مئی 2026

فہرست مضامین

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی حکمت کار

عارف الحق عارف | مئی 2026 | تحریک اسلامی

Responsive image Responsive image

برسوں پر محیط ظالم ڈکٹیٹر حسینہ واجد کے آمرانہ دور میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکانے، ہزاروں نوجوانوں کی گم شدگی، ہزاروں کارکنوں کو برسوں جیل میں رکھنے اور ان پر شدید ترین مظالم ڈھانے کے باوجود آج کل جماعت اسلامی اپنی تاریخ میں مقبولیت کی بلندترین سطح پر ہے۔ اس کے لیڈروں اور کارکنوں کی ان قربانیوں اور صبر و استقامت کے نتائج اب ملک بھر میں جماعت کی ہر سطح پر پذیرائی اور مقبولیت کی صورت میں نکل رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش میں اس مقام پر لانے میں یوں تو وہاں کی مجموعی قیادت کی سوچ اور پالیسیوں کا دخل ہے، لیکن اگر کسی ایک قائد اور راہ نما کا نام لیا جائے تو وہ پروفیسر غلام اعظم ہیں، جو ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیر تھے۔ یہ انھی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس جماعت کو بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ۱۹۷۱ء کے دوران پاکستان کو انڈیا کی سازش سے بچانے اور ملک کو دو ٹکڑے ہونے سے بچانے کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی وجہ سے غداری کے الزام سے خود کو بری کریں اور اس کو قومی دھارے کی سیاست میں دوبارہ فعال کریں۔ انھوں نے چند سال جلاوطن رہ کر اور پھر واپس جا کر اپنی دور اندیشی اور تدبر سے جماعت اور جمعیت کو ایک جدید اور قابل عمل نظام دیا، جس نے نہ صرف جماعت کو مضبوط نظریاتی بنیادوں پر کھڑا کردیا بلکہ ان دونوں کو نظم کے ایک بندھن میں پرو دیا۔ اس طرح جماعت کو نوجوانوں خاص طور پر تعلیمی اداروں ( یونی ورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں اور دینی مدارس ) کے طلبہ اور طالبات کی افرادی قوت بھی میسر آ گئی۔

یہ نظام کیا ہے؟ اور اس کو کس طرح پروفیسر غلام اعظم نے رائج کیا؟ اس کا جائزہ پیش ہے:

مغربی پاکستانی اشرافیہ ( سیاسی، خاکی اور نوکر شاہی) کی اپنی سیاسی بے بصیرتی اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس کی وجہ سے ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہوگیا اور سقوطِ ڈھاکہ ہوگیا۔اس وقت پروفیسر غلام اعظم اور سابق امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان مولانا عبد الرحیم جماعت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کےلیے لاہور میں موجود تھے اور انھوں نے لاہور میں ملک کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔وہ اس سے قبل ۲۱نومبر ۱۹۷۱ء کو مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) جارہے تھے کہ ان کا طیارہ کولمبو سے واپس مغربی پاکستان بھیج دیاگیا۔ اس کے بعد وہ ۱۹۷۴ء تک پاکستان میں رہے۔ یہ دونوں رہنما کچھ دنوں بعد کراچی آگئے۔

پروفیسر غلام اعظم اور مولانا عبد الرحیم کو پاکستان سے الگ ہونے کا بڑا رنج و ملال تھا اور وہ اکثر اس سانحہ کے اسباب و علل پر بھی اظہار خیال کرتے اور پاکستان کی حکومت کی غلط پالیسیوں کو بھی زیر بحث لاتے تھے۔تھوڑے عرصے بعد یہ دونوں بزرگ کراچی سے دوبئی چلے گئے۔

اس کے بعد پروفیسر صاحب دوبئی اور لندن میں قیام پذیر رہے۔ پھر ۱۸؍اپریل ۱۹۷۳ء کو مجیب حکومت نے اُن کی شہریت منسوخ کردی۔ اس کے باوجود لاہور، کراچی ، دوبئی اور لندن میں جلا وطنی کا کچھ عرصہ گزارا۔ پھر خبر ملی کہ وہ اگست ۱۹۷۸ء کے دوسرے ہفتے واپس ڈھاکہ چلے گئے ہیں اور اپنی شہریت کی بحالی کےلیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔لیکن تحریک اسلامی کی غیر علانیہ قیادت سنبھال لی۔وہ جماعت کے رہبر تھے۔ اس طرح پہلے مولانا عباس خاں اور پھر مطیع الرحمٰن نظامی امیر جماعت بنے۔

ہماری ان سے ۱۹۸۴ء کو اس وقت ملاقات ہوئی جب روزنامہ جنگ  کی طرف سے ہمیں اور اخبار جہاں کے ایڈیٹر نثار احمد زبیری کو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ( Organization of Islamic Countries) کے وزرائے خارجہ کے تین روزہ اجلاس کی کوریج کےلیے ڈھاکہ بھیجا گیا۔اس وقت بنگلہ دیش کے قیام کو صرف ۱۲ سال ہی گزرے تھے۔کانفرنس تو تین دن میں ختم ہوگئی اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک سے آئے ہوئے صحافی واپس چلے گے لیکن ہم تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے تین صحافی ،راقم ، نثار زبیری اور لندن سے نکلنے والے انگریزی ماہ نامہ Arabia کے نمائندہ خصوصی اسلم عبداللہ ( اب لاس اینجلس، امریکا کے ایک بڑے دینی اسکالر و امام) مزید ایک ہفتے کےلیے وہیں رُک گئے۔

پروفیسر غلام اعظم صاحب سے آخری بار ملاقات ۲۰۰۳ء میں کراچی میں ہوئی، جب وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد پہلی بار پاکستان آئے اور انھوں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کے بعد کراچی کا بھی دورہ کیا، اور ایک بڑے استقبالیہ سے خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر ان سے کراچی کے قیام اور ڈھاکہ میں ملاقاتوں کا تذکرہ رہا۔

ہماری ان سے بھر پور، متاثر کن اور یاد گار ملاقات ۱۹۸۴ء کی ہے، جس میں ان کو قریب سے دیکھنے، ان کے تحریک اسلامی کے بارے میں وژن اور اس کی نئے ملک بنگلہ دیش کے حالات کے مطابق تنظیم نو کی حکمت عملی اور ان کی دور اندیشانہ سوچ کو سمجھنے کا موقع ملا۔

یہاں اختصار کے ساتھ ان اقدامات کا ذکر کریں گے، جو پروفیسر غلام اعظم صاحب نے جماعت اور جمعیت کی قیادت کے باہمی مشورے کے بعد جماعت کے نظم میں کیے تھے اور جن کی وجہ سے جماعت اسلامی ایک بدترین آمرانہ دور دیکھنے اور اپنے قائدین کی پھانسیوں اور ہزاروں لیڈروں اور کارکنوں کی قید وبند کی صعوبتوں کے باوجود اس وقت بنگلہ دیش کی ایک بڑی قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔

انقلابی حکمت عملی: اہم پہلو

پروفیسر غلام اعظم اپنے جھونپڑے نما گھر کے ایک چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں اپنے سیاسی اور تحریکی سفر کی یہ داستان سنارہے تھے۔اس رُوداد میں وہ مرحلے سامنے آئے، جن کے تحت انھوں نے اپنی دوراندیشی اور مستقبل بینی سے جماعت اسلامی اور جمعیت کے بالکل درہم برہم تنظیمی ڈھانچے کے تنکے تنکے کو جمع کیا اور نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق اس کو ایک نئی شکل میں منظم کیا۔

بنگلہ دیش واپس جاتے ہی سب سے پہلے انھوں نے غداری کے اس الزام کا دفاع کیا کہ جب علاحدگی کی تحریک چل رہی تھی، اس وقت یہ صوبہ مشرقی پاکستان ہمارا وطن تھا جو اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا۔ اس کا دفاع کرنا عین حب الوطنی اور اسلامی نظریے کے تحفظ کا تقاضا تھا۔ لیکن جب  وہ پاکستان سے الگ ہوگیا ، تو اب بنگلہ دیش ہی ہمارا وطن ہے اور اس کا دفاع، اس کی ترقی اور اس سے محبت ہم ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس طرح انھوں نے بنگلہ دیش کی سیاست میں خود کو نہ صرف شامل کیا بلکہ اپنی قدآور سیاسی شخصیت، علم و حکمت، بزرگی اور تدبر کی وجہ سے سیاست دانوں میں اپنے لیے امتیازی مقام بھی پیدا کرلیا۔ 

اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے جماعت کے نظام کو بدلنے کا ارادہ کیا۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ جماعت کے نظام اور تنظیمی ڈھانچے کو بدلے بغیر ہم ملک کے نظام کو نہیں بدل سکتے۔ چنانچہ جماعت اور جمعیت کی قیادت سے طویل مشوروں کے بعد بنیادی فیصلے کیے گئے جو بڑے مفید ثابت ہوئے۔

  • دوہری ممبرشپ: پہلا فیصلہ ’دُوہری کارکنیت‘ (Dual Workership )کا کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جماعت اور جمعیت کے کارکن بیک وقت دونوں کے لیے کام کریں گے۔اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ اگر کسی گھر کا کوئی نوجوان جمعیت کا کارکن ہے تو اسی وقت وہ جماعت کا بھی کام کرے گا اور اپنے والدین اور دوسرے افراد کو جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دے گا۔اسی طرح اگر کسی گھر کا کوئی فرد جماعت کا رکن یا کارکن ہے، اور اس کے بچے کالج یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں تو وہ جماعت کے کام کے ساتھ ساتھ ان کو جمعیت میں لانے کےلیے بھی کام کرے گا اور اس کی باقاعدہ رپورٹ اپنے نظم کو دیتا رہے گا۔اس نئے نظام کے اچھے نتائج نکلے اور سیکڑوں گھرانے تحریک اسلامی سے نہ صرف متعارف ہوئے بلکہ جماعت کی اصل طاقت بھی بنے۔
  • تربیت کے مراکز کا قیام: ایک فیصلہ یہ کیا گیا کہ جماعت اور جمعیت کے کارکنوں اور حامیوں کی دینی تربیت کے لیے ادارے بنائے جائیں اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔ متعدد خصوصی تربیتی ادارے قائم کیے گئے اور مستند علما، اسکالرز اور مربی مقرر کیے گئے۔ چھوٹے پیمانے پر اسٹڈی سرکلرز منعقد کیے گئے اور جنگی بنیادوں پر تربیت اور تزکیۂ نفس کا اہتمام کیا گیا۔ تحریکی لٹریچر کو سبق کے طور پر پڑھایا گیا اور ان کی قابلیت کو جانچنے کے لیے باقاعدہ امتحانات کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس طرح تحریکی لٹریچر سے لیس کارکنوں اور ارکان کی ایک بڑی تعداد وجود میں آئی، جو استقامت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئی اور جماعت کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی۔ان رہنماؤں اور کارکنوں نے اس استقامت کا عملی مظاہرہ ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۴ء کے عوامی انقلاب اور حسینہ واجد کی ظالمانہ حکومت کے خاتمے تک مسلسل پھانسیوں، شہادتوں، عقوبت خانوں میں تشدد اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ کر کیا۔خود پرفیسر غلام اعظم ۹۲ سال کی عمر میں ۹۰سال کی قید کی سزا کاٹتے ہوئے ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۴ء کو جیل ہی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
  • برادر تنظیموں سے قربت کے لیے اقدامات: ایک اور مشترکہ فیصلہ یہ کیا گیا کہ چونکہ جماعت اسلامی کی فکری اور تجربہ کار قیادت اسلامی جمعیت طلبہ ہی سے فراہم ہونا ہے، اس لیے دونوں میں تنظیمی دوری کو ختم کیا جائے۔اس تاثر کو پختہ کیا جائے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ جمعیت اسکولوں، کالجوں اوریونی ورسٹیوں میں دین کی سر بلندی کے لیے کام کرتی ہے اور جماعت کا کام عوامی سطح پر ہے۔ اس فیصلے کی رُو سے طے کیا گیا کہ دونوں کی مرکزی اور ضلعی مجلس شوریٰ اور ارکان اور کارکنان کے اجلاس اور اجتماعات وقفے وقفے سے ایک ساتھ بھی منعقد ہوں اور دعوتِ عام اور تربیت کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی بھی کی جائے،تا کہ جمعیت کے کارکنوں کی جماعت میں آنے کے بعد کام کرنے کی تربیت بھی ہوتی رہے۔کام کا فہم بھی حاصل ہو، اجنبیت بھی دُور ہو  اور جب وہ فارغ ہو کر جماعت میں شامل ہوں تو جماعت میں کام کرنا ان کے لیے مشکل نہ ہو۔
  • کریئر پلاننگ کے مشترکہ بورڈ کا قیام: تیسرا بڑا فیصلہ جماعت اور جمعیت کی قیادت نے مشترکہ طور پر یہ کیا کہ جمعیت کے کارکنوں کی تعلیم سے فراغت کے بعد ان کے مستقبل کے پیشے کا انتخاب (Career Planning ) مشترکہ قیادت کرے۔اس طرح جمعیت نے اپنے تمام کارکنوں اور ارکان کو اجتماعی قیادت کے حوالے کر دیا اور کہا کہ ہر فرد ان کے فیصلے کی پابندی کرے گا۔ اس کا ایک نہایت ذمہ دارانہ نظام وضع کیا گیا جس پر پوری یک سوئی کے ساتھ ہر سال عمل کیا جاتا رہا۔

اس کا طریقۂ کار کے تحت پورے بنگلہ دیش کے کالجوں اور یونیورسٹیو ں میں جمعیت سے وابستہ کارکنوں کی ان کے آخری سال یا امتحان سے چند (تین یا چھ) ماہ قبل فہرستیں بنائی جائیں اور ان کو مرکز میں رہنماؤں کے مقررہ پینل کے پاس بھیج دیا جائے۔ وہ مختلف مواقع پر باری باری انٹرویو کرکے فیصلہ کرے کہ ان طلبہ کو تعلیمی نتیجے، صلاحیت، رجحان اور تقریری اور تحریری صلاحیتوں کے اعتبار سے سرکاری یا نجی شعبوں میں سے کس شعبے میں بھیجا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں تو اس کو اس کے آبائی علاقے یا شہر کی جماعت کے حوالے کیا جائے اور اس کی اسی لحاظ سے تربیت کا عمل شروع کیا جائے۔

  • قیادت سازی کی حکمت عملی: اس کا بھی ایک طریقہ طے کیا گیا کہ اس کے علاقے یا شہر کی جماعت کے ذمہ داروں کو اس کی اطلاع کی جائے اور جب وہ متعین طالب علم فراغت کے بعد واپس جائے تو اس کا استقبال کیا جائے۔ مسجد جائے تو امامت کے لیے آگے کیا جائے، عید کی نماز کی امامت اسی سے کرائی جائے اور اگر مقامی سطح پر کوئی تنازعہ یا دو گروہوں میں جھگڑا ہو جائے تو کہا جائے کہ اس نئے تعلیم یافتہ یا گریجوایٹ سے فیصلہ کرایا جائے، الغرض ہر ایسا کام کرایا جائے، جس سے اس کی شخصیت محلے اور علاقے میں ایک دانا مرجع اور لیڈر کے طو پر اُبھرکر سامنے آئے اور پھر اس کی ممکنہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر بھی کی جائے۔ اسی طرح اگر کوئی طالب علم بہت ذہین ہے اور اچھے نمبروں سے کامیاب ہوا ہے تو اس کے رجحان کے مطابق اسے پیشہ ورانہ شعبے کے مقابلے کے امتحان کے لیے منتخب کیا جائے یا شعبۂ تدریس کے لیے بھی اس کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
  •  پروفیشنل تربیت کے اداروں کا قیام: یہ فیصلہ کیا گیا کہ مختلف شعبوں کے لیے منتخب کیے گئے افراد کے امتحانات کی تیاری کے لیے باقاعدہ ادارے قائم کیے جائیں۔ چنانچہ پروفیشنل ادارے بھی قائم کیے گئے اور ان کو الگ سے رجسٹر بھی کرایا گیا۔ ہمیں ان اداروں کو دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ ایک عجیب بات مشاہدے میں آئی کہ یہا ں جماعت سے وابستہ افراد مالی اعتبار سے خستہ حالی کا شکار تھے۔ لیکن وہ نظریاتی طور پر نہایت مطمئن اور دُوراندیشانہ سوچ کے حامل تھے اور ان کے زیر انتظام قائم جماعت کے سارے ادارے کامیابی کے ساتھ چل رہے تھے۔
  •  حکمت عملی کے نتائج: پروفیسر صاحب کے نزدیک ان فیصلوں اور ان پر کامیابی کے ساتھ عمل درآمد کا نتیجہ یہ ہے کہ جمعیت کے ۹۸ فی صد افراد اور کارکن نہ صرف تحریک اسلامی ہی میں شامل رہتے ہیں، بلکہ اپنی پسند کے شعبوں میں جا کر اور اچھے عہدوں پر فائز ہو کر بھی اپنے کام کے ساتھ ساتھ تحریک اسلامی کا کام بھی زیادہ بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں۔رضائے الٰہی کا حصول ہمیشہ ان کی نگاہ میں رہتا ہے۔ اس طریقۂ کار پر عمل کے یہ ابتدائی سال تھے اور پروفیسر صاحب نے اس طرح مقابلے کے امتحانات اور دیگر شعبوں میں کامیاب ہونے والوں کے اعداد و شمار بتا کر ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

ان نتائج اور جماعت کی خستہ مالی حالت کے باوجود سیاست سمیت ہر شعبے میں شاندار کامیابیاں دیکھ کر دل خوش ہوگیا کہ یہاں پر جماعت نے نوجوان خون کو اپنا حصہ بنانے کے لیے کیا شان دار حکمت عملی اپنائی ہے۔لیکن اس کے برعکس جب جماعت اور جمعیت کا نظریاتی طور پر ایک ہی فکر اور نظریے سے وابستگی کا دعویٰ رہا، اور علی الاعلان دونوں کہتے ہیں کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں، جو قانونی طور پر بالکل درست کہتے تھے، لیکن اس طرح کارکنوں کے ذہنوں میں قانونی چیز کا روحانی طور پر ذہنوں میں راسخ ہوجانا کہ ہم دو علاحدہ علاحدہ جماعتیں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ جب وہ طالب علم جمعیت سے فارغ ہوتے تو عام معاشرے میں کہیں گم ہوجاتے اور ان کی بہت ہی تھوڑی تعداد جمعیت سے جماعت میں آتی ہے۔

پروفیسر صاحب کی اس بات میں کتنی سچائی تھی کہ ’’ہمیں نئی حکمت عملی بنانے اور اپنانے کا راستہ ملا‘‘۔

 _______________