اللہ ربّ العزت کی توفیق اور اس کے بے پایاں احسانات میں سے ایک احسان یہ ہے کہ ہمیں رمضان المبارک سے فیض یاب فرمایا اور پھر اس کے بعد ہمیں مسرت اور خوشی کے اظہار کا دن’عید الفطر‘ عطا فرمایا۔ عید اللہ کے حضور اظہارِ تشکر اور اس کے سامنے عجز و نیاز اختیار کرنے کا دن ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی من جملہ ان بے پناہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو وہ ہر آن، ہر لمحے اور ہرساعت ہمارے اوپر نچھاور فرما رہا ہے۔ ہم تو ان نعمتوں کا ادراک بھی نہیں کر سکتے چہ جائیکہ ہم ان کا شکر ادا کر سکیں۔ یہ موقع بالعموم ہمارے معاشرے کے اندر خوشی اور مسرت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس موقعے پر لوگ خوشی اور شادمانی کا اظہار کرتے ہیں۔ خوشی کے ان مواقع پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ انسان راہ اعتدال سے کچھ تجاوز کر جائے۔ کسی جگہ اس کے قدم ڈگمگا جائیں۔ وہ نیکی کے راستے پہ چلتا چلتا کہیں کسی معصیت اور کسی نافرمانی کی راہ پر چل نکلے۔
انسان کی اس نفسیات کے پیش نظر پیغمبر علیہ السلام نے ہمیں خوشی کے ضوابط اور مسرت کے آداب سے روشناس فرمایا ہے۔ ان مواقع پر لوگوں کو اس بات کی کھلی چھوٹ دینا کہ جو پابندیاں تمھارے اُوپر لاگو کی گئی تھیں وہ اب ختم ہو گئی ہیں، اور اب تم آزاد ہو اور اس آزادی کے اندر جو بھی کام کرو اور جس طرح کا رویہ بھی اختیار کرو اس کے بارے میں تمھارے اوپر کوئی قانون اور ضابطہ عاید نہیں ہوتا۔ یہ وہ چیز ہے انسانی نفس جس کی خواہش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے آزاد چھوڑ دیا جائے اور وہ خود اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے بھی کرے اور اپنی خوشی کے منانے کا جو انداز بھی اسے بھلا لگے اس کو اختیار کرے۔ لیکن فی الحقیقت ایک مومن کی زندگی کے اندر اس طرح کی بے مہار آزادی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔
قرآن مجید کے اندر اس ضابطے کو بے شمار اسالیب سے سمجھایا گیا ہے۔ کہیں ایک اصول کے طور پر یہ بات انسان کو سمجھا دی کہ جِنّ و انس کو تو میں نے صرف اس بنا پر پیدا کیا ہے کہ وہ میری غلامی اور بندگی کریں۔ غلام کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اللہ ربّ العزت نے انسان کو اپنے غلام کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی جو تلقین فرمائی ہے، اس کا نتیجہ یہی ہے کہ حالت کیسی بھی کیوں نہ ہو، غم کی کیفیت ہو یا آزمائش کی کیفیت ہو، یا خوشی اور شادمانی کی کیفیت، اس کی حیثیت بالآخر اللہ کے سامنے ایک غلام کی ہے اور غلام کبھی بھی اپنی مرضی نہیں کرتا۔ اس کو نہ اس بات کا اختیار ہوتا ہے اور نہ اس کے اندر خود جذبات اتنے توانا ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مقابلے میں اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرنا شروع کر دے۔
شریعت نے غم، خوشی، تکلیف اور آزمائش کے بھی آداب مقرر کر کے انسان کی رہنمائی فرمائی ہے ۔ غم، تکلیف اور آزمائش کے موقعے پر اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ انسان راہِ اعتدال سے ہٹ جائے اور اس کی زبان سے کچھ ایسے کلمات نکل جائیں جو اللہ کی ناراضی کا موجب بننے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں ان کا شمار ہوتا ہو۔ کچھ ایسی حرکات بھی انسان سے سرزد ہو سکتی ہیں کہ جن کے نتیجے میں اللہ کے ہاں انسان ایک مجرم کے طور پہ پیش ہو۔ اسی طرح سے جب خوشی اور فرحت کا موقع ہوتا ہے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ انسان بدمست ہو جائیں، خوشی کو مناتے ہوئے فخروغرور اور نفرت و تکبر کے اظہار میں اتنا آگے بڑھ جائیں کہ اس سےخلق خدا کو بھی تکلیف ہو اور اللہ ربّ العزت کی ناراضی بھی اس کے نتیجے میں سامنے آئے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا پابند بنایا ہے کہ انسان کسی بھی کیفیت میں ہو، اس کا معاملہ خیر پر مبنی ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبا لامر المؤمن فان امره كله خير ’’مومن کا معاملہ ہرحال میں تعجب انگیز ہوتا ہے‘‘۔ یہ تعجب اس بنا پر کہ اس کے سارے کے سارے معاملات خیر کے اوپر مبنی ہیں۔ کوئی منفیت اس کے اندر نظر نہیں آتی۔ پیغمبر علیہ السلام خود فرما رہے ہیں کہ اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے اوپر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ ربّ العزت کی رضا اور اس کا فیصلہ سمجھ کر اس کے اوپر خاموشی اختیار کرتا ہے۔ اللہ پر توکّل کرکے معاملے کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ جب اسے کوئی خوشی اور مسرت کا موقع میسر آتا ہے تو اللہ ربّ العزت کے سامنے سر بسجود ہو جاتا ہے۔ عجز و نیاز کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ صبر اور شکر دونوں صفات انسان کو جنت میں لے جانے والی ہیں اور جہاں حقیقی معنی میں صبر ہوتا ہے وہاں یقینی طور پہ شکر بھی اس کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اور جس جگہ شکر موجود ہو اس شخص کے اندر یقینا صبر کا جذبہ بھی اسی طرح سے موجود ہوگا۔
خیال رہے کہ وہ پابندیاں جو رمضان المبارک میں ہمیں برداشت کرنا پڑیں وہ اب ختم نہیں ہو گئی ہیں۔ کھانے پینے کی وہ پابندی جو ہمیں رمضان المبارک کے اندر برداشت کرنا پڑی وہ خود انسانی عقل، سوچ اور فہم کے نتیجے میں کسی نہ کسی طرح سے انسان کے اوپر باقی زندگی کے اندر بھی برقرار رہتی ہے۔ انسان اگر ان پابندیوں کے نہ ہونے کی بنا پہ آزاد روی کا طریقہ اختیار کرلے اور کھانے پینے کے اندر حد سے زیادہ تجاوز کرے تو اس کی صحت برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسی لیے اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید میں یہ اصول بیان فرمایا ہے:كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۰ۚ (الاعراف۷:۳۱)’’کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو‘‘۔ یہ حکم صرف رمضان سے متعلق نہیں ہے بلکہ عام زندگی کے لیے بھی ایک قانون اور ضابطہ ہے۔ انسانی صحت کے جتنے بھی اصول و آداب ہیں اور جن کے نتیجے میں انسانی صحت برقرار رہ سکتی ہے، اور کسی علاج و دوا کے استعمال کے بغیر انسانی صحت تکالیف، مصیبتوں، اور امراض سے محفوظ رہ سکتی ہے، وہ اسی اصول پر مبنی ہے۔ عید کا دن فی الحقیقت پہلا اور سب سے زیادہ اہم دن ہوتا ہے کہ اس اصول کو انسان اپنے سامنے رکھے۔ پھر توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم نے رمضان کے ۳۰ دن اللہ ربّ العزت کے اکرامات اور فیضانات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی کوشش کی۔ رمضان المبارک کے مہینے میں چاروں طرف پھیلے ہوئے انوار و برکات سے اپنے قلب و دماغ کو منور کیا۔ قرآن پاک کی تلاوت کی صورت میں، حُسنِ خُلق کی صورت میں، عبادات کی صورت میں، نوافل کی ادائیگی کی صورت میں، شب بیداری کی صورت میں، قیام اللیل کی صورت میں،صدقہ و خیرات کو فروغ دینے کی صورت میں، غرض جتنے محاسن بھی انسانی زندگی کو خوش نما بنا سکتے ہیں رمضان کے اندر ہم نے بھرپور کوشش کی کہ ان کو اختیار کیاجائے۔
اللہ ربّ العزت نے اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں زندگی عطا کیے رکھی، ہمیں شعور اور صحت سے نوازے رکھا۔ لہٰذا بطور شکر اس بات کا انتظام کرنا نہایت ضروری ہے کہ ہم اللہ ربّ العزت کے سامنے اپنی جبین نیاز کو جھکا دیں اور سجدۂ شکر بجا لائیں۔ یہ نماز عید فی الحقیقت خوشی کے آداب کی ادائیگی ہی کا ایک اظہار ہے۔ یہ اسی اخلاق کا حصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا کہ تمھاری خوشی کے دن کا آغاز بھی اللہ کے شکر کی ادائیگی سے ہونا چاہیے۔ تم اپنی پیشانیوں کو اللہ کے سامنے جھکا کر اور سربسجود ہو کر اس بات کا اعلان کرو کہ پابندیوں کے دن ہوں یا آزادیوں کے، اے اللہ! ہم تیرے غلام ہیں، اے اللہ! ہم تیرے حکم کے پابند ہیں۔ اے اللہ! ہم تیرے فرامین کے اوپر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر دم تیار اور ہر وقت حاضر ہیں۔ یہ کیفیت درحقیقت اگر کسی مومن کے اندر پیدا ہوجائے تو اس کے نتیجے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی بھلائیوں، اچھائیوں، نیکیوں اور حُسن خُلق کو اپنانے اور ان کے اوپر عمل کرنے اور ان کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے ایک بہترین انسان ثابت ہو سکتا ہے۔
اس موقع پر اس اہتمام کی بھی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر حاصل ہونے والے اسباق اور تربیت کے ان اعمال کو جو ہم نے رمضان المبارک میں سیکھےہیں اور رمضان المبارک نے ہمیں جن چیزوں اور کاموں کا عادی بنا دیا، ان کو ذہن میں تازہ رکھیں، تاکہ ہمیں یہ یقین ہو کہ اس پر عمل کا مرحلہ ختم نہیں ہوگیا بلکہ رمضان تو سیکھنے کا مرحلہ تھا، اب عمل کا گیارہ مہینوں پر محیط طویل مرحلہ باقی ہے۔ اس مرحلے کے اندر ہم نے مسلسل انھی تربیتی پہلوؤں کو اپنے زیر عمل رکھنا ہے۔ انھی اسباق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے اور انھی دروس سے اپنی زندگی کو روشن کرنا ہے۔
ہمیں اس بات کا بھی اختصار کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کے اندر ہمیں سب سے زیادہ اخلاصِ نیت کا سبق روزانہ حاصل ہوتا رہا۔ ہم اللہ ربّ العزت کو راضی کرنے کے لیے روزے رکھتے رہے۔ خلق خدا میں سے کسی کی خوشنودی ہمارے پیش نظر نہیں تھی۔ اسی بات کو توجہ، یکسوئی اور حنیفیت کہا گیا ہے۔ اس کے بغیر کوئی عمل قابلِ اعتبار نہیں۔ کسی انسان کی زندگی اگر توجہ، یکسوئی اور انہماک سے خالی ہو تو وہ شخص کبھی کامیاب اور کارآمد انسان نہیں بن سکتا۔ رمضان المبارک ہمیں روزانہ اس یکسوئی اور حنیفیت کی تعلیم دیتا رہا کہ ہم خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے اللہ ربّ العزت کے ساتھ ربط قائم رکھیں۔
ہمیں ہر وقت اللہ سے ڈرنے اور خشیت اختیار کرنے کی بنا پر اور اللہ کے ہمہ وقت حاضر و ناظر ہونے کی صفت سے اس بات کا سبق ملتا رہا ہے اور ہم خود بھی رمضان المبارک کے اندر ہمہ وقت اس کا ثبوت دیتے رہے کہ کھانے پینے کی چیزیں سامنے موجود ہوتی تھیں، پیاس لگی ہوتی تھی، تھکن بھی محسوس ہو رہی ہوتی تھی لیکن ہم میں سے کبھی کسی نے ان کی جانب اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا، ایک قطرۂ آب بھی اپنے حلق سے نیچے اترنے نہیں دیا۔ یہ صرف اور صرف اللہ ربّ العزت کی وہ خشیت اور خوف تھا اور اللہ کے حکم کا احترام تھا جو اللہ ربّ العزت کی حیثیت اور اس کے مقام کی وجہ سے ہم اپنے اندر محسوس کرتے رہے۔ خلوت ہو یا جلوت روزہ دار کبھی کسی معصیت کی طرف نگاہ بھی نہیں اُٹھاتا۔ یہ ٹریننگ اور تربیت صرف رمضان سے متعلق نہیں ہے بلکہ ما بعد رمضان کے دن بھی اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمارے سینے اللہ ربّ العزت کے خوف اور اس کی خشیت سے اسی طرح سے لرزاں و ترساں رہیں اور اسی طرح بیدار رہیں۔
رمضان المبارک کے اندر ہم نے ڈسپلن اور نظم و ضبط بھی سیکھا۔ ہم نے ہر کام کو اس کے مقرر شدہ اوقات کے اندر انجام دینے کی تربیت حاصل کی۔ ہم نے یہ سیکھا کہ جتنے گھنٹوں کا روزہ تھا اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکی۔ جس وقت نماز تراویح کی ادائیگی ہونا طے ہوئی تھی اسی وقت ہوتی رہی۔ افطاری کا جو وقت مقرر تھااسی وقت افطاری ہوتی رہی۔ سحری بند ہونے کا بھی وقت مقرر تھا اور وہ بھی اسی نظام الاوقات کے مطابق بند ہوتی رہی۔ ان تمام پابندیوں پر عمل کرنے کے بعد ہم نے اپنے وقت کو درست استعمال کرنا سیکھا ہے۔ وقت کی اہمیت کا جو اندازہ ہمیں عام دنوں میں نہیں ہوتا رمضان المبارک نے ہمیں روزانہ یہ احساس دلایا کہ وقت بہت قیمتی ہے۔ اگر ایک لمحہ اور ایک ساعت بھی گزر گئی تو پھر یہ پورا روزہ خراب ہو سکتا ہے۔ اس میں نہ جلدی ہو سکتی ہے نہ تاخیر۔ پھر شیطانی وسوسے اور شیطانی اخلاق جو حرص، لالچ، انتقام اور غصے کی صورت میں انسان کو اپنی گرفت میں لیے رکھتے ہیں، اللہ ربّ العزت نے ہمیں اس رمضان کے اندر یہ تربیت دی کہ ہم ان منفی جذبات و ہیجانات سے کیسے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے نفس کے اوپر کیسے قابو پا سکتے ہیں۔ ہم اپنے غصے کو کس طرح سے دبا سکتے ہیں۔ ہم کس طرح سے اپنے جذبات کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور ہم کس طرح سے اپنے دل کو حرص اور لالچ کے زنگ سے پاک صاف کر سکتے ہیں۔
رمضان میں ہم نے ایثار، قربانی اور اپنے رزق کے اندر کسی دوسرے کو شریک کرنے کا جو جذبہ سیکھا ہے، یہ فیاضانہ طبیعت، یہ جود و سخا فی الحقیقت اللہ ربّ العزت کی صفات اور سنتیں ہیں اور اللہ کی ایسی صفات اور سنتوں کو اپنانے اور اختیار کرنے کے لیے رمضان المبارک میں اللہ ربّ العزت نے ہماری تربیت کی ہے۔ ہمیں سکھایا کہ ہم کس طرح سے فیاضی کر سکتے ہیں۔ ہم بخل سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ہم انتقام اور غصے کے منفی اظہار اور نفاذ سے کس طرح اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اپنے شر سے دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے کے سارے نسخوں اور طریقوں پر ہم ان ۳۰ دنوں میں عمل پیرا رہے ہیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کے اندر ہم نے غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی ضرورت اور ان کی تکلیف کا احساس اور اس کا شعور اپنے دل کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے لذیذ افطاری تیار کر کے اور اپنی جیب سے صدقہ و خیرات کے لیے رقم نکال کر، تلاش کر کے کسی مستحق و مسکین کے پاس جا کر اس کے ہاتھ میں تھمایا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان تمام شیطانی جذبات کا مقابلہ کیا جو فی الحقیقت ساری زندگی انسان کو اُلجھائے رکھتے ہیں۔ اس کو خیرات کرنے اور اس کے اجر و ثواب کے حصول سے، ایثار اور قربانی سے اس کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رمضان المبارک نے ہمارے دلوں کو اس تربیت کے نتیجے میں دھو کر بالکل صاف کر دیا ہے۔ اب یہ دھلا ہوا دل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ ہر قسم کی آلودگی سے آیندہ محفوظ رہنا چاہیے۔ یہی رمضان اور عیدالفطر کا سبق ہے۔
بلوچستان، پاکستان کا چوتھا اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ کُل پاکستان کا تقریباً ۴۴ فی صد ہے۔ اس اعتبار سے یہ نصف پاکستان کہلانے کا مستحق ہے۔ اپنے منفرد محلِ وقوع کے باعث اس کی جغرافیائی اہمیت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ دنیا کے مغرب کو مشرق سے ملانے اور وسط ایشیا کے ذخائرِ توانائی کو مغربی منڈیوں تک پہنچانے کا مختصر راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس کی طویل سرحدیں افغانستان اور ایران کے ساتھ ملتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سرزمینِ بلوچستان کو بے بہا معدنی دولت اور وسائلِ حیات سے سرفراز کیا ہے۔
بلوچستان میں حالیہ شورش، اضطراب اور بدامنی کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اس کے پس منظر کو جاننے کے لیے یہ نکات پیش نظر رہیں تو صورتِ حال کا ادراک کرنا آسان ہوسکتاہے:
___بلوچستان کے علاقے سوئی سے معدنی گیس ۱۹۵۳ء میں دریافت ہوئی۔ چند ہی برسوں میں یہ گیس لاہور، اسلام آباد اور پشاور تک پہنچا دی گئی لیکن صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں یہ گیس ۳۲سال بعد ۱۹۸۵ء میں پہنچ سکی۔ بلوچستان کے کئی چھوٹے بڑے شہر آج تک اس معدنی دولت سے محروم ہیں،بلکہ خود سوئی شہر کے کئی محلے اور آبادیاں بھی اس نعمت کو ترس رہی ہیں۔
___بلوچستان سے نکلنے والی معدنی گیس کی فی مکعب فٹ قیمت دوسرے صوبوں سے دریافت ہونے والی گیس کے مقابلے میں کم رکھی گئی۔ یہ قیمت حالیہ قومی مالیاتی اوارڈ میں یکساں کی گئی۔ اس طرح صوبے کا تقریباً نصف صدی تک استحصال جاری رکھا گیا۔
___وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کا کوٹہ صرف ۳ء۳ فی صد تھا جسے چند ماہ پیش تر بڑھا کر ۵ فی صد کر دیا گیا ہے، لیکن اکثر ان ملازمتوں کو دوسرے صوبوں کے افراد سے پُر کر لیا جاتا ہے۔
___اکثر علاقوں میں پرائمری اسکول نہ ہونے کے باعث بلوچستان کے ۴۵ فی صد سے بھی کچھ کم بچے پرائمری اسکولوں میں داخل ہوپاتے ہیں۔ ہائی اسکول اور کالج کی سطح پر تعلیم کا اس سے بھی بُرا حال ہے۔ اسی بنا پر بلوچستان میں شرح خواندگی پورے ملک میں سب سے کم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار میں ۳۶ فی صد لیکن حقیقت میں اس سے بھی بہت نیچے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے پورے صوبے کا انحصار صرف صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پر ہے۔
___بلوچستان میں پینے کے صاف پانی تک صرف ۲۳ فی صد آبادی کو رسائی حاصل ہے، جب کہ ملک کے دوسرے صوبوں میں یہ شرح ۵۵ فی صد کے قریب ہے۔ صوبے میں آج بھی ایسی لاتعداد آبادیاں موجود ہیں، جہاں انسان اور مویشی ایک ہی تالاب سے مہینوں پرانا پانی پیتے ہیں۔ اسی بنا پر بلوچستان میں کالے یرقان کی شرح پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔
___سینی ٹیشن کی سہولت بلوچستان میں صرف ۱۸ فی صد لوگوں کو میسر ہے۔
___بجلی صوبے کے ۱۲ فی صد علاقے تک پہنچ پائی ہے، اور گیس کی سہولت والا علاقہ ۵فی صد سے زائد نہیں۔ گویا صوبے کا ۸۸ فی صد بجلی سے اور ۹۵ فی صد گیس سے محروم ہے۔
___مواصلات کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ صرف پانچ شاہراہوں سے مستفید ہورہا ہے۔ ان شاہراہوں کی حالت بھی سخت ناگفتہ بہ ہے، جب کہ بین الاضلاعی سڑکیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
___صوبے میں صحت کے معیار کا حال یہ ہے کہ ۳۱ اضلاع میں ماسواے کوئٹہ، کہیں بھی متوسط درجے کی سہولتوں کے حامل ہسپتال نہیں پائے جاتے۔ پورے صوبے کے علاوہ جنوب غربی افغانستان کے پانچ چھے شہروں کا بوجھ بھی کوئٹہ شہر کے چند ہسپتال برداشت کر رہے ہیں۔ دُور دراز سے بغرض علاج کوئٹہ تک کا سفر نہایت پُرصعوبت ہونے کے باعث بہت سے مریضوں بالخصوص حاملہ عورتوں کی اموات کا سبب بنتا ہے۔ دورانِ حمل اور زچگی کی حالت میں خواتین کی اموات بلوچستان میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہیں۔
___صوبے کے اعلیٰ انتظامی عہدے، مثلاً: آئی جی پولیس، ڈی آئی جی، آئی جی ایف سی، چیف سیکرٹری وغیرہ، نیز اعلیٰ آئینی عہدہ، گورنر صوبہ کے لیے غیربلوچستانی لوگوں کوتعینات کیا جاتا رہا۔ چند استثنائی صورتوں کے علاوہ آج تک یہ صورت حال برقرار ہے۔ اسے صوبے کے سیاسی و عوامی حلقوں میں وفاق کی طرف سے بے اعتمادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
___بلوچستان کے کم از کم چھے اضلاع (گوادر، تربت، پنج گور، خاران، واشک، چاغی) ایسے ہیں جہاں بنیادی اشیاے ضرورت اور روز مرہ استعمال کی اشیا ناپختہ اور طویل مسافتوں کے باعث پاکستانی منڈیوں سے نہیں پہنچائی جاسکتیں۔ ان اضلاع کے لوگوں کی زندگی کا انحصار ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر قائم ہے۔ شکر، انڈے اور آٹا تک ایران سے لانا پڑتا ہے۔ کسی وجہ سے یہ تجارت رک جائے تو زندگی مفلوج اور لوگوں کو قحط کا سامنا ہوجاتا ہے، مگر اس کے باوجود پاکستان کی وفاقی ایجنسیوں (کسٹم، ایف آئی اے وغیرہ) کو یہ تجارت پسند نہیں۔ ان ایجنسیوں اور ایف سی کی فائرنگ سے آئے دن ہلاکتیں ہوتی رہتی ہیں۔
یہ وہ چند اہم عوامل ہیں جنھوں نے اہلِ بلوچستان کو وفاق سے بدظن اور دُور لاکھڑا کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبے کی اس بدحالی اور پس ماندگی میں خود بلوچستان کے سردار و نواب، بدعنوان سیاست دان، نااہل حکومتیں اور سول و فوجی بیورو کریسی پوری طرح شریک رہی ہیں۔ لیکن وفاقی اداروں کی بے توجہی اور استحصالی کردار بھی اتنا واضح ہے کہ انھیں بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہی ہے کہ عسکری کارروائی مسئلے کا حل نہیں ورنہ شاید پہلے آپریشن میں ہی مسئلہ حل ہوچکا ہوتا اور ۲۰۰۵ء میں پانچویں فوجی آپریشن کی ضرورت پیش نہ آتی۔
بلوچستان کے بڑے منصوبوں (میگا پراجیکٹس) کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ان بڑے منصوبوں میں گوادر میں گہرے سمندر کی بندرگاہ، گوادر تا چمن تا وسط ایشیا ریلوے لائن اور شاہراہ کی تعمیر ، ریکوڈک اور سیندک میں سونے اور تانبے کا اخراج، دل بند کے مقام پر لوہے کی دریافت، ایران، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن، چمالنگ میں کوئلے کے لیے کان کنی، اور اب ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن کی تنصیب کے علاوہ بھی کچھ منصوبے شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک منصوبہ ٹھیکے دار کمپنیوں کے ساتھ معدنی جنس کی دریافت سے لے کر فروختگی تک مختلف معاہدات کی بے شمار تفصیلات رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ تفصیلات معلومات افزا ہیں، تاہم ان کا احاطہ کرنا اس وقت ممکن نہیں۔
___ان منصوبوں کے بارے میں بلوچستان کے تمام سیاسی و سماجی حلقے بشمول قوم پرست اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ان کی دریافت، اخراج اور تجارت پرصوبے کا حق فائق ہے۔
___گوادر پورٹ کو چلانے، سیندک اور ریکوڈک سے سونا اور تانبا نکالنے کے حوالے سے وفاق نے اب تک جو معاہدات کیے ہیں اُن میں بلوچستان کو مشاورت میں شریک نہیں کیا گیا۔
اس اصول کی بنا پر بلوچستان کی حالیہ حکومت نے نہ صرف گوادر پورٹ کا حقِ نگرانی وفاق سے واپس حاصل کرلیا بلکہ ریکوڈک اور وفاق کے درمیان معاہدے کو بھی مسترد کردیا ہے۔ صوبائی حکومت نے قومی مالیاتی و ترقیاتی ادارے کے گذشتہ اجلاس سے ریکوڈک کے نئے منصوبے کی منظوری بھی حاصل کرلی ہے اور وفاق نے یہ منصوبہ صوبائی حکومت کے سپرد کر دیا ہے۔ البتہ اس وقت یہ معاملہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے تحت اُس کے ایک بنچ کے سامنے زیرسماعت ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ریکوڈک کے ذخائر کو صوبے اور ملک کے لیے نہایت قیمتی سرمایہ قرار دیا ہے اور انھیں خود ملکی سطح پر نکالنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
ایران، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن کے بارے میں مرکزی حکومت کا ابتدائی موقف یہ تھا کہ اس کی گیس بلوچستان کے کسی علاقے کو نہیں دی جائے گی ،بلکہ اسے نیشنل لائن سے جوڑا جائے گا۔ اس بے حکمت موقف کے سامنے آنے پر بلوچستان سے اس پائپ لائن کے تحفظ پر دھمکی آمیز انتباہ جاری کیا گیا۔ ان دھمکیوں کے بعد ہی مرکزی حکومت نے اپنے موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پائپ لائن کے راستے میں موجود آبادیوں کو یہ گیس فراہم کی جائے گی۔ البتہ تاحال اس منصوبے کے پاکستانی حصے پر کاغذات سے نکل کر برسرِ زمین کام شروع نہیں کیا جاسکا۔
بلوچستان کا ایک سخت گیر حلقہ ان منصوبوں کو لوٹ کھسوٹ اور بلوچ وسائل پر قبضہ گیری سے تعبیر کرتا ہے۔ بالخصوص گوادر بندرگاہ کی مخالفت میں یہ دلیل بھی دی جاتی رہی کہ اس منصوبے سے بلوچ اپنے ہی علاقے میں اقلیت بن جائیں گے۔ بیرونِ صوبہ سے سرمایہ کار، ہنرمند اور مزدور گوادر کی ترقی کے لیے اتنی بڑی تعداد میں لائے جائیں گے کہ مقامی آبادی اُن میں گم ہوکر رہ جائے گی۔ اب اس مخالفت میں تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔ دوسری طرف ان کے تدارک کے لیے حکومتی کوششیں محض رسمی کارروائی ہیں۔
صوبے میں جاری تشویش اور بدامنی کے ضمن میں بیرونی مداخلت کی بات مرکزی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ متعدد سیکورٹی ادارے بھی تواتر سے کر رہے ہیں۔ فی الواقع یہ مسئلہ عوام اور سیاسی جماعتوں سے زیادہ خفیہ اداروں کے دائرۂ فرائض میں آتا ہے۔ وہی اس مداخلت کا کھوج لگانے اور اس کا سدِباب کرنے کے ذمہ دار ہیں، لیکن اُن کی طرف سے غفلت برتی جارہی ہے۔
تاریخی و جغرافیائی تجزیے کے دوران بیرونی مداخلت کے ضمن میں امریکا، بھارت، روس، ایران اور عرب امارات کا نام لیا جاتا ہے۔ ہر ایک ملک کی مداخلت کے لیے وجۂ جواز کے طور پر کئی عوامل بھی پیش کیے جاتے ہیں، البتہ امریکا و بھارت کی مداخلت کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں کو بلوچستان کا تجارتی راستہ مل جانے کی صورت میں روس کی اہمیت بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ امریکا خطے میں چین کے اثرورسوخ کو برداشت نہیں کرسکتا اور بھارت کی ازلی دشمنی کا اظہار ناروا مداخلت کی صورت میں ہی ہوتا ہے۔ تاہم، کچھ حلقوں کا تجزیہ ہے کہ گوادر پورٹ کی فعالیت سے چاہ بہار، بندرعباس اور دبئی کی بندرگاہیں غیرمؤثر ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دورِحکومت میں بلوچستان کے حالات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ ابتدا میں قومی تنصیبات پر حملے کیے جاتے تھے۔ بیورو کریسی کی سرپرستی میں تخریبی عناصر کو بھتوں کی ادایگی کے بعد حملے رُک جاتے۔ کچھ عرصے بعد دوبارہ یہ سلسلہ عود کر آتا، بالآخر پالیسی کی تبدیلی کے ساتھ معاملہ کھلی جنگ کی صورت اختیار کر گیا اور سرکاری ایجنسیوں کے اہل کاروں کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوگئی۔ اسی دوران ۲۰۰۷ء میں نواب محمد اکبر خان بگٹی کو ہلاک کردیا گیا۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد جگہ جگہ شورش پھوٹ پڑی۔ اس قتل کو ’پنجابی حملہ‘ قرار دیا گیا اور بلوچستان سمیت کوئٹہ میں پنجابی اور اُردو بولنے والے صدیوں سے آباد افراد پر حملے شروع ہوگئے۔ ۲۰۰۷ء سے لے کر ۲۰۱۰ء تک سیکڑوں آبادکار بے دردی سے ٹارگٹ بنا کر قتل کیے گئے۔ ہزاروں گھرانے خوف و ہراس کا شکار ہوکر نقل مکانی کرگئے۔ ان آباد کار مقتولین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، پیشہ ورانہ ماہرین، اساتذہ، صحافی، ڈاکٹر، انجینیر، سیاست دان اور مزدور شامل تھے۔ انتظامی مشینری پولیس، لیویز اور دوسرے سیکورٹی ادارے مکمل طور پر ناکام رہے اور ٹارگٹ کلنگ روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس عرصے میں صوبے کے تین آئی جی پولیس اور اتنے ہی آئی جی ایف سی تبدیل کیے گئے۔ ان واقعات کی ذمہ داری چار علیحدگی پسند مسلح تنظیمیں قبول کرتی ہیں جن کا سراغ نہ لگایا جاسکا۔
ان پُرآشوب برسوں میں اغوا نما گرفتاریوں کے ذریعے لوگوں کو غائب کیا جاتا رہا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ بلوچستان میں گم شدہ افراد کے لیے قائم تنظیم (وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز) نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے گیارہ سو سے زائد لاپتا افراد کی فہرست اُس حکومتی کمیشن کے حوالے کی ہے جو ان کی بازیابی کے لیے بنایا گیاہے۔ اس کمیشن نے اپنے قیام یکم مئی ۲۰۱۰ء سے لے کر اب تک صرف ۲۲۵ کیس نمٹائے ہیں جن میں بلوچستان کے محض ۲۳ افراد ہیں۔
حکومت بلوچستان ، انتظامیہ کے افسران اور آئی جی ایف سی، ایک ہزار سے زائد افراد کی فہرست کو مبالغے پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں کئی ایک فرضی نام ہیں، یا وہ مزاحمتی تنظیموں کی طرف سے افغانستان ٹریننگ کے لیے جاچکے ہیں۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان گم شدہ افراد کے اغوا یا گرفتاری کی ذمہ داری کوئی حکومتی ادارہ یا مسلح تنظیم قبول کرنے کو تیار نہیں۔
مزید یہ کہ گذشتہ چھے ماہ سے بعض لاپتا افراد کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں سے ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ ان کو سر میں گولی ماری گئی تھی یا جسمانی تعذیب کے ذریعے قتل کیا گیا تھا۔ ان میں مزاحمتی تنظیموں کے اہم لوگ اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کے کلیدی رہنما بھی شامل ہیں۔ قوم پرست اس کارروائی کا سارا الزام خفیہ ایجنسیوں پر لگاتے ہیں۔ اس دوران میں چند نئی مسلح تنظیمیں بھی سامنے آئی ہیں جنھوں نے ان لاپتا افراد کے قتل کی ذمہ داری یہ کہہ کر قبول کی ہے کہ یہ لوگ وطن دشمن اور بے گناہوں کے قاتل تھے، لہٰذا ہم نے انھیں بطور سزا اغوا کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ قوم پرست جماعتیں اور مزاحمتی تنظیمیں اس عمل کو بھی حکومت اور فوج کی سازش قرار دیتی ہیں۔ آبادکاروں کے قتل کے بعد ٹارگٹ کلنگ کا یہ ایک نیا رُخ ہے جس میں بلوچ لیڈرشپ نشانہ بن رہی ہے۔ یہاں تک کہ بلوچستان کے گورنر اور وزیراعلیٰ دونوں پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔
اس وقت صوبے کے بلوچ اضلاع میں علیحدگی پسندی کی تحریک پائی جاتی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے پیچیدہ کردار اور حکومت کی غیرحکیمانہ روش کے باعث دُوریاں بڑھ رہی ہیں۔ بزورِ قوت معاملات کنٹرول کرنے کی پالیسی تنائو میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ حکومت ’آغازِ حقوق بلوچستان‘ جیسے نمایشی اقدامات کرکے مطمئن ہے کہ مسئلہ بلوچستان حل ہوگیا ہے، بالخصوص نوجوانوں اور خواتین میں اس فکر کے اثرات بڑھتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔ ملکی اداروں اور مختلف شعبوں میں پنجاب کی واضح نمایندگی کے باعث مقتدرہ کو ’پنجابی‘ کی نسبت کے ساتھ ہی یاد کیا جاتا ہے۔
صوبے کے پشتون اضلاع میں یہ تحریک نہیں پائی جاتی اور وہاں امن و امان کی کیفیت بھی خاصی بہتر ہے۔البتہ پشتون قوم پرستوں کی جانب سے اس تحریک کو ایک خاموش حمایت حاصل ہے، اگرچہ مزعومہ آزاد علاقوں کا جغرافیہ پشتون و بلوچ قوم پرستوں کے درمیان سخت متنازع ہے اور کوئٹہ شہر پر طرفین کا دعویٰ اس نزاع کا بنیادی سبب ہے۔ خود بلوچ قومیتیں بھی بہت زیادہ تقسیم کا شکار ہیں۔ قبائل کی باہمی دشمنیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ سیاسی بلوچ قوت، نوابی و سرداری نظام کی حمایت اور اس کی مخالفت کے اصول پر منقسم ہے۔ اسی طرح اپنے مقاصد اور حقوق کے حصول کے لیے سیاسی جدوجہد یا ریاست کے ساتھ مسلح ٹکرائو کا نظریہ بھی باہمی اختلاف کا باعث ہے۔
فکری اور تنظیمی دائرۂ کار کے لحاظ سے بلوچستان کی سیاسی جماعتیں دو طرح کی ہیں۔ ایک تو وہ جماعتیں ہیں جن پر علاقائی اور محدود قومی سیاست کا غلبہ ہے، جب کہ دوسری وہ ہیں جو ملک گیر سیاست میں سرگرم ہیں اور بلوچستان کے مسائل پر بھی اپنا نقطۂ نظر رکھتی ہیں۔ اوّل الذکر میں جناب محمود خان اچکزئی کی نیشنل پارٹی نمایاں ہے، جب کہ ثانی الذکر میں پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، جمعیت علماے اسلام اور جماعت اسلامی قابلِ ذکر ہیں۔
خوش آیند بات یہ ہے کہ یہ سب جماعتیں سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں اور گفت و شنید اور آئینی اقدامات کے ذریعے مسائل کے حل کی قائل ہیں۔ ملکی آئین کے مطابق انتخابات میں حصہ لیتی ہیں۔ یہ تمام قومی و صوبائی جماعتیں قطعاً ملکی سالمیت کے خلاف نہیں، البتہ پشتون خواہ ملّی عوامی پارٹی ۱۹۴۰ء کی قرارداد کے مطابق پاکستان میں موجود قومیتوں کے درمیان ایک نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کے خیال میں موجودہ آئین قومیتوں کے حقوق اور تشخص کی حفاظت میں ناکام ہوگیا ہے۔ اس موقف کو اگرچہ ’پونم‘ کی بیش تر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم حیرت ہے کہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی بھی بڑے شدّومد سے اس مطالبے کا اظہار کرچکے ہیں۔ اسی طرح سردار اختر مینگل کی جماعت کشمیر کی مانند ’حق خود ارادیت‘ کا تقاضا کرتی ہے۔ غالباً اس مطالبے کے پس منظر میں بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو متنازع نظر سے دیکھنا ہے۔
ہرصوبائی جماعت کے اپنے زاویۂ نظر اور مخصوص طرزِ سیاست کے باوجود، یہ سب جماعتیں وفاقی پارلیمانی نظام کو درست سمجھتی ہیں، تاہم اس نظام میں اصلاحات کی ضرورت محسوس کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ صلح جُو رویہ وفاق کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ چنانچہ وفاق کو اس اثاثے کے تحفظ کی فکر کرنی چاہیے اور انھیں ردعمل کی طرف دھکیلنے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
صوبائی جماعتوں کے بالمقابل ملک گیر سیاسی و دینی جماعتوں کی خوبی یہ ہے کہ بلوچستان میں اُن کا اثرونفوذ بلوچ و پشتون سمیت دیگر تمام قومیتوں میں پایا جاتا ہے۔ بہت بااثر قبائلی شخصیات علما، دانش ور اور صحافی ان پارٹیوں میں شامل ہیں۔ ان کے وابستگان میں علیحدگی پسندی یا شدت آمیز فکری عنصر نہیں پایا جاتا۔ دوسری طرف صوبے میں غیرسیاسی معتدل مزاج اور امن پسند عناصر ایک بڑی اکثریت کی صورت میں موجود ہیں۔ صوبے کی تقسیم یا علیحدگی جیسے خیالات سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سارے پیچیدہ اور گنجلک ماحول میں سلجھائو کی کوئی معتبر کوشش نظر نہیں آرہی۔ فرائضِ منصبی کے لحاظ سے پارلیمان، مرکزی و صوبائی حکومتیں، عسکری ادارے، انٹیلی جنس ایجنسیاں نہ جانے کیوں معاملے کی حساسیت کا ادراک نہیں کر رہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خطے میں موجود بڑی استعماری قوت امریکا، پوری پاکستانی مشینری کو اپنے نقشۂ کار کے مطابق چلنے پر مجبور کیے ہوئے ہے۔ بھارت و اسرائیل اُسی کی سرپرستی میں افغانستان میں براجمان ہیں اور ایرانی و پاکستانی بلوچستان میں آزادی اور فرقہ پرستی کی فکر کو فروغ دے رہے ہیں۔
پاکستان مخالف قوتیں اس فضا کو اسی وقت اپنے مفاد میں استعمال کرسکتی ہیں جب ان کے لیے حالات سازگار اور بگاڑ موجود ہو، اور مسائل کو بروقت اور صحیح طریقے پر حل کرنے کی کوشش نہ کی جائے، اور یہ سمجھ لیا جائے کہ بس قوت کے ذریعے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا مسئلے کے پُرامن اور دیرپا حل کے لیے درج ذیل امور پیش نظر رہنے چاہییں:
___ اس ضمن میں بنیادی بات جو ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ استحکامِ پاکستان کی اساس و بنیاد اسلام ہے۔ اسلام کے نام پر ہی یہ ملک بنا تھا اور لوگوں نے عظیم قربانیاں دی تھیں۔ اگر نظریہ پاکستان کو بنیاد نہ بنایا جائے تو پھر اس ملک کی یک جہتی، استحکام اور سالمیت خطرے میں پڑسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں قومیت، علاقائیت، عصبیت اور لسانیت کو فروغ ملے گا اور ملکی استحکام کی مشترکہ اساس منہدم ہوکر رہ جائے گی۔ پھر ہر قومیت اور ہرصوبہ اپنے مفادات کو ترجیح دے گا اور مقدم رکھے گا۔ لہٰذا بلوچستان کی پریشان کن صورت حال کا تقاضا ہے کہ اسلام اور نظریۂ پاکستان کی فکر کا احیا کیا جائے اور لوگوں کو مشترکہ اساس اور دین وایمان کے بنیادی تقاضوں اور اخوت و ایثار کے جذبے کی طرف مؤثر اور بھرپور انداز میں دعوت دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومیت کے استحصال کے خاتمے اور صوبے کے جائز حقوق ترجیحی بنیادوں پر دیے جائیں۔ تمام اسلام پسند اور محب ِ وطن عناصر کو اس کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔
___ مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں۔ مسئلہ سیاسی ہے اور اس کا حل بھی سیاسی ہی ہوسکتا ہے۔
___ تمام متعلقہ عناصر کو افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، اور کوشس کرنا ہوگی کہ مکمل اتفاق راے اور بصورت دیگر اکثریت کے مشورے سے معاملات کو طے کیا جائے۔
___ یہ اصول تسلیم کیا جانا چاہیے کہ محض ’مضبوط مرکز‘ کا فلسفہ غلط اور انصاف کے اصول کے منافی ہے۔ ’مضبوط مرکز‘ اسی وقت ممکن ہے جب صوبے مضبوط ہوں اور کامل ہم آہنگی سے ایک دوسرے کے لیے مضبوطی کا ذریعہ اور وسیلہ بنیں۔
___ اس سلسلے میں فوج کا کردار بھی اہم مسئلہ ہے۔ فوج کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اور صرف دفاعِ وطن کی ذمہ داری سول حکمرانی کے تحت انجام دے۔ساری خرابیوں کی جڑ سیاسی اور اجتماعی معاملات میں فوج کی مداخلت اور ایک مقتدر سیاسی قوت بن جانا ہے۔ چھائونیوں کی ضرورت اگر ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے ہے تو وہ مسئلہ میرٹ پر طے ہونا چاہیے، لیکن اگر لوگوں کو یہ خطرہ ہو کہ یہ چھائونیاں سول نظام کو اپنے قابو میں کرنے کے لیے ہیں تو پھر اس کے نتیجے میں سول عناصر اور فوجی قوت کے درمیان کش مکش ناگزیر ہوجاتی ہے۔ تحکمانہ انداز بگاڑ پیدا کرتا ہے، اس سے خیر رونما نہیں ہوسکتی۔ اس سے لازماً اجتناب کیا جانا چاہیے۔
___ بلوچستان کی کشیدہ فضا اور پاکستان گریز ماحول کو سازگار بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر وسیع القلبی، غم خواری اور سخاوت و فیاضی کا رویّہ اپنانے کی ضرورت ہوگی۔ اس بنیاد پر کچھ آئینی و سماجی اقدامات لازمی ہوں گے۔ این ایف سی اوارڈ میں تقسیم وسائل کے اصول کو مزید وسعت دے کر رقبے اور پس ماندگی کو نمایاں اہمیت دینا ہوگی۔ ۱۹۷۳ء کے آئین میں کنکرنٹ لسٹ کی صوبوں کو منتقلی ۱۰ سال بعد ہونا طے تھی، تاہم یہ کام اب ۳۷برس بعد اٹھارھویں آئینی ترمیم کے ذریعے کیا گیا۔ اس پر خلوصِ نیت کے ساتھ فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ صوبائی خودمختاری کا تصور زیادہ نمایاں ہوسکے۔ اس سلسلے میں مزید آئینی اقدامات کی بھی ضرورت ہوگی۔
___ سیاسی فضا کو خوش گوار بنانے کے لیے ہر طرح کے عسکری تشدد کا راستہ بند کیا جائے، مذاکرات سے معاملات طے کیے جائیں، اور جو سیاسی کارکن گرفتار ہیں، ان کی رہائی کا اہتمام کیا جائے۔
___ صوبے کو اپنے وسائل پر اختیار دیا جائے اور مرکز سے جو وسائل منتقل ہوتے ہیں، ان میں انصاف اور ضرورت کو ملحوظ رکھا جائے۔ اس سلسلے میں گیس اور معدنیات کی رائلٹی کو نئے فارمولے کی روشنی میں انصاف کے مطابق مقرر کیا جائے۔
___ معاشی ترقی کے ثمرات کو علاقے کے عوام تک پہنچانے کا بندوبست ہو۔ اس کے لیے معدنی وسائل کو دریافت کرنے اور ترقی دینے والی کمپنیوں سے جو معاہدے کیے جائیں، ان میں قومی مفادات کو ملحوظ رکھا جائے اور اپنی دولت غیرملکی کمپنیوں کے حوالے نہ کی جائے، بلوچستان کی ترقی اور تعلیم و صحت اوردوسری سہولتوں کو عوام تک پہنچانے میں استعمال کی جائے۔ امید ہے کہ ریکوڈک منصوبے کے بارے میں سپریم کورٹ سے مناسب فیصلہ آئے گا۔
___ صوبے میں تعلیم‘ صحت‘ پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی وغیرہ کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور ملازمتوں پر مقامی آبادی اور صوبے کے لوگوں کو ترجیح دی جائے‘ اور یہ سب کام میرٹ کی بنیاد پر انجام دینے کے لیے مقامی آبادی کی تعلیم‘ پیشہ ورانہ تربیت اور ہنر سکھانے کا انتظام کیا جائے۔
___ فرنیٹر کور اور کوسٹل گارڈ کو صرف ساحلی علاقوں اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے مختص کیا جائے اور ان کا سول کردار ختم کیا جائے، نیز اسمگلنگ روکنے کے نام پر جو ۵۰۰سے زیادہ چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں‘ ان کو ختم کیا جائے۔ اسمگلنگ روکنے کا کام فرنٹیرکانسٹیبلری اور کوسٹل گارڈ سے نہ لیا جائے بلکہ یہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہو۔
___ گوادر پورٹ کی اتھارٹی میںصوبے کو مناسب نمایندگی دی جائے‘ اس کی ترقی کے پورے پروگرام میں صوبے کی ضرورتوں کو ملحوظ رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ علاقے کے لوگوں کو ان کا حق ملے‘ زمینوں پر باہر والے قبضہ کر کے علاقے کی شناخت کو تبدیل نہ کر دیں اور جو متاثرین ہیں ان کو قریب ترین علاقے میںآباد کیا جائے۔ نیز اراضی کے بڑے بڑے قطعے جس طرح فوج‘ نیوی اور دوسرے بااثر افراد اور اداروں نے ہتھیا لیے ہیں ان کو سختی سے روکا جائے اور انصاف پر مبنی شفاف انداز میں پورے علاقے کا ماسٹر پلان ازسرِنو تیار کیا جائے۔
یہی وہ راستہ ہے جس سے بلوچستان ہی نہیں‘ تمام صوبوں اور ملک کے سب علاقوں اور متاثرہ افراد کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ یہ سب صرف اسی وقت ممکن ہے جب اصل فیصلے پارلیمنٹ میں ہوں، عوام کے مشورے سے ہوں، اور مکالمے کے ذریعے سیاسی معاملات کو طے کیا جائے۔ مخصوص مفادات اور فوجی اور سول مقتدرہ کی گرفت کو ختم کیا جائے، اور عوام اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جمہوری اداروں کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات سے عبرت حاصل کی جائے۔ ملک کی نظریاتی اساس، اسلام جو ملکی استحکام کی واحد بنیاد ہے کو مضبوط بنایا جائے اور بلوچستان کے مسائل کو منصفانہ بنیادوں پر فوری حل کیا جائے، نیز عوام کا استحصال فوری طور پر بند کیا جائے۔ عسکریت یا جبر کے بجاے مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے۔ بلوچستان کی خوش حالی اور استحکام، مستحکم پاکستان میں مضمر ہے نہ کہ علیحدگی پسندی میں۔ اہلِ بلوچستان اسلام پسنداور محب ِ وطن ہیں۔ ان کے دل محبت، اخوت اور جذبۂ ایثار سے ہی جیتے جاسکتے ہیں۔
مولانا عبدالحق ہاشمی ، جماعت اسلامی صوبہ بلوچستان کے سابق امیر ہیں۔