئے فاضل جج نے اسلامی جمہوریہ میں ایک مسلم جوڑے کے نکاح پر انگریزی قانونِ عقد کے اصولوں کا اطلاق کیا[ مسماۃ ممتاز بی بی بنام قاسم (PLD ۲۰۲۲ اسلام آباد ۲۲۸) ]۔
اس فیصلے کے بعد وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک کمیٹی بنائی جس میں مجھے بھی شامل کیا گیا۔ میں نے اپنے تفصیلی تجزیے میں یہ رائے پیش کی کہ آئین و قانون کے بنیادی اصول نظر انداز کرنے کی بنا پر اس فیصلے کو ’لازمی نظیر‘ کی حیثیت حاصل نہیں ہے، نیز اس موضوع پر عدالت ہائے عالیہ کی جانب سے باہم متعارض فیصلوں کی بنا پر کسی ایک فیصلے پر عمل درآمد ممکن بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے اس موضوع پر تفصیلی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ میری ان دونوں تجاویز کو کمیٹی نے اپنی سفارشات میں شامل تو ضرور کیا، مگر یہ معاملہ یہاں پر نہیں رُکا۔
مسلم عائلی قوانین میں دوررس تبدیلیوں کےلیے ایک ہمہ جہتی اور منظّم کوشش جاری ہے۔ چنانچہ لاہور ہائی کورٹ میں عائلی امور کے متعلق بعض مقدمات میں ایک جانب یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ ’نکاح نامے میں ’مہر‘ اور ’نفقہ‘ کے متعلق بعض اضافے کیے جائیں تو اس کے نتیجے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف یہ درخواست بھی کی گئی کہ میاں بیوی کے درمیان ’شادی کے اثاثوں‘ کی ’منصفانہ تقسیم‘ کےلیے حکومت کو قانون سازی کا کہا جائے۔
ایسے ہی ایک مقدمے میں جسٹس جواد حسن نے کئی ’عدالتی معاونین‘ کو سننے کے بعد ۲۰۲۵ء میں ایک کمیٹی بنائی اور وفاقی وزارتِ قانون کو حکم دیا کہ وہ اس کمیٹی کے اجلاس منعقد کروانے کے بعد اس کی سفارشات عدالت میں پیش کرے [مسماۃ صائمہ شفیع بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج (رٹ درخواست نمبر ۵۲۶ بابت ۲۰۲۱ء) ]۔ انھوں نے وفاقی وزارتِ قانون کے سیکرٹری کو کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور صوبہ پنجاب کی وزارتِ قانون کے سیکرٹری، اسلامی نظریاتی کونسل، خواتین کی حیثیت پر قومی کمیشن، پاکستان بار کونسل اور ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب کے ادارے کے نمائندوں کے علاوہ مجھے بھی ارکان میں شامل کیا، نیز حکم دیا کہ ایک رکن ’سول سوسائٹی‘ سے لیا جائے۔ کمیٹی کے سربراہ نے اس مقصد کےلیے ’مساوی‘ نام کی غیر سرکاری تنظیم سے نمائندہ چنا [مساوی کی ویب سائٹ (www.musawi.org) کے مطابق: ’’یہ ایک خودمختار تنظیم ہے، جو شواہد پر مبنی قانونی اور پالیسی اصلاحات کو فروغ دیتی ہے تاکہ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکے]۔
اس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں معلوم ہوا کہ ’شادی کے اثاثوں‘ کے مسئلے پر جناب سینیٹر علی ظفر نے پہلے ہی سینیٹ میں ایک مسودۂ قانون پیش کیا ہوا تھا جسے سٹینڈنگ کمیٹی نے منظور نہیں کیا تھا۔ اب اسی مسودے کو ہائی کورٹ کی بنائی ہوئی اس کمیٹی کے ذریعے منظور کرانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سے زیادہ گفتگو وہ وکلا کررہے تھے، جو ہائی کورٹ کے سامنے مقدمات میں اپنے موکلوں کی نمائندگی کررہے تھے۔ اس پر میں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کمیٹی کے سربراہ سے کہا کہ وہ یقینی بنائیں کہ گفتگو کمیٹی کے ارکان ہی کریں، اور جہاں دیگر افرادگفتگو کرنا چاہیں، تو وہ اجازت لے کر بات کریں۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی، لیکن دوسرے اجلاس میں بھی معاملہ اسی طرح چلتا رہا۔ اس پر میں نے اپنے تحفظات تحریری صورت میں پیش کیے اور اس کے بعد کمیٹی کا اجلاس تا حال نہیں ہوسکا۔
اس دوران میں ’شادی کے اثاثوں‘ کے متعلق ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ دیا اور حکومت کو ’سفارش‘ کی کہ وہ باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے شادی کے بعد بیوی کو شوہر کی جائیداد اور اثاثوں میں شریک قرار دے کر ’منصفانہ حصہ‘ دلوائے[ مسماۃ عمارہ وقاص بنام وقاص رشید (رٹ درخواست ۳۶۵ بابت ۲۰۲۳ء)]۔ اس نتیجے تک پہنچنے کےلیے فاضل جج نے عدالت کی معاونت کی ذمہ داری پھر مذکورہ بالااین جی او ’مساوی‘ نامی تنظیم ہی کو دی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس منصور نے جس فیصلے میں نفقہ کے متعلق اسلامی قانون کے اصول نظرانداز کیے، اس میں بھی انھوں نے عدالتی معاون کی ذمہ داری اسی تنظیم کو سونپی تھی۔ یہ رویے دیکھ کر، اس احساس اور خیال کو تقویت پہنچتی ہے کہ ایسے فیصلوں کے پیچھے منظّم جدوجہد اور لابنگ کارفرما ہوتی ہے، جب کہ ہمارا مذہبی طبقہ عموماً سانپ کے گزر جانے کے بعد ردعمل میں محض لکیر پیٹتا ہی رہ جاتا ہے۔
پاکستان میں عائلی نظام کی ’عدالتی انجینئرنگ‘ اتنی آسانی سے کیوں ممکن ہوجاتی ہے؟ اس سوال کے جواب کےلیے ذرا پیچھے جا کر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دورِ غلامی میں انگریزوں نے یہ نظام کن بنیادوں پر قائم کیا تھا اور اُن کے چلے جانے کے تقریباً ۸۰ برس بعد اب یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
انگریزوں نے جب برصغیر میں اپنا قانونی نظام رائج کیا، تو آغاز انھوں نے محصولات کے قانون میں تبدیلیوں سے کیا، پھر دیوانی قانون اور فوجداری قانون کی طرف توجہ کی۔ تاہم مسلمانوں کے عائلی قانون میں انھوں نے عمومی طور پر عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کی۔ چنانچہ ابتدا میں عائلی تنازعات کے فیصلے دورِ سلاطین اور مغل عہد سے فرائض انجام دیتے چلے آنے والے مسلمان قاضی ہی کرتے رہے۔ بعد میں ان قاضیوں کی جگہ جج مقرر کیے گئے، لیکن چونکہ ان ججوں کو اسلامی قانون کا علم نہیں تھا، اس لیے ان کی معاونت کےلیے ’مفتی‘ مقرر کیے گئے۔ پھر کچھ عرصے بعد مسلمانوں کی اہم فقہی کتابوں کے انگریزی تراجم کیے گئے تو مفتیوں پر انحصار بھی ختم ہوگیا۔ اسی طرح انگریزوں کے دور میں ججوں نے بطورِ اصول یہ طے کیا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کےلیے وہ اپنا ’فہمِ شریعت‘ نافذ کرنے کے بجائے مقدمے کے فریقوں کے ’فقہی مذہب‘ کی پابندی کریں گے۔ چنانچہ سُنّی مسلمانوں کے فیصلوں کےلیے ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیریہ اور اہلِ تشیع کے فیصلوں کےلیے شرائع الاسلام میں حکم دیکھا جاتا۔ اگر فریقین کا تعلق الگ فقہی مذاہب سے ہوتا، تو یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ ایسے معاملے میں مدعا علیہ کے فقہی مذہب پر فیصلہ کیا جاتا۔ [مسماۃ عزیزہ بانو بنام علی محمد ابراہیم (AIR ۱۹۲۵، الٰہ آباد ۷۲۰)]
فقہی کتابوں کے تراجم میں بھی مسائل تھے اور بعض اوقات ان کتابوں میں مذکور قانونی اصولوں کے فہم میں ججوں سے بھی غلطیاں ہوئیں، لیکن عمومی طور پر وہ متعلقہ فقہی مذہب کی پابندی کی کوشش کرتے رہے، اور اس وجہ سے عموماً کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا، سوائے ان صورتوں کے جن میں ججوں نے اسلامی قانون کے کسی حکم کو اپنے ’تصورِ انصاف‘ کے خلاف سمجھ کر اسے موڑنے کی کوشش کی۔ ’وقف علی الاولاد‘ کے متعلق پریوی کونسل کا فیصلہ اس کی ایک مثال ہے،[ ابو الفتح محمداسحاق بنام رسمایہ دھر چودھری ، (۱۸۹۴) IA، جلد۲۲، ص۷۶]۔ جس کے بعد قائد اعظم کی کوششوں سے ۱۹۱۳ء میں ’وقف ایکٹ‘ نے مسلمانوں کے اوقاف کو تحفظ دیا۔
انگریزوں کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ تھا کہ آزادی سے قبل نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ امور پر ’قانون سازی‘ بہت کم کی گئی۔ عام طریقہ یہی رہا کہ عدالتیں ’شریعت‘ پر فیصلے کرتی تھیں اور ’شریعت‘ سے مراد مقدمے کے فریقوں کا ’فقہی مذہب‘ ہوتا تھا۔
تاہم، قیامِ پاکستان کے بعد عائلی قوانین کے نظام میں ’اصلاحات‘ کےلیے جو کمیشن قائم کیا گیا، اس میں صرف ایک عالم دین تھے مولانا احتشام الحق تھانوی [م:۱۹۸۰ء] اور اس کمیشن کے دیگر ارکان کو اسلامی قانون کے مبادیات کا بھی علم نہیں تھا۔ چنانچہ جب اس کمیشن کی رپورٹ آئی، تو اس پر علمی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید ہوئی اور اسے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ تاہم، کچھ عرصے بعد جنرل ایوب خان نے مارشل لا کے دوران ۱۹۶۱ء میں ایک آرڈی نینس کے ذریعے عائلی قوانین کے بعض امور میں ایسی تبدیلیاں کیں، جن کی کوئی بنیاد اسلامی قانون میں موجود نہیں تھی۔ پھر ۱۹۶۷ء میں سپریم کورٹ کا مشہور فیصلہ ’خورشید بی بی بنام بابو محمد امین‘ آیا جس میں قرار دیا گیا کہ عدالت کےلیے فقہی مذاہب کی پابندی ضروری نہیں اور وہ براہِ راست قرآن و سنت کی تعبیر کےلیے ’اجتہاد‘ کرسکتی ہے۔[دیکھیے مسماۃ خورشید بی بی بنام بابو محمد امین، PLD ۱۹۶۷ سپریم کورٹ ۹۷ ]۔ اس کے بعد عدالتی فیصلوں میں ’اجتہاد‘ کے نام پر اسلامی قانون کے اصولوں کو نظرانداز کرکے براہِ راست قرآن و سنت کی آزادانہ اور بے مہار تعبیر کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ’نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں‘ والی صورت بن گئی۔
پس، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عائلی قوانین پر ہمارے ہاں تفصیلی قانون سازی کی عدم موجودگی میں ججوں کےلیے ’اجتہاد‘ کے نام پر میدان خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر متعلقہ اُمور پر ہمارے ہاں تفصیلی قوانین موجود ہوتے، تو مرضی کے فیصلوں کی گنجائش کم ہوتی۔ تاہم، یہ سوال اس کے بعد بھی رہتا کہ یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ قانون سازی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو؟
ہم نے قانون سازی کے معاملے میں بھی دیکھا ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے باقاعدہ منظّم جدوجہد کی جاتی ہے،جب کہ مذہبی طبقہ اس منظرنامے سے عموماً لاتعلق رہتا ہے اور اس وقت ہوش میں آتا ہے جب قانون سازی ہوچکی ہوتی ہے، اور اس کے بعد اس کی توجہ صرف ان دفعات کے منسوخ کرانے کی مہم اور احتجاج پر ہوتی ہے جو اسلامی اصولوں سے ’متصادم‘ ہوں۔ اس کےلیے بھی طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ’ماوراے صنف اشخاص‘ کے متعلق قانون ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ ۲۰۱۸ء اس کی ایک بڑی واضح مثال ہے۔ تینوں بڑی سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں (پیپلز پارٹی، نون لیگ،تحریک انصاف) کے ارکانِ پارلیمنٹ کو باقاعدہ لابنگ کے ذریعے اس قانون سازی کےلیے تیار کیا گیا، جب کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی خاص منظم، مربوط اور مسلسل مزاحمت نہیں ہوسکی (تفصیل دیکھیے: محمد مشتاق احمد، ’ٹرانس جینڈر اشخاص کے تحفظ کا قانون: ایک تجزیاتی مطالعہ‘، مجلۂ تعلیم و تحقیق، ۴ (۲۰۲۲ء)، ص۲۱-۴۷ )۔
قانون بن چکنے کے بعد جماعتِ اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس میں ترامیم، اور پھر اس کی مکمل منسوخی، کےلیے بھرپور جدوجہد کی، لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ عدالتی محاذ پر ۲۰۲۳ء میں کامیابی یوں ملی کہ وفاقی شرعی عدالت نے اس قانون کی بعض دفعات کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دیا، لیکن اس فیصلے کے خلاف اپیلیں چونکہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں معلق ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مؤثر نہیں ہے اور یہ قانون بدستور ملک میں نافذ ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے میں فاضل جج نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اسلامی قانون کی رُو سے شوہر اور بیوی الگ الگ قانونی شخصیت رکھتے ہیں اور شوہر کو بیوی کے مال پر، یا بیوی کو شوہر کے مال پر مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ انھوں نے شوہر پر بیوی کے حقِ مہر اور نفقہ کی ذمہ داری کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی لکھا کہ ’’کسی باقاعدہ معاہدے کی عدم موجودگی میں دونوں کے درمیان شراکت بھی فرض نہیں کی جاسکتی‘‘۔ اس کے باوجود یہ قرار دے کر کہ ’’ہر وہ چیز جائز ہے جس سے روکا نہیں گیا‘‘، انھوں نے حکومت کو یہ سفارش دے دی! جس اصول کا انھوں نے حوالہ دیا اس کا اطلاق ’چیزوں‘ سے ’فائدہ اٹھانے‘ پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی شخص کےلیے ’حق‘ یا ’استحقاق‘ قائم کرنے پر، اور ’چیزوں‘ پر بھی اس اصول کے اطلاق سے بہت ساری استثنائی صورتیں ہیں۔
حیرت کا مقام ہے کہ ملکیت اور شراکت کے متعلق اسلامی قانون کے واضح اصولوں کی موجودگی میں فاضل جج کیسے یہ کہہ سکتے تھے کہ ’’اسلامی قانون بیوی کو شوہر کے مال میں شریک قرار دینے سے نہیں روکتا‘‘۔ کیا اسی طرح شوہر کو بیوی کے مال کا شریک مالک قرار دیا جاسکتا ہے؟ بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل جج نے یہ بات بھی نظر انداز کی کہ بین الاقوامی معاہدات کو پاکستان کی عدالتیں اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتیں، جب تک انھیں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے قانون کا حصہ نہ بنایا جائے۔ انھوں نے اس پہلو سے بھی تجزیہ نہیں کیا کہ جن دیگر ممالک نے ایسی قانون سازی کی ہے، کیا ان کا قانونی نظام انھی اصولوں پر قائم ہے، جو پاکستان کے قانونی نظام کی بنیاد ہیں؟
اُوپر ہم نے اس موضوع پر سینیٹر علی ظفر کے مسودے کا ذکر کیا ہے۔ اس مسودے کو ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ نے دو پہلوؤں سے اسلامی احکام کے خلاف قرار دیا تھا: ایک یہ کہ اس سے شوہر کے حقِ ملکیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اور دوسرا یہ کہ یہ وراثت کے قانون کے خلاف ہے۔ یہ اصول مسلّم ہے کہ کسی شخص کی مرضی کے بغیر کسی دوسرے شخص کو اس کے مال میں شریک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بالکل اسی طرح شوہر کی وراثت میں بیوی کے لیے، اور بیوی کی وراثت میں شوہر کے لیے شریعت نے مخصوص حصہ مقرر کیا ہے، جس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے۔
تاہم، اس مسئلے کے کئی دیگر پہلوؤں پر بھی بحث ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ ’شادی کے اثاثوں‘ میں میاں بیوی کو ’شریک‘ قرار دینا اس مفروضے پر مبنی ہے کہ یہ اثاثے دونوں نے مل کر بنائے ہیں۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی ’شراکت‘ کسی ’عقد‘ کے بغیر وجود میں آسکتی ہے؟ ملک میں انگریزوں کے وقت سے رائج ’قانونِ شراکت ۱۹۳۲ء‘ میں ہی دیکھ لیجیے کہ شراکت کسی عقد کے بغیر، محض ’حیثیت‘ (status) سے وجود میں نہیں آتی، یہاں تک ’ہندو مشترکہ خاندان کا کاروبار‘ بھی شراکت نہیں ہے۔ پھر اگر ایسی شراکت فرض بھی کی جائے، تو ایسی شراکت صرف میاں بیوی تک ہی کیوں محدود رہے؟ اس شراکت میں شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائی کیوں شامل نہیں؟ والد کے متعلق تو حدیث مبارک میں تصریح بھی ہے کہ ’’تم اور تمھارا مال ،تمھارے والد کا ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات)
جہاں تک میاں بیوی کے رشتے کا تعلق ہے، تو اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ شوہر ’قوّام‘ (Protector, Maintainer, Sustainer)ہے۔ اس وجہ سے اس پر بیوی کا ’نفقہ‘ بھی واجب ہوتا ہے (سورۃ النساء۴:۳۴) اور ’مہر‘ بھی (سورۃ النساء ۴: ۲۴)، یہاں تک کہ جب صرف نکاح ہوا ہو اور ازدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل ہی ’طلاق‘ ہوجائے تب بھی اس پر ’نصف مہر‘ کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے (سورۃ البقرۃ ۲: ۲۳۱)، بلکہ اگر ’مہر‘ مقرر نہ کیا گیا ہو اور نکاح کے بعد اَزدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل طلاق ہوجائے، تب بھی اس پر واجب ہوتا ہے کہ اپنی مالی وسعت کے مطابق اس خاتون کو کچھ تحفے تحائف (متاع) دے کر رخصت کرے(سورۃ البقرۃ ۲:۲۳۰)۔ اس تعلق کو شوہر کی ’قوّامیت‘ کے بجائے میاں بیوی کے درمیان کاروباری شراکت کے اصولوں پر قائم کرنے سے خاندانی نظام کا پورا تصور ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔
اس پیوندکاری کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات ہماری عدالتیں بیوی کی جائیداد پر شوہر کے لیے مالکانہ تصرف مان لیتی ہیں۔ مثلاً ایک مقدمے میں مسئلہ یہ تھا کہ خاتون کے لیے ’حق مہر‘ کے طور پر جائیداد اس کے سسر کی جانب سے لکھی گئی تھی، حالانکہ وہ اس کی ساس کی ملکیت میں تھی، اور اس کے باوجود پشاور ہائی کورٹ نے اسے نافذ قرار دیا تھا۔ اپیل میں جب معاملہ سپریم کورٹ میں آیا، تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ ’’یہ تو انگریزی قانون کا اصول ہے کہ میاں بیوی ایک ہی قانونی وجود رکھتے ہیں اور یہ کہ شادی کے بعد بیوی کی شخصیت شوہر کی شخصیت میں گم (coverture) ہوجاتی ہے،جب کہ اسلامی قانون کی رو سے بیوی اور شوہر الگ الگ قانونی حیثیت اور شخصیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے اپنے اپنے مال پر الگ الگ ملکیت رکھتے ہیں، جیساکہ سورۃ النساء، آیت ۳۲ میں تصریح بھی ہے‘‘۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’’ہمارے بعض جج لاشعوری طور پر انگریزی قانون کے اصولوں سے متاثر ہوتے ہیں‘‘۔[ فواد اسحاق بنام مسماۃ مہرین منصور ( PLD ۲۰۲۰ سپریم کورٹ ۲۶۹) ]
کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ فیصلے سے بھی یہی مذکورہ بالا تاثر نہیں ملتا؟
ہمارے فاضل ججوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ شادی کے بندھن پر کاروبار، نوکری اور پنشن کے اصول لاگو کرنے کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ اور اس سے ہمارا پورا خاندانی نظام کیسے درہم برہم ہوسکتا ہے؟ بلاشبہہ خواتین کو درپیش مسائل حقیقی ہیں اور ان کا حل بھی ضروری ہے، لیکن اس کے لیے شریعت کے دوسرے احکام کی خلاف ورزی کیسے جائز قرار دی جاسکتی ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل کا حل اسلامی اصولوں کی روشنی میں ہی متعین کیا جائے۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شریعت نے عورت کے لیے وراثت میں حصے مقرر کرکے اسے ملکیت کا جو حق دیا ہے وہ بہت سے دین دار گھرانوں میں بھی خواتین کو میسر نہیں ہوتا، اور اگر کبھی انھیں ان کے شرعی حصے دیے بھی جائیں، تو ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات ختم کردیے جاتے ہیں۔ غیر شادی شدہ خاتون اگر کاروبار کرے، تو عموماً اس کے کاروبار پر اس کے بھائیوں کا قبضہ ہوتا ہے اور اگر شادی شدہ ہو، تو کاروبار شوہر کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ نوکری کی صورت میں بھی اس کی تنخواہ دوسروں کے تصرف میں ہوتی ہے۔ اگر وہ گھریلو خاتون ہو جو نوکری یا کاروبار کے بجائے ساری توجہ اور توانائی گھر پر صرف کرے، تو اس صورت میں تو وہ ویسے ہی دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ طلاق کو ہمارے معاشرے میں کلنک کا ٹیکہ سمجھا جاتا ہے اور مطلّقہ خاتون کے لیے اس کے اپنے سگے بہن بھائی بھی اجنبی ہوجاتے ہیں۔ بیوہ کا حال اس سے بھی برا ہوتا ہے، دوبارہ شادی آسانی سے نہیں ہوتی اور اسے والدین یا بھائیوں کے گھروں میں ’دوسرے درجے کے شہری‘ کی طرح زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کو ان باتوں میں مبالغہ لگتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ بہت سے خاندانوں میں صورتِ حال ایسی نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسائل اسلامی احکام پر عمل کرنے سے پیدا ہوئے ہیں یا ان کی خلاف ورزی سے پیدا ہوئے ہیں؟ ان مسائل کا حل اسلامی قانون کی ایک اور خلاف ورزی میں تلاش کرنا چاہیے، یا حل اسلامی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں ہے؟
دیگر ممالک سے ہی تصورات ادھار لینے ہیں، تو اردن میں موجود ان دو اداروں کی طرف کیوں نہ دیکھا جائے، جو اسلامی قانون کے اصولوں پر مبنی ہیں اور عثمانی خلافت کے دور سے رائج ہیں؟ ’قاضی حقوق القاصرین‘ کا کام اپنے زیر اختیار علاقے میں ان لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، جو خود اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے، جیسے یتیم، بیوہ، مطلقہ وغیرہ۔ جب کہ ’الاصلاح الاسری‘ کا تعلق خاندانی تنازعات کے غیر عدالتی حل سے ہے۔ حیرت ہے کہ ہر معاملے میں ’تنازعات کے متبادل حل‘ پر زور دینے والے ہمارے بہت سے فاضل جج حضرات گرامی کی توجہ اس امر کی طرف کیوں نہیں جاتی کہ عائلی تنازعات میں ہمارے رائج الوقت قانون نے ’اصلاح‘ اور ’متبادل حل‘ کا دائرہ بہت ہی محدود کیا ہوا ہے اور اس وجہ سے ہر چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ عدالت میں جا پہنچتا ہے جہاں اس کے فیصلے میں، نہ کہ حل میں، کئی کئی سال لگ جاتے ہیں!
لوگ بجا طور پر سوال اٹھاتے ہیں کہ بہت ساری خواتین کو مہر یا نفقہ ادا نہیں کیا جاتا، لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارا قانونی نظام خواتین کو یہ حقوق دینے میں کیوں ناکام ہے؟
شریعت نے بیوی کا نفقہ شوہر پر لازم کیا ہے، اس لیے فقہائے کرام نے یہ تفصیل بھی دی ہے کہ شوہر کو اس کی ادائیگی پر قانوناً کیسے مجبور کیا جائے گا؟ عام حالات میں نفقہ کی کوئی مقررہ مقدار نہیں ہے، اور شوہر کو اپنی مالی وسعت اور بیوی کی ضروریات کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن اگر میاں بیوی نے سمجھوتے کے ذریعے، یا قاضی نے اپنے فیصلے میں، کوئی مقدار مقرر کرلی ہے، تو وہ مقدار شوہر کے ذمے واجب ہوجاتی ہے اور عدم ادائیگی کی صورت میں وہ اس کے خلاف جمع ہوتی جاتی ہے، جسے بعد میں اکٹھا بھی وصول کیا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ قاضی اپنے فیصلے میں بیوی کو یہ اجازت بھی دے سکتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کی چیزیں شوہر کے کھاتے میں خرید سکتی ہے اور شوہر کی وفات کی صورت میں ایسے قرض کی ادائیگی اس کے ترکے سے کی جائے گی۔
یاد رہے، نکاح اور اس سے متعلق امور، جن میں نفقہ بھی شامل ہے، کے بارے میں ہمارے ہاں مسلم شخصی قانون (شریعت) کے اطلاق کے قانون۱۹۶۲ء، کی دفعہ ۲ نے یہ اصول طے کیا ہے کہ ان کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرنا لازم ہے۔ حیرت ہے کہ پھر کیوں عدالتیں ’ماضی کا نفقہ‘ (past maintenance) لازم کروانے کے لیے اسلامی اصول نافذ کرنے کے بجائے ہمارے نظام میں اجنبی تصورات کی پیوندکاری کرنا چاہتی ہیں؟
ڈیڑھ سو سال سے پہلے جب عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ’شادی ایک سول معاہدہ ہے‘، تو اس کے نتائج آج تک ہمارا معاشرہ بھگت رہا ہے۔ اب جب کہ عدالتیں اس معاہدے کو ’شراکتی کاروبار‘ قرار دے رہی ہیں، تو سوچ لینا چاہیے کہ اس کی قیمت کیا ہوگی؟
راجا عامر خان بنام وفاقِ پاکستان(PLD ۲۰۲۳ سپریم کورٹ ۳۹۹) میں سپریم کورٹ کے ’فل کورٹ بنچ‘ نے سماعت کی، اور اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھتے ہوئے اس اصول کا ذکر کیا کہ آئینی دفعات کی تعبیر میں بھی وہ تعبیر اختیار کرنا لازم ہے، جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ آٹھ دیگر ججوں نے ان کے ساتھ اتفاق کیا۔ چھ ججوں نے فیصلے کے بعض دیگر پہلوؤں سے تو اختلاف کیا، لیکن اس اصول سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ یوں نو ججوں کی تصریح اور چھ ججوں کی خاموشی نے اس اصول کو ایسی قطعی حیثیت دے دی ہے کہ اس سے انحراف اب ناممکن حد تک مشکل ہوگیا ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے جج اور وکلا اس فیصلے کے بعد اس اجماعی اصول کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں؟ اور بالخصوص نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر ’شخصی اُمور‘ میں ’شریعت‘ ہی کو ’فیصلے کے قانون‘ کی حیثیت حاصل ہے (مسلم شخصی قانون ۱۹۶۲ء، دفعہ ۲)، نیز شخصی امور میں مختلف فرقوں کے فہمِ شریعت کو آئینی تحفظ حاصل ہے (آئین کی دفعہ ۲۲۷ کی توضیح) اور وفاقی شرعی عدالت سمیت کوئی عدالت ان امور میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ [ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل بنام وفاقِ پاکستان (PLD ۱۹۹۴ سپریم کورٹ ۶۰۷) ]
ان اصولوں کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارے فاضل جج حضرات اور وکلا کو اسلامی احکام کی تفصیلی تعلیم دی جائے اور ججوں اور وکلا کی ٹریننگ میں اسلامی قانون اور اس کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ ہمارے جج اگر براہِ راست قرآن و سنت کی تعبیر کرنا چاہتے بھی ہیں، تو اس کےلیے اسلامی قانون کے اصولوں میں مہارت ضروری ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون کی تدریس کا نصاب وہی ہے جو انگریزوں کے دور سے چلا آرہا ہے ۔
اس کے علاوہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ امور پر صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمان کے ذریعے تفصیلی قانون سازی کےلیے بھرپور اور منظّم جدوجہد کی جائے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے محترم مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے ملاقات میں درخواست کی تھی کہ وہ شریعت اور قانون کے ماہرین سے ایسے قانون کا مسودہ بنوانے اور پھر مذہبی سیاسی جماعتوں کے ذریعے اسے باقاعدہ قانون کی صورت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے خوش خبری دی کہ وہ پہلے ہی سے اس سمت میں کام کررہے ہیں اور قانون کا مسودہ تقریباً تیار ہوچکا ہے۔
دینی رہنمائی فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام پہلے ہی بگڑ چکا ہے اور خاندان کا بنیادی ادارہ بڑی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کا حل اگر دین کی رہنمائی میں نہیں دیا جائے گا، تو اس خلا کو اجنبی تصورات کے ذریعے پُر کرنے کی جو منظّم کوشش پہلے ہی سے جاری ہے وہ مزید برگ و بار لائے گی ؎
دریچوں تک چلے آئے تمھارے دور کے خطرے
ہم اپنی کھڑکیوں سے جھانکنے کا حق بھی کھو بیٹھے!
جنوبی بھارت کی ریاست کرناٹکا میں حجاب کے تنازعے میں آخرکار بات ہائی کورٹ تک جاپہنچی، کیونکہ کئی درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ میں رٹ درخواستیں دائر کردی تھیں۔ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ عدالت میں لے جانے کے بجائے سیاسی طور پر دباؤ بڑھا کر مسئلہ حل کرنا ہی مناسب تھا۔ لیکن میری راے یہ ہے کہ عدالت میں جانے سے بھارت کے آئین کے تحت دیے گئے سیکولر بندوبست کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی جسے بھارت کے بہت سارے مسلمان اپنے دینی شعائر اور تصورات کی حفاظت کےلیے کافی سمجھتے تھے۔
کرناٹکا ہائی کورٹ کے ۱۵ مارچ ۲۰۲۲ء کے زیرنظر فیصلے نے واضح کردیا کہ ’سیکولرزم‘ کا مطلب مذہبی رواداری نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ’مذہب کو غیر مذہبی تصورات اور اقدار کے ماتحت رکھ کر مذہب کو محدود کردینا ہے‘۔ اس فیصلے نے یہ حقیقت بھی آشکارا کردی ہے کہ سیکولرزم کسی مذہب کو صرف اسی حد تک برداشت کرسکتا ہے، جس حد تک وہ غیر مذہبی اقدار کی بالادستی کےلیے خطرہ نہ بنے۔ دوسرے لفظوں میں سیکولرزم اپنے فلٹر میں سے گزار کر ہی مذہب کو قابلِ برداشت مان سکتا ہے، اور مذہب کا جو حصہ اس فلٹر میں سے نہ گزر سکے، اسے ریاستی جبر کے ذریعے کچل دینا، سیکولر ریاستی بندوبست میں ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مذہب کی وہی تعبیر سیکولر بندوبست کے تحت قابلِ قبول ہوسکتی ہے جو سیکولر بندوبست کے ساتھ متصادم نہ ہو۔ چنانچہ اس لحاظ سے یہ فیصلہ نہایت خوش آیند ہے کہ اس نے سیکولرزم اور مذہب کے تعلق کی حقیقت واضح کردی ہے۔
اس مضمون میں زیربحث فیصلے کے اہم نکات پر مختصر تبصرہ کیا جائے گا، لیکن اس سے قبل اس مقدمے کے متعلق چند بنیادی حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے:
اس مقدمے میں سات مختلف رٹ درخواستیں دائر کی گئی تھیں:
ایک درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ’’عدالت، اسکول اور دیگر حکام کو حکم جاری کردے کہ وہ درخواست گزار خواتین کو کلاس روم میں حجاب پہننے سے نہ روکے، کیونکہ حجاب ان کے مذہب (اسلام) کا لازمی حصہ ہے ،جس کی حفاظت کی ضمانت بھارت کے آئین میں دی گئی ہے‘‘۔
دوسری درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ’’اسکول انتظامیہ، ان افراد کے خلاف انکوائری کروائے جن کی وجہ سے حجاب کا تنازعہ پیدا ہوا‘‘۔
تین درخواستوں میں حکومت کے اس حکم نامے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی، جس کی بنا پر حجاب کا تنازعہ اٹھا، جب کہ دو درخواستیں ’عوامی مفاد کا مقدمہ‘ (public interest litigation) کی نوعیت کی تھیں، جن میں ایک میں استدعا کی گئی تھی کہ ’’عدالت قرار دے کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت ہے بہ شرطے کہ وہ یونیفارم بھی پہنیں‘‘، جب کہ دوسری درخواست میں ’’بعض ’بنیاد پرست‘ مسلمان تنظیموں اور جماعتِ اسلامی کے خلاف تحقیقات کی استدعا‘‘ (ص۳۲) کی گئی تھی۔
کرناٹکا ہائی کورٹ میں پہلے ایک جج (جسٹس کرشنا ڈکشٹ) نے درخواستیں سنیں، لیکن معاملے کی اہمیت کے پیشِ نظر انھوں نے اسے چیف جسٹس (جسٹس ریتو راج اوستھی) کے سامنے رکھا کہ ’’اس کے متعلق بڑا بنچ تشکیل دینے کے بارے میں فیصلہ کریں۔ چیف جسٹس نے تین رکنی بنچ تشکیل دیا، جس کی سربراہی خود انھوں نے کی اور جسٹس کرشنا ڈکشٹ کے علاوہ مسٹر جسٹس جے ایم قاضی کو بنچ میں شامل کیا۔ درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ چیف جسٹس نے لکھا، جس سے دیگر دو ججز نے اتفاق کیا۔
فیصلے کا آغاز چیف جسٹس صاحب نے ایک مضمون کے اقتباس (ص۱۶)سے کیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مضمون کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ حجاب کی بنیاد پر خواتین کے خلاف امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے، اسی مضمون سے وہ اقتباس لیا جارہا ہے، جہاں یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ ’’حجاب نہ تو اسلام کا کوئی لازمی حکم ہے، نہ اس کا ضمیر کی آزادی یا اظہار کی آزادی کے حقوق سے کوئی تعلق ہے!‘‘ بہرحال اقتباس اہم ہے، اس لیے اسے یہاں نقل کیے دیتے ہیں:
The hijab’s history, is a complex one, influenced by the intersection of religion and culture over time. While some women no doubt veil themselves because pressure put on them by society, others do so by choice for many reasons. The veil appears on the surface to be a simple thing. That simplicity is deceiving, as the hijab represents the beliefs and practices of those who wear it or choose not to, and the understandings and misunderstandings of those who observe it being worn. Its complexity lies behind the veil.(Sara Slininger, "Veiled Women: Hijab, Religion and Cultural Practice", Historia, 2014, pp 67-68.
اس اقتباس میں جو موقف دیا گیا ہے، فیصلے میں اس کے بالکل برعکس موقف اختیار کیا گیا ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ چیف جسٹس صاحب نے یہ اقتباس تنقید کےلیے نقل کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ اس مضمون کی ان الفاظ میں تحسین فرماتے ہیں:’ well-researched article‘۔ آگے چل کر انھوں نے اس مضمون کا ایک اور اقتباس نقل کیا ہے اور وہاں بھی اس کے برعکس نتیجہ اخذ کرنے کےلیے کیا ہے۔ پہلے وہ اقتباس (ص ۶۹)دیکھ لیجیے:
Islam was not the first culture to practice veiling their women. Veiling practices started long before the Islamic Prophet Muhammad was born. Societies like the Byzantines, Sassanids, and other cultures in Near and Middle East practiced veiling. There is even some evidence that indicates that two clans in southwestern Arabia practiced veiling in pre-Islamic times, the Banū Ismāʿīl and Banū Qaḥṭān. Veiling was a sign of a women’s social status within those societies. In Mesopotamia, the veil was a sign of a woman’s high status and respectability. Women wore the veil to distinguish themselves from slaves and unchaste women. In some ancient legal traditions, such as in Assyrian law, unchaste or unclean women, such as harlots and slaves, were prohibited from veiling themselves. If they were caught illegally veiling, they were liable to severe penalties. The practice of veiling spread throughout the ancient world the same way that many other ideas traveled from place to place during this time: invasion. (حوالہ بالا)
یہاں مصنفہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ حجاب اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب اور ثقافتوں کا بھی حصہ رہا ہے۔ لیکن فاضل چیف جسٹس صاحب اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ’’حجاب، اسلام کا کوئی لازمی جزو نہیں ہے!‘‘ یہ منطقی مغالطہ اتنا واضح ہے کہ اس پر گفتگو کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
حجاب کے حق میں درخواستیں مسترد کرنے کےلیے عدالت نے اس مقدمے میں جو استدلال اختیار کیا ہے، اس کے بنیادی نکات یہ ہیں:
یہاں اس طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ فیصلے کے آخر میں عدالت نے بھارتی آئین کے مسودے کے لکھنے والوں میں اہم ترین شخصیت ڈاکٹر بی آر امبیڈکر [م:۱۹۵۶ء]کا جو اقتباس نقل کیا ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق عموماً اور حجاب کے متعلق خصوصاً ،عدالت بھی ڈاکٹر امبیڈ کر کی طرح کتنی متعصب تھی! اقتباس ڈاکٹر امبیڈ کر کی اس کتاب سے ہے ،جو ۱۹۴۵ء میں (یعنی تقسیمِ ہند سے قبل، جب تقسیم کے آثار نمودار ہوچلے تھے) شائع ہوئی، اور اس کتاب کا عنوان ہے: Pakistan or the Partition of India۔ کتاب کے دسویں مضمون کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ حجاب کا مسئلہ کیسے تقسیمِ ہند کے ساتھ جڑا ہوا ہے:
A woman (Muslim) is allowed to see only her son, brothers, father, uncles, and husband, or any other near relation who may be admitted to a position of trust. She cannot even go to the Mosque to pray, and must wear burka (veil) whenever she has to go out. These burka woman walking in the streets is one of the most hideous sights one can witness in India…The Muslims have all the social evils of the Hindus and something more. That something more is the compulsory system of purdah for Muslim women… Such seclusion cannot have its deteriorating effect upon the physical constitution of Muslim women… Being completely secluded from the outer world, they engage their minds in petty family quarrels with the result that they become narrow and restrictive in their outlook… They cannot take part in any outdoor activity and are weighed down by a slavish mentality and an inferiority complex…Purdah women in particular become helpless, timid…Considering the large number of purdah women amongst Muslims in India, one can easily understand the vastness and seriousness of the problem of purdah…As a consequence of the purdah system, a segregation of Muslim women is brought about.
عدالت یہ اقتباس نقل نہ بھی کرتی تو فیصلہ مکمل تھا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس اقتباس کو نقل نہ کیا جاتا تو تعصب کا اظہار ادھورا رہ جاتا: قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاۗءُ مِنْ اَفْوَاہِھِمْ۰ۚۖ وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ۰ۭ (آل عمران۳:۱۱۸) ’’ان کے دل کا بُغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے، اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں، وہ اس سے شدید تر ہے‘‘۔
اب ذرا اس حکم نامے پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے، جس سے اس تنازعے نے جنم لیا۔ ۵فروری ۲۰۲۲ء کو حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں قرار دیا گیا کہ ’’صوبے میں تمام اسکولوں میں یونیفارم کی پابندی ضروری ہے‘‘۔ یونیفارم کے تعین کےلیے چار طریقے بیان کیے گئے:
۱- سرکاری سکولوں کےلیے یونیفارم مقرر کرنے کا اختیار سرکار کے پاس ہے؛
۲- پرائیویٹ سکولوں میں سکول انتظامیہ یہ اختیار رکھتی ہے؛
۳- ماقبل یونی ورسٹی کالجز میں متعلقہ کالج کی بہتری یا نگرانی کےلیے قائم کی گئی کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہوگا؛ اور
۴- جہاں یونیفارم مقرر نہیں ہے، وہاں ایسا ’ڈریس کوڈ‘ (dress code) مقرر کیا جائے گا، جو ’مساوات اور یگانگت‘ (equality and integrity) کو یقینی بنائے اور جس سے ’امن عامہ‘ (public order) کو نقصان نہ ہو۔
درخواست گزار مسلمان لڑکیوں کی جانب سے بنیادی اعتراض یہ تھا کہ ’’حکومت یا سکول انتظامیہ کوئی ایسا یونیفارم ان پر جبری طور پر نافذ نہیں کرسکتی جس میں حجاب کی گنجایش نہ ہو‘‘۔ انھیں خصوصاً اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ ’’ماقبل یونی ورسٹی کالجز میں یونیفارم مقرر کرنے کا اختیار جس کمیٹی کو دیا گیا ہے اس میں مقامی سیاست دان بھی شامل ہیں، جو اس معاملے کو سیاسی رنگ دے کر اپنےلیے ووٹ کھرے کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ اسی طرح انھیں یہ بھی اعتراض تھا کہ ’’یونیفارم کے مسئلے کو امن عامہ کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے سے حکومت کے سیاسی عزائم آشکارا ہوتے ہیں کیونکہ وہ بجائے اس کے کہ لڑکیوں کو تنگ کرنے والے عناصر کو لگام ڈالے، الٹا لڑکیوں کو مجبور کررہی ہے کہ وہ اپنا لباس تبدیل کرلیں‘‘۔
پھر کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ عدالت نے اپنا سارا زور اس پہلو پر لگایا کہ ’’حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے اور ہو بھی تو اس کا تحفظ ثانوی حیثیت رکھتا ہے‘‘، لیکن حکومت کے سیاسی عزائم اور اسے امن عامہ کا مسئلہ بنانے کے سوالات کو یکسر غیر ضروری اور غیر اہم قرار دے کر ان کو نہایت مختصر انداز میں کیسے نمٹایا؟ اگر پہلے سوال کے بجائے بحث ان دو سوالات پر ہوتی، تو پہلے سوال پر آنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی اور اس حکم نامے کو بہ آسانی کالعدم قرار دیا جاسکتا تھا۔ لیکن بہت ہی مہارت سے مقدمے کو الٹنے کی کوشش کی گئی اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ ’ہندوتوا‘ کے خطرناک عزائم کو سیکولرزم کا لبادہ اوڑھا کر چھپالیا گیا اور مظلوموں کو ہی مسائل کا سبب قرار دے کر انھی پر ذمہ داری عائد کی گئی! ذرا اس پیرا پر ایک نظر ڈال لیجیے:
The words used in Government Orders have to be construed in the generality of their text and with common sense and with a measure of grace to their linguistic pitfalls. The text & context of the Act under which such orders are issued also figure in the mind. The impugned order could have been well drafted, is true.
اس کے باوجود آسکر وائلڈ [م: ۱۹۰۰ء ] اور اولیور وینڈل ہومز [م: ۱۹۳۵ء] کے غیرمتعلق اقتباسات دے کر اس کمزوری کو ہلکا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر فرمایا گیا:
the Government Order gives a loose impression that there is some nexus between wearing of hijab and the 'law & order' situation.
تنہا یہی بات اس حکم نامے کو کالعدم کرنے کےلیے کافی تھی کہ حجاب اور امن و امان کا باہمی تعلق ہے، اور یہ حکم نامے کا ایک کمزور پہلو ہے۔لیکن عدالت نے اس کو ایک غیر ضروری اور غیر اہم اعتراض بنا کر اس کو نظر انداز کردیا۔
جائزہ طلب امور
عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ کرنے کےلیے درج ذیل سوالات قائم کیے:
ان سوالات سے ہی معلوم ہوا کہ عدالت نے مقدمے کا کیا رُخ متعین کیا ہے؟ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ فتویٰ کا انحصار استفتا پر ہوتا ہے۔ سوال جس طرح مقرر کیا جائے، جواب اسی کے مطابق دیا جاتا ہے۔ حجاب لینے کے قانونی جواز کےلیے درخواست گزاروں کا استدلال بنیادی طور پر یہ تھا کہ حجاب لینا درخواست گزاروں کے مذہبی تصور کے مطابق ان کے مذہب کا لازمی حصہ ہے اور اس وجہ سے انھیں اسے ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ایسا کرنا مذہبی آزادی کے اس حق کی خلاف ورزی ہوگی جس کی ضمانت بھارت کے آئین میں دی گئی ہے۔اس بات کو اس طرح پیش کیا گیا کہ ’’چونکہ درخواست گزاروں کا تصورِ مذہب ایک معروضی امر نہیں بلکہ موضوعی (subjective) امر ہے، اس لیے ان کے تصور سے قطعِ نظر، عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ حجاب اسلام کا لازمی حصہ ہے بھی یا نہیں؟ ‘‘
پھر چونکہ عدالت نے درخواست گزاروں کے تصورِ مذہب کو یکسر نظرانداز کردیا، اس لیے اس نے مذہبی آزادی کے حق کو اظہار کے حق کے ساتھ متعارض قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’درخواست گزاروں کے دلائل باہم متناقض (contradictions) ہیں، حالانکہ درخواست گزاروں کا موقف یہ تھا کہ ’’ہم حجاب کو اپنا مذہبی شعار سمجھنے کی بنا پر اسے ضروری سمجھتے ہیں اور لباس انسان کی ذاتی پسند و ناپسند کا معاملہ ہے اور کسی کو ایسا لباس پہننے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جو وہ نہ پہننا چاہتا ہو، نہ اسے ایسا لباس ترک کرنے پر مجبور کیا جاسکتا جسے وہ ترک نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ ایسا کرنے سے اظہار کی آزادی کے اس حق کی پامالی ہوتی ہے، جس کی ضمانت بھارت کے آئین نے دی ہوئی ہے‘‘۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو ان دلائل میں کوئی تضاد نہیں تھا، لیکن عدالت نے کمال بے نیازی سے اس لیے انھیں متناقض قرار دیا کہ اس نے خود بخود درخواست گزاروں کے مذہبی تصور کو یکسر ناقابلِ اعتنا قرار دیا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ عدالت نے درخواست گزاروں کے مذہبی تصور کو ناقابلِ اعتنا قرار دینے کےلیے دلیل یہ دی کہ ’’عدالت کے سامنے کوئی ایسی شہادت نہیں لائی گئی، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ کب سے انھوں نے حجاب پہننا شروع کیا ہے، یا کب سے انھوں نے اسے ضروری سمجھا ہے؟‘‘ یہ امر حیران کن اس لیے ہے کہ جب اس امر کو اظہار کے حق اور پرائیویسی کے حق کے طور پر پیش کیا گیا، تو اس کے بعد اس سوال کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی کہ کسی نے کسی مخصوص لباس کے متعلق کب اپنی رائے بنائی یا تبدیل کرلی؟
پھر اگر عدالت نے یہی بہتر سمجھا کہ درخواست گزاروں کے تصورِ مذہب کو نظرانداز کرکے معروضی طور پر متعین کیا جائے کہ حجاب کی اسلام میں کیا حیثیت ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس امر کے تعین کےلیے عدالت نے کیا طریقِ کار اختیار کیا؟ کیا اس مقصد کےلیے صرف عبد اللہ یوسف علی [م:۱۰دسمبر ۱۹۵۳ء]کے ترجمۂ قرآن اور حواشی پر انحصار کافی تھا؟ کیا اس انحصار کےلیے یہ دلیل کافی تھی کہ عبد اللہ یوسف علی کے ترجمے اور حواشی کو سپریم کورٹ نے کئی مقدمات میں استعمال کیا ہے؟ اس سے بھی آگے بڑھ کر کیا یہ کوئی دلیل ہے کہ صحیح بخاری کے انگریزی ترجمے کو اس لیے مسترد کیا جائے کہ اس کے مترجم ڈاکٹر محمد محسن خان [۱۹۲۷ء-۱۴جولائی ۲۰۲۱ء] ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں؟ تو کیا ان کے برعکس ڈی ایف ملا [دینشا فردنجی ملا: ۱۸۶۸ء-۱۹۳۴ء] اور مسٹر آصف علی اصغر فیضی [م:۱۹۸۱ء]کی کتب سے ہی اسلامی قانون سمجھا جاسکتا ہے؟پھر عدالت کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اسلامی قانون کے مآخذ میں حدیث کی کیا حیثیت ہے اور قرآن و حدیث کے تعلق کے بارے میں مسلمانوں کی پوزیشن کیا ہے؟
اوّل تو عدالت کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہی نہیں چاہیے تھی کہ وہ متعین کرے کہ ’’حجاب کا اسلام میں کیا حکم ہے؟‘‘ پھر اگر اس نے یہ ذمہ داری اٹھانی ضروری ہی سمجھی تھی تو اس کے بعد چاہیے یہ تھا کہ اس معاملے میں صرف ایک کتاب پر انحصار کرنے کے بجائے کئی دیگر مصنّفین اور محققین کے کام کا تجزیہ کرتے ہوئے اس شعبے کے ماہرین سے مدد لیتی۔ اس کے بجائے اس نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ عدالت کے سامنے درخواست گزاروں کی جو درخواستیں آئیں ان کے ساتھ کسی ’مولانا‘ کا بیانِ حلفی جمع نہیں کرایا گیا، جس میں درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کی گئی آیات سے استدلال کیا گیا ہو! ‘‘
اس فیصلے کا سب سے افسوسناک پہلو یہی ہے کہ جس سوال پر بحث ضروری ہی نہیں تھی، عدالت نے اسی کو بنیادی سوال بنا دیا اور پھر اس سوال کے جواب کےلیے انتہائی ناقص طریقِ کار اختیار کیا۔ یوں مقدمے کے دیگر پہلو اور اصل سوالات پس منظر میں چلے گئے۔ بہرحال، عدالت کا مقصد پورا ہوگیا ہے، کیونکہ فیصلے کے بعد بھی عام طور پر بحث اسی سوال پر ہورہی ہے اور زیادہ اہم سوالات اب بھی بحث کا حصہ نہیں ہیں۔ اب ہم انھی سوالات پر بات کرتے ہیں:
آیئے، ان بنیادوں پر بات کریں، جن پر عدالتی فیصلہ کھڑا ہے اور جن پر بحث ضروری ہے، لیکن ان کے بجائے بحث اس بات پر ہورہی ہے کہ حجاب اسلام کا لازمی حصہ ہے یا نہیں؟
عدالت نے اس ضمن میں امریکی آئین کے تحت مذہبی آزادی کے حق اور بھارتی آئین کے تحت مذہبی آزادی کے حق کے درمیان موازنہ کرکے یہ دکھایا ہے کہ امریکی آئین کے تحت ریاست پر پابندی ہے کہ وہ کسی مذہب کی ترویج نہیں کرے گی، لیکن افراد کےلیے مذہبی آزادی کا حق، دیگر حقوق کی طرح، غیر محدود ہے اور اس حق پر عائد قیود و حدود کو استثنا کی حیثیت حاصل ہے۔ مگر اس کے برعکس بھارتی آئین میں مذہبی آزادی کا حق ثانوی حیثیت رکھتا ہے اور اس پر حدود و قیود کو اصل کی حیثیت حاصل ہے۔
تاہم، امریکی آئین کے متعلق بھی یہ بات مکمل سچائی پر مبنی نہیں ہے اور وہاں بھی مذہب کو تبھی قابلِ برداشت مانا جاسکتا ہے، جب وہ جمہوریت کے ماتحت رہنے پر آمادہ ہو۔ بہرحال، یہ بات اہم ہے کہ عدالت نے بھارتی آئین کے تحت دیے گئے حقوق کو ’ریاست کی مرضی کے تابع‘ قرار دیا ہے۔ یہ دراصل امریکی قانون دان جیریمی بینتھم [م: ۱۸۳۲ء] اور دیگر قانونی وضعیت پسند وں (legal positivists) کے فلسفے کا اثر ہے کہ ’’بھارت میں فرد کے حقوق کا ماخذ ریاست کو سمجھا جاتا ہے، اور ریاست جب چاہے ان حقوق کو معطل یا ختم کرسکتی ہے اور جو قیود مناسب سمجھے ان پر عائد کرسکتی ہے۔ امریکا میں بینتھم کے برعکس جان لاک [م:۱۷۰۴ء] کا فلسفہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جس کی رُو سے ’’انسانوں کو حقوق قانونِ فطرت (Law of Nature) نے دیے ہوئے ہیں اور لوگوں کو یہ حقوق اس وقت بھی میسر تھے جب ریاست کا وجود نہیں تھا، بلکہ ریاست تو اسی لیے وجود میں لائی گئی ہے کہ ان حقوق کا تحفظ کرے‘‘۔
پاکستان میں بھی بھارت کی طرح بینتھم کا نظریہ کارفرما ہے، لیکن اس نظریے کی شدت میں کمی اس بنا پر آئی ہے کہ پاکستان میں اسلامی شریعت کی بالادستی آئینی طور پر تسلیم کی گئی ہے اور اس وجہ سے کسی بھی ریاستی اقدام کے جواز یا عدم جواز کےلیے اسلامی احکام ایک اہم معیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ ۱۹۷۲ء میں جب مارشل لا نافذ تھا اور آئین معطل تھا، تب بھی پاکستان کی سپریم کورٹ نے عاصمہ جیلانی کیس میں قرار دیا تھا کہ ’’قراردادِ مقاصد کی رو سے، جو ہمارے آئینی نظام کی بنیاد ہے، حاکمیتِ اعلیٰ (Sovereignty)، اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور پاکستانی قوم کے پاس وہی اختیارات ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسے تفویض کیے گئے ہیں، جنھیں وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر ہی استعمال کرسکتی ہے‘‘۔ پھر چونکہ اس ’قراردادِ مقاصد‘ میں یہ بھی تصریح کی گئی تھی کہ حکومت لوگوں کی مرضی سے منتخب کی جائے گی، تو سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ مارشل لا غیر آئینی اور ناجائز ہے۔ پاکستان میں سیکولرزم کے گن گانے والے اور اسلامی قوانین پر اندھی تنقید کرنے والے اس حقیقت کو اچھی طرح نوٹ کرلیں کہ یہاں مارشل لا کے عدم جواز کی بنیاد ’قراردادِ مقاصد‘ بنی، جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کا اقرار اور ریاستی اختیارات کے محدود ہونے اور حکومت کےلیے لوگوں کے حقِ انتخاب کی واشگاف وضاحت کی گئی ہے۔
We have no quarrel with the petitioners’ essential proposition that what one desires to wear is a facet of one’s autonomy and that one’s attire is one’s expression. But all that is subject to reasonable regulation.
Petitioners’ contention that ‘a class room should be a place for recognition and reflection of diversity of society, a mirror image of the society (socially & ethically)’ in its deeper analysis is only a hollow rhetoric, ‘unity in diversity’ being the oft quoted platitude since the days of IN RE KERALA EDUCATION BILL, supra, wherein paragraph 51 reads: ‘…the genius of India has been able to find unity in diversity by assimilating the best of all creeds and cultures'.
آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے مذہب کا جو بھی تقاضا ہو، آپ نے بھارتی قوم کی حیثیت کو بالاتر رکھنا ہے اور اس مزعومہ وحدت کے حصول کےلیے آپ کو اپنے مذہب کے الگ الگ رنگوں سے دست بردار ہونا پڑے گا۔
یہ ہیں وہ چار بنیادی امور، جن پر یہ عدالتی فیصلہ مبنی ہے لیکن بدقسمتی سے ان پر بحث ہی نہیں ہورہی ہے۔
اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ کرناٹکا ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ سیکولر بندوبست کے لازمی تقاضے ہیں۔ بحث کے اس تناظر کو مزید واضح کرنے کےلیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آخر میں مشہور امریکی قانون دان رونالڈ ڈوورکن کے ایک مختصر لیکن نہایت اہم مضمون پر کچھ بات کی جائے، جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کے مسئلے کے پس منظر میں لکھا تھا۔ ڈوو رکن کا دو صفحات کا یہ مضمون The Right to Ridicule (تضحیک کا حق) کے عنوان سے روزنامہ نیویارک ٹائمز (۲۳ جون ۲۰۰۶ء) میں شائع ہوا تھا۔
اس مضمون میں دیگر امور کے علاوہ ڈوورکن نے یہ اہم سوال اٹھایا ہے کہ ’’خواہ عملی نتائج کے اعتبار سے کارٹونوں کی عدم اشاعت کا فیصلہ حکیمانہ نظر آتا ہو ، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اظہاررائے کی آزادی کے حق پر بالخصوص ’کثیر الثقافتی معاشرے‘ کے تناظر میں قدغن لگائی جاسکتی ہے؟ کیا کسی مذہب کےلیے جو بات توہین آمیز یا مضحکہ خیز ہو ، اسے جرم قرار دیا جانا چاہیے؟ اس مضمون میں مرکزی قانونی سوال یہی ہے۔ ڈوورکن نے صراحت کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’اظہار رائے کی آزادی‘ مغربی ثقافت کی کوئی امتیازی خصوصیت نہیں ہے کہ جسے دوسری ثقافتوں کی خاطر، جو اسے نہیں مانتیں، محدود کیا جاسکے، بالکل اسی طرح جیسے مسیحی شعائر کے ساتھ مسلمانوں کےلیے ہلال یا مینارے کےلیے گنجایش پیدا کی جائے۔ اس کے برعکس اس کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی حکومت کے جواز کی شرط ہے۔کوئی قانون اور کوئی پالیسی اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک اسے جمہوری طریقے سے نہ بنایا جائے اور جب کسی کو کسی قانون یا پالیسی کے متعلق اپنی راے کے اظہار سے روکا جائےتو جمہوریت بے معنی ہوجاتی ہے‘‘۔
وہ مزید کہتا ہے کہ ’’تضحیک، اظہار کا ایک خاص پیرایہ ہے اور اگر اس کی نوک پلک درست کرنے یا اصلاح کی کوشش کی جائے تو وہ پیرایہ غیرمؤثر ہوجاتا ہےاور اسی وجہ سے صدیوں سے اچھے یا برے ہر طرح کے مقاصد کےلیے کارٹون اور تضحیک کے ہتھیار استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس بنیاد پر ڈوورکن یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ ’’جمہوریت میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، خواہ وہ کتنا ہی طاقت ور یا کتنا ہی کمزور ہو، کہ اس کی توہین یا تضحیک نہیں کی جائے گی‘‘۔ یہاں ڈوورکن اس بات کی وضاحت کےلیے ، کہ کیوں جمہوریت میں اظہار رائے کے حق پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی؟ کہتا ہے کہ اگر کمزور اور غیرمقبول اقلیتیں یہ چاہتی ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو اور اکثریت محض اپنی اکثریت کی وجہ سے ان کے حقوق سلب نہ کرسکے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اظہار رائے کے حق پر کوئی قدغن نہ مانیں، خواہ اس کے نتیجے میں خود انھیں بھی تضحیک کا سامنا کرنا پڑے ،کیونکہ اقلیت میں ہونے اور کمزور ہونے کے باوجود اظہار رائے کے حق کے ذریعے وہ کسی بھی قانون یا پالیسی کے خلاف کھل کر بات کرسکیں گے۔ اسی استدلال پر وہ مسلمانوں سے کہتا ہے کہ اظہار رائے پر قدغن سے ان کو نقصان ہوگا ‘‘۔
اس ضمن میں ڈوورکن اس بات پر بھی بحث کرتا ہے جس کی طرف مسلمان عام طور پر توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ کئی یورپی ممالک میں دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل عام سے انکار کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اظہار رائے پر اس قدغن کو عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مسلمان بالعموم اسے دوغلی پالیسی اور منافقت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ڈوورکن کہتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ اعتراض بالکل درست ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اظہار رائے پر ایک اور قدغن بھی مان لیں۔ اس کے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ مذکور قدغن بھی دور کردی جائے ۔
ڈوورکن مزید یہ کہتا ہے کہ اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ ایسے قوانین اور پالیسیاں ختم کی جائیں، جو مسلمانوں کی پروفائلنگ کو جواز دیں یا جن کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے سے دکھائی دینے والے لوگوں کی نگرانی کی جائے کیونکہ ان پر دہشت گردی کا شبہہ ہوتا ہے ، تو پھر مسلمانوں کو اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی راے کو بھی برداشت کرنا پڑے گا جو انھیں دہشت گردی سے منسلک کرتے ہیں اور کارٹونوں کے ذریعے ان کی تضحیک کرتے ہیں، خواہ ان لوگوں کی یہ بات کتنی ہی بے بنیاد اور بذات خود مضحکہ خیز ہو !
آخر میں وہ ساری بحث کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کرتا ہے :
Religion must observe the principles of democracy, not the other way around. No religion can be permitted to legislate for everyone about what can or cannot be drawn any more than it can legislate about what may or may not be eaten. No one’s religious convictions can be thought to trump the freedom that makes democracy possible.
مذہب پر لازم ہے کہ وہ جمہوریت کے اصولوں کی پابندی کرے ، نہ کہ الٹا جمہوریت کو مذہب کا پابند بنایا جائے۔ کسی مذہب کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ سب کےلیےیہ قانون بناسکے کہ وہ کیسا خاکہ بناسکتے ہیں اور کیسا نہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ ہر کسی کےلیے یہ قانون نہیں بناسکتے کہ وہ کیا کھاسکتے ہیں اور کیا نہیں ۔ کسی کے مذہبی اعتقادات کے متعلق یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ وہ اس آزادی کو فتح کرلیں گے جو جمہوریت نے ممکن بنادی ہے ۔
ڈوورکن کے اس اقتباس کو بار بار پڑھیے اور اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا مذہب کو جمہوریت کے اصولوں کی پابندی اختیار کرنی چاہیے یا جمہوریت کو مذہبی قیود کی پابندی تسلیم کرنی چاہیے؟ جب تک اس بنیادی مسئلے پر بحث نہیں کی جائے گی، ضمنی سوالات پر بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسی سوال پر بحث سے ناروے یا دیگر مغربی ممالک (اور اسی طرح بھارت) میں مقیم مسلمانوں کی مجبوریاں بھی سمجھ میں آجاتی ہیں اور یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کیوں وہ صبر و تحمل اور اعراض کا رویہ اپنانے کی تلقین کرتے ہیں؟
حقیقتِ امر یہ ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کو ایک دفعہ پھر معرکۂ روح و بدن پیش ہے اور یہ فیصلہ بھارت کے مسلمانوں نے ہی کرنا ہے کہ اس کے ہاتھوں میں دل ہے یا شکم؟