ڈاکٹر جمال عبدالستار


قرآن نے فتح و نصرت کے مفہوم کو اُس تصور سے مختلف انداز میں پیش کیا ہے جو بیش تر لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ فتح و نصرت کے قرآنی مفاہیم کو سمجھنا دلوں کو مایوسی اور نااُمیدی سے بچانے کا مضبوط حصار ہے ۔ یہی تصور مسلمانوں کو ان کی مختلف صلاحیتوں اور مختلف مقامات کے مطابق متحرک کرسکتا ہے۔ قرآن حکیم کے اسی تصور نے ایک فعال، متحرک اور آزاد امت تشکیل دی۔ 

نصرت دشمن کو پسپا کر کے یا ہلاک کر کے اس کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ اس کی کئی صورتوں میں سے صرف ایک صورت ہے، بلکہ یہ نصرت کی کئی صورتیں حاصل ہوجانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔لہٰذا، یہ سوال اٹھانے کی گنجائش نہیں رہتی کہ کیا فلاں جنگ میں مسلمان غالب آئے یا شکست کھا گئے؟ کیونکہ نصرت کا معیار تو واضح طور پر مقصد ہے کہ وہ کہاں تک ، اور کس کس شکل میں پورا ہوا ہے ۔  

چند بنیادی حقائق 

بنیادی طور پر فتح یہ ہے کہ آپ تمام رکاوٹوں پر قابو پالیں تاکہ آپ اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کے مطابق اللہ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔  

  • اخلاص اور جدوجہد:فتح کا اصل مقصد دو چیزوں میں کامیابی حاصل کرنا ہے: اپنا ارادہ خالص کرنا اور اپنی پوری کوشش کرنا۔ اگر آپ اس انتہائی ذاتی امتحان میں کامیاب ہو گئے، تو آپ نے فتح کے اعلیٰ ترین درجات پا لیے، چاہے ظاہری دنیا میں کوئی فوری تبدیلی نہ آئے۔ اگر آپ ارادے کو خالص کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو فوجی فتوحات، شہرت، اور عوام کی حمایت آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی، چاہے سرکش ہلاک ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ 

اگر آپ ان مختلف شعبوں میں اپنی ممکن کوششیں صرف نہیں کرتے جن میں اللہ نے آپ کو بااختیار بنایا ہے، تو مادی یا معنوی فتح حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، چاہے اس کی وسعت اور شکل کچھ بھی ہو، کیونکہ آپ کو ذاتی فتح حاصل نہیں ہوسکی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے احتساب کا ایک معیار مقرر کیا ہے جو قرآن کے بیان کردہ قوانین میں سے ایک قانون میں ظاہر ہوتا ہے: وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى۝۳۹  (النجم ۵۳:۳۹) ’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے‘‘۔ لہٰذا جو کچھ آپ نے خرچ نہیں کیا وہ آپ کو واپس نہیں ملے گا، اور جو کچھ آپ نے نہیں کیا اس کے نتیجے سے آپ ربّ کے ہاں فائدہ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كُلُّ نَفْسٍؚ   بِمَا كَسَبَتْ رَہِيْنَۃٌ۝۳۸  (المدثر ۷۴:۳۸) ’’ہرشخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے‘‘۔ 

قرآن حکیم کے مطابق فتح دراصل ایک الٰہی قانون ہے جو کبھی نہیں بدلتا، لیکن جب امت اس کے تقاضوں سے منہ موڑ لیتی ہے تو اس کا وعدہ بھی مؤخر ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  اِنَّ اللہَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ۝۰ۭ(الرعد۱۳:۱۱) ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ 

اسی طرح شکست بس ہتھیاروں سے مغلوب ہوجانا نہیں ہوتی ، بلکہ شعور، ارادے اور ایمان کی شکست اصل شکست ہوتی ہے۔سیّد قطب رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ہم اپنی تلواروں کے ٹوٹ جانے سے شکست نہیں کھاتے، بلکہ اس وقت شکست کھاتے ہیں جب ہمارے دل صبر و ثبات اور اللہ کے وعدے پر یقین کی دولت سے محروم ہوکر ٹوٹ جائیں‘‘۔ 

  • دعوت اور فکر: دوسری بات یہ کہ فتح در اصل دعوت، فکر اور پیغام کا باقی رہنا ہے، جیساکہ اصحاب الاخدود کے واقعے میں ہوا ، اور جیسا کہ سیّد قطب تو مرتبۂ شہادت پاگئے، مگر ان کی فکر شہادت کے بعد بھی باقی ہے اور پھیل رہی ہے ،جب کہ ان کو قید کرنے والوں اور شہید کرنے والوں کا نام و نشان مٹ گیا۔ اسی طرح لیبیا پر قبضہ کرنے والوں کے نام اور افکار غائب ہو گئے، اور عمرمختار قافلۂ حق کے لیے ایک مینار کے طور پر باقی ہیں۔ جب قابض اسرائیلی فلسطینی مزاحمت کا نام مٹانا اور اس کے وجود کو ختم کرنا چاہتے تھے، اور اُن صہیونیوں کے ساتھ پوری دنیا تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس مزاحمت کو دنیا کی تمام خبروں میں پہلی خبر بنا دیا، اور ان کے مقصد، ان کے طریقوں، ان کے اخلاق اور ان کی عزیمت کو زمین پر سب سے نمایاں کر دیا۔ زندگی کی قسم! اگر ان کے مقصد اور ان کے منہج اور ان کے جھنڈے کا زمین میں یہ استحکام فتح نہیں تو فتح اور کیا ہوگی؟ 

حقیقی فتح اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ لوگوں کےدلوں کو کھول دیتا ہے، تاکہ وہ حق کے پیغام کو جذب کریں، ہدایت کو اپنائیں اور حق کا علم اٹھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی تعریف فرمائی تو ان کی کامیابی کی نمایاں علامت کا ذکر کیا: 

وَجَعَلَہَا كَلِمَۃًۢ بَاقِيَۃً فِيْ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۲۸(الزخرف ۴۳:۲۸) اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ 

  • صبر و استقامت:تیسری بات یہ کہ فتح، اس دن حاصل ہوتی ہے جب اہلِ حق ایمان کے محاذ پر ثابت قدم رہیں، ان کا عقیدہ متزلزل نہ ہو، وہ اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہوں، ان کے افکار میں کجی نہ آئے، اور ان کی اقدار دشمن کی یلغار میں بہہ نہ جائیں۔ وہ حق پر جئیں چاہے کتنے ہی طوفان اٹھیں، یا پھر اس راہ میں شہادت سے سرفراز ہوجائیں جس کا اللہ تعالیٰ نے انھیں مکلف بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور آپ کے بعد آنے والے حق کے تمام راہیوں سے فرماتا ہے: 

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۝۴۰ (الرعد۱۳:۴۰) اور اے نبیؐ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اُن لوگوں کو دے رہے ہیں اُس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمھارے جیتے جی دکھا دیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمھیں اُٹھا لیں، بہرحال تمھارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ 

چنانچہ شہیدوں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا، مخلص علما نے اسلام کا کلمہ پہنچا دیا، اور انبیائے کرام جنھیں بنی اسرائیل نے قتل کیا، انھوں نے اللہ کا کلمہ پہنچا دیا۔ لہٰذا ان کی موت، شہادت، ان کا قتل،انتخاب (چُن لیا جانا)، اور ان کا انجام، سب کچھ فتح و نصرت قرار پایا۔ 

اللہ کی راہ میں شہادت’فتح‘ کی سب سے زیادہ شاندار صورت ہے، جہاں انسان اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے، اپنا جھنڈا اٹھائے ہوئے، اپنے محاذ پر صبر سے کام لیتے ہوئے جان دیتا ہے۔ شہادت کوئی ایسی مصیبت نہیں کہ اس پر آہ و بکا کی جائے، اور نہ کوئی آفت ہے کہ اس پر افسوس کیا جائے، بلکہ یہ خالص الٰہی انتخاب اور چناؤ (اجتباء و اصطفاء) ہے۔ یہ دنیاوی تصادم کے میدان سے ربّ العالمین کے ہاں اعزاز کے میدانوں کی طرف نہایت باعزّت منتقلی ہے۔ 

  • افکار کی بالادستی: چوتھی بات یہ کہ فتح، عقلوں سے پردہ ہٹانے کا کام کرتی ہے، کیونکہ افکار کی درستی اور مجرموں کے دعووں کا لوگوں کے دل و دماغ سے مٹ جانا اُس فتح سے کہیں زیادہ اہم اور دیرپا ہے جو فتح صرف تلوار کے زخم تک محدود ہو۔ اللہ کی تائید اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کفر کی برائی بے نقاب ہوجائے، اس کی فکری عمارت منہدم ہو جائے، اور اس کے باطل دعوے آنکھوں اور نگاہوں کے سامنے غلط ثابت ہو جائیں۔ یہی وہ فتح ہے جو افکار کا زور اور اثرات کے تسلسل کے ٹوٹنے کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہ ایسی فتح ہے جو اُن دعووں اور بیانیوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی ضمانت دیتی ہے، اور دشمن کی عسکری پسپائی سے بہت اونچے درجے کی کامیابی ہے۔ 

 آپ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کو دیکھ لیجیے کہ سر زمین مزاحمت سے متعلق ان کے جھوٹے دعوے کہاں دفن ہوگئے؟ حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے نعرے اور جھوٹ کس وادی میں گم ہو گئے؟  بچوں کے حقوق کے اداروں کو دیکھیے کہ اللہ نے ان کے چہروں کی بدصورتی کیسے عیاں کی؟ جمہوریت کے علَم برداروں کا مت پوچھیں کہ اس بت کا کیا حشر ہوا جسے وہ ایک عرصے سے تراش رہے تھے اور لوگوں کو اس کے عظیم فائدے کی خوشخبری دے رہے تھے،کہ بہادر مزاحمت نے انھیں اچانک آ لیا اور ان کے اس بت کو پاش پاش کر دیا۔اس مزاحمت نے تمام جھوٹ، فریب اور کھوکھلے نعروں کو بے نقاب کر دیا، اور معبد کے پجاریوں، مفاد پرستوں، دھوکے بازوں اور مجرم سرکشوں کو رُسوا کر کے رکھ دیا۔ 

  • فتح و کامیابی:پانچویں بات یہ کہ فتح، ظالم سرکشوں کو ہلاک کرنے اور ان کی سلطنت کو زوال آشنا کرنے کی صورت میں امت پر اللہ کا ایک انعام ہے۔ اور سرکشی کا انجام بہت بُرا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِہٖ۝۰ۚ (العنکبوت ۲۹:۴۰) ’’آخرکار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑ لیا‘‘۔تاریخ کا تذکرہ جبروت کے مذموم انجام کی گواہی دیتا ہے، یعنی عاد سے لے کر ہر سرکش اور متکبر بادشاہ تک، جسے قدرت کے ہاتھ نے سمندر میں غرق کیا، یا تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا، تاکہ ان کا زوال مومنوں کے لیے ایک نشانی اور مجاہدین کے لیے باعث نصرت ہو ۔ 
  • حقیقی کامیابی:چھٹی بات یہ کہ فتح یہ ہے کہ اس راہ کا مسافر روزِ حساب مالکِ روز جزا کے سامنے پیشی کے وقت اس کی خوشنودی پانے میں کامیاب ہو جائے، کیونکہ دُنیاوی فتح و نصرت ایک عارضی منظر ہے، جس میں اَدل بدل کا قانون جاری رہتا ہے : وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ۝۰ۚ (اٰل عمرٰن۳:۱۴۰) ’’یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں‘‘، لہٰذا نہ خوشی مستقل رہتی ہے، نہ طاقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ یہ قانون کسی ظالم کو نہیں چھوڑتا مگر اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے، اور کسی خوش حال کو نہیں چھوڑتا مگر اس کو مفلوک الحال بنا دیتا ہے۔ 

سب سے بڑی اور مطلق فتح و نصرت ، تو وہ ہے جس کے نتائج اللہ سے ملاقات کے دن ظاہر ہوں گے۔ اس دن سب کچھ جاننے والے بادشاہ نے حق کا ترازو نصب کر رکھا ہوگا : 

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۝۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۱۸۵) کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کر دیا جائے۔ 

اسی طرح حقیقی خسارہ وہ نہیں جو دنیا کی دولت سے ہو، بلکہ وہ ہے جو اس عظیم دن انسان اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کے نتیجۂ اعمال میں دیکھے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  

وَقَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ۝۴۵ (الشوریٰ۴۲:۴۵) اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنھوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا۔ خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے۔ 

 سبقت لے جانے کی آخری انتہا، اور کامیابی کی بلند ترین چوٹی رضائے الٰہی کا حصول ہے، اور اسی سے نصرت الٰہی کا عمل مکمل ہوتا ہے، جو دنیا میں مدد سے لے کر ہمیشہ کی جنتوں میں داخلے کی صورت میں تکمیل کو پہنچتا ہے : 

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ۝۵۱ (المؤمن ۴۰:۵۱) یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ 

سر چشمۂ  نصرت کی حقیقت 

صرف آلات ، ذرائع ، اسباب اور اتحادوں کے دائروں میں فتح و نصرت کی تلاش انسان کو اس وقت مایوس کر دیتی ہے جب اسباب کم ہوں یا صلاحیتیں ناکافی ہوں۔ بلکہ بعض اوقات انسان اس کے حصول کی کوشش ہی ترک کر کے مایوسی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ 

لیکن جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ نصرت کا سرچشمہ ایک ہی ہے، اور اس کے حاصل ہونے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی راہ کے، تو وہ یقین کے میدانوں میں کھڑے ہو کر پڑھتا ہے: وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ 

اس وقت وہ اسباب پر انحصار کرنے سے زیادہ اللہ کے دروازے پر مناجات کرنے والا اور عاجزی دکھانے والا بن کر کھڑا ہوتا ہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ اسباب استعمال کے لیے ہیں نہ کہ ’دینے‘ اور’روکنے‘ کے لیے۔ تب اس کا رب اسے نصرت حاصل کرنے کے دروازے الہام کرتا ہے، اور اس کے لیے ربانی ہدایت کے چراغ روشن کر دیتا ہے۔ سوچ، منصوبہ بندی، اللہ پر بھروسا، اس کے حکم کے سامنے سرجھکا دینا، اور جو تکلیف اسے پہنچتی ہے یا وہ جو کوشش بھی کرتا ہے اس پر اللہ سے اجر کی اُمید رکھتا ہے، چنانچہ نصرت کی یہ طلب عبادت اور قربانی میں بدل جاتی ہے۔ 

نصرتِ الٰہی کا قانون__  ـــ ایک بنیادی عقیدہ 

نصرت الٰہی کا قانون، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے شروع ہوتا ہے: وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے‘‘۔ یہ محض ایک وقتی مقولہ نہیں ہے جسے صرف سختیوں میں دُہرایا جائے، بلکہ یہ ایک مضبوط بنیادی عقیدہ ہے، جو صاحب ِایمان کو سبب پیدا کرنے والے اللہ کے ہاتھ میں ایک سبب بنا دیتا ہے۔ 

فتح و نصرت کوئی غنیمت نہیں جس کو محض انسانی چالاکی سے حاصل کیا جا سکتا ہو ، بلکہ یہ ایک آسمانی تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ زمین میں اپنے دین اور اپنے عظیم مقاصد کو قائم کرنے کے لیے عطا کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ خواہشات کو اعزاز بخشا جائے یا ذاتی و شخصی تنگ نظری کے حسابات برابر کرنے میں صرف کیا جائے ۔ میدانِ جنگ میں اللہ تعالیٰ اہل حق کو جو ثبات و استقامت عطا کرتا اور دشمنوں کی چالوں کو بے نقاب کرتا ہے، وہ اللہ کی مدد اور تائید ہے: 

فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰكِنَّ اللہَ قَتَلَہُمْ۝۰۠ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ رَمٰى۝۰ۚ  (الانفال۸: ۱۷) پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔  

اس پختہ عقیدے کا مطلب بندے کی جدوجہد اور کوشش کو کالعدم کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمام اسباب، چاہے وہ کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اسباب سے زیادہ اللہ کی ذات پر بھروسا کیا جائے۔ 

یقین اور اسباب کے درمیان توازن 

جب بندے کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ فتح ایک الٰہی تحفہ ہے نہ کہ انسانی تدابیر کا نتیجہ، تو دل مخلوقات کی غلامی اور خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ایمان کا حق یہ ہے کہ شرعی اور عقلی تقاضوں کے مطابق مکمل تیاری کی جائے، اور نتائج کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ اسباب کو ترک کرنا توکّل نہیں، لیکن انھی پر مکمل بھروسا کرلینا شرکِ خفی کی پھسلن ہے۔ 

بـے عملی اور جلدبازی سے گریز 

یہ بھی حکمت عملی کی کامیابی نہیں ہے کہ کچھ لوگ یہ گمان کرلیں کہ ان کی فتح کا انحصار ظالموں سے طاقت حاصل کرنے، یا قابضین کے ساتھ معمول کے تعلقات بناکر اختیار حاصل کرنے، یا مشرق یا مغرب سے مدد مانگنے پر ہے۔ اسی طرح کامیابی حاصل کرنے میں جلد بازی یا اس کی تاخیر سے مایوس ہونا ایک نفسیاتی کمزوری ہے۔ بعض اوقات تاخیر اور امتحان نفوس کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاکہ وہ ایمان اور استقامت کے بلندمقام پر ہوتے ہوئے اقتدار کو حاصل کریں۔ 

سیرتِ نبویؐ میں فتح و نصرت کے شواہد 

یقیناً سیرتِ نبویؐ اس بات پر شاہد ہے کہ فتح و نصرت کی عملی راہیں اس وقت کھلتی ہیں جب ظاہری اسباب ختم ہو جائیں اور دل صرف آسمان کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ 

حضرت نوح علیہ السلام پر زمین کی تمام تدبیریں بند کر دی گئیں، تو ان کے پاس عاجزانہ مناجات کے سوا کچھ نہ تھا۔اور جب موجیں خوف سے ٹکرائیں، تو موسیٰ علیہ السلام نے ہر دُنیاوی منطق کو ترک کر دیا اور یقینِ مطلق کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا۔ 

سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں، ’بدر‘ اور’حدیبیہ‘ کے واقعات اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ فتح و نصرت کے طریقے کئی ہوتے ہیں: کبھی وہ آسمانی مدد ہوتی ہے جو لشکروں کو مٹا دیتی ہے، اور کبھی وہ ایسی صلح کے پردے میں فتح ہوتی ہے جو بظاہر شکست نظر آتی ہے۔ 

مسافرانِ حق کو معلوم ہونا چاہیے کہ نصرت کا وعدہ جامع حکمت کے ساتھ مربوط ہے، صرف موجودہ لمحے کو دیکھنے کی تنگ نظری تک محدود نہیں ہے۔ 

میثاقِ یقین 

اس میثاق الٰہی میں پہلا قدم دل کی اصلاح ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس فتح یاب جھنڈے کی کیا قیمت جسے ایک کمزور دل نے اُٹھا رکھا ہو؟ اللہ کی نصرت کو وہ سب سے بڑا معیار بنائیے جس سے ہرسیاست شروع ہو اور جس پر منصوبوں کی عمارتیں کھڑی کی جائیں۔ پھر تیاری کے امانت دارانہ قانون کے مطابق مادی طاقت کی بِنا اٹھایئے، اور ناقابلِ بحث حکمت کے تابع معنوی طاقت پیدا کیجیے ،تاکہ اداروں اور ریاستوں کو معلوم ہو کہ زمینی حکمت عملیاں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتیں جب تک کہ ان میں ربانی مقاصد کا اُفق شامل نہ ہو۔ 

وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللہِ۝۰ۭ (الانفال۸:۱۰) ’’نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے‘‘ کا اعلان محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک دائمی مدار(orbit)ہے جو دل کو توحید کے محور سے باندھ کر رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی عادلانہ میزان ہے جو اسباب کے بوجھ اور نتائج کی سبکی کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔ ایک مستقل اور دائم مدرسہ ہے جو اُمت کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی حقیقی عزّت ربّ کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں پوشیدہ ہے، نہ کہ زمینی طاقتوں کے سحر میں مبتلا ہونے میں! لہٰذا جس نے عہد کو سچ کردکھایا اور میثاق پورا کیا اس کے لیے ابدی وعدے کا جھنڈا گاڑ دیا گیا: 

كَتَبَ اللہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ۝۰ۭ (المجادلہ ۵۸:۲۱) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسولؑ غالب ہو کر رہیں گے !

قومیں اُمت مسلمہ پر اس طرح ٹوٹ پڑی ہیں جیسے بسیارخور کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، مسائل بہت زیادہ اُلجھ گئے ہیں۔ مفادات کی جنگ جاری ہے۔ مختلف نقطہ ہائے نظر کی بھرمار ہے۔ مسلمان راہِ نجات اور محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں، جو انھیں اس خوفناک معرکے کی لپیٹ سے بچا سکے اور سب کچھ جلا کر راکھ کر دینے والے طوفان میں محفوظ رکھ سکے۔ ایسا طوفان جو اُمت کو دوکیمپوں میں تقسیم کررہا ہے: ایمان کیمپ ، جس میں نفاق نہیں، اور نفاق کیمپ، جس میں ایمان کی رمق بھی نہیں۔ اس طوفان میں اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان فرق کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ اس میں کھرے اور کھوٹے کی تمیز بھی ہورہی ہے۔ پھر جس کو ہلاک ہونا ہے وہ دلیل پر ہلاک ہوگا اور جس کو زندہ رہنا ہے وہ دلیل پر زندہ رہے گا۔ اور یہ اٹل قرآنی قانون کے مطابق ہوگا: 

فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْہَبُ جُفَاۗءً۝۰ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ  (الرعد ۱۳: ۱۷)  جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیرجاتی ہے۔  

اس انتہائی مشکل اور پریشان کن صورتِ حال میں اُمت کو یہ پناہ گاہ کب میسر آئے گی اور  کہاں مل سکے گی؟ 

عالم اسلام اور افرادِ اُمت کو بہت سی فکری و نظری پناہ گاہوں میں حفاظت کی توقع بندھ جاتی ہے اور وہ ان کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ ذیل میں ایسی تصوراتی پناہ گاہوں کی نشان دہی اور ان کی حقیقت پر نظر ڈالتے ہیں: 

کفر و طغیان کے سامنے ہتھیار ڈال دینا 

امن و سلامتی اور حفاظت کی پناہ گاہ یقینا اس پرچم تلے نہیں ہوسکتی، جو دشمنوں کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنی شناخت اور امتیاز کے خاتمے سے ممکن ہو، یعنی بدترین حالات کو دیکھ کر ان کے سامنے ہتھیار ڈال دینا، طوفان کے سامنے کھڑے نہ ہونا، جینے کی ادنیٰ ترین سطح پر آکر زندگی کی بھیک مانگنا، یا زیادہ سے زیادہ کفر کے نظام کے تحت، اصلاح کی موہوم اور معمولی شکل کو حاصل کرنے پر راضی ہوکر بیٹھ جانا۔ یہ سب ظلم سے مصالحت اور مداہنت کی وہ شکل ہے، جس کی ادنیٰ ترین حد کے قریب جانے سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیںمنع فرمایا ہے: 

وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ۝۰ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۝۱۱۳ (ھود ۱۱:۱۱۳) ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے اور تمھیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمھیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ 

یہ دراصل اس طوفان کے انجام سے بے خبری ہے، طوفان خواہ کتنا ہی دُور تک چلا جائے اس کا انجام ہلاکت و تباہی اور بربادی ہی ہوتا ہے:  

وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ۝۰ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَہُوْقًا۝۸۱ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۱) اور اعلان کر دوکہ ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے‘‘۔ 

اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا انجام بھی بیان کردیا ہے، جو اپنی شناخت کو بھول کر کفر و طغیان کے کیمپ میں داخلے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں۔ جو قوم ان کے نقش قدم پر چلے گی اسے اسی حتمی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا: 

فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْہِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَۃٌ۝۰ۭ فَعَسَى اللہُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَسَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِيْنَ۝۵۲(المائدہ ۵:۵۲) تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنھی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں: ’’ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکّر میں نہ پھنس جائیں‘‘۔مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمھیں فیصلہ کُن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے۔ 

اس آیت میں لفظ عَسَی آیا ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں اُمیدورجاء اور توقع کے لیے نہیں بلکہ حتمی اور قطعی بات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ اس راستے کے انجام سے خبردار کر رہا ہے، کہ جلد ہی وہ یقینی طور پر فتح اہل حق کے مقدر میں کردے گا ، یا ایسے حادثات و واقعات رُونما کرے گا، جو بیمار دلوں کی توقعات اور اُمنگوں کے برعکس ہوں گے اور وقت گزرجانے کے بعد ان میں شرمندگی کا احساس گہرا کریں گے۔ ان کے اُوپر وہ بیماری، کمزوری اور بزدلی و کم ہمتی کھل جائے گی جس کی طرف ان کے دل لڑھکتے پھرتے تھے۔ 

نفاق اور مصالحت کی پناہ گاہ 

حفاظت و سلامتی کی پناہ گاہ ، اُمت کے دلوں پر ظلم و استبداد کے مونگ دَلنے والے نظاموں اور اُن کے کارپرداز منافقین کی قلیل سی تعداد کے ساتھ اپنی نسبت جوڑنے سے بھی میسر نہیں آئے گی۔ یہ اقلیت اُمت کی دولت اور وسائل ضائع کر رہی ہے ۔ اس حاکم اقلیت نے اُمت کا ناطقہ بند کر رکھا ہے ، اس کی شناخت کو تبدیل کردیا ہے، اور اُمت سے عزم و ہمت کی قوت سلب کرلی ہے۔ اس حاکم گروہ نے اُمت کو اس کی آزادی سے محروم کر دیا ہے اور اللہ کے دین و شریعت سے عالمی نظام کی خدمت کے لیے اُمت کو غلام بنا رکھا ہے۔ اسلام اور اسلامی اقدار و روایات کا دشمن یہ استبدادی نظام ہے اور نظامِ شریعت سے جنگ آزما ہے اور انسانی فطرت کو تبدیل کردینے کے درپے ہے۔ 

اس منافقانہ نظام میں اپنے آپ کو گم کر دینا نہ اُمت مسلمہ کے مسائل کا حل ہے اور نہ اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ، بلکہ یہ مزید گراوٹ اور پستی میں گرنے پر ڈھٹائی سے جمے رہنے کے مترادف ہے۔ یہ ناکامی و پسپائی کو یقینی بنانے کا عمل ہے اور بڑی قیمت چکا کے اسے  مزید جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔ ان منافقین کے پاس سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں اور ان کی دوستی کا کوئی اعتبار نہیں۔ خود ان کے وجود اور موجودگی کا بھی کوئی مستقبل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے باطل کی حقیقت کو بہت صاف الفاظ میں بیان کردیا ہے: 

يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝۰ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۹ۭ (البقرہ ۲:۹) وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکا بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور اُنھیں اس کا شعور نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش جس کے سبب عذاب ان کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور کسی مددگار کا وجود ان کو نظر نہ آنے کا بیان کرتے ہوئے فرمایا:  

اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۝۰ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا۝۱۴۵(النساء ۴:۱۴۵) یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے، اور تم کسی کو اُن کا مددگار نہ پائو گے۔ 

اللہ تعالیٰ اس قبیل کے تمام منافقوں (اور ان سے منسوب ہونے والوں کو) کافروں کے ساتھ جہنم میں ایک جگہ جمع کردے گا: 

 اِنَّ اللہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَہَنَّمَ جَمِيْعَۨا۝۱۴۰ۙ(النساء ۴ :۱۴۰) یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے۔ 

الحاد کی پناہ گاہ 

ہمیں یقین ہے کہ کوئی عقل مند آدمی نہ اس راستے کا انتخاب کرسکتا ہے، نہ کوئی رہنمائی کرنے والا دوسروں کو یہ راستہ دکھاسکتا ہے۔ یہ تو فطرتِ سلیمہ کی مخالفت اور ربِّ کائنات سے بغاوت و سرکشی کا راستہ ہے۔ قوانین قدرت اور قطعی دلائلِ ایمان کا انکار ہے۔ شروع میں تو اس خیال کا آدمی سمجھتا ہے کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہوگیا ہے، مگر اسے یہ ادراک نہیں ہوپاتا کہ وہ کس تنگ و تاریک مقام پر جاگرا ہے، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اور کس طرح کے غم و اندوہ میں مبتلا ہوگیا ہے جن سے چھٹکارے اور خلاصی کی کوئی سبیل نہیں۔ ایسا شخص ایسی بے سکونی اور بے چینی کا شکار ہوجاتا ہے کہ پھر سکون و اطمینان اسے کبھی میسر نہیں آسکتا۔ وہ حال کا سکون بھی گنوا بیٹھتا ہے اور مستقبل کے خوف کی آگ میں بھی جلتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی کیفیت کو بیان فرمایا ہے: 

وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى۝۱۲۴ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۴) اور جو میرے ’ذکر‘ (درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اُسے اندھا اُٹھائیں گے۔ 

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 

وَمَنْ  يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ  مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ۝۳۱ (الحج ۲۲:۳۱) اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا، اب یا تو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے، یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جاکر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اُڑجائیں گے۔ 

پسپائی اور فرار کی پناہ گاہ 

یہ عزّت و تکریم کی بلندی سے اُتر کر خواہشاتِ نفس کی تکمیل میں مصروف ہوجانے، کھوجانے اور غرق ہوجانے کی پست سطح پر آجانا ہے۔ خوش حالی اور زندگی کی سہولتوں کے حصول کے پیچھے بھاگنا ہے، اور انھی سے لطف اندوزی کو مقصودِ زندگی ٹھیرا لینا ہے۔ اس کیفیت میں اللہ کے پیغام کا ابلاغ، امانت الٰہی کی ادائیگی اور اقامت دین کی ذمہ داری سے انسان منہ موڑ لیتا ہے، یا غفلت کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس نیابت کی خاطر پیدا کیا ہے، اُس فریضے کی ادائیگی سے پہلو بچاتا ہے، حالانکہ کائنات اور اس کی قوتیں اسی مہم کی انجام دہی کے لیے اس کی معاونت کی خاطر مسخر و مطیع کی گئی ہیں۔ 

اس فرار کو قرآنِ مجید نے ’ہلاکت‘ کا نام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے آخری نبیؐ کو فتح و نصرت سے شادکام کردیا تو بعض صحابہؓ نے اپنی گفتگوئوں میں اس بات کا اظہار کیا کہ ہم نے اپنے مال ودولت کو اس خاطر چھوڑا تھا کہ ہم آپؐ کی جدوجہد میں شریک رہیں۔ اب چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فتح و نصرت عطا فرما دی ہے، لہٰذا آئو ہم مال و کاروبار کی طرف واپس لوٹ جائیں تاکہ ان کی بہتری اور ترقی کے لیے محنت کرسکیں۔ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ نے اس خفیہ اظہار رائے کی خبر وحی کے ذریعے دی اور فرمایا: 

وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّہْلُكَۃِ ۝۰ۚۖ (البقرہ ۲:۱۹۵) اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ 

یہاں اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ’ہلاکت‘ میں ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے دُنیاوی کاروبار اور روزگار کے ذرائع کی ترقی اور بہتری میں لگ جائیں اور جہاد کو ترک کر دیں۔ اس لیے فرار اور پسپائی کسی کے لیے ہرگز پناہ گاہ نہیں بن سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: 

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝۲۴ۧ (التوبۃ ۹:۲۴) اے نبیؐ، کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ، اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی، اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب، اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمھارے وہ کاروبار، جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ 

کسی سے پناہ لینے کا راستہ 

دُنیا اور آخرت میں اہل ایمان کے لیے ایمان کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۝۸۲ۧ (الانعام ۶:۸۲) حقیقت میں تو امن اُنھی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا۔ 

اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ ہم نہ کافروں کی کشتی میں سوار ہوں، نہ اُن کی ہمراہی میں سفر اختیار کریں بلکہ اپنے دلوں میں ایمان کی علامات کو مضبوط تر کریں۔ قلبی صفائی اور اللہ پر توکّل کی سچائی کو دائمی طور پر اختیار کرلیں۔ یہی دو بنیادیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بیان ہوئی ہیں: 

وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَي اللہِ وَقَدْ ہَدٰىنَا سُبُلَنَا۝۰ۭ (ابراھیم ۱۴: ۱۲) اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسا کریں، جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ 

امن و سلامتی کی پناہ گاہ اسلام کے ساتھ اپنے مخلص انتساب کی تجدید میں پوشیدہ ہے۔ اسلام کی شاہراہِ مستقیم کے مسافر کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ پوری وضاحت، قوت اور استقامت کے ساتھ باوقار انداز میں اس تجدید ِعہد کا اعلان کرے کہ: 

وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۝۷۲ (یونس ۱۰ :۷۲) اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں ۔ 

بلکہ وہ اپنے ربّ سے ہروقت یہ دُعا بھی کرتا رہے: 

تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ۝۱۰۱ (یوسف ۱۲: ۱۰۱) میرا خاتمہ اسلام پرکر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔ 

شاہراہِ اسلام کے مسافر کا شعار اور عزم یہ ہونا چاہیے کہ ’’میں اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام کر زندگی گزاروں گا اور مسکراتے ہوئے موت کا استقبال کروں گا، تاکہ میرا دین زندہ اور قائم رہے‘‘۔ 

جدوجہد میں اپنا کردارادا کرنا 

پہاڑوں کی طرح بلند موجوں کا یہ طوفانِ بلاخیز اُمت مسلمہ کو پکار پکار کر اپنا سفینۂ نجات وقت ضائع کیے بغیر تیار کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔اس کشتی کی تیاری وقت کا فریضہ اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے مگر شرط یہ ہے کہ کشتی کی تیاری میں قرآنِ مجید کے حکم کا وہ متن پیش نظر رہے جس میں حضرت نوحؑ کو مخاطب کیا گیا ہے: 

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۝۰ۚ اِنَّہُمْ مُّغْرَقُوْنَ۝۳۷  (ھود ۱۱:۳۷) اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو۔اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔ 

یہ کام سب سے پہلے تو اللہ پر توکّل میں اخلاص کا تقاضا کرتا ہے اور پھر اس سے مدد و استعانت کو بھی لازم ٹھیراتا ہے۔ یعنی بِاَعْيُنِنَا (ہماری نظروں کے سامنے)۔ دوسرا تقاضا یہ ہے کہ کشتی اللہ تعالیٰ کے طریق اور اس کے قانون و ضابطے کے مطابق تیار کی جائے یعنی  بِوَحْينَا (ہماری ہدایت کے مطابق)۔ زمینی فلسفوں، عالمی حکم ناموں اور گروہی آرزوئوں کے مطابق نہیں۔ 

اس کشتی کے مسافروں پر لازم ہے کہ کشتی بانوں کو ان کا تعاون اور ہمدردی مکمل طور پر حاصل ہو۔قائد کاغذ پر نقشہ کے ذریعے اس کے ابتدائی خطوط طے کرے۔ کارکن مواد کو تیار کرے۔ انجینئر اس کی تفصیل بنائے۔ دولت مند دولت خرچ کرے۔ عبادت گزاردُعائیں کرے گا۔ عالم اس کے معانی و مفاہیم لوگوں کے ذہن نشین کرائے۔ بڑھئی اس میں کیلیں ٹھونکے۔ ماہرِفن تختیوں کی ترتیب لگا کر ان کی حرکت کو باضابطہ بنائے۔ 

اگر آپ ان سفینہ گروں میں سے نہیں ہیں تو سفینہ گری سے وابستہ لوگوں میں ہی شامل ہوجائیں، اس کام کو معاونت دینے والے بن جائیں۔ اس کی حفاظت و نگرانی پر مامور ہوجائیں۔ جو شخص اس کشتی کی تیاری میں اپنی کسی بھی طرح کی جہد و سعی صرف نہیں کرے گا، گویا وہ طوفان کے دوران جاری جہاد میں کسی کام نہیں آیا۔  

آخری بات یہ کہ کسی عمل کو چھوٹا اور معمولی نہ سمجھیے۔ ایک نوخیز بچّے کے دماغ میں لفظ ’اسلام‘ ڈالنے میں بھی تردد نہ کیجیے۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی نوجوان نسل کی اسلام کے مطابق تربیت کرنے میں ہچکچاہٹ نہ برتیں۔ انحطاط پذیر معاشرے میں اسلامی اقدار کی حمایت و اشاعت کا ساتھ دیں۔ کسی مایوس سوسائٹی میں اُمید کا کلمہ بلند کرتے ہوئے نہ شرمائیں۔ اُٹھیں اور پوری وضاحت سے بغیر کسی تردّد کے یہ اعلان کریں: 

اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللہِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ۝۰ۭ مَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ اِلَّا ہُوَاٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِہَا۝۰ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝۵۶ (ھود ۱۱ : ۵۶) میرا بھروسا اللہ پر ہے جو میرا ربّ بھی ہے اور تمھارا ربّ بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا ربّ سیدھی راہ پر ہے۔ 

اور یہ یقین رکھیں کہ آپ ایمان کی پناہ گاہ میں جاکر اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے حق دار قرار پائیں گے: 

وَلَنْ يَّجْعَلَ اللہُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا۝۱۴۱(النساء ۴: ۱۴۱) اور (اس فیصلہ میں)اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔