مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے مواقع آتے رہے ہیں جس میں امت کی عمومی بےحسی کی سزا صدیوں تک امت مسلمہ کےدینی، سیاسی اور تہذیبی زوال کا سبب بنی۔ ڈھائی سال پہلے جب غزہ کا چپّہ چپّہ تباہ کردیا گیا اور یہ تباہی ابھی جاری ہے، تو مسلمان حکمرانوں نے تاریخی بے حسی کا ثبوت دیتے ہوئے اہل غزہ سے رسمی طور پر ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اخلاقی اور سیاسی حمایت‘ کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی اداروں کے اندازے کے مطابق صہیونی ریاست اسرائیل کےغزہ پر گرائے گئے بموں کی طاقت جاپان میں ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم کے مقابلے میں کم ازکم پانچ گنا زیادہ تھی اور تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ تقریباً پانچ کروڑ ٹن ہے جس میں وہ بم بھی شامل ہیں جو پھٹ نہ سکے، جب کہ ملبہ صاف کرنے میں ۱۵ سے ۲۰ سال لگیں گے۔
اسرائیل غزہ اور فلسطینیوں کی شناخت ختم کرنے اور بیت المقدس پر مکمل قبضہ کرکے ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے پر تیزی سے کارفرما ہے۔ بظاہر ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو اس کے راستے میں حائل ہے۔ اب امریکا اور اسرائیل نے مل کر مختلف بہانوں سے ایران کے خلاف جنگ شروع کردی ہے۔ غزہ کی طرح یہاں بھی تمام انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جارہاہے اور ایران کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بدقسمتی سے ایران کے معاملے میں بھی مسلمان حکمرانوں کا رویہ غزہ کے سانحے سے کم نہیں ۔ امریکا مشرق وسطیٰ کے ممالک کی حفاظت کے بہا نے انھیں بھی اس جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس نازک موڑ پر امت مسلمہ کے اتحاد کی جتنی ضرورت آج ہے ،حالیہ تاریخ میں شاید اس سے پہلےکبھی نہ تھی۔
ارشاد خداوندی ہے: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۰۠(اٰل عمرٰن ۳:۱۰۳) ’’سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔ اس آیتِ مبارکہ کی تشریح میں مولانا مودویؒ فرماتے ہیں:’’اللہ کی رسّی سے مراد اس کا دین ہے، اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ اس رسّی کو ’مضبوط پکڑنے‘ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت ’دین‘ کی ہو، اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔ جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دلچسپیاں جزئیات و فروع کی طرف منعطف ہوئیں، پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ و اختلاف رُونما ہوجائے گا جو اس سے پہلے انبیا علیہم السلام کی امتوں کو ان کے اصل مقصد حیات سے منحرف کر کے دنیا اور آخرت کی رُسوائیوں میں مبتلا کرچکا ہے‘‘۔(تفہیم القرآن، جلداوّل، ص ۲۷۶-۲۷۷)
تاریخِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان قرآن و سنت کے سائے میں متحد رہے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں عزت، قوت اور سربلندی نصیب فرمائی، اور جب باہمی اختلاف اور تفرقہ نے ان کے دلوں میں جگہ بنا لی تو کمزوری اور زوال ان کا مقدر بنا۔عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہی حقیقت نمایاں نظر آتی ہے۔ اتحاد کمزور پڑنے کے سبب مسائل اور مصائب نے جنم لیا۔ آج مشرقِ ِ وسطیٰ میں بالخصوص اور دیگر مسلم خطوں میں پائے جانے والے سیاسی و مسلکی اختلافات، داخلی تنازعات اور باہمی عدم اعتماد نے امت کو کمزور کررکھا ہے۔ اس صورتِ حال سے بیرونی قوتیں فائدہ اٹھارہی ہیں۔ ایسے نازک حالات میں قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں دوبارہ اخوت، اتحاد اور باہمی تعاون کے راستے کی طرف بلاتی ہیں۔ دین اسلام ہی دلوں کو جوڑنے اور معاشروں کو متحد کرنے کی غیر معمولی قوت رکھتا ہے۔ مدینہ منورہ کی تاریخ اس حقیقت کا زندہ نمونہ ہے۔ اسلام سے قبل اوس اور خزرج کے قبائل باہمی دشمنی میں مبتلا تھے، مگر جب اسلام کا نور ان کے دلوں میں اترا تو وہ دشمنی محبت میں بدل گئی اور وہ ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔
صدافسوس کہ آج مسلمان اُمت ایک کتاب اور ایک رسول کوماننے کے باوجود شیعہ، سُنّی اور کئی دوسرے فرقوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر فرقے میں کئی کئی ذیلی گروہ بھی بنے ہوئے ہیں۔ اسی حالت کے بارے میں علّامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پَنپنے کی یہی باتیں ہیں
ایک مرتبہ انھوں مفتی محمد شفیع ؒ سے نہایت افسوس کے ساتھ فرمایا کہ’عمر ضائع کردی‘ اور پھر اس کی تفصیل میں فرمایا کہ ’’ ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں، امام ابوحنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروںکا اور علمی زندگی کا! قبر میں منکر نکیریہ نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھایا ترک رفع یدین حق تھا ؟ آمین بالجبر حق تھی یا بالسّر حق تھی؟ نہ برزخ میں اورنہ قبر میں یہ سوال ہو گا۔ اللہ تعالیٰ شافعی کو رُسوا کرے گا، نہ ابو حنیفہ کو، نہ مالک کو، نہ احمد بن جنبل کو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے۔ میدان محشر میں یہ معلوم نہیں کرےگا کہ ابوحنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھا یا اس کے بر عکس ،تو جس چیز کا نہ برزخ میں اور نہ محشر میں پوچھا جائے گا ، اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی، اور جو صحیح اسلام کی دعوت اورسبھی کے مابین متفقہ مسائل تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیا کرام علیہم السلام لے کر آئے تھے اور جسے عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور جن منکرات کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج یہ دعوت نہیں دی جارہی۔ معاشرے میں الحاد، اخلاقی انحطاط اور دینی کمزوری بڑھتی رہی، گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آ رہا ہے ، شرک و بت پرستی چلی آرہی ہے ،حرام و حلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے لیکن ہم ان فرعی و فروعی بحثوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی لیے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی‘‘۔ (وحدت امت ، مفتی محمدشفیع)
ائمہ کرام نے ایک مسئلے کی مختلف فقہی تشریحات کر کے امت کے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں، تاکہ دین پر چلنے میں آسانی پیدا ہو اور ضرورت کے وقت مختلف آپشنز(options) موجود ہوں لیکن بوجوہ اسے اختلاف کی بجائےمخالفت (بلکہ کفر اور اسلام ) کا مسئلہ بنادیاگیا، حالانکہ عقائد میں اختلاف نہ ہونے کے برابر ہے۔ قرآن آیاتِ محکمات کو ہی کتاب (دین اسلام) کی اصل بنیاد قرار دیتا ہے:
ھُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْہُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۷)وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں : ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں، اور دوسری متشابہات ۔
قرآنِ مجید میں تین مقامات (سورۂ توبہ آیت ۳۳ ، سورۂ فتح آیت ۲۸ اور سورۂ صّف آیت۹) پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْـرِكُوْنَ۳۳’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔ دین ہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر مسلمان اکٹھے ہو سکتے ہیں ، پھر اسلام کو غالب کرنے میں ہررکاوٹ ختم ہوجائے گی اور زندگی کے تمام مروجہ لادینی نظاموں کا اختتام ممکن ہو گا۔
’دین‘ ان بنیادی عقائد کا نام ہے جو قرآن سنت میں بیان ہوئے،تاکہ مسلمان ان کےمطابق اپنی زندگی گزاریں۔’شریعت‘ عقائد کے ان اصولوں کے مطابق زندگی کی سیدھی راہِ عمل متعین کرتی ہے جو ہمیں اصل منزل تک پہنچاتی ہے۔ ’مذہب‘(مسلک) وہ مختلف طریقے ہیں جو سارے اس منزل کی طرف جاتے ہیں اور ’ذوق‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے وہ اعمال (سنتِ زوائد) ہیں جن کا براہِ راست تعلق دین سے نہیں اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی عادت کے طور پر اختیار کیے، جیسے رنگ یا کھانے پینےمیں آپؐ کی پسند یا ناپسند وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےپوری زندگی ’دین‘ کی تعلیم اور تبلیغ میں گزاری اور ہم نے مذہب/مسلک میں الجھ کر دین کو پس پشت ڈال دیا ہے، بلکہ اس پوری ترجیح کو ہی الٹا کرکے رکھ دیا ہے اور اب بحثیں دین اور شریعت کی بجائے سفید ، کالی یا سبز رنگ کی پگڑی پہننے پر ہوتی ہیں۔
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ۰ۭ
(اٰل عمرٰن ۳:۱۰۵ ) کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے ۔
بہت سی اُمتوں کے ساتھ تاریخ میں یہی ہوا کہ انھوں نے اللہ کے پیغمبروں سے دینِ حق کی صاف، سیدھی اور جامع تعلیمات حاصل کیں، مگر کچھ زمانہ گزرنے کے بعد انھوں نے دین کی اصل بنیادوں کو پسِ پشت ڈال دیا اور ضمنی و فروعی مسائل کو بنیاد بنا کر الگ الگ گروہ اور فرقے تشکیل دینا شروع کر دیے۔ پھر حال یہ ہو گیا کہ وہ بے فائدہ اور لایعنی بحثوں اور جھگڑوں میں اس قدر اُلجھ گئے کہ نہ انھیں اس عظیم ذمہ داری کا احساس رہا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی تھی، اور نہ عقیدہ اور اخلاق کے ان بنیادی اصولوں کی طرف توجہ باقی رہی جن پر درحقیقت انسان کی حقیقی فلاح اور سعادت کا دارومدار ہے۔بدقسمتی سےبسا اوقات اس طرح کا تفرقہ علم کی کمی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پسِ پردہ ضد، مسلکی تعصب اور دنیاوی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔
یہ آیت اُمت کی اجتماعی زندگی کا ایک نہایت اہم اصول بیان کرتی ہےکہ جب قومیں آپس کے اختلافات اور نزاعات میں مبتلا ہو جاتی ہیں تو ان کی قوت، وقار اور اثر و رسوخ رفتہ رفتہ ماند پڑ جاتا ہے۔ تاریخ میں بے شمار قومیں صرف اس وجہ سے زوال کا شکار ہوئیں کہ وہ داخلی اختلافات اور باہمی کش مکش میں الجھ گئیں۔ قرآنِ حکیم نہایت وضاحت کے ساتھ یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمھارا رعب دشمن کے دلوں پر قائم رہے، تمھاری اجتماعی قوت برقرار رہے اور تمھارے اتحاد و اتفاق کی بنیادیں متزلزل نہ ہوں، تو تمھیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہوگا۔، یہی وہ مضبوط ڈھال ہے جس کے سہارے تم خواہشاتِ نفس اور دنیاوی اغراض کے تیروں کا مقابلہ کر سکتے ہو۔لیکن افسوس کہ آج کچھ لوگ اُمت کے اندر پھیلنے والے انتشار اور افتراق کی اصل وجہ کو سمجھنے کے بجائے عجیب و غریب تاویلات پیش کر کے مختلف اسباب بیان کرتے ہیں اور قرآن وسنت سے دُوری بلکہ رُوگردانی کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور بے جانکتہ آفرینیوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۱۰ۧ (الحجرات۴۹:۱۰)بے شک مومن آپس میں بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
یہ آیت دنیا کے تمام مسلمانوں کی ایک عالمگیر برادری قائم کرتی ہے اور یہ اسی کی برکت ہے کہ کسی دوسرے دین یا مسلک کے پیروؤں میں وہ اخوت نہیں پائی گئی ہے جو مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اس حکم کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بکثرت ارشادات میں بھی بیان فرمایا ہے اور مسلمانوں کو باہمی محبت اور اتحاد کی تلقین فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا:’’آپس میں حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ‘‘(متفق علیہ)۔ ایک دوسری حدیث میں فرمایا:’’ایک مومن دوسرے کے لیے ایک عمارت کی مانند ہےجس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اس سے جنگ کرنا کفر‘‘ (بخاری)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان، مال اور عزّت حرام ہے‘‘ (ترمذی) ۔ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’مومنوں کی مثال آپس کی محبت، وابستگی اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت کے معاملے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم کی حالت ہوتی ہے کہ اس کے کسی عضو کو بھی تکلیف ہو تو سارا جسم اس پر بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)
مسلمانوں کا اتحاد قرآن و سنت کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے سے ہی مضبوط ہوسکتا ہے، اور اسی سے عالمی سطح پر مسلمانوں کی قوت اور وقار بحال ہو سکتا ہے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے برحق فرمایا تھا:’’ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی،اگر ہم نےعزت کو اسلام کے علاوہ کسی اور نظام میں تلاش کیا تو اللہ ہم کو ذلیل کر دے گا‘‘۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عنقریب کوئی فتنہ برپاہوگا اور اس سے بچنے کی صورت کتاب اللہ کو تھامنا ہےجس میں تمھارے امور ومعاملات کا حکم وفیصلہ بھی موجود ہے، اور وہ دوٹوک فیصلہ کرنے والی ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔جس نے اسے سرکشی کرکے چھوڑدیا، اللہ اسے توڑدے گا اورجو اسے چھوڑکر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کردے گا۔ جو اس کے مطابق بولےاورعمل کرے اسے اجرو ثواب دیاجائے گا ، جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا،اورجس نےاس کی طرف بلایا اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی‘‘۔(ترمذی)
آج اُمتِ مسلمہ فرقہ واریت کے شدید بحران سے دوچار ہے، مسلکی اختلافات جو کبھی علمی اور فکری حدود تک محدود تھے، اب تعصب، نفرت اور دشمنی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اگر مسلمان پھر سے دنیا میں ایک اعلیٰ مقام اور غلبہ چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن وسنت کی طرف پلٹنا ہوگا اوراسے انفرادی اور اجتماعی نظام میں نافذ کرنا ہوگا۔ یہی اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور فلاح کی بنیاد ہے۔ اس اہم اور نازک موڑ پر بھی ہم اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد نہ ہوسکے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔