اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی تھا اور تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا رہا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ نیوزایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء کے پہلے پندرہ دنوں میں ایران کے ۱۲۷۰، لبنان کے ۴۸۸ اور غزہ کے ۳۶ فلسطینی اپنی جانیں ہار گئے۔ موت کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً ۱۰ لاکھ لبنانی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
- آ گ اور راکھ : غزہ میں رمضان کے دوران بھی مسلسل بمباری جاری رہی۔جمعۃ الوداع کی صبح الزوائیدہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں خیموں میں آگ بھڑک اُٹھی، جس میں ۱۲ سالہ بچّی اور خاتون صحافی امل سمیت تین افراد زندہ جل گئے۔ اگلے ہی دن خان یونس پر بمباری میں ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ غزہ اور غربِ اردن میں آزادی اور وقار کی جدوجہد کو زندہ رکھنے میں جہاں مزاحمت کاروں کی قربانیاں اہم ہیں، وہیں اہلِ قلم کا کردار بھی کم نہیں۔ انھی کے ذریعے دُنیا کو ان واقعات کی خبر ملتی ہے، ورنہ سخت سنسر کے پردے میں یہ سب کچھ خاموشی سے دفن ہو جاتا۔ قلم کی حرمت کے لیے مرحومہ امل شمالی کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔جنگ کے شور میں سچائی کی آواز اکثر دب جاتی ہے، مگر کبھی کبھی ایک قلم ہزار توپوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
- سیاہ اتوار :اتوار (۱۵ مارچ) کی صبح وسطی غزہ کے علاقے الزویدہ میں اسرائیلی ڈرون نے ایک پولیس جیپ کو نشانہ بنایا، جس سے گاڑی میں سوار پولیس کمشنر اور آٹھ پولیس افسران جاں بحق ہوگئے۔ حملے میں قریب کھڑے ۱۴؍ افراد زخمی ہوئے۔ ٹھیک اسی وقت نصیرات خیمہ بستی پر حملے میں ایک شخص، اس کی حاملہ بیوی اور ایک معصوم بچہ جان سے گزر گئے۔
- غربِ اردن میں خوف کا پہرہ :اسی دن غربِ اردن میں تشدد کی ایک نئی لہر سامنے آئی۔ درجنوں مسلح یہودی آبادکار شمالی وادی اردن کے گاؤں خومسہ میں تراویح کے دوران گھس آئے۔ اندھا دھند فائرنگ اور لاٹھیوں کی ضربوں سے متعدد افراد زخمی کیے اور حملہ آور جاتے ہوئے ۱۴کسانوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کی ۳۶۰ بھیڑیں بھی ہنکا لے گئے۔
جنوبی غربِ اُردن ہی کے علاقے اُم الخیر میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملہ کرکے مرغیوں کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے ہزاروں مرغیاں اور چوزے جل کر مرگئے۔
- دو بیٹے اور گولیوں کی بارش:اسی دوران غرب اردن نے دوایسی لرزہ خیز وارداتوں کا مشاہدہ کیا، جسے قتل عام کہنا زیادہ مناسب ہے۔ الخلیل (Hebron)کے گاؤں مسافر یطہ میں مسلح آبادکاروں نے ۵۷ سالہ محمد شِذَن کے کھیت کی باڑھ توڑ کر چرنے کے لیےاپنے مویشی چھوڑدیے۔ محمد شذن اور اس کے بیٹوں عامر اور خالد نے اعتراض کیا کہ تیار فصل مویشی چرانے کی جگہ نہیں۔ عامر نے مویشیوں کو ہنکا کر کھیت سے باہر نکالنے کی کوشش کی، جس پر یہودی آبادکاروں نے عامر پر گولی چلادی۔ بیٹے کو زخمی دیکھ کر محمد اس کی طرف لپکا ہی تھا کہ ایک دوسرے مسلح آبادکار نے چند گز کے فاصلے سے عامر کے بھائی خالد کو گولی ماردی۔عامر تھوڑی دیر تڑپنے کے بعد دم توڑ گیا، جب کہ خالد کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔یہ واقعہ محض ایک خاندان کی المناک کہانی نہیں بلکہ غربِ اردن میں روزمرہ پیش آنے والے واقعات کی محض ایک مثال ہے۔
- ایک خاندان کی خاموش موت: دوسری واردات۱۴ مارچ کی شب طمون میں پیش آئی، جب ۵۷ سالہ خالد بن ابی عودہ اپنی اہلیہ وعد اور دو کمسن بیٹوں کے ساتھ تراویح کے لیے مسجد جا رہے تھے کہ ایک فوجی چوکی سے ان کی گاڑی پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پورا خاندان موقعے پر ہی دم توڑ گیا۔جنگ میں صرف سپاہی نہیں مرتے، کبھی کبھی پورے خاندان بھی دفن ہو جاتے ہیں۔
- لبنان میں بھی آگ: غزہ کی طرح جنوبی لبنان میں بھی عبادت گاہیں اسرائیل کا نشانہ ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک مارونی گرجا کو نشانہ بنایا گیا، جس میں پادری پیئر الراعی ہلاک ہوگئے۔ مارونی( Maronite) مسیحی پانچویں صدی کے ایک شامی راہب سینٹ مارون سے منسوب ہیں۔ لبنان کا صدر مارونی مسیحی، وزیراعظم سُنّی مسلمان اور اسپیکر شیعہ مسلمان ہوتے ہیں۔
اسی دوران عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس بم استعمال کیے گئے۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو جلا دیتا ہے اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس کے بم استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ،عرب لیگ کی خاموشی افسوس ناک ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس کے خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی ہے۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔ مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا: ’نیتن یاہو کو جیل بھیجو‘۔پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرین کی بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
- سفارتی محاذ بھی گرم:اسرائیلی جارحیت پر بطور احتجاج ، اسپین نے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلالیا۔ہسپانوی حکومت کے سرکاری اعلامیےکے مطابق تل ابیب میں سفیر کا منصب ختم کر دیا گیا ہے اور آئندہ اسپین کے سفارتی مشن کی قیادت ناظم الامور کریں گے۔ سفارتی اصطلاح میں کسی ملک سے سفیر واپس بلا کر مشن کو ’ناظم الامور‘ کے سپرد کرنا دراصل دوطرفہ تعلقات کو کم درجے پر لانا کہلاتا ہے، جو عموماً شدید سیاسی اختلاف یا احتجاج کا اشارہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کھودیں جارہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ جب ہرخبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدہم کیوں تھی؟