اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

رمضان اور عید الفطر کا سبق

مولانا عبدالحق ہاشمی | اپریل ۲۰۲۶ | تزکیہ و تربیت

Responsive image Responsive image

اللہ ربّ العزت کی توفیق اور اس کے بے پایاں احسانات میں سے ایک احسان یہ ہے کہ ہمیں رمضان المبارک سے فیض یاب فرمایا اور پھر اس کے بعد ہمیں مسرت اور خوشی کے اظہار کا دن’عید الفطر‘ عطا فرمایا۔ عید اللہ کے حضور اظہارِ تشکر اور اس کے سامنے عجز و نیاز اختیار کرنے کا دن ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی من جملہ ان بے پناہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو وہ ہر آن، ہر لمحے اور ہرساعت ہمارے اوپر نچھاور فرما رہا ہے۔ ہم تو ان نعمتوں کا ادراک بھی نہیں کر سکتے چہ جائیکہ ہم ان کا شکر ادا کر سکیں۔ یہ موقع بالعموم ہمارے معاشرے کے اندر خوشی اور مسرت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس موقعے پر لوگ خوشی اور شادمانی کا اظہار کرتے ہیں۔ خوشی کے ان مواقع پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ انسان راہ اعتدال سے کچھ تجاوز کر جائے۔ کسی جگہ اس کے قدم ڈگمگا جائیں۔ وہ نیکی کے راستے پہ چلتا چلتا کہیں کسی معصیت اور کسی نافرمانی کی راہ پر چل نکلے۔  

خوشی اور مسرت کے آداب 

انسان کی اس نفسیات کے پیش نظر پیغمبر علیہ السلام نے ہمیں خوشی کے ضوابط اور مسرت کے آداب سے روشناس فرمایا ہے۔ ان مواقع پر لوگوں کو اس بات کی کھلی چھوٹ دینا کہ جو پابندیاں تمھارے اُوپر لاگو کی گئی تھیں وہ اب ختم ہو گئی ہیں، اور اب تم آزاد ہو اور اس آزادی کے اندر جو بھی کام کرو اور جس طرح کا رویہ بھی اختیار کرو اس کے بارے میں تمھارے اوپر کوئی قانون اور ضابطہ عاید نہیں ہوتا۔ یہ وہ چیز ہے انسانی نفس جس کی خواہش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے اور وہ خود اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے بھی کرے اور اپنی خوشی کے منانے کا جو انداز بھی اسے بھلا لگے اس کو اختیار کرے۔ لیکن فی الحقیقت ایک مومن کی زندگی کے اندر اس طرح کی بے مہار آزادی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔  

قرآن مجید کے اندر اس ضابطے کو بے شمار اسالیب سے سمجھایا گیا ہے۔ کہیں ایک اصول کے طور پر یہ بات انسان کو سمجھا دی کہ جِنّ و انس کو تو میں نے صرف اس بنا پر پیدا کیا ہے کہ وہ میری غلامی اور بندگی کریں۔  غلام کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اللہ ربّ العزت نے انسان کو اپنے غلام کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی جو تلقین فرمائی ہے، اس کا نتیجہ یہی ہے کہ حالت کیسی بھی کیوں نہ ہو، غم کی کیفیت ہو یا آزمائش کی کیفیت ہو، یا خوشی اور شادمانی کی کیفیت، اس کی حیثیت بالآخر اللہ کے سامنے ایک غلام کی ہے اور غلام کبھی بھی اپنی مرضی نہیں کرتا۔ اس کو نہ اس بات کا اختیار ہوتا ہے اور نہ اس کے اندر خود جذبات اتنے توانا ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مقابلے میں اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرنا شروع کر دے۔  

شریعت نے غم، خوشی، تکلیف اور آزمائش کے بھی آداب مقرر کر کے انسان کی رہنمائی فرمائی ہے ۔ غم، تکلیف اور آزمائش کے موقعے پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ انسان راہِ اعتدال سے ہٹ جائے اور اس کی زبان سے کچھ ایسے کلمات نکل جائیں جو اللہ کی ناراضی کا موجب بننے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں ان کا شمار ہوتا ہو۔ کچھ ایسی حرکات بھی انسان سے سرزد ہو سکتی ہیں کہ جن کے نتیجے میں اللہ کے ہاں انسان ایک مجرم کے طور پہ پیش ہو۔ اسی طرح سے جب خوشی اور فرحت کا موقع ہوتا ہے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ انسان بدمست ہو جائیں، خوشی کو مناتے ہوئے فخروغرور اور نفرت و تکبر کے اظہار میں اتنا آگے بڑھ جائیں کہ اس سےخلق خدا کو بھی تکلیف ہو اور اللہ ربّ العزت کی ناراضی بھی اس کے نتیجے میں سامنے آئے۔  

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا پابند بنایا ہے کہ انسان کسی بھی کیفیت میں ہو، اس کا معاملہ خیر پر مبنی ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبا لامر المؤمن فان امره كله خير ’’مومن کا معاملہ ہرحال میں تعجب انگیز ہوتا ہے‘‘۔ یہ تعجب اس بنا پر کہ اس کے سارے کے سارے معاملات خیر کے اوپر مبنی ہیں۔ کوئی منفیت اس کے اندر نظر نہیں آتی۔ پیغمبر علیہ السلام خود فرما رہے ہیں کہ اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے اوپر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ ربّ العزت کی رضا اور اس کا فیصلہ سمجھ کر اس کے اوپر خاموشی اختیار کرتا ہے۔ اللہ پر توکّل کرکے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ جب اسے کوئی خوشی اور مسرت کا موقع میسر آتا ہے تو اللہ ربّ العزت کے سامنے سر بسجود ہو جاتا ہے۔ عجز و نیاز کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ صبر اور شکر دونوں صفات انسان کو جنت میں لے جانے والی ہیں اور جہاں حقیقی معنی میں صبر ہوتا ہے وہاں یقینی طور پہ شکر بھی اس کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اور جس جگہ شکر موجود ہو اس شخص کے اندر یقینا صبر کا جذبہ بھی اسی طرح سے موجود ہوگا۔  

رمضان کے بعد بـے قیدی نہیں 

خیال رہے کہ وہ پابندیاں جو رمضان المبارک میں ہمیں برداشت کرنا پڑیں وہ اب ختم نہیں ہو گئی ہیں۔ کھانے پینے کی وہ پابندی جو ہمیں رمضان المبارک کے اندر برداشت کرنا پڑی وہ خود انسانی عقل، سوچ اور فہم کے نتیجے میں کسی نہ کسی طرح سے انسان کے اوپر باقی زندگی کے اندر بھی برقرار رہتی ہے۔ انسان اگر ان پابندیوں کے نہ ہونے کی بنا پہ آزاد روی کا طریقہ اختیار کرلے اور کھانے پینے کے اندر حد سے زیادہ تجاوز کرے تو اس کی صحت برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسی لیے اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید میں یہ اصول بیان فرمایا ہے:كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۚ  (الاعراف۷:۳۱)’’کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو‘‘۔ یہ حکم صرف رمضان سے متعلق نہیں ہے بلکہ عام زندگی کے لیے بھی ایک قانون اور ضابطہ ہے۔ انسانی صحت کے جتنے بھی اصول و آداب ہیں اور جن کے نتیجے میں انسانی صحت برقرار رہ سکتی ہے، اور کسی علاج و دوا کے استعمال کے بغیر انسانی صحت تکالیف، مصیبتوں، اور امراض سے محفوظ رہ سکتی ہے، وہ اسی اصول پر مبنی ہے۔ عید کا دن فی الحقیقت پہلا اور سب سے زیادہ اہم دن ہوتا ہے کہ اس اصول کو انسان اپنے سامنے رکھے۔ پھر توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گا۔  

عید اظہارِ تشکر کا دن 

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم نے رمضان کے ۳۰ دن اللہ ربّ العزت کے اکرامات اور فیضانات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی کوشش کی۔ رمضان المبارک کے مہینے میں چاروں طرف پھیلے ہوئے انوار و برکات سے اپنے قلب و دماغ کو منور کیا۔ قرآن پاک کی تلاوت کی صورت میں، حُسنِ خُلق کی صورت میں، عبادات کی صورت میں، نوافل کی ادائیگی کی صورت میں، شب بیداری کی صورت میں، قیام اللیل کی صورت میں،صدقہ و خیرات کو فروغ دینے کی صورت میں، غرض جتنے محاسن بھی انسانی زندگی کو خوش نما بنا سکتے ہیں رمضان کے اندر ہم نے بھرپور کوشش کی کہ ان کو اختیار کیاجائے۔  

اللہ ربّ العزت نے اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں زندگی عطا کیے رکھی، ہمیں شعور اور صحت سے نوازے رکھا۔ لہٰذا بطور شکر اس بات کا انتظام کرنا نہایت ضروری ہے کہ ہم اللہ ربّ العزت کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکا دیں اور سجدۂ شکر بجا لائیں۔ یہ نماز عید فی الحقیقت خوشی کے آداب کی ادائیگی ہی کا ایک اظہار ہے۔ یہ اسی اخلاق کا حصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا کہ تمھاری خوشی کے دن کا آغاز بھی اللہ کے شکر کی ادائیگی سے ہونا چاہیے۔ تم اپنی پیشانیوں کو اللہ کے سامنے جھکا کر اور سربسجود ہو کر اس بات کا اعلان کرو کہ پابندیوں کے دن ہوں یا آزادیوں کے، اے اللہ! ہم تیرے غلام ہیں، اے اللہ! ہم تیرے حکم کے پابند ہیں۔ اے اللہ! ہم تیرے فرامین کے اوپر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر دم تیار اور ہر وقت حاضر ہیں۔ یہ کیفیت درحقیقت اگر کسی مومن کے اندر پیدا ہوجائے تو اس کے نتیجے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی بھلائیوں، اچھائیوں، نیکیوں اور حُسن خُلق کو اپنانے اور ان کے اوپر عمل کرنے اور ان کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے ایک بہترین انسان ثابت ہو سکتا ہے۔ 

اس موقع پر اس اہتمام کی بھی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر حاصل ہونے والے اسباق اور تربیت کے ان اعمال کو جو ہم نے رمضان المبارک میں سیکھےہیں اور رمضان المبارک نے ہمیں جن چیزوں اور کاموں کا عادی بنا دیا، ان کو ذہن میں تازہ رکھیں، تاکہ ہمیں یہ یقین ہو کہ اس پر عمل کا مرحلہ ختم نہیں ہوگیا بلکہ رمضان تو سیکھنے کا مرحلہ تھا، اب عمل کا گیارہ مہینوں پر محیط طویل مرحلہ باقی ہے۔ اس مرحلے کے اندر ہم نے مسلسل انھی تربیتی پہلوؤں کو اپنے زیر عمل رکھنا ہے۔ انھی اسباق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے اور انھی دروس سے اپنی زندگی کو روشن کرنا ہے۔ 

اخلاص و حنیفیت 

ہمیں اس بات کا بھی اختصار کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر ہمیں سب سے زیادہ اخلاصِ نیت کا سبق روزانہ حاصل ہوتا رہا۔ ہم اللہ ربّ العزت کو راضی کرنے کے لیے روزے رکھتے رہے۔ خلق خدا میں سے کسی کی خوشنودی ہمارے پیش نظر نہیں تھی۔ اسی بات کو توجہ، یکسوئی اور حنیفیت کہا گیا ہے۔ اس کے بغیر کوئی عمل قابلِ اعتبار نہیں۔ کسی انسان کی زندگی اگر توجہ، یکسوئی اور انہماک سے خالی ہو تو وہ شخص کبھی کامیاب اور کارآمد انسان نہیں بن سکتا۔ رمضان المبارک ہمیں روزانہ اس یکسوئی اور حنیفیت کی تعلیم دیتا رہا کہ ہم خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اللہ ربّ العزت کے ساتھ ربط قائم رکھیں۔  

ہمیں ہر وقت اللہ سے ڈرنے اور خشیت اختیار کرنے کی بنا پر اور اللہ کے ہمہ وقت حاضر و ناظر ہونے کی صفت سے اس بات کا سبق ملتا رہا ہے اور ہم خود بھی رمضان المبارک کے اندر ہمہ وقت اس کا ثبوت دیتے رہے کہ کھانے پینے کی چیزیں سامنے موجود ہوتی تھیں، پیاس لگی ہوتی تھی، تھکن بھی محسوس ہو رہی ہوتی تھی لیکن ہم میں سے کبھی کسی نے ان کی جانب اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا، ایک قطرۂ آب بھی اپنے حلق سے نیچے اترنے نہیں دیا۔ یہ صرف اور صرف اللہ ربّ العزت کی وہ خشیت اور خوف تھا اور اللہ کے حکم کا احترام تھا جو اللہ ربّ العزت کی حیثیت اور اس کے مقام کی وجہ سے ہم اپنے اندر محسوس کرتے رہے۔ خلوت ہو یا جلوت روزہ دار کبھی کسی معصیت کی طرف نگاہ بھی نہیں اُٹھاتا۔ یہ ٹریننگ اور تربیت صرف رمضان سے متعلق نہیں ہے بلکہ ما بعد رمضان کے دن بھی اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمارے سینے اللہ ربّ العزت کے خوف اور اس کی خشیت سے اسی طرح سے لرزاں و ترساں رہیں اور اسی طرح بیدار رہیں۔ 

تزکیۂ  نفس اور نظم و ضبط 

رمضان المبارک کے اندر ہم نے ڈسپلن اور نظم و ضبط بھی سیکھا۔ ہم نے ہر کام کو اس کے مقرر شدہ اوقات کے اندر انجام دینے کی تربیت حاصل کی۔ ہم نے یہ سیکھا کہ جتنے گھنٹوں کا روزہ تھا اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکی۔ جس وقت نماز تراویح کی ادائیگی ہونا طے ہوئی تھی اسی وقت ہوتی رہی۔ افطاری کا جو وقت مقرر تھااسی وقت افطاری ہوتی رہی۔ سحری بند ہونے کا بھی وقت مقرر تھا اور وہ بھی اسی نظام الاوقات کے مطابق بند ہوتی رہی۔ ان تمام پابندیوں پر عمل کرنے کے بعد ہم نے اپنے وقت کو درست استعمال کرنا سیکھا ہے۔ وقت کی اہمیت کا جو اندازہ ہمیں عام دنوں میں نہیں ہوتا رمضان المبارک نے ہمیں روزانہ یہ احساس دلایا کہ وقت بہت قیمتی ہے۔ اگر ایک لمحہ اور ایک ساعت بھی گزر گئی تو پھر یہ پورا روزہ خراب ہو سکتا ہے۔ اس میں نہ جلدی ہو سکتی ہے نہ تاخیر۔ پھر شیطانی وسوسے اور شیطانی اخلاق جو حرص، لالچ، انتقام اور غصے کی صورت میں انسان کو اپنی گرفت میں لیے رکھتے ہیں، اللہ ربّ العزت نے ہمیں اس رمضان کے اندر یہ تربیت دی کہ ہم ان منفی جذبات و ہیجانات سے کیسے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے نفس کے اوپر کیسے قابو پا سکتے ہیں۔ ہم اپنے غصے کو کس طرح سے دبا سکتے ہیں۔ ہم کس طرح سے اپنے جذبات کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور ہم کس طرح سے اپنے دل کو حرص اور لالچ کے زنگ سے پاک صاف کر سکتے ہیں۔ 

ایثار اور قربانی 

رمضان میں ہم نے ایثار، قربانی اور اپنے رزق کے اندر کسی دوسرے کو شریک کرنے کا جو جذبہ سیکھا ہے، یہ فیاضانہ طبیعت، یہ جود و سخا فی الحقیقت اللہ ربّ العزت کی صفات اور سنتیں ہیں اور اللہ کی ایسی صفات اور سنتوں کو اپنانے اور اختیار کرنے کے لیے رمضان المبارک میں اللہ ربّ العزت نے ہماری تربیت کی ہے۔ ہمیں سکھایا کہ ہم کس طرح سے فیاضی کر سکتے ہیں۔ ہم بخل سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ہم انتقام اور غصے کے منفی اظہار اور نفاذ سے کس طرح اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے شر سے دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے کے سارے نسخوں اور طریقوں پر ہم ان ۳۰ دنوں میں عمل پیرا رہے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کے اندر ہم نے غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی ضرورت اور ان کی تکلیف کا احساس اور اس کا شعور اپنے دل کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے لذیذ افطاری تیار کر کے اور اپنی جیب سے صدقہ و خیرات کے لیے رقم نکال کر، تلاش کر کے کسی مستحق و مسکین کے پاس جا کر اس کے ہاتھ میں تھمایا۔  

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان تمام شیطانی جذبات کا مقابلہ کیا جو فی الحقیقت ساری زندگی انسان کو اُلجھائے رکھتے ہیں۔ اس کو خیرات کرنے اور اس کے اجر و ثواب کے حصول سے، ایثار اور قربانی سے اس کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رمضان المبارک نے ہمارے دلوں کو اس تربیت کے نتیجے میں دھو کر بالکل صاف کر دیا ہے۔ اب یہ دھلا ہوا دل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ ہر قسم کی آلودگی سے آیندہ محفوظ رہنا چاہیے۔ یہی رمضان اور عیدالفطر کا سبق ہے۔