یہ حقیقت ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں واضح رہنی چاہیے کہ جماعت اسلامی کسی نئی فکر کی علَم بردار نہیں ہے۔ یہ انبیا علیہم السلام، صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین ہی کے طریقے پر دین اسلام کے احیا و اقامت دین کے لیے سرگرم تحریک ہے۔ اس وقت جب دُنیا میں ہرطرف مختلف سطحوں پر اور مختلف طریقوں سے فساد پھیلا ہوا ہے، اور پھر مسلمان مختلف حصوں میں تقسیم ہوچکے ہیں تو صورتِ حال اور زیادہ خراب منظر پیش کرتی ہے۔ ہرطرف باطل کی حکمرانی ہے۔ باطل نظام مادی و عسکری قوت اور ٹکنالوجی کے ذریعے سے اپنے مخصوص ایجنڈے کے ساتھ بالادست ہے۔ مسلم معاشروں میں اسلام اگرچہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، نماز اور روزے کی صورت میں، حج اور عمرے کی صورت میں، زکوٰۃ اور خیر کے کاموں کی صورت میں، اور مختلف درجوں میں دعوت و تبلیغ کے کام کی سرگرمیاں بھی نظر آتی ہیں، لیکن مجسم اور متحرک اسلامی نظام اس طرح سے موجود نہیں جیساکہ اُسے ہونا چاہیے۔ ایک ایسا فعال اور عادلانہ نظام جو پوری دنیا کو اپیل کرے اور انسانیت کو درپیش گوناگوں مسائل حل ہوسکیں۔
جماعت اسلامی اسی کام کو لے کر اُٹھی ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے سپرد کیا ہے۔ دعوتِ دین کے اس نبوی طریقے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ فرداً فرداً لوگوں تک دین کی دعوت پہنچانے کے لیے منظم جدوجہد کی جائے۔ تاہم اس میں خاندان ایک بنیادی اکائی ہے۔ ایک خاندان کے تمام افراد کا اس دعوت کو شعوری طور پر قبول کرکے ایک بنیادی اکائی کے طور پر اس جدوجہد کا دست و بازو بن جانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
اللہ علیم و حکیم کی ہدایت و حکم ہے: وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ۵۵ (الذاریات ۵۱:۵۵) ’’اور یاد دہانی کرتے رہیے کیونکہ یاد دہانی و تذکیر مومنین کو نفع دیتی ہے‘‘۔ یعنی تذکیر و یاددہانی اللہ ربّ العالمین اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاسکھایا ہوا طریقۂ تزکیہ و تربیت ہے۔ اس لیے جہاں ہرمومن کو تذکیر و یاد دہانی کی ضرورت ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے وابستگان کو ہرلمحہ اور زندگی کے ہر موڑ پر تذکیر و یاددہانی کی کہیں زیادہ ضرور ت ہے، تاکہ ان کی پوری توجہ ہردم اپنے تزکیہ و تربیت پر مرکوز رہے۔ عام انسانوں کو اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے کی دعوت دینے اور ان کے تزکیہ و تربیت کی جو ذمہ داری جماعت اسلامی کے وابستگان نے رضاکارانہ طور پر قبول کی ہے اُسے کماحقہٗ ادا کرنے کے لیے تزکیہ و تربیت کی یاددہانی بنیاد کا درجہ رکھتی ہے۔
اگر ایک پورا خاندان اس دعوت اور تحریک کا پشت پناہ بن جائے اور ہرطرح کی مشکل اور پریشانی میں تمام گھر والے اس کارِعظیم کا ساتھ دینا اور آگے بڑھنا شروع کر دیں تو بہت سی مشکلات اور پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ اگر شعوری طور پر اس اسلامی ذمہ داری کو قبول کرکے قلب و ذہن کی آمادگی کے ساتھ اقامت ِ دین کے اس کام کو انجام دیا جائے گا اور اسے اپنے لیے دُنیا و آخرت کی کامیابی کا باعث سمجھتے ہوئے خوشی خوشی انجام دیا جائے گا، تو ایسا خاندان دعوتِ دین اور اپنے معاشرے کے لیے ایک مثالی خاندان بن جائے گا۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ جس دعوت و جدوجہد کو ہم خود اپنے لیے ٹھیک سمجھتے ہیں، ہمارے اہل خانہ اور بچے بھی اس دعوت کو شعوری طور پر قبول کریں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
اقامت ِ دین کی اس تحریک کو ہم نے اپنے اختیار سے قبول کیا ہے۔ سیّد مودودیؒ نے قرآن و سنت سے اخذ کر کے ہمیں دین اسلام کی جو تعلیمات سمجھائیں، ان کو پڑھ سمجھ کر ہم نے اس بات کا عہد کیا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ دنیا میں دو الٰہ ہوں: ایک ’الٰہ ‘وہ کہ جس کا اسلام کے بنیادی کلمہ لاالٰہ الا اللہ پر ایمان لاتے ہوئے ہم اقرار کرتے ہوں، اور دوسرے ’الٰہ‘ وہ ہوں جن کی دنیا اور انسانوں پر حکمرانی قائم ہو۔ لہٰذا، ہم اس دنیا میں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اللہ کی حاکمیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہی جدوجہد ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔
جماعت اسلامی کے دستور میں یہ نصب العین بہت واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ’’ہماری تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامت ِ دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضائے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہوگا‘‘۔ گویا ہم اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی خوش نو دی اور جنت کا حصول چاہتے ہیں۔اس دنیا کے بعد جو ہمیشہ کی زندگی ہے اس میں اگر ہم جنّت کے حق دار نہیں ٹھیرتے تو ہماری اس ساری بھاگ دوڑ کا کیا حاصل؟ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت ملے گی کیسے؟ قرآن و سنت کے مطابق اللہ کی رضا اور جنّت کے حصول کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم حق اور سچ کے گواہ بن کر اللہ کے دین کی نصرت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ ہم دعوت کا کام کریں۔ ہم خود بھی اسلامی طریق زندگی اپنائیں اور دوسروں کی اصلاح کی بھی کوششیں کریں۔ ہم اپنے اہل خانہ، بچوں اور خاندان کے ساتھ اس کام میں پوری یکسوئی کے ساتھ لگ جائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوش نودی کے حصول کے مستحق ٹھیرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی گزارنے کا طریقہ ’اسلام‘ کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرت کی شکل میں ایک کامل نمونہ پیش کیا ہے۔ اس لیے زندگی کے ہرہر معاملے میں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں جو راہ نمائی قرآن و سنت نے دی ہے، ہم اسے اپنائیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ دین کا جو طریقہ اور اسلوب ہمیں بتایا ہے ، اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح آپؐ اپنے ہی عزیزوں اور رشتہ داروں کے مقابلے پر آکھڑے ہوئے اور آپؐ نے ان سب کو اللہ کے راستے کی طرف بلانے کے لیے ہرمصیبت برداشت کی۔ یہ سب ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں پر طرح طرح سے تشدد بھی ہوا اور آپؐ کو شعب ابی طالب میں عملاً تین برس قید میں بھی گزارنا پڑے، جس میں آپ کا مکمل سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت بھی فرمائی۔ آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے تو پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ۔
آپؐ نے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، مگر اس سے پہلے اہل یثرب کو اسلام کی دعوت، تعلیمات اور طرزِ زندگی سے روشناس کراتے ہوئے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب روانہ کیا تاکہ وہ وہاں دعوت اور تعلیم و تربیت کا کام کریں۔ جب اہل یثرب کی اکثریت نے اسلام کی دعوت کو قبول کر کے اسلامی طرزِ زندگی اپنانے کا راستہ اختیار کیا تو وہاں ایک اسلامی ریاست کی ابتدا ہوئی۔ وحی الٰہی کی رہنمائی میں وقت کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی تفصیلات طے ہوتی گئیں۔ دشمن اس ریاست کو ختم کرنے کے لیے اُمڈ آئے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے آپؐ نے جہاد اور قتال بھی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بنیادی اُمور پر پوری توجہ دی کہ خاندان کا نظام کیسے تشکیل پائے؟ عائلی قوانین کیسے ہوں گے؟ بین الاقوامی سطح پر لوگوں سے کیسے معاملات طے ہوں؟ کس طریقے سے اپنی معیشت کو چلائیں اور عدالتی نظام کیا ہو؟ ۱۰سال کی مختصر مدت میں، جو مدینہ منورہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے گزاری، آپؐ نے نظام کی پوری تبدیلی عملاً کرکے دکھا دی۔ پھر حجۃ الوداع کے موقع پر پوری انسانیت کو گواہ بھی بنایا کہ آپؐ نے دین کو مکمل طور پر نہ صرف قولاً انسانیت کے سامنے پیش کردیا ہے بلکہ عملاً اس کو ایک اسلامی معاشرے اور ریاست کی صورت میں نافذ بھی کردیا ہے۔
تمام انبیا اور رسولوں علیہم السلام، خصوصاً محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد ِ بعثت اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا قرار دیا گیا۔ یہ بات قرآن کریم میں یوں بیان فرمائی گئی:
ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ۳۳ (التوبہ ۹:۳۳) وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقصد ِ بعثت سورۃ الفتح آیت ۲۸ اور سورۃ الصف کی آیت۹ میں بھی دُہرایا گیا ہے۔ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی مشن، اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے ہیں۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ کسی بھی بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اگر انسان اپنی زندگی کی ترجیحات اس ہدف کے تقاضوں کے مطابق طے نہیں کرتا، تو اس ہدف کا حصول ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے جماعت اسلامی کے وابستگان کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے اپنی زندگی کا ہدف اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کو بنایا ہے تو اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین اس مبارک اور بہت بڑے ہدف کے مطابق کیجیے۔ آپ اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ اپنے گھروں میں رہتے ہیں اور ایک خاندان اور برادری سے وابستہ ہیں۔ایک لمحے کے لیے رُک کر جائزہ لیجیے۔ اس دعوت کے ساتھ خود ہمارے اپنے گھر اور خاندان کے لوگ کس حد تک چل رہے ہیں؟ درحقیقت اقامت ِ دین کی جدوجہد کوئی ایسا دعویٰ نہیں ہے کہ جو کسی عام سیاسی پارٹی کا دعویٰ ہوتا ہے، بلکہ یہ ایک عہد ہے اللہ کے ساتھ، اور لوگوں کو گواہ بنا کر!
ہم کوئی مذہبی جماعت نہیں کہ جس کے پیش نظر کسی مسلک کا پرچار ہو۔ ہمارے پیش نظر دین کے کسی ایک شعبے کا کام بھی نہیں کہ ہم سمجھیں کہ اگر ہم نے مدرسہ بنا لیا، یا خیر کا کوئی کام کرلیا، یا کوئی سبیل لگا دی یا خدمت خلق انجام دے دی تو ہمارے کام کا حق ادا ہوگیا۔ ذرا سوچیے! یہ کتنی عظیم دعوت ہے کہ دین اسلام کو ایک پورے نظام کے طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں عدل پر مبنی ایک معاشرہ و ریاست وجود میں آئے گی۔سوال یہ ہے کہ نظام کی اس تبدیلی کے لیے ہمارا وقت کتنا لگتا ہے؟ ہماری صلاحیتیں کتنی لگتی ہیں اور اس راہ میں ہم اپنا جان و مال کتنا کھپاتے ہیں؟
بلاشبہ جماعت اسلامی کے بہت سے کارکنان بڑی قربانی دیتے ہیں، بڑا ایثار کرتے ہیں، بڑا وقت لگاتے ہیں، بڑی جان کھپاتے ہیں، لیکن یہ کام وہ اکیلے کر رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے لیے سوچتے ہیں، تو اور طرح سے سوچتے ہیں، لیکن وہیں پر اپنے گھر والوں اور بچوں کے لیے اُن کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ کیا ہم اپنے اہل خانہ اور بچوں کے لیے وہ پسند نہیں کرتے جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں؟
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں متنبہ کیا: لَایُؤمِنُ اَحدُکُمْ حَتّٰی یُـحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُـحِبُّ لِنَفْسِہٖ(البخاری)’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جووہ اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اہل خانہ اور بچوں کے لیے ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں، تو کیا ہمیں واقعی اپنی زندگی کے ہدف پر شرح صدر حاصل ہے؟ کیا ہم اپنی زندگی کے ہدف کے تقاضوں کو پوری طرح سمجھتے ہیں؟
بچوں کی اچھی تعلیم اور روشن مستقبل کی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن کیا اچھی تعلیم اور روشن مستقبل کسی بھی طریقے سے، چاہے باطل نظام کی خدمت اور سہولت کاری سے ہو، اعلیٰ منصب، مادی آسائشوں اور گاڑیوں میں اضافے کی شکل میں ہو اور ایک گھر سے دوسرے گھر کے حصول کی فکر ہی میں ہو؟ یہ سب کچھ ہم اس دُنیا کے لیے سوچتے ہیں۔وہ دُنیا جس کے بارے میں ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ کب ختم ہوجائے گی، کب سانس رُک جائے گا اور آنکھ بند ہوجائے گی۔ جب اتنی سی زندگی کے لیے ہم اتنی تگ و دو کرتے ہیں تو جہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم، ہمارے اہل خانہ اور ہمارے بچوں نے جانا ہے، اس کی ہم کتنی پیش بندی اور کتنی فکر مندی کرتے ہیں؟
پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس حقیقت پر یقین ہے کہ انسان کے رزق کی مقدار اللہ تعالیٰ ہی مقرر فرماتا ہے؟ اَللہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَيَقْدِرُ لَہٗ۰ۭ اِنَّ اللہَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۶۲ (العنکبوت ۲۹:۶۲) ’’اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔ کیا جب ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کو جان کر اور اُن کی دُنیا و آخرت میں کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کی جدوجہد سے مطابقت رکھنے والی اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ مہارتوں اور مناصب کے لیے ان کی رہنمائی اور منصوبہ بندی کریں گے، تو کیا اللہ تعالیٰ انھیں آخرت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ دُنیا کی نعمتوں سے نہیں نوازے گا؟ ہم اگر رسولؐ اللہ کی تحریک کا جائزہ لیں تو ہمیں وہاں عثمان غنیؓ اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ جیسے صاحبِ ثروت بھی نظر آتے ہیں،جو ہر دینی ضرورت پر اپنے مال کو بے دریغ خرچ کرتے ہیں، اور دوسری طرف بلالؓ اور عمار بن یاسرؓ اور خالد بن ولیدؓ بھی نظر آتے ہیں جو بہت زیادہ مال و اسباب تو نہیں رکھتے مگر اُن میں سے ہرفرد، اپنے اخلاص،قربانی اور یکسوئی کی بنیاد پر بلند مقام رکھتا ہے۔
ہم نے جب یہ فیصلہ کرلیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے کا کام کریں گے اور یہی جنت کے حصول کا راستہ ہے، تو ہمارا یہ فیصلہ اپنے بچوں کے لیے کیوں نہیں ہے؟ جب ہم مہنگائی اور بے روزگاری کے عالم میں ان کی بہتری کے لیے سوچ رہے ہوتے ہیں، تو ساتھ ساتھ ان کے لیے جنّت کے حصول کا کیوں نہیں سوچتے؟
جماعت اسلامی میں صاحب ِ ثروت لوگ بھی ہیں لیکن زیادہ تر تو متوسط طبقے کے لوگ ہیں جو اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہتے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں تو بہت کم وسائل رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگ محنت اور تگ و دو کر کے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کے لیے کیا سوچتے ہیں؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ کہتا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗىِٕكَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ۶ (التحریم ۶۶:۶)اے لوگو جو ایمان لائے ہو،بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے،جس پر نہایت تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اُسے بجا لاتے ہیں۔
وہ آگ کیا ہوگی؟ جس میں ایندھن کے طور پر انسان اور پتھر ڈالے جائیں گے۔ یہ وہ آگ ہے جس سے ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانا ہے۔آخرت کے اس دردناک عذاب اور دُنیا میں ذلّت و رُسوائی کے دردناک عذاب سے بچنے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی جنّت کی بیش بہا نعمتوں اور دُنیا میں امن و سلامتی، عزّت و سربلندی اور زمامِ کار جیسی ربّ ذوالجلال کی بے شمار نعمتوں کے حصول کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ واحد راستہ و منہج سورۃ الصف میں یوں بیان ہوا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَۃٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۱۰ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ۰ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۱۱(الصف ۶۱:۱۰-۱۱) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتادوں تم کو وہ تجارت جو تمھیں عذابِ الیم سے بچا دے؟ ایمان لائو اللہ اور اُس کے رسولؐ پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
ہم نے اس راستے کا انتخاب اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے کیا ہے۔ ہماری جدوجہد اور تمام سرگرمیاں اسی غرض کے لیے ہیں۔ ہمیں اس جدوجہد کے تقاضوں کے مطابق ہرمسلمان تک اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے کی دعوت پہنچانا ہے۔ لوگوں کے دلوں پہ دستک دینی ہے، اور ان کی دادرسی بھی کرنی ہے۔ ہمیں ان کے دُکھوں کا مداوا کرنا ہے اور مظلوموں کی آواز بھی بننا ہے۔ اس لیے کہ یہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ یہی طریقہ جماعت اسلامی نے اختیار کیا ہے۔ بنیادی طور پر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم اپنے لیے اللہ کی رضا چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کے لیے کیوں نہیں چاہتے؟
اپنے اہل خانہ اور بچوں کوجہنم کی آگ سے بچانے اور اللہ کی رضا کے حصول کے مشن میں اپنا ساتھی بنانے کے لیے ہمیں ان کی تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ سازی اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق ہی کرنی ہے، تاکہ وہ اپنی علمی استعداد اور فنی مہارتوں کو اسلامی مقاصد کے لیے بروئے کار لاتے ہوئے اس جدوجہد کو آگے بڑھا سکیں۔
کہا جاتا ہے کہ بچوں اور بزرگوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ نئی نسل پرانی نسل سے مطابقت نہیں رکھتی۔ان کے درمیان ایک جنریشن گیپ ہے۔ہرپرانی نسل کو نئی نسل سے کچھ شکایات ہوتی ہیں۔نئی نسل سمجھتی ہے کہ بزرگ نسل کو ہمارے موجودہ دور کے تقاضوں کا علم نہیں ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کی یلغار کے نتیجے میں یہ دُوری بڑھتی جارہی ہے، جو قابلِ تشویش بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔
اسلامی طرزِ زندگی ہمیں ہمدردی، محبت اور تعاون پر مبنی خاندان کا ایک نظام دیتا ہے، جس میں والدین کے لیے بچّے کی پیدائش سے قبل سے لے کر بچوں کے عاقل و بالغ ہوجانے اور اس کے بعد بھی تعلیم و تربیت کے ہرمرحلے کے لیے جامع تعلیمات و ہدایات موجود ہیں، تاکہ وہ ایک بامقصد اور متوازن زندگی گزار سکیں۔گھر کا سربراہ جب ان اسلامی تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ کر ہرمرحلے میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا محبت و ہمدردی سے اہتمام کرتا ہے، تو یہ ذہنی دُوری یا جنریشن گیپ پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔
ایک ایسے گھر میں جب گھر کا سربراہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کے بچپن سے فاصلہ نہیں رکھتا بلکہ اپنے بچوں اور اپنے گھر والوں کو بامقصد وقت اور توجہ دیتا ہے اور بچوں کی بات پوری توجہ اور محبت اور ہمدردی سے سنتا ہے۔ ان کی باتیں اور سوالات نظرانداز نہیں کرتا،بلکہ سوالات کو اچھی طرح سمجھ کر اسلامی تعلیمات اور اپنے تجربات کی روشنی میں ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس محنت طلب اسلامی عمل سے ہی جنریشن گیپ کے امکانات کم سے کم ہوںگے۔ یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ والدین اور بچوں کے درمیان جنریشن گیپ ہوگا تو بچّے ان کے ہاتھ میں نہیں رہیں گے اور ان کا سیکھنے کا عمل گلی محلے میں پھیل جائے گایا پھر اسکرین تک محدود ہوجائے گا۔
نوجوانوں کا ایک مسئلہ بڑھتا ہوا نشے کا رجحان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۷۰،۸۰ لاکھ سے زائد نوجوان کسی نہ کسی طور پر منشیات کا شکار ہوچکے ہیں، ایڈکٹ ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے ثقافتی یلغار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر دیا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ جہاں ایک ضروری سہولت ہے، وہیں اس میڈیا پر موجود اکثروبیش تر مواد بُرائی اور اخلاقی گراوٹ اور فکری انتشار کا بہت مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ ایسے میں بُرائی سے بچنا کچھ آسان نہیں رہا۔ اسی لیے معاشرے میں بُرائی بہت تیزی سے نفوذ کر رہی ہے۔
اس منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس صورتِ حال کا سامنا اس طرح کرسکتے ہیں کہ سب سے پہلے خود اپنے مقصد ِ تخلیق (الکہف ۱۸:۷، الذاریات ۵۱:۵۶، الملک ۶۷:۲) اور خلیفہ اللہ فی الارض (البقرہ ۲:۳۰، الانعام ۶:۳۵) ہونے کی ذمہ داری کے تقاضوں کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ جان کر شرحِ صدر حاصل کریں۔ اور پھر اپنے گھر میں اپنے اہل خانہ اور بچوں کو بامقصد قیمتی وقت دیتے ہوئے ان مباحث و دلائل کو تدریجاً محبت و ہمدردی اور شرح صدر کے ساتھ زیربحث لاتے ہوئے اولادِ آدم کے مقصد ِ تخلیق، خالق و مالک کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کے ناتے سے عائد ہونے والی حق کی قولی و عملی شہادت کی ذمہ داری اور مقصد ِ زندگی سے روشناس کرائیں، اور ایسی بامقصد سچّی زندگی گزارنے اور دُنیا و آخرت میں ملنے والے اجر سے آگاہ کریں۔ پھر یہ بنیادی بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جس جماعت اور جس تحریک کو ہم نے اپنے مشن کے طور پر اختیار کیا ہے، ہماری ہرممکن کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارے بچّے اپنی پوری آمادگی کے ساتھ اس مشن سے جڑجائیں۔
سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا۶۹ (النساء۴:۶۹) ’’جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاؑ اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں‘‘۔یہاں انبیاؑ کے بعد شہدا کا نہیں بلکہ صدیقین کا تذکرہ ہے۔ اندازہ کیجیے کہ حق و سچ پر مبنی بامقصد زندگی گزارنے کا کتنا بلند مقام و مرتبہ ہے!
ہم پر لازم ہے کہ اہل خانہ اور بچوں کی تربیت کے لیے ایک متوازن انداز اپنائیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کردہ بُردباری،وقار اور متانت پر مبنی ایک مشفقانہ نگرانی بھی بطور سربراہِ خاندان بچوں پر رکھیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان سے محبت بھی کریں۔ جہاں ان کی ضروریات بھی پوری کریں وہیں ان کو بھلائی کی ترغیب دیں۔
یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ برائیوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آگے بڑھ کر نیکی و بھلائی کی دعوت دینا شروع کر دیں۔ اگر آگے بڑھ کر پورے نظام کے خلاف، اس کی خرابیوں کے خلاف، اچھے لوگوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے، تو بُرائیوں کا مقابلہ بھی کرسکیں گے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت یہ ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ ہے کہ اشاعت و اقامت دین کی جدوجہد منظم انداز میں کی جائے۔ انفرادی کام کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اجتماعیت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے، یداللہ مع الجماعۃ (جامع الترمذی)۔انفرادی حیثیت میں بہت سارے لوگ اپنے دائرے میں خیر اور بھلائی کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر انسان جب اکیلا ہوتا ہے تو وہ شیطان کے گوناگوں حملوں کا شکار ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سارے انفرادی کام معاشرے میں خیر کا پہلو غالب کرنے کے حوالے سے غیرمؤثر رہتے ہیں، اور جب آپ اجتماعیت کے ساتھ وابستہ ہو کر کام کرتے ہیں تو تھوڑا کام بھی زیادہ بابرکت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں قوت پیدا کر دیتا ہے۔
جب آپ کی تعلیم و تربیت سے نوجوان اپنا مقصد ِ تخلیق، اپنی ذمہ داری اور مقصد ِ زندگی جان لیں گے، تو نوجوانوں کو اپنا کردار سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے حق و باطل کی کش مکش میں نوجوان ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو دعوت دینے کا آغاز کیا۔ پھر جب آپؐ کو حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین لوگوں تک دعوت پہنچائیں (الشعراء ۲۶:۵۶)تو آپؐ نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کرکے دعوت پہنچائی۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں تمھیں ایک اللہ کی اُلوہیت کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اس کی عبادت و اطاعت میں آجاؤ۔اپنا پرانا طرز ِزندگی چھوڑ دو۔ اس پر لوگ آپؐ کے مخالف ہو گئے کہ تم ہمیں باپ دادا کے دین سے پھیرنا چاہتے ہو۔ صرف یہی بات کرنے کے لیے ہمیں بلایا تھا!
حضرت علیؓ جن کی عمر صرف ۱۰ برس تھی، انھوں نے کہا کہ اگرچہ میری ٹانگیں کمزور ہیں، میں بہت کمزور ہوں لیکن میں آپؐ کا ساتھ دوں گا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ساتھ نبھایا۔ آپ رضی اللہ عنہ تو وہ تھے جن کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے وقت اپنے بستر پر چھوڑا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ تھے کہ جنھوں نے بڑے بڑے دشمنوں کو چت کر دیا تھا، اور آپؓ ہی خیبر کے فاتح تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ زیدؓ بن خطاب، مصعب بن عمیرؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، عمرؓ بن خطاب، یہ سب نوجوان تھے۔ صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپؐ سے دو تین سال چھوٹے تھے۔ اس جدوجہد میں زیادہ تر نوجوان آپؐ کے ساتھ شریک تھے۔
سیّد ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی قائم کی تھی۔ اس سے پہلے انھوں نے اپنی تحریروں سے لوگوں کو اسلام کی حقیقت سے آگاہ کیا کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا حکم و ہدایت یہ ہے کہ اسلام ایک نظام کی صورت میں غالب ہو۔ دین مغلوب رہنے کے لیے نہیں بلکہ غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔ لہٰذا، اسلام کے غلبہ کی جدوجہد شروع کی جانی چاہیے۔اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اس جدوجہد کے لیے ایک جماعت قائم کی جائے۔ جب جماعت اسلامی کا تاسیسی اجلاس ہوا تو ابتدائی طور پر ۷۵؍افراد جماعت کا حصہ بنے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اُس وقت ۳۸برس کے تھے۔ مولانا سے عمر میں بڑے شاید سات آٹھ افراد ہوں گے۔ باقی سب ۲۰ سے ۳۰ برس تک کی عمر کے نوجوان تھے۔ نوجوانوں ہی نے سب سے زیادہ اس دعوت کو قبول کیا۔ اسی طرح فلسطین کے نوجوانوں نے حماس کی اقامت ِ دین کی دعوت کو دل و جان سے قبول کیا ہے۔ اخوان المسلمون کی دعوت بھی نوجوان قبول کرتے ہیں اور پھر کام کرتے کرتے ان کی عمریں گزر جاتی ہیں۔ جس اسلامی تحریک کو دیکھیں اس میں نوجوان نظر آئیں گے۔
دنیا میں بڑے بڑے کام چھوٹی عمر کے نوجوان ہی کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان اس تحریک کا حصہ بنیں۔اگر طالب علم ہیں تو اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ بنیں۔ اگر مدرسے میں پڑھتے ہیں تو جمعیت طلبہ عربیہ میں شامل ہوں۔ اسکول کے طالب علم ’بزمِ پیغام‘ سے وابستہ ہوں یا جماعت اسلامی کے شعبۂ اطفال کا حصہ بنیں۔ جماعت اسلامی سے شعوری طور پر وابستہ گھرانہ نہ صرف اپنے بچوں کی تربیت کرسکتا ہے بلکہ اہل محلہ کے لیے بھی ایک مرکزِ تربیت بن سکتا ہے۔ اس طرح سے نوجوان احیائے اسلام اور معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہمیں اپنی دعوت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی تربیت پر توجہ دینی ہے۔ ہمارے پاس بہترین اسلامی لٹریچر ہے۔ دین کی فکر اور تحریک اسلامی کے افکار و نظریات کو جاننے کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ یہ تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اُردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ترجمے بھی موجود ہیں۔ ’ریڈ مودودی ڈاٹ کام‘ کی ویب سائٹ موجود ہے۔ اس پر مولانا مودودی کا سارا لٹریچر موجود ہے۔ اس کی آڈیوز بھی آ رہی ہیں۔ اور اے آئی کے ذریعے سے اس کی بہت ساری چیزیں سامنے آرہی ہیں۔
اپنے گھر میں اس بات کی کوشش کریں کہ علامہ اقبالؒ کی نظمیں اور اشعار بچوں کو یاد کروائیں۔ بچپن میں جو چیز یاد ہو جاتی ہے وہ پختہ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سیّد مودودی کی کتب پڑھانے کے لیے ان کا اجتماعی مطالعہ کریں۔ اجتماع اہل خانہ میں لٹریچر کے اجتماعی مطالعے کے بعد بچوں سے تبادلۂ خیال کریں تاکہ بنیادی اسلامی تعلیمات بچوں کے ذہن میں راسخ ہوسکیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم و تربیت، ان کی اسکولنگ اور ان کی زندگی کے بارے میں فیصلے اور ترجیحات کا تعین دین کے مطابق ہوسکے۔
دین اسلام کے کام کے حوالے سے کچھ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے۔ لوگ روایتی انداز سے درسِ قرآن کے حلقے چلاتے ہیں جن میں کمپیوٹرائز پریزنٹیشن بھی ہوتی ہے، سلائیڈز بھی بنائی اور چلائی جاتی ہیں ، اور بعض دروس نشر ہو رہے ہوتے ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا درس ہوتا رہتا ہے لیکن قرآن جس جدوجہد کی طرف بلاتا ہے، جس کش مکش کی طرف بلاتا ہے، جن نظاموں کو چیلنج کرتا ہے ،جو پورا تربیت کا ایک خاکہ بتاتا ہے اور اجتماعیت کی طرف لے کر چلتا ہے، بس اُسی کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ اس طرح سے ہم میں سے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جدید انداز میں اور مؤثر انداز میں دین کا کام کر رہے ہیں لیکن عملاً دین کی دعوت اور اس کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔
جماعت کے اجتماعات میں کشادگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بزرگوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی شرکت کو ممکن بنانا چاہیے۔ ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تاکہ تحریکی جدوجہد میں وہ اپنا کردار ادا کرسکیں۔ جماعت اسلامی کا بنیادی حلقہ یونین کونسل کی سطح پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوانوں کی مناسب ، مؤثر تربیت کے بعد ان کو ذمہ داریاں سونپی جائیں اور ان کی رہنمائی کی جائے تو اس بنیادی حلقے میں کام میں بہتری بھی آئے گی اور نوجوان مزید نوجوانوں کو ساتھ لے کر بھی چلیں گے۔ اگر بزرگ اور نوجوان کارکنان مل جل کر کام کریں تو اقامت ِ دین کی جدوجہد کا یہ کام آگے بڑھ سکتا ہے۔
دُنیا بھر میں اسلامی تحریکوں نے جہاں جہاں کارکنوں کی نظریاتی اور عملی تربیت و تزکیہ کے مؤثر اندازاپناتے ہوئے انھیں نظریاتی، فکری و عملی یکسوئی کی نعمت سے مزین کیا ہے، اور سنجیدہ مقامی مسائل کے اسلامی حل کو اپنی دعوت و جدوجہد کا ہدف بنایا ہے، وہاں وہاں اسلامی تحریک کو اللہ ربّ العزت نے کامیابیوں سے نوازا۔ بنگلہ دیش، مصر اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو ہمیں دعوتِ فکروعمل دیتی ہیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے قیدوبند کی صعوبتوں اور قیادت کی پھانسیوں کے باوجود اپنی نظریاتی یکسوئی اور محنت سے حالیہ انتخابات میں پونے تین کروڑ ووٹ حاصل کرکے ملک کی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔اخوان المسلمون نے ۲۰۱۲ء کے انتخابات میں تقریباً ۵۲ فی صد ووٹ حاصل کرکے ڈاکٹر محمد مرسی کی قیادت میں حکومت بنائی تھی۔
حماس کے لوگ اپنے قیام سے لے کر اب تک قربانیاں اور شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت بھی شہید ہوگئی۔ یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو صہیونیوں نے شہید کر دیا۔ انھیں بے گھر کیا گیا، زندگی گزارنا مشکل کردی گئی، مگر اس سب کے باوجودوہ پیچھے نہیں ہٹے۔ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے دُنیابھر کی رائے عامہ کو جوہری طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اسلامی تحریکیں ہرجگہ ہر طرح کے حالات میں اپنے اپنے مقام پر ڈٹی ہوئی ہیں اور الحمدللہ، کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے بچوں کے نظریاتی، فکری و عملی تزکیہ و تربیت پر پوری سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کی اعلیٰ تعلیم اور روشن مستقبل کی پلاننگ اسلامی تناظر میں کرنا اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاکہ وہ شعوری طور پر اس جدوجہد میں شمولیت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور دُنیا و آخرت میں اپنی کامیابی کا ذریعہ بھی سمجھیں۔ ہم جب اس طرح کام کریں گے تو اس سے وہ طاقت اور قوت پیدا ہوگی کہ کوئی بھی راستہ نہیں روک سکے گا، ان شاء اللہ!
اس وقت جماعت اسلامی ملک گیر سطح پر ’بدل دو نظام تحریک‘ کے تحت ممبرشپ مہم چلا رہی ہے۔ اس میں اپنے گھر والوں اور بچوں سب کو ممبر بنائیے۔ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو ممبر بنایئے۔ اس کام کو پورے اعتماد سے کیجیے۔جماعت اسلامی میں لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کیجیے، اس یقین کے ساتھ کہ اپنی شناخت اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ہم اپنی نئی نسل کو موجودہ نظام کے حوالے نہیں کرسکتے۔
آیئے! اس ممبرشپ مہم کو آگے بڑھایئے اور اس نظام کی تبدیلی اور غلبۂ دین کی جدوجہد میں اپنا کردارادا کیجیے۔
_______________
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵ (البقرۃ۲:۱۹۵) ’’بے شک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتاہے ‘‘۔
قرآن کریم میں یہ آیت مزید چار مقام (اٰل عمرٰن۳: ۱۳۴،۱۴۸، المائدۃ ۵:۱۳،۹۳) پر آئی ہے۔ مترجمینِ قرآن نے ’ محسنین‘ کا ترجمہ اس طور پر کیا ہے: احسان کرنے والے،احسان کی روش رکھنے والے، نیکی کرنے والے، نیک کام کرنے والے، نیک لوگ،نیک عمل لوگ،نیک کردار لوگ، نیکو کار، خوب کار،خوبی کے ساتھ کام کرنے والے۔ مذکورہ بالا آیت سے پہلے کی آیت؍ آیات اور ان کے الفاظ کو ذہن میں رکھا جائے تو ’ محسنین‘کا مفہوم مزید واضح ہوجاتا ہے۔
اِن آیات میں ( اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵ اللہ محسنین کو پسند فرماتا ہے ) سے پہلے اہلِ ایمان کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں ان کا مفہوم یہ ہے:اللہ کی راہ میں، فقراء،مساکین و محتاجوں کی اعانت میں مال خرچ کرنے والے، بخل سے اپنے آپ کو بچانے والے، غصہ پر قابو رکھنے والے، لوگوں کے ساتھ عفو و در گزر کا معاملہ کرنے والے،گناہ کے ارتکاب کے بعد متنبہ ہونے پر توبہ کرنے والے، گناہ سے پرہیز کا پختہ ارادہ کرنے والے، روز مرّہ زندگی میں (جسمانی، قلبی، فکری و عملی) پاکیز گی اختیار کرنے والے۔ اس کے علاوہ بعض آیات میں جن کاموں کی ہدایت کے معاً بعد اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵ کا ذکر ہے وہ ہیں : گناہ سے پرہیز کرنا، خوفِ الٰہی سے دل کو معمور رکھنا، تقویٰ اختیار کرنا، کسی سے غلطی یا خطا سرزد ہونے پر اسے معاف کردینا یا درگذر سے کام لینا (یعنی مشتعل ہوکر انتقام نہ لینا)، نیکی کا راستہ اختیار کرنا اور دوسروں کو اس کی دعوت دینا۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ اوصافِ محمودہ کے فیوض و ثمرات پر غور کیا جائے تو ان سب میں لوگوں کے ساتھ بھلائی یا احسان کرنے کا معاملہ غالب نظر آتا ہے، یعنی اُن کاموں کے سیاق میں اس آیت کا ذکر ہے جن سے معاشرے کے مختلف طبقات کے لوگوں کا بھلا ہوتا ہے، انھیں راحت پہنچتی ہے یا وہ تکلیف دہ، ضرر رساں ا ور اذیت ناک چیزوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
سچ یہ کہ عملِ صالح یا بھلائی کے کاموں کے بڑے فیوض و برکات ہیں۔ ان کاموں سے دوسروں کا بھلا تو ہوتا ہی ہے، خودکرنے والے کے لیے بھی یہ باعثِ خیر بنتے ہیں ۔ لوگوں کی بھلائی کے کام کرنے والے کو ذہنی سکون ملتا ہے۔ وہ بہت سی ایسی حرکتوں سے دُور ہوجاتا ہے جو ربِ کریم کی ناراضگی کا موجب بنتی ہیں، اور سب سے بڑا انعام یہ کہ وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ نیک کام انجام دیتے رہنے پر جو اجرِ عظیم نصیب ہوگا، وہ اس کے لیے ابدی زندگی میں کام آنے والا قیمتی ترین خزانہ بن جاتا ہے۔ بلا شبہ نیکیاں دنیوی واُخر وی دونوں زندگیوں میں منفعت بخش ثابت ہوتی ہیں۔
یہ نکتہ اُن آیات پر تدبر و تفکر سے بخوبی واضح ہوتا ہے جن میں عمل صالح یا کسی نیک کام کی ہدایت و نصیحت کے بعد اس طرح کے الفاظ مذکور ہیں: ذٰلِکُمْ خَیرٌ لَکُمْ ، فَھُوَ خَیْرٌ لَہُم ، لَکَانَ خَیْرًا لَہُمْ، خَیْرًا لِاَنْفُسِکُمْ ( یہی تم سب کے لیے بہتر ہے، پس یہ اعمال ان کے لیے باعثِ خیر ہیں ، [ انھوں نے یہ کام انجام د یا ہوتا ] تو ان کے لیے موجبِ خیر بنتا، خود تمھارے لیے اسی [ نیک عمل] میں بھلائی ہے)۔
ان آیات میں خیر یا بھلائی کی خوش خبر ی سے پہلے جن باتوں یا کاموں کی ہدایت یا نصیحت کی گئی ہے اُن کا ذکر بھی اہمیت سے خالی نہ ہوگا، اور وہ یہ ہیں: صرف اللہ کو معبود مانو اور اسی پر صدقِ دل سے ایمان لائو،اللہ سے ڈرو،گناہوں سے اپنے آپ کو بچائو، اللہ کی نافرمانی اور عہد شکنی سے باز آجائو،اللہ کی ہدایات کو غور سے سنو،ان پر عمل پیرا ہوجائو، اللہ کی نصیحتوں کو عمل میں لائو، احکامِ الٰہی پر عمل کرنے کے دوران پہنچنے والی تکالیف کو برداشت کرو ، جہاد فی سبیل اللہ میں اپنے جان و مال کی قربانی دینے کے لیے تیار رہو، اپنے مال کو نیک کاموں میں خوب خرچ کیا کرو، رشتہ دار، مسکین اور مسافر کا حق رضائے الٰہی کی طلب میں ادا کیا کرو، کاشانۂ نبویؐ پر حاضری کے وقت صبر و تحمل سے کام لو اور آپؐ کا ادب و احترام پوری طرح ملحوظ رکھو ، کسی کے گھر میں داخلہ سے پہلے اہلِ خانہ سے اجازت لے لو اور استیذان کا مناسب طریقہ اختیار کرو۔ مذکورہ بالا باتوں یا اعمال پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ یہ سب کام اللہ رب العزت کو راضی کرنے والے، دنیا و آخرت دونوں جہاں میں خیر و برکت کا باعث بننے والے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اعمالِ حسنہ نہ صرف ان کے انجام دینے والوں کے لیے نفع بخش بنتے ہیں اور ان کے آخری انجام کو بہتر بنانے والے ہوں گے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی راحت و آرام اور سکون و سرور کے موجبِ بنتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جن کاموں کو اللہ رب العزت پسند فرماتا ہے اور ان کے انجام دینے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے، ان کے باعثِ خیر و برکت ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے اور یہ دینِ برحق سراپا خیر ،خیر کا داعی اور کارِ خیر کا زبردست محرّک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ بر حق کے ماننے والوں یعنی مومنین و صادقین کا خاص شیوہ ہی خیر یا نیکی کی طلب ، خیر کے اکتساب میں سبقت کرنا اور خیر کی دعوت دینا ہو جاتا ہے۔
قرآن نے اہلِ ایمان کو بار بار نیکی کمانے کے میدان میں مقابلہ آرائی کی ترغیب دی ہے اور اس کے لیے ان الفاظ میں دعوت دی ہے: فَاسْتَبِقُوْا الْخَیْرٰتِ ۰ۭ (البقرۃ۲: ۱۴۸، المائدۃ ۵:۴۸ ) ’’ پس بھلائی کے کاموں کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کرو‘‘۔ وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۰ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ۱۳۳ (اٰل عمرٰن ۳: ۳۳ا، الحدید ۵۷:۲۱) ’’اپنے ربّ کی مغفرت اور اس جنت کے لیے آگے بڑھوجس کی وسعت آسمانوں و زمین کی طرح ہے۔ یہ پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ مغفرت ِ الٰہی اور جنت کی طلب میں تیزی سے آگے بڑھنے سے مراد اُن اعمال کی راہ میں آگے بڑھنا ہے جو اللہ کی مغفرت نصیب کرنے والے اور جنت کا مستحق بنانے والے ہیں۔
یہاں یہ ذکر بھی بر محل معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ فاطر کی آیت۳۲ میں کتابِ الٰہی پر عمل یا اس میں کوتاہی کے لحاظ سے لوگوں کو تین طبقوں میں تقسیم کرکے ان لوگوں کو بہت بڑے فضل سے مشرف قرار دیا گیا ہے جو اکتسابِ خیر میں دوسروں سے آگے بڑھ جانے کی فکر و کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ارشادِ ربّانی ہے: فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ۰ۚ وَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ۰ۚ وَمِنْہُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِـاِذْنِ اللہِ۰ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ۳۲ۭ (الفاطر۳۵:۳۲) ’’ان میں سے کوئی تو اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی میانہ روی اختیار کرنے والا ہے، اور کوئی اللہ کی توفیق سے نیکیوں (کی کمائی) میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے‘‘۔
مزید یہ کہ ایک حدیث کے مطابق مومن کو خیر سے کبھی سیری نہیں ہوتی، یہاں تک کہ وہ اپنے راحت بھرے ٹھکانے جنت کو پہنچ جا تا ہے: لایشبع المومن من خیر یسمعہاحتّی یَکونَ منتہاہ الی الجنۃ (جامع ترمذی، ابواب العلم)، یعنی مومن کو خیر کا کام کیے بغیر چین ہی نہیں ملتا۔
اس حدیث کی تشریح کے آخر میں مولانا محمد فاروق خاں رقم طراز ہیں: ’’نیکی سے کسی کی رغبت اس بات کی واضح علامت ہے کہ اللہ اسے چاہتا ہے اور اگر آدمی بجائے بھلائی اور خیر کے کسی اور چیز کے لیے مستعد ی دکھا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ و ہ اللہ کا مقبول بندہ نہیں ہے۔ اسی لیے اللہ نے اسے دوسرے کاموں کے لیے چھوڑ دیا‘‘ دو( کلام نبوت،م،محمد فاروق خاں، ص۱۷۳)۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی بندے کو محبوب بنالینا یقینی طور پر بہت بڑا اعزاز ہے جس سے خیر سے محبت و رغبت رکھنے والے مشرف کیے جاتے ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا نہیں۔ وہ اپنے بندوں کو اکتسابِ خیر یا نیکی کمانے کی راہیں دکھاتا ہے۔ انھیں کارِ خیر کی تو فیق بخشتا ہے،نیک کام کے اجرِ جزیل اور ثوابِ کثیر کو اپنی کتابِ ہدایت میں بار بار بیان فرماکر نیکیاں کمانے کی تر غیب دیتا ہے اور اس میدان میں مسابقت کو مومن کا امتیازی وصف قرار دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہم ان آیات کو سمجھ کر پڑھیں جن میں بڑے دل نشیں انداز میں نیکی کمانے کی ترغیب دی گئی ہے اور اکتسابِ خیر پر ابھار ا گیا ہے: ’’جو شخص بھلائی کا کوئی کام انجام دے گا اسے اس سے زیادہ اجر ملے گا‘‘(النمل۲۷: ۸۹)۔’’جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے (کم از کم) دس گنا اجر ہے‘‘ (الانعام۶: ۱۶۰)۔ ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں‘‘۔( ھود۱۱:۱۱۴)
ان آیات میں انفاق کو باعثِ خیر و برکت اورموجبِ فوز و فلاح قرار دیا گیا ہے، اسے اُن اعمال میں شامل کیا گیا ہے جنھیں اللہ پسند فرماتا ہے۔ اس کے برعکس عمل( حرص و بخل) کو موجبِ خسران اور آخری انجام کی خرابی سے تعبیر کیا گیا ہے (البقرۃ۲: ۱۹۵، النور۲۴:۱۱، الروم ۳۰:۳۸، الحشر۵۷:۹، الصف۶۱:۱۱-۱۲، التغابن۶۴:۱۶)۔ اسی ضمن میں ہم سورئہ بقرہ کی آیت۲۶۱ پر نظر ڈالیں جس میں اللہ رب العزت نے نہایت دل نشیں اسلوب میں ایک مثال کے ذریعے انفاق فی سبیل اللہ کا ثواب( سات سو گنا تک یا اس سے بھی زیادہ) بڑھا کر دینے کو واضح فرمایا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو :’’جو لوگ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،ان کے انفاق [کے اجر] کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں،اس طرح اللہ جس کے عمل[کے اجر و ثواب] کو جتنا چاہتا ہے بڑھاتا ہے، اللہ بڑی فراخی والا اور سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔
آیت کے آخری حصہ ( وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ، اللہ بڑی کشادگی والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے ) پر خصوصی توجہ مطلوب ہے کہ اس سے یہ نکتہ دل و دماغ میں نقش کرانا مقصود ہے کہ اللہ مالک الملک زمین و آسمان کے سارے خزانے کا مالک ہے۔ اس کے پاس بندوں کو عطا کرنے کے لیے مال واسباب کے بے حساب خزانے ہیں ۔ وہ جس کو چاہے دے، جتنا چاہے دے ، وہ مختارِ کل ہے۔ دوسرے یہ کہ ربِّ کریم کی عطا کی کوئی حد نہیں۔ وہ دینے میں بہت فراخ دست ہے، سات سو گنا کیا؟ اس سے زیادہ بھی جتنا چاہے عطا کر تا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے،نیک عمل کے صلے میں وہ جو کچھ اجر و ثواب عطا کرتا ہے اس کے علم اور اس کی حکمت پر موقوف ہوتا ہے۔ وہ بخوبی اس کی خبر رکھتا ہے کہ انفاق کرنے والا بندہ کارِ خیر میں کتنا مال خرچ کر رہا ہے؟ کس نیت سے کر رہا ہے؟ کس پر خرچ کر رہا ہے؟کس حالت میں خرچ کررہا ہے؟ کسی حاجت مند کو اپنا مال کس طریقے سے دے رہا ہے؟ اسی علم و با خبری کی بنیاد پر انفاق کرنے والے یا نیکی کمانے والے کا اجر و ثواب بڑھتا ،گھٹتا رہتا ہے۔
سچ یہ کہ اس آیت میںانفاق کرنے والے یا کارِ خیر انجام دینے والوں کے لیے بڑی قیمتی ہدایات و نصیحتیں مضمر ہیں، اور وہ اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو جو کچھ مال و دولت عطا کیا ہے، وہ اس کے ذریعے نیکی کمانے کے لیے آگے بڑھے ، انفاق کرتے وقت اپنی نیت درست کرلے، نام و نمود یا کسی دنیوی غرض کے بجائے صرف رضائے الٰہی کی طلب میں اپنا محبوب مال خرچ کرے ۔ انفاق کرتے وقت یہ ذہن میں ر ہے کہ اطاعتِ الٰہی میں مال خرچ کرنے پر مال گھٹتا نہیں یا کم نہیں ہوتا، اس میں اور برکت ہوتی ہے۔ (البقرۃ ۲:۲۷۶، نیز جامع ترمذی، ابواب الزہد)
اس حقیقت پر یقین رکھے کہ جس ذات تبارک و تعالیٰ نے انفاق کا حکم دیاہے،اس کے خزانے میں سب کچھ ہے۔ وہ انفاق کرنے والے اپنے بندے کو مزید عطا فرمائے گا اور خوب عطا فرمائے گا۔ سب سے اہم یہ حقیقت یا د رکھے کہ انفاق کے صلے میں جو کچھ اجر و ثواب ملے گا، اس کا حقیقی فائدہ انفاق کرنے والے کو آخرت میں ملے گا جہاں نیکی کے علاوہ اور کوئی چیز کام آنے والی نہ ہوگی۔ واقعہ یہ کہ آیت(البقرۃ۲:۲۶۱) کے آخری حصے میں بڑی تسلی ہے،اطمینان بخش خبر ہے بھلائی کے کاموں میںمال خرچ کرنے یا نیکی کی راہ میں سبقت کرنے والوں کے لیے کہ ان کے اعمالِ حسنہ کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں محفوظ ہوگیا جو انھیں ہمیشہ کی زندگی میں خوب نفع پہنچائے گا۔ یہی حقیقت بعض دیگر آیات میں بھی واضح کی گئی ہے۔ (النحل: ۱۶:۹۶-۹۷، الشوریٰ۴۲:۳۶)
سو رئہ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت ۲۶۱ کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس نکتہ کی جانب ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: ’’دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ کی راہ میں جو چھوٹی یا بڑی،علانیہ یا پوشیدہ نیکی کی جاتی ہے، سب اس کے علم میں رہتی ہے۔ اس وجہ سے ہر شخص اجر کی طرف سے مطمئن رہے۔ جب دینے والے کا خزانہ بھی غیر محدود ہے، اور اس کا علم بھی غائب و حاضر سب پر محیط ہے، تو تشویش کی گنجائش کہاں باقی رہی‘‘(تدبرِ قرآن، اوّل، ص۶۱۳)
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے مروی ایک حدیث میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک کام میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بڑے حکیمانہ انداز اور سوال کے پیرایہ میں اس کی اہمیت و نافعیت ذہن نشیں فرمائی ہے ۔ آپؐ نے مجلس میں موجود صحابہ کرامؓ سے سوال فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟ صحابہؓ کا یہ جواب سننے پر کہ ’’ اے اللہ کے رسولؐ! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا ہی مال محبوب ہے‘‘، آپؐ نے فرمایا کہ جب تم میں سے ہر شخص کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے تو جان لو،سمجھ لو کہ تمھارا مال صرف وہی ہے جسے تم نے نیک کام میں خرچ کر کے آگے بھیج دیا( یعنی جس کا اجر اللہ کے یہاں محفوظ کردیا اور وہ آخرت میں کام آئے گا)، اور وارث کا مال وہ ہے جسے تم نے پیچھے چھوڑدیا(اور وہ وارث کی ملکیت میں چلاگیا، اب وہ اسے کس کام میں خرچ کرتا ہے،اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔
ریاض الصالحین کے اردو مترجم نے اس حدیث کی تشریح کے آخر میں بہت صحیح تحریر کیا ہے کہ’’اس میں اِس امر کی ترغیب ہے کہ انسان کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہو تو اسے اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا چاہیے‘‘۔ (یحییٰ ابن شرف النووی،ریاض الصالحین، اوّل، ترجمہ و تشریح:حافظ صلاح الدین یوسف، ص ۴۸۱)
اہلِ ایمان یا دعوتِ الٰہی قبول کرنے والوں کو جامع انداز میں یہ خوش خبری سنائی گئی ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۷۷ۚ۞ (الحج۲۲: ۷۷) اے ایمان والو! رکوع کرو ا ور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرتے رہو اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح یاب ہو جا ئو ۔
لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰى۰ۭؔ (الرعد۱۳:۱۸ ) جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی ان کے لیے بھلائی یا انجامِ کار کی بہتری ہے۔
لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَۃٌ۰ۭ وَلَا يَرْہَقُ وُجُوْہَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّۃٌ۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۲۶ ( یونس۱۰: ۲۶) جن لوگوں نے بھلائی کا راستہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کا مزید فضل و کرم۔ (اُخروی زندگی میں) ان کے چہروں پر نہ سیاہی اور نہ ذلت چھائے گی،وہ جنت کے مستحق ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ کی آیات پر ایمان لانے والوں کو امن و سلامتی، رحمت ِ الٰہی کی خوش خبری دی گئی ہے:
وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۰ۙ (الانعام۶:۵۴)اور جب (اے نبیؐ!) تمھارے پاس میری آیات پر ایمان لانے والے آئیں تو ان سے کہو ’ تم پر سلامتی ہے،تم سب کے رب نےاپنے اُوپر رحم و کرم کو لازم کر لیا ہے۔
وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَہُوَمُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ يُرْزَقُوْنَ فِيْہَا بِغَيْرِ حِسَابٍ۴۰ ( المؤمن ۴۰:۴۰) جو نیک عمل کریں گے خواہ مرد ہوں یا عورت بشرطیکہ وہ صاحبِ ایما ن ہوں، وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بے حساب رزق(نعمتو ں کا خزانہ) دیا جائے گا۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کو اپنے مخصوص انعامات و عنایات سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے جو ایمان و عمل صالح سے متصف رہے ، یعنی جو صدقِ دل سے ایمان لا کر اس کے تقاضے بحسن و خوبی پورے کرتے رہے اور ذکرِ الٰہی سے کبھی غافل نہیں رہے۔
مختصر یہ کہ ہرمومن کی دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اسے رضائے الٰہی اور حقیقی کامیابی نصیب ہو اور آخرت کی زندگی میں اسے سرورو سکون سے معمور مستقل ٹھکانا ( جنت) مل جائے اور وہ اللہ کی عطا کردہ غیر محدود اور لازوال نعمتوں سے محظوظ ہوتا رہے۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔
_______________
انڈین فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بی ایم کول نے ۱۹۶۷ء میں اپنی کتاب The Untold Story (اَن کہی کہانی) میں لکھا ہے کہ حضرتِ انسان کی پانچ ہزار سالہ تحریری تاریخ میں ۱۵ہزار جنگیں ہوئی ہیں۔ گویا اوسطاً تین جنگیں فی سال ہوتی رہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس پانچ ہزار سالہ دور میں صرف تین سو ایسے خوش قسمت سال تھے، جب باقاعدہ اور گرم جنگ نہیں ہوئی۔ گویا اس دور کا صرف چھ فی صد حصہ جنگ سے محفوظ رہا، لیکن وہ بھی زیادہ تر اس لیے کہ یہ کسی جنگ کے بعد کا وقفہ تھا یا پھر کسی جنگ کی تیاری کا زمانہ تھا۔
جنگ کا مطلب ہے: انسانوں کی موت، مرگِ انسانیت! پہلی عالم گیر جنگ میں دوکروڑ انسان مارے گئے اور دوسری جنگ ِ عالم گیر میں آٹھ کروڑ انسان موت کے گھاٹ اُتار دیئے گئے۔ ۱۹۴۵ء سے تاحال کوئی بڑی اور عالم گیر جنگ تو نہیں ہوئی، لیکن دو سو چھوٹی چھوٹی جنگیں ہوئیں، جن میں ایک کروڑ۵۰لاکھ سے زیادہ انسان کام آئے۔ ۶؍اگست ۱۹۴۵ء کو ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایک ہی ایٹم بم نے (جسے ’مسکراتا بُدھا‘ کا ستم ظریفانہ نام دیا گیا تھا) ایک لاکھ ۴۱ ہزار انسانوں کی جانیں لے ڈوبا اور آج اس زمین پر قریباً ۵۰ہزار ایٹم بم موجود ہیں اور نیوکلیئر آلات کا عالمی ذخیرہ دوسری جنگ ِ عظیم کے مجموعی بارود سے دو ہزارچھ سو گنا زیادہ بارودی طاقت رکھتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ تباہ کاری کے آلات ایٹم بم سے بھی آگے بڑھ کر ہائیڈروجن بم، نیوٹرون بم، کروز میزائل اور سٹاروار تک جا پہنچے ہیں۔
کیا یہ آلات بقائے انسانی کے لیے ہیں؟ کیا یہ پُرخطر اور دہشت انگیز حالات جنگ کے خاتمے یا نقصِ امن کے سد ِ باب یا عالمی امن کے قیام کے لیے ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! کہا جاسکتا ہے کہ دُنیا میں جنگی اعتبار سے طاقت ور ملکوں کے درمیان اسلحے پر کنٹرول کے جو معاہدے ہوئے، ان کی بنا پر جو عملی اقدامات کیے گئے ہیں وہ خوش آیند ہیں اور اس سے کم از کم فوری فنائے انسانیت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن یہ صرف خوش فہمی ہے۔ رابرٹ جے اوپن ہمیر کے الفاظ میں: ’ایک ہی بوتل میں یہ بچھو ایک دوسرے کو مارنے پر قادر ہیں، لیکن اپنی موت کا خطرہ مُول لے کر‘‘۔ بقول سابق امریکی صدر رونالڈریگن: ’’یہ ایسے دو آدمی ہیں جو ایک دوسرے کی کنپٹی پر پستول رکھے ہوئے ہیں‘‘۔
مغرب کی سامراجی قوتوں نے لُوٹ مار ، استحصال اور جنگی سازوسامان کے انبار لگاکر گھرپھونک تماشا دیکھنے کا رویّہ اپنا رکھا ہے، خودسوزی اور خودکشی کا یہ رویّہ حضرتِ انسان کے لیے نہ مستحسن ہے اور نہ اُس کے شایانِ شان! انسان کی تو پہچان ہی یہ ہے کہ خطرہ جتنا بڑا ہوگا اُس کی جدوجہد، تدابیر آزمائی اتنی ہی عظیم ہوگی۔ اِس اُمید کو ہم اسلام کہتے ہیں اور اس اُمید کی کرن سورئہ انفال (۸:۲۴) میں ہے جو اس مضمون کی محرک بنی ہے۔
ضرورت یہ ہے کہ موجودہ انسان اپنا اندازِ فکر بدلے۔ انسان اپنی ذات، قبیلے اور قوم سے اُوپر اُٹھ کر انسانیت میں مدغم ہو، جس طرح اسلام نے انسان کو قوم سے اُوپر اُٹھ کر اُمت ِ واحدہ: ’’یہ لوگ ہیں تمھارے دین کے، سب ایک دین پر (اُمت ِ واحدہ) اور مَیں ہوں ربّ تمھارا، سو میری بندگی کرو‘‘ (الانبیاء ۲۱: ۹۲)، ’’اور یہ لوگ ہیں تمھارے دین کے، سب ایک دین پر اور مَیں ہوں تمھارا ربّ، سو مجھ سے ڈرتے رہو‘‘ (المومنون ۲۳:۵۲) میں ضم ہونے کا درس دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ افراد کی صلاحیتیں خاندان کی فلاح و بہبود پر صرف ہونے لگیں۔ خاندانی صلاحیتیں قبیلے کی اصلاح و ترقی اور قبیلے کی صلاحیتیں قوم کی پیش رفت پر استعمال ہونے لگیں۔ ایسے ہی قوی امکانات اُمت ِ واحدہ کی بہبودی پر مرکوز ہوں۔
اُمت ِ واحدہ کا تصور بے حد روح افروز ہے اور اُس کے نقش و نگار کی نقشہ کشی ایک بہت ہی دلچسپ اور پُراُمید منصوبہ ہے۔ لیکن نہ تو اُمت ِ واحدہ کا ظہوروقیام اتنا آسان ہے اور نہ اُس کا ظہور و شہود ہی ہمہ سطحی قیامِ امن کی ضمانت ہے۔ اُسے واقعی ایک عمل پذیر اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے جنگ کے اصلی (نہ کہ روایتی) محرکات اور قیامِ امن کے اصلی (نہ کہ روایتی) لوازمات کا فہم ایک بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان ہلاکت خیز اور جہاں سوز جذبات کومسخر کرلیا جائے، انھیں منضبط کیا جائے اور مثبت جذبات کی پشت پناہی پر مامور کیا جائے تو یہ خیروبرکت، ایثار و اقدار، امن و سلامتی، اخوت و مساوات، عدل و احسان اور حُریت و انسانیت کے قوی ترین محرک ثابت ہوتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ناگزیر جذبات کو تابع کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ کیا انسان محض اپنے علم و عقل کی بدولت ایسا کرسکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا تو شاید یورپ اس وقت اس کرئہ ارض کا منضبط ترین حصہ ہوتا، کیونکہ یورپ اس وقت علم و خرد اور طاقت و وسائل کے لحاظ سے ایک بلنددرجے پر فائز سمجھا جاتا ہے۔ مگر کثرت علم و وفورِ عقل نے اسے ان منفی جذبات پر قابو پانے کی توفیق نہیں دی بلکہ اُس نے ان جذبات کو پہلے سے کئی گنا زیادہ مہیب اور گمبھیر بنا دیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عقل و فہم اور علم و فن نے موجودہ انسان کو زیادہ سے زیادہ فوائد بہم پہنچائے ہیں۔ اُس کی تہذیب کو ایک اعتبار سے اعلیٰ درجے تک پہنچایا ہے اور ارض و سما میں مزید پیش قدمی کے راستے کھولے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہوائے نفس بھی بڑھی ہے، اور انسان کے سامنے آج بھی سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ کیا انسان اپنی حرص و ہوا پر قابو پاسکتا ہے؟ کیا بحروبّر، فضا و خلا اور ارض و سما پر کمندیں ڈالنے والا انسان اپنے آپ کو لگام دے سکتا ہے؟ مختصراً کیا انسان اپنے آپ کو اپنے آپ سے بچاسکتا ہے؟
قنوطیت زدہ (Pessimistic)اس کا جواب نفی میں دے گا اور وہ ایک ایسا حل تجویز کرے گا، جس سے انسان اپنی زندگی کے جوہر سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے گا، مگر رجائیت پسند (Optimistic) اس کا جواب مثبت دے گا کیونکہ زندگی اُمید سے ہی پھوٹتی ہے، اور اُمید سے ہی پیہم رواںدواں اور ہردم جواں رہتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں وہ توحید کا دامن تھام لے اور کسی ایسے بشرِکامل کے حلقۂ ارادت میں چلا جائے جو خالص ترین توحید کا حامل، عامل اور قیّم ہو! ایسا بشرِکامل اور ایسا ہادیٔ اکمل آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ و اُسوئہ حسنہ میں موجود ہے، جسے ہر صحیح الفکر اور مستقیم الذہن غیرمسلم حکیم و دانش ور نے بھی تسلیم کیا ہے۔ وہ ایک طرف بشریت کا عمدہ ترین نمونہ ہیں تو دوسری طرف خاتم الانبیاؐ اور امام الانبیاؐ بھی ہیں۔ وہ ایک جانب انسان کی جسمانی و مادی امکانیتوں کا ظہور ہیں، تو دوسری جانب اُس کی اخلاقی و روحانی رفعتوں اور عظمتوں کا پیکر بھی۔ اُن پر نازل شدہ قرآن تمام کتب الہامی و صحائف آسمانی پر محیط ہے اور وہ اُن تمام پر مہیمن ہے جیسے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کا۔
اُن کا منصب ’داعی الی اللہ‘ (الاحزاب ۳۳:۴۶؛ الاحقاف۴۶: ۳۱-۳۲) کا ہے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو واحد القہار ہے، احسن الخالقین اور احسن الرازقین ہے، جو خیرالحاکمین، خیرالغافرین، خیرالفاصلین، خیرالفاتحین، خیرالماکرین، خیرالناصرین اور خیرالرازقین ہے، جو خالق الحب والنویٰ اور خالق الاصباح ہے،اور جو ربّ العالمین اور احکم الحاکمین ہے، اور سرورِکائنات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اسی لطیف و خبیر ربّ العزت کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدائے قدوس کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور رسولؐ کا جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘۔ (الانفال ۸:۲۴)
قرآن حکیم ہر دور کے انسان کے لیے اس کی پوری زندگی کا لائحہ عمل ہے اور مذکورہ بالا آیۂ کریمہ اسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ قرآن حکیم کا طغرائے امتیاز یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کی جُزئیات پر بھی اُتنی ہی توجہ دیتا ہے، جتنا اُصولیات و اساسیات پر اور پھر اُس کی بلاغت تو اپنی نظیر آپ ہے۔ یہ ایک بہت وسیع مضمون کو اپنے مخصوص اور بے تکلف انداز میں اتنے اختصار سے بیان کردیتا ہے کہ اس کے ایک چھوٹے سے جملے پر سیکڑوں صفحات لکھے جاسکتے ہیں اور تاریخ عالم کا ایک خاص سلسلۂ واقعات اسی کی مناسبت سے اُس کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اور اسی طرح کے موتیوں جیسے خوب صورت چھوٹے چھوٹے جملے خودبخود انسان کے دل میں اُترتے چلے جاتے ہیں اور پھر جب یہ جملے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پُرتاثیر زبان سے ادا ہوں اور اُن کے اسوئہ حسنہ سے مترشح ہوں، تو اربوں انسانوں کا اُوڑھنا بچھونا بن سکتے ہیں۔ اُن کا روزمرہ کا معمول بن سکتے ہیں اور یہ دل سوختہ اخوت و مساوات کا گہوارا بن سکتا ہے۔ انسان اپنی جہالت و حماقت اور اپنی حرص و ہوس کی وجہ سے دُنیا کو دارالعذاب بناتا رہتا ہے۔ لیکن حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نہایت تحمل و بُردباری اور شفقت و محبت سے قرآن حکیم اور احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں اسے ہروقت دارالاسلام یعنی دارالامن بنانے میں لگے رہتے ہیں۔
حدیث پاک میں یہ صرف کہنے کی ہی بات نہیں، بلکہ یہ تو اظہار ہے فرمانِ الٰہی پر، اوّلاً آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نفسِ نفیس عمل کرنے کا اور ثانیاًاسے اپنے صحابہ و صحابیات کرام اور دیگر ملاقاتیوں میں پھیلانے اور نافذ کرنے کا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور تاریخ اسلام میں اس کی دو مثالیں ایسی ہیں، جو پوری تاریخِ عالم میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان دونوں مواقع پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرامؓ کے ہمراہ غالب قوت کے مالک تھے اور تمام آثار و قرائن اور اسباب و وسائل ان کے حق میں تھے، لیکن انھوں نے غالب ہونے کے باوجود ’صلح نامہ حدیبیہ‘ کو ایک مغلوب کی طرح قبول کرنے میں بھی ذرا سا تامل نہیں کیا، اور آپ کے اس مبارک عمل کو اللہ تعالیٰ نے ’فتح مبین‘ بنادیا۔ اور فتح مکہ تو گویا اُن کا شاہکار ہے اور پوری انسانی تاریخ اس مثال کے سامنے دست بستہ اور سربسجدہ ہے۔
یہیں پر بس نہیں، یہ تو خارجی دُنیا کے ساتھ تعلقات کا پہلو تھا، داخلی دُنیا میں کیا لیل و نہار تھے، کیا کیفیت و کمیت تھی؟ اہل مکہ کی ستم رانیوں اور سازشوں کی وجہ سے آں حضوؐر فرمانِ الٰہی کے مطابق مکہ سے ہجرت فرما کر یثرب (جسے اُن کی آمد پر ’مدینۃ النبیؐ ‘ کا نام دیا گیا) تشریف لاچکے تھے۔ جہاں ایک مکمل معاشرہ و مملکت اسلامی کو ظہورپذیر و جلوہ نما ہونا تھا۔ وہ چودہ روزِ قبا میں ٹھیرے تو انھوں نے مسجد قبا تعمیر فرمائی اور مدینہ میں تشریف آوری ہوئی تو یہاں بھی اوّلین عملی اقدام مسجد نبویؐ کی صورت میں رُونما ہوا۔ مسجد جو عبادت گاہ بھی تھی اور درس گاہ بھی، دارالمشاورت بھی اور جامع الناس بھی، اسمبلی بھی اور کمیونٹی ہال بھی۔ بعد کی مسجدیں تعداد میں تو بڑھتی گئیں اور کرئہ ارض کے ہرحصے میں پھیلتی گئیں لیکن افسوس کہ چند مساجد کے سوا وہ اپنے اس ہمہ گیر منصب سے ہٹ کر جوئے کم آب بن کر رہ گئیں۔ مسجد کی تعمیر کے بعد پہلا معاشرتی اقدام مواخات تھا جو جتنا اہم، بنیادی اور امکان پرور تھا، اُتنا ہی اُسے تاریخ، حکومتوں اور بعد کے اسلامی معاشروں نے نظرانداز کیا۔
ان دو موجود عناصر کے علاوہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی آمد کی وجہ سے مدینہ میں ایک تیسراعنصر بھی دَر آیا تھا اور وہ تھا مہاجر عنصر! سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اوّلین اور اہم ترین معاشرتی و سیاسی مسئلہ انھی تین عناصر سے معاملہ بندی کا تھا۔ اگر یہودی (اور عیسائی) اپنی الہامی کتب کی پیشن گوئیوں کی بنا پر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آتے تو اسلام اور دُنیا کی تاریخ بالکل مختلف ہوتی لیکن اُن کے مفاد پرست مذہبی پیشوائوں نے قریش مکہ کی طرح نہ ایسا کیا نہ ایسا ہونے دیا بلکہ اُلٹا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی اور اسلام کو اپنی مطلب براری کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، لہٰذا اُن سے معاملہ بندی (جو ’میثاق مدینہ‘ کی صورت میں رُونما ہوئی۔ بجائے خود اسلامی رواداری کی ایک روشن ترین مثال اور اقلیتوں کے تحفظ کے سلسلے میں تاریخ عالم میں پہلا منشور) سے پہلے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے دوعناصر پر توجہ دی۔
مواخات کا منفرد اقدام:اوس اور خزرج میں سے کافی حد تک لوگ مسلمان ہوچکے تھے اور بہت تیزی سے آغوشِ اسلام میں آرہے تھے۔ اُن میں نوواردوں کا جوش و جذبہ تھا، لیکن قدیم عادات و روایات بھی بہت راسخ تھیں، اس لیے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاقِ فاضلہ اور موعظۂ حسنہ سے اُنھیں اوس اور خزرج کے محدود درجے سے اُٹھا کر ایک بلند ترین درجے پر فائز کردیا، یعنی اُنھیں انصار بنادیا، مددگار، ممدومعاون اور دست گیر و دست ِ راست۔ مہاجر تھوڑے سے تھے یعنی صرف ۴۵،۴۶ مگر یہ وہ لوگ تھے، جو مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے اور کفروضلالت کی بادِ صرصر میں چٹان کی طرح کھڑے رہے تھے۔ اُن سے ماضی کا خول بالکل اُتر چکا تھا اور وہ سرتاپاکُندن بن چکے تھے، لیکن وہ ایک عجیب صورتِ حال کے مظہر تھے۔ اُن کے کاروبار، مال و منال اور اہل و عیال مکہ میں تھے اور ان میں سے بیش تر صرف تن کے کپڑوںمیں چھپ چھپا کر مدینہ پہنچ گئے تھے۔ پھر بھی وہ بے حد خوش تھے، مطمئن تھے۔ مدینۃ النبیؐ تو ان کی منزلِ مقصود تھی۔
آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس بن مالکؓ کے دولت کدہ پر تشریف فرما ہیں۔ انصار بھی ہیں اور مہاجر بھی۔ آپؐ انصار میں سے ایک کو بلاتے ہیں اور مہاجرین میں سے ایک کو اور فرماتے ہیں: ’’یہ تمھارا بھائی ہے‘‘ اور یوں پینتالیس چھیالیس مہاجرین کو پینتالیس چھیالیس انصار کے ساتھ رشتۂ مواخات میں پرو دیتے ہیں۔ اس طرح کہ عمر، مزاج اور سماجی مرتبے کا بھی لحاظ رکھتے ہیں تاکہ یہ سب تسبیحِ وحدت کے دانے بن جائیں اور یوں حضرت ابوبکرؓ حضرت خارجہ بن زیدؓ کے، حضرت عمرفاروقؓ حضرت عتبانؓ بن مالک کے، حضرت عثمان غنیؓ حضرت اوسؓ بن ثابت کے، حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف حضرت سعدؓ بن ربیع کے، حضرت ابوعبیدہ ابن الجراحؓ حضرت سعد بن معاذؓ کے، حضرت بلالؓ حضرت ابوردیحہؓ کے، حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہؓ حضرت عباد بن بشرؓ کے، حضرت مصعب بن عمیرؓ حضرت ابوایوب انصاریؓ کے، حضرت سلمان فارسیؓ حضرت ابودرداءؓ کے بھائی قرار پاتے ہیں۔ رسمی یا موروثی بھائی نہیں بلکہ دینی بھائی، اسلامی بھائی۔
آں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نامزد کردہ بھائیوں نے اپنے گھر کی سوئیوں سے لے کر اپنے سرسبز و شاداب باغات کے پیڑوں تک کے نصف کو دل و جان سے اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے وقف کردیا۔ اپنی جائیدادوں کا وارث بنادیا، حتیٰ کہ سعدؓ بن ربیعہ نے اپنے خداداد بھائی حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کے حضور میں اپنی دوبیویاں بھی پیش کردیں کہ وہ جسے پسند فرمائیں، اسے طلاق دے دی جائے تاکہ وہ ان کی منکوحہ بن سکے۔ یہ قابیل و ہابیل والا دُنیاوی بھائی چارہ نہ تھا، یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ نظامِ مواخات تھا اور اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ (الحجرات ۴۹:۱۰)کی جیتی جاگتی زندئہ جاوید عملی تصویر۔
اُمت واحدہ کا تصور تاریخ انسان کی منطق کے عین مطابق ہے، لیکن یہ ایک زندہ حقیقت اُسی وقت بنے گا جب یہ امن و اخوت پر استوار ہوگا۔ وہ امن جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ حدیبیہ اور فتح مکہ کی صورت میں قائم کیا، جو نصابِ انسانیت کا بابِ اوّل ہونا چاہیے اور جس پر عبور اور عمل درآمد جابر سے جابر حکمرانوں اور مملکتوں کے لیے بھی لازمی ہونا چاہیے خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیرمسلم، مغربی ہوں یا مشرقی:
سوئے من آ کہ ترا یارِ وفادار منم ہر چہ داری بمن آر کہ خریدار منم
گر تو شادی و دِلت عزم تماشا دارد برمن آی کہ باغ و گُل و گلزار منم
دگر از ریخ معاصی دل تو گشتہ ملول سوئے من آ کہ طبیبِ دلِ بیمار منم
بیدلی کم کن و از بیکسیٔ خویش منال کہ ترا در ہمہ جا دلبر و دلدار منم
_______________
کائنات کی ابتدا سے انسان خدا کی تلاش میں رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ اسے خدا نہ ملا ہو اور وہ غیرخدا کو خدا سمجھ کر اس کی پرستش کرتا رہا ہو۔ غیرخدا کون ہے؟ وہ جو پتھر تھا،درخت تھا یا غیرانسانی مخلوق جسے انسان نے خدا کاعلامتی رُوپ سمجھا اور خدا کا قائم مقام سمجھ کر اس کی پوجا اور پرستش کی۔اسے انسان کی نادانی، ناسمجھی یا مجبوری سمجھا جائے کہ انسان کے اندر خدا کی تلاش کا مادہ اس کے خلق کرنے کے ساتھ ہی رکھ دیا گیا تھا اور اسی جذبۂ تجسس نے انسان کو ہر دور اور ہر زمانے میں اس امرپہ مجبور کیا کہ وہ خدا کو تلاش کرے تاکہ وہ اس کی پوجا کرسکے۔ اس کے آگے اپنی ضروریات اور احتیاجات رکھ سکے اور ساتھ ہی اس کی خوشنودی کے لیے اس کے آگے نذرونیاز پیش کرسکے۔ اس رویے کو ہم انسان کی جہالت اور لاعلمی کہنا چاہیں تو کہہ دیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان ایسا کرنے پر کل بھی مجبور تھا اور آج بھی مجبور ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ خدا نے انسان کے اندر خدا کو ڈھونڈنے کا جذبۂ تجسس کیوں رکھا؟ کیا اس لیے کہ انسان خدا کو خود ڈھونڈے۔ اگر ایسا تھا تو پھر خدا نے اپنی وحدانیت اور کبریائی کے اعلان و اعتراف کے لیے ہزاروں انبیا ؑاور رُسلؑ کیوں بھیجے؟ ان پر آسمانی صحائف کیوں اُتارے ؟ اور سب سے بڑھ کر ان کی اُمتوں نے ان انبیا ؑاور رُسلؑ کو تسلیم کیوں نہ کیا اور کیوں ان کی تردید و تکذیب کی اور آخری نتیجے میں خدا نے ان اُمتوں کو کیوں ہلاک کردیا اور کیوں اُن پر طرح طرح کے عذاب بھیجے؟ کیا خدا اس پر قادر نہ تھا کہ ان اُمتوں کو ہدایت دے دیتا اور جب وہ اس پہ قادر تھا تو اس کی قدرت سے یہ کرشمہ کیوں رُونما نہ ہوا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا آسان نہیں۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ خدا ہی نے ان کو ہدایت سے محروم رکھا ۔ وہ چاہتا ہی نہ تھا کہ یہ اُمتیں سیدھی راہ پر چلیں اور خدا کے بھیجے ہوئے انبیاؑ کو مانیں اور ان کی اطاعت کریں۔ اگر ہم اس مفروضے کو مان لیں تو پھر ساری ذمہ داری خدا پر آجاتی ہے (نعوذ باللہ)۔ لیکن جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا مہربان ہے ، رحمٰن و رحیم ہے، معاف کر دینے والا اور بخشنے والا ہے۔ اسے انسان کو عذاب میں مبتلا کرنے میں کوئی خوشی نہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اس جبری مفروضے کو مان لینے سے اس کی شانِ ربوبیت میں فرق ضرور آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ دُنیا اور کائنات انسانوں اور اپنی مخلوقات ہی کے لیے تخلیق کی ہے اور اس لیے تخلیق کی ہے کہ انسان اس برگزیدہ ہستی کو پہچانے اور اس کی عبادت کرے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسان اپنے مادئہ تجسس کی وجہ سے خدا کا متلاشی ضرور رہتا ہے لیکن وہ اس خدا کو ماننے پر تیار نہیں ہوتا جس کی وحدانیت اور کبریائی کا اعلان خود خدا کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول کرتے آئے ہیں۔ انسان غیرخدا کو تو آسانی سے خدا مان لیتا ہے کیوںکہ اس صنم کو وہ اپنے ہاتھوں سے تراشتا ہے، لیکن وہ اس خدا کو نہیں مانتا جو نظروں سے اوجھل ہے، جو دکھائی نہیں دیتا۔ انسان فطری طور پر ظاہر پرست ہے۔ جو چیز اسے دکھائی دیتی ہے، جو آسانی سے اس کی رسائی میں ہوتی ہے، وہ اسے مان لیتا ہے، اس کے آگے نذرو نیاز اور چڑھاوے بھی چڑھا دیتا ہے، لیکن وہ خدا اس کی عقل میں نہیں سماتا جو اس کا اصل خالق و مالک ہے۔ بنیادی طور پر یہی انسان کی کم مائیگی بھی ہے اور بدنصیبی بھی۔
اسلام مذاہب اور ادیان میں وہ واحد مذہب اور دین ہے جس نے انسانوں کو ایک ایسے اللہ ربّ العالمین کا تصور دیا جو غیرمرئی ہے، جو موجود ہوکر بھی غیرموجود ہے۔ بے شک دوسرے مذاہب اور ادیان بھی خدا کا کچھ حوالوں سے ملتا جلتا تصور پیش کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کی گواہی اور مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اورادیان خالص نہیں رہے بلکہ ان کے صحیفوں میں الحاقی عناصر شامل کر کے انھیں کچھ سے کچھ بنا دیا گیا ہے۔ ان صحیفوں میں خدا کا جو تصور ملتا ہے، یہ وہ تصور نہیں ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا آسمانی صحیفہ ہرملاوٹ اور آمیزش سے پاک ہے اور ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے صحیفے کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کی اور ہرزمانے میں ان تمام کوششوں کو اپنے فضل و کرم سے ناکام بنا دیا جو اس میں آمیزش کے لیے کی گئیں۔ اس لحاظ سے اسلام اورمسلمان خوش نصیب ہیں۔ خداوند تعالیٰ نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ اسلام آخری دین اور اس کے رسولؐ آخری نبی ہیں جو خدا کی طرف سے دُنیا میں بھیجے گئے۔ اگر انبیا ؑ کے سلسلے کو ختم کرنا مقصود نہ ہوتا تو آخری صحیفے کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خدا نہ لیتا۔ اسی لیے اسلام خدا کا ایک مکمل ڈسپلن ہے جس کی روشنی میں انسان ایک کامیاب زندگی گزارنے کا اہل ٹھیرتا ہے۔
دُنیا کے ہر مذہب میں عبادات کا کوئی نہ کوئی طریقہ رائج ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا طریقۂ عبادت ہے جو تمام آسمانی مذاہب میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بات کی تصدیق آخری صحیفے قرآنِ پاک سے ہوتی ہے۔ نماز کی ابتدا وضو سے ہوتی ہے۔ وضو کا مقصد خود کو پاک صاف کر کے اس قابل بنانا ہے کہ خدا کے حضور حاضر ہوسکیں۔ نماز قیام اور رکوع و سجود پہ مشتمل ہے جس کے دوران نمازی آیاتِ ربانی کی تلاوت کرتا ہے اور رکوع و سجود میں خدا کی عظمت و بڑائی کا اعلان و اعتراف کرتا ہے۔ اور آخر میں سلام پھیر کر نمازی نماز سے نکل آتا ہے ۔ عبادت کا اختتام اس دُعا پہ ہوتا ہے جس میں نمازی خداوند تعالیٰ کے سامنے اپنی ضروریات اور احتیاجات رکھتا ہے اس اُمید کے ساتھ کہ خداوند تعالیٰ اس کی ضرور سنے گا اور اس کی دُعا کو قبول کرے گا۔
نماز پڑھنے والے اس حقیقت کی تصدیق کریں گے کہ ادائے نماز سے وہ اپنے اندر ایک پُرسکون روحانی کیفیت کو محسوس کرتے ہیں۔ ایک طرح کی پاکیزگی کا احساس ان کے وجود میں پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ روحانی پاکیزگی اور اپنے وجود کی تکمیل کا یہ احساس اُنھیں نمازوں کا پابنداور عادی بنادیتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ اس فانی جسم میں روح خدا کی پھونکی ہوئی ہے۔ نماز نہ پڑھ کر کاروبارِ دُنیا میں اُلجھے رہنا روح کو پیاسا اور تشنہ بنادیتا ہے۔ نماز اس روح کو مطمئن ،آسودہ اور شادکام کردیتی ہے۔ جب انسان کی روح خداوند تعالیٰ کی روحِ اعلیٰ کے سامنے پیش ہوتی ہے، تو ایک ہم آہنگی کی کیفیت سے ہی پاکیزگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ نمازیوں سے اس کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے کہ تمام نمازیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ وہ نماز جو حالت ِسپردگی میں ادا کی جاتی ہے، کیفیت کے اعتبار سے اس نماز سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے جو حالت ِ غفلت میں ادا کی جاتی ہے۔ وہ وضو اور وہ نماز جو عجلت، لاپرواہی اور بے سکونی سے ادا کی جائے کبھی اس نماز جیسی نہیں ہوسکتی جو تعلق باللہ کے احساس سے جڑی ہو۔
خدا کے حضور حاضر ہونے کے لیے خود کو تیار کرنا مگر اس کا شعوری احساس نہ کرنا کہ میں کس برگزیدہ ترین ہستی کے حضور کھڑا ہورہا ہوں، نماز کو روحانی اعتبار سے کمزوراور بڑی حد تک بے تاثیر بنادیتا ہے۔ اس لیے نمازی کو چاہیے کہ وضو جیسے تیسے عجلت میں نہ کرے بلکہ ایک ایک عضو پر پوری توجہ سے پانی بہائے، انھیں پاک صاف کرے بالکل اسی طرح جیسے دُنیا کی کسی مقتدر اور باحیثیت شخصیت سے ہم ملنے جائیں تو اس کے لیے ہم کتنا اہتمام کرتے ہیں۔ ویسے ہی خداوندتعالیٰ کی عظیم الشان اور برگزیدہ ہستی کے حضور کھڑے ہونے کے لیے ہمارا لباس پاکیزہ اور ہمارے وجود میں وضو سے پیدا ہونے والا تقدس ہونا چاہیے۔ یہ اسی وقت ہوگا جب ہم وضو، کیفیت ِ وضو کے ساتھ کریں۔ یہی معاملہ نماز کا ہے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہمارے اندر ایک سکون اور ٹھیرائو ہو۔ نماز کے ارکان کی ادائیگی میں عجلت اور جلدبازی جیسے ایک بوجھ ہے جسے سر سے اُتارنے کی فکر ہے۔ ایسی نمازیں کیا خدا کی بارگاہ میں مقبول ہوسکتی ہیں؟
اس پہلو پہ ضرور غور کرنا چاہیے۔ نماز حقیقتاً باطن کا غسل ہے۔ جس طرح نہانے دھونے سے بدن میں پاکی و صفائی کا ایک احساس پیدا ہوجاتا ہے جس سے طبیعت پُرسکون ہوجاتی ہے، اسی طرح نماز ہمارے باطن میں روحانی پاکیزگی کا احساس اور دل و دماغ کو پُرسکون کردیتی ہے۔
نمازی کو شعوری طور پر خود کو یقین دلانا چاہیے کہ وہ نماز پڑھ کر کسی طرح کا خدا یا خدا کے بندوں پر احسان نہیں کر رہا، بلکہ یہ نماز وہ اپنے بھلے اور اپنی ضرورت کے تحت پڑھ رہا ہے۔ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور نیکی کا کوئی کام کرکے وہ مختلف قسم کے گمانوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، مثلاً اس کے اندر تقویٰ کے دعوے اور احساس کا پیدا ہوجانا جو خدا کو سخت ناپسند ہے۔ خود نماز پڑھ کر بے نمازیوں کے لیے حقارت کا جذبہ رکھنا اپنی نماز کو بھی ضائع کر دینا ہے۔
نماز کے دوران توجہ اور یک سوئی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو تقریباً تمام ہی نمازیوں کو درپیش رہتا ہے۔ ذہن میں طرح طرح کے خیالات کا آنا، نماز سے توجہ کا ہٹ جانا اور یہ یاد نہ رہنا کہ میں نے پہلی رکعت پڑھی ہے یا دوسری، قومہ کیا یا نہیں، تمام رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا یا نماز ادھوری رہ گئی۔ یہ شکایت اپنے آپ سے تمام ہی نمازیوں کو رہتی ہے۔ جاننا چاہیے کہ ذہن گزرگاہِ خیال ہے۔ نمازی نماز کی طرف کتنی ہی توجہ مرکوز رکھنا چاہے، کوئی نہ کوئی خیال اس کی توجہ کو ضرور اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور وہ بروقت چوکنا نہ ہو توخیالات کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسا ہونا فطری سی بات ہے۔
اس کا ایک آسان سا حل تو یہ ہے کہ نمازی جب نماز میں داخل ہوجائے تو تلاوت کرتے ہوئے اپنی توجہ کو ان آیات ِ مبارکہ پہ مرکوز کردے جن کی وہ تلاوت کر رہا ہے۔ اس طرح خیالات کی یورش کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ نماز حالت ِ سکون میں پڑھے۔ عجلت یا جلدبازی بھی کیفیت ِ نماز کو متاثر کرتی ہے اور غلطیاں سرزد ہونے لگتی ہیں۔ انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے۔ سجدئہ سہو کی رعایت بھی اسی لیے رکھی گئی ہے کہ نمازی سے غلطی عین ممکن ہے۔
غالب نے کہا تھا ؎
ہے آدمی بجائے خود ایک محشرِ خیال ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
_______________
عہد ِ رسالتؐ اور خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں فقہ اسلامی (اجتہاد جس کا ایک اہم باب ہے) ہرقسم کے حالات میں زندگی کے تمام دائروں کے تمام معاملات سے متعلق قرآن و سنت کی تعلیمات یا دوسرے الفاظ میں اسلامی نظامِ حیات کے گہرے اور جامع فہم و ادراک کو سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسولؐ اللہ کی تعلیم و تربیت کے زیراثر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوںپر، ہرطرح کے حالات میں، وحی الٰہی کی روشنی میں غوروفکر کرنے کے عادی تھے۔خود رسولؐ اللہ بھی ان معاملات میں جہاں وحی الٰہی خاموش ہوتی، صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرماتے، ان کی آراء کو غور سے سنتے اور باہمی مشاورت سے مسائل کا حل فرماتے۔
عہدِ رسالت مآبؐ میں اُمت کے معاملات و مسائل کا حل تلاش کرنا زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔ اس لیے کہ آپؐ کو منصب ِ نبوت پرفائز ہونے کی بناپر مؤید بالوحی ہونے کی وجہ سے فیصلہ کن حیثیت حاصل تھی۔ لیکن رسولؐ اللہ نے اپنے اعلیٰ ترین منصب کے باوجود نہ صرف اپنے اصحاب کے ساتھ مشاورت کی بلکہ عموماً ان کی رائے کو قبول بھی فرمایا اور فیصلے ان کی رائے کے مطابق فرمائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد خلفائے راشدینؓ نے اس سنت پر پوری طرح عمل جاری رکھا۔اُمت کے معاملات میں انھوں نے اجتماعی یا مشاورتی اجتہاد کا اسلوب اپنایا۔ خلفائے راشدینؓ نے اجتہادی رائے قائم کرتے ہوئے شریعت کے بیان کردہ احکام کی حکمتوں اور اُمت مسلمہ کی مصلحتوں کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھا۔ انھوں نے اپنے دور میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کا حل ہمیشہ قرآن و سنت کے طے کردہ اصولوں ، مصالح اور ہدایات کی روشنی میں ہی تلاش کیا۔ خلفائے راشدینؓ کے فیصلوں کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ ان کے دل و دماغ میں شریعت کے مقاصد اور حکمتیں بھی واضح تھیں اور فیصلہ سازی میں اُمت مسلمہ کی مصلحتوں کو ملحوظ رکھنے کا تصور بھی واضح تھا۔
دورِ رسالت مآبؐ اور خلافت راشدہ کے عہد میں مقاصد شریعہ اور اجتہاد اور ان کے باہمی تعلق کا تصور بہت واضح تھا لیکن بعد میں ملوکیت کے زیراثر یہ تصور کمزور پڑنے لگا۔ بعد کے اَدوار میں جب مسلمان حکمرانوں میں ملوکیت کے رجحانات مزید بڑھے اور ان میں اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ اور اختیارات کو وسعت دینے کا شوق غالب ہوا، تو انھوں نے اسلامی تعلیمات و احکام کو مسجدو محراب تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف فقہ اسلامی کی مباحث محدودیت کا شکار ہوئیں بلکہ اجتہادی عمل بھی جمود کا شکار ہوگیا اور اُمت میں جمود اور تقلیدِ محض کا رجحان بڑھنے لگا۔
چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں بعض فقہاء نے اَزسرنو مقاصدِ شریعہ کی طرف توجہ دلائی۔ امام الحرمین الجوینی (م:۴۷۸ھ) اور ان کے شاگرد امام غزالیؒ (م:۵۰۵ھ) نے اپنی تحریروں میں مقاصدِ شریعت پر بحث کی۔ عزالدین السلمیؒ (م:۶۶۰ھ) اور امام ابن قیمؒ نے بہت ہی علمی انداز میں مقاصدالشریعہ اور مصالح عامہ کے تصور پر کام کیا۔ امام شاطبی ؒ (م:۷۹۰ھ) کا کام مقاصد الشریعہ کے موضوع پر بہت وقیع ہے۔ انھوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ اسے فقہ اسلامی کے ایک مستقل موضوع کی حیثیت سے متعارف کرایا۔
عصرحاضر میں اُمت کا درد رکھنے والے بعض اہل علم نے اُمت مسلمہ کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اصلاحِ احوال کی طرف توجہ دی ہے۔ انھوں نے اجتماعی اور مقاصدی اجتہاد پر علمی انداز میں کام کیا ہے۔ یہ علمی تحقیقی کام اسلام کی نشاتِ ثانیہ کی جدوجہد میں مصروف اسلامی تحریکات کی قیادت اور کارکنان کے لیے تحریکی جدوجہد کو ٹھوس اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے اور عصرحاضر کے چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے مطلوب فکری، علمی و عملی تربیت کی اساس ہے۔
مسلم اہل علم اور فقہا مقاصد الشریعہ پر مختلف زاویوں سے لکھ رہے ہیں، خاص طور پر المعہد العالمی للفکر الاسلامی (امریکا) اور فقہ اکیڈمی (دہلی) نے اس موضوع پر بہت وقیع کام کیا ہے۔
فقہا ئے اسلام نے مقاصد الشریعہ کو تین قسموں: ’ضروریات‘، ’حاجیات‘ اور’ تحسینیات‘ میں تقسیم کیا ہے اور ہرقسم پر عمدہ بحث کی ہے۔ ہم نے اس مقالہ میں مسلم اُمہ کی موجودہ ضروریات اوران کی مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ’ضروریات‘ کے تحت آنے والے مقاصد ِ خمسہ کی تشریح و وضاحت تک اپنی بحث کو محدود رکھا ہے،اور کوشش کی ہے کہ مقاصد و مصالح کی اس انداز سے تشریح کی جائے کہ ہماری مقننہ، قانون ساز ادارے اور ملکی نظم و نسق کے ذمہ دار اہل حل وعقد موجودہ حالات میں درپیش مسائل و تحدیات کے حل کے لیے رہنمائی حاصل کرسکیں۔
’ضروریات‘ میں انسان کی وہ بنیادی ضرورتیں شامل ہیں، جن کے بغیر زندگی کا تصور مشکل ہے۔ ان میں: دین کا تحفظ، جان کا تحفظ، مال کا تحفظ، عقل و ذہانت کا تحفظ اور نسل کا تحفظ شامل ہیں۔ بعض فقہاء نے عزّت و آبرو کے تحفظ کو بھی ’ضروریات‘ میں شامل کیا ہے۔
تحفظِ دین کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے دو حصے ہیں: پہلا حصہ ارکانِ اسلام پر مشتمل ہے۔ جس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام اہل ایمان کے لیے قرآن و سنت کے مطابق کیا جاتا ہے، جب کہ غیر مسلم شہری اپنے اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق اپنی عبادت گاہوں اور مذہبی تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں۔ البتہ جان و مال، عزت و آبرو، عقل و ذہانت اور نسل وغیرہ کے تحفظ کا حق ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حاصل ہے۔
تحفظِ دین کی ہم اس طرح بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق ارکانِ اسلام اور وحی وغیرہ سے ہے، اس کی تعلیم کا اہتمام مسلمانوں کے لیے ان کے عقیدے کے مطابق کیا جاتا ہے، اور غیر مسلم شہریوں کو آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کرنے اور اپنے مذہب کی تعلیم کا اہتمام کریں۔ البتہ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق علم و اخلاق سے ہے، وہ سب کے لیے مشترک ہے۔
ارکان اسلام سے ہٹ کر بھی علم کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہر فرد کو حصولِ علم کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ حکومت اور معاشرے کی ذمہ د اری ہے کہ وہ ہر شخص کو تعلیمی سہولتیں مہیا کرے۔ علم و فن کے تمام شعبوں میں تعلیم و تعلّم اور بحث و تحقیق کا سلسلہ آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ حفاظتِ دین کے لیے تمام علوم میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مہارت اور کمال حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس میں ملک کے تمام شہریوں کو شرکت کا موقع ملنا چاہیے۔ اسی طرح فضائلِ اخلاق کی تعلیم بھی تحفظِ دین کے لیے ضروری ہے۔ اس میں بھی مملکت کے تمام باشندوں کو شریک رکھنا ضروری ہے۔
دین کے تحفظ کے لیے دو قسم کے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اقدام ایجابی (Affirmative) کہلاتا ہے۔ ایجابی اقدام کے ذریعے ان تمام علوم و فنون کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا ضروری ہے، جو ملک کی تعمیر و ترقی اور شہریوں کی تہذیب و تربیت کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس فریضے کو انجام دینے کےلیے حالات اور زمانے کے مطابق تمام وسائل و ذرائع کو انتہائی ذہانت اور سمجھ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل کے زمانے میں تو بعض ممالک ذرائع ابلاغ کو جنگی مقاصد اور مملکتوں میں انتشار پھیلانے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اب جنگیں صرف میدانِ جنگ میں یا سرحدوں پر ہی نہیں لڑی جاتیں، بلکہ جنگ کی بہت سی نئی نئی صورتیں اختیار کرلی گئی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا استعمال مختلف علاقوں میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے بھی ہو رہا ہے۔ ان سب سے نمٹنے کے لیے نہ صرف دفاعی تیاریوں کی ضرورت ہے بلکہ اقدامی صلاحیت پیدا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جو ملک اقدامی صلاحیت سے محروم ہو وہ اپنے دفاع کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے۔ علم کے اس شعبے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مسلم ممالک مسلسل نقصان اُٹھا رہے ہیں۔
مسلم ممالک میں معاشرتی استحکام اور تہذیبی روایات کو مستحکم کرنے اور لوگوں کی فکر و اذہان میں اخلاقی حِس کو بیدار کرنے اور شعور کو اجاگر کرنے کے لیے اخلاقی تربیت کے نظام کو فروغ دینے کی انتہائی ضرورت ہے۔ اخلاقی تربیت دراصل بنیادی طور پر والدین کی ذمہ داری ہے۔ والدین اپنے بچوں کے لیے مثال اور نمونہ ہوتے ہیں۔ بچّے اپنے والدین کے عمل اور ان کی تعلیم و تربیت سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کے اثرات بہت دیر پا ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں خاندانی نظم کو مضبوط کرنے اور گھریلو نظم کو ایک مکتب اور تربیت گاہ بنانے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ گھر کے ساتھ اور گھر کے باہر تعلیمی اداروں کا کردار شروع ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں تعلیمی اداروں کو تربیت گاہوں میں تبدیل کرنا ہوگا، تاکہ ہمارے طلبہ مثبت فکر، تعمیری کردار اور بلند فکر و نظر کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بن سکیں۔
عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور لوگوں کے درمیان معاملات کو درست رکھنے کے لیے لوگوں کی فکری پختگی اور اخلاقی بالادستی بہت ضروری ہے۔ اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ علمی بحث و تحقیق کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ اس لیے علوم و فنون میں ارتقائی منازل طے کرنے اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد و منافع انسانوں تک پہنچانے کے لیے اجتہادی بصیرت سے کام لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ابلاغ کی نئی نئی صورتوں کو دریافت کرنا اور انھیں معروف، خیر اور نیکی کے قیام اور منکرات، شر اور بدی کی روک تھام کے لیے استعمال کرنا اور ابلاغ کے ذرائع پر مکمل دسترس حاصل کرنا بھی تحفظِ دین کے لیے ضروری ہے۔
تحفظِ دین کے لیے دوسرا اقدام سلبی (Preventive) ہے۔ سلبی اقدام کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے، جب معاشرے میں موجود شر کی قوتیں انسانی جانوں، مال، عزت و آبرو اور ملک کے نظم و نسق کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ معاشرے میں ارتکابِ جرائم اور فتنہ و فساد کی روک تھام کے لیے حالات و ضروریات کے مطابق سزاؤں کا مؤثر نظام ہر مہذب معاشرے کی اجتماعی و سماجی زندگی کی مسلسل تعمیروترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔
انسانی معاشرے میں، خواہ وہ معاشرہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، وہاں کچھ نہ کچھ شر کی قوتیں بھی موجود ہوتی ہیں، جو جرائم کا ارتکاب کرکے معاشرے کے ماحول کو خراب کرتی ہیں۔ جرائم میں مبتلا لوگوں کو سزا دینے اور ان کی اصلاح کا عمل ساتھ ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ معاشرتی جرائم اور شر کی قوتوں کے خلاف سزاؤں اور پابندیوں سے متعلق قانون سازی کا کام بہت حکمت اور مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اُمت کے ذمّہ اصل کام تو انسان کی اصلاح و تربیت ہے۔ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزاؤں کا مقصد بھی اصلاح کرنا ہی ہے، لہٰذا مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اجتہادی عمل کے ذریعے سزاؤں کا ایسا نظام ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جس میں جرم کرنے والوں کے حالات اور نفسیات وغیرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیم و تربیت کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرنا مؤثر ہوسکے۔ ہمارے خیال میں ملک میں رائج جیلوں کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہم جیلوں کو قید خانوں کے بجائے تعلیم و تربیت کی درس گاہوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے بہت مثبت اور مفید نتائج برآمد ہوں گے۔
وہ جرائم جن کی سزائیں قرآن و سنت میں مقرر کر دی گئی ہیں، وہ تو اسی طرح جاری کی جائیں گی، البتہ ان سزاؤں کو نافذ کرتے ہوئے ہمدردی اور یُسْر کے پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے علاوہ باقی تمام جرائم کی سزاؤں کے لیے قوانین، وقت و حالات اور ضرورت کے مطابق ہر دور میں فقہاء، عدلیہ اور قانون سازی کے ادارے اجتماعی طور پر طے کر سکتے ہیں۔
مسلمان فقہاء اور اہل علم نے ابتدائی چا رپانچ صدیوں میں بہت سے نئے نئے علوم سے دنیا کو متعارف کروایا، اور بحث و دریافت کی نئی نئی صورتیں سامنے لائے۔ یہ سب کچھ ان کی اجتہادی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ علم اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، جرح و تعدیل اور تصوف کے سلسلے، اجتہاد ہی کے مرہونِ منت ہیں۔
اجتہاد کے عمل میں فقہائے احناف کا یہ اصول بھی بہت اہم ہے کہ ’’فقیہ آنے والے زمانے پر نظر رکھے اور مستقبل میں پیش آنے والے مسائل اور چیلنجوں کا پہلے سے اندازہ کرکے حل تجویز کردیا جائے‘‘۔ اس اصول کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کا حل بھی پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ البتہ اجتہادی امور میں اس بات کی گنجائش ہوتی ہے کہ کسی واقعے کی حقیقت کو دیکھتے ہوئے رائے میں مناسب ترمیم کر لی جائے۔
تحفظِ دین کے سلسلے میں جو بھی مشکلات اور مسائل پیش آئیں، ان سے نمٹنے کے لیے غیرذمہ دارانہ رد عمل کا مظاہرہ کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ مشکلات جو بھی ہوں، مسائل جتنے بھی شدید ہوں، ان سے نمٹنے اور ان سے نکلنے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ ان سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کے لیے مسائل کو تحمل اور بصیرت و حکمت کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اہل علم جب اجتہادی عمل میں مصروف ہوتے ہیں تو انھیں مسائل کے حل کی بہت سی صورتیں مل جاتی ہیں۔
مقاصد شریعہ اصولی طور پر تحفظِ دین کی طرف توجہ دلاتے ہیں، لیکن تحفظِ دین کی صورتوں کا احاطہ کرکے انھیں محدود نہیں کرتے۔ تحفظِ دین کی صورتوں کی دریافت ہر دور اور زمانے کے فقہاء کی ذمہ داری ہے۔ تحفظِ دین کی دو صورتیں بہت اہم ہیں:
وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۰ۚ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۰ۚ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۰ۭ (الانفال۸: ۶۰) ان کے مقابلے کے لیے تم اپنی استطاعت کے مطابق جس قدر قوت اور جنگی تیاری کرسکتے ہو، ضرور کرو۔ اپنے گھوڑے تیار رکھو، اس قدر تیاری کرو کہ تمھارے دشمنوں اور اللہ سے دشمنی کرنے والوں پر تمھاری ہیبت طاری ہوجائے [ان دشمنوں پر بھی جنھیں تم جانتے ہو]، اور ان پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے، ہاں اللہ تعالیٰ انھیں خوب جانتے ہیں۔
جہاد کی تیاری ہر زمانے میں وقت اور بین الاقوامی صورت حال کے تناظر میں کی جاتی ہے۔ سورۂ انفال کی مذکورہ آیت مبارکہ میں جنگ کی زیادہ سے زیادہ تیاری کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس قوت و طاقت کو بلا ضرورت استعمال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ تیاری کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ دشمن پر ہیبت طاری رہے اور وہ مسلم مملکت پر حملہ آور ہونے سے اجتناب کرے۔ لیکن جب جنگ ناگزیر ہوجائے تو پھر پورے عزم و ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے میدانِ جنگ میں اُتر یں اور کامیابی کے لیے دشمن کا استقامت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
کسی ملک کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا فیصلہ دُور رس نتائج کا حامل ہوتا ہے، لہٰذا جنگ شروع کرنے سے پہلے نہ صرف اپنی تیاریوں کا جائزہ لینا ضروری ہے بلکہ دشمن کی جنگی صلاحیت اور اس کی تیاریوں پر بھی کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اور بین الاقوامی حالات، اہم ممالک کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں اور ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے جنگ کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا جاسکتا۔
فقہاء اجتہاد کی تعریف بَذْلُ غَایَةِ الْجُهْدِ سے کرتے ہیں یعنی حتمی رائے قائم کرنے میں اپنی ساری فکری صلاحیتوں کو صرف کر دینا اجتہاد ہے۔ یہی عمل آج کے دور میں جنگ کا آغاز کرنے سے پہلے دہرانا ضروی ہے۔ جنگ کا فیصلہ فردِواحد نہیں کرسکتا بلکہ اجتماعی طور پر باقاعدہ شورائی انداز میں فیصلہ کرنے کے لیے اُمورِ حرب میں مہارت اور تجربہ رکھنے والوں کے علاوہ ایسے اہلِ علم فقہاء کی شرکت بھی ضروری ہے، جو قرآن و سنت پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ بین الاقوامی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہوں، بین الاقوامی سیاست کو بھی سمجھتے ہوں۔ جہاد کا باقاعدہ اعلان حکومتِ وقت ہی ماہرین کی مشاورت سے کرے گی۔ کسی فرد، گروہ یا جماعت کو جہاد (جنگ) کا اعلان کرنے کا کوئی حق نہیں۔
موجودہ زمانے میں مختلف ممالک کے درمیان جنگوں نے مختلف صورت حال اختیار کر لی ہے۔ اب جنگیں میدانِ حرب میں اسلحہ و بارود کے ذریعے کم اور سیاست و معیشت، تجارت، سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں زیادہ لڑی جا رہی ہیں۔ بہت سے ممالک کے خفیہ ادارے اپنے حریف ممالک میں دہشت گردی، تخریب کاری یا غلط معلومات فراہم کرکے اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان پر نظر رکھنا اور ان کی چالوں سے ملک و قوم کی حفاظت کرنا دفاعی تیاریوں کا لازمی حصہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دفاعی یا اقدامی امور سے متعلق تمام معاملات کو انتہائی پوشیدہ رکھتے تھے۔ سیرت طیبہ کا یہ پہلو آج کے دور میں امت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ آج کل خفیہ ادارے نہ صرف حریف ممالک بلکہ دوست ممالک کے بھی راز چُرانے اور ان کے خلاف خفیہ سازشیں کرکے نقصان پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹکنالوجی اور آلات کو استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا مسلم امہ کو ان کی سازشوں سے بچنے کےلیے جدید ترین ٹکنالوجی اور سائنس پر عبور حاصل کرنے اور اپنے بچاؤ کے لیے حفاظتی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
مقاصدِ شریعہ میں جان یا انسانی زندگی کی حفاظت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ جان کی حفاظت کا اہتمام اس وقت سے شروع ہوجاتا ہے جب بچّہ رحمِ مادر میں نطفہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ ماں اور اس کے حمل کی دیکھ بھال اور ضرورت کے مطابق مناسب غذا اور طبی دیکھ بھال کا اہتمام کرنا اس لیے ضروری ہے کہ صحت مند بچہ دنیا میں آئے اور اس کی پرورش کی ذمہ دار ماں بھی صحت مند زندگی گزارے۔ پھر ولادت اور ولادت سے لے کر بلوغ کی عمر تک والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو وہ تمام ضروریات مہیا کریں جو اس کی صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
قرآن حکیم نے ایک انسانی جان کے قتل کو پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے:
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ۰ۚۛؔ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۰ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۰ۭ (المائدہ۵: ۳۲) اس لیے ہم نے بنی اسرائیل پر لازم کر دیا کہ جو شخص کسی ایسے شخص کو قتل کر دے جو نہ کسی کے قتل میں ملوث تھا، نہ زمین ہی میں فساد برپا کر رہا تھا، تو وہ ایسا ہے گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کیا۔ اور جو شخص کسی ایک جان کو بچائے وہ ایسا ہے گویاکہ اس نے تمام انسانوں کی زندگی بچائی۔
قرآن حکیم کی متعدد آیات انسانی جان کو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کو حرام قرار دیتی ہیں۔(بنی اسرائیل ۱۷:۳۱، ۳۳، النساء ۴:۹۳)
فقہاء عام طور پر اس مقصد کے ثبوت کے لیے وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں قانونِ قصاص یا دیت کو بیان کیا گیا ہے (البقرہ۲:۱۷۸، المائدہ ۵:۴۵)۔ حقیقت یہ ہے کہ تحفظِ نفس کا مقصد انسانیت کا تحفظ ہے۔ اس اصول کا احترامِ انسانیت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ بہت سے فقہاء نے انسانی غیرت و وقار کے تحفظ کو ایک مستقل مقصد کے تحت بیان کیا ہے۔ اس لیے کہ شریعت نے اس شخص کے خلاف جو کسی پاک باز انسان کی عزت و آبرو کو پامال کرنے کی کوشش کرے، اسّی کوڑوں کی سزا مقرر کی ہے۔(دیکھیے: النور ۲۴: ۴،۶،۲۳)
قرآن حکیم نے اولادِ آدم کو نہ صرف قابلِ احترام قرار دیا ہے بلکہ دیگر مخلوقات پر اس کی برتری کو بھی بیان کیا ہے (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰)۔ لہٰذا انسان کی عزت و احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔ احترامِ انسانیت ہی کا تقاضا ہے کہ نہ صرف یہ کہ انسانی حیات کو تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ اس کی عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کرنا بھی واجب ہے۔ جس طرح کوئی مجرم کسی انسان کو قتل کرے یا اس کے کسی عضو کو نقصان پہنچائے، تو یہ قابلِ سزا (قصاص و دیت) جرم ہے، اسی طرح انسان کی عزت و آبرو پر حملہ بھی جرم ہے۔
انسانی جان اور عزّت و آبرو کے تحفظ کے لیے تمام تدابیر اختیار کرنے اور اس کے لیے مؤثر قانون سازی کرنے کی ذمہ داری معاشرہ اور حکومت ِوقت پر عائد ہوتی ہے۔ جب کبھی انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہونے لگیں تو خطرات سے بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے جو بھی امکانات پائے جاتے ہوں انھیں اختیار کرنا اور معاشرہ کو تحفظ فراہم کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ بعض معاصر فقہاء تحفظِ عزّت کے لیے حفظ کرامۃ البشریہ یعنی انسانی عزت و آبرو کی حفاظت کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں۔ (جاسم عودہ، فقہ المقاصد ، المعہد العالمی للفکر الاسلامی، ہارڈن، امریکا، ۲۰۰۶ء، ص۲۳)
حیاتِ انسانی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر دور اور ہر زمانے میں ضرورت اور حالات کے مطابق قانون سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن قانون اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب معاشرے میں نظامِ قضا و عدل مضبوط ہو اور لوگوں کا اخلاقی شعور بیدار ہو۔
حیاتِ انسانی کے تحفظ کا ایک اہم شعبہ صحت اور علاج و معالجہ کا شعبہ ہے۔ علمِ طب میں اُمتِ مسلمہ بہت پیچھے رہ گئی ہے، حالانکہ یہ شعبہ خدمتِ خلق اور تحفظِ حیاتِ انسانی کے لیے بہت بنیادی ہے۔ مقاصد شریعہ میں جان کے تحفظ کے جس حق کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض قتل کی سزا میں قصاص یا اعضائے انسانی کو نقصان پہنچانے کی صورت میں دیت تک محدود نہیں۔ انسانی حیات کو تحفظ دینے کے لیے ایسی بیماریوں کا علاج و معالجہ بھی ضروری ہے، جو حیاتِ انسانی کے لیے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ بہت سی بیماریاں آج بھی ایسی ہیں جن کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہوا۔ ایسی مہلک بیماریاں جن کا شکار ہو کر لوگ یا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر معذور ہو کر بےبسی کی زندگی بسر کرتے ہیں، ان کا علاج دریافت کرنا شرعاً واجب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:
مَا اَنْزَلَ اللهُ دَاءً اِلَّا اَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً (سنن ابن ماجہ، ۴۳۴۱) ، اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے، اس کے شفا کی صورت بھی پیدا کی ہے۔
قدرت نے ہر بیماری کا علاج بھی پیدا کیا ہے۔ انسان بحث و تحقیق اور تلاش و جستجو کے ذریعے اس کا علاج دریافت کر سکتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:
لِکُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَاِذَا اُصِیْبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَـرَأ بِـاِذْنِ اللهِ تَعَالٰى (مسلم، الجامع الصحیح، کتاب الطب، باب لکل داء، حدیث: ۵۷۴۱)،ہر مرض کا علاج موجود ہے۔ جب صحیح دوا مرض تک پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاء ہوجاتی ہے۔
جس طرح مقاصد کی تکمیل ضروری ہے، اسی طرح حصولِ مقاصد کے لیے اسباب کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ اسباب کو اختیار کیے بغیر نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ وہ امراض جو لا علاج تصور کیے جاتے ہیں، ان کا علاج دریافت کرنے کے لیے بحث و تحقیق کا انتظام کرنا بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ علم طب کے مسلم ماہرین پر پوری تندہی کے ساتھ اس اسلامی ذمہ داری کو ادا کرنا فرض ہے۔
دُنیا بھر میں تیز رفتار ذرائع نقل و حمل کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ان کی وجہ سے بھی انسانی زندگی کے لیے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بسا اوقات ٹریفک قوانین سے مجرمانہ غفلت بھی انسانی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے قابلِ عمل ٹریفک قوانین بنانا اور ان پر عمل کو یقینی بنانا بھی ایک اسلامی فریضہ ہے۔ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی اسلامی نقطۂ نظر سے تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں ٹریفک کے قوانین کو قوانین شریعت کے طور پر نافذ کرنا چاہیے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب لوگ ان قوانین پر عمل دین کا تقاضا سمجھ کر کریں گے تو حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔
سائنس کی ترقی نے انسانوں کے لیے بہت سی سہولتیں مہیا کی ہیں، نفع مند ایجادات سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن سائنس نے تعمیر و ترقی کے علاوہ تخریب و تباہی کا بھی بہت کچھ سامان مہیا کیا ہے۔ ایٹم بم، تباہ کن میزائل، زہریلی گیسیں وغیرہ کی ایجاد نے انسانی زندگی کو تباہی کے خطرات سے دوچار کیا ہے۔ اب تو بعض آلاتِ ابلاغ کو بھی معصوم لوگوں کی تباہی کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔ بعض ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مختلف ممالک میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے مہلک ہتھیار اور آلات دہشت گردوں کو مہیا کر رہی ہیں۔ بعض ممالک کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ خفیہ طور پر لیبارٹریز میں مہلک قسم کے جراثیم تیار کرتے ہیں تاکہ ان ممالک کے لوگوں میں جراثیم پھیلائے جائیں جو ان کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ ایسے جرائم ہیں، جنھیں کوئی ایک ملک اپنے طو رپر ختم نہیں کر سکتا۔ اقوام عالم کی یہ ذمہ داری ہے کہ مل جل کر ایسے ضابطے اور قوانین بنائیں جو سائنس اور ٹکنالوجی کے غلط استعمال کو روک سکیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) پر آج کل بہت کام ہو رہا ہے۔ اس سے بہت سے مفید کام لیے جاسکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے ہم علمِ طب، انجینئرنگ اور بعض فنی علوم میں فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، اور اپنی صنعت و حرفت کو بھی اس کی مدد سے ترقی دے سکتے ہیں۔ لیکن جہاں اس کے کچھ فوائد ہیں وہاں نقصانات کا بھی اندیشہ ہے۔ مصنوعی ذہانت تعمیر کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور تخریب و تباہی کے لیے بھی۔ چند ممکنہ نقصانات کی طرف مختصراً ذکر کرنا ضروری ہے:
۱- سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ انسان میں غور و فکر اور اپنی ذہانت کو استعمال کرنے کی صلاحیت ماند پڑ جائے گی۔ ہمارا دین ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنی عقل و ذہانت اور استدلال و استنباط کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں، اور اپنے علم وفکر سے انسانیت کی رشد و ہدایت کی طرف رہنمائی کریں۔
۲- غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈا تیزی سے پھیلا کر تخریب کاری کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
۳- فرقہ پرستی اور تعصبات کو ابھارنے کے لیے اس کا استعمال ہوسکتا ہے۔
۴- لوگوں کے راز تیزی سے افشاں ہوں گے۔ چادر اور چاردیواری کا تقدس ختم ہوجائے گا۔
۵- مصنوعی ذہانت کی مہارت اور ٹکنالوجی چند سرمایہ دار کمپنیوں کے قبضہ میں ہوگی۔ وہ کمپنیاں بعض سرمایہ دار ممالک کو بلیک میل کرکے اپنے ساتھ ملائیں گی، پھر اس ٹکنالوجی کو کمزور اور چھوٹے ممالک کا استحصال کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔
یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کا منفی استعمال نہ صرف انسانی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ انسانی زندگی اور اس کی عقلی صلاحیتوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لہٰذا، وہ اہلِ علم جو مصنوعی ذہانت سے متعلق فن میں مہارت حاصل کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئی منفی ذہنیت رکھنے والا یا تخریب کار اس فن کا غلط فائدہ نہ اٹھاسکے۔ اُمت کے اہل علم کی اسلامی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی تباہی یا فساد پھیلانے کے لیے اسے استعمال کرنا چاہے تو ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہونی چاہیے، تاکہ کسی بھی ممکنہ جرم کی بروقت روک تھام کی جاسکے۔
تحفظِ مال
مال کی طلب ایک فطری خواہش ہے۔ ہر انسان اپنی ضروریات پورا کرنے اور اپنی زندگی کو سہل اور پُرسکون بنانے کے لیے مال کا محتاج ہوتا ہے۔ اسلام نے حصولِ مال کے لیے عمل، کسب اور محنت پر زور دیا ہے۔ کسب ِمال کے طریقوں میں جائز و ناجائز کا امتیاز پیدا کیا ہے۔ جو مال حلال و جائز طریقے سے کمایا جائے، قرآن حکیم اسے خیر اور فضل کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔ (البقرہ ۲:۲۷۲، العٰدیٰت ۱۰۰:۸، المائدہ ۵:۳، الجمعہ ۶۲:۱۰)
مقاصدِ شریعہ میں تحفظِ مال سے صرف یہی مراد نہیں جو مال حلال و جائز طریقہ سے حاصل کیا جائے، اس کی حفاظت کا اہتمام کیا جائے یا کسی شخص کو کسی کا مال غیر قانونی طریقے سے حاصل کرنے کا اختیار نہ ہو۔ یقینی بات ہے کہ ایک ذمہ دارمملکت اور معاشرہ اس کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ’تحفظ مال‘ کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس سے مراد نظم معیشت میں تحفظِ مال کے لیے منصوبہ بندی، ملکی وسائل و معدنیات کی حفاظت اور ان کا بہتر استعمال بھی اس میں شامل ہے۔ ملک میں موجود تمام اموال و ذخائر امانت ہیں۔ انھیں پوری دیانت داری کے ساتھ استعمال کرنا اور ان کی حفاظت کرنا معاشرہ اور مملکت دونوں کی ذمہ داری ہے۔
فرد کی انفرادی زندگی ہو یا قوموں کی اجتماعی زندگی، دونوں کا دارومدار مال پر ہے۔ ہرانسان کو خوراک، لباس اور دیگر ضروریات زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے شرعاً یہ ضروری ہے کہ اموال اور وسائلِ اموال کی گردش کسی مخصوص طبقہ تک محدود نہ رہے، بلکہ معاشرہ کے تمام افراد تک اس کی عادلانہ رسائی ہوتی رہے۔ اسی لیے شریعت نے انفاق پر بہت زور دیا ہے۔
شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے سرمایہ کاری (Investment) بھی ’انفاق‘ کی ایک صورت ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص کاروباری عمل شروع کرتا ہے، یا کوئی کمپنی قائم کرتا ہے تو اس کے اس عمل کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔اس طرح معاشی عمل کے ساتھ خیر اور فلاح و بہبود کے اعمال بھی شروع ہوجاتے ہیں۔
’انفاق‘ کے مفہوم میں خیر کا پہلو غالب رہتا ہے۔ خیر کے کاموں میں وہ لوگ بہتر طریقہ سے حصہ لے سکتے ہیں جن کے پاس وسعت اور سرمایہ ہو۔ انفاق کا عمل سرمایہ کاری کی صورت میں جس قدر بڑھے گا فلاح و بہبود کے کام بھی اسی لحاظ سے بہتر طور پر انجام پائیں گے۔
شریعت میں صدقہ (نیکی کا عمل) کی اصطلاح بھی وسیع مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔ حلال کمائی کی نیت سے ملک و معاشرہ کی بھلائی کے لیے جو کام کیا جائے، وہ صدقہ کے مفہوم میں آتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تاجر کے بارے میں جو صداقت و امانت داری کے ساتھ کاروبار کرتا ہے فرمایا کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے ہاتھ کی دو انگلیاں۔ پھر آپؐ نے اپنے ہاتھ سے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملاکر اشارہ فرمایا۔ تاجر کو یہ بلند مقام اس وجہ سے ملاکہ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ ملک و معاشرہ کی معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
امام ترمذیؒ نے یہ روایت نقل کی ہے: التَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَاء ’’سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے روز انبیا، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا‘‘ (جامع الترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی التجار، حدیث: ۱۲۰۹)۔ شرط یہ ہے کہ نیت صحیح ہو، سرمایہ کاری کا عمل دین کے دائرے میں رہتے ہوئے، حلال وحرام اور جائز و ناجائز میں امتیاز رکھتے ہوئے کیا جائے۔ ایسا عمل (سرمایہ کاری) ہماری رائے میں انفاق اور صدقہ کے مفہوم میں شامل ہے۔ واللہ اَعلم !
تحفظِ عقل کا مقصد انسان کی ذہنی اور فکری صلاحیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں یہ بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے انسان کو بہترین ذہن اور عمدہ دماغ عطا فرمایا ہے۔ انسان اپنے فہم و فراست کی وجہ سے نہ صرف اپنے حال کے معاملات کو سمجھنے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے منصوبہ بندی بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے شریعت انسان کی فطری صلاحیتوں کے تحفظ اور ان کی نشو و نما کی طرف توجہ دینے کو لازمی قرار دیتی ہے۔
عقل و دانش کی حفاظت اور نشو و نما کے لیے دین اسلام مختلف پہلوؤں سے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ فقہاء انھیں ایجابی و سلبی یا وجودی و عدمی پہلوؤں سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایجابی پہلوؤں میں تعلیم و تربیت کا وہ اسلوب مطلوب ہے جو انسان میں اجتہادی بصیرت، غور و فکر اور مشاہدہ کی صلاحیت کو بہتر بنائے۔ عقلِ انسانی کو تمام تر ڈیٹا حواس کے ذریعے ملتا ہے، اس لیے حواس کی کارکردگی اور صلاحیتوں کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر انسانی حواس میں ارتقاء کی صلاحیت رکھی ہے۔ انسان اپنی سمع و بصر کی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ وہ اپنے حواس کو جس قدر توجہ کے ساتھ مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے، حواس اسی لحاظ سے بہتر کام کرنے لگتے ہیں۔ انسانی حواس کی صلاحیت جس قدر مضبوط ہوگی، عقلی استدلال اور نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت بھی اسی لحاظ سے بہتر ہوگی۔
تحفظِ عقل کا دوسرا پہلو سلبی یا عدمی کہلاتا ہے۔ اس کی رُو سے وہ تمام اشیاء ممنوع قرار دی گئی ہیں، جو انسان کی فکری اور دماغی صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہوں۔ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ انسان کی ذہنی اور دماغی صلاحیتوں کو معطل کیا جائے یا انھیں نقصان پہنچایا جائے۔ اسی لیے تمام منشیات اور وہ اشیاء جو انسان کے ادراک کی قوت کو نقصان پہنچاتی ہوں، حرام قرار دی گئی ہیں، بلکہ نشہ آور اور دماغی صحت کے لیے مضر اشیاء کی تیاری اور کاروبار وغیرہ بھی ممنوع ہیں۔ ممنوعہ اشیاء کی تیاری کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی ضروری قرار دی گئی ہے۔ شراب نوشی کی سزا تو قرآن حکیم میں بیان کی گئی ہے، دیگر منشیات کو فقہاء شراب پر قیاس کرتے ہوئے ان کی وہی سزا تجویز کرتے ہیں جو شراب نوشی کی سزا ہے۔ موجودہ دور میں منشیات کی بہت سی نئی نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ مقاصد شریعہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسی تمام اشیاء کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے۔ محض قانون سازی کافی نہیں ہوتی بلکہ قانون کے نفاذ کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
پُرسکون زندگی گزارنے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے انسان اجتماعی زندگی کا محتاج ہے۔ خاندان، معاشرہ کی اجتماعی زندگی کی ایک بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر معاشرہ کی بنیادی اکائی مستحکم ہے تو معاشرہ بھی مستحکم ہوگا، اور اگر خاندان کی اکائی میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو سارے معاشرے میں اس کے بُرے اثرات سرایت کر جائیں گے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے خاندان کی اصلاح و تربیت اور استحکام کے لیے بہت وضاحت اور تفصیل کے ساتھ ہدایات دی ہیں۔
نسل کی حفاظت کے لیے بھی فقہ اسلامی میں دو قسم کی ہدایات ملتی ہیں: ایجابی اور سلبی۔ ایجابی اسلوب میں خاندان کی تشکیل کے لیے بہت حکیمانہ انداز میں ہدایات ملتی ہیں، مثلاً نکاح اور نکاح کے مقاصد، شوہرو بیوی کے باہمی تعلقات اور ایک دوسرے کے فرائض و ذمہ داریاں، تربیت اولاد، نفقہ، کفالت وغیرہ کے احکام۔ اگر بعض معقول وجوہ کی بنا پر باہم مل جل کر رہنا مشکل ہوجائے تو خوش اسلوبی کے ساتھ ازدواجی تعلق کو ختم کرنے کے احکام بھی وضاحت کے ساتھ ملتے ہیں۔
تحفظ نسل کا دوسرا پہلو ’سلبی‘ کہلاتا ہے۔ اس کی رُو سے اللہ کا دین ان تمام افعال کو جرم قرار دیتا ہے، جو خاندان کی عزّت و آبرو کو نقصان پہنچاتے ہوں یا وہ افعال جو حفاظتِ نسل کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اور اس کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف سخت سزا مقرر کی ہے، اس لیےکہ زنا کا ارتکاب نہ صرف خاندان کی عصمت اور اس کے شرف کو داغ دار کرتا ہے بلکہ نسب کو بھی مشکوک بناتا ہے۔ حدِ زنا پر فقہاء نے تفصیل سے بحث کی ہے اور اس سے متعلق احکام کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
بےحیائی اور فحاشی کے بارے میں قرآن مجید نے اچھوتا اسلوب اختیار کیا ہے۔ ان آیات میں زورِ بیان کے ساتھ ہر قسم کی بےحیائی اور بدکاری کے محرکات کا دروازہ بند کیا گیا ہے۔ نفسِ انسانی کو بھڑکانے، ہیجان اور شہوت پیدا کرنے والی تمام چیزیں، خواہ زبان و بیان کی صورت میں ہوں یا تحریری شکل میں ہوں، تصاویر ہوں یا ڈرامائی تمثیل کی صورت میں ہوں، فحاشی کی طرف جانے والا ہر راستہ بند کرنا ضروری ہے۔
فحاشی کے سدباب اور منکرات کی روک تھام کے لیے اسلام کی تعلیمات میں شرم و حیا کا تصور نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ فضائلِ اخلاق میں اسے روح کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے کہ شرم و حیا برائی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اَلْـحَیَاءُ مِنَ الْاِیْمَانِ ’’حیا ایمان کا جزو ہے‘‘۔ (بخاری، الجامع الصحیح، کتاب الایمان، باب الحیاء من الایمان، حدیث: ۱۲۴)
امام مسلم نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اَلْـحَیَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْاِیْمَانِ ،’’حیا ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی صحیحین میں موجود ہیں: اَلْـحَیَاءُ خَیْرٌ کُلُّهٗ، ’’حیا سراسر خیر ہے‘‘۔
محدثین حیا کو ایمان کی ایک اہم خصلت تسلیم کرتے ہیں۔ یہ وہ اہم خصلت ہے جو اعمالِ خیر کے لیے دلوں میں شوق اور رغبت پیدا کرتی ہے اور منکرات و فواحش کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اسلام کا مقصد نسب کی حفاظت کے ذریعے خاندان کو تحفظ فراہم کرنا اور نسل انسانی کو فحاشی کی تباہ کاریوں سے بچانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے نکاح کا جائز اور پاکیزہ طریقہ مقرر کرکے ناجائز طریقوں کے تمام راستے بند کر دیے۔ اولاد کے حصول میں جائز طریقوں کا استعمال ہی خاندان کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے۔
’ضروریات‘ کے تحت بیان کردہ تحفظات افراد معاشرہ کے وہ بنیادی حقوق ہیں جو ہرفرد کو بلاتفریق ملنے چاہئیں۔ دوسری طرف یہ برسرِ اقتدار طبقہ کے بنیادی فرائض ہیں جن کی ادائیگی کے لیے وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے بلکہ معاشرہ کے باشعور لوگوں کے سامنے بھی جواب دہ ہے۔
_______________
یہ ۲۰۲۲ء کا سال تھا، جب ایک ترمیمی قانون کے ذریعے مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۳۲۵حذف کرکے خودکشی کی کوشش پر سزا ختم کردی گئی تھی۔ لیکن اب ۲۰۲۶ء میں اس ترمیمی قانون کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے اسلامی احکام سے متصادم قرار دے دیا ہے۔ یہ ترمیمی قانون پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کرتے ہوئے سینیٹ میں کہا تھا: ’’خودکشی کی کوشش کرنے والے شخص کو کچھ نفسیاتی مسائل لاحق ہوتے ہیں اور اس وجہ سے وہ علاج اور ہمدردی کا مستحق ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا‘‘۔
جس وقت یہ مسودہ پیش کیا گیا تھا، ہم نے خبردار کیا تھا: ’’یہ ایک ایسی ڈھلان (slippery slope) ہے، جس پر چلتے ہوئے پھسلنا لازمی ہے۔ خودکشی کی کوشش کو جرائم کی فہرست سے خارج کرنے کے بعد خودکشی میں اعانت اور ترغیب کو بھی جرم نہیں کہا جائے گا اور یوں ’طبی مدد سے خودکشی‘ (Medically Assisted Suicide) کے لیے راہ کھل جائے گی، جس کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبات آسانی سے ابھارے جا سکتے ہیں (مریض زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا ہے، اس کی اذیت ختم نہیں ہو رہی)۔ اس کے بعد ’ہمدردانہ قتل‘ (Euthanasia) کی طرف لڑھکنے میں بھلا کتنی دیر لگے گی؟ یوں، اس راہ پر چلتے ہوئے پہلے مرضی کے بغیر ’ہمدردانہ قتل‘ کو جائز قرار دیا جائے گا۔ پھر تھوڑا مزید پھسل جائیں گے، تو ’مرضی کے خلاف‘ (یعنی چاہے مریض نہ چاہتا ہو) ہمدردانہ قتل تک بات پہنچ جائے گی کہ جس کا مقصود اسے اذیت سے بچانا کہا جائے گا۔ پھرجو علاج جاری ہے بس اس کو روک دینے سے مریض کے خود بخود مر جانے کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ (Negative Euthanasia)اور یہ کہا جائے گا کہ جب علاج روک کر اسے مرنے دیا جا سکتا ہے، تو ایک انجکشن لگا کر اذیت کا خاتمہ کرنے یا اسے موت سے قریب کیوں نہیں لایا جا سکتا (Positive Euthanasia) ؟ اس کے بعد ’میری زندگی، میری مرضی‘ کا اصول اور ’خود کشی کا حق‘ بس ایک قدم کے فاصلے پر ہوگا۔‘‘
ہماری یونی ورسٹیوں میں سماجی علوم، بالخصوص نفسیات اور اخلاقیات میں ایک قدم آگے بڑھ کر ذہن سازی کرتے ہوئے خودکشی پر آج جس طرح کی بحث ہورہی ہے، اس کی جڑیں ڈھائی سو سال قبل خودکشی پر ڈیوڈ ہیوم کے مضمون میں ملتی ہیں، جس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ’’خود کشی کرنے والا کوئی برا کام نہیں کرتا کیونکہ نہ وہ خدا کے خلاف کچھ برا کرتا ہے، نہ معاشرے کے خلاف، نہ خود اپنے خلاف‘‘۔ اس نے کہا تھا: ’’خدا کو کسی کی موت سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اسی طرح اگر یہ فرد معاشرے کو کچھ دے نہیں سکتا تو جیسے معذور یا بیمار کو یا ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد فرد کو ریٹائرمنٹ لینے یا مستعفی ہوجانے کا حق ہوتا ہے، تو یہی حق زندگی سے دست بردار ہونے کے لیے کیوں نہ حاصل ہو؟ اور اگر زندگی جینے کے لائق ہو تو کوئی شخص کبھی خود کشی نہیں کرے گا۔‘‘یہی بات فلموں، ڈراموں اور افسانوں میں اتنی بار دہرائی گئی ہے کہ اب لوگ اس کے مضمرات پر غور ہی نہیں کرتے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ’ما بعد جدیدیت دنیا‘ میں زندگی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کے کوئی مقاصد عالیہ باقی نہیں رہے۔ اخلاقی اقدار کو محض ماضی کا روایتی ڈھکوسلا سمجھا جانے لگا ہے۔ زندگی کے آغاز، کائنات میں انسان کے مقام، موت کے بعد زندگی، خدا کے سامنے جواب دہی اور اس طرح کے دیگر سوالات پر غور کو بے مقصد اور فضول قرار دیا جا رہا ہے، تو پھر خود کشی پر کسی مذہبی یا اخلاقی قدغن کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر اس بارے میں کیا ہے اور ایک ایسے مسلم ملک میں قانون کا اصول کیا ہوگا جس کا دستور یہ کہتا ہے کہ یہاں اللہ کے حکم کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی؟
اللہ کی شریعت میں خود کشی حرام ہے، اس لیے ہم کبھی خود کشی کو حق نہیں مان سکتے۔ ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ اس حرام کام کے ارتکاب کی کوشش کو معاشرہ کیسے روکے اور حکومت کی اس ضمن میں کیا ذمہ داری ہے؟ امام ابو بکر محمد سرخسی [م:۱۰۹۰ء]نے اسلامی قانون کا ایک اہم اصول ذکر کیا ہے، جسے قانون سازی اور پالیسی سازی میں ایک رہنما اصول کے طور پر مقننہ (پارلیمنٹ) اور حکومت کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے، کہ ’الأُمُورُ بِعَوَاقِبِهَا‘، یعنی افعال کا جواز ان کے نتائج پر منحصر ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی بھی فعل پر سزا ختم کرنے سے قبل قانون سازوں کو لازماً یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے کیا نتائج سامنے آئیں گے اور کیا وہ نتائج قابلِ قبول ہوں گے؟
’’خود کشی کرنے والا ذہنی مسائل کا شکار ہوتا ہے‘‘، لیکن یہ دلیل کسی بھی دوسرے جرم کے لیے پیش کی جا سکتی ہے۔ اگر خودکشی کی کوشش کرنے والا اس ہمدردی کا مستحق ہے تو زنا کا ارتکاب کرنے والا ’ہمدردی‘ کا مستحق کیوں نہ قرار دیا جائے؟ ایسے فرد کے لیے سزا کے بجائے علاج اور نفرت کے بجائے ’پیار کی ضرورت‘ کا کیوں نہ جھنڈا بلند ہو؟ کئی لوگ ایک قدم آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ خود کشی کا رجحان دراصل موروثی بیماریوں کی طرح جینز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، لیکن ایسے جینز تو دیگر جرائم کے لیے بھی ہو سکتے ہیں۔ ’جینیاتی جبر‘ (Genetic Determinism) کے نام سے مجرموں کا دفاع موجودہ زمانے میں کوئی انوکھی چیز نہیں رہی ہے۔ تو پھر کیا جرم و سزا کے سارے نظام ہی کو لپیٹ دیا جائے؟ زیادہ سے زیادہ یہ فرق کیا جانے لگے گا کہ کیا مجرم نے کسی اور انسان کو نقصان پہنچایا ہے؟ لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے خود کو نقصان پہنچانا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا۔
البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ کسی کو جرم کی سزا صرف اسی وقت دی جا سکتی ہے، جب اس نے جرم کا ارتکاب بقائمیِ ہوش و حواس اپنی رضامندی سے کیا ہو۔ اس لیے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خود کشی کی کوشش کرنے والا ایسی ذہنی حالت میں تھا کہ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو گئی تھی اور وہ وقتی طور پر جنون کے زیر اثر آگیا تھا، تو یہ عذر اسے سزا سے بچا سکتا ہے، لیکن اس مقصد کے لیے تو فوجداری قانون میں پہلے ہی سے ’عمومی اعذار‘ کا باب موجود ہے۔ تاہم، اس عذر کا بارِثبوت اسی پر ہوگا، جو اسے اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔
افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ ’سزا نہیں، علاج‘ کی بات کرنے والوں نے سزا تو ختم کردی تھی، لیکن علاج کے اہتمام و انتظام کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی!
_______________
اسلام چونکہ زندگی کا مکمل ضابطہ ہے، اس لیے حیاتِ انسانی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے بارے میں اس نےفکری و عملی رہنمائی نہ کی ہو۔ زندگی کا انفرادی پہلو ہو یااجتماعی، سیاسی ہو یا معاشرتی، اخلاقی ہو یا معاشی، اسلام کی اصولی رہنمائی ہرجگہ موجود ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو وہ ہے جس میں وہ اپنی بقائے ذات اور اتصال جسم و روح کے لیے ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کی کوشش کرتاہے۔ حیاتِ انسانی کی ہماہمی کا ایک بڑا حصہ اس کی انھی کوششوں کے باعث ہے، جو وسائل رزق کے حصول کے لیے وہ سرانجام دیتا ہے۔ اس سلسلے میں انسان کی ابتدائی کوشش شکار، پھلوں کا حصول اور پھر گلہ بانی اور کھیتی باڑی کا تجربہ تھا، جیساکہ آدم علیہ السلام کے دوبیٹوں قابیل اور ہابیل کے قصہ سے واضح ہے۔ ان سرگرمیوں میں بتدریج ترقی ہوئی۔ جیسے جیسے کاروانِ زندگی آگے بڑھا، انسان نے مختلف چیزوں کا باہم تبادلہ کرنا سیکھا اور یہیں سے تجارت کے طریقے وجود میں آئے۔ اور پھر زر کے تعین نے تجارت کو ایک مستقل پیشے کی حیثیت دے دی۔ انسانی معاشرت کے ابتدائی مراحل میں بھی ہمیں تجارت کا سادا سا تصور ملتا ہے۔
انسانی قافلۂ حیات نے بتدریج ترقی کے جن مراحل کو طے کیا، ان میں رزق حاصل کرنے کے ذرائع بھی شامل ہیں۔ تہذیب و تمدن کے عروج و زوال کی داستانوں میں زراعت، پیشہ ورانہ مہارت اور تجارت کو خاص مقام حاصل رہا ہے، بالخصوص تجارت تو وہ واحد ذریعہ تھی جو مختلف اقوام کو باہم روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کا مقالہ نگار کہتا ہے کہ رومی سلطنت کے عروج کے وقت، تجارت بین الاقوامی دائرہ میں داخل ہوچکی تھی (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا، ج۴،ص ۸۰۲)۔ ایران اور ہندوستان کے تجارتی قافلے اور منڈیاں خاصی شہرت رکھتی تھیں۔ اقتصادی نظام کی ترقی اور اس کی برتری کا راز کم و بیش تجارت میں مضمر ہے۔ جو قوم جس قدر اس سے دلچسپی لیتی ہے، اسی قدر وہ اجتماعی لحاظ سے ترقی یافتہ ہوتی ہے اور جو قوم تجارت سے دلچسپی نہیں رکھتی، وہ اقتصادی نظام میں ہمیشہ دوسروں کی دست نگر رہتی ہے۔ اور اس راہ سے دوسری اقوام اس کے تمدن، تہذیب، معیشت و سیاست بلکہ مذہب پر بھی قابض ہوجاتی ہیں۔ جس قوم کے ہاں تجارت نہیں، وہ آج نہیں تو کل ضرور غلام بن کر رہے گی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تجارت کسی قوم کے اقتصادی نظام کی جان ہوتی ہے۔ اسی سے اس کی مادی حیثیت مستحکم ہوتی ہے اور اسی استحکام سے کسی ملک کی معاشرتی، سیاسی اور تہذیبی پختگی کا پتہ چلتا ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام جس شہر میں پیدا ہوئے وہ تجارت کا مرکز تھا اور آپؐ کے خاندان قریش کا ذریعۂ معاش ’تجارت‘ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعثت سے پہلے تجارت کو ہی معاش کا ذریعہ بنایا۔ آپؐ کے تجارتی سفر تاریخ سے ثابت ہیں اور حضرت خدیجہؓ نے آپؐ کی تاجرانہ مہارت و صداقت ہی کی بنیاد پر آپؐ کو اپنا مال بغرضِ تجارت دے کر بھیجا تھا۔ قرآن و سنت نے مسلمانوں کو بار بار تجارت کی ترغیب دی اور اس کے فضائل و برکات بیان کیے:
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللہِ (الجمعہ ۶۲:۱۰) جب نماز مکمل ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کے فضل (یعنی رزق) کو تلاش کرو۔
لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۰ۣ (النساء ۴:۲۹) اپنے اموال کو آپس میں باطل کی راہ سے نہ کھائو بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو۔
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ (البقرہ ۲:۲۶۷) اے ایمان والو! تم خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں۔
احادیث ِ نبویؐ میں آیا ہے:
عَنْ اَبِی سَعِیْد قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: التَّاجرُ الصَّدوقُ الامینُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِیْقِیْنَ وَالشُّھْدَاءِ(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب البیوع، ص ۲۴۳، مطبوعہ کانپور) ابوسعیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچا اور امین تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔
عَنْ عبید بن رفاعۃ عن ابیہ عَن النَّبِی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: التُجَّارُ یُحْشَرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فُـجَارًا اِلَّا من اتَّقٰی وَبَــرَّ وَصَدَقَ (رواہ الترمذی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن تاجر، فاسق و فاجر اُٹھیں گے اِلا یہ کہ انھوں نے تقویٰ، بھلائی اور سچائی سے کاروبار کیا ہو۔
عَنِ المِقْدَامِ بنِ مَعْدِیکَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: مَا اَکَلَ اَحَدٌ قَــطُّ خَیْرًا مِن عَمَلِ یَدَیْہِ وَ اِنَّ نَبِیَّ اللہِ دَاؤْدَ کَانَ یَاکُلْ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ (رواہ البخاری ) حضرت مقدام بن معدیکربؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے کبھی اس کھانے سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو ہاتھ کی محنت سے حاصل ہو اور اللہ کے نبی داؤدؑ ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔
عَن عَبدُاللہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال کمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنا بھی اللہ کے مقرر کردہ فریضہ [رزقِ حلال] کے بعد فرض کا ہی درجہ رکھتا ہے۔
انسانوں نے اپنی غلط روی سے جس طرح زندگی کے دوسرے اُمور میں خرابیاں پیدا کردی تھیں، اسی طرح تجارت میں بھی غلط کاریوں کی آمیزش ہوگئی تھی۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس طرح بداخلاقی، بے حیائی اور کفروشرک کا انسداد کیا۔ اسی طرح تجارت میں بھی غلط طریقوں کو ختم کیا اور صداقت و امانت کے مقدس اصولوں کوروشناس کرایا۔
قرآن و سنت میں اسلوبِ تجارت کے سلسلے میں دوطرح کے اصول و قواعد ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ تجارت کو کن صحیح اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ وہ کون سے مفاسد ہیں، جن سے تجارت کو پاک صاف رکھنا لازمی ہے۔ قرآن و سنت کے ان مثبت و منفی اصولوں کو اپنانے سے تجارت ایک مقدس پیشہ اور مبارک طرزِعمل بن جاتی ہے۔
(۱) تجارت کا وجود چونکہ فریقین کے باہمی تعاون پر قائم ہے ، اس لیے جانبین کا درست تعاون بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور اس معاملے میں لوٹ کھسوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن پاک میں ہے: وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۰۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۰۠ (المائدہ ۵:۲) ’’بھلائی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و ظلم پر ہرگز کسی کے ساتھ تعاون نہ کرو‘‘۔
(۲) تجارت میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جانبین کی حقیقی رضامندی ضروری ہے۔ خریدنے والے اور فروخت کرنے والے کا معاملے پر راضی ہونا نہایت ضروری ہے، لہٰذا اضطراری و جبری رضامندی معتبر نہیں ہوسکتی۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ۰ۣ (النساء۴:۲۹)اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ پر نہ کھائو اِلا یہ کہ [مال کا اکتساب] تجارت کی راہ سے باہمی رضامندی کے ساتھ ہو۔
عَنْ عَلِی رَضِی اللہ عنہ قَالَ: نَھٰی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنْ بَیَعِ الْمُضْطَرِّ وَعَن بَیْعِ الغَرَرِ وَعَن بَیْعِ الثَّمْر قَبْلَ اَنْ تُدْرِکَ (ابوداؤد، کتاب البیوع باب فی بیع المضطر، ص ۳۴۸، مکتبہ التجاریہ، مصر) حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مضطر، بیع غرر اور پھلوں کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔
(۳) تجارت کا تیسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدوفروخت کرنے والے دونوں فریق معاملہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ قانونی اعتبار سے اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ ان پر عمل کی ذمہ داری ڈالی جاسکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم رُفَعِ القَلَمُ عَن ثَلٰـــثَۃٍ ، عَنِ المَجْنُونِ حَتّٰی یَبْرَءِ وَعَن النَائِم حَتّٰی یَستَیْقِظَ وَعَن الصَّبْیِ حَتّٰی یَعْقِلَ (ابوداؤد، ج۴، کتاب الحدود، ص ۱۹۷، مطبوعہ مصر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخصوں پر تکلیف [احکامِ]شرعی عائد نہیں ہے: مجنون پر حتیٰ کہ وہ ٹھیک ہوجائے۔ سونے والے پر تاآنکہ وہ بیدار ہوجائے، اور نابالغ بچّے پر جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے۔
(۴) چوتھا اہم اصول یہ ہے کہ معاملے میں کسی قسم کا دھوکا، خیانت، ضرر و نقصان اور معصیت کا دخل نہ ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اَفْضَلُ الکَسَبِ بِیْعٌ مَبْرُوْزَ وَعَـمِلُ الرَّجْلِ بِیَدِہٖ (احمد و طبرانی بحوالہ الفقہ علی مذاہب الاربعہ، ج۲،ص ۱۵۲، مطبوعہ مصر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین کسب بیع مبرور [جائز تجارت] اور دست کاری سے معاش پیدا کرنا ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: مَبْرُوْزِ لَا ضَرَر وَلَا ضِرَارَ(رواہ مالک فی المؤطاء ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ نقصان اُٹھانا اور نہ نقصان پہنچانا۔
فقہا نے کہا ہے کہ بیع مبرور وہ بیع (خریدوفروخت) ہے جس میں جانبین ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بھلائی کا طریقہ اختیار کریں اور اس میں دھوکا، خیانت اور خدا کی معصیت نہ ہو۔ تاجر کے اخلاق میں سب سے اچھا خلق ایفائے عہد اور صداقت ہے۔ اس سے تجارت کو فروغ نصیب ہوتا اور معاشرے کی مالی حالت مستحکم ہوتی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی اس اخلاقی کمال کا بہترین نمونہ تھے۔ اسی طرح صداقت اور صاف گوئی کا بہترین نمونہ بھی آپؐ کی سیرت میں موجود تھا۔ قرآن و سنت نے تجارت کے سلسلے میں مثبت اصول بیان کرنے کے بعد یہ بھی بتایا کہ وہ کون سے طریقے ہیں، جو تجارت کو غیراسلامی اور غیر انسانی بنا دیتے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں ایسی تجارت کو بیع فاسد کا نام دیا گیا ہے۔ جھوٹ، ناپ تول کی کمی بیشی، دھوکا اور فریب، سود، بددیانتی، ذخیرہ اندوزی و نفع خوری وغیرہ، حضورؐ کے ارشادات سے ان [فاسد] اُمور پر کچھ روشنی پڑتی ہے، مثلاً:
عَن اَبِی قَتَادَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اِیَّاکُمْ وَکَثْرَۃَ الحَلفِ فِی الْبَیعِ فَاِنَّہُ یُنَفِّقُ ثُمَّ یَمْحَقُ (رواہ مسلم) ابوقتادہؓ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھیں خریدوفروخت میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا پہلے مال کو نکالتا ہے اور پھر روک دیتا ہے۔
عَن اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَقُوْلُ: الْـحَلفُ مُنْفِقَۃٌ لِلْسِلْعَۃِ مُمْحِقَۃٌ لِلْبَرَکَۃِ (صحیح البخاری، کتاب البیوع) ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قسم مال کو چلانے والی مگر برکت کو زائل کرنے والی ہے۔
عَن اَبِی ذَّرٍ عَنِ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: ثَلٰثَۃَ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظرُ اِلَیْھِمْ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ قَالَ اَبُوذْرِّ قُلْتُ:قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوْا مَن ھُمْ یَارَسُولَ اللہَ ؟ قَالَ: السبِلٌ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفقُّ سَلعتَہٗ بِالْحلفِ الْکَاذِبْ (رواہ مسلم) ابوذرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن خداوند تعالیٰ بات نہ کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ابوذرؓ نے پوچھا: یارسولؐ اللہ ! وہ بدبخت اور نیکی سے محروم کون سے اشخاص ہیں؟ فرمایا: تہبند کو لٹکا کر چلنے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے والا۔
جائر و حلال تجارت کا ایک اہم پہلو پیمانوں کا صحیح رکھنا بھی ہے۔ قرآن پاک نے اسے عدل قرار دیا ہے اور اس میں کمی کرنے کو جرم۔ قرآن پاک نے قومِ شعیب ؑ کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ناپ تول میں کمی بیشی کرتی تھی۔ ناپ تول میں کمی بیشی کرنا حقیقت میں دوسرے کے حق کو غصب کرنا ہے۔ جو کوئی لینے میں تول کو بڑھاتا ہے اور دینے میں گھٹاتا ہے، وہ دوسرے کی چیز پر بے ایمانی سے قبضہ کرتا ہے، اور یہ بھی چوری ہی کی قسم بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اس سے بچنے کی تلقین آئی ہے۔ حضرت شعیبؑ اپنی قوم کو سمجھاتے ہیں:
اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ۱۸۱ۚ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ۱۸۲ۚ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۱۸۳ۚ (الشعراء ۲۶:۱۸۱-۱۸۳) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو۔
سورئہ بنی اسرائیل میں جو اخلاقی نصیحتیں فرمائی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے:
وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۳۵ (بنی اسرائیل ۱۷:۳۵) اور جب کوئی چیز ماپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کر و اور (جب تول کردو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہترین عمل اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔
_______________
یہ ایک سادہ بات ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے بارے میں ہمارے جو بھی خیالات ہوں، ہمیں کم از کم ’جنسی تشدد‘ (Rape)کی مذمت کرنے پر متحد ہو جانا چاہیے۔
اس ضمن میں تکلیف دہ انٹرویو ہیں جن میں فلسطینیوں نے مجھے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں، آبادکاروں، شن بیت (اندرونی سلامتی ایجنسی) کے تفتیش کاروں اور سب سے زیادہ اسرائیلی جیل کے محافظوں کی طرف سے[فلسطینی] مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ بھی بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کا ایک چلن (Pattren) موجود ہے۔
اس بات کا تو کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسرائیلی رہنما اس عصمت دری کا حکم دیتے ہیں، لیکن پچھلے کچھ برسوں میں انھوں نے ایک ایسا سیکیورٹی نظام بنایا ہے، جس میں جنسی تشدد عام ہو چکا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طرزِعمل اسرائیل میں ایک ’معمول کی کارروائی‘ (standard operating procedure) بن چکا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی کا ایک بڑا حصہ بھی ہے۔
گذشتہ اپریل کے دوران جنیوا میں قائم ’یورو-میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ’منظم جنسی تشدد‘ کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے جو ’منظم ریاستی پالیسی‘ کا حصہ ہے۔
یہ ہےکہ ’معمول کی کارروائی‘ کیا شکل اختیار کرتی ہے؟
۴۶ سالہ فری لانس صحافی سامی ال سائی کہتے ہیں: جب۲۰۲۴ء میں مجھے گرفتار کرکے جیل کے سیل میں لے جایا جا رہا تھا، تو محافظوں کے ایک گروپ نے مجھے زمین پر پٹخ دیا۔ وہ سب مجھے مار رہے تھے۔ ایک نے میرے سر اور گردن پر پاؤں رکھ دیا، دوسرے نے میری پتلون اتار دی اور انھوں نے میرا انڈرویئر بھی اتار دیا‘‘۔ پھر ایک محافظ نے وہ ربڑ کا ڈنڈا نکالا جو قیدیوں کو مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ اسے میرے مقعد میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے رہے۔ میں نے خود کو بچانے کی پوری کوشش کی، لیکن بے بسی میں ناکام ہو گیا۔میرے لیے یہ لمحہ بہت درد ناک تھا، جب کہ اسرائیلی سپاہی ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ پھر ایک سپاہی نے کسی کو کہا، ’’گاجر مجھے دو‘‘۔ انھوں نے گاجر کا استعمال کیا۔ اس ناقابلِ برداشت لمحے میں، مَیں موت کی دعا کر رہا تھا‘‘۔
سامی ال سائی نے بتایا: ’’میری کی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ اس کارروائی کے دوران میں نے کسی کو کہتے سنا، ’تصاویر مت لینا‘۔ شاید وہاں کسی نے کیمرہ نکال لیا تھا۔ پھر ایک محافظ عورت نے شرمگاہ کو پکڑ کر اتنا زور سے دبایا کہ میں تکلیف سے چیخ اٹھا‘‘۔جب مجھے سیل میں پھینک دیا گیا تو میں نے اندازہ لگایا کہ جہاں میرے ساتھ ریپ ہوا ہے، وہ جگہ پہلے بھی ان مظالم کے لیے استعمال ہو چکی ہے۔ کیونکہ وہاں پر دوسروں کی قے، خون اور ٹوٹے ہوئے دانت نظر آ رہے تھے‘‘۔
ال سائی نے بتایا کہ ’’مجھ سے اسرائیلی انٹیلی جنس کا مخبر بننے کو کہا گیا تھا۔ میری گرفتاری اور انتظامی حراست کا مقصد دباؤ ڈال کر یہ کام قبول کرانا تھا، مگر میں نے اپنے صحافتی پیشے کی لاج رکھتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کر دیا‘‘۔
میں نے جنگ، نسل کشی اور جنسی تشدد سمیت ایسے مظالم کی رپورٹنگ کی ہے۔ چند سال پہلے ایتھوپیا کے تیگرے تنازعے میں شاید ایک لاکھ عورتوں کی عصمت دری ہوئی۔ اب سوڈان میں بھی مخالفین کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ امریکی ٹیکس کے پیسے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کو رعایت دیتے ہیں کہ وہ جنسی تشدد کریں، جس میں امریکا بھی شریک ہے۔
مجھے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹنگ میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب عیسیٰ عمرو (ایک ایسے پُرامن کارکن، جنھیں بعض اوقات فلسطینی گاندھی کہا جاتا ہے) نے مجھے بتایا: ’’اسرائیلی فوجیوں نے میرے ساتھ بھی جنسی تشدد کیا تھا۔ یہ جرم اور ظلم یہاں عام ہے، لیکن شرم کی وجہ سے کم ہی رپورٹ ہوتا ہے‘‘۔
ایک اندازے کے مطابق اسرائیل نے ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے کے بعد صرف مغربی کنارے میں ۲۰ہزار لوگوں کو گرفتار کیا۔ ۹ہزار سے زیادہ فلسطینی اب بھی حراست میں ہیں۔ ان میں سے اکثریت پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا، بلکہ مبہم سیکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ۲۰۲۳ء سے اب تک زیادہ تر کو ریڈ کراس اور وکیلوں کی ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔
یورو-میڈ رپورٹ کے مطابق: ’’اسرائیلی فوجی، فلسطینی خواتین قیدیوں کو ذلیل کرنے کے لیے منظم طریقے سے ریپ اور جنسی تشدد کرتے ہیں‘‘۔ رپورٹ نے ایک۴۲ سالہ عورت کا حوالہ دیا ہے جس نے بتایا کہ اسے بے لباس کر کے دھاتی میز پر جکڑ دیا گیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے دو دن تک اس کے ساتھ زبردستی جنسی فعل کیا، جب کہ دوسرے فوجی اس کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ بعد میں اسے اپنی ریپ والی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا گیا کہ ’’اگر تم اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون نہیں کرو گی تو یہ تصاویر شائع کر دی جائیں گی‘‘۔
فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کا درست پیمانہ جاننا ناممکن ہے۔ اس مضمون کے لیے میری رپورٹنگ۱۴ مردوں اور عورتوں سے بات چیت پر مبنی ہے، جنھوں نے بتایا کہ ہمارے ساتھ اسرائیلی آباد کاروں یا سیکیورٹی فورسز نے جنسی زیادتی کی۔ میں نے ان کے اہل خانہ، تفتیش کاروں، حکام اور دوسروں سے بھی بات کی۔ ان متاثرین کی تلاش کے لیے وکیلوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، امدادی کارکنوں اور عام فلسطینیوں تک رسائی حاصل کی۔
بہت سے کیسوں میں متاثرین کی آپ بیتیوں کی جزوی تصدیق ممکن ہوئی، گواہوں سے بات کر کے یا زیادہ تر ان لوگوں سے جن کے ساتھ متاثرین نے اپنی بات شیئر کی تھی (جیسے فیملی ممبران، وکیل اور سوشل ورکرز) کچھ کیسز میں تصدیق ممکن نہ ہو سکی، کیونکہ شرم کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والی بہیمانہ زیادتی کا ذکر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
عالمی تنظیم Save the Children نے گذشتہ سال ۱۲ سے ۱۷ سال کے ان بچوں کا سروے کیا جو اسرائیلی حراست میں رہے تھے۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ بچوں نے جنسی تشدد دیکھنے یا خود اس کا شکار ہونے کی بات بتائی۔’سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ شرم کی وجہ سے کچھ بچے اپنے ساتھ ہوئے واقعے کا اعتراف کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
ایک معتبر امریکی تنظیم Committee to Protect Journalists نے۵۹ فلسطینی صحافیوں کا سروے کیا، جنھیں۷؍ اکتوبر کے بعد اسرائیلی حکام نے رہا کیا تھا۔ ۳فی صد نے کہا: ’’ہمارے ساتھ ریپ ہوا، اور ۲۹ فی صد نے کہا کہ ہمیں جنسی تشدد کی دوسری شکلیں برداشت کرنا پڑیں‘‘۔
اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا، جس میں اسرائیل کے خلاف جنسی زیادتی کی تحقیقات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
جن فلسطینیوں سے میں نے انٹرویو کیے انھوں نے ریپ کے علاوہ دیگر قسم کے تشدد کی بھی تفصیلات بیان کیں۔ بہت سے لوگوں نے بتایا کہ اکثر ان کے جنسی اعضاء کو کھینچا جاتا ہے یا فوطوں پر ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ ہاتھ سے پکڑنے والے دھاتی ڈٹیکٹرز کو مردوں کی ننگی ٹانگوں کے درمیان پھیرا جاتا ہے اور پھر ان کی شرم گاہوں پر زور سے مارا جاتا ہے۔ ’یورو-میڈ مانیٹر‘ کے مطابق کچھ مردوں کو اتنی مار پڑی کہ ڈاکٹروں کو ان کے فوطے کاٹنے پڑے۔
ان زیادتیوں پر توجہ نہ ہونے کی ایک وجہ اسرائیلی حکام کی دھمکیاں بھی ہیں۔ رہا ہونے والے قیدیوں کو اکثر خبردار کیا جاتا ہے کہ خاموش رہیں۔ فلسطینی متاثرین نے مجھے بتایا کہ عرب معاشرہ بھی اس موضوع پر بات کرنے سے روکتا ہے، کیونکہ اس سے قیدیوں کے خاندانوں کا مورال (حوصلہ) ٹوٹ سکتا ہے اور فلسطینیوں کی ’بہادر اور نڈر قیدی‘ والی تصویر خراب ہو سکتی ہے۔
روایتی سماجی اقدار بھی اس موضوع پر بحث کرنے سے روکتی ہیں۔ دو متاثرین نے مجھے بتایا کہ اگر کوئی قیدی یہ تسلیم کر لے کہ اس کے ساتھ ریپ ہوا تو اس کی بہنوں اور بیٹیوں کے لیے شادی کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک کسان نے مضمون میں اپنا نام استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، جو اس سال کے شروع میں انتظامی حراست سے رہا ہوا، حالانکہ اس پر کوئی الزام بھی نہیں لگایا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ’’گذشتہ سال ایک دن lچھ [اسرائیلی] سپاہیوں نے مجھے بازو اور ٹانگیں پکڑ کر بے بس کر دیا۔ پھر میری پتلون اور انڈرویئر اتار دیے گئے اور دھاتی ڈنڈا میری مقعد میں ٹھونس دیا گیا۔ ریپ کرنے والے ہنس رہے تھے اور تالیاں بجا رہے تھے۔ میں کئی گھنٹے بے ہوش رہا، اسی دوران جیل کے کلینک لے جایا گیا اور جب ہوش میں آیا تو دوبارہ اسی دھاتی ڈنڈے سے اذیت دی گئی۔ میرا خون بہہ رہا تھا، میں مکمل طور پر ٹوٹ گیا تھا اور رو رہا تھا‘‘۔
کسان نے بتایا:’’سیل میں واپس پہنچایا گیا تو میں نے ایک محافظ سے قلم اور کاغذ مانگا کہ زیادتی کے بارے میں شکایت لکھ سکوں، مگر میری درخواست مسترد کر دی گئی۔ اسی شام محافظوں کا ایک گروپ سیل میں آیا اور کہا: ’’شکایت کرنے والا کون ہے؟‘‘ ایک محافظ نے مذاق اڑاتے ہوئے میری طرف اشارہ کیا، جس پر فوراً مار پیٹ شروع ہو گئی‘‘۔ اس طرح اس ایک دن میں تیسری بار میرے ساتھ ڈنڈے سے ریپ کیا گیا‘‘۔
اس نے ایک محافظ کو کہتے سنا: ’’اب تمھارے پاس شکایت میں لکھنے کے لیے اور بھی کچھ ہے‘‘۔
میرے انٹرویو کے چند دن بعد، اس کسان نے مجھے فون کر کے کہا کہ میں اس کا نام نہ لکھوں۔ شن بیت والے اس سے ملنے آئے تھے اور اسے تنبیہ کرگئے تھے، اور اس نے ساتھ یہ کہا:’میں اپنے خاندان کے ردعمل سے بھی ڈرتا ہوں‘۔
اسرائیلی امریکی انسانی حقوق کی وکیل ساری باشی، اسرائیل میں ٹارچر کے خلاف پبلک کمیٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کہتی ہیں: ’’فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنسی زیادتی اب معمول بن چکا ہے۔ تاہم مجھے اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ اس عمل کا حکم اُوپر سے دیا جاتا ہے۔ لیکن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکام کو اس کا علم ہے اور وہ اسے روکتے نہیں‘‘۔
ایک اور اسرائیلی وکیل بین مرمریلی نے مجھے بتایا کہ ان فلسطینی قیدیوں کے تجربات کی بنیاد پر جن کے کیس وہ لڑ چکے ہیں،’’ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اشیاء سے ریپ اس نظام میں ہو رہا ہے‘‘۔
غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک قیدی کو جولائی ۲۰۲۴ء میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کی مقعد شدید زخمی تھی۔ پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور پھیپھڑا زخمی تھا۔ تفتیش کاروں نے ایک ویڈیو حاصل کی، جس میں مبینہ طور پر تشدد دکھایا گیا تھا۔ حکام نے شکایت پر کچھ رضاکار فوجیوں کو گرفتار کیا، لیکن اس پر اسرائیل کے دائیں بازو والوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ ان لوگوں کا ایک مشتعل ہجوم جیل میں گھس گیا تاکہ رضاکار محافظوں کی حمایت کر سکے۔ مارچ میں فوجیوں پر تمام الزامات ختم کر دیے گئے اور پچھلے ماہ فوج نے ان فوجیوں کو دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آنے کی اجازت دے دی ۔
نیتن یاہو نے کہا: ’’اسرائیل کو اپنے دشمنوں کا شکار کرنا چاہیے، اپنے بہادر جنگجوؤں کا نہیں‘‘۔
ساری باشی نے اس نتیجے پر کہا: ’’میں کہوں گی کہ الزامات ختم کرنا درحقیقت ریپ کی اجازت دینے کے مترادف ہے‘‘۔
مذکورہ بالا قیدی کو بعد میں ایک بیگ (stoma bag) لگا کر رہا کیا گیا، جس میں فضلہ جمع ہوتا تھا۔ اور پھر اسے غزہ واپس بھیج دیا گیا۔ اس کے ایک جاننے والے نے بتایا کہ وہ کئی مہینے ہسپتال میں اپنے اندرونی زخموں کا علاج کرواتا رہا۔
ایسی حرکتیں کرنے والوں کو سزائیں اور ایسے تشدد کے خلاف عوامی توجہ اسے روک سکتی ہے۔ یاد رہے ۱۹۹۷ء میں نیویارک شہر کے پولیس افسران نے ہیٹی کے ایک تارک وطن کے ساتھ لکڑی کے ڈنڈے سے اسی طرح ریپ کیا کہ اسے ہسپتال اور آپریشنز کی ضرورت پڑی۔ نیویارکرز غصے سے بپھر گئے، میئر روڈی گیولانی ہسپتال گئے اور پولیس افسران پر مقدمہ چلا۔ یہ ایک بڑا مشہور کیس تھا۔ اس نے پولیس فورس کو واضح پیغام دیا کہ قیدیوں پر زیادتی کرنے والوں کو سزا مل سکتی ہے۔ یہی پیغام اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کو بھی پہنچنا چاہیے۔
اگر ٹرمپ حکومت قیدیوں کے لیے ریڈ کراس کی ملاقاتوں کا دوبارہ آغاز کرائے، اگر امریکی سفیر کیمروں کے ساتھ ریپ کے متاثرین سے ملنے جائے، اگر ہم ہتھیاروں کی منتقلی کو جنسی زیادتی ختم کرنے سے مشروط کر دیں، تو اس طرح ہم ایک اخلاقی اور عملی پیغام دے سکتے ہیں کہ جنسی تشدد ناقابلِ قبول ہے، چاہے متاثر کوئی بھی ہو۔ سب سے پہلے سفیر یہ یقینی بنائیں کہ جن فلسطینیوں نے اس مضمون کے لیے بہادری سے بات کی، ان کے ساتھ دوبارہ کوئی زیادتی نہ ہو۔
اس طرح کا تشدد کیسے ہوتا ہے؟
عشروں تک جنگوں کی رپورٹنگ نے مجھے سکھایا ہے کہ dehumanization (انسان کو انسان نہ سمجھنا) اور سزا نہ ملنے کا ماحول لوگوں کو Hobbesian (درندگی کی حالت) میں لے جاتا ہے۔ میں نے کانگو، سوڈان، میانمار کے قتل عام کے مقامات پر یہ وحشت دیکھی ہے۔ بالکل اسی طرح عراق کے ابو غریب جیل میں امریکی فوجیوں نے قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی سزا نہ ہو تو ہم انسان ان لوگوں کے ساتھ بہت بڑی ظالمانہ حرکتیں کرسکتے ہیں، جنھیں ہمیں Subhuman (کم تر انسان) کے طور پر رکھنا سکھایا جاتا ہے۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ائتمار بن گویر نے قیدیوں کو ’گندے‘ اور ’نازی‘ کہا اور فلسطینیوں کے لیے جیل کے حالات کو مزید سخت کرنے پر فخر کا اظہار کیا۔ جب ایسی سوچ عام ہو تو جنسی تشدد فلسطینیوں کو تعذیب اور ذلت دینے کا ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔
’بی تسلیم‘ (ایک اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم) نے فلسطینیوں کے ساتھ ’جنسی تشدد کا سنگین پیٹرن‘ دستاویزی شکل میں پیش کیا۔ اس نے غزہ کے ایک قیدی تامر قرموط کا بیان پیش کیا، جس نے کہا کہ اس کے ساتھ لکڑی کے ڈنڈے سے ریپ کیا گیا۔ ’بی تسلیم‘ کا کہنا ہے کہ ’’تشدد (ٹارچر) اب معمول کی قبول شدہ حقیقت بن چکی ہے‘‘۔
ایک سابق اسرائیلی افسر نے جیل کے ہسپتال میں Breaking the Silence نامی اسرائیلی گروپ کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ یہ قبول شدہ رویہ عملی طور پر کیا معنی رکھتا ہے؟ ’’آپ عام، اچھے لگنے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو تفریح کے لیے لوگوں پر زیادتی کرنے لگتے ہیں، بس مزے کے لیے، دوستوں کو بتانے کے لیے یا بدلہ لینے اور نفرت کا اظہار کرنے کے لیے‘‘۔
زیادہ تر ریپ اور جنسی تشدد مردوں پر کیا گیا، اس لیے کہ فلسطینی قیدی ۹۰ فی صد سے زیادہ مرد ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے ایک فلسطینی عورت سے بات کی، جو اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے کے بعد ۲۳ سال کی عمر میں گرفتار ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ اسے گرفتار کرنے والے فوجیوں نے اسے، اس کی ماں اور چھوٹی بھتیجی کے ساتھ ریپ کرنے کی دھمکی دی۔ جیل میں خاتون محافظوں کے ہاتھوں بے لباس کر کے تلاشی سے اس کا عذاب شروع ہوا، لیکن پھر اسی دوران ایک مرد فوجی اندر آیا جب مجھے بالکل بے لباس کردیا گیا تھا۔ اگلے چند دنوں تک مجھے بار بار بے لباس کیا جاتا، اور مردو خواتین محافظوں کی ٹیموں کے ذریعے تلاشی لی جاتی رہی۔ اس مشق کا ہمیشہ ایک ہی طریقہ تھا: کئی محافظ (مرد اور عورتیں) میرے سیل میں آتے، زبردستی کپڑے اتارتے، ہاتھ پیچھے کرکے ہتھکڑی لگاتے، جھکا دیتے (بعض اوقات سر ٹائلٹ کے کموڈ میں دبا دیتے)۔ اسی حالت میں مارا جاتا اور پورے جسم پر ہاتھ پھیرے جاتے۔ مجھے کچھ پتا نہیں کہ انھوں نے مجھے ریپ کیا یا نہیں، کیونکہ بعض اوقات مار پیٹ سے میں بے ہوش ہو جاتی تھی‘‘۔
اس کا خیال ہے کہ زیادتی کے مقصد دو تھے: حوصلہ توڑنا اور اسرائیلی مردوں کو ایک بے لباس فلسطینی عورت کے ساتھ بلا روک ٹوک دست درازی کی اجازت دینا۔
مجھے دن میں کئی بار بے لباس کرکے مارا جاتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ مجھے وہاں پر کام کرنے والے ہر شخص کے سامنے پیش کر رہے ہوں۔ ہر شفٹ کے شروع میں وہ لڑکوں کو مجھے بے لباس کرنے کے لیے لاتے۔ جیل سے رہا ہونے سے پہلے مجھے ایک کمرے میں بلایا گیا جہاں چھ افسران موجود تھے۔ انھوں نے سختی سے خبردار کیا کہ کبھی کسی کو انٹرویو نہ دینا، اور دھمکی دی کہ اگر میں نے بات کی تو مجھے ریپ کریں گے، مجھے مار دیں گے اور میرے باپ کو بھی مار دیں گے‘‘۔ اس متاثرہ خاتون نے مجھ سے مضمون میں اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔
غزہ کے ایک صحافی نے ۲۰۲۴ء میں گرفتاری کے بعد اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کی تفصیل سنائی: ’’کوئی بھی جنسی زیادتی سے نہیں بچا۔ اگرچہ ہر ایک کے ساتھ ریپ تو نہیں ہوا، لیکن سب نے ذلت آمیز اور گندی جنسی زیادتی ضرور برداشت کی‘‘۔ ایک بار محافظوں نے اس کے فوطوں اور عضو خاص کو گھنٹوں کے لیے پلاسٹک کی پٹی سے باندھ دیا اور ان پر ضربیں لگائی گئیں۔ اس کے بعد کئی دن تک اس کو پیشاب خون کے ساتھ آیا۔ایک موقعے پر اسے ننگا کیا گیا۔ آنکھوں پر پٹی اور ہاتھ ہتھکڑی میں بندھے ہوئے تھے اور ایک کتا بلایا گیا اور محافظوں کا کتا اس پر چڑھ گیا۔
اس نے بتایا:’’وہ کیمرے سے تصاویر لے رہے تھے اور میں ان کے قہقہے سن رہا تھا‘‘۔ میں نے کتے کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
دیگر فلسطینی قیدیوں اور انسانی حقوق کے مبصرین نے بھی پولیس کے کتوں کو قیدیوں کے ساتھ ریپ کرنے کے لیے اُکسانے کی رپورٹیں دی ہیں۔ اس مظلوم صحافی نے کہا کہ رہا ہونے پر ایک اسرائیلی افسر نے مجھے خبردار کیا: اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو تو واپس جا کر میڈیا سے بات نہ کرنا‘‘۔لیکن اس کے باوجود وہ بات کرنے کو کیوں تیار ہوا؟
اس نے بتایا:’’کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جنھیں یاد کرنا برداشت نہیں ہوتا‘‘۔ ’’ابھی آپ سے بات کرتے ہوئے یوں لگ رہا ہے کہ میرا دل رک جائے گا، لیکن مجھے یاد ہے کہ اب بھی بہت سے لوگ وہاں اندر ہیں۔ اس لیے میں ان کا خیال کرکے یہ بات کر رہا ہوں‘‘۔
کئی بیانات بتاتے ہیں کہ جنسی تشدد فلسطینی بچوں پر بھی کیا گیا، جو عام طور پر پتھر پھینکنے پر قید کیے جاتے ہیں۔ میں نے تین لڑکوں سے انٹرویو کیے جو گرفتار ہو چکے تھے۔ تینوں نے جنسی زیادتی کا ذکر کیا۔ ان میں ایک شرمیلا لڑکا تھا،جو گرفتاری کے وقت ۱۵ سال کا تھا، اس نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ کیا اس نے اصل ریپ بھی دیکھا؟ لیکن اس نے کہا کہ دھمکیاں روز کا معمول تھیں: ’’وہ کہتے، یہ کام کر، ورنہ ہم یہ ڈنڈا تمھاری مقعد میں ٹھونس دیں گے‘‘۔ دوسرے لڑکوں نے بھی جنسی تشدد کی تقریباً ایسی ہی کہانیاں سنائیں جو مار پیٹ کے ساتھ ہوتی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ریپ کی دھمکیاں نہ صرف انھیںبلکہ ان کی ماؤں اور بہن بھائیوں کو بھی دی جاتی تھیں۔
اسرائیلی آباد کاروں کی اسرائیلی فوج حفاظت کرتی ہے، جب وہ فلسطینی دیہاتوں پر حملے کرتے ہیں اور جنسی تشددکر کے فلسطینیوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔
’ویسٹ بینک پروٹیکشن کنسورشیم‘ (بین الاقوامی امدادی گروپس کا اتحاد) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ’’جنسی نوعیت کا تشدد مقامیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جاتا ہے،‘‘ تاکہ وہ اپنی زمین چھوڑ کر چلے جائیں‘‘۔ اس کنسوریشیم نے فلسطینی کسانوں کا سروے کیا تو پتہ چلا کہ ۷۰ فی صد سے زیادہ گھرانوں نے جو نقل مکانی کی، ان میں عورتوں اور بچوں کو جنسی تشدد کی دھمکیاں ہی ان کے جانے کی سب سے بڑی وجہ تھیں۔ اس تنظیم کی رکن الیگرا پاچیکو نے کہا: ’’جنسی تشدد لوگوں کو ان کی زمین سے بھگانے کے طریقوں میں سے ایک مؤثر ہتھیار ہے‘‘۔
اردن کی وادی کے ایک دُور دراز دیہاتی کسانوں کے گاؤں میں مَیں نے ۲۹ سالہ کسان سہیب ابوالکباش سے ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً ۲۰ اسرائیلی آباد کاروں کے ایک گروپ نے ان کے گھر پر حملہ کیا، بڑوں اور بچوں کو مارا، زیورات لوٹے، ۴۰۰بھیڑیں چرا لیں۔ ایک نے شکار والی چھری سے ان کے کپڑے کاٹے، پھر ان کے عضو خاص کو پلاسٹک کی رسّی سے باندھ کر کھینچا۔ اسی طرح ابوالکباش نے بتایا: ’’مجھے ڈر تھا کہ وہ میرے عضو خاص کو کاٹ ڈالیں گے۔ میں نے سوچا کہ یہ میری زندگی کا آخری لمحہ ہے‘‘۔
کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ فلسطینی، اسرائیل کو بدنام کرنے کے لیے جنسی زیادتی کے جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں۔ میرے نزدیک ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ جن سے میں نے بات کی، ان میں سے کسی نے بھی آگے بڑھ کر مجھ سے رابطہ نہیں کیا تھا، نہ وہ جانتے تھے کہ ہم کس سے اور کیا بات کرنے یا پوچھنے والے ہیں، اور وہ بات کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔
ثبوت یہ بتاتے ہیں کہ اسرائیل میں جنسی زیادتی اتنی عام ہو چکی ہے کہ اب وہاں کے رسم و رواج (norms)بدل رہے ہیں اور فلسطینی متاثرین بات کرنے لگے ہیں۔
محمد مطر (فلسطینی افسر) نے مجھے بتایا: ’’چھ مہینوں تک میں اس بارے میں بات نہیں کرسکا، حتیٰ کہ اپنے گھر والوں سے بھی نہیں‘‘۔ آباد کاروں نے انھیںننگا کیا، مارا اور ڈنڈے سے ان کے نچلے حصے کو چھیڑا، جب کہ وہ ریپ کی باتیں کر رہے تھے۔ حملے کے دوران انھوں نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر انڈرویئر تک اُتار دیا اور ننگے کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ وقت کے ساتھ مطر نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جھجک کو ختم کرنے کے لیے الم انگیز یاد کو تازہ رکھیں گے۔ اب وہ اپنے دفتر کی دیوار پر آبادکاروں کے ہاتھوں ظلم و زیادتی دکھانے والی اس بڑی تصویر کو لٹکائے رکھتے ہیں۔
اس لیے ہم اس نکتے پر واپس آتے ہیں جو میں نے اس کالم کے شروع میں کہا تھا: ’’مشرق وسطیٰ کے تنازے کے بارے میں ہمارے جو بھی خیالات ہوں، ہمیں کم از کم جنسی تشدد (rape) کی مذمت کرنے پر متحد ہو جانا چاہیے‘‘۔
اسرائیلی حکام کو اپنی خلاف ورزیوں پر نظر ڈالنی چاہیے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی گزشتہ سال کی۴۹ صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، فلسطینیوں کے ساتھ ’جنسی نوعیت کا تشدد‘ ’منظم‘ طریقے سے کر رہا ہے، جس میں ’اعلیٰ ترین سول اور فوجی قیادت کی خاموش اجازت‘ شامل ہے۔[ترجمہ: س م خ]
_______________
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ۱۵مئی ۲۰۲۶ء کے فیصلے میں دھار کی تاریخی ’کمال مولا مسجد‘ [تعمیرشدہ:غالباً ۱۳۲۰ء]کو ہندو عبادت گاہ ’بھوج شالا‘ قرار دیتے ہوئے ہندو فریق کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔ جس نے انڈیا میں مذہبی مقامات سے متعلق ایک نئی اور نہایت خطرناک بحث کو جنم دیا ہے۔
عدالت نے اس مقام کو ’دیوی سرسوتی‘ سے منسوب کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ’’یہ دراصل ایک قدیم مندر تھا‘‘حالانکہ تاریخی ریکارڈ، نوآبادیاتی دور کے سروے، فارسی کتبے اور آثارِ قدیمہ کی رپورٹیں اس دعوے کی ہرگز تائید نہیں کرتیں۔
یہ فیصلہ محض ایک عبادت گاہ یا زمین کے تنازعے تک محدود نہیں ہے۔ اس فیصلے نے انڈیا کے آئینی اور قانونی ڈھانچے، خصوصاً ’مذہبی مقامات ایکٹ ۱۹۹۱ء‘اور’لاء آف لیمیٹیشن‘جیسے بنیادی اصولوں کو ایک سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔اگر عدالتیں اساطیری روایتوں یا مذہبی عقیدوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر پورے برصغیر میں شاید ہی کوئی تاریخی عمارت، عبادت گاہ یا آثارِ قدیمہ کا مقام تنازعہ سے محفوظ رہ سکے۔
’کمال مولا مسجد‘ جسے اب’بھوج شالہ‘کے نام سے زیادہ پکارا جارہا ہے، صدیوں تک ایک فعال مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔مسلمان وہاں ۱۴ویں صدی عیسوی کے اوائل سے باقاعدہ نماز ادا کرتے رہے ہیں۔
لیکن پھر جب ہندو تنظیموں نے اس مقام پر اپنے دعوے میں شدت پیدا کی، تو انتظامیہ نے ۲۰۰۳ء میں ایک مشترکہ انتظام متعارف کرایا، جس کے تحت مسلمانوں کو جمعہ کے روز نماز کی اجازت دی گئی، جب کہ ہندوؤں کو منگل کے دن پوجا کی اجازت دی گئی۔مگر اس انتظام نے تنازعہ ختم کرنے کے بجائے اس کو مزید پیچیدہ بنا دیا، کیونکہ دونوں فریق اسے اپنی جزوی کامیابی کے طور پر دیکھنے لگے۔
انڈیا میں آثارِ قدیمہ سے متعلق تاریخ کی ماہر محترمہ ڈاکٹر روچیکا شرما (Ruchika Sharma) نے اپنی مفصل تحقیق اور لیکچر میں اس پورے موقف اور دعوے کو چیلنج کیا ہے۔ان کے مطابق، ’’اس عمارت کا اصل نام کمال مولا کی مسجد ہے‘اور تاریخی ریکارڈوں میں اسے کبھی’بھوج شالہ‘کے طور پر بیان نہیں کیا گیا‘‘۔
ڈاکٹر شرما نے انیسویں صدی کے اوائل میں کیے گئے برطانوی سرویز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ برطانوی افسر جان میلکم نے جب دھار کا تفصیلی سروے کیا، تو انھوں نے راجا بھوج سے وابستہ کئی داستانوں کا ذکر ضرور کیا، مگر پورے تذکرے میں مسجد کی اس عمارت کے ساتھ ان کی کسی تنازعے کی وابستگی کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔
اس کے برعکس، جان میلکم نے اس ڈھانچے کو ایک’خستہ حال مسجد‘قرار دیا تھا، جس میں منبر، محراب اور دیگر اسلامی طرزِ تعمیر کے عناصر موجود تھے۔ ڈاکٹر روچیکا شرما کے مطابق، بعد کی برطانوی رپورٹیں بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہیں۔ انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی افسر ولیم کنکیڈ نے اس مقام کو کمال الدین مالوی کے’روضے‘کے قریب واقع ایک’چھوٹی مسجد‘قرار دیا۔ بعدازاں ۱۹۱۷ء میں ’ایپی گرافیہ انڈو مسلمیکا‘ (Epigraphia Indo-Moslemica)میں شائع فارسی کتبوں کے تراجم میں اس مقام کو’روضہ قطبِ کمال‘کہا گیا، جب کہ ایک کتبے میں یہ درج ہے کہ دلاور خان غوری نے سلطنتِ دہلی کے دور میں اس مسجد کی مرمت کروائی تھی۔
ڈاکٹر روچیکا شرما کے دلائل یہ ہیں کہ ’یہ تمام شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ مقام ایک مسجد اور صوفی بزرگ کمال الدین مالوی کے مقبرے کا احاطہ تھا، نہ کہ راجا بھوج کا سنسکرت مدرسہ‘۔ وہ کہتی ہیں کہ’اب تک ہم یہی جانتے ہیں کہ یہ ایک مقبرہ اور مسجد کا احاطہ تھا، اور کم از کم انیسویں صدی کے پہلے نصف تک راجا بھوج سے اس کا کوئی تعلق ظاہر نہیں ہوتا۔‘
وہ اس عمارت کے فنِ تعمیر کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں: ’’یہ ایک’ہائپو اسٹائل مسجد‘ہے، جس میں ستونوں کی قطاریں، محرابیں اور منبر شامل ہیں، جو اسلامی فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیات ہیں‘‘۔ ان کی تحقیق یہ ہے: ’’قرونِ وسطیٰ کے ہندستان میں قدیم عمارتوں کے پتھر یا ستون دوبارہ استعمال کرنا ایک عام روایت تھی، اس لیے مسجد میں ہندو یا جین طرز کے ستونوں کی موجودگی بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ مسجد کسی مندر کو گرا کر ہی تعمیر کی گئی تھی‘‘۔
انھوں نے اس دعوے کو بھی چیلنج کیا کہ یہ مقام کبھی ’سرسوتی مندر‘ تھا۔ ان کے مطابق: ’’جس مجسمے کو بعد میں’بھوج کی سرسوتی‘کہا گیا، اس کے کتبے تو اسے’امبیکا‘یعنی جین مذہب کی دیوی قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس مجسمے کو مسجد کے احاطے سے جوڑنے کا بھی کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں ہے‘‘۔
’’دلچسپ بات یہ ہے کہ’بھوج شالہ‘کی اصطلاح بھی تاریخی طور پر بہت نئی ہے‘‘، شرما کے مطابق:’’یہ نام پہلی بار بیسویں صدی کے آغاز میں ایک رپورٹ میں استعمال ہوا، جس کا عنوان تھا؛’کمال مولا مسجد سے ملنے والے ڈرامائی کتبے کا خلاصہ‘۔ یعنی جس نام پر آج پورا تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے، وہ خود نوآبادیاتی دور کی پیداوار ہے‘‘۔
زمین کی عمر تقریباً چار اعشاریہ پانچ چار بلین سال قرار دی جاتی ہے، جب کہ انسانی تہذیب ہزاروں برسوں سے مختلف شکلوں میں ارتقا پذیر رہی ہے۔ اس دوران بے شمار قومیں، مذاہب اور تہذیبیں ابھریں، زوال کا شکار ہوئیں اور نئی تہذیبوں کے نیچے دفن ہوگئیں۔دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہوگا جہاں کھدائی کرنے پر قدیم آبادیوں یا عبادت گاہوں کے آثار نہ ملتے ہوں۔ اگر انھی آثار کو موجودہ ملکیتی یا مذہبی حق کی بنیاد بنایا جائے، تو پھر ہر شہر، ہر عبادت گاہ اور ہر تاریخی عمارت ایک مستقل مقدمے میں تبدیل ہوکر رہ جائے گی۔
ہندستان کی اپنی تاریخ اس کی واضح مثال ہے کہ جہاں پر ایک دور میں بودھ مت پورے برصغیر میں غالب مذہب تھا بلکہ چین، تبت، افغانستان اور وسطی ایشیا تک اس کے اثرات پھیلے ہوئے تھے۔ بعدازاں آدی شنکر آچاریہ [۷۸۸ء-۸۲۰ء]نے ہندو مذہب کے احیا کی تحریک چلائی تو اس کے نتیجے میں متعدد بودھ خانقاہوں اور عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کیا گیا۔
اگر آج کے پیمانے سے تاریخ کو کھنگالا جائے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے موجودہ ہندو مندر، جین اور بودھ آثار پر قائم ہیں؟ اور اگر ہر تہذیبی پرت کو بنیاد بناکر فیصلے ہونے لگیں، تو تنازعات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔
اسی خطرے کے پیش نظر دنیا کے تقریباً تمام قانونی نظاموں میں’لاء آف لیمیٹیشن‘یا قانونِ حد کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اس قانون کا مقصد یہی ہے کہ صدیوں پرانے دعووں کی بنیاد پر معاشرے مستقل انتشار اور تصادم کا شکار نہ ہوں۔یہ قانون کہتا ہے کہ ایک مخصوص مدت گزرنے کے بعد کسی جائیداد یا ملکیت پر دعویٰ ناقابلِ سماعت ہوجاتا ہے، ورنہ ہر نسل اپنے آباؤ اجداد کے نام پر نئی قانونی جنگیں چھیڑ سکتی ہے۔
۱۵۲۷ء میں تعمیر ہونے والی بابری مسجد کی شہادت [۶دسمبر ۱۹۹۲ء]کے بعد یہ دلیل دی گئی تھی کہ ایودھیا تنازعے پر انڈین سپریم کورٹ نے ۹نومبر ۲۰۱۹ء کو مسجد کے خلاف اکثریتی فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک ’استثنائی‘معاملہ ہے اور اس کے بعد دیگر عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی۔ اسی پس منظر میں ہندستانی پارلیمنٹ نے’مذہبی مقامات ایکٹ‘منظور کیا تھا، جس کے تحت بابری مسجد کے علاوہ تمام عبادت گاہوں کی وہی حیثیت برقرار رکھنے کی ضمانت دی گئی جو اگست ۱۹۴۷ء میں برطانیہ سے آزادی کے وقت تھی۔ اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ اب مستقبل میں کسی مسجد، مندر یا دیگر مذہبی مقام کی تاریخی حیثیت کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔مگر اب ۲۰۲۶ء کے وسط میں ’کمال مولا مسجد‘ کے فیصلے نے اس فیصلے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس سے پہلے ’گیان واپی مسجد‘ اور ’متھرا عیدگاہ‘ جیسے معاملات بھی عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں۔
ہندو نسل پرست تنظیمیں اب مسلسل یہ دعویٰ کرتی آرہی ہیں کہ ملک بھر میں ہزاروں مساجد، مزارات، قبرستان اور وقف املاک دراصل قدیم ہندو عبادت گاہوں کی جگہ تعمیر کیے گئے تھے۔ ’وشواہندو پریشد‘ (VHP)نے تو گویا بلینک چیک جاری کرتے ہوئے یہاں تک دعویٰ کردیا ہے کہ تقریباً ۲۵ہزار مقامات متنازعہ ہیں۔
یہ صورتِ حال برصغیر کی تاریخ کے ایک اور اہم مقدمے، لاہور کی مسجد شہید گنج، کی یاد تازہ کرتی ہے جو شاہ جہاں بادشاہ کے عہد میں ۱۶۵۳ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ لاہور پر سکھوں کے قبضے کے بعد اس مسجد کو گوردوارہ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ لیکن جب پنجاب، برطانوی اقتدار کے تحت آیا تو مسلمانوں نے اس مسجد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ مقدمہ عدالتوں سے ہوتا ہوا ’پریوی کونسل‘ تک پہنچا، مگر ہر عدالت نے’لاء آف لیمیٹیشن‘کی بنیاد پر فیصلہ سکھوں کے حق میں دیا۔
مسجد کے متولی نور احمد کئی عشروں تک عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، اور ہر بار یہی کہا گیا کہ چونکہ ایک طویل عرصے سے عمارت کا استعمال تبدیل ہوچکا ہے، اس لیے اب پرانا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں رہا ہے۔ بعد میں جب مسجد کی عمارت منہدم کردی گئی تو لاہور میں شدید احتجاج ہوا، لوگ مارے گئے، کرفیو نافذ ہوا اور ماحول انتہائی کشیدہ ہوگیا۔
مسلم لیگ کے بعض ارکان نے اسمبلی کے ذریعے اس عمارت کو دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ معروف قانون داں اور مؤرخ اے جی نورانی، جو عمومی طور پر محمد علی جناح کی سیاست کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے، اس معاملے میں ان کی کھل کر تعریف کرتے ہیں۔ نورانی کے مطابق، جناح نے مسجد شہید گنج کے قضیے کو سیاسی فائدے یا عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ شدید عوامی دباؤ اور مذہبی اشتعال کے باوجود انھوں نے قانون کی عمل داری کو ترجیح دی اور یہ موقف اختیار کیا: ’’اگر عدالتوں کے فیصلوں کو مذہبی جذبات کی بنیاد پر رَد کیا جانے لگے، تو پورا قانونی نظام کمزور پڑ جائے گا‘‘۔نورانی کے بقول، یہی طرزِ عمل جناح کو ایک ذمہ دار آئین پسند سیاستدان کے طور پر ممتاز کرتا ہے۔آج پاکستان بننے کے کئی عشروں بعد بھی لاہور کا وہ گوردوارہ اپنی جگہ موجود ہے۔ اس معاملے میں شدید مذہبی جذبات کے باوجود کسی حکومت یا مسلمانوں کی کسی بھی مذہبی جماعت نے برطانوی دور کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے دوبارہ مسجد بنانے کی کوشش نہیں کی۔
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ قانون کی عمل داری سے چلتی ہیں۔ہندستان میں آج جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ صرف مسلمانوں یا چند مساجد کا مسئلہ نہیں۔ اگر عدالتیں تاریخ، عقیدے اور اساطیری روایتوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر اس کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی۔ کل کوئی اور گروہ کسی اور مقام پر اسی منطق کے تحت دعویٰ کرسکتا ہے۔
اس طرح ریاست کے ادارے مستقل مذہبی تنازعات کے میدان میں تبدیل ہوجائیں گے۔تاریخ کا احترام ضروری ہے، مگر تاریخ کے نام پر حال اور مستقبل کو یرغمال بنانا کسی بھی معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔قانون کی بالادستی ہی وہ واحد اصول ہے، جو متنوع معاشروں کو انتشار اور انتقام کی سیاست سے بچا سکتا ہے۔
_______________
؍اگست ۲۰۱۹ء کو نئی دہلی حکومت نے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو یک طرفہ طور پر روند کر صرف آئینی شقوں کا خاتمہ نہیں کیا تھا، بلکہ ایک قوم کی شناخت، تاریخ، سیاسی وجود اور اجتماعی شعور کو مٹانے کی کوشش تھی۔ اس کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر پر پوری قوت سے خوف، جبر اور خاموشی مسلط کی گئی۔گلیوں میں بندوقوں کی حکمرانی حاوی ہوگئی اور عوام کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک انتظام کیا گیا۔ دہلی میں آر ایس ایس کی حکومت نے یہ طے کرلیا تھا کہ کشمیری قیادت کو غیرمؤثر اور ان کی آواز کو بے معنی بنا دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے مزاحمت کی علامت شخصیات کو جیل خانوں کی تاریکیوں میں دھکیل دیا گیا اور مسلسل قید، ذہنی اذیت، تنہائی اور منصوبہ بند طبی غفلت اور من چاہے عدالتی فیصلوں سے انھیں موت کے دہانے تک پہنچایا گیا۔
دہلوی بھاجپا حکومت، کشمیری قائدین کے جنازوں سے بھی خوف محسوس کرتی آرہی ہے۔ انڈیا کے اس خوف کی وجہ کشمیری قائدین کی میتیں نہیں بلکہ وہ محبت ہے جو کشمیری عوام اپنے قائدین کی نسبت سے اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں۔ نسل پرست دہلوی حکومت جانتی ہے کہ اگر کشمیری عوام کو اپنے محبوب رہنماؤں کے جنازوں میں شرکت کی آزادی دی جائے تو مقبوضہ ریاست کی فضائیں انڈین تسلط کے خلاف نفرت اور آزادی کے نعروں سے گونج اٹھیں گی۔ اسی لیے ستمبر۲۰۲۱ء میں سیّد علی گیلانیؒ کو رات کی تاریکی میں زور زبردستی سے سپردِ خاک کرایا گیا، محمداشرف صحرائیؒ کی تدفین پر پابندیوں کا حصار قائم کیا گیا اور افضل گورو شہید کا جسدِ خاکی ورثا کے حوالے نہ کیا گیا۔ یہ سب واقعات اس خوف کی علامت ہیں جو ایک قابض قوت کو نہتے مگر باوقار عوام سے لاحق ہوتا ہے۔
یہ طے شدہ حقیقت ہے اور تاریخ کے سینے میں یہ اصول ہمیشہ زندہ رہا ہے کہ نظریات کو ہتھکڑیوں میں قید نہیں کیا جاسکتا اور محبت کو فوجی چھاؤنیوں میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ یہی حقیقت ۱۶مئی ۲۰۲۶ء کو سابق امیر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر شیخ غلام حسنؒ کے جنازے میں پوری شان سے آشکار ہوئی۔ یہ جنازہ نہیں تھا بلکہ خاموش وادی کی گھن گرج تھی۔ ایسے دکھائی دے رہا تھا جیسے کشمیر کی روح اپنے درویش صفت قائد کو الوداع کہنے نکل آئی تھی۔ دُور دراز بستیوں، قصبوں اور شہروں سے انسانوں کا ایک بے کنار سمندر امڈ آیا تھا۔ راستے تنگ پڑ گئے تھے، زمین سمٹتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ فضا عقیدت، غم اور عزم کے احساسات کی برقی رو میں بدل گئی تھی۔ لوگ دیواروں پر کھڑے تھے، چھتوں سے جھک جھک کر دیکھ رہے تھے، درختوں کے سائے تلے آنسو بہارہے تھے۔ یہ رقت آمیز مناظر اپنے محبوب قائد کی آخری جھلک دیکھنے کی تصویر تھے۔
شیخ غلام حسنؒ استقامت کا ایک استعارہ تھے۔ ان کی زندگی خاموش خدمت، فکری وابستگی اور نظریاتی پختگی کی داستان تھی۔ انھوں نے ایسے دور میں حق کی شمع روشن رکھی، جب اندھیروں کو گہرا بنانے کے لیے طاقت کے تمام وحشیانہ ہتھکنڈے آزمائے جارہے تھے۔ اسی لیے ان کا جنازہ ایک فرد کا جنازہ نہیں بلکہ ایک فکر کی تجدید بن گیا۔ جنازے کا یہ منظر دراصل نئی دہلی کے لیے ایک کھلا پیغام تھا کہ کشمیر آج بھی زندہ ہے، اہل کشمیر کی یادداشت تر و تازہ ہے، ان کی مزاحمت قائم و دائم ہے اور وہ آج بھی اپنے نظریے، تشخص اور حقِ آزادی سے وابستہ ہیں۔
ظلم وقتی طور پر خاموشی تو مسلط کرسکتا ہے مگر دلوں کے اندر روشن ہونے والی آزادی کی شمع کو بجھا نہیں سکتا۔ فضا میں گونجتے تحریکِ اسلامی کے نعرے سوگواروں کی محض بلند آوازیں نہ تھیں بلکہ وہ ایک قوم کی زندگی کا اعلان تھے۔ ہر چہرہ ایک داستان تھا، ہر آنکھ ایک عہد کی گواہ تھی اور ہراُٹھنے والا قدم پیغام دے رہا تھا کہ خوف کی موٹی چادریں کبھی دلوں کے یقین کو سرد نہیں کرسکتیں۔ کیمرے کی آنکھ حدِ نگاہ تک پھیلے اس انسانی سمندر کو محفوظ کررہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ مناظر کیمرے نہیں بلکہ تاریخ اپنے حافظے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرتی ہے اور شیخ غلام حسنؒ کا جنازہ انھی مناظر سے رقم ہوا۔
نئی دہلی حکومت یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ جموں و کشمیر جماعت اسلامی پر پابندیاں عائد کرکے، اس کے کارکنان کو زندانوں میں ڈال کر، اس کے ادارے بند کرکے اور اس کی زمینیں ضبط کرکے وہ اس فکر کو مٹا دے گی، جو آٹھ عشروں سے کشمیری معاشرے کی روح میں رچی بسی ہے۔ شیخ غلام حسنؒ کے جنازے نے ثابت کردیا کہ تحریکیں دفاتر سے نہیں، بلکہ دلوں سے جنم لیتی ہیں، دلوں پر راج کرتی ہیں اور ایسے دلوں پر نہ پہرے بٹھائے جاسکتے اور نہ پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔
وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ جائے گا، خبروں کی سرخیاں بدل جائیں گی، چہرے تبدیل ہوجائیں گے، سیاسی موقف بھی وقت کی گرد میں کہیں گم ہوجائیں گے، مگر شیخ غلام حسنؒ کے جنازے کے مناظر تاریخ کی پیشانی پر ہمیشہ روشن رہیں گے۔ جو مسلسل اعلان کرتے رہیں گے کہ قومیں اپنے شہیدوں، اپنے اسیروں اور اپنے نظریات کے سہارے زندہ رہتی ہیں اور جن دلوں میں یقین کی شمع روشن ہو، انھیں نہ جبر شکست دے سکتا ہے اور نہ وقت مٹا سکتا ہے۔
جموں وکشمیر میں انڈین قابض سیکورٹی فورسز نے ممتاز عالم دین اور جماعت اسلامی کے سابق امیر شیخ غلام حسن کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے پر کولگام میں نوجوانوں اور جماعت اسلامی کے کارکنوں سمیت ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔یہ مقدمات مقبوضہ علاقے میں خوف اور دہشت کے ماحول کے باوجود ہزاروں افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد درج کیے گئے۔ ان مقدمات اور پکڑ دھکڑ کی مقامی لوگوں نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اجتماعات اوراظہار غم کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔
’کل جماعتی حریت کانفرنس‘ کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری اپنے بیان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی نسل پرست حکومت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی حکومت کی جانب سے بے گناہ لوگوں کے خلاف مقدمات کے اندراج کو ظلم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انڈین حکومت اپنی جابرانہ فوجی پالیسیوں کو ترک کرے جن کا مقصد کشمیریوں کے جذبۂ حُریت کو دبانا ہے۔ پُرامن مطالبات کو جرم قراردینے سے کشمیری عوام کی امنگوں کو دبایا نہیں جاسکتا۔
جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ضلع کولگام کے محمد یوسف تاریگامی علاقے کا دورہ کر کے جماعت اسلامی کشمیر کے سابق امیر شیخ غلام حسن کے انتقال پر اُن کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے پارٹی کارکنان، مقامی باشندگان اور متعدد افراد کے سامنے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اور سوگوار خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ شیخ غلام حسن ایک بڑے اسلامی اسکالر تھے جنھیں عوام میں بے حد عزت و احترام حاصل تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف آر ایس ایس کے ایک بڑے لیڈر پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان روابط بڑھانے کی بات کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف جماعت اسلامی کشمیر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس کے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے اور اب جنازے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جارہے ہیں، جو افسوس ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اسکولوں سے بڑے بڑے اسکالر، ڈاکٹرز اور انجینئرز نکلے ہیں جنھوں نے معاشرے کی خدمت کی ہے جس کا اعتراف کرنا چاہیے۔
یہاں پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈین حکومت کے مسلسل جاری ظلم و جبر کی چند اطلاعات پیش ہیں، جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح مختلف علاقوں میں ایک خاص انداز سے کشمیری شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان تفصیلات کا زمانہ ۲۰۲۶ء کے اپریل اور مئی کے تقریباً ۳۰دنوں کی کچھ تفصیلات پر مشتمل ہے:
۱۶؍ اپریل:بدنام زمانہ انڈین ایجنسی’این آئی اے ‘نےضلع اسلام آباد کے علاقے بیج بہاڑہ میں رئیس احمد ڈار، سبزار احمد ڈار، مدثر احمد اور زاہد احمد کے رہائشی مکانات سمیت دیگر چار جائیدادیں بھی ضبط کر لیں، جب کہ ضلع پلوامہ میں مختار احمد کی کمرشل املاک کومسمار کر دیاہے۔
۱۸؍ اپریل: انڈین انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کے زیر انتظام ۵۸ اسکولوں کو قبضے میں لینے کا حکم نامہ جاری کیا۔ محکمہ سکول ایجوکیشن نے انڈین محکمہ داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت جماعت اسلامی پر فروری ۲۰۱۹ءمیں پابندی عائد کی گئی تھی۔
ضلع اسلام آباد کے علاقے دیالگام میں ایک نوجوان آصف احمد بٹ کو غائب کردیا گیا۔ سوپور میں انڈین پولیس نے سوشل میڈیا کی نسبت سے ۱۶نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔یاد رہے کہ چند روز قبل گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول سوپور میں ایک طالبہ کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے خلاف مقامی نوجوانوں نے پُرامن احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔
۱۹؍ اپریل: ضلع پونچھ کے علاقے مینڈھر (بالاکوٹ) میں کنٹرول لائن کے قریب بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک انڈین فوجی زخمی ہو گیا۔ ضلع جموںکے علاقے نگروٹہ میں فوجی کیمپ کے ’ڈاگ یونٹ‘ کا سپاہی اپنے کمرے کی چھت سے رسی سے لٹکا ہوا پایا گیا۔
۲۰؍ اپریل: گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے قریب ایک پولیس اہلکارحوالدار سندیپ سنگھ حملہ آوروں کی فائرنگ سے زخمی ہوگیا ۔مقبوضہ کشمیر میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین، گاندھی نگر جموں کی طالبات نے ایک ساتھی طالبہ کی ہلاکت پر کالج کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ انڈین فوج نے ضلع بارہمولہ کے علاقوں سوپور، رفیع آباد، زینگیر، پٹن اور سنگرامہ میں کئی مکانوں کی تلاشی کے دوران لوگوں کے گھروں میںگھس کر انھیں ہراساں کیااور قیمتی اشیاء کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔
۲۱؍ اپریل: سوپور کے علاقے بوہری پورہ میں سادہ کپڑوں میں ملبوس اہل کاروں نے سیب کے درجنوں درخت کاٹ کر باغ کے مالک حسین میر کو معاشی طور پر تباہ کردیا۔
۲۲؍ اپریل: انڈین ایجنسی’ این آئی اے‘ نے انڈین فوج کے ہمراہ ضلع کے علاقے لیتہ پورہ میں فیاض احمد ماگرے کے دو منزلہ مکان اور ایک منزلہ مکان کو قبضے میں لے لیا اور کہا کہ فیاض ماگرے ۲۰۱۷ء میں لیتہ پورہ میں انڈین فوج پر حملے میں ملوث ہے۔
۲۳؍ اپریل: ’این آئی اے‘ نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ، راج پورہ ابہامہ میں تنویر احمد وانی کی ساڑھے تین کنال اراضی ضبط کر لی۔
۲۴؍ اپریل: ’این آئی اے‘ نے سرینگر کے علاقے نوگام کے تفضل حسین پر آزادی پسندی کا الزام عائد کرکے بڈگام میں اس کا باغ اور اراضی ضبط کرلی۔ اسی طرح سوپور قصبے میں بلاجواز ۶کشمیری نوجوانوں عمر اکبر، سلمان احمد شالہ، الطاف احمد شیخ، مبشر احمد، مزمل مشتاق اور ماجد فردوس کوگرفتار کرلیا۔
۲۵؍ اپریل: ضلع پونچھ کے نورکوٹ دیگورار علاقے میںکنٹرول لائن کے قریب انڈین بارودی سرنگ پھٹنے سے چھ برس کا بچہ محمد رضوان شدید زخمی ہو گیا۔ انڈین فورسز نے سرینگر کے علاقے نور باغ کے شکیل احمد گنائی اور فاروق احمد میر کی ایک ایک کنال اراضی پر تعمیر دومنزلہ گھر ضبط کر لیے ۔
۲۶؍ اپریل: انڈین افواج نے وادیٔ کشمیر میں مسلمانوں کی املاک ضبط کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسلام آباد میں سب سے زیادہ کارروائیاں کیں اور ۲۰ مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
۲۷؍ اپریل: ضلع جموں کے علاقے میران صاحب میں انڈین فوج کی تلاشی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ابھینیت سنگھ زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا۔
۲۸؍ اپریل: انڈین فوج نے سرینگر کے علاقے خانموہ میں پانچ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ ان گرفتاریوں کا بہانہ بنانے کے لیے نوجوانوں کے قبضے سے دو دستی بم، گولہ بارود اور پوسٹرز کی موجودگی کا الزام لگایا جن پر آزادی کے حق میںنعرے درج تھے ۔
۳۰؍ اپریل: ضلع شوپیاں کے علاقے اگلر میں فروٹ منڈی کے ایک کولڈ اسٹوریج یونٹ میں دھماکے سے ایک غیر کشمیری انڈین انجینئر ہلاک، جب کہ دو دیگر زخمی ہوگئے۔انڈین پولیس نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی کے خلاف بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔سید علی گیلانی کا یہ ویڈکلپ اردو زبان کی اہمیت و افادیت کے بارے میںہے۔یاد رہے ۲۰۱۹ء کے بعد انڈین حکومت، جموں و کشمیر سے اُردو ختم کرنے کے لیے ہمہ گیر اقدام اُٹھا رہی ہے۔
۲ مئی : ضلع پلوامہ میں انڈین فوج نے ملک محمد عمر کو گرفتارکرتے ہوئے ان پر عسکریت پسندوں کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ضلع رامبن میں ڈگڈول کے قریب نالہ بشلری سےلاپتہ نوجوان تنویر احمد چوپان کی لاش برآمد ہوئی ہے، جو اپریل میں اس وقت لاپتہ ہو گیا تھا جب سرینگر جموں ہائی وے پر مکرکوٹ کے قریب نام نہاد گاؤ رکھشکوں (گائے کے محافظوں) کے تشددسے بچنے کے لیے اس نے نالے میں چھلانگ لگادی تھی۔
۴ مئی : ضلع پلوامہ کے ترال لاڈی یارعلاقے میں ایک انڈین فوجی بسو کمار نے خودکشی کرلی ۔
۲ مئی : انڈین پولیس نے پل پورہ، نورباغ میں متعدد گھروں اور دکانوں کو مسمار کردیا۔
۶ مئی : ضمانت پر رہاہونے والے فیاض احمد ڈار(اسلام آباد)کی نگرانی کے لیے ان کے ٹخنوں کے ساتھ’ جی پی ایس‘ ٹریکنگ ڈیوائس لگادی گئی۔
۷ مئی : ضلع شوپیاں جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلبہ، والدین اوراساتذہ نے مدرسے کی جبری بندش کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا جسے انڈین حکام نے گذشتہ ماہ سیل کر دیا تھا۔
سوپور کےعلاقےگنڈ براٹھ میں انڈین فوج کی ایک گاڑی نے ایک تین سال کے بچے محمدزین ولد عامر حسین کو کچل دیا۔ عوام نے فوج کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن میں پولیس نے ضمیر احمد لون کی ایک کنال اور ۱۴مرلے سے زائد اراضی ضبط کر لی۔
۸ مئی : اسلام آباد کے علاقے کوکرناگ میں انڈین فوجی ستیش کمار نے خودکشی کرلی۔
۱۰مئی : ضلع بارہمولہ کے علاقے جانبازپورہ میں ریاض احمد خان کی دکان مسمار کردی۔ سرینگر میں برتھانہ، قمرواری کے شاہد مشتاق ڈار کی تقریباً ۸۰ لاکھ روپے کی جائیداد ضبط کرلی۔ اسی طرح نوگام واگورہ، بی کے پورہ اور سرینگر کےعلاقوںمیں معراج الدین گنائی کی ۱۸مرلہ اراضی، ایک منزلہ مکان اور ایک گاؤ خانہ ضبط کرلیے گئے، جن کی قیمت تین کروڑ روپے ہے۔ سرینگر میں توقیراحمدمیر کا ایک دو منزلہ رہائشی مکان ضبط کرلیا۔
۱۲مئی : ضلع پونچھ، کرشنا گھاٹی سیکٹر میںانڈین فوج نے ایک جھڑپ کے دوران ایک مجاہد کو فائرنگ کرکے شہید کرنے کا دعویٰ کیاہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق نوجوان چودھری محمد شفیع کا بیٹا عامرساکن ہجیرہ دو روز سے لاپتہ تھا اورانڈین میڈیا اسے ’دہشت گرد‘قرار دے رہا تھا۔
۱۳ مئی : ضلع کشتواڑ کے علاقے چترو علاقے میں پولیس نے ایک استادمشکور احمد سمیت دو دیگر افراد کو گرفتار کرکے ان پر آزادی پسند سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا ہے ۔ پولیس نے شالیمار سرینگر میں ایک نوجوان ارباز علی بٹ کو بھی گرفتارکرلیا۔
۱۴ مئی : مقبوضہ جموں وکشمیر میں انڈین انتظامیہ نے ضلع کولگام کے علاقے چھانی گام میں ایک کشمیری کی تین دکانیں مسمار کردیں۔ تحریک حریت کے سینئررہنما اور ماہر تعلیم ولی محمد شاہ ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور قصبے میں انتقال کر گئے۔ وہ جماعت اسلامی جموں کشمیر کے رکن بھی تھے اور معروف کشمیری حریت قائد سیّد علی گیلانی شہید کے قریبی ساتھی تھے۔ دوسری طرف سوپور کی نیو کالونی کے رہائشی ماجد احمد صوفی کی ضلع بانڈی پورہ کے علاقے کہنوسا میں واقع ۱۰ مرلہ اراضی ضبط کی گئی۔
۱۵ مئی : ضلع بارہمولہ اور بڈگام علاقے میں انڈین انتظامیہ نے کشمیریوں کو گھروں، زمینوں اور دیگر جائیدادوں سے محروم کرنے کی استعماری پالیسی جاری رکھتے ہوئے مزید تین کشمیریوں غلام محمد بٹ ، غلام نبی وانی اور محمد ہاشم رینا کی زرعی اور رہائشی جائیدادیں ضبط کر لیں۔
گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے نان گزیٹڈ ملازمین کا احتجاج اب پورے مقبوضہ علاقے میں پھیل گیا۔ بارہمولہ کے عملے نے بھی زیر التواء بھرتی قوانین اور ترقیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ صورہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے طالب علموں نے بھی اپنی بی ایس سی میڈیکل ٹکنالوجی کی ڈگریوں کو تسلیم نہ کیے جانے کے خلاف سرینگر میں احتجاج کیا۔
جموں میں قابض حکومت نے عیدالاضحی سے قبل مویشیوں کی بین الاضلاع نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی، اور قابض انتظامیہ نے اپنی کشمیر دشمن پالیسیوں کے تحت جموں کے علاقے سدھرا میں گجروبکروال خاندانوں کے ۲۰ سے زیادہ گھروں کو مسمار کر دیا۔
_______________
ہم نے اپنے بچوں کی پرورش قرآن، مساجد اور اسلام کی محبت پر کی ہے، اور خدا کی قسم! ہم نہ پیچھے ہٹیں گے اور نہ بدلیں گے۔ ہم اپنے پوتوں کی پرورش بھی اسی طرح کرنا چاہتے ہیں۔
جہاد ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے، جس کے تحت ہم نے اپنے بچوں کی پرورش کی، اسی لیے ہمارے بچےمقابلے کے لیے، پہلی صفوں میں تھے۔ اور اللہ کے حکم سے اقصیٰ، فلسطین اور ہمارا پورا وطن آزاد ہوگا۔
لوگو! جان لو، کہ ہمارے بیٹے خندقوں میں تھے، ہوٹلوں میں نہیں، اور میں ان کی شہادت کی تمنا کرتی تھی نہ کہ زخمی ہونے کی۔ میں نے ان میں سے ہر ایک کی شہادت کے وقت سجدۂ شکر ادا کیا ہے۔میرے بیٹے اور پوتے غزہ سے نکلنے کے لیے تیار نہیں، اور وہ وہی تکلیف جھیل رہے ہیں جو باقی باشندے برداشت کر رہے ہیں۔
میں نے جنگ کے آغاز سے ہمام کو نہیں دیکھا اور نہ اس کی آواز سنی، سوائے اس کی شہادت سے دو ہفتے پہلے جب اس نے فون کیا تھا۔تب اس کے فون سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ہمیں الوداع کہہ رہا ہو۔
۲۰۱۴ء میں، میں نے خود کو ملبے کے نیچے دبا پایا، اور یہ محسوس ہوا کہ کوئی بھی نہیں بچ پائے گا۔ اسی موقعے پر میرا بیٹا اسامہ، اس کی بیوی اور ان کے تینوں بچے شہید ہوگئے۔ گھر پر راکٹ گرنے سے پہلے میرے سامنے میری پوتی امامہ سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہی تھی۔
اسلام آزمائش، صبر اور اللہ کی طرف سے ثابت قدمی عطا ہونے کا سرچشمہ ہے۔ ـــــــــــــــ
l
ایمانی روح سے لبریز اور عزیمت و استقامت میں رچے یہ کلمات، قابض اور غاصب اسرائیل کی بمباری میں چار بیٹوں اور پانچ پوتوں پوتیوں کی شہادت پر صحابیہ حضرت اُم سُلَیمؓ بنت ملحان کی یاد تازہ کر دینے والی ماں 'امل الحیہ کے ہیں، جو حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی اہلیہ ہیں۔ محترمہ امل الحیہ قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کو کھونے کے باوجود صبر و استقامت کا پہاڑ ثابت ہوئیں، جب ۱۲ مئی کو ان کے آخری بیٹے عزام الحیہ کی شہادت پر الجزیرۃ ٹیلی ویژن نے ان کے تاثرات جاننا چاہے۔
ان کے خاندان میں اب صرف عز الدین، تسنیم اور شیماء باقی رہ گئے ہیں، جنھوں نے غزہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔۲۰۰۸ء میں: ان کا بیٹا حمزہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوا۔ ۲۰۱۴ء میں: ان کا بڑا بیٹا اسامہ، اپنی اہلیہ ہالہ اور تین بچوں خلیل، حمزہ اور امامہ کے ہمراہ اس وقت شہید ہوا، جب ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے دو بچے امل اور عبد الرحمٰن بچ گئے تھے، جن کی عمر اس وقت تین سال سے کم تھی۔ گزشتہ برس: ان کا بیٹا ہمام اس وقت شہید ہوا، جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد اب ان کا سب سے چھوٹا بیٹا عزام بھی غزہ میں شہید ہو گیا۔ ان کا تیسرا بھائی عز الدین جنگ کے دوران شدید زخمی ہوا، جب کہ ان کے بچےخلیل اور محمد بھی شہید ہو چکے ہیں۔
امل الحیہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے ہمام، عزام اور عز الدین تینوں جڑواں تھے۔ ان میں سے دو حالیہ برسوں کی جنگ میں شہید ہوئے، جب کہ تیسرا بیٹا شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گیا ہے، تاہم وہ اپنی ٹانگ اور اپنے دو بیٹوں سے محروم ہو چکا ہے۔ عز الدین اپنی شدید تکلیف کے باوجود آج اب بھی غزہ میں مقیم ہے، جب کہ عزام کی شہادت سے قبل ٹانگ کٹنے کی تکالیف اور محاصرے کے باعث ادویات کی عدم دستیابی نے میرے دل کو بہت رنجیدہ کیا‘‘۔
حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی اہلیہ نے اپنے شہید بچوں میں سے کسی کو بھی الوداع نہیں کہا، جب ان کا بیٹا ہمام شہید ہوا تو انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، اور جب اسامہ اور عزام شہید ہوئے تو انھوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔انھوں نے ۲۰۱۴ء کی جنگ کے دوران اپنے بیٹے کے گھر پر ہونے والی بمباری کی تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پورا خاندان رمضان میں روزے سے تھا، اور میزائل گرنے سے چند لمحے قبل میرے سامنے میری پوتی سورۂ بقرۃ کی تلاوت کر رہی تھی۔ اس حملے میں، مَیں شدید زخمی ہوکر ملبے کے نیچے دب گئی تھی۔ اسی دوران مجھے پتا چلا کہ اسامہ، اس کی اہلیہ اور ان کے تین بچے شہید ہو چکے ہیں‘‘۔
عزام الحیہ اس سے پہلے ۲۰۲۲ء میں شدید زخمی ہوگئے تھے اور ترکیہ میں علاج مکمل کرنے کے بعد انھوں نے غزہ واپسی پر اصرار کیا تو بچوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی تھی کہ ان میں سے کون اپنے والدین کے ساتھ قطر جائے گا، تو اس میں ہمام کا نام نکلا، جو بعد میں دوحہ حملے میں شہید ہوگئے۔
ہمام — ایک مسجد کے امام اور قرآن کریم کے حافظ تھے۔ انھوں نے دوحہ میں اپنے نومولود بیٹے کے لیے عقیقہ کی تقریب منعقد کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا اور غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کسی بھی قسم کی خوشی منانے سے گریز کیا، یہاں تک کہ عید پر قربانی کرنے سے بھی رک گئے کیونکہ غزہ میں جنگ جاری تھی۔ امل الحیہ نے بتایا کہ ہمارے خاندان نے جنگ سے پہلے بھی کبھی سکون نہیں دیکھا، جس کی وجہ مسلسل سکیورٹی خطرات اور قتل کی کوششیں تھیں۔ ہم سرحد کے قریب حی الشجاعیہ کے مشرقی علاقے میں کئی برس تک مقیم رہے، اور بسا اوقات اسرائیلی ٹینک ہمارے گھروں کے دروازوں پر اس طرح پہنچ جاتے تھے کہ خاندان کے افراد کو اپنے کپڑے بدلنے یا وہاں سے نکلنے تک کا موقع نہیں ملتا تھا‘‘۔
محترمہ امل الحیہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ ’’ان کے بیٹوں نے اپنے آپ کو جہاد فلسطین میں قربان کیا ہے۔ قائدین کے بیٹوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صف اول میں ہوں اور اپنی قوم سے پیچھے نہ رہیں، جب کہ وہ قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہے ہوں‘‘۔
حماس کے رہنماؤں کے بچوں کی عیش و عشرت اور غزہ کے باشندوں کے دُکھوں سے دُوری کے الزامات کے جواب میں، امل الحیہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے بچوں نے انھی حالات کا سامنا کیا ہے جن میں غزہ کے دیگر فلسطینی رہ رہے ہیں، جن میں نقل مکانی، بھوک، خوف اور حملوں کا نشانہ بننا سب کچھ شامل ہے۔ میرے بیٹوں نے باربار مواقع ملنے کے باوجود غزہ چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔ فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی خاص بات یہ ہے کہ رہنما اور ان کے خاندان بھی اسی تقدیر کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ کسی قسم کی استثنائی مراعات سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے۔
امل الحیہ کا کہنا ہے: ’’الحیہ خاندان نے موجودہ جنگ اور اس سے پہلے کے واقعات میں ۱۷شہداء پیش کیے ہیں۔ میری بہن نے بھی موجودہ جنگ میں اپنے دو بیٹوں کو کھو دیا ہے، جب کہ ہمارے بہت سے رشتہ دار اور غزہ کے دیگر باشندے اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ غزہ اجتماعی قبرستان ہے۔ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ اپنے گھروں کے ملبے پر کھڑی ہو کر شہداء کی روحوں کو سلام پیش کروں‘‘۔
مَیں غزہ کے تمام باشندوں کو سلام پیش کرتی ہوں، جنھوں نے بہت کچھ قربان کیا ہے اور ایسی مشکلات کا سامنا کیا ہے جن کا بوجھ پہاڑ بھی نہیں اٹھا سکتے۔
ـــــــاُم الشہداء 'امل خلیل الحیۃ کی اس گفتگو نے امید و رجا، عزیمت و استقامت، جذبہ و عزم اور یقین و ثبات کا ایسا عملی نمونہ اور درس پیش کیا ہے جو ہمیں عہدِ رسالت کے ایمان افروز واقعات کی یاد دلاتا ہے ۔کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جن کا محض نفسیاتی تجزیہ کرنا ممکن نہیں، کیونکہ وہ عام انسانی برداشت کی حدود سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اس مقام سے پھوٹتے ہیں جسے پوشیدہ ایمانی طاقت کہا جاسکتا ہے، وہ طاقت جس کے ذریعے دین، انسانی نفس کی تشکیلِ نو کرتا ہے اور درد، محرومی اور موت کے ساتھ اس کے تعلق کو نئے سرے سے استوار کرتا ہے۔
یہ ایک گہرا علمی سوال ہے:کون سی چیز انسان کے اندر اس غیر معمولی برداشت کی صلاحیت پیدا کرتی ہے،اور انسانی دل اتنی بڑی محرومی کا بوجھ بغیر گرے کیسے اٹھا سکتا ہے؟
دراصل وجود کے بارے میں اسلامی تصورِ زندگی، موت اور آزمائش کے مفہوم کی ایک بالکل مختلف تفسیر پیش کرتا ہے۔ قرآنی تصور میں انسان محض عارضی دنیا کے لمحوں کا قیدی نہیں ہے، اور نہ اس کے فائدے اور نقصان کی پیمائش محض مادی پیمانوں سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایک وسیع تر اعتقادی پس منظر میں رہتا ہے، جہاں وہ دنیا کو ایک مستقل ٹھکانے کے بجائے ایک گزرگاہ، اور دارالجزا کے بجائے آزمائش کا گھر سمجھتا ہے۔
اسی لیے اسلام میں ’صبر‘ محض ایک اخلاقی فضیلت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم ایمانی مقام ہے جو براہِ راست اللہ پر یقین، اس کی حکمت پر بھروسے اور اس کے عدل و وعدے پر اطمینان سے جڑا ہوا ہے۔ جوں جوں انسان کے شعور میں آخرت پر ایمان بڑھتا ہے، اس کے دل پر دنیاوی محرومی کا غلبہ کم ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ اپنے بچوں سے محبت نہیں کرتا، بلکہ اس لیے کہ وہ موت کو فنا ہونے کے بجائے منتقلی، اور مستقل جدائی کے بجائے عارضی علیحدگی سمجھتا ہے۔
قرآن نے مومنوں پر واضح کیا ہے کہ آزمائش اس راستے کی فطرت کا حصہ ہے:
اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمائش کریں گے۔ اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ: ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘۔ انھیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے ربّ کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں۔(البقرۃ۲:۱۵۵-۱۵۷)
بلاشبہ امل الحیہ کی اس گفتگو میں نظر آنے والی ہمت نہ صرف شخصی قوت ہے، بلکہ ایک مکمل اعتقادی ساخت کا نتیجہ ہے جو ان کے شعور، احساسات اور واقعات کی تشریح کا طریقہ تشکیل دیتی ہے۔ ایمان کا یہ انداز فوری جذباتی جوش و خروش سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ عمر بھر کی قرآنی تربیت، جذبۂ ایمانی سے سرشار ہونے، کثرت سے آخرت کو یاد رکھنے اور خوشی و غمی میں اللہ کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کا نتیجہ ہے۔
جدید مادی ثقافت نے انسان کو اس کے محض فوری نفع بخش اور جذباتی پہلو تک محدود کر دیا ہے۔ دوسری طرف گہرا ایمان یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی نفس —جب اللہ کے ساتھ حقیقی طور پر جڑ جاتا ہے، تو —تکلیف کے جسمانی احساس سے تجاوز کرنے اور صبر و استقامت کے ایسے درجے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بہت سے لوگوں کی نظر میں عام انسانی طاقت سے باہر دکھائی دیتا ہے۔
چنانچہ اس طرح کے مناظر کو محض انفرادی بہادری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ انھیں عقیدے کے زیراثر ایک زندہ تجربے کے طور پر دیکھنا چاہیے؛ جب وہ عقیدہ محض ذہنی کیفیت سے بدل کر ایک ایسے یقین میں ڈھل جاتا ہے جو دل میں گھر کر لیتا ہے اور انسان کی اندرونی دنیا بدل دیتا ہے !
_______________
۱۵مارچ ۲۰۲۶ بمطابق ۲۶ رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ کو ڈاکٹر زینت کوثر کا انتقال ہوا، اناللّٰہ وانا الیہ رٰجعون۔ انھوں نے طویل عرصے تک تدریس اور تحقیق کے میدان میں کام کیا۔ وہ اسلامی و مغربی سیاسی فکر، خواتین کے مسائل اور جدید مغربی نظریات پر مسلسل لکھتی رہیں۔
موجودہ دور میں فکری سطح پر جو مباحث سامنے آ رہے ہیں، ان میں خاص طور پر عورت کے بارے میں مختلف تصورات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مباحث نے مسلم معاشروں میں کئی سوالات اور مغالطے پیدا کیے ہیں، جن کا تعلق شناخت، اقدار اور معاشرتی نظام سے ہے۔ اس صورتِ حال میں اہلِ علم نے ان نظریات کا تنقیدی مطالعہ کرنے اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر زینت کوثر کا کام اسی تناظر میں قابلِ مطالعہ ہے۔ انھوں نے مغربی فکر، خصوصاً ’تانیثیت‘ (Feminism)کا تجزیہ کیا اور اس کے بنیادی مفروضات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں عمومی طور پر تقابلی انداز پایا جاتا ہے، جہاں وہ ایک طرف مغربی نظریات کو پیش کرتی ہیں اور دوسری طرف اسلامی نقطۂ نظر کو واضح کرتی ہیں۔
۱۹۷۰ء سے لے کر ۱۹۸۰ء تک اپنی تعلیم کے دوران وہ علامہ محمد اقبال، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا ابو الکلام آزاد، سعید النورسی، ڈاکٹر علی شریعتی، ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی، اور علامہ یوسف القرضاوی رحمہم اللہ اجمعین کے علمی اثاثے کا مطالعہ کرتی رہیں۔ تاہم، زینت کوثر سب سے زیادہ مولانا مودودی کی فکر اور ان کے طریقۂ استدلال سے متاثر ہوئیں۔ اس لیے وہ اسلام کو ایک تصورِ حیات اور نظامِ زندگی کے طور پر پیش کرتیں ہیں۔ وہ مغرب کے فکری غلبہ سے متاثر یا مرعوب نہیں ہوئیں، بلکہ زندگی کی حقیقت اور سچائی کو علمی اور سائنسی بنیادوں پر پیش کرتی، اور مغربی تصورات و نظریات پر اپنی متعدد تحریروں میں تجزیہ کرتی نظر آتی ہیں۔
اسلامی سیاسی فکر کے حوالے سے انھوں نے جدید سیاسی تصورات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھا اور سمجھایا۔ وہ اس بات پر زور دیتیں کہ کسی بھی سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے اس کے پسِ پشت موجود فکری بنیادوں کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ وہ اسلامی سیاسی فکر کو بجاطور پر ایسے نظام کے طور پر پیش کرتیں، جو محض اقتدار یا ریاست کے ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس پہلو کو انھوں نے اپنی تحریروں میں واضح کیا ہے۔ خصوصاً Political Development: An Islamic Perspective میں۔ اسی طرح وہ مغربی نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے جدید مغربی نظریاتِ آزادی اور انفرادیت پر زور کو یورپی تاریخ کے مخصوص حالات کا نتیجہ قرار دیتی اور یہ واضح کرتی ہیں کہ ہر نظریہ اپنی تہذیبی بنیاد رکھتا ہے، اور اسے بغیر تنقیدی شعور کے دوسری معاشرتوں میں منتقل کرنا فکری الجھنوں کو جنم دے سکتا ہے۔ان مباحث کی وضاحت کے لیے اُن کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique میں تفصیلی گفتگو ملتی ہے۔
مغربی فیمی نزم کے تجزیے میں وہ اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ اس تحریک کی بنیاد ایک خاص تاریخی پس منظر میں رکھی گئی، جہاں عورت کو طویل عرصے تک معاشرتی اور قانونی سطح پر محرومی کا سامنا رہا۔ اس طرح پیدا ہونے والی تحریک نے مساوات اور آزادی کے مطالبات کو مرکزی حیثیت دی، لیکن وقت کے ساتھ اس میں ایک ایسا رجحان بھی پیدا ہوا، جس میں مرد اور عورت کے تعلق کو باہمی تعاون اور اعتماد کے بجائے ایک طرح کے تصادم (conflict) کے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ ان کے نزدیک یہی وہ پہلو ہے جہاں فیمی نزم کا تصور اپنا انسانی توازن کھو دیتا ہے۔
ڈاکٹر زینت کوثر اس کے مقابلے میں اسلامی تصورِ عورت کو پیش کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسلام میں عورت کی حیثیت نہ محض حقوق کی فہرست سے متعین ہوتی ہے اور نہ اسے کسی ایک سماجی کردار تک محدود کیا جاتا ہے، بلکہ اسے ایک ایسے نظام کا حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں فرد، خاندان اور معاشرہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اس تناظر میں وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عورت کے حقوق اور ذمہ داریوں کو اس کے فطری کردار اور معاشرتی توازن کے ساتھ ہی دیکھنا ضروری ہے۔ یہ بات انھوں نے اپنی کتاب Women’s Empowerment and Islam میں واضح کی ہے۔
اسی بنیاد پر ان کی فکر میں ’مساوات‘ (Equality) کو ’یکسانیت‘ (Sameness) کے ہم معنی نہیں سمجھا جاتا۔ وہ اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ مرد و عورت کے درمیان بعض فطری اور معاشرتی فرق اور فطری امتیازات کو نظر انداز کر کے مکمل یکسانیت پر زور دینا نہ تو عملی طور پر ممکن ہے اور نہ معاشرتی توازن کے لیے مفید۔ اس کے بجائے وہ ایک ایسے توازن (balance) کی بات کرتی ہیں، جس میں دونوں کی حیثیت اور کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ہم آہنگ نظام تشکیل دیا جائے۔
جیساکہ ہم نے لکھا ہے، ان کی علمی خدمات میں نمایاں ترین پہلو مغربی نظریات کا تنقیدی مطالعہ ہے۔ ان کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique اسی سلسلے کی ایک اہم کاوش ہے، جس میں انھوں نے مغربی سیاسی افکار جیسے سیکولرزم، لبرلزم وغیرہ کو ان کے فکری پس منظر میں رکھ کر دیکھا ہے۔ اس کتاب میں وہ پہلے کسی نظریے کی داخلی ساخت اور اس کے تاریخی تناظر کو واضح کرتی ہیں، پھر اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی کتاب Colonization to Globalization: Might is Right Continue میں مغربی استعمار کے مسئلے کو ایک مسلسل جاری عمل کے طور پرپیش اور واضح کرتی ہیں کہ استعمار صرف اور نوآبادیات یا محکوموں کے قدرتی وسائل اور زمینوں پر قبضہ کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی معاشروں کی فکری اور تہذیبی بنیادوں کو بدلنا بھی اس کا ایک اہم پہلو تھا۔ ان زیردستوں کے ہاں تعلیم کے نظام، ثقافتی ترجیحات اور سماجی ڈھانچے میں روپذیر تبدیلیاں اسی عمل کا حصہ تھیں۔
اس کتاب میں تاریخی مثالوں کے ذریعے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نوآبادیاتی دور نے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے سوچنے کے انداز کو بھی متاثر کیا۔ اسی لیے آزادی کے بعد بھی بہت سے معاشرے مکمل طور پر اس اثر سے نکل نہیں سکے، بلکہ مختلف صورتوں میں وہی اثرات باقی رہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ’نو استعماریت‘ (Neo-Colonialism) کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، جہاں براہِ راست قبضے کے بجائے معاشی، فکری اور ثقافتی ذرائع کے ذریعے اثر قائم رکھا جاتا ہے، اور عالمگیریت (Globalization) کے تصور کو بھی اسی زاویے سے دیکھا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی ربط اور تعاون کا نظام معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا اس کے ذریعے واقعی تمام معاشروں کو یکساں مواقع مل رہے ہیں، یا ایک خاص طرزِ فکر اور نظام کو عالمی سطح پر غالب کیا جا رہا ہے؟ یقینا طاقت کے مراکز تبدیل ہونے کے باوجود اس سامراجی قوتوں کا اثر آج بھی برقرار ہے، صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ اس طرح مغربی سامراجیت نے دورِ استعمار سے لے کر موجودہ عالم گیریت تک کے عمل کو برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
ایک اور اہم جہت اسلامی سیاسی فکر ہے، جس کا اظہار انھوں نے Political Development: An Islamic Perspective میں کیا ہے۔ اس کتاب میں وہ سیاسی ترقی کے مغربی تصورات کا جائزہ لیتے ہوئے وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ مسلم معاشروں میں سیاسی نظام کی تشکیل کن اصولوں پر ہونی چاہیے؟ یہاں بھی ان کا انداز تقابلی ہے، جہاں وہ مغربی ماڈلوں کو بیان کرنے کے بعد اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک متبادل زاویہ پیش کرتی ہیں۔
خواتین اور معاشرت کے موضوع پر ان کی متعدد کتابیں ایک دوسرے سے مربوط انداز میں سامنے آتی ہیں۔ اپنی کتاب Muslim Women at the Crossroads میں انھوں نے مسلم معاشرے میں عورت کو درپیش فکری اور سماجی مسائل کا تجزیہ کیا ہے، جہاں ایک طرف مغربی اثرات ہیں اور دوسری طرف بے شمار داخلی کمزوریاں۔ پھر Women in Feminism and Politics: New Directions Towards Islamisation میں وہ ’فیمی نزم‘ کے مختلف رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس بحث کو کس طرح نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ ان کی کتاب Women’s Empowerment and Islam ایک نسبتاً منظم فریم ورک پیش کرتی ہے، جس میں نسوانی اختیاریت کے اسلامی اقدار کے تصور کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کے علمی کاموں کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے افکار کو مختلف زاویوں سے تحقیقی مقالات کے ذریعے بھی پیش کرتی رہیں۔ ان کے مقالات میں اقوامِ متحدہ کے صنفی پروگراموں پر تجزیاتی مطالعے، عالمگیریت کے اثرات، اور جدید فکری مباحث میں اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان مقالات میں ان کا انداز زیادہ براہِ راست اور تجزیے کا ہوتا ہے، جہاں وہ کسی مخصوص مسئلے کو لے کر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہیں۔ اگر ان کے علمی کام کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ ان کی فکر کا مرکزی محور’اسلامی بنیادوں پر معاصر مسائل کی ہمدردانہ اور مجتہدانہ تفہیم‘ ہے۔
ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات کو مختلف سطحوں پر سراہا بھی گیا، جن میں انھیں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی ملیشیا (IIUM) کی طرف سے Excellent Researcher Award اور Quality Research Award سے نوازا گیا۔ اسی طرح ۲۰۰۶ء میں انھیں نمایاں خدمات انجام دینے کی بناپر Outstanding Author Certificate بھی دیا گیا۔ مزید یہ کہ انھیں Marquis Who’s Who in the World میں بھی شامل کیا گیا۔
زندگی کے آخری زمانے تک ان کے ہاں علمی کام سے وابستگی برقرار رہی۔ مختلف موضوعات پر اپنے فکری دائرے کو مسلسل وسعت دینے میں وہ کوشاں رہیں۔ امت کے مسائل، بالخصوص مسئلۂ فلسطین پر ان کی حساسیت ان کے علمی، عملی اور ملّی شعور کا حصہ رہی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے علمی کام کو ایک مجموعی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت مزید نمایاں ہو جاتی ہے، تاکہ ان کی تحریروں اور افکار سے استفادہ کیا جا سکے اور معاصر مباحث میں ان کے پیش کردہ نکات کو سمجھا جا سکے۔ یہی طرزِ مطالعہ آئندہ علمی کام کے لیے بھی ایک متوازن بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے انتقال سے قبل ان کی زندگی میں ہی ان کی علمی خدمات پر تحقیق کی گئی، جسے انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی آف ملیشیا کے شعبہ قرآن و سنت کی ایک طالبہ مدیحہ شہزادی نے مقالہ کی صورت میں پیش کرکے ۲۰۲۴ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
اللہ تعالیٰ ان کی علمی کاوشوں کو قبول فرمائے، اور اپنی رحمت سے نوازے: اللهم اغفر لها وارحمها، وتجاوز عن سيئاتها، واجعل علمها النافع صدقة جارية لها، وارفع درجاتها في الجنة. آمين۔
_______________
ایک خاص قسم کے ’معتدل‘ مسلم ’عالم‘ کو سامراج بے حد پسند کرتا ہے۔ ایسا عالم کہ جس کے لہجے میں خاص قسم کی نرمی و خودسپردگی، دھونس اور یلغار کے سامنے مزاحمت سے چِڑ بظاہر مذہبی متون پر عبور، اور ہمیشہ اس بات کے لیے آمادہ اور ’خدمت کے لیے حاضر‘ ہو کہ مظلوموں کو سمجھائے کہ ان کی بے چینی اور اضطراب ایک ’بغاوت‘ غیر عملی، قبل اَز وقت، جذباتی، غیر اخلاقی اور مناسب حساب کتاب سے عاری ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے نائن الیون [۱۱ /۹ ]کے بعد کے دور میں اسی کردار کو کمال کے درجے تک پہنچایا ہے جسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ وہ محض ’اعتدال پسندی‘ کے علَم بردار نہیں، بلکہ ایک ’ہمہ پہلو شکست‘ کے نظریہ دان ہیں۔
ایک پوڈکاسٹر شہزاد غیاث کے ساتھ حالیہ دنوں میں ریکارڈ کردہ انٹرویو کے دوران انھوں نے اپنے آپ کوکسی باریک بین سیاسی مفکر کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسے ذہن کی عکاسی کی ہے، جو تجرید کو گہرائی، شکست خوردگی کو حقیقت پسندی، اور سامراجی فہم کو قانونِ الٰہی سمجھ بیٹھا ہے۔ یہ انٹرویو سیاسی تجزیہ کم اور نوآبادیاتی مسلمانوں کے لیے ایک تربیتی نصاب زیادہ ہے، جس میں یہ پیغام پایا جاتا ہے: ’’درجہ بندی کو قبول کرو، خلل سے بچو، خاموشی سے تعمیر کرو، اور براہِ کرم طاقت وروں کے لیے زحمت کا باعث نہ بنو‘‘۔
موصوف نے بار بار ’دنیا کے قوانین‘ کا حوالہ دیا، گویا جغرافیائی سیاست کششِ ثقل جیسے کسی اخلاقی اصول کے تابع ہو، نہ کہ پابندیوں، قبضوں، قتل ، فوجی اڈوں، کٹھ پتلی بادشاہتوں اور امریکی ’ضابطۂ کاری‘کی وہ دلکش اصطلاح میں چھپا وہ جبر، جس کا مطلب ہے: ’’سب قوانین تمھارے لیے،مگر ہرسطح پر کھلا استثنا ہمارے لیے ہے‘‘۔ یہ تجرید ’معصوم‘ نہیں، بلکہ اس کا ایک مقصد ہے۔ سامراج دُنیا کو اپنے وضع کردہ ’دُنیا کے قوانین‘ کے نیچے لاکر جکڑتا ہے، اور اپنے متعین کردہ ’ملزموں‘ کو ’مجرم‘ قرار دے کر منظر سے غائب کردیتا ہے، اور ان کے لیے اپنی بات کہنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا۔ ایسے بے رحم موسم میں وہ خاص طور پر مسلم دُنیا کی قیادتوں کو اُبھارتا، سہارا دیتا اور اختیار تھماتا ہے۔
اسی لیے غامدی صاحب کے طرزِ فکر میں، مسلم دُنیا کی سیاست اکثر بے دانت، گونگی، بہری مگر عملاً سفاک بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی مزاحمت کے نتائج پر تو طویل گفتگو ئیں کرتے ہیں، لیکن وہ اُن پر قبضے، محاصرے، نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ یا ریاستی دہشت گردی پر بات کرنے کے بجائے ’دُور اندیشی‘ کے لفظ سے آلودہ دکھائی دیتی ہیں۔ مظلوموں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ احتیاط سے حساب لگائیں، جب کہ ظالم کو ایک اٹل حقیقت مان لیا جاتا ہے۔ اسرائیل بمباری کرتا ہے، امریکا پابندیاں لگاتا ہے، بہت سے مسلم ممالک کے حاکم اپنے شہریوں کو غائب کرنے سے نہیں چُوکتے، بادشاہ تباہی کو مالی مدد کا سہارا دیتے ہیں اور غامدی صاحب پوچھتے ہیں کہ ’’کیا متاثرین نے قوت کے توازن کا درست اندازہ لگا لیا تھا؟‘‘
یہ حقیقت پسندی نہیں، ’من مانی موقف پسندی‘ ہے۔ ایسی موقف پسندی، جو کمزوروں کی مزاحمت پر غور کرتے وقت نہایت سخت گیر ہو جاتی ہے، اور طاقت وروں کے جرائم پر بات کرتے وقت عجیب طرح سے شاعرانہ اور فاختانہ طرزِعمل میں ڈھل جاتی ہے۔
ایران کے بارے میں کہتے ہیں: ایران نے انقلاب سے پہلے ’اسرائیل کو قبول‘ کر لیا تھا اور اس لیے کوئی قابلِ ذکر تنازع نہ تھا۔ لیکن وہ اس حقیقت کو گول کرجاتے ہیں کہ شاہ کا ایران کوئی غیر جانب دار جنت نہ تھا کہ جسے مذہبی حکمرانوں نے بگاڑ دیا ہو۔ وہ مغرب کی پشت پناہی سے چلنے والی ایک پولیس ریاست تھی، جو اندرونی جبر اور بیرونی سامراجی وابستگی پر قائم تھی۔ اس کا ’استحکام‘ دراصل اس جوتے کا استحکام تھا، جو معاشرے کی گردن پر جما کر رکھا ہوا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر جوتا واشنگٹن میں پالش کردہ ہو تو کچھ لوگ اسے ’تہذیب‘ سمجھ لیتے ہیں۔
نرم سے نرم الفاظ میں بھی بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے، ان کا فکری سانچا نوآبادیاتی مزاحمت کی حرکیات کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہے، کیونکہ ان کے فکری ڈھانچے میں ’نوآبادیات فہمی‘ کے لیے کوئی سنجیدہ جگہ نہیں ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ’’مسلمان علم اور اجتماعی اخلاق میں ناکامی کے باعث زوال پذیر ہوئے‘‘۔ ایک جملے میں یہ کتنا ’روشن خیال‘ موقف ہے۔ اس دانش ورانہ ڈانٹ میں، نوآبادیاتی تشدد، پس منظر کے ساتھ گم ہو جاتا ہے، بغاوتیں حاشیہ بن کر رہ جاتی ہیں، پابندیاں محکمہ موسمیات کا حال بن جاتی ہیں، اور قبضہ ہی ایک کھرا سچ رہتا ہے۔ یورپی و امریکی درندگی کے ساتھ سارے مظلوم، جہالت کی گٹھڑی بن کر اس خطبے میں گم ہو جاتے ہیں، جو تہذیبی ناکامی پر ملامت کرتا ہے۔ گویا، اگلا خطبہ غالباً یہ ہوگا کہ ’’غزہ کے محکوم عوام کو اپنی پڑھائی بہتر کرنی چاہیے تھی‘‘۔
یہ کہنا کہ ’’مسلمانوں نے پانچ صدیوں میں علم کے میدان میں کوئی معنی خیز حصہ نہیں ڈالا‘‘، کوئی تجزیہ نہیں بلکہ تہذیبی سینہ کوبی ہے، جو سنجیدگی کا لبادہ اُوڑھ کر خود کو کوڑے مارنے کی رضاکارانہ مشق ہے۔ یہ وہ مبالغہ ہے جو اس وقت تک کوئی سنجیدہ فرمان لگتا ہے، جب تک یہ یاد نہ آئے کہ قوموں کو محض سلطنتوں کے چارٹس اور نوبیل انعامات کی گنتی میں نہیں تولا جا سکتا۔ مسلم معاشروں نے نوآبادیاتی تباہی اور آمرانہ گھٹن کے باوجود سائنس دان، شاعر، فقہا، انجینئر، فلسفی، انقلابی اور اہلِ فکر پیدا کیے ہیں۔ مگر موصوف کا مقصد تاریخی صحت کا اعتراف نہیں، بلکہ ایک مخصوص خودسپردگی پر مبنی تربیتی حکمتِ عملی تھونپنا ہے: ’مسلمانوں کو پہلے رُسوا کیا جائے تاکہ اگلے قدم میں انھیں رام کیا جاسکے‘۔
غامدی صاحب کی سیاسی لغت اور فکریات،اخلاقی توجہ کو طاقت کے ڈھانچوں سے ہٹا کر مزاحمت کرنے والوں کی ’بے احتیاطی‘ پر مرکوز کر دیتی ہے۔ اُن کے فرمان کے مطابق: فلسطین، صہیونی آبادکار نوآبادیات اور نسلی تباہی، محاصرے اور نسلی امتیاز کی خونیں تفصیل کے بجائے خود فلسطینیوں کی ناقص حکمتِ عملی کی مثال بن جاتا ہے۔ کشمیر پر قبضہ ایک ڈپلومیٹک اور عسکری ناکامی، بے بسی اور بے بصیرتی کا قصہ نہیں رہتا ہے بلکہ نادانی کا سبق بن جاتا ہے۔ ایران عشروں کے دباؤ، گھیرا بندی اور تخریب کا نشانہ نہیں رہتا، بلکہ انقلابی زیادتیوں کا نشان بن جاتا ہے۔
اس فکر کی سب سے نمایاں پہچان، اس کی سفاکانہ سنگ دلی ہے۔ بلاشبہ مزاحمتی تحریکوں کے کسی پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے طریقوں پر تنقید بھی ہوسکتی ہے، حتیٰ کہ بعض اقدامات کی مذمت بھی کی جاسکتی ہے۔ مگر غزہ، لبنان، ایران، کشمیر یا افغانستان کے بارے میں کسی ایک تجزیہ کار کا جذبات سے عاری ہوکر بات کرنا، پرلے درجے کی اخلاقی بے حسی ہے۔ بچے ملبے تلے دفن ہو رہے ہیں، خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ رہے ہیں، قیدیوں پر وحشیانہ تشدد ہو رہا ہے، معاشرے بھوک اور ننگ کا شکار ہیں اور ’معتدل‘ عالم یاد دلاتا ہے کہ اسکول کی ڈگری اور گنتی کی صلاحیت اہم ہے۔
یقیناً صلاحیت و تعلیم اہم ہے، حکمتِ عملی اہم ہے اور نتائج بہت اہم ہیں۔ مگر یک جہتی کے بغیر حکمت، حکمت نہیں، جسم و جان اور روح و تہذیب میں رچی بزدلی کا درس ہے۔ وہ ’احتیاط‘ جو کبھی طاقت سے ٹکراتی نہیں، وہ مزاجاً ظلم اور ظالم سے تعاون بن جاتی ہے۔ اور وہ مخصوص ’الٰہیات‘ جو مظلوم کو غیر معینہ مدت تک صرف جینے کی تلقین کرے، مگر مزاحمت کا کوئی سنجیدہ نظریہ نہ دے، وہ نبویؐ احتیاط نہیں بلکہ روحانی خود سپردگی و بزدلی کا نقارہ ہے۔
اسی لیے نائن الیون کے بعد مذکورہ صاحب کا کردار و بیان اہم ہے۔ وہ ایک ایسے دور کے لیے کچھ طاقت ور حلقوں کے ’محبوب‘ مصلح کے طور پر سامنے آئے، جو ’طاقت ور‘ حلقے متن سے دُوری پر رکھتے، اور لبرل اشرافیہ کے لیے باعثِ اطمینان بن کر ’اچھے‘ اور ’خطرناک‘ مسلمانوں میں فرق کی گنتی کرتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی نام نہاد ’روشن خیالی و اعتدال پسندی‘ کے تحت یہ طرزِ فکر اُس ریاست کو خودساختہ مذہبی جواز فراہم کرتا رہا ہے، جو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ تھی۔ اور اب یہی منطق عوامی مزاحمت کے بارے میں شکوک کو ہوا دیتی ہے۔
یہ سفر حادثاتی نہیں ہے۔ سامراج کو درکار ’معتدل مسلمانوں‘ کی کھیپ کی تیاری مطلوب ہے۔ وہ مسلمان جو محض نام نہاد ’انتہاپسندی‘ کا مخالف نہیں ہوتا۔(اگرچہ انتہا پسندی نہ قابلِ تعریف ہے اور نہ نظرانداز کرنے کے قابل، بلکہ یہ لفظ سامراجی لغت میں مخصوص پس منظر کے ساتھ مخصوص حلقوں پر ہی تھوپا جاتا ہے) مگر صرف اس حد تک نہیں رُکتا بلکہ وہ اس کھڑکی سے فائدہ اُٹھا کر پورا کھیل کھیلتا ہے اور ’انتہاپسندی‘ کی تعریف کو اس قدر وسیع کردیتا ہے کہ ہرسطح کی مزاحمت اپنی جگہ مشکوک بن جاتی ہے۔ وہ مسلم غصے کی شدت سے مذمت کرتا ہے اور سامراجی یا سامراج نواز مقامی عناصر کے تشدد و سفاکیت کی مذمت کرتے وقت الفاظ اس کے گلے میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔
موصوف کے مداح ہماری ان گزارشات کو ’ناانصافی‘ قرار دیتے ہوئے کہیں گے کہ ’وہ مستقل مزاج ہیں‘۔ واقعی ان کی یہ ’مستقل مزاجی‘ اس بات میں ہے کہ وہ مستضعفین اور زمین کے دبے کچلے لوگوں کو اپنی سیاسی فکریات کا نقطۂ آغاز بنانے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ مخصوص لفاظی کا کھیل کھیلتے ہوئے ترتیب، استحکام، صلاحیت اور نتائج کی اصطلاحوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ یہ سب الفاظ اور اُمور اہم ہیں، مگر جب یہ سب اصطلاحیں اور الفاظ ظالم کا ہتھیار بن جائیں تو انصاف ایک جھوٹا خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ مظلوم کو تھپکی دے کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک وہ آزادی کا ’اہل‘ نہ ہو جائے۔
تاریخ، انتظار کرنے والوں نے نہیں بنائی۔ نوآبادیاتی حاکمیت اور جبر کے خلاف جدوجہد ہمیشہ خطرے، غلطیوں، قربانیوں اور ناممکن فیصلوں سے آگے بڑھی ہے۔ اس جدوجہد میں تخیل اور عزم شامل تھا، وہی شے جو غامدی صاحب کی سیاست میں گم ہے۔ ان کی دنیا اُن جامد درجہ بندیوں کے بھیس میں سامنے آتی ہے: ’’طاقت ور عمل کرتا ہے، کمزور برداشت کرتا ہے، اور ’عالم‘ وضاحت کرتا ہے‘‘۔
مگر اب دنیا بدل رہی ہے۔ سامراج مطلق العنان نہیں، صہیونیت ناقابلِ شکست نہیں، مسلم حکمران اور مسلم عوام ایک نہیں، اور کوئی ایسا مدرسہ نہیں جہاں شکست خوردہ بچّے ایسے ’ناصحین‘ کی نصیحت کے منتظر ہوں۔ یہ ایک زخم زخم تاریخی قوت ہے زندہ اور دھوکا کھائی ہوئی، مگر خاموش ہرگز نہیں۔ ان صاحب کا المیہ یہ نہیں کہ وہ احتیاط کی تلقین کر رہے ہیں، احتیاط تو بہرحال ضروری ہے۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کی احتیاط سیاسی خاموشی اور موت میں ڈھلنے کا درس دیتی ہے، اور یہ گونگاپن اور اطاعت انگیز فکریات، غلامی کا شکنجہ کسنے سے زیادہ کچھ نہیں۔انھوں نے خودکشی سے بچنے کے حکم کو، مقابلے سے بچنے کا حکم سمجھ لیا ہے، اخلاقی پسپائی کو حکمتِ عملی کی فالج زدگی سے خلط ملط کردیا ہے، اور اعتدال کو مخملی پٹے سے باندھ کر رکھ دیا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں کو بے باک ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم فکر کو محض اس نصیحت تک محدود کر دینا چاہیے کہ مظلوم، جبر کے باڑے میں بند مجبور بھیڑ بکریوں کا سا رویہ اختیار کریں؟ موصوف کا جواب غالباً ’ہاں‘ ہے۔ سامراج اس سے بہتر خطیب اور خطبہ نہیں مانگ سکتا تھا! (ترجمہ: س م خ)
_______________