برسوں پر محیط ظالم ڈکٹیٹر حسینہ واجد کے آمرانہ دور میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکانے، ہزاروں نوجوانوں کی گم شدگی، ہزاروں کارکنوں کو برسوں جیل میں رکھنے اور ان پر شدید ترین مظالم ڈھانے کے باوجود آج کل جماعت اسلامی اپنی تاریخ میں مقبولیت کی بلندترین سطح پر ہے۔ اس کے لیڈروں اور کارکنوں کی ان قربانیوں اور صبر و استقامت کے نتائج اب ملک بھر میں جماعت کی ہر سطح پر پذیرائی اور مقبولیت کی صورت میں نکل رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش میں اس مقام پر لانے میں یوں تو وہاں کی مجموعی قیادت کی سوچ اور پالیسیوں کا دخل ہے، لیکن اگر کسی ایک قائد اور راہ نما کا نام لیا جائے تو وہ پروفیسر غلام اعظم ہیں، جو ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیر تھے۔ یہ انھی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس جماعت کو بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ۱۹۷۱ء کے دوران پاکستان کو انڈیا کی سازش سے بچانے اور ملک کو دو ٹکڑے ہونے سے بچانے کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی وجہ سے غداری کے الزام سے خود کو بری کریں اور اس کو قومی دھارے کی سیاست میں دوبارہ فعال کریں۔ انھوں نے چند سال جلاوطن رہ کر اور پھر واپس جا کر اپنی دور اندیشی اور تدبر سے جماعت اور جمعیت کو ایک جدید اور قابل عمل نظام دیا، جس نے نہ صرف جماعت کو مضبوط نظریاتی بنیادوں پر کھڑا کردیا بلکہ ان دونوں کو نظم کے ایک بندھن میں پرو دیا۔ اس طرح جماعت کو نوجوانوں خاص طور پر تعلیمی اداروں ( یونی ورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں اور دینی مدارس ) کے طلبہ اور طالبات کی افرادی قوت بھی میسر آ گئی۔
یہ نظام کیا ہے؟ اور اس کو کس طرح پروفیسر غلام اعظم نے رائج کیا؟ اس کا جائزہ پیش ہے:
مغربی پاکستانی اشرافیہ ( سیاسی، خاکی اور نوکر شاہی) کی اپنی سیاسی بے بصیرتی اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس کی وجہ سے ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہوگیا اور سقوطِ ڈھاکہ ہوگیا۔اس وقت پروفیسر غلام اعظم اور سابق امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان مولانا عبد الرحیم جماعت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کےلیے لاہور میں موجود تھے اور انھوں نے لاہور میں ملک کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔وہ اس سے قبل ۲۱نومبر ۱۹۷۱ء کو مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) جارہے تھے کہ ان کا طیارہ کولمبو سے واپس مغربی پاکستان بھیج دیاگیا۔ اس کے بعد وہ ۱۹۷۴ء تک پاکستان میں رہے۔ یہ دونوں رہنما کچھ دنوں بعد کراچی آگئے۔
پروفیسر غلام اعظم اور مولانا عبد الرحیم کو پاکستان سے الگ ہونے کا بڑا رنج و ملال تھا اور وہ اکثر اس سانحہ کے اسباب و علل پر بھی اظہار خیال کرتے اور پاکستان کی حکومت کی غلط پالیسیوں کو بھی زیر بحث لاتے تھے۔تھوڑے عرصے بعد یہ دونوں بزرگ کراچی سے دوبئی چلے گئے۔
اس کے بعد پروفیسر صاحب دوبئی اور لندن میں قیام پذیر رہے۔ پھر ۱۸؍اپریل ۱۹۷۳ء کو مجیب حکومت نے اُن کی شہریت منسوخ کردی۔ اس کے باوجود لاہور، کراچی ، دوبئی اور لندن میں جلا وطنی کا کچھ عرصہ گزارا۔ پھر خبر ملی کہ وہ اگست ۱۹۷۸ء کے دوسرے ہفتے واپس ڈھاکہ چلے گئے ہیں اور اپنی شہریت کی بحالی کےلیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔لیکن تحریک اسلامی کی غیر علانیہ قیادت سنبھال لی۔وہ جماعت کے رہبر تھے۔ اس طرح پہلے مولانا عباس خاں اور پھر مطیع الرحمٰن نظامی امیر جماعت بنے۔
ہماری ان سے ۱۹۸۴ء کو اس وقت ملاقات ہوئی جب روزنامہ جنگ کی طرف سے ہمیں اور اخبار جہاں کے ایڈیٹر نثار احمد زبیری کو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ( Organization of Islamic Countries) کے وزرائے خارجہ کے تین روزہ اجلاس کی کوریج کےلیے ڈھاکہ بھیجا گیا۔اس وقت بنگلہ دیش کے قیام کو صرف ۱۲ سال ہی گزرے تھے۔کانفرنس تو تین دن میں ختم ہوگئی اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک سے آئے ہوئے صحافی واپس چلے گے لیکن ہم تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے تین صحافی ،راقم ، نثار زبیری اور لندن سے نکلنے والے انگریزی ماہ نامہ Arabia کے نمائندہ خصوصی اسلم عبداللہ ( اب لاس اینجلس، امریکا کے ایک بڑے دینی اسکالر و امام) مزید ایک ہفتے کےلیے وہیں رُک گئے۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب سے آخری بار ملاقات ۲۰۰۳ء میں کراچی میں ہوئی، جب وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد پہلی بار پاکستان آئے اور انھوں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کے بعد کراچی کا بھی دورہ کیا، اور ایک بڑے استقبالیہ سے خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر ان سے کراچی کے قیام اور ڈھاکہ میں ملاقاتوں کا تذکرہ رہا۔
ہماری ان سے بھر پور، متاثر کن اور یاد گار ملاقات ۱۹۸۴ء کی ہے، جس میں ان کو قریب سے دیکھنے، ان کے تحریک اسلامی کے بارے میں وژن اور اس کی نئے ملک بنگلہ دیش کے حالات کے مطابق تنظیم نو کی حکمت عملی اور ان کی دور اندیشانہ سوچ کو سمجھنے کا موقع ملا۔
یہاں اختصار کے ساتھ ان اقدامات کا ذکر کریں گے، جو پروفیسر غلام اعظم صاحب نے جماعت اور جمعیت کی قیادت کے باہمی مشورے کے بعد جماعت کے نظم میں کیے تھے اور جن کی وجہ سے جماعت اسلامی ایک بدترین آمرانہ دور دیکھنے اور اپنے قائدین کی پھانسیوں اور ہزاروں لیڈروں اور کارکنوں کی قید وبند کی صعوبتوں کے باوجود اس وقت بنگلہ دیش کی ایک بڑی قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔
پروفیسر غلام اعظم اپنے جھونپڑے نما گھر کے ایک چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں اپنے سیاسی اور تحریکی سفر کی یہ داستان سنارہے تھے۔اس رُوداد میں وہ مرحلے سامنے آئے، جن کے تحت انھوں نے اپنی دوراندیشی اور مستقبل بینی سے جماعت اسلامی اور جمعیت کے بالکل درہم برہم تنظیمی ڈھانچے کے تنکے تنکے کو جمع کیا اور نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق اس کو ایک نئی شکل میں منظم کیا۔
بنگلہ دیش واپس جاتے ہی سب سے پہلے انھوں نے غداری کے اس الزام کا دفاع کیا کہ جب علاحدگی کی تحریک چل رہی تھی، اس وقت یہ صوبہ مشرقی پاکستان ہمارا وطن تھا جو اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا۔ اس کا دفاع کرنا عین حب الوطنی اور اسلامی نظریے کے تحفظ کا تقاضا تھا۔ لیکن جب وہ پاکستان سے الگ ہوگیا ، تو اب بنگلہ دیش ہی ہمارا وطن ہے اور اس کا دفاع، اس کی ترقی اور اس سے محبت ہم ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس طرح انھوں نے بنگلہ دیش کی سیاست میں خود کو نہ صرف شامل کیا بلکہ اپنی قدآور سیاسی شخصیت، علم و حکمت، بزرگی اور تدبر کی وجہ سے سیاست دانوں میں اپنے لیے امتیازی مقام بھی پیدا کرلیا۔
اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے جماعت کے نظام کو بدلنے کا ارادہ کیا۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ جماعت کے نظام اور تنظیمی ڈھانچے کو بدلے بغیر ہم ملک کے نظام کو نہیں بدل سکتے۔ چنانچہ جماعت اور جمعیت کی قیادت سے طویل مشوروں کے بعد بنیادی فیصلے کیے گئے جو بڑے مفید ثابت ہوئے۔
اس کا طریقۂ کار کے تحت پورے بنگلہ دیش کے کالجوں اور یونیورسٹیو ں میں جمعیت سے وابستہ کارکنوں کی ان کے آخری سال یا امتحان سے چند (تین یا چھ) ماہ قبل فہرستیں بنائی جائیں اور ان کو مرکز میں رہنماؤں کے مقررہ پینل کے پاس بھیج دیا جائے۔ وہ مختلف مواقع پر باری باری انٹرویو کرکے فیصلہ کرے کہ ان طلبہ کو تعلیمی نتیجے، صلاحیت، رجحان اور تقریری اور تحریری صلاحیتوں کے اعتبار سے سرکاری یا نجی شعبوں میں سے کس شعبے میں بھیجا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں تو اس کو اس کے آبائی علاقے یا شہر کی جماعت کے حوالے کیا جائے اور اس کی اسی لحاظ سے تربیت کا عمل شروع کیا جائے۔
ان نتائج اور جماعت کی خستہ مالی حالت کے باوجود سیاست سمیت ہر شعبے میں شاندار کامیابیاں دیکھ کر دل خوش ہوگیا کہ یہاں پر جماعت نے نوجوان خون کو اپنا حصہ بنانے کے لیے کیا شان دار حکمت عملی اپنائی ہے۔لیکن اس کے برعکس جب جماعت اور جمعیت کا نظریاتی طور پر ایک ہی فکر اور نظریے سے وابستگی کا دعویٰ رہا، اور علی الاعلان دونوں کہتے ہیں کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں، جو قانونی طور پر بالکل درست کہتے تھے، لیکن اس طرح کارکنوں کے ذہنوں میں قانونی چیز کا روحانی طور پر ذہنوں میں راسخ ہوجانا کہ ہم دو علاحدہ علاحدہ جماعتیں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ جب وہ طالب علم جمعیت سے فارغ ہوتے تو عام معاشرے میں کہیں گم ہوجاتے اور ان کی بہت ہی تھوڑی تعداد جمعیت سے جماعت میں آتی ہے۔
پروفیسر صاحب کی اس بات میں کتنی سچائی تھی کہ ’’ہمیں نئی حکمت عملی بنانے اور اپنانے کا راستہ ملا‘‘۔
_______________