اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵ (البقرۃ۲:۱۹۵) ’’بے شک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتاہے ‘‘۔
قرآن کریم میں یہ آیت مزید چار مقام (اٰل عمرٰن۳: ۱۳۴،۱۴۸، المائدۃ ۵:۱۳،۹۳) پر آئی ہے۔ مترجمینِ قرآن نے ’ محسنین‘ کا ترجمہ اس طور پر کیا ہے: احسان کرنے والے،احسان کی روش رکھنے والے، نیکی کرنے والے، نیک کام کرنے والے، نیک لوگ،نیک عمل لوگ،نیک کردار لوگ، نیکو کار، خوب کار،خوبی کے ساتھ کام کرنے والے۔ مذکورہ بالا آیت سے پہلے کی آیت؍ آیات اور ان کے الفاظ کو ذہن میں رکھا جائے تو ’ محسنین‘کا مفہوم مزید واضح ہوجاتا ہے۔
اِن آیات میں ( اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵ اللہ محسنین کو پسند فرماتا ہے ) سے پہلے اہلِ ایمان کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں ان کا مفہوم یہ ہے:اللہ کی راہ میں، فقراء،مساکین و محتاجوں کی اعانت میں مال خرچ کرنے والے، بخل سے اپنے آپ کو بچانے والے، غصہ پر قابو رکھنے والے، لوگوں کے ساتھ عفو و در گزر کا معاملہ کرنے والے،گناہ کے ارتکاب کے بعد متنبہ ہونے پر توبہ کرنے والے، گناہ سے پرہیز کا پختہ ارادہ کرنے والے، روز مرّہ زندگی میں (جسمانی، قلبی، فکری و عملی) پاکیز گی اختیار کرنے والے۔ اس کے علاوہ بعض آیات میں جن کاموں کی ہدایت کے معاً بعد اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۱۹۵ کا ذکر ہے وہ ہیں : گناہ سے پرہیز کرنا، خوفِ الٰہی سے دل کو معمور رکھنا، تقویٰ اختیار کرنا، کسی سے غلطی یا خطا سرزد ہونے پر اسے معاف کردینا یا درگذر سے کام لینا (یعنی مشتعل ہوکر انتقام نہ لینا)، نیکی کا راستہ اختیار کرنا اور دوسروں کو اس کی دعوت دینا۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ اوصافِ محمودہ کے فیوض و ثمرات پر غور کیا جائے تو ان سب میں لوگوں کے ساتھ بھلائی یا احسان کرنے کا معاملہ غالب نظر آتا ہے، یعنی اُن کاموں کے سیاق میں اس آیت کا ذکر ہے جن سے معاشرے کے مختلف طبقات کے لوگوں کا بھلا ہوتا ہے، انھیں راحت پہنچتی ہے یا وہ تکلیف دہ، ضرر رساں ا ور اذیت ناک چیزوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
سچ یہ کہ عملِ صالح یا بھلائی کے کاموں کے بڑے فیوض و برکات ہیں۔ ان کاموں سے دوسروں کا بھلا تو ہوتا ہی ہے، خودکرنے والے کے لیے بھی یہ باعثِ خیر بنتے ہیں ۔ لوگوں کی بھلائی کے کام کرنے والے کو ذہنی سکون ملتا ہے۔ وہ بہت سی ایسی حرکتوں سے دُور ہوجاتا ہے جو ربِ کریم کی ناراضگی کا موجب بنتی ہیں، اور سب سے بڑا انعام یہ کہ وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ نیک کام انجام دیتے رہنے پر جو اجرِ عظیم نصیب ہوگا، وہ اس کے لیے ابدی زندگی میں کام آنے والا قیمتی ترین خزانہ بن جاتا ہے۔ بلا شبہ نیکیاں دنیوی واُخر وی دونوں زندگیوں میں منفعت بخش ثابت ہوتی ہیں۔
یہ نکتہ اُن آیات پر تدبر و تفکر سے بخوبی واضح ہوتا ہے جن میں عمل صالح یا کسی نیک کام کی ہدایت و نصیحت کے بعد اس طرح کے الفاظ مذکور ہیں: ذٰلِکُمْ خَیرٌ لَکُمْ ، فَھُوَ خَیْرٌ لَہُم ، لَکَانَ خَیْرًا لَہُمْ، خَیْرًا لِاَنْفُسِکُمْ ( یہی تم سب کے لیے بہتر ہے، پس یہ اعمال ان کے لیے باعثِ خیر ہیں ، [ انھوں نے یہ کام انجام د یا ہوتا ] تو ان کے لیے موجبِ خیر بنتا، خود تمھارے لیے اسی [ نیک عمل] میں بھلائی ہے)۔
ان آیات میں خیر یا بھلائی کی خوش خبر ی سے پہلے جن باتوں یا کاموں کی ہدایت یا نصیحت کی گئی ہے اُن کا ذکر بھی اہمیت سے خالی نہ ہوگا، اور وہ یہ ہیں: صرف اللہ کو معبود مانو اور اسی پر صدقِ دل سے ایمان لائو،اللہ سے ڈرو،گناہوں سے اپنے آپ کو بچائو، اللہ کی نافرمانی اور عہد شکنی سے باز آجائو،اللہ کی ہدایات کو غور سے سنو،ان پر عمل پیرا ہوجائو، اللہ کی نصیحتوں کو عمل میں لائو، احکامِ الٰہی پر عمل کرنے کے دوران پہنچنے والی تکالیف کو برداشت کرو ، جہاد فی سبیل اللہ میں اپنے جان و مال کی قربانی دینے کے لیے تیار رہو، اپنے مال کو نیک کاموں میں خوب خرچ کیا کرو، رشتہ دار، مسکین اور مسافر کا حق رضائے الٰہی کی طلب میں ادا کیا کرو، کاشانۂ نبویؐ پر حاضری کے وقت صبر و تحمل سے کام لو اور آپؐ کا ادب و احترام پوری طرح ملحوظ رکھو ، کسی کے گھر میں داخلہ سے پہلے اہلِ خانہ سے اجازت لے لو اور استیذان کا مناسب طریقہ اختیار کرو۔ مذکورہ بالا باتوں یا اعمال پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ یہ سب کام اللہ رب العزت کو راضی کرنے والے، دنیا و آخرت دونوں جہاں میں خیر و برکت کا باعث بننے والے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اعمالِ حسنہ نہ صرف ان کے انجام دینے والوں کے لیے نفع بخش بنتے ہیں اور ان کے آخری انجام کو بہتر بنانے والے ہوں گے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی راحت و آرام اور سکون و سرور کے موجبِ بنتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جن کاموں کو اللہ رب العزت پسند فرماتا ہے اور ان کے انجام دینے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے، ان کے باعثِ خیر و برکت ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے اور یہ دینِ برحق سراپا خیر ،خیر کا داعی اور کارِ خیر کا زبردست محرّک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ بر حق کے ماننے والوں یعنی مومنین و صادقین کا خاص شیوہ ہی خیر یا نیکی کی طلب ، خیر کے اکتساب میں سبقت کرنا اور خیر کی دعوت دینا ہو جاتا ہے۔
قرآن نے اہلِ ایمان کو بار بار نیکی کمانے کے میدان میں مقابلہ آرائی کی ترغیب دی ہے اور اس کے لیے ان الفاظ میں دعوت دی ہے: فَاسْتَبِقُوْا الْخَیْرٰتِ ۰ۭ (البقرۃ۲: ۱۴۸، المائدۃ ۵:۴۸ ) ’’ پس بھلائی کے کاموں کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کرو‘‘۔ وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۰ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ۱۳۳ (اٰل عمرٰن ۳: ۳۳ا، الحدید ۵۷:۲۱) ’’اپنے ربّ کی مغفرت اور اس جنت کے لیے آگے بڑھوجس کی وسعت آسمانوں و زمین کی طرح ہے۔ یہ پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ مغفرت ِ الٰہی اور جنت کی طلب میں تیزی سے آگے بڑھنے سے مراد اُن اعمال کی راہ میں آگے بڑھنا ہے جو اللہ کی مغفرت نصیب کرنے والے اور جنت کا مستحق بنانے والے ہیں۔
یہاں یہ ذکر بھی بر محل معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ فاطر کی آیت۳۲ میں کتابِ الٰہی پر عمل یا اس میں کوتاہی کے لحاظ سے لوگوں کو تین طبقوں میں تقسیم کرکے ان لوگوں کو بہت بڑے فضل سے مشرف قرار دیا گیا ہے جو اکتسابِ خیر میں دوسروں سے آگے بڑھ جانے کی فکر و کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ارشادِ ربّانی ہے: فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ۰ۚ وَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌ۰ۚ وَمِنْہُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِـاِذْنِ اللہِ۰ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ۳۲ۭ (الفاطر۳۵:۳۲) ’’ان میں سے کوئی تو اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی میانہ روی اختیار کرنے والا ہے، اور کوئی اللہ کی توفیق سے نیکیوں (کی کمائی) میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے‘‘۔
مزید یہ کہ ایک حدیث کے مطابق مومن کو خیر سے کبھی سیری نہیں ہوتی، یہاں تک کہ وہ اپنے راحت بھرے ٹھکانے جنت کو پہنچ جا تا ہے: لایشبع المومن من خیر یسمعہاحتّی یَکونَ منتہاہ الی الجنۃ (جامع ترمذی، ابواب العلم)، یعنی مومن کو خیر کا کام کیے بغیر چین ہی نہیں ملتا۔
اس حدیث کی تشریح کے آخر میں مولانا محمد فاروق خاں رقم طراز ہیں: ’’نیکی سے کسی کی رغبت اس بات کی واضح علامت ہے کہ اللہ اسے چاہتا ہے اور اگر آدمی بجائے بھلائی اور خیر کے کسی اور چیز کے لیے مستعد ی دکھا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ و ہ اللہ کا مقبول بندہ نہیں ہے۔ اسی لیے اللہ نے اسے دوسرے کاموں کے لیے چھوڑ دیا‘‘ دو( کلام نبوت،م،محمد فاروق خاں، ص۱۷۳)۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی بندے کو محبوب بنالینا یقینی طور پر بہت بڑا اعزاز ہے جس سے خیر سے محبت و رغبت رکھنے والے مشرف کیے جاتے ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا نہیں۔ وہ اپنے بندوں کو اکتسابِ خیر یا نیکی کمانے کی راہیں دکھاتا ہے۔ انھیں کارِ خیر کی تو فیق بخشتا ہے،نیک کام کے اجرِ جزیل اور ثوابِ کثیر کو اپنی کتابِ ہدایت میں بار بار بیان فرماکر نیکیاں کمانے کی تر غیب دیتا ہے اور اس میدان میں مسابقت کو مومن کا امتیازی وصف قرار دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہم ان آیات کو سمجھ کر پڑھیں جن میں بڑے دل نشیں انداز میں نیکی کمانے کی ترغیب دی گئی ہے اور اکتسابِ خیر پر ابھار ا گیا ہے: ’’جو شخص بھلائی کا کوئی کام انجام دے گا اسے اس سے زیادہ اجر ملے گا‘‘(النمل۲۷: ۸۹)۔’’جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے (کم از کم) دس گنا اجر ہے‘‘ (الانعام۶: ۱۶۰)۔ ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں‘‘۔( ھود۱۱:۱۱۴)
ان آیات میں انفاق کو باعثِ خیر و برکت اورموجبِ فوز و فلاح قرار دیا گیا ہے، اسے اُن اعمال میں شامل کیا گیا ہے جنھیں اللہ پسند فرماتا ہے۔ اس کے برعکس عمل( حرص و بخل) کو موجبِ خسران اور آخری انجام کی خرابی سے تعبیر کیا گیا ہے (البقرۃ۲: ۱۹۵، النور۲۴:۱۱، الروم ۳۰:۳۸، الحشر۵۷:۹، الصف۶۱:۱۱-۱۲، التغابن۶۴:۱۶)۔ اسی ضمن میں ہم سورئہ بقرہ کی آیت۲۶۱ پر نظر ڈالیں جس میں اللہ رب العزت نے نہایت دل نشیں اسلوب میں ایک مثال کے ذریعے انفاق فی سبیل اللہ کا ثواب( سات سو گنا تک یا اس سے بھی زیادہ) بڑھا کر دینے کو واضح فرمایا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو :’’جو لوگ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،ان کے انفاق [کے اجر] کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں،اس طرح اللہ جس کے عمل[کے اجر و ثواب] کو جتنا چاہتا ہے بڑھاتا ہے، اللہ بڑی فراخی والا اور سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔
آیت کے آخری حصہ ( وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ، اللہ بڑی کشادگی والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے ) پر خصوصی توجہ مطلوب ہے کہ اس سے یہ نکتہ دل و دماغ میں نقش کرانا مقصود ہے کہ اللہ مالک الملک زمین و آسمان کے سارے خزانے کا مالک ہے۔ اس کے پاس بندوں کو عطا کرنے کے لیے مال واسباب کے بے حساب خزانے ہیں ۔ وہ جس کو چاہے دے، جتنا چاہے دے ، وہ مختارِ کل ہے۔ دوسرے یہ کہ ربِّ کریم کی عطا کی کوئی حد نہیں۔ وہ دینے میں بہت فراخ دست ہے، سات سو گنا کیا؟ اس سے زیادہ بھی جتنا چاہے عطا کر تا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے،نیک عمل کے صلے میں وہ جو کچھ اجر و ثواب عطا کرتا ہے اس کے علم اور اس کی حکمت پر موقوف ہوتا ہے۔ وہ بخوبی اس کی خبر رکھتا ہے کہ انفاق کرنے والا بندہ کارِ خیر میں کتنا مال خرچ کر رہا ہے؟ کس نیت سے کر رہا ہے؟ کس پر خرچ کر رہا ہے؟کس حالت میں خرچ کررہا ہے؟ کسی حاجت مند کو اپنا مال کس طریقے سے دے رہا ہے؟ اسی علم و با خبری کی بنیاد پر انفاق کرنے والے یا نیکی کمانے والے کا اجر و ثواب بڑھتا ،گھٹتا رہتا ہے۔
سچ یہ کہ اس آیت میںانفاق کرنے والے یا کارِ خیر انجام دینے والوں کے لیے بڑی قیمتی ہدایات و نصیحتیں مضمر ہیں، اور وہ اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو جو کچھ مال و دولت عطا کیا ہے، وہ اس کے ذریعے نیکی کمانے کے لیے آگے بڑھے ، انفاق کرتے وقت اپنی نیت درست کرلے، نام و نمود یا کسی دنیوی غرض کے بجائے صرف رضائے الٰہی کی طلب میں اپنا محبوب مال خرچ کرے ۔ انفاق کرتے وقت یہ ذہن میں ر ہے کہ اطاعتِ الٰہی میں مال خرچ کرنے پر مال گھٹتا نہیں یا کم نہیں ہوتا، اس میں اور برکت ہوتی ہے۔ (البقرۃ ۲:۲۷۶، نیز جامع ترمذی، ابواب الزہد)
اس حقیقت پر یقین رکھے کہ جس ذات تبارک و تعالیٰ نے انفاق کا حکم دیاہے،اس کے خزانے میں سب کچھ ہے۔ وہ انفاق کرنے والے اپنے بندے کو مزید عطا فرمائے گا اور خوب عطا فرمائے گا۔ سب سے اہم یہ حقیقت یا د رکھے کہ انفاق کے صلے میں جو کچھ اجر و ثواب ملے گا، اس کا حقیقی فائدہ انفاق کرنے والے کو آخرت میں ملے گا جہاں نیکی کے علاوہ اور کوئی چیز کام آنے والی نہ ہوگی۔ واقعہ یہ کہ آیت(البقرۃ۲:۲۶۱) کے آخری حصے میں بڑی تسلی ہے،اطمینان بخش خبر ہے بھلائی کے کاموں میںمال خرچ کرنے یا نیکی کی راہ میں سبقت کرنے والوں کے لیے کہ ان کے اعمالِ حسنہ کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں محفوظ ہوگیا جو انھیں ہمیشہ کی زندگی میں خوب نفع پہنچائے گا۔ یہی حقیقت بعض دیگر آیات میں بھی واضح کی گئی ہے۔ (النحل: ۱۶:۹۶-۹۷، الشوریٰ۴۲:۳۶)
سو رئہ بقرہ کی مذکورہ بالا آیت ۲۶۱ کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس نکتہ کی جانب ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: ’’دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ کی راہ میں جو چھوٹی یا بڑی،علانیہ یا پوشیدہ نیکی کی جاتی ہے، سب اس کے علم میں رہتی ہے۔ اس وجہ سے ہر شخص اجر کی طرف سے مطمئن رہے۔ جب دینے والے کا خزانہ بھی غیر محدود ہے، اور اس کا علم بھی غائب و حاضر سب پر محیط ہے، تو تشویش کی گنجائش کہاں باقی رہی‘‘(تدبرِ قرآن، اوّل، ص۶۱۳)
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے مروی ایک حدیث میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک کام میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بڑے حکیمانہ انداز اور سوال کے پیرایہ میں اس کی اہمیت و نافعیت ذہن نشیں فرمائی ہے ۔ آپؐ نے مجلس میں موجود صحابہ کرامؓ سے سوال فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟ صحابہؓ کا یہ جواب سننے پر کہ ’’ اے اللہ کے رسولؐ! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا ہی مال محبوب ہے‘‘، آپؐ نے فرمایا کہ جب تم میں سے ہر شخص کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے تو جان لو،سمجھ لو کہ تمھارا مال صرف وہی ہے جسے تم نے نیک کام میں خرچ کر کے آگے بھیج دیا( یعنی جس کا اجر اللہ کے یہاں محفوظ کردیا اور وہ آخرت میں کام آئے گا)، اور وارث کا مال وہ ہے جسے تم نے پیچھے چھوڑدیا(اور وہ وارث کی ملکیت میں چلاگیا، اب وہ اسے کس کام میں خرچ کرتا ہے،اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔
ریاض الصالحین کے اردو مترجم نے اس حدیث کی تشریح کے آخر میں بہت صحیح تحریر کیا ہے کہ’’اس میں اِس امر کی ترغیب ہے کہ انسان کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہو تو اسے اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا چاہیے‘‘۔ (یحییٰ ابن شرف النووی،ریاض الصالحین، اوّل، ترجمہ و تشریح:حافظ صلاح الدین یوسف، ص ۴۸۱)
اہلِ ایمان یا دعوتِ الٰہی قبول کرنے والوں کو جامع انداز میں یہ خوش خبری سنائی گئی ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۷۷ۚ۞ (الحج۲۲: ۷۷) اے ایمان والو! رکوع کرو ا ور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرتے رہو اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح یاب ہو جا ئو ۔
لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰى۰ۭؔ (الرعد۱۳:۱۸ ) جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی ان کے لیے بھلائی یا انجامِ کار کی بہتری ہے۔
لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَۃٌ۰ۭ وَلَا يَرْہَقُ وُجُوْہَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّۃٌ۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۲۶ ( یونس۱۰: ۲۶) جن لوگوں نے بھلائی کا راستہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کا مزید فضل و کرم۔ (اُخروی زندگی میں) ان کے چہروں پر نہ سیاہی اور نہ ذلت چھائے گی،وہ جنت کے مستحق ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ کی آیات پر ایمان لانے والوں کو امن و سلامتی، رحمت ِ الٰہی کی خوش خبری دی گئی ہے:
وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۰ۙ (الانعام۶:۵۴)اور جب (اے نبیؐ!) تمھارے پاس میری آیات پر ایمان لانے والے آئیں تو ان سے کہو ’ تم پر سلامتی ہے،تم سب کے رب نےاپنے اُوپر رحم و کرم کو لازم کر لیا ہے۔
وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَہُوَمُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ يُرْزَقُوْنَ فِيْہَا بِغَيْرِ حِسَابٍ۴۰ ( المؤمن ۴۰:۴۰) جو نیک عمل کریں گے خواہ مرد ہوں یا عورت بشرطیکہ وہ صاحبِ ایما ن ہوں، وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بے حساب رزق(نعمتو ں کا خزانہ) دیا جائے گا۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کو اپنے مخصوص انعامات و عنایات سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے جو ایمان و عمل صالح سے متصف رہے ، یعنی جو صدقِ دل سے ایمان لا کر اس کے تقاضے بحسن و خوبی پورے کرتے رہے اور ذکرِ الٰہی سے کبھی غافل نہیں رہے۔
مختصر یہ کہ ہرمومن کی دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اسے رضائے الٰہی اور حقیقی کامیابی نصیب ہو اور آخرت کی زندگی میں اسے سرورو سکون سے معمور مستقل ٹھکانا ( جنت) مل جائے اور وہ اللہ کی عطا کردہ غیر محدود اور لازوال نعمتوں سے محظوظ ہوتا رہے۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔
_______________